Baaghi TV

Tag: زندگی

  • زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ….

    کبھی اپنا وقت بھی آ ئے گا…. یہ کہنے کو تو ایک تسلی ہے مگر اس ایک جملے میں ہم نہیں جانتے کتنے ہی لوگ اپنی امیدوں کے پورا ہونے کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور پھر اپنی حسرتوں اپنی امیدوں کو اپنے ساتھ لیے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ,
    البتہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ جاتے ہیں کہ انہوں نے وقت کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی بجائے ایک چھوٹی سی کوشش بھی کی ہوتی تو شاید ان کی تکلیفیں کم ہوجاتیں,
    اور جو لوگ اپنی حیثیت کے مطابق کوشش بھی کرتے ہیں مگر اس کے اردگرد کے لوگ اس کو support نہیں کرتے اگر ایسے وقت اسے تھوڑی سی بھی support مل جائے تو کئی لوگ اپنے رویوں میں نہ صرف تبدیلی لے آئیں گے بلکہ اس انسان کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا ازالہ بھی کریں گے
    ہم زندگی میں کئی لوگوں سے ملتے ہیں ان کے مسکراتے چہرے دیکھ کر اکثر غلط اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ بھرپور زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کے مسکراتے چہروں کے پیچھے کئی راز ہوتے ہیں جو نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ وہ کسی پر ظاہر ہونے دیتے ہیں.
    مانتی ہوں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا مگر جس انسان نے اپنے بھلے وقت میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی, اپنوں کا خیال رکھا مگر جب اس انسان پر برا وقت آتا ہے ناں تو یقین کریں جس پر ان کو پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے وہی اس انسان سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں اور وہ انسان ان کے سامنے ڈوب رہا ہوتا ہے مگر وہ دور سے تماشائی بنے اس کا تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں.
    کیا اپنوں کا ایسا طرز عمل اس انسان کو ہمت دے گا ؟؟؟
    اس کو تو اوع دلبرداشتہ کردے گا کہ میں کیا کرتا رہا اور میرے ساتھ کیا ہورہا ہے….
    آ ج یہ تحریر لکھتے ہوئے میرے ذہن میں کئی سوالات امڈ رہے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اپنے ہی لوگ اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں…
    وہ مجھے بتا رہی تھی کہ اب گھر میں بیچنے کو کچھ بھی نہیں بچا, گاڑی خالہ کو بیچ دی اب ایک چھت رہ گئی ہے وہ بھی جیٹھانی کہہ رہی کہ اگر بیچنا ہوا تو مجھے بتا دینا میں خرید لونگی….
    یہ اس عورت کو کہا جا رہا ہے جو انہی لوگوں کا اس وقت سہارا بنی جب اس کی جیٹھانی بیوہ ہوئی تھی اور اس کے گھر کے اخراجات بچوں کی پڑھائی کا زمہ اس عورت نے اٹھایا تھا اور آخر کار اسکے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے…
    کہتے ہیں ناں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا کسی کو اللہ دے کر آ زماتا ہے اور کسی کو اس سے محروم رکھ کر,
    اس عورت کے شوہر کی جاب چار پانچ سال پہلے کسی وجہ سے چلی گئی اور تب سے یہ عورت کسی کے آ گے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود گھر سے باہر کام کرنے جانے لگی اور وہی ہوا جو ہمارے ہاں اکثر ہوتا ہے کہ اسے کئی طرح کی باتوں کا تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
    آ ج وہ کسی کام سے میرے گھر آئی تو میری زرا سی تسلی سے اس کی آنکھیں بھر آ ئیں
    میرے چپ کروانے پر بولی کہ کاش میرے گھر والوں کو میری تکلیفوں کا احساس ہو کہ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں, وہ روتے روتے کہنے لگی کہ آپا میں بہت حساس ہوں شاید…. میری ماں بھی نہیں رہی کہ اس کی گود میں سر رکھ کر رو لوں, میں اپنے بچوں میں اپنی ماں کا پیار ڈھونڈتی ہوں کہ مجھے وہ سہارا دیں مگر آپا ان کو بھی میری تکلیفیں نظر نہیں آرہی…
    میں کیسے ان کی ضرورتیں پوری کررہی ہوں یہ ان کو نہیں پتا…
    بس دعا کرتی ہوں کہ اللہ کسی کو سب کچھ دے کر پھر تنگدستی نہ دے کیونکہ عیش و آرام کے بعد تنگدستی کی زندگی جینا بہت کٹھن ہے.
    میں نے اسے حوصلہ دیا کہ انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا اللہ پر بھروسہ رکھو تو آ نسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی اور ساتھ گویا ہوئی آپا میں اپنے شوہر کو کہتی ہوں کوئی کام تلاش کرے تو کہتا ہے کوئی کام ملتا ہی نہیں تو کیا کروں کہاں جا کے کام کروں تم کام کررہی ہو ناں… اور جب جواب میں اسے کہتی ہوں میرے میں ہمت نہیں رہی ہے گھر میں بیٹھنے سے کام تمھیں نہیں ملے گا ڈھونڈنا شروع کروگے تو ملے گا تو کہتا ہے ساری زندگی میں نے عیش کروائی ہے کیا ہوگیا جو اب تم کام کر رہی ہو.
    آپا کیا وہ عیش کی زندگی میں نے اکیلے گزاری تھی کہ اب سارا بوجھ مجھے اٹھانا پڑ رہا ہے ؟ اس عیش میں اس کے اپنے گھر والے بھی تو تھے ناں

