Baaghi TV

Tag: زمین

  • سپریم کورٹ،ملتان کیلئے اراضی کی قیمت کے تعین کیخلاف اپیل خارج

    سپریم کورٹ،ملتان کیلئے اراضی کی قیمت کے تعین کیخلاف اپیل خارج

    سپریم کورٹ،ڈسٹرکٹ اسپتال ملتان کیلئے اراضی کی قیمت کے تعین کیخلاف اپیل خارج کر دی گئیں

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ریفری جج نے ریکارڈ کا جائزہ لیکر قیمت 30 ہزار فی مرلہ مقرر کی، ریفری جج کے فیصلے میں غلطی کیا ہے؟بظاہر تو قیمت کے تعین میں کوئی غلطی نہیں، سپریم کورٹ نے خاتون کے حق میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کلکٹر نے زمین کیلئے10 ہزار فی مرلہ قیمت کا تعین کیا،ریفری جج نے قیمت کو بڑھا کر تیس ہزار فی مرلہ کردیا،لاہور ہائیکورٹ نے بھی تیس ہزار فی مرلہ قیمت کو برقرار رکھا،اس نوعیت کا ایک اور مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے،یہ مقدمہ اس کیس کیساتھ لگا کر سن لیں،سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل استدعا کیساتھ مسترد کردی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

  • جائیدادوں کی قیمت،ایف بی آر طریقہ کار طے کرنے میں ناکام،وفاقی ٹیکس محتسب کی رپورٹ

    جائیدادوں کی قیمت،ایف بی آر طریقہ کار طے کرنے میں ناکام،وفاقی ٹیکس محتسب کی رپورٹ

    وفاقی ٹیکس محتسب نے انکشاف کیا کہ ایف بی آر املاک یا جائیداد کی بڑے شہروں میں رائج مارکیٹ کے لحاظ سے مناسب اور منصفانہ قیمتیں مقرر کرنے کے لئے طریقہ کار یا معیار مقرر کرنے میں ناکام رہا ہے

    ایف بی آر آمدن کے اس شعبے سے ضرورت کے مطابق مالیات کے حصول میں ناکام ہو چکا ہے، وفاقی ٹیکس محتسب کی سفارشات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2018ء میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون کے تحت غیر منقولہ املاک (آئی ایم پی ) کے لئے ڈائر یکٹوریٹ جنرل قائم کیا گیا لیکن پراپر ٹی سیکٹر افادیت اور صلاحیت کا اندازہ اور تخمینہ لگانے کے لئے یہ ڈائر یکٹوریٹ ابھی تک فعال نہیں ہو سکا .

    وفاقی محتسب نے ایف ٹی او آرڈرنینس 2000ء کی دفعہ جی(1) کے تحت از خود چھان بین شروع کی انہوں نے ڈی سی شرح اور قیمتوں کے تعین کے لئے ایف بی آر کے جاری کردہ مختلف ایس آر او زکاجائزہ لیا ،ایف ٹی سی کے ریسرچ ونگ کے مارکیٹ تجزیہ کو بھی پیش نظر رکھا ،ریسرچ ونگ نے SRO 1734(1)12022 مورخہ 13 ستمبر 2022 میں غیر منقولہ جائیدادوں کی تشخیص کے جدولوں میں نمایاں بے ضابطگیاں، تضادات، کمزوریاں اور تضادات پائے۔ ایف ٹی او کا اس کیس پر کوئی دائرہ اختیار نہیں تھا۔ایف ٹی او نے راولپنڈی کے معاملے میں ایف بی آر کی طرف سے طے شدہ منصفانہ مارکیٹ ویلیو کی قیمتوں میں واضح تضاد پایا،مثال کے طور پر راولپنڈی شہر کے دل جیسے راجہ بازار، اصغر مال، صادق آباد، پیرودھائی کے ساتھ ساتھ دیگر ملحقہ رہائشی اور تجارتی علاقوں کو نہیں دیکھا گیا، راولپنڈی کینٹ کے زیادہ تر رہائشی اور تجارتی مقامات بھی نظر انداز کئے گئے،زرعی زمینوں اور راولپنڈی ضلع کے دیہی علاقوں کی قیمتوں میں کمی واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ ضلع راولپنڈی کی دیگر تحصیلوں کو معمولی طور پر دیکھا گیا ہے، خاص طور پر مری جہاں تفصیلی اور ویلیو ایشن سے ریونیو حاصل ہو گا۔

