Baaghi TV

Tag: زمین

  • سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرنے والا ہے۔

    باغی ٹی وی: دم دار ستارہ C/2022 E3 (ZTF)، جسے ‘گرین دم دار ستارہ’ بھی کہا جا رہا ہے، یکم فروری کو ہمارے سیارے کے قریب سے گزرے گا۔

    C/2022 E3 نامی اس دم دار ستارے کو مارچ 2022 میں امریکا کے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے دریافت کیا تھا، اس وقت وہ سورج سے 37 کروڑ 70 لاکھ میل کی دوری پر موجود تھا۔

    992 سال بعد نیا چاند زمین کے قریب ترین ہو گا

    ماہرین کے تخمینے کے مطابق یہ دم دار ستارہ ہمارے سورج کے مدار میں ہر 50 ہزار سال بعد داخل ہوتا ہے، یعنی یہ آخری بار زمین کے قریب سے اس وقت گزرا تھا جب ہمارے سیارے میں پتھر کا عہد چل رہا تھا اب یہ دم دار ستارہ یکم اور 2 فروری کو زمین کے سب سے زیادہ قریب ہوگا اور 2 کروڑ 70 لاکھ میل دوری سے گزرے گا۔

    درحقیقت دم دار ستارے نے آخری بار 50,000 سال پہلے اندرونی نظام شمسی کا دورہ کیا تھا، اس وقت کے ارد گرد پتھر کے زمانے کے انسانوں کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ پہلی بار کسی زبان میں بات شروع کر دی تھی۔

    اور اس کے مدار کی نوعیت کی وجہ سے، یہ کبھی بھی اندرونی نظام شمسی کا دورہ نہیں کر سکتا ہے یعنی یہ انسانیت کے لیے C/2022 E3 (ZTF) کو دیکھنے کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔

    خوش قسمتی سے آسمان پر نظر رکھنے والوں کے لیے، 2023 کے بہترین دم دار ستارے کے طور پر جس چیز کی تعریف کی جا رہی ہے اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اب بھی کافی مواقع موجود ہیں۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    دم دار ستارے بنیادی طور پر گرد اور برف کی ایسی گیندیں ہوتی ہیں جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہےان سب عناصر سے بادل سا بنتا ہے جس کے پیچھے گرد کی دم ہوتی ہے۔

    C/2022 E3 کی تصاویر پہلے ہی سامنے آچکی ہیں جس میں اس کے اردگرد سبز جگمگاہٹ نظر آئی ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس رنگت کی وجہ diatomic کاربن نامی مالیکیول ہے یہ مالیکیول شمسی ریڈی ایشن کی الٹرا وائلٹ شعاعوں میں سبز روشنی خارج کرتا ہے۔

    یہ دم دار ستارہ آنے والے دنوں میں دوربین کی بجائے آنکھوں سے دیکھنا بھی ممکن ہوگا مگر ایسی جگہوں پر جہاں تاریکی بہت زیادہ ہو اور روشنی کی آلودگی نہ ہونے کے برابر ہو۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    ویسے دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے اسے زیادہ آسانی سے دیکھنا ممکن ہے جبکہ آن لائن بھی ورچوئل ٹیلی اسکوپ پراجیکٹ کے یوٹیوب چینل پر اسے دیکھا جاسکتا ہے مگر اسے دیکھنے کا وقت زیادہ طویل نہیں، اگرچہ اگلے ہفتے اس کا بہترین نظارہ ہوسکے گا مگر فروری کے وسط میں یہ مدھم ہونا شروع ہوجائے گا اور پھر دوبارہ واپسی کے سفر پر روانہ ہوجائے گا۔

  • بے آباد سرکاری اراضی کو کارپوریٹ فارمنگ کیلئے لیز پر دینے کا فیصلہ

    بے آباد سرکاری اراضی کو کارپوریٹ فارمنگ کیلئے لیز پر دینے کا فیصلہ

    بے آباد سرکاری اراضی کو کارپوریٹ فارمنگ کیلئے لیز پر دینے کا فیصلہ
    وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں بے آباد سرکاری اراضی کو کارپوریٹ فارمنگ کیلئے لیز پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں وزیر خزانہ محسن خان لغاری، سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان، ممبر کالونیز شاہد نیاز، سیکرٹری قانون، سیکرٹری زراعت اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ بورڈ آف ریونیو نے کارپوریٹ فارمنگ کیلئے سٹیٹ اراضی کی لیزنگ کی میعاد 20 سال رکھنے کی تجویز دی۔

    نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ان کو تمام تر سہولیات فراہم کرے

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف
    چیئرمین کمیٹی محمد بشارت راجہ نے کہا کہ ایک طرف ہم گندم درآمد کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ہزاروں ایکڑ رقبہ خالی پڑا ہے۔ اس زمین کو بروئے کار لا کر فوڈ سکیورٹی کے لئے کارپوریٹ فارمنگ کی حوصلہ افزائی کرے گے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ محسن خان لغاری نے کہا کہ حکومتی اقدام سے سرکاری اراضی کے غیر قانونی استعمال کی روک تھام ہوگی اور ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے ڈی جی خان میں 6572 کنال سرکاری رقبہ سیمنٹ فیکٹری کو نیلام کرنے کی بھی منظوری دی۔ اس زمین کا ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل پرائس ایسسمنٹ کمیٹیوں نے مارکیٹ ویلیو کے مطابق ریٹ لگایا اور سب سے زیادہ بولی سیمنٹ فیکٹری نے لگائی

  • نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ یعنی مشتری ایک بار پھر زمین کے قریب آرہا ہے،اس سے قبل نظام شمسی کے 2 سیارے زحل اور مشتری 2020 میں زمین کے قریب آئے تھے۔

    باغی ٹی وی : ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ یعنی مشتری ایک بار پھر زمین کے قریب آرہا ہے،ستمبر کے آخر میں مشتری 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب نظر آئے گا 26 ستمبر کی رات مشتری کو آسمان پر دیکھنا ممکن ہوگا۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    مشتری 26 ستمبر کی پوری رات آسمانوں پر نظر آئے گا جب یہ مخالفت پر پہنچے گاسیارے کی مخالفت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی فلکیاتی شے مشرق میں طلوع ہوتی ہے جب سورج مغرب میں غروب ہوتا ہے اور اس چیز اور سورج کو زمین کے مخالف سمتوں پر رکھتا ہے جیسا کہ ہمارے سیارے سے دیکھا جاتا ہے۔

    یہ مخالفت خاص ہے کیونکہ یہ 70 سالوں میں مشتری کا زمین کے قریب ترین نقطہ نظر ہوگا۔ ایسا سورج کے گرد دو سیاروں کے مدار میں فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مشتری اور زمین دونوں کامل دائروں میں سورج کے گرد چکر نہیں لگاتے۔ اس کا مطلب ہے کہ سیارے سال بھر مختلف فاصلوں پر ایک دوسرے سے گزریں گے۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    ایسا 70 سال بعد ہورہا ہے، البتہ صرف آنکھ سے یہ نظارہ ممکن نہیں ہوگا بلکہ مشتری کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی ویسے تو زمین اور مشتری دونوں ہی سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں مگر ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں آتے۔

    26 ستمبر کی رات مشتری زمین سے 58 کروڑ کلومیٹر دور ہوگا ناسا کے مطابق ایسا نظارہ کبھی کبھار دیکھنے میں آتا ہےس سے قبل اپریل 2022 میں زہرہ اور مشتری کو ایک دوسرے کے قریب آتے دیکھا گیا تھاماہرین کے مطابق اس طرح کا منظر دوبارہ 2039 کے بعد ہی نظر آسکتا ہے۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

  • دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا کونسا ہے؟

    انٹارکٹیکا !!

    مگر کیوں؟ انٹارکٹیکا میں تو برف ہی برف ہے۔ اور صحراؤں میں تو پانی نہیں ہوتا. یے ناں!! اسے سمجھنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ صحرا دراصل کہتے کسے ہیں۔ صحرا زمین کا ایسا حصہ ہوتا ہے جہاں سارا سال بہت کم بارش ہو اور جہاں جانور، پرندے یا درخت وغیرہ باقی زمینی علاقوں کی نسبت بے حد کم ہوں۔ جہاں دراصل زندہ رہنا محال ہو۔

    انٹارکٹیکا زمین کا سب سے سرد علاقہ ہے۔ یہاں سالانہ اوسط درجہ حرارت منفی 57 ڈگری سے بھی کم رہتا ہے۔

