Baaghi TV

Tag: زمین

  • آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    زمین اور مریخ کے درمیان تمام ریڈیو رابطے کچھ دنوں کے لیے منقطع ہو جائیں گے، کیونکہ سورج دونوں سیاروں کے درمیان آ رہا ہے، یہ ایک قدرتی مظہر ہے جسے سولر کنجکشن کہا جاتا ہے اس دوران مریخ پر موجود تمام روبوٹک مشنز سے براہِ راست رابطہ عارضی طور پر معطل کردیا جائے گا۔

    ناسا کے مطابق، 29 دسمبر 2025 سے 9 جنوری 2026 تک کسی بھی مریخی مشن کو نئی ہدایات نہیں بھیجی جائیں گی اس دوران سورج کی انتہائی گرم، برقی چارج شدہ گیسیں جو پلازما کہلاتی ہیں، ریڈیو سگنلز میں خلل ڈال سکتی ہیں، جس سے کسی بھی کمانڈ کے خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک معمولی رکاوٹ یا بگ، کسی سطر کے ایک بِٹ کو بھی بدل دے، تو پورا سسٹم متاثر ہو سکتا ہے، اور اربوں ڈالر کے مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

    گزشتہ دو دہائیوں سے مریخ کے گرد مدار میں گھومنے والے سیٹلائٹس، سطح پر اترے لینڈرز اور متحرک روورز مسلسل سرخ سیارے کا مشاہدہ کررہے ہیں ان مشنز نے مریخ کی فضا، موسم، ارضیاتی ساخت اور وہاں ممکنہ قدیم زندگی کے آثار کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں، تاہم سولر کنجنکشن کے دوران یہ تمام مشنز عملی طور پر خود مختار ہوجاتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سولر کنجنکشن کے دوران مریخ پر موجود خلائی مشینیں زمین سے ہدایات لیے بغیر خود ہی کام کرتی ہیں۔

    راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع

    سولر کنجنکشن شروع ہونے سے پہلے ناسا کے ماہرین مریخ پرموجود ہر خلائی مشین کو پہلے ہی ایک مکمل منصوبہ بھیج دیتے ہیں، جس میں تقریباً دو ہفتوں تک کے تمام کام طے کیے جاتے ہیں، ان ہدایات کے مطابق خلائی مشینیں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ کون سے آلات عارضی طور پر بند رکھنے ہیں، کہاں توانائی بچانی ہے اور کون سا سائنسی ڈیٹا اکٹھا کر کے محفوظ کرنا ہے، تاکہ زمین سے رابطہ نہ ہونے کے باوجود مشن محفوظ طریقے سے اپنا کام جاری رکھ سکے۔

    کچھ مشنز اس دوران اپنے حساس آلات عارضی طور پر بند کردیتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جاسکے، جبکہ بعض روورز اور مدار گرد مشینیں ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں اور اسے اپنی اندرونی یادداشت میں محفوظ کرلیتی ہیں چند مشنز محدود پیمانے پر سگنل بھیجتے بھی رہتے ہیں، اس آگاہی کے ساتھ کہ اس کا کچھ حصہ زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہوسکتا ہے۔

    کنسرٹ میں پرفارمنس کے دوران شائے گل زخمی ہو گئیں

    اس پورے عمل میں سب سے اہم اصول یہی ہے کہ زمین سے کوئی نئی ہدایت نہ بھیجی جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر کمانڈ کے کسی ایک بٹ میں بھی خرابی آگئی تو برسوں کی محنت اور اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ مشن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    آج کل مریخ پر موجود خلائی گاڑیاں خاصی حد تک خودمختارہو چکی ہیں۔ وہ خود دیکھ سکتی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک کام کر رہا ہے یا نہیں، اور اگر کوئی خرابی ہو جائے تو خود کو محفوظ حالت میں لے آتی ہیں زمین سے نئے حکم ملے بغیر بھی وہ پہلے سے بنے منصوبے کے مطابق اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔

    اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    ناسا کے ماہرین اس کو ایسے سمجھاتے ہیں جیسے والدین کسی ذمہ دار بچے کو چند دن کے سفر پر بھیج دیں۔ تمام تیاری پہلے کر لی جاتی ہے، اور پھر اس پر بھروسا کر کے اسے خود کام کرنے دیا جاتا ہےمشن پر کام کرنے والی ٹیموں کے لیے یہ وقت ایک طرح کا امتحان بھی ہوتا ہے، کیونکہ انہیں اپنی خلائی مشینوں کو کچھ دنوں کے لیے خود پر چھوڑنا پڑتا ہے، اور ساتھ ہی یہ روزانہ کی مسلسل نگرانی سے ایک مختصر آرام کا موقع بھی بن جاتا ہے۔