    یہ کہتے وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی مگر میرے پاس اس کے سوالوں کا جواب نہیں تھا سوائے تسلی دینے کے کہ حوصلہ رکھو سب بہتر ہوجائے گا تو جواب میں اس کا جواب آیا کہ جب میں ہی نہ رہی تو سب ٹھیک ہوگا بھی تو مجھے کیا….

    اس کی اس بات پر میں نے حیرانگی سے پوچھا ایسا کیوں کہہ رہی ہو تو وہ بولی آ پا میں سوچتی تھی کہ خودکشی کرنے والوں کو ڈر کیوں نہیں لگتا مگر اب سمجھ آرہی ہے کہ لوگ خودکشی کو کیوں اتنا آ سان سمجھتے ہیں ایک بار کی تکلیف ہوتی ہے ناں, روز روز کی تکلیفوں سے کم از کم نجات تو پالیتے ہیں,
    میں نے اس کی پوری بات سن کر اس کو ڈانٹا کہ اپنے ذہن سے منفی سوچ نکالو کہ خودکشی کرنے سے سب تکلیفیں ختم ہوجائیں گی تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو کر ایسی باتیں کررہی ہو مجھے حیرت ہے, اپنے آپ کو مضبوط بناؤ جیسے دکھاتی ہو کہ تم ہمت والی ہو, اور خودکشی بزدل لوگ کرتے ہیں جو حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتے. خیر میرے ڈانٹنے پر وہ تھوڑا مسکرا دی اور میرے گلے لگ گئی یہ کہتے ہوئے کہ آپا کبھی تو اپنا وقت بھی آئے گا ناں ؟اس کی بات سن کر میں نے مصنوعی ہنسی سے کہا ہاں انشاءاللہ ضرور آئے گا بس انسان کو ثابت قدم رہنا چاہیے.

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ،اس کے برے حالات سے زیادہ میرے خیال میں اسے اس کے اپنوں کے رویے اذیت دے رہے تھے کیونکہ بقول اس کے کہ اس کی تکلیفوں کا کسی کو بھی احساس نہیں ،وہ اپنی استطاعت کے مطابق مشکل حالات کا اکیلے مقابلہ کررہی تھی کیونکہ اسے مشکل حالات کے ساتھ ساتھ اپنوں کے منفی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہوگئی تھی

    یہ سچ ہے کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آ تے رہتے ہیں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ ہی انسان کو سبق سیکھا دیتے ہیں,
    اس کڑے وقت میں وہ گھر داری کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو بہت سی باتیں اور تنقید بھی سننے کو ملتی ہے اسکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ مردوں کا ہے عورت جتنا مرضی کام کر لے اس کی حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے.