    لہذا ایسے سرد موسم میں بارش نہیں ہوتی۔ البتہ انٹارکٹیکا چونکہ زمین کے جنوبی قطب پر واقع ہے تو یہاں دو ہی موسم ہوتے ہیں۔۔طویل سردیاں اور طویل گرمیاں۔ ایسے میں گرمیوں میں جب اسکے قریب ساحلی پٹی پر درجہ حرارت صفر سے اوپر جاتا ہے تو کبھی کبھی بارش ہو جاتی ہے ۔ ایسے ہی یہاں برف باری بھی یہاں سال بھر میں بےحد کم ہوتی ہے۔ اور رہی بات جانورں کی تو اسکے اردگرد سمندروں میں کچھ ہی جانور رہتے ہیں جن میں پینگوئین، سیل، وہیل مچھلیاں یا کچھ آبی پرندے شامل ہیں۔ پینگوئین انٹارکٹیکا پر یہاں کے قریب ساحلوں پر جمی برف پر کالونیوں کی صورت رہتی ہیں۔ یہ تعداد میں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ انٹارکٹیکا پر کام کرنے والے سائنسدان انہیں گن نہیں سکتے لہذا وہ خلا میں سٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے انکے کالونیوں اور تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سفید انٹارکٹیکا پر خلا سے انکی کالونیوں کو ڈھونڈنا آسان ہے۔ وجہ؟ ان کے پاخانے کا رنگ جو سرخی مائل بادامی ہوتا ہے۔ سفید برف پر خلا سے دیکھنے پر اس رنگ کی لکیریں نظر آتی ہیں جن سے انکی کالونیاں با آسانی ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔

    اور رہی بات پودوں کی تو اتنے ٹھنڈے علاقے میں جہاں ہر طرف برف ہی برف ہو کونسا درخت یا ہودا اُگ سکتا ہے؟ البتہ کہیں کہیں پانیوں کے پاس ایلجی یا کائی موجود ہے۔ اسی طرح انٹارکٹیکا کے شمالی علاقے میں قریب بارہ قسم کے پھولدار پودے بھی پائے جاتے ہیں۔اتنی ٹھنڈ میں اور دنیا کے ایک الگ تھلگ سے کونے میں یہ پودے کہاں سے آئے؟ اسکی کہانی کچھ طویل ہے۔ مگر مختصر یہ کہ آج سے قریب 20 کروڑ سال پہلے انٹارکٹیکا ، افریقہ، انڈیا ، آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ یہ سب ایک بڑے سے بر اعظم کا حصہ تھے جسے گونڈوانہ کہتے ہیں۔ زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس جن پر تمام بر اعظم تیر رہے ہیں ، ان پلیٹس کی آہستہ آہستہ حرکت سے یہ بر اعظم ایک دوسرے سے الگ ہوتے گئے اور ان پر موجود پودے بھی انہی کے ساتھ جاتے رہے۔ انٹارکٹیکا، گونڈوانہ سے آہستہ اہستہ جدا ہوتے، کھسکتے ہوئے آج سے تقریباً 7 کروڑ سال پہلے زمین کے شمالی قطب تک آ پہنچا۔

    یہاں سخت موسموں کے باعث بہت سے جاندار وقت کیساتھ ساتھ معدوم ہوتے گئے مگر چند ہی پودوں نے ارتقاء سے گزرتے زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا۔ہم یہ سب کیسے جانتے ہیں؟

    کیونکہ ہمیں انٹارکٹیکا پر اور دنیا کی دوسرے بر اعظموں پر پرانے دور کے ایک جیسے جانداروں کے فوسلز ملے ہیں جو اس کہانی کو مکمل کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین کی ٹیکٹانک پلیٹس کی ہونے والی حرکت کی رفتار اور سمت کو جان کر سائنسدان کمپوٹر ماڈلز کے تحت یہ بتا سکتے ہیں کہ ماضی میں یہ تمام برِ اعظم کیسے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔ ویسے تمام برا اعظم اب بی آہستہ اہستہ اہنی موجود جگہیں بدل رہے ہیں اور آج سے 25 کروڑ سال بعد یہ تمام برا اعظم ایک بار پھر سے ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔

    انٹارکٹیکا سائنسدانوں کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ یہاں سارا سال، دنیا بھر کے سائنسدان مشکل حالات اور سخت سردی میں رہتے ہوئے سائنسی تجربات اور دریافتیں کرتے رہتے ہیں۔ ناسا بھی انٹارکٹیکا کے موسم اور یہاں ہونے والی تبدیلیوں کو خلا سے مانیٹر کرتا رہتا ہے ۔۔جسکا مقصد دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر جاننا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں برف اگر تیزی سے پگلنا شروع ہو جائے تو پوری دنیا کے سمندروں میں پانی کی سطح کئی فٹ بلند ہو جائے گی جس سے دنیا کے تمام ساءلی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ناسا یہاں خلا میں انسانوں کی خوراک کی ضروریات کے حوالے سے بھی تجربات کرتا ہے۔ دراصل خلا میں بھی سورج کی روشنی خلابازوں کے جسم پر نہیں پڑتی اور ہم جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی سے وٹامن بنتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے انٹارکٹیکا پر رہنے والے سائنسدان جو طویل عرصہ سورج کی روشنی حاصل نہیں کر پاتے ، اُن پر جسمانی اور نفسیاتی اثرات کو جانا جاتا ہے۔

    مگر سب سے اہم یہ کہ ناسا یہاں کئی ایسے روبوٹس کو بھی ٹیسٹ کرتا ہے جو مریخ پر بھیجے جانے ہوں۔ وجہ یہ کہ انٹارکٹیکا اور مریخ دونوں سرد ہیں اور دونوں صحرا کی طرح خشک ہیں۔

    ایک اور اہم بات، زمین پر گرنے والے شہابیوں کے ٹکڑے انٹارکٹیکا میں بھی گرتے ہیں اور یہاں سائنسدان انکو سفید برف میں آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہاں کے موسم کے باعث قدرے اچھی حالت میں محوفظ رہتے ہیں۔ اس طرح ہم ان شہابیوں کا تجزیہ کر کے نظام شمسی اور زمین کے ماضی کے بارے میں بی بہتر جان سکتے ہیں۔

  • نظامِ شمسی کے قریب  زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    شیکاگو: ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسوپلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے حال ہی میں ہمارے نظامِ شمسی سے قریب ترین دو چٹانی، زمین کے جیسے سیاروں کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی :سیاروں کی دریافت یونیورسٹی آف شیکاگو میں پوسٹ ڈاکٹرل کے فیلو رافیل لوک کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے ٹیس سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں کی محققین کی جانب سے پہلے اس دریافت کے متعلق معلومات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی امیریکن آسٹرونومیکل سوسائیٹی کی 240 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں تھیں۔

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    محققین کے مطابق یہ ایکسو پلینٹ یعنی نظام شمسی سے باہر یہ دو سیارے زمین سے 33 نوری سال کے فاصلے پر موجود HD 260655 نامی سرخ ڈوارف سیارے کے گرد گھوم رہے ہیں یہ سیارے ہماری زمین کی طرح چٹانی تو ہیں لیکن ہیئت میں زمین سے بڑے ہیں ایک سیارہ زمین سے 1.2 گُنا اپنے ستارے کے گرد چکر لگانے میں صرف 2.8 دن لیتا ہے جبکہ دوسرا سیارہ زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے جس کو ایک مدار مکمل کرنے کے لیے 5.7 دن درکار ہیں۔

    سیاروں کا پیرنٹ ستارہ ایک نام نہاد M بونا ہے، جو سورج کی جسامت اور چمک کے دسویں حصے کا ایک چھوٹا ستارہ ہے۔ پھر بھی، سیاروں کی سطحوں پر درجہ حرارت بالترتیب 818 ڈگری فارن ہائیٹ (437 ڈگری سیلسیس) اور 548 ڈگری فارن ہائیٹ (287 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ جاتا ہے۔

    میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) میں فلکیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق اور اس دریافت کے پیچھے سرکردہ سائنسدانوں میں سے ایک مشیل کونیموٹو نے بیان میں کہا کہ ہم اس حد کو رہائش پذیر زون سے باہر سمجھتے ہیں پھر بھی، یہ دو سیارے ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیاؤں کے بارے میں مزید جاننے کا ایک دلچسپ نیا موقع فراہم کریں گے-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    Kunimoto نے کہا کہ اس نظام کے دونوں سیاروں کو اپنے ستارے کی چمک کی وجہ سے ماحول کے مطالعہ کے لیے بہترین اہداف میں شمار کیا جاتا ہے۔” "کیا ان سیاروں کے ارد گرد اتار چڑھاؤ سے بھرپور ماحول موجود ہے؟ اور کیا پانی یا کاربن پر مبنی انواع کے آثار ہیں؟ یہ سیارے ان دریافتوں کے لیے بہترین ٹیسٹ بیڈ ہیں۔