    دوسری جانب یہ وقفہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ چاہے ہماری ٹیکنالوجی کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، قدرت کے کچھ قوانین ایسے ہیں جن کے سامنے انسان کو انتظار کرنا پڑتا ہے-

  • ہماری زمین سے تقریباً 154 نوری سال کے فاصلے پر پانی سے بھرا ہوا نیا سیارہ دریافت

    ہماری زمین سے تقریباً 154 نوری سال کے فاصلے پر پانی سے بھرا ہوا نیا سیارہ دریافت

    ماہرین کو ہماری زمین سے تقریباً 154 نوری سال کے فاصلے پر ایک نیا سیارہ ملا ہے جو ممکنہ طور پر پانی سے بھرا ہوا ہے۔

    اس سیارے کا نام TOI-1846 b رکھا گیا ہے، اور اسے ناسا کے خلائی مشن ’ٹرانزٹنگ ایگزو پلینیٹ سروے سیٹلائٹ‘ (TESS) کی مدد سے دریافت کیا گیا یہ نیا سیارہ زمین سے تقریباً دو گنا بڑا اور چار گنا زیادہ وزنی ہے یہ سیارہ سپر ارتھ کی کیٹیگری میں آتا ہے، یعنی یہ زمین سے بڑا ہے لیکن اتنا بڑا نہیں جتنا نیپچون یا یورینس جیسے گیس کے دیو۔،تحقیق کے مطابق، TOI-1846 b کی عمر تقریباً 7.2 ارب سال ہے، یعنی ہماری زمین سے بھی زیادہ پرانا ہے۔

    تحقیقی ٹیم کےمطابق TOI-1846 b کا قطر زمین کے مقابلے میں 1.792 گنا ہے اور اس کا وزن زمین سے 4.4 گنا زیادہ ہے۔ یہ اپنے ستارے کے گرد صرف 3.93 دنوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہے، یعنی وہاں ایک سال صرف چار دنوں کا ہوتا ہے! اس کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 568.1 کیلون (تقریباً 295 ڈگری سیلسیس) ہے۔

    غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافر جہاز سے کود گئے ، 18 زخمی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ پانی سے بھرپور ہو سکتا ہے، لیکن اس کی ساخت اور ماحول کو مزید بہتر طریقے سے جانچنے کے لیے ریڈیل ولاسٹی نامی ایک طریقہ استعمال کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس کا وزن اور دیگر تفصیلات واضح کی جا سکیں۔

    یہ سیارہ ایک چھوٹے سے ستارے TOI-1846 کے گرد گردش کرتا ہے، جو ہمارے سورج کے مقابلے میں 40 فیصد چھوٹا اور 42 فیصد کم وزنی ہے۔ اس ستارے کا درجہ حرارت تقریباً 3568 کیلون ہے، اور اس کی عمر بھی 7.2 ارب سال کے لگ بھگ بتائی گئی ہے۔

    اسی سال کے آغاز میں، سائنس دانوں نے ایک اور سپر ارتھ دریافت کیا جس کا نام HD 20794 d رکھا گیا ہے یہ سیارہ زمین سے 20 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور زمین سے چھ گنا زیادہ وزنی ہے سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنے ستارے کے ایسے علاقے میں موجود ہے جسے قابلِ رہائش علاقہ یا ہیبیٹیبل زون کہا جاتا ہے، یعنی وہاں مائع پانی موجود ہونے کے امکانات ہیں لیکن اس سیارے کا مدار زمین کی طرح گول نہیں بلکہ بیضوی (elliptical) ہے، جس کی وجہ سے وہاں زندگی کے امکانات کے بارے میں حتمی رائے دینا مشکل ہے۔