    دوسری جانب جائیدادوں کی مقرر کردہ قیمتوں میں بڑے فرق کو نمایاں کرتے ہوئے پلاننگ کمیشن کے تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے ڈی سی اور ایف بی آر کے نوٹیفائیڈ نرخوں کو ختم کرنے اور نیلامی مارکیٹ لانے کی سفارش کی ہے، مارکیٹ ریٹ ڈی سی ریٹ سے تقریباً 5 سے 10 گنا زیادہ اور ایف بی آر کی شرح سے 2 سے 4 گنا زیادہ ہے، پورٹل پر اشتہار دے کر جائیدادیں بیچنے کی سفارش کی گئی ہے اور کوئی بھی آن لائن پورٹل پر دکھائے گئے معاہدے کی بولی کی قیمت سے 10 فیصد زیادہ پر خریدنے کا مجاز ہوگا،

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    پی آئی اے کا قرض اور واجبات 743 ارب روپے سے تجاوز کر گئے

  • سپریم کورٹ نے 34 برس بعد بھانجی کو ماموں سے حق دلوا دیا

    سپریم کورٹ نے 34 برس بعد بھانجی کو ماموں سے حق دلوا دیا

    سپریم کورٹ نے 34 سال بعد بھانجی کو ماموں سے حق دلوا دیا

    عدالت نےمحکمہ مال ڈی جی خان کو سارہ اختر کو پانچ مربع زمین کا فوری قبضہ فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ماموں سردار منصور کو قانونی چارہ جوئی کے تمام اخراجات بھانجی کو ادا کرنے کا حکم دے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کو غیرآئینی، غیر شرعی طریقے سے صلب کیا جا رہا ہے، چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شرافت سے زمین بھانجی کے حوالے کر دیں،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کیا عدالت کہتی ہے خواتین جو بھی کہیں وہ درست مانا جائے گا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خواتین کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دے رہے، وہی آبزرویشن دی ہے جو بدقسمتی سے معاشرے میں ہو رہا ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لازمی نہیں ہمیشہ مرد ہی عورت کا حق مارے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابھی تک ایسا کوئی کیس آیا نہیں جس میں عورت نے مرد کا حق مارا ہو، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بھانجی نے اپنی زمین 1989 میں ماموں سردار منصور کو فروخت کی، فروخت کے 20 سال بعد زمین کی ملکیت کا دعویٰ کیا اور اپنے ہی دستخط سے انکاری ہو گئی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ زمین کی خریداری ثابت کرنا خریدار کا کام تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تین عدالتوں نے درخواست گزار کیخلاف فیصلہ دیا،

    سارہ اختر کے وکیل یاسین بھٹی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ زمین کی مبینہ فروخت کے وقت سارہ اختر نابالغ تھی،سارہ کے ماموں سردار منصور سابق چیئرمین ضلع کونسل ہیں، سردار منصور نے زمین اپنے کم سن بچوں، اہلیہ، ساس اور سالے کے نام منتقل کرائی،

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

  • پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کے فیصلے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کے فیصلے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سرکاری اراضی کیس الاٹ منٹ کیس ،لاہور ہائیکورٹ: سابق وزیر اعلی پرویز الٰہی کو ٹرائل کورٹ کا مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا معاملہ ،سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کے فیصلے کیخلاف پراسیکوشن کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے پراسیکوشن کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے لر فیصلہ محفوظ کرلیا