    محققین ستارے کے نظام کا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس میں اور بھی سیارے ہوسکتے ہیں، جن میں سے کچھ، شاید، ہمارے سیارے سے تھوڑا دور ہوسکتے ہیں۔

    TESS مشن کے MIT کے تحقیقی سائنسدان اوردریافت کےشریک مصنف، Avi Shporer نے بیان میں کہا نظام میں مزید سیارے ہو سکتے ہیں بہت سے ملٹی پلینٹ سسٹمز ہیں جو پانچ یا چھ سیاروں کی میزبانی کر رہے ہیں، خاص طور پر چھوٹے ستاروں کے ارد گرد۔ اس کی طرح امید ہے کہ ہم مزید تلاش کریں گے، اور شاید کوئی قابل رہائش زون میں ہو۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    واضح رہے کہ 2018 میں خلاء میں نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کی تلاش کے لیے بھیجا جانے والا اسپیس کرافٹ ٹرانزٹ طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت یہ فاصلے پر موجود ستارے کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور انتظار کرتا ہے کب اس کی روشنی میں خلل آئے جو اس بات ثبوت کا ہوتی ہے کہ اس ستارے گرد گھومنے والے سیارے ٹیس اور اس ستارے کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔

    یہ اسپیس کرافٹ 200 سے زائد مصدقہ ایکسو پلینٹ دریافت کر چکا ہے، جس کے بعد ماہرینِ فلکیات کی دریافتوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہے-

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

  • عثمان بزدار کو مراعات نہ دینے پر آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری

    عثمان بزدار کو مراعات نہ دینے پر آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری

    عثمان بزدار کو مراعات نہ دینے پر آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے مراعات کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی کا بیان ہے ،پروٹوکول دیا گیا ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ توہین عدالت کی درخواست دائر کریں،وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ توہین عدالت کے حق میں نہیں

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعلی عثمان بزدار نے خراب اور کھٹارہ گاڑیاں ملنے پر دوبارہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ،عثمان بزدار کی جانب سے دائر درخواست میں پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ پنجاب حکومت نے سیکورٹی کے لیے خراب اور کھٹارہ گاڑیاں فراہم کی ہیں ۔حکومت قانون کے مطابق سیکورٹی اور ملازمین بھی فراہم نہیں کر رہی ۔لاہور ہائیکورٹ سیکیورٹی اور ملازمین فراہم کرنے کا حکم دے ۔عدالت پنجاب حکومت کو ٹھیک گاڑیاں دینے کے لیے احکامات دے

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    عثمان بزدار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    بزدار کی رہائشگاہ پر اینٹی کرپشن کے چھاپے

    واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف پنجاب حکومت نے اینٹی کرپشن میں مقدمہ بھی درج کروا دیا ہے، جس پر عثمان بزدار نے ضمانت کروا رکھی ہے، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر عثمان بزدار کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔مقدمات میں سرکاری زمین کو جعلسازی سے اپنے نام منتقل کروانے کی دفعات شامل ہیں جبکہ متن میں لکھا گیا ہے کہ سردار عثمان بزدار نے 900 کنال سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کے بارے میں جعلی لیٹر تیار کروایا اور 1986 میں منتقلی ظاہر کر کے زمین ہتھیا لی۔ عثمان بزدار اور بھائیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے تونسہ میں کروڑوں روپے مالیت کی 900 کنال سرکاری زمین جعلی طور پر اپنے نام منتقل کروائی۔ ملزمان کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن ڈی جی خان میں مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • قیام پاکستان کے وقت 1947 کی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ لاہورہائیکورٹ نے سنا دیا