    یہاں اس اکیلی کی زمہ داری نہیں تھی, ان حالات میں اسے اسکے شوہر کی زیادہ support کی ضرورت تھی مگر جو نظر نہیں آتی, اگر اس کا ساتھ ان حالات میں شوہر بھی دیتا تو کم از کم وہ زندگی سے مایوس نہ ہوتی, وہ آ ج خود کو اکیلا محسوس نہ کرتی, شوہر کا یہ کہنا کہ ساری زندگی عیش کروائی ہے تو کیا ہوا اب جو تمھیں کام کرنا پڑ رہا ہے یہ ہر لحاظ سے غلط سوچ ہے
    ہمیں اس معاشرے میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے تو گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کا عزت دینا ہوگی ان کو تحفظ کا احساس دلانا ہوگا اور یہ تبھی ہوگا جب ہم منفی کی بجائے مثبت سوچ رکھیں گے جب دوسروں کی تکالیف کا احساس کریں گے جزاک اللہ
    @Rehna_7

  • زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ دونوں باپ بیٹا راستے میں ٹرین میں سوار ہوئے تھے ۔ باپ کھڑکی کے ساتھ خالی سیٹ پر جاکر خاموشی سے بیٹھ گیا اور باہر دیکھنے لگا جب کہ تین چار سال کا بچہ اس کے ساتھ والی سیٹ بیٹھ گیا۔

    بچہ تھؤڑی دیر تو بیٹھا رہا پھر سیٹ سے نیچے اتر کر دوسری جانب کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر دیکھنے لگا لیکن اس کا باپ اس سے لاتعلق بیٹھا تھا۔ ڈبے میں بیٹھے ایک شخص نے بچے کو ایسا کرنے سے روکا تو بچہ اسے منہ چڑاہنے لگا اور بھاگ کر چلتی ٹرین کے ڈبے کے دروازے میں جا کھڑا ہو۔

    ڈبے میں موجود سب لوگ اس بچے کی شرارتوں سے تنگ ہونے لگے جو کبھی کسی مسافر کا جوتا اٹھا کر باہر پھینکنے کی ایکٹنگ کرتا تو کبھی کی عورت کی نقل اتارنے لگتا۔

    سب لوگوں کو اس کے باپ پر بہت غصہ آرہا تھا جو اس سارے ڈرامے سے لاتعلق کھڑکی کے باہر کے مناظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔

    ایک خاتون کہنے لگیں “ عجیب بدتمیز بچہ ہے ۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت ہی نہیں کی”۔

    دوسرا مسافر بولا ل پتہ نہیں یہ لوگ بچے تو پیدا کر دیتے ہیں لیکن ان کی ذمہ داریوں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔”

    الغرض ہر طرف سےقسم قسم کے تبصرے ہونے لگے لیکن اس کا باپ بہرا بن کر کھڑکی سے باہر کا منظر انجوائے کررہا تھا۔

    اس وقت تو بچے نے حد ہی کر دی جب اس نے شرارت سے منع کرنے پر ایک بزرگ کے منہ پر چانٹا جڑ دیا۔ اس بابے کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے صبر کا پیمانہ اس حرکت پر لبریز ہوگیا۔

    وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور جاکر بچے کے باپ کو کندھوں کو زور سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور بولا “ ایسی ناہنجار اولاد پیدا کر لیتے ہیں تو اس کا خیال بھی رکھتے ہیں؟”

    بچے کا باپ جو کہیں خیالوں میں گم تھا اس بے طرح کے جھنجھوڑنے پر اچانک خیالات سے واپس آیا اور پوچھا “ کیا ہوا بھائی؟ اتنا غصہ کس بات پر کر رہے ہو“

    اس کے اس سوال پر ڈبے میں بیٹھے سارے مسافر اس پر تف بھیجنے لگے۔نوجوان بھی اور زیادہ بپھر گیا اور غصے سے آگ بگولا ہوتے ہوئے اسے بتایا کہ آپ کے نا خلف بیٹے نے اس بزرگ کے منہ پر چانٹا رسید کردیا ہے۔

    یہ سنتے ہی اس کے باپ نے بزرگ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کہنے لگا” معاف کرنا بزرگو۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دوسرے شہر میں اس بچے کی جواں سال ماں یعنی میری بیوی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کے نیچے کچلی گئی ہے۔ اس بچے کو اپنی ماں کی موت کا ابھی تک پتہ بھی نہیں۔ میں اسے لے کر اپنی بیوی کی تدفین کے لئے روانہ ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ماں کی موت کا اس معصوم کو کیسے بتاؤں گا”