    شیخ حسینہ سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

  • چولستان کینال منصوبہ  چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا

    چولستان کینال منصوبہ چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا

    چولستان کے دل میں ایک خواب بسا ہوا ہے، ایک ایسا عہد جو اس خشک صحراء میں زندگی کی نئی لہر دوڑانے کا ہے۔ لیکن چولستان کینال منصوبہ، جو تبدیلی کی ایک بڑی امید بن کر ابھرا ہے، اب ایک تنازعہ کا شکار ہو چکا ہے۔ کچھ لوگ اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اس منصوبے سے کم دریا کے علاقے (لوئر ریپیئرین) کے پانی کی فراہمی متاثر ہو گی؟ لیکن کیا اس خواب کو شک و شبہات کی نظر ہو کر روکا جا سکتا ہے؟

    چولستان کینال منصوبہ دریائے ستلج سے پانی موڑ کر چولستان کے 452,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کرے گا۔ اس منصوبے کا تخمینہ لاگت 211 ارب روپے ہے اور یہ چولستان کی مزید ترقی کے لیے ایک عظیم تر منصوبے "گریٹر چولستان اسکیم” کا سنگ بنیاد بھی ہے، جس کے تحت اگلے مرحلے میں تقریباً دوگنا رقبہ سیراب کیا جائے گا۔پاکستان کا 1991 کا واٹر اپورٹمنٹ ایکورڈ صوبوں کو اپنی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدت اختیار کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود، ہر سال ہمارے دریاؤں میں اوسطاً 141 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی بہتا ہے، لیکن اس میں سے 26 ملین ایکڑ فٹ (MAF) — جو کہ چار دیمیر بھاشا ڈیموں کو بھرنے کے لیے کافی ہے، ہر سال سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، جو ساحلی علاقوں کو نمکین پانی کے داخلے سے بچانے کے لیے درکار مقدار سے کہیں زیادہ ہے۔

    چولستان کینال منصوبہ سندھ اور پنجاب میں سرپلس پانی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ منصوبہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے بجائے زیر استعمال پانی کو زمین کی پیداوار بڑھانے کے لیے موڑ کر چولستان کی سرزمین کو زرخیز بنانے کی کوشش کرے گا۔ سیلابی موسم میں سندھ کو 45% اور پنجاب کو 12% اضافی پانی ملتا ہے۔ یہ صورتحال سندھ میں پانی کے ضیاع کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، کیونکہ سندھ میں ہر سال 18 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔

    پنجاب کے پاس 47 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی ہے، جو 8 ملین ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے، جبکہ سندھ میں 40 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی 3.21 ملین ایکڑ اراضی تک ہی پہنچ پاتا ہے۔ چولستان کینال، جو صرف 0.59 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی پنجاب کے حصے سے لے گا، اس توازن کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ کم استعمال ہونے والے پانی کو پیداواری اراضی میں تبدیل کرے گا۔

    گرین پاکستان انیشیٹیو چولستان کینال منصوبے کا تکمیل کار ہے، جو بنجر زمینوں کو زرخیز کھیتوں میں تبدیل کرنے، غذائی تحفظ کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون پر مبنی زراعت کے ذریعے معاونت فراہم کرتا ہے۔ زمین کے متنوع ماڈلز اور کسانوں کے لیے تخصیص شدہ ایگری مالز کی فراہمی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسانوں کو درکار وسائل اور مدد مل سکے۔

    چولستان کینال اور گرین پاکستان انیشیٹیو کا مجموعہ ایک خوبصورت اور پائیدار ماحولیاتی نظام کی تخلیق کرے گا، جو خشک صحراء کو سرسبز و شاداب زمینوں میں تبدیل کر کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا وعدہ کرتا ہے۔چولستان کینال منصوبہ نہ صرف چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا بلکہ پورے پاکستان کے زرعی منظرنامے میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ پانی کی بہتر تقسیم، زرعی پیداوار میں اضافہ اور ماحولیات کی بہتری کے لیے ایک روشن مثال بنے گا، جو ایک خوشحال اور پائیدار پاکستان کی طرف ایک قدم اور بڑھائے گا۔

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    صحرائے چولستان میں انڈس تہذیب کا قدیم شہر دریافت

    آرمی چیف کی ہدایت پرچولستان میں امدادی کیمپ قائم

    وطن پرجان قربان کرنےوالوں کواہل وطن کی جانیں عزیز: چولستان میں فری میڈیکل کیمپ ، خدمت انسانیت جاری

  • برطانوی پلٹ خاتون اپنی جدی زمینوں پر قبضے کیخلاف سراپا احتجاج

    برطانوی پلٹ خاتون اپنی جدی زمینوں پر قبضے کیخلاف سراپا احتجاج

    راولپنڈی کلر سیداں سے تعلق رکھنے والی برطانوی پلٹ خاتون اپنی جدی زمینوں پر قبضے کے خلاف پر سراپا احتجاج ہے

    خاتون نے ویڈیو بیان میں کہا کہ میں اوورسیز پاکستانی ہوں میرا نام لبنیٰ راشد ہے،کلر سیداں پولیس بااثر شخصیت سے ساز باز کرکے کے میری جائیداد پر قبضہ کروانے میں مصروف ہے ۔ میرا سسرالی گھر تھا ،کلر سیداں پولیس کی ملی بھگت سے میرا گھر گرایا گیا،میرا گھر گیایا گیا تو میں برطانیہ میں تھی جس دن مجھے خبر ملی تو پاکستان واپس آکر میرے گھر کو مسمار کرنے والے عناصر کے خلاف تھانے میں متعدد بار تحریری درخواست دائر کی تاہم میری کسی قسم کی سنوائی نہیں ہو رہی ۔ میرا گھر گرانے کے وڈیو ثبوت ہونے باوجود کلر سیداں پولیس میری ایف آئی آر درج کرنے سے قاصر ہے ۔میں روز تھانے کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوں میں جہاں بھی جاتی ہوں پولیس والے میری داد رسی کرنے کی بجائے مجھے ڈرانا دھمکانا شروع کر دیتے ہیں ۔ایس ایچ او، ڈی ایس پی سب ملے ہوئے ہیں،پولیس آتی ہے چلی جاتی ہے، ابھی تک مجھے انصاف نہیں ملا، میرا میٹر چوری ہوا اس پر صرف پرچہ ہوا،میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور آر پی او راولپنڈی یاسر سرفراز الپاء سی پی او راولپنڈی سید خالد ہمدانی سے اپیل کرتی ہوں کہ میری جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنے اور میرے گھر کو مسمار کرنے والے عناصر اور انکی پشت پناہی کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کاروائی کی جائے ،میں ایک اکیلی خاتون ہوں خدارا میری جائیداد کے معاملے پر منصفانہ انکوائری کرکے کاروائی عمل میں لائی جائے.

    برطانوی پلٹ خاتون کا جائیداد پر قبضے کا دعویٰ، راولپنڈی پولیس کا مؤقف بھی آ گیا
    دوسری جانب راولپنڈی پولیس کا مؤقف سامنے آیا ہے، راولپنڈی پولیس نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کچھ اسطرح ہیں کہ مذکورہ خاتون کا اپنے بھائی کے ساتھ جائداد کا دیرینہ تنازعہ ہے۔ مذکورہ خاتون کی کمپلینٹ پر پولیس موقع پر گئی جہاں خاتون اپنے بھائی کے خلاف گھر سے چوری کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہ کر سکی۔ خاتون اور ان کا بھائی الطاف دونوں متنازعہ مکان کے دعویدار ہیں جن کے مقدمات سول کورٹ میں چل رہے ہیں۔ حالات و واقعات اور فریقین کے مابین کشیدگی کے پیش نظر مکان کو سیل کرنے کی حسب ضابطہ کارروائی کا آغاز گیا ہے، جس پر معزز عدالت کے احکامات پر قانون کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

  • زمین کی اندرونی تہہ زیادہ سست روی سے گردش کر رہی ہے،امریکا

    زمین کی اندرونی تہہ زیادہ سست روی سے گردش کر رہی ہے،امریکا

    سدرن کیلیفورنیا: امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کی اندرونی تہہ ہمارے سیارے کی سطح کے مقابلے میں زیادہ سست روی سے گردش کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں ایسے شواہد پیش کیے گئے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ زمین کی اندرونی تہہ کی گردش کی رفتار میں 2010 سےکمی آنا شروع ہوئی،ایسا 40 سال میں پہلی بار ہوا جب زمین کی سطح کےمقابلے میں اندرونی تہہ کی رفتار کم ہو گئی۔

    جرنل نیچر میں شائع اس تحقیق کے نتائج کے مطابق زمین کی اوپری تہہ سیال دھات پر مبنی ہے جبکہ اندرونی تہہ ٹھوس دھاتوں پر مشتمل ہے اور اس کا حجم چاند کے 70 فیصد رقبے کے برابر ہے یہ تہہ ہمارے پیروں سے 4800 کلومیٹر گہرائی میں واقع ہےاس تحقیق کے لیے ماہرین نے 1991 سے 2023 کے دوران ساؤتھ سینڈوچ آئی لینڈز میں ریکارڈ ہونے والے 121 زلزلوں کی ریڈنگ کا تجزیہ کیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا والد سے محبت کے عالمی دن پر پیغام

    انہوں نے 1971 سے 1974 کے دوران روسی جوہری ٹیسٹوں کے ساتھ ساتھ فرانس اور امریکی جوہری ٹیسٹوں ڈیٹا کی جانچ پڑتال بھی کی محققین نے بتایا کہ جب ہم نے زلزلے کے ریکارڈ میں اس تبدیلی کا اشارہ دیکھا تو ہم دنگ رہ گئے، مگر ہم نے دریافت کیا کہ مزید 2 درجن مشاہدات میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ زمین کی اندرونی تہہ کئی دہائی بعد پہلی بار سست روی سے گردش کر رہی ہے اور دیگر سائنسدانوں نے بھی یہ بات کی ہے مگر ہماری تحقیق میں زیادہ ٹھوس نتائج پیش کیے گئے، اندرونی تہہ کی گردش سست ہونے کی ممکنہ وجہ اوپری تہہ کے گرد موجود سیال کی تیز حرکت ہے۔

    یو اے ای میں چھٹی صدی عیسوی کا قدیم گمشدہ شہر دریافت

    محققین کے مطابق اندرونی تہہ کے گھومنے کی رفتار میں کمی سے دنوں کی لمبائی اور زمین کے مقناطیسی میدان میں تبدیلیاں آسکتی ہیں، اندرونی تہہ کی رفتار سے دن کی لمبائی میں ایک سیکنڈ کے ایک ہزارویں حصے کے برابر تبدیلی آسکتی ہےجسکا جاننا بہت مشکل ہوتا ہے،اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے اس حوالے سے زیادہ گہرائی میں جاکر جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آخر اس کی رفتار میں کمی کیوں آئی۔

    آن لائن منگوائی گئی آئسکریم میں کنکھجورا نکل آیا

  • سائنسدانوں کا زمین کی حدت کو بڑھنے سے روکنے کیلئے خفیہ  تجربہ

    سائنسدانوں کا زمین کی حدت کو بڑھنے سے روکنے کیلئے خفیہ تجربہ

    واشنگٹن: سائنسدانوں نے زمین کو بڑھتی ہوئی عالمی حدت کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کے طور پر ایک خفیہ پروجیکٹ کیا گیا-

    باغی ٹی وی:”نیو یارک پوسٹ“ کے مطابق امریکہ میں سائنس دانوں نے زمین کو بڑھتی ہوئی عالمی حدت کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کے طور پر ایک خفیہ منصوبے کے تحت سورج کی کچھ شعاعوں کو واپس خلا میں واپس اچھالنے کی کوشش کی، اس کیلئے کلاؤڈ برائٹننگ کا استعمال کیا، جو کہ ایک ایسی تکنیک ہے جو بادلوں کو روشن بناتی ہے تاکہ وہ آنے والی سورج کی روشنی کے ایک چھوٹے سے حصے کو منعکس کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں، کسی علاقے کے درجہ حرارت کو کم کرتے ہیں۔

    اس ٹیکنالوجی کا مقصد سمندروں کے اوپر آسمان کی طرف رخ کرکے کئی ڈیوائسز لگانا ہے جو سمندر کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو نیچے لائیں گی،2 اپریل کو، واشنگٹن یونیورسٹی کے محققین نے سان فرانسسکو میں ایک ناکارہ طیارہ بردار بحری جہاز کے اوپر رکھی برف کی مشین نما ایک آلے سے نمک کے ذرات کو تیز رفتاری سے آسمان میں چھوڑا، یہ تجربہ Coastal Atmospheric Aerosol Research and Engagement (CAARE ) کے نام سے ایک خفیہ پروجیکٹ کے تحت کیا گیا خیال یہ تھا کہ بادلوں کو آئینے کے طور پر استعمال کیا جائے جو آنے والی سورج کی روشنی منعکس کریں گے۔