    قیام پاکستان کے وقت 1947 کی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ لاہورہائیکورٹ نے سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ نے قیام پاکستان کے وقت 1947 کی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری محمد اقبال نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، تحریری فیصلے میں قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کی قربانیوں کا ذکر بھی کیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست کے مطابق بزرگوں نے 7 جولائی 1947 کو انیر سنگھ سے زرعی زمین خریدی،پاکستان اور بھارت بننے کے بعد انر سنگھ بھارت منتقل ہوگیا موضح رائے لاہور میں واقعہ زمین کا ڈپٹی کمشنر نے 1952 نوٹیفکیشن جاری کردیا درخواست گزار کے مطابق انہوں نے 362 کنال اراضی کے انتقال کو چیلنج کیا انر سنگھ کو زمین کی فروحت اور معاہدے کے لیے بھارت خطوط بھیجے گئے، ریونیو ریکارڈ کے مطابق 1947 سے لیکر 1950 تک متعلقہ زمین ناموں پر نہیں ہے، درخواست گزار کے بڑوں یا زمین خریدنے کا کوئی ذکر نہیں پایا گیا ،درخواست گزار اپنا موقف ثابت کرنے میں ناکام رہا لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کردیا

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

  • برج الخلیفہ سے بھی بڑا شہاب ثاقب :آج زمین کے نزدیک سے گزرے گا تو کیا ہوگا؟ناسا نے رپورٹ جاری کردی

    برج الخلیفہ سے بھی بڑا شہاب ثاقب :آج زمین کے نزدیک سے گزرے گا تو کیا ہوگا؟ناسا نے رپورٹ جاری کردی

    واشنگٹن :برج الخلیفہ سے بھی بڑا شہاب ثاقب :آج زمین کے نزدیک سے گزرے گا تو کیا ہوگا؟ناسا نے رپورٹ جاری کردی ،اطلاعات کے مطابق دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ سے بھی زیادہ بڑا عظیم الجثہ شہاب ثاقب آج رات زمین کے بہت نزدیک سے گزرے گا۔

     

     

    خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے مطابق 7482 کا کوڈ نام رکھنے والا یہ شہاب ثاقب آج رات 43 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے زمین سے 12 لاکھ میل کے فاصلے سے گزرے گا۔

     

    اس سے قبل یہ شہاب ثاقب 1933 میں زمین سے 6 لاکھ 99 ہزار میل کے ٖفاصلے سے گزرا تھا۔ آج کے بعد یہ 2105 میں زمین کے اتنے نزدیک سفر کرے گا۔

     

    اس شہابیے کو آر ایچ میک ناٹ نے میں آسٹریلیا کی ایک مشاہدہ گاہ میں دریافت کیا تھا۔ یہ سورج کے گرد ایک چکر 572 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔

     

    برج الخلیفہ سے بھی بڑا شہاب ثاقب آج زمین کے بہت سے گزرے گا

    اس شہابیے کا قطر 3 ہزار 451 فٹ ہے جو کہ زمین پر موجود دنیا کی سب سے بڑی عمارت برج الخلیفہ سے بھی ڈیڑھ گنا اور ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے دوگنا زائد ہے۔ برج الخلیفہ کی اونچائی بھی 2 ہزار722 فٹ ہے۔

    The massive asteroid, more than twice the size of the Empire State Building in New York, will come within 1.2 million miles of the Earth

    اس شہاب ثاقب کو یورپ کے مقامی وقت کے مطابق 9:51 پر بنا دوربین کے دیکھا جاسکے گا۔

    Amateur astronomers may be able to see the asteroid in the constellation Pisces using a small backyard telescope

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے زمین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور اس سے خلابازوں کو اس شہاب ثاقب کی سطح کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملے گا۔

     

    ناسا اور دیگر خلائی ادارے سورج کے مدار میں گردش کرنے والے 28 ہزار شہاب ثاقب کو باقاعدگی سے مانیٹر کرتے ہیں اور ان میں اکثر زمین کے مدار میں بھی داخل ہوجاتے ہیں۔

  • ایک چھوٹی سی تبدیلی ،تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک چھوٹی سی تبدیلی ،تحریر: عفیفہ راؤ

    ناسا نے زمین کو تباہی سے بچانے کے لئے ایک انوکھی کوشش شروع کر دی ہے۔اس کے لئے Dart نامی ایک مشن کو خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ زمین کو کیا خطرات لاحق ہیں اور اس سے بچاو کے لئے ناسا کیا کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے زمین کے مستقبل یعنی قیامت کے بارے میں قرآن پاک میں جو آیات نازل ہوئیں ہیں ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے بیان کروں گی

    سورة القارعہ میں قیامت کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ۔۔۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ایک اور آیت ہے۔۔اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔۔ بدل جائے گا۔۔ اور سب کے سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔یہ قرآن پاک میں روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔
    سورۃ الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے:
    جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا۔
    پھر سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا ہے۔
    اور جب زمین کو کھینچا جائے گا۔
    اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری رد وبدل کی جائے گی۔