    جسٹس علی باقر نجفی نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عدالت کیسے کہ سکتی ہے کہ مجسٹریٹ یہ کرے ۔یہ نہ کرے ،وکیل پراسیکوشن نے کہا کہ مجسٹریٹ ریمانڈ دینے کا پابند تھا ،مجسٹریٹ کیس کو ریمانڈ ڈ کے بعد سپشل جج انٹی کرپشن کو بھجوانے کا پابند تھا ۔پراسیکوشن کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عبدالصمد خان پیش ہوئے،جسٹس علی باقر نجفی نے چوہدری پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں انٹی کرپشن حکام سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،وکیل سرکار نے کہا کہ پرویز الہی نے وزیر اعلی کی حیثیت سے اپنی خود ساختہ کمپنی کو قصور کی 676 کنال اراضی غیر قانونی الاٹ کر دی۔اس خودساختہ کمپنی کے مالکان میں مونس الہی اور راسخ الہی شامل ہیں اس اراضی کو لاہور ماسٹر پلان کا حصہ بنا دیا گیا۔اسوقت کے ڈی جی ایل ڈی اے عامر خان بھی کیس کے ملزم ہیں،16ستمبر کو پرویز الٰہی کو گرفتار کیا گیا،ڈیوٹی مجسٹریٹ ریحان الحسن نے چوہدری پرویز الٰہی کرپشن کے مقدمہ سے ڈسچارج کردیا، مجسٹریٹ نے قانون کے مطابق درست فیصلہ نہ کیا، مجسٹریٹ نے پراسیکیوشن کی مقدمہ سے ڈسچارج کیخلاف درخواست خارج کر دی ،مجسٹریٹ نے مقدمے سے ڈسچارج کرنے کا فیصلہ حقائق کے برعکس دی. ڈیوٹی مجسٹریٹ کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا قانونی اختیار نہ تھا ،یہ اختیار سپشل جج انٹی کرپشن کو تھا ۔عدالت مجسٹریٹ کے قانون کے برعکس ڈسچارج کیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دے،

    پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ کو عدالت پیش کرنے کا حکم،وکیل کو پتہ ہے مونس کہاں ہے،عدالت
    دوسری جانب سپیشل کورٹ سینٹرل میں پرویز الٰہی اور مونس الہیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے آئندہ سماعت پر پرویز الہی کو عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے حکم دیا کہ پرویز الٰہی کو تئیس اکتوبر کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا جائے ۔ڈائریکٹر ایف آئی اے اور متعلقہ جیل کے سپریڈنٹ پرویز الٰہی کی عدالت پیشی کو یقینی بنائیں، عدالت نے آئندہ سماعت پر مونس الہی کو پیش ہونے کا حکم دے دیا ،عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ مونس الہیٰ کے وکیل نے مونس الہیٰ کی جانب سے وکالت نامہ پیش کیا،مونس الہیٰ کے وکیل کو ملزم کے بارے میں پتا ہے،فوجداری کاروائی میں ملزم کی ذاتی حیثیت میں پیشی ضروری ہے،مونس الہی کے وکلا آئندہ سماعت پر مونس الہیٰ کو عدالت پیش کریں،

  • قصور:   زمین کا تنازعہ،فائرنگ سے سب انسپکٹر سمیت 4 افراد جاں بحق

    قصور: زمین کا تنازعہ،فائرنگ سے سب انسپکٹر سمیت 4 افراد جاں بحق

    قصور: تھانہ منڈی عثمان والا کے سرحدی علاقہ میں زمین کے تنازعہ پر فریقین کی دوطرفہ فائرنگ سے پولیس انسپکٹر سمیت 4 افرد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی: پنجاب کے ضلع قصور کے تھانہ منڈی عثمان والا کے سرحدی علاقہ میں زمین کے تنازعہ پر فائرنگ سے پولیس انسپکٹر جاں بحق جب کہ جوابی فائرنگ میں مخالفین کے 3 افراد مارے گئے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مخالف فریق کی فائرنگ میں انسپکٹر طارق بشیر چیمہ زخمی ہوگئے، انہیں پیٹ میں گولیاں لگی تھیں اور انہیں فوری طور پر جنرل اسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے انسپکٹر طارق بشیر چیمہ لاہور کے تھانہ نصیر آباد میں انچارج انویسٹیگیشن تعینات تھا، قصور کے متعدد تھانوں میں ایس ایچ او تعینات رہا طارق بشیر چیمہ اور پولیس گارڈز کی فائرنگ سے مخالفین کے 3 افراد موقع پر جاں بحق ہوئے تھے۔

    50 ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والے افراد پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس

    دوسری جانب شہر قائد میں سپرہائی وے چاکرہوٹل کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے موٹر سائیکل سوارسب انسپکٹر جاں بحق ہو گیا سب انسپکٹروادی حسین قبرستان میں اپنے پوتے کی قبرپرحاضری و فاتحہ خوانی کرنے کے بعد واپس جا رہا تھا کہ اسے نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا،سب انسپکٹر کو سینے پرایک گولی لگی جوجان لیوا ثابت ہوئی ، اس کے پاس موجود نائن ایم ایم پستول بھی غائب ہےایس ایس پی ایسٹ نے سب انسپکٹر کے قتل کو ڈکیتی مزاحمت یا ذاتی دشمنی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئےواقعے کی مختلف پہلوؤں پرتفتیش شروع کردی ہے۔

    نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں،ن لیگ نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا ..

    سب انسپکٹرعامرعلی فیاض پلازہ فیڈرل بی ایریا بلاک 13 کا رہائشی تھا اور ایس پی گلبرگ کمپلین سیل میں تعینات تھا ایس ایس پی ایسٹ عرفان علی بہادر بھی جائے وقوع پر پہنچے اورشواہد کا جائزہ لیا ،ایس ایس پی ایسٹ عرفان علی بہادرنے بتایا کہ امیر عباس کے بیٹے کا 2 سال قبل انتقال ہوا تھا اور انسپکٹرہراتوار کو وادی حسین قبرستان جایا کرتا تھا آج بھی وہ وادی حسین قبرستان میں اپنے پوتے کی قبرپرحاضری و فاتحہ خوانی کرنے کے بعد واپس جا رہا تھا کہ اسے مین سپرہائیوے چاکرہوٹل کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ، ایک گولی سینے پر لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی ،پولیس کو جائے وقوع سے گولی کا کوئی خول نہیں ملا البتہ ایک سکہ ضرور ملا ہے جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لےلیا ہے،پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد شہید سب انسپکٹر عامرعلی کی میت ورثا کے حوالے کردی۔ سب انسپکٹر عامر 2بچوں کا باپ اور تین بہنوں کا بھائی تھا-

    کاروباری ہفتے کے دوران ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی

  • زمین کی پرت کے نیچے ایک بہت بڑے سمندر کی موجودگی کا انکشاف

    زمین کی پرت کے نیچے ایک بہت بڑے سمندر کی موجودگی کا انکشاف

    محققین نے زمین کی پرت کے نیچے ایک بہت بڑے سمندر کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے، محققین کئی دہائیوں سے اس گمشدہ گہرے پانی کی تلاش کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: محققین کا کہنا ہے کہ زمین کے 400 میل اندر ”رنگ ووڈائٹ“ کے نام سے مشہور چٹان میں پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے زمین کی سطح ”مینٹل“ کے اندر پانی سپنج جیسی حالت میں ذخیرہ ہوتا ہے، جو کہ مائع، ٹھوس یا گیس نہیں بلکہ چوتھی حالت ہے۔

    جیو فزیسسٹ سٹیو جیکبسن نے کہا کہ رنگ ووڈائٹ ایک سپنج کی طرح ہے، جو پانی سے بھیگا ہوا ہے، رنگ ووڈائٹ کے کرسٹل ڈھانچے کچھ خاص ہے جو اسے ہائیڈروجن کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور پانی کو پھنسنے کی اجازت دیتا ہے مینٹل کے گہرے حالات میں اس معدنیات میں بہت زیادہ پانی ہو سکتا ہے‘مجھے لگتا ہے ہم آخر کار زمین کے مکمل واٹر سائیکل کا ثبوت دیکھ رہے ہیں، جو ہمارے قابل رہائش سیارے کی سطح پر مائع پانی کی وسیع مقدار کی وضاحت کرنے میں مدد کر سکتے ہیں-

    19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلے دنیا کے 8ویں گمشدہ براعظم کا نقشہ تیار