    شادی کے بعد خواتین کے گھریلو کام کاج میں کتنا اضافہ ہوتا ہے؟

    اس تصور کی وضاحت برطانوی ماہر طبیعیات جان لیتھم نے 1990 میں کی تھی انہوں نے 1,000 بحری جہازوں کا ایک بیڑا بنانے کی تجویز پیش کی جو شمسی حدت کو ختم کرنے کے لیے ہوا میں سمندری پانی کی بوندوں کو چھڑکتے ہوئے پوری دنیا میں سفر کریں گے۔

    اس ٹیکنالوجی کے پیچھے سائنس کا سادہ نظریہ استعمال کیا گیا ہے کہ چھوٹی چھوٹی بوندوں کی ایک بڑی تعداد بڑی بوندوں کی چھوٹی تعداد سے زیادہ سورج کی روشنی کی عکاسی کرتی ہے، لہٰذا ہوا میں ایروسول کھارے پانی کا چھڑکاؤ سورج کی روشنی کو واپس اچھالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن قطروں کا سائز اور مقدار درست کرنا انتہائی ضروری ہے، اگر قطرے بہت چھوٹے ہوں تو وہ منعکس نہیں ہوں گے اور بہت بڑا قطرہ بادلوں کو اور بھی کم عکاس بنا دے گا، اس ٹیسٹ کے لیے سائنسدانوں کو ایسے قطروں کی ضرورت ہے جو انسانی بالوں کی موٹائی کے 1/700ویں حصے کے ہوں اور ہر سیکنڈ میں اس طرح کے کواڈریلین قطرات چھڑکیں۔

    پوری دنیا میں زیر زمین میٹھے پانی کے قدرتی ذخائر سُکڑ رہے ہیں،تحقیق

  • زمین ہمیشہ سے گول نہیں تھی،تحقیق

    زمین ہمیشہ سے گول نہیں تھی،تحقیق

    لنکا شائر: ہم سب جانتے ہیں کہ زمین گول ہے ،تاہم اب ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر زمین ہمیشہ سے گول نہیں بلکہ اوبلیٹ (بیضوی شکل جس کے سرے چپٹے ہوں) شکل کی تھی-

    باغی ٹی وی: اس سےقبل سائنسدانوں کاخیال تھا کہ پروٹو سیارے (ستاروں کے گرد بننے والے نئے نئے سیارے) گول ہوتے ہوں گے، اس خیال کو پرکھنے کے لیے یونیورسٹی آف سینٹرل لنکاشائر کے محققین نے مصنوعی طور پر سمیولیشن کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ستاروں کے گرد ڈسک کی صورت میں سیارے کس طرح تشکیل پاتے ہوں گے۔

    اس سمیولیشن میں نو تشکیل سیاروں کو گول ہونے کے بجائے چپٹی شکل میں پایا گیا ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سائنسدانوں نے سمیولیشن میں نو تشکیل شدہ سیاروں کی تھری ڈی شکلوں کا مشاہدہ کیا تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر ڈیمیٹری اسٹیمیٹیلوس کا کہنا تھا کہ سائنسدان یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ابتدائی دور میں زمین گول نہیں بلکہ اوبلیٹ شکل کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سائنسدان سیاروں کی تشکیل کےعمل کا عرصے سے مطالعہ کر رہے ہیں لیکن سیاروں کی ساخت کو اس طرح سے نہیں دیکھ سکے جس طرح وہ سمیولیشن میں ابھر کر سامنے آئےہم ہمیشہ سے سمجھتے آئے تھے کہ سیارے شروع سے گول تھےزیادہ تر سیارے جن کا ہم مشاہدہ کر سکتے ہیں گول ہوتے ہیں یا کم از کم گول کے قریب ہوتے ہیں، سمیولیشن کے مطابق ابتدائی وقت میں ہماری زمین کے قطبین تقریباً 0.3 فیصد، مشتری کےتقریباً 6 فیصد اور زحل کے تقریباً 10 فیصد تک چپٹے تھے۔

  • فیض حمید کیخلاف کیس،معیز احمد کی درخواست پر 8 نومبر کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری

    فیض حمید کیخلاف کیس،معیز احمد کی درخواست پر 8 نومبر کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ر فیض حمید کیخلاف کیس،معیز احمد کی درخواست پر 8 نومبر کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا

    سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ میں کہا کہ درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار فیض حمید سنگین الزامات عائد کیے،درخواست گزار کے مطابق ٹاپ سٹی پر قبضہ کیلئے انکو اور اہلخانہ کو اغوا کیا گیا،جنرل ر فیض حمید پر درخواست گزار کے آفس اور گھر پر چھاپے کا الزام ہے، جنرل ر فیض حمید پر درخواست گزار کے گھر کا سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کرنے کا بھی الزام ہے،درخواست گزار کے وکیل نے کہا سپریم کورٹ کے علاوہ کاروائی کیلئے کوئی متعلقہ فورم نہیں بنتا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے رجوع کر سکتے ہیں، درخواست گزار کے الزامات پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے،سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے معیار پر پورا نہ اترنے پر فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی،عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کے خلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواستیں نمٹاتی ہے

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے زاہدہ جاوید اسلم کی معیز احمد کیخلاف درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،سپریم کورٹ نے زاہدہ جاوید اسلم کیس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ زاہدہ جاوید اسلم کیس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،چیف جسٹس یا کوئی جج جج ان چیمبر آرٹیکل 184 تین کے مقدمات کے فیصلے نہیں کر سکتا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد آرٹیکل 184 تین کے مقدمات کے فیصلے کا اختیار اکیلے چیف جسٹس کے پاس بھی نہیں رہا.

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • زبانی معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،چیف جسٹس

    زبانی معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں زمین کے زبانی معاہدہ سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے زبانی معاہدہ پر ریلیف دینے کی استدعا مسترد کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زبانی معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، پنجاب میں زمین کے معاہدوں کو بہت زیادہ لٹکایا جاتا ہے، زبانی معاہدوں کا دروزاہ ہمیں اب بند کرنا ہوگا، لوگوں نے بھی اراضی پر معاہدے کرنا چھوڑ دیئے ہیں ،لوگ سمجھ چکے کہ وکلا ایسے کیسز 20سال تک لٹکا دیتے ہیں، درخواستگزار معاہدہ بھی زبانی کرتاہے اور ریلیف بھی عدالت سے مانگتا ہے، کیا زبانی معاہدہ کرکے قرآن پاک کی آیت کی خلاف ورزی نہیں ہوئی،قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق بھی معاہدہ زبانی نہیں تحریری ہوتا ہے، درخواستگزار مقررہ مدت میں طے شدہ رقم جمع کروانے میں ناکام رہا،

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،درخواستگزار محمد رفیق نے 4ایکٹر اراضی خریدنے کے لئے 152ملین کا معاہدہ کیا تھا ،درخواستگزار دو ماہ میں صرف 15ملین رقم ادا کر سکا تھا

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

    ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

    سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی، جس کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ انکشاف افریقا اور بحر الکاہل میں 1980 کی دہائی میں ملنے والے مادے کی جانچ پڑتال سے ہوا،یہ مادہ زمین کی پرت کے قریب ملا تھا اور محققین کے مطابق اس میں آئرن کی مقدار بہت زیادہ ہے اور زلزلے کی لہروں پر یہ مادہ مختلف انداز سے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

    محققین کے مطابق یہ ایک سیارے Theia کی باقیات ہیں جو اربوں سال قبل ہماری زمین سے ٹکرایا تھا انہوں نے مزید کہا کہ زمین کی ابتدا میں یہ سیارہ ٹکرایا اور اس ملبے سے ٹیکٹونک پلیٹس پر اثرات مرتب ہوئے اس کے ساتھ ساتھ دونوں سیاروں کے ٹکراؤ سے چاند بھی بنا۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر دہشت گردوں کا حملہ،14 جوان شہید

    محققین کے خیال میں اربوں سال قبل Theia سورج کے گرد چکر لگاتا تھا مگر دیگر سیاروں کی کشش نے اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ سیارہ بننے کے عمل سے گزرنے والی زمین سے ٹکرا گیا Theia کا حجم مریخ جتنا تھا اور جب دونوں سیاروں کا ٹکراؤ ہوا تو وہ اتنا طاقتور تھا کہ بہت زیادہ مقدار میں مادہ زمین کے اردگرد پھیل گیا، جو بعد میں ٹھنڈا ہوکر جمع ہوا اور چاند کی شکل اختیار کرگیا۔

    محققین نے تسلیم کیا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آخر اس سیارے کی باقیات اب بھی زمین کی تہہ میں کیوں موجود ہیں اس حوالے سے وہ مزید تحقیق کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    لاہور چڑیا گھر کو تین ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