Baaghi TV

Tag: زلزلے کے شدید جھٹکے

  • اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1

    اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1

    اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، سرائے عالمگیر، چکوال سے لے کر شانگلہ تک زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری خوفزدہ ہو کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

    🔍 زلزلے کی شدت: 5.1 ریکٹر اسکیل پر نوٹ کی گئی،مرکز اسلام آباد کے قریب روات سے 15 کلومیٹر جنوب مشرق میں جبکہ گہرائی: 10 کلومیٹر زیر زمین اور دورانیہ چند سیکنڈز ریکارڈ کیا گیا.زلزلہ اچانک آیا، مگر شدت نے خوف کی فضا پیدا کر دی۔ تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    زلزلے کے بعد ریسکیو ادارے الرٹ کر دیے گئے،متعلقہ حکام نے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے.صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ایمرجنسی سسٹم فعال کر دیا گیا ہے.زلزلے کے بعد مختلف علاقوں میں لوگ کھلے میدانوں میں جمع ہو گئے اور آفٹر شاکس کے خدشے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال، پاک ایران تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

    یرغمالیوں کی رہائی پر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ جاری رہے گی: سربراہ اسرائیلی فوج

    4 سے 7 اگست تک ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

  • بھارت میں زلزلےکےجھٹکے،پراسرار دھماکوں سےشہری خوف میں مبتلا

    بھارت میں زلزلےکےجھٹکے،پراسرار دھماکوں سےشہری خوف میں مبتلا

    بھارت آنے والے زلزلے نے دہلی سمیت پورے شمالی ہندوستان کو ہلا کررکھ دیا۔ زلزلے کے شدید جھٹکے، پرارسرار دھماکے محسوس کیے گئے۔

    بھارت کے قومی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.0 تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق زلزلے کا مرکز دھولا کواں کے قریب جھیل پارک کے قریب تھا۔زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ عمارتیں لرزنے لگیں اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ درختوں پر بیٹھے پرندے بھی اونچی آوازیں نکالتے ہوئے ادھر ادھر اڑنے لگے۔ زلزلے کا مرکز نئی دہلی میں زمین سے پانچ کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ یہ 28.59 ڈگری شمالی عرض البلد اور 77.16 ڈگری مشرقی طول البلد پر تھا۔کم گہرائی اور مرکز دہلی میں ہونے کی وجہ سے دہلی اور قریبی علاقوں میں اس کی شدت زیادہ محسوس ہوئی ۔

    اس علاقے میں، جس میں ایک قریبی جھیل ہے، ہر دو سے تین سال بعد چھوٹے، کم شدت کے زلزلے آتے ہیں۔ اہلکار نے بتایا کہ 2015 میں اس نے 3.3 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا تھا۔بھارت کے 11ویں صدر کے سابق مشیر ، کالام سینٹر اور ہومی لیب کے بانی، نے سریجن پال سنگھ کا کہنا ہے کہ رہائشیوں نے "پہلے سے کہیں زیادہ بڑے جھٹکے محسوس کیے” کیونکہ زلزلے کا مرکز خود دہلی میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے کے مرکز میں اس طرح محسوس ہوتے ہیں۔

    اتر پردیش کے مرادآباد، سہارنپور، الور، متھرا اور آگرہ میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ہریانہ کے کروکشیتر، حصار، کیتھل میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ تاہم ابھی تک اس سے کسی قسم کے نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر پوسٹ میں کہا ہے کہ حکام کسی بھی آفٹر شاکس کے لیے چوکس ہیں۔ دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ میں ہر کسی سے پرسکون رہنے اور حفاظتی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل کرتا ہوں، ۔

    مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس پر بہت سے صارفین نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا، جن میں بی جے پی اور کانگریس دونوں کے سیاسی رہنما بھی شامل ہیں، جنہوں نے زلزلے کو "مضبوط” قرار دیا۔ ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ جب زلزلہ آیا تو ایک تیز آواز بھی سنی گئی.دہلی پولیس نے ایکس پر بھی پوسٹ کیا، مدد کے لیے ایک ہنگامی رابطہ شیئر کیا۔ "ہمیں امید ہے کہ آپ سب محفوظ ہیں، دہلی! کسی بھی ہنگامی مدد کے لیے #Dial112۔ #زلزلہ،” ۔ایک عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ زلزلے کا مرکز دھولا کوان میں درگابائی دیشمکھ کالج آف اسپیشل ایجوکیشن کے قریب واقع تھا۔

    شائقین کیلیے ورلڈ کرکٹ لیجنڈز کے ساتھ مفت سفر کرنے کا موقع

    اپوزیشن کے احتجاج کے باوجودسندھ اسمبلی میں یونیورسٹیز ترمیمی بل منظور

    سونے کی فی تولہ قیمت میں آج پھر اضافہ

    چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستانی ٹیم کی بھرپور تیاریاں

    نیپرا حکام کا کابینہ منظوری کے بغیر اپنی تنخواہوں میں خود ہی اضافہ

  • اسلام آباد  میں زلزلے کے جھٹکے، لوگوں میں خوف و حراس

    اسلام آباد میں زلزلے کے جھٹکے، لوگوں میں خوف و حراس

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اورگرد ونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آزاد کشمیر، مری،راولپنڈی سمیت گردو نواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے،زلزلے کے بعد لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.8 ریکارڈ کی گئی،زلزلے کی زیر زمین گہرائی17کلومیٹر تھی،مرکز راولپنڈی سے 8کلومیٹر دور تھا،زلزلے کے باعث کسی جانی و مالی نقصان کی تاحال کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ،تمام امدادی ادارے الرٹ ہیں۔

    زلزلے کیوں آتے ہیں؟

    ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے،پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے،زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں،زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں،زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے،پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے۔

    کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے،یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔

    اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

    کراچی: گھر میں گیزر دھماکا، خواتین سمیت 4افراد زخمی

    اوباما اورمشعل میں طلاق کی خبریں ، اہلیہ نے مخالفین کے منہ بند کرادیئے

    گن شاٹ یا ایکسیڈنٹ ہو تو نجی اسپتال کے پیسے سندھ حکومت بھرے گی، شرجیل میمن

    رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد میں اضافہ

    یوٹیلیٹی اسٹورز تنظیم نو ، ایک دن میں 3 ہزار ملازمین فارغ