    جس کے بارے میں سورۃ القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے۔
    یعنی سورج اور چاند کو یکجا کر دیا جائے گا۔
    اس طرح کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جس سے اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں زمین کے ساتھ کچھ ٹکرائے گا اور زمین کا نقشہ بدل جائے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے بہت سے سائنسدان اس وقت مختلف تحقیق اور تجربے کرنے میں مصروف ہیں اور اب ایسا ہی ایک تجربہ ناسا کی طرف سے کیا گیا ہے۔چند دن پہلے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے ایک خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے جو مستقبل میں کسی بھی خطرناک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روک سکے گا۔ایک لمبے عرصے سے یہ بات کی جاتی رہی ہے کہ زمین کو مختلف خلائی چٹانوں سے خطرہ ہے اور ان چٹانوں میں سے کوئی بھی چٹان آنے والے وقتوں میں زمین سے ٹکرا سکتی ہے یہ مشن انھیں چٹانوں کو ناکارہ بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ اور اس مشن کا نام ڈارٹ مشن رکھا گیا ہے۔ یہ خلائی جہازDimorphosنامی شہابیے سے ٹکرائے گا۔ جس کے بعد ناسا کے سائنسدان یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس ٹکراو کے بعد Dimorphosکی رفتارمیں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی نوٹ کیا جائے گا کہ کیا اس ٹکر کے بعد وہ شہابیہ اپنا راستہ کس حد تک تبدیل کرتا ہے یا واپس اسی راستے پر آجائے گا۔ناسا کا یہ مشن کتنا اہم ہے یا یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر خلائی چٹانوں کا کوئی ملبہ صرف چند سو میٹر سے زمین کے کسی حصے سے ٹکرائیں تو وہ پورے Continentمیں تباہی مچا سکتا ہے۔ اس ڈارٹ مشن کو خلا میں بھیجنے کے لئےSpace x کے بنائے گئے Falcon 9نام کے خلائی راکٹ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ مشن چوبیس نومبر دوہزار اکیس کو صبح چھ بج کر بیس منٹ پرCaliforniaکے Vandenberg Space Force Baseسے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

    لیکن یہاں میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ Dimorphosایک ایسی خلائی چٹان یا شہابیہ ہے جس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دراصل یہ خلائی چٹانیں ہمارے سولر سسٹم کے ایسے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں سے اکثر زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ لیکن کچھ ایسی چٹانیں ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہوئے زمین کی طرف بڑھتی ہیں تو پھر ان کے زمین سے ٹکرانے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو یہ زمین کے لئے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لئے صرف مستقبل میں ایسے خطروں سے نمٹنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سیکھنے کی کوشش کی جائے کہ مستقبل میں کوئی ایسا ملبہ یا شہابیہ زمین کی طرف آئے تو اسے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے۔اس مشن میں پہلے تو سب سے مشکل کام یہ ہے کہ اسے
    Dimorphosتک پہنچایا جائے تاکہ وہ اصل ٹارگٹ کو ہٹ کر سکے۔ کیونکہ باقی کا تجربہ اس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔اس ڈارٹ مشن کو تقریبا 32 کروڑ ڈالرلگا کر تیار کرنے کے بعد ہمارے Binary system of orbit میں بھیجا گیا ہے جو ستمبر2022 تک خلا میں گھومتا رہے گا اور پھر زمین سے67 لاکھ میل دور جا کر سیارچوں کے ایک جوڑے کو نشانہ بنائے گا جو اس وقت ایک دوسرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے بڑے سیارچے کا نامDaddy mossہے جو تقریبا 780 میٹر چوڑا ہے۔ اور دوسرا سیارچہDimorphosہے جو تقریبا 160 میٹر چوڑا ہے۔خلا میں بڑے سیارچوں کے مقابلے میں چھوٹے سیارچے زیادہ ہیں اور اس لیے سب سے زیادہ خطرہ بھی انہی سے ہے۔ لیکن ان دومختلف سائز کے سیارچوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پتا لگایا جا سکے کہ اس ٹکراو کے بعد کس سائز کا سیارچہ کس حد تک اپنی جگہ سے ہٹ سکے گا۔ یہ چیک کرنا اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اگرDimorphosکے سائز والا کوئی سیارچہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس کا اثر کئی ایٹم بموں کی توانائی جتنا ہو گا۔ اس سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر تین سو میٹر اور اس سے زیادہ چوڑائی والی کوئی خلائی چٹان زمین سے ٹکراتی ہے تو وہ کئی براعظموں کو تباہ کرسکتی ہے اور ایک کلومیٹر کے سائز کے خلائی پتھر تو پوری زمین کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔یہ ڈارٹ مشن تقریبا 15,000
    میل فی گھنٹہ کی رفتار سے Dimorphosسے ٹکرائے گا۔ جس کی وجہ سے ان سیارچوں کی سمت صرف چند ملی میٹر تبدیل ہونے کی امید ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ممکن ہو گیا تو اس کی کلاس بدل جائے گی۔ اس بارے میں کچھ حد تک غیر یقینی صورتحال بھی ہے کہ اس ٹکراو کے بعد ان سیارچوں کا رویہ کیا ہو گا کیونکہ ابھی ناسا کے سائنسدان اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں نہیں جانتے۔ اگر یہ اندر سے ٹھوس ہوئے تو ظاہری بات ہے کہ بہت سا ملبہ باہر آئے گا جس سے ڈارٹ کو مزید دھکا لگے گا۔

    ویسے تو یہ ایک بہت چھوٹی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن ایک خلائی چٹان کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے اور تباہی سے بچانے کے لیے بس اتنا ہی کرنا کافی ہے۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔
    ڈارٹ مشن کی نگرانی کے لئے اس خلائی جہاز پرDraicoنامی ایک کیمرہ بھی لگایا گیا ہے جو اس کے مشن کی تصاویر لے گا تاکہ خلائی جہاز کے ٹکرانے کے لیے صحیح سمت کا تعین کیا جا سکے۔ اوراپنے ہدف کو نشانہ بنانے سے تقریبا دس دن پہلے ڈارٹLessia qubeنام کی ایک چھوٹی سیٹلائٹ کا استعمال کرے گا جو ٹکراو کے بعد کی تصاویر واپس ناسا کے آفس بھیجے گی۔ اس کے علاوہ ان سیارچوں کی گردش کے راستے میں آنے والی چھوٹی تبدیلیوں کو زمین پر لگی دوربینوں سے بھی ناپا جائے گا۔اس کا زرلٹ تو ستمبر دو ہزار بائیس کے بعد ہمارے سامنے آئے گا کہ بتیس کروڑ ڈالر لگا کر ناسا نے جو یہ تجربہ کیا ہے اس میں کس حد تک سائنسدانوں کو کامیابی ملی ہے۔ کیا واقعی زمین کو ایسے خطرات سے بچایا جا سکے گا یا پھر آنے والے دنوں میں تباہی ہی انسانوں کا مقدر بنے گی۔

  • قبضہ مافیا کی اب خیر نہیں، لاہور پولیس نے کروڑوں روپے کی سرکاری زمین واگزار کروا لی

    قبضہ مافیا کی اب خیر نہیں، لاہور پولیس نے کروڑوں روپے کی سرکاری زمین واگزار کروا لی

    لاہور پولیس کی قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی میں کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کر لی گئی۔
    کاہنہ کے علاقہ سدھڑ میں سرکاری زمینیں ہتھیانے والا قبضہ مافیا کےخلاف آپریشن کیا گیا۔
    ایس پی ماڈلٹاون کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے کروڑوں روپے کی 58کینال سے زائد سرکاری زمین واگزار کروا لی،
    قبضہ مافیا عرصہ دراز سے سرکاری اراضی پر قابض تھے،
    پولیس کا بھاری نفری کے ہمراہ آپریشن کیا،
    سربراہ لاہور پولیس نے ایس پی ماڈلٹاون اور ان کی ٹیم کو شاباش دی۔
    غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ شہر میں بدمعاشوں، قبضہ مافیا اور نوسربازوں کی کوئی گنجائش نہیں، زمینیں ہتھیانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، سی سی پی او آفس میں قبضہ مافیا اور بدمعاشوں کے ستائے شہریوں کی دادرسی کےلئے سیل قائم ہے، شہری قبضہ کے متعلق نان ایمرجنسی ہیلپ لائن 1242 پر کال کر سکتے ہیں۔