بلوچستان میں آنے والے زلزلوں کے باعث ہونے والے نقصان کی تفصیلات جاری کردی گئیں جبکہ وزیراعظم نے کنگری میں زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے-
رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ موسیٰ خیل سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق 26 اور 27 جون 2026 کو تحصیل کنگری میں آنے والے 2 زلزلوں کے نتیجے میں رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد افراد معمولی زخمی ہوئے 26 جون 2026 کو آنے والے زلزلے سے موضع چاپ میں قریباً 80 سے 90 مکانات جزوی طور پر متاثر ہو ئے، جبکہ 6 افراد معمولی زخمی ہوئے بعد ازاں 27 جون 2026 کو آنے والے زلزلے سے تحصیل کنگری میں تقریباً 25 سے 35 مکانات متاثر ہوئے، جبکہ 10 سے 13 افراد معمولی زخمی ہوئے ابتدائی مشترکہ جائزے کے مطابق دونوں زلزلوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر قریباً 110 سے 125 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 18 سے 19 افراد معمولی ز خمی ہوئے ہیں،تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے زخمیوں اور متاثرہ آبادی کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں خیمے، بستر، باورچی خانے کا سامان، سولر لائٹس، گیس سلنڈر، فرشی چٹائیاں، مچھر دانیاں اور دیگر ضروری غیر غذائی امدادی اشیا تقسیم کی جا رہی ہیں۔
ریلیف کمشنر و ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان غرزئی کے مطابق پی ای او سی، پی ڈی ایم اے بلوچستان صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ نقصانات کے مکمل تخمینے کے لیے تفصیلی سروے بھی جاری ہے تاکہ امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں آنے والے زلزلے سے ہونے والے نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے وزیراعظم نے کنگری میں زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور بلوچستان حکومت کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور متاثرین کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے زلزلے سے متاثرہ گھروں کے مکینوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، جبکہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائےریسکیو اور ریلیف آپریشن کے دوران بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مؤثر انداز میں جاری رہ سکیں۔