    یہ جان کر سارے ڈے کے مسافروں کا اس بچے اور اس کے باپ کو دیکھنے کا انداز ہی بدل گیا۔عورتیں آگے بڑھ کر اس کو پیار کرنے لگیں۔ دوسرے مسافر اسے جوس اور ٹافیاں دینے لگے۔ وہ بزرگ اٹھے اور بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے گلے لگا لیا۔

    ہر کسی کی خواہش تھی کہ سفر میں جتنا اس کا ساتھ ہے وہ کسی طریقے سے اس بچے کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔

    زندگی کی ٹرین میں بھی ہر مسافر کی اپنی کہانی ہوتی ہے جسے وہ لے کر چل رہا ہوتا ہے۔دیکھنے والے اس کی ظاہری حالت اور روئیے پر طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہوتے ہیں اور لیبل لگا لیتے ہیں لیکن کسی کی اصل کہانی جاننے کا شوق یا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا۔

    زندگی کی دوڑ میں ہر بندہ ہر وقت کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔ کوئی کس وقت کیسا کیوں کر رہا ہے یہ اسی کو پتہ ہے۔ اگر ہم کسی کے لئے آسانی پیدا نہیں کرسکتے تو کم ازکم اسے تنہا لڑنے دیں۔ اس پر بلاوجہ تبصروں سے گریز کریں۔ہو سکے تو ہم اس کے اس طرز عمل کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اللہ ہم سے راضی ہو۔

    (مرکزی خیال اسٹیفن کووے کی کتاب “پر اثر لوگوں کی سات عادات” سے ماخوذ)

  • کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    ہم سب اپنی روز مزہ کی مصروفیات میں اس قدر گم تھے کہ ہم اپنے گھر والوں کو، دوست احباب کو، رشتہ داروں کو حتیٰ کہ اپنے آپ کو بھی وقت نہیں دے پا رہے تھے. ہم نے اپنی زندگی کو اتنا شدید مصروف کر لیا تھا کہ زندگی خود ہم پر ہنستی تھی اور قہقہے لگا کر ہمارا مذاق اڑاتی تھی. ہمیں کسی چیز کا ہوش ہی نہیں تھا. ہم اتنے مادہ پرست ہو چکے تھے کہ ہم نے ہر وہ چیز، ہر وہ رشتہ، ہر وہ احساس اور ہر وہ بندھن جو ہمیں تقویت دیتا، ہمیں سکون فراہم کرتا اور ہمیں روحانی طور پر مضبوط بناتا، بھلا دیا.ہم صبح سے شام تک بس اسی تگ و دو میں لگے رہتے کہ کسی طرح ہم اتنی دولت اکٹھی کر لیں جو ہمیں دوسروں کے معاملے میں ممتاز بنا دے اور معاشرے میں ہمارا رتبہ دوسروں سے بلند ہو جائے پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہمارا کردار کیسا ہے اور ہم اخلاقی طور پر کیسے ہیں.

    ہم نے اپنا نام بنانے کے لیے ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا. ہم نے ہر وہ راہ اپنائی جس سے ہمیں احتراز برتنا چاہیے تھا. ہم نے ایسا کوئی بھی فعل نہیں چھوڑا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو اور ہم نے ہر وہ حد پار کی جس سے ہمیں روکا گیا تھا. ہم نے ہمیشہ اپنے آپ کو دیکھا، ہمیشہ دوسروں پر خود کو فوقیت دی. ہم نے اپنی جھوٹی، ادا اور کھوکھلی میں سے ہمیشہ دوسروں کو تکلیف پہنچائی. زندگی گزر رہی تھی. اس نے گزر ہی جانا تھا.

    ہمارے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا فرق پڑنا تھا لیکن ہم نے اس بات کی بھی پروا نہیں کی کہ ہم اس فانی دنیا میں ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے. ہمیں اس چیز کو سمجھنا تھا، ہمیں اپنے آپ کو سمجھانا تھا، ہمیں دل اور دماغ کے مابین چھڑی ان دیکھی جنگ کو افہام و تفہیم سے ختم کرنا تھا. ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا کہ زندگی کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا. ہمیں مشکل میں اوروں کی مدد کرنی تھی کہ جینے کا حسن اسی میں تھا. ہمیں دوسروں کو خود پر فوقیت دینی تھی کہ اسی کا نام زندگی تھا.

    ہمیں حلال کھانا تھا اور اپنی نسلوں کو پاکیزہ بنانا تھا، ہمیں حرام سے بچنا تھا اور اپنی نسلوں کو پاگل ہونے سے بچانا تھا، ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا، ہمیں ہمیشہ نیکی کی تلقین کرنی تھی اور برائی سے روکنا تھا کہ یہی ہمارا شیوہ تھا. ہمیں علم حاصل کرنے کے بعد اسے جتانا نہیں تھا، لوگوں کو بتانا نہیں تھا، علم پر اترانا نہیں تھا بلکہ کچھ کر کے دکھانا تھا اور علم کی عملی تصویر بن کر اندھیری دنیا میں روشنی کی شمعیں روشن کرنی تھی.

    ہمیں پیشوا بننا تھا، ہمیں رہبر و راہنما بننا تھا. ہمیں مفلسوں اور ناداروں کا ہمنوا بننا تھا ہمیں اشرف المخلوق ہونے کا حق ادا کرنا تھا ہائے ہائے مگر افسوس……. ہم کن کاموں میں پڑ گئے، ہم کن چکروں میں چکرا گئے، ہم کس جالے میں پھس گئے، ہم کس سحر میں جکڑے گئے. ہم سب کچھ ہی بھول چکے تھے، اخلاقیات بھی تباہ، معاملات بھی تباہ، عبادات بھی تباہ، رسومات بھی تباہ، زیارات بھی تباہ، احکامات بھی تباہ، سب کچھ ہی تو ہم نے تباہ کر دیا وہ بھی اس فانی دنیا کے لئے. اور پھر کورونا آیا… اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ، ہم نے پھر بھی تمسخر اڑایا، اپنے آپ کو سدھارنے کی کوشش تک نہیں کی، اپنے گریبان میں نہیں جھانکا، پھر بھی قصور وار دوسروں کو ہی ٹھہرایا.

    ہماری دھرتی پر اس کا راج ہونے لگا مگر ہمیں پھر بھی سمجھ نہیں آیا. پھر کورونا کی ہولناکیاں آہستہ آہستہ ہمارے گھروں تک پہنچ گئیں ہم پھر بھی نہیں سدھرے. کورونا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ ہم اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ اس ان دیکھے جییو نے سب کچھ بدل ڈالا. ہمارے معاملات ہماری عبادات ہمارا رہن سہن ہمارے طور طریقے اور کسی حد تک ہماری جھوٹی نکمی دو ٹکے کی انا کو بھی.

    ہم پھر سے اپنوں کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اپنے آپ کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اندر ہی اندر ہی ڈرنے بھی لگے اور اپنی گزشتہ زندگی میں کئے گئے بلنڈروں کو یاد کر کے پیدا کرنے والے سے معافی بھی طلب کرنے لگے. ہمارے میناروں سے راتوں کو اذانیں بھی بلند ہونے لگیں اور مندروں، گرجاگھروں سے حق حق کی صدائیں بھی بلند ہونے لگیں.

    قصہ مختصر ہم لوگ کسی حد تک سدھرنے لگے. یہ وبا زیادہ دیر نہیں چلے گی کیونکہ اس سے بیشتر بھی بیسیوں وبائیں آ کر جا چکی ہیں مگر ہمیں اس وبا سے حاصل کرنا ان تمام اسباق کو تامرگ دم یاد رکھنا ہے جنھوں نے ہم میں سے کسی ایک کی زندگی کو بھی بدل ڈالا ہے.

    ہمیں کورونا کے بعد کورونا سے پہلی والی زندگی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دینا ہے اور جیون کی ابتدا ماں کے پیٹ سے کرنی ہے کہ ہم انسان ہیں، اور انسان انسانیت میں ہی اچھے لگتے ہیں.

  • زندگی کو خطرات ہیں، مجھے میڈیکل الاؤنس کی ضرورت نہیں،رمیز راجہ

    زندگی کو خطرات ہیں، مجھے میڈیکل الاؤنس کی ضرورت نہیں،رمیز راجہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے کہا کہ میری زندگی کو خطرات ہیں، مجھے میڈیکل الاؤنس کی ضرورت نہیں۔ رمیز راجہ نے قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ کو بریفنگ دی، جس پر کمیٹی کی رکن مہرین بھٹو نے کہا کہ پی سی بی والے اتنی زیادہ تنخواہیں لے رہے ہیں، کیا انہیں پریزنٹیشن کا نہیں معلوم تھا؟،رمیز راجہ نے کہا کہ ہمیں مختصراً زبانی طور پر بریفنگ دینے کا کہا گیا تھا، تنخواہوں کی بات کریں تو پی سی بی میں تنخواہیں عالمی مارکیٹ سے بہت کم ہیں، اچھے پروفیشنل کے لیے اچھی تنخواہیں دینی پڑتی ہیں۔

    سری لنکا کی کنڈیشنز کے لیے تیار ہیں،بابر اعظم

    مہرین بھٹوکا کہنا تھا کہ پچھلے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے پی سی بی میں اپنی مدت ملازمت پوری نہیں کی، جس کے جواب میں رمیز راجہ نے کہا کہ وسیم خان آئی سی سی میں اچھی پوسٹ پر لگ گئے ہیں، میں آج مجلس قائمہ میں اس سوچ سے آیا تھا کہ میری تعریف ہوگی۔رمیز راجہ نے کہا کہ ستمبر2021 میں چیئرمین پی سی بی کا عہدہ سنبھالا تھا، 9 مہینے ہوگئے بطور چیئرمین پی سی بی ایک بھی غیرملکی دورہ نہیں کیا، مجھے ایک بھی پیسہ نہیں ملتا، میری اہلیہ میرے ساتھ اب تک دورے پر نہیں گئیں۔

     

    اسٹورٹ براڈ ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز دینے والے بولر بن گئے

     

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ رمیز راجہ ہماری بھابھی کو دورے پر نہیں لے کر جاتے، یہ تو غلط بات ہے، جس کے جواب میں چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ میں اہلیہ کو لے کر ہی نہیں جاتا کیونکہ کمیٹی والے پھر میری کلاس لے لیں گے۔رمیز راجہ نے کہا کہ 61 کروڑ روپے پی ایس ایل کی فرنچائزز کو ملے ہیں، پاکستان کی رینکنگ میں بہتری آئی ہے، بھارت کو پاکستان نے شکست دی، جب میں کرکٹ کھیل رہا تھا تب بھی بھارت کو عالمی کپ میں شکست نہیں دے پائے تھے۔

     

    کشمیر پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا این او سی جاری

     

    انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل خواتین کے لیے فروری میں منعقد کی جائے گی، پاکستان جونیئر لیگ اکتوبر میں ہو رہی ہے، فخر ہے کہ پی سی بی حکومت سے ایک پیسہ نہیں لیتا، اپنا پیسہ خود بناتا ہے، پاکستان میں کرکٹ اسٹیڈیمز کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سیٹیں لگانے کی ضرورت ہے، کرکٹ شائقین کو سیڑھیوں پر بٹھانا اچھی بات نہیں، پی سی بی کو زیادہ فنڈنگ اس وقت آئی سی سی سے آتی ہے، پی سی بی چاہتا ہے کہ اپنا پیسہ خود بنائے جس کے لیے پاکستان جونیئر لیگ لارہے ہیں۔

    رمیز راجہ نے کہا کہ 28 کمپنیوں نے پاکستان جونیئر لیگ میں دلچسپی ظاہر کی ہے، شائقین کرکٹ کے لیے فین زونز بنا رہے ہیں کیونکہ اسٹیڈیم پہنچتے ہوئے انہیں مشکلات ہوتی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ رمیز راجہ کے آنے سے پاکستان کرکٹ کو فائدہ ہوا ہے، سوالات سے گھبرانا نہیں ہے۔رکن کمیٹی مہرین بھٹو نے کہا کہ کتنے اسٹیڈیم بنائے؟ کتنی اسٹیڈیم میں سیٹیں بنائیں؟ کتنے گراؤنڈز کلب کرکٹ کے لیے بنائے؟.

    رمیز راجہ نے کہا کہ 2004 سے اب تک 15 سے 20 گراؤنڈ پی سی بی نے بنائے ہیں، مہرین بھٹو نے کہا کہ پی سی بی اپنے پیروں پر نہیں کھڑا، