Baaghi TV

Tag: زرمبادلہ

  • 20 جون تک اہم سیاسی فیصلے ہوجائیں گے،شیخ رشید

    20 جون تک اہم سیاسی فیصلے ہوجائیں گے،شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر اور سربراہ عوامی مسلم لیگ (اے ایم ایل) شیخ رشید کا کہنا ہے کہ جتنی مرضی منصوبہ بندی کرلی جائے، ہوگا وہی جو اللہ کومنظور ہوگا۔

    ایک بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ آصف زرداری اور فضل الرحمان کہتے ہیں الیکشن میں کراؤں گا جب کہ نوازشریف کہتا ہے لیول پلیئنگ فیلڈ ہوگی تو الیکشن ہوگا 20 جون تک اہم سیاسی فیصلے ہوجائیں گے، سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، جتنی مرضی منصوبہ بندی کرلی جائے، ہوگا وہی جو اللہ کومنظور ہوگا۔

    ہم نے ملک کی اکانومی کو آگے بڑھانا ہے،شرجیل میمن

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آئین قانون اور عوام کا کہیں ذکر نہیں، 100 افراد 24 کروڑ لوگوں کی خواہشوں اور خوشیوں کا خون کر رہے ہیں، گھر میں 4 ارب ڈالر ہیں اور آصف زردای 100 ارب ڈالر زرمبادلہ کی بات کر رہے ہیں-

    علی زیدی کوتحریک انصاف چھوڑنے پر سلام پیش کرتا ہوں،عطا تارڑ

    ان کا کہنا تھا کہ عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی ترقی کا پوسٹ مارٹم کیا ہے اورحکومت شادیانے بجا رہی ہے جو معشیت آصف زرداری جیل میں پڑھ کر آئے وہ 2008 سے 2018 اور موجودہ 14 مہنیے کہاں تھی الیکڑانک میڈیا اور لوگوں کے شعور پر زنجیریں پہنا دی گئی ہیں، سارے پڑوسی سمجھا رہے ہیں لیکن عوام کے ردعمل سے خوف زدہ حکومت کچھ سننے کے لیے تیار نہیں۔

    استحکام پاکستان پارٹی کے جھنڈے کا ڈیزائن فائنل کر لیا گیا

  • پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

    کراچی: ملک کے ذرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ ایک ہفتے کے دوران 25 کروڑ80 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ملک کے مجموعی ذرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر دس ارب 44 کروڑ36 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کرچار ارب60 کروڑ 12لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں۔


    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ درآمدات روکنے سے زرمبادلہ ذخائر کی گراوٹ رکی ہے، 13 جنوری تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 44 کروڑ ڈالر رہے،جنوری کے دوسرے ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 25 کروڑ 58 لاکھ ڈالر بڑھے ہیں۔

    ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب84کروڑ 24لاکھ ڈالر ہیں۔

  • ایک ہفتے میں زرمبادلہ کےذخائر32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرزمزید کم ہوگئے

    ایک ہفتے میں زرمبادلہ کےذخائر32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرزمزید کم ہوگئے

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں 32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی مزید کمی ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 25 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران غیرملکی قرضوں کی ادائیگی سے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 32 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کم ہوکر 7 ارب 49 کروڑ اور 87 لاکھ ڈالرز کی سطح پر آگئے۔

     

     

    اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 87 کروڑ 95 لاکھ ڈالرز کے ذخائر ہیں۔ جس کے بعد زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 13 ارب 37 کروڑ 82 لاکھ ڈالرز کی سطح پر آگئے۔

     

     

    ادھر اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی ہے کہ تیل، ایل این جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے ایل سیز کھولنے پر قطعی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی، خام تیل، ایل این جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے یا کنٹریکٹس پر بھی کوئی پابندی (زبانی یا کسی اور طرح) عائد نہیں کی گئی ہے۔

     

    اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کی غلط اطلاعات منفی مقاصد کےتحت مارکیٹ میں غیریقینی کی صورت حال پیدا کرنےکےلیے پھیلائی جارہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک تیل اور گیس (بشمول ایل این جی) کی مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے بینکوں کے ذریعے زرمبادلہ کی ادائیگیوں کی پروسیسنگ کو تجارتی دستاویزات کی کنٹریکٹ میں درج میعاد کے مطابق بروقت یقینی بناتا ہے۔

     

     

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ تیل کی درآمد کےلیےتمام ایل سیز،کنٹریکٹس کسی تاخیرکےبغیر انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ کے ذریعے اپنی مقررہ تاریخ پر پورے کیے جارہے ہیں، اسی وجہ سے ملک میں تیل کی درآمد ستمبر 2022ء اور اکتوبر 2022ء میں بالترتیب 1.48 ارب ڈالر اور 1.48 ارب ڈالر رہی۔

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

  • زرمبادلہ کےذخائر میں 30 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی

    زرمبادلہ کےذخائر میں 30 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی

    اسلام آباد:ایک ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 30 کروڑ سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 7 ارب 53 کروڑ 69 لاکھ ڈالر ہے جب کہ دیگر شیڈولڈ بینکوں کے پاس 5 ارب 64 کروڑ 99 لاکھ ڈالر کے ذخائر ہیں۔

    اس طرح ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 13 ارب 24 کروڑ 68 لاکھ ڈالر ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق ایک ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 30 کروڑ 3 لاکھ ڈالرز کی کمی واقع ہوئی ہے۔ کم ہونے والا زرمبادلہ تجارتی قرض کی واپسی اور یورو بانڈز پر سسود کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہوا ہے۔

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ اس ہفتے اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مزید 300 ملین ڈالر کی کمی آئی ہے۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اسد عمر نے کہا کہ ہم آدھے سے زیادہ ذخائر کھو چکے ہیں جو عدم اعتماد کی تحریک کے وقت موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ بحران بدستور گہرا ہوتا جا رہا ہے کیونکہ حکومت اپنے بدعنوانی کے مقدمات کو ختم کرنے میں مصروف ہے۔

  • سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں نمایاں کمی ریکارڈ

    سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں نمایاں کمی ریکارڈ

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی گئی ترسیلات زر میں نمایاں کمی دیکھی جارہی ہے۔اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ستمبر 2022 میں دنیا بھر میں آباد پاکستانیوں کی جانب سے مجموعی طور پر 2 ارب 40 کروڑ ڈالر کے مساوی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔

     

    میری قوم کے بچوں کو اسکولوں میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کی ضرورت ہے،عمران خان

    ستمبر 2022 کے دوران سعودی عرب سے 61 کروڑ 66 لاکھ ڈالرز، متحدہ عرب امارات سے 47 کروڑ 43 لاکھ ڈالرز ، برطانیہ سے 30 کروڑ 78 لاکھ ڈالرز اور امریکا سے 26 کروڑ 81 لاکھ ڈالرز کے مساوی رقم بھجوائی گئی۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر 2022 کے دوران ترسیلاتِ زر میں ماہانہ بنیاد پر 10.5 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 12.3 فیصد کمی ہوئی۔

    اسلام آباد:سینٹورس مال میں لگی آگ پرقابو پالیا گیا

    رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جولائی تا ستمبر 2022 کے دوران مجموعی طور پر 7.7 ارب ڈالر آئے جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 6.3 فیصد کم ہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر 2022 کے دوران ترسیلاتِ زر میں ماہانہ بنیاد پر 10.5 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 12.3 فیصد کمی ہوئی۔

    رواں مالی سال کی پہلی شش ماہی میں جولائی تا ستمبر مالی سال 23ء کے دوران مجموعی طور پر 7.7 ارب ڈالر آئے جو گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 6.3 فیصد کم ہیں۔

    ادھرکرنسی مارکیٹ میں روپے کی قدر میں اضافے کی رفتار سست پڑنے لگی ہے۔اسحاق ڈار کے وزارت خزانہ سنبھالنے کے بعد روپے کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھا جارہا تھا اور ہر روز کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر گر رہی تھی تاہم اب اس کی رفتار میں کمی ہوگئی ہے۔

    آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے:وزیرخزانہ اسحاق ڈار

    منگل کے روز کاروباری لین کے آغاز پر انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 217 روپے 97 پیسے تھی تاہم چند ہی گھنٹوں میں ڈالر مزید ایک روپے 48 پیسے سستا ہوکر 216 روپے 49 پیسے پر آگیا لیکن کاروباری اوقات ختم ہونے تک یہ کمی صرف 17 پیسے پر سمٹ گئی۔انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 18 پیسے کمی کے بعد 217 روپے 79 پیسے ہوگئی۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی قیمت 50 پیسے اضافے کے بعد 219 روپے ہوگئی۔

  • موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مزید کم کردیا:ملکی زرمبادلہ کے ذخائربھی مزید کم ہوگئے

    موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مزید کم کردیا:ملکی زرمبادلہ کے ذخائربھی مزید کم ہوگئے

    اسلام آباد:ملکوں کی معیشت کی عالمی سطح پر درجہ بندی کرنے والے بین الاقوامی ادارے موڈیز نے پاکستان کی معاشی درجہ بندی کو مزید کم کردیا۔عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کیلئے نظرثانی شدہ ریٹنگ جاری کردی۔ موڈیز نے پاکستان کیلئے خود مختار کریڈٹ ریٹنگ بی تھری سے کم کرکے سی اے اے 1 کردی۔

    دوسری جانب موڈیز نے پاکستان کی طویل المدتی قرضوں کی ریٹنگ بھی ڈاؤن گریڈ کردی۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب نے پاکستان کی بیرونی قرضوں کی کمزوریوں کومزید بڑھادیا کیونکہ سماجی اخراجات کی ضروریات میں اضافہ حکومتی آمدن متاثرہوئی۔

    ڈالرکو200 سے نیچے لائیں ورنہ سخت سزا کے لیے تیاررہیں:اسٹیٹ بینک کی8 بڑے بینکوں…

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کیلئے طویل مدتی قرض کی صورت حال کمزور رہے گی، قرضوں کی ادائیگی کیلئےقرض دہندگان سے فنانسنگ پربہت زیادہ انحصارکرنا پڑے گا، درجہ بندی میں کمی بیرونی اورقرضوں کی پائیداری کے خطرات کے باعث کی گئی۔وزارت خزانہ نے موڈیز کی اس ریٹنگ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ، چند ماہ میں حکومتی پالیسیوں سے مالی استحکام لانے میں مدد ملی ہے تاہم موڈیز نے پیشگی مشاورت کے بغیر ریٹنگ جاری کی۔

    پہلی پاکستان جونیئر لیگ رنگا رنگ افتتاحی تقریب کیساتھ شروع

    واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی درجہ بندی کا مقصد کسی معیشت کو لاحق خطرات کا جائزہ اور اس کی بنیاد پر اس کی ریٹنگ متعین کرنا ہوتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس ریٹنگ کو سامنے رکھتے ہوئے کسی ملک کو قرضہ جاری کرنے کے لیے مارکس کا تعین کرتی ہیں۔

    خیال رہے کہ دنیا میں تین بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں ہیں۔ موڈیز، فچ اور سٹینڈرڈ اینڈ پوور جو دنیا کے تمام ممالک کی کریڈٹ ریٹنگ کے بارے میں جائزے جاری کرتی ہیں۔

    دوسری طرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 10 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے 10کروڑ 60لاکھ ڈالرز کی کم ہوئے ہیں۔

    پالپا کی طرف سے ائیرلائن پائلٹس کے لیے ایسویسی ایٹ ممبرشپ کا اعلان

    رپورٹ کے مطابق 10کروڑ 60لاکھ ڈالرز کمی کے بعد ملکی زرمبادلہ ذخائر 13 ارب58 کروڑ90 لاکھ ڈالر رہ گئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق اسٹیٹ بینک کےذخائر 7 ارب 89 کروڑ 98لاکھ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 68 کروڑ 90 لاکھ ڈالرزہیں۔

  • شکریہ محمد بن سلمان :سعودی عرب سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر موصول

    شکریہ محمد بن سلمان :سعودی عرب سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر موصول

    لاہور:شکریہ محمد بن سلمان :سعودی عرب سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر موصول ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر موصول ہوگئے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان تین ارب ڈالر قرض ڈپازٹ معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے کے تحت سعودی فنڈ کو اسٹیٹ بینک کے پاس 3 ارب ڈالر رکھوانے تھے جو اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائرکا حصہ ہوں گے۔

     

    https://twitter.com/shaukat_tarin/status/1467059562104635394?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1467059562104635394%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.dunyanews.tv%2Findex.php%2Fur%2FBusiness%2F631581

    وزیراعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کے طورپردئیے ہیں جو سٹیٹ بینک کو موصول ہوگئے ہیں۔

    مشیر خزانہ شوکت ترین نے ڈپازٹ کی رقم موصول ہونے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اورسعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔بینک حکام کے مطابق سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر موصول ہونے کے بعد ذرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا ہے اس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات ہونگے۔

     

    یاد رہے معاہدہ گزشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان کےدورہ سعودی عرب کے دوران ہوا ، جس میں سعودی ولی عہد نے پاکستان کےلیے3 ارب ڈالرز کے سپورٹ فنڈ کی منظوری دی تھی ، رقم سعودی فنڈ برائے ترقی اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کرائے گا

    بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی مدد کرنے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا، ان کا کہنا تھاسعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی۔