    محققین نے یہ نتائج اس وقت زلزلوں کا مطالعہ کرنے کے دوران اخذ کیے جب انہوں نے پایا کہ سیسمومیٹر زمین کی سطح کے نیچے جھٹکوں کی لہریں ریکارڈ کر رہے ہیں اس سے، وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ پانی اس چٹان میں موجود ہے جسے رنگ ووڈائٹ کہا جاتا ہے اگر چٹان میں صرف ایک فیصد پانی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سطحِ زمین کے نیچے سمندر سے تین گنا زیادہ پانی ہے-

    بھارت کا کینیڈا کے سفارتکاروں کی تعداد میں ایک تہائی کمی کا حکم

  • ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ٹوکیو: ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : زمین جیسے سیاروں کی تلاش علمِ فلکیات اور سیاروں کا ایک بنیادی پہلو ہے سائنس دان ایسے سیاروں کو تلاش کرنے کے لیے انتہائی جدوجہد کر رہے ہیں جہاں زندگی کے لیے سازگار حالات موجود ہوں اور اب یہ جدوجہد رنگ لارہی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کی مسلسل کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں جو ممکنہ طور پر سیارہ نیپچون سے آگے کے مدار میں واقع ہے۔

    سعودی عرب کا تیل کی یومیہ پیداوار میں مزید توسیع کا اعلان

    یہ کھوج جاپان کے شہر اوساکا میں کنڈائی یونیورسٹی کے محقق پیٹرک صوفیا لکاوکا اور ٹوکیو میں جاپان کی قومی فلکیاتی رصد گاہ کے ماہر فلکیات تاکاشی ایتو کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

    آسٹرونومیکل جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے لکھا کہ ہم زمین جیسے سیارے کے وجود کی پیش گوئی کررہے ہیں ایک ابتدائی سیاروں کا جسم دور دراز کوائپر بیلٹ (نیپچون سے بھی آگے مدار) میں کوئپر بیلٹ سیارے (KBP) کے طور پر موجود ہو سکتا ہے کیونکہ ابتدائی نظام شمسی میں بہت سے ایسے سیارے موجود تھے۔

    برکینا فاسو میں شدت پسندوں کا حملہ،53 افراد ہلاک،30 زخمی

    ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیپچون سے آگے کوئپر بیلٹ کی مداری ساخت کے بارے میں مزید تفصیلی علم بیرونی نظام شمسی میں کسی فرضی سیارے کے وجود کو یا تو ثابت کردے گا یا مسترد کر سکتا ہے۔

    محققین لکھتے ہیں اختتام میں، کوائپر بیلٹ سیارے کے منظر نامے کے نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ نظام شمسی میں ابھی تک دریافت نہیں کیا گیا ہے،سائنس دانوں کا خیال ہے کہ نظریاتی سیارے کا مدار ممکنہ طور پر اسے سورج سے 250 اور 500 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے درمیان رکھے گا۔

    محققین کا خیال ہے کہ کوئپر بیلٹ کے قریب کسی سیارے کی شناخت سیارے کی تشکیل اور ارتقاء کے عمل کے بارے میں تازہ بصیرت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے مطالعہ کے اس شعبے میں نئی ​​رکاوٹیں اور تناظر پیش کیے جا سکتے ہیں۔

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر ہے،امریکا

  • زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہے

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہے

    سائنسدانوں نے زمین کا وہ مقام دریافت کیا ہے، جہاں سورج کی روشنی سب سے زیادہ پڑتی ہے، جہاں روشنی کی مقدار زہرہ جتنی ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی: زہرہ نظام شمسی کا دوسرا اور ہماری زمین کا پڑوسی سیارہ ہے یہ ہمارے نظام شمسی کا سب سے گرم سیارہ تصور کیا جاتا ہے اوراب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زمین پر سب سے زیادہ دھوپ والی جگہ صحرائے اٹاکاما کا الٹیپلانو ہے، جو چلی میں اینڈیس پہاڑوں کے قریب ایک بنجر سطح مرتفع ہے جو زہرہ کی طرح سورج کی روشنی حاصل کرتا ہے۔

    نیدرلینڈز کی خرونیگین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایاگیاکہ براعظم جنوبی امریکا کےمغربی ساحل پر کوہ انڈیز کے قریب صحرائے ایٹا کاما کے سطح مرتفع جو تقریباً 13,120 فٹ (4,000 میٹر بلندی پر زہرہ جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہےاس صحرا کو امریکا کی ڈیتھ ویلی سے 100 گنا زیادہ خشک اور بنجر تصور کیا جاتا ہے اور یہاں کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں صدیوں سے بارش نہیں ہوئی-

    سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    صحرائے اٹاکاما متعدد وجوہات کی بناء پر خاص ہے یہ زمین کا قدیم ترین صحرا ہے، قطبوں سے پرے خشک ترین اور ممکنہ طور پر رات کے آسمان کو دیکھنے کے لیے صاف ترین جگہ ہے۔ اس صحرا کا بیشترحصہ چلی میں واقع ہے جبکہ کچھ حصے پیرو، بولیویا اور ارجنٹینا میں موجود ہیں، مگر سائنسدانوں نے چلی کے علاقے میں تحقیق کی تھی یہاں تبت کے بعد دنیا کا دوسرا بلند ترین سطح مرتفع موجود ہے اور وہاں موسم گرما (اس خطے میں موسم گرما جنوری سے مارچ تک ہوتا ہے) میں سورج کی روشنی کی توانائی یا ریڈی ایشن کی فی اسکوائر میٹر مقدار 2177 واٹس ریکارڈ کی گئی عموماً زمین کی فضا میں سورج کی روشنی کی ریڈی ایشن فی اسکوائر میٹر مقدار اوسطاً 1360 واٹس ہوتی ہے۔

    سائنسدانوں نے بتایا کہ اس صحرا میں ریڈی ایشن کی شدت ایسی ہے جیسے آپ سیارہ زہرہ میں کھڑے ہوں ان کا کہنا تھا کہ یہ انکشاف اس لیے حیران کن ہےکیونکہ زہرہ زمین کے مقابلے میں سورج سے 28 فیصد زیادہ قریب ہےاوسطاً اس سطح مرتفع میں 308 واٹس فی اسکوائر میٹر شمسی ریڈی ایشن موجود ہوتی ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا ،طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز …

    محققین کے مطابق اس صحرا میں شمسی توانائی کے حصول کے مواقع وسطیٰ یورپ اور امریکا کے ایسٹ کوسٹ کے مقابلے میں اوسطاً دوگنا زیادہ ہیں اتنی زیادہ شمسی ریڈی ایشن خطرناک ہوتی ہےاورآپ کو جِلد کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہےماضی میں سیٹلائیٹ ڈیٹا سے عندیہ ملا تھا کہ زمین پر سورج کی سب سے زیادہ روشنی اسی صحرا پر پڑتی ہے مگر اس تحقیق میں اس کی شدت اور ریڈی ایشن کی جانچ پڑتال کی گئی۔

    ناسا کے ایک ماحولیاتی سائنسدان سیجی کاٹو، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ جب شمسی شعاعیں فضا کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں، تو یہ پانی کے بخارات کے ذریعے جذب ہو جاتی ہے اور بادلوں اور ایروسولز کے ذریعے بکھر جاتی ہے تاہم، ایک بلندی وہ مقام جو پانی کے بخارات کی تہہ سے اوپر ہے اور اس میں کم بادل ہیں اور ایروسول لامحالہ زیادہ دھوپ حاصل کریں گے چلی کی دھوپ کی ایک اور وجہ اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔

    کینیڈا میں چھوٹا طیارہ گرکر تباہ ،6 افراد ہلاک

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ریڈی ایشن کی بہت زیادہ شدت کو اس علاقے کے اوپر موجود بادلوں میں دیکھا جا سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ عموماً بادل سورج کی روشنی کو روک دیتے ہیں یا ان کو واپس خلا میں بھیج دیتے ہیں، مگر اس صحرا میں بادل بہت پتلے ہوتے ہیں جو سورج کی روشنی پرکسی عدسے کی طرح کاکام کرتےہیں، یعنی سطح پرشمسی ریڈی ایشن کی شدت کو 80 فیصد بڑھا دیتے ہیں مگر محققین کا کہنا تھا کہ سورج کی بہت زیادہ روشنی، ریڈی ایشن اور شدید درجہ حرارت کےدرمیان فرق ہوتا ہےاس صحرا کاماحول کسی حد تک سرد ہے کیونکہ یہ سطح سمندر سے کافی بلندی پر ہے جبکہ بحر الکاہل کے قریب ہونے کی وجہ سے بھی اس علاقے کا درجہ حرارت حد سے زیادہ نہیں بڑھتا۔

  • ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    زمین کے قریب آنے والے شہابیے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں کیونکہ کسی کے ساتھ ٹکرانے کے نتیجے میں انسانی زندگی کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے حال ہی میں، نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن(ناسا) نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق ایک سو پچاس فِٹ بڑا شہابیہ تیزرفتاری سےزمین کی طرف بڑھ رہا ہےناسا نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی جہاز کے جتنا بڑا ایف زیڈ تھری نامی سیارچے کا کل زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے 150 فِٹ چوڑی چٹان 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے وہ 4,190,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب پہنچ جائے گا-

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    ناسا کے مطابق، پانچ شہابیے ہمارے سیارے کے قریب پہنچیں گے، ان میں سے دو آج زمین کے قریب ترین پہنچیں گے،

    ناسا کے مطابق شہابیہ 2023 ایف یو 6: 45 فٹ کا ایک چھوٹا سیارچہ آج زمین کے قریب 1,870,000 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ رہا ہے۔

    شہابیہ ایف ایس 11 :82 فٹ ہوائی جہاز کے سائز کا سیارچہ آج 6,610,000 کلومیٹر کے قریب سے زمین سے گزرے گا۔

    شہابیہ ایف اے 7: ایک ہوائی جہاز کے سائز کا 92 فٹ کا سیارچہ 4 اپریل کو 2,250,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    شہابیہ ایف کیو 7: اپریل کو، ایک 65 فٹ گھر کے سائز کا سیارچہ 5,750,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    شہابیہ ایف زیڈ 3: اگلے آنے والے سیارچوں میں سب سے بڑا سیارچہ جو کہ ہوائی جہاز کے سائز کا ہے 6 اپریل کو زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے۔ 150 فٹ چوڑی چٹان جو 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کا زمین سے قریب ترین نقطہ نظر 4,190,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے تاہم زمین کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک خطرہ نہیں ہے-

    اس سے قبل 2020 میں بھی ناسا نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘لندن آئی’ سے بڑا ایک پتھر خلا سے بَرق رفتاری کے ساتھ زمین کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

  • 4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی بنیاد رکھی

    4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی بنیاد رکھی

    ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نظامِ شمسی کے باہر کے حصے جس میں مشتری، زحل اور یورینس شامل ہیں سے آنے والے بڑے بڑے آگ کے گولوں نے 4.6 ارب سال قبل زمین زندگی کی بنیاد رکھی۔

    باغی ٹی وی: میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور امپیریئل کالج لندن کے سائنسدانوں کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ قدیم شہابیے کاربنیسیئس کونڈرائٹ سے بنے ہوئے تھے جو پوٹاشیم اور زِنک کے عناصر پر مشتمل تھا پوٹاشیم خلیے کے مائع کو بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ زِنک ڈی این اے کی تخلیق کے لیے اہم جزو ہے۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    اتار چڑھاؤ ایسے عناصر یا مرکبات ہیں جو نسبتاً کم درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع حالت سے بخارات میں تبدیل ہوتے ہیں ان میں جانداروں کے ساتھ ساتھ پانی میں پائے جانے والے چھ سب سے عام عناصر شامل ہیں۔ اس طرح، اس مواد کا اضافہ زمین پر زندگی کے ظہور کے لیے اہم رہے گا۔

    اس سے پہلے، محققین کا خیال تھا کہ زمین کے زیادہ تر اتار چڑھاؤ ان سیاروں سے آتے ہیں جو زمین کے قریب بنتے ہیں۔ نتائج سے اس بارے میں اہم سراغ ملتے ہیں کہ زمین زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار خصوصی حالات کو کس طرح سہارا دیتی ہے۔

    حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ ہماری زمین جب تخلیق کے مراحل میں تھی تب اس سے ٹکرائی جانے والی خلائی چٹانوں میں 10فیصد وہ خلائی چٹانیں تھیں جوکاربنیسیئس کونڈرائٹ سےبنی تھیں جبکہ دیگر90 فیصد چٹانیں ایسےنظاموں سے آئیں تھیں جو کاربنیسیئس مواد سے نہیں بنے تھے ان شہابیوں نے زمین کو 20 فی صد پوٹاشیم اور زمین پر موجود زِنک کی نصف مقدار فراہم کی۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹرنِکول نائی کےمطابق پوٹاشیم کم غیرمستحکم جبکہ زنک سب سے زیادہ غیر مستحکم عنصر ہے دونوں عناصر غیر مستحکم سمجھے جاتے ہے جو نسبتاً کم درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع صورت سے بھانپ می تبدیل ہوجاتے ہیں۔

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    تحقیق کےسینئر مصنف اور امپیریئل کالج لندن کے پروفیسر مارک ریہکمپر نے ایک بیان میں کہا کہ تحقیق میں حاصل ہونے والی معلومات بتاتی ہے کہ زمین پر موجود زِنک کی نصف مقدار نظامِ شمسی کے بیرونی حصے سے آنے والے مواد نے فراہم کی ہے۔

    امپیریل کالج لندن کے شعبہ ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینئر مصنف پروفیسر مارک ریہکا نے کہا: "ہمارے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہےکہ زمین کی زنک انوینٹری کاتقریباً نصف حصہ مشتری کےمدار سےباہر بیرونی نظام شمسی سے مواد کے ذریعے پہنچایا گیا تھا۔ ابتدائی شمسی نظام کی ترقی کے موجودہ ماڈلز کی بنیاد پر، یہ مکمل طور پر غیر متوقع تھا اس کے برعکس، نئے نتائج بتاتے ہیں کہ بیرونی نظام شمسی نے پہلے سوچنے سے کہیں زیادہ بڑا کردار ادا کیا۔

    پروفیسر ریہکا نے مزید کہا کہ بیرونی نظام شمسی کے مواد کی اس شراکت نے زمین کی غیر مستحکم کیمیکلز کی انوینٹری کو قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ایسا لگتا ہے جیسے بیرونی نظام شمسی کے مواد کی شراکت کے بغیر، زمین میں اتار چڑھاؤ کی مقدار اس سے کہیں کم ہوگی جو آج ہم جانتے ہیں – یہ خشک اور ممکنہ طور پر زندگی کی پرورش اور برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہے۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    اس تحقیق کے لیے، محققین نے مختلف ماخذ کے 18 شہابیوں کا جائزہ لیا – گیارہ نظامِ شمسی سے، جو غیر کاربوناسیئس میٹورائٹس کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور سات بیرونی نظامِ شمسی سے، جنہیں کاربوناسیئس میٹیورائٹس کہا جاتا ہے۔

    اس مقالے کی پہلی مصنفہ رائیسا مارٹنز، شعبہ ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی امیدوار نے کہا کہ ہم طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ زمین میں کچھ کاربونیسیئس مواد شامل کیا گیا تھالیکن ہمارے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مواد نے زمین کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہمارے غیر مستحکم عناصر کا بجٹ، جن میں سے کچھ زندگی کے پھلنے پھولنے کے لیے ضروری ہیں۔

    اس کے بعد محققین مریخ کی چٹانوں کا تجزیہ کریں گے جن میں 4.1 سے 3 بلین سال پہلے خشک ہونے سے پہلے پانی موجود تھا-

    پروفیسر ریہکا ایمپر نے کہا کہ بڑے پیمانے پر رائج نظریہ یہ ہے کہ چاند کی تشکیل اس وقت ہوئی جب تقریباً 4.5 بلین سال پہلے ایک بہت بڑا سیارچہ ایک برانن زمین سے ٹکرا گیا۔ چاند کی چٹانوں میں زنک آسوٹوپس کا تجزیہ کرنے سے ہمیں اس مفروضے کو جانچنے اور یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا ٹکرانے والے شہابیے نے پانی سمیت اتار چڑھاؤ کو زمین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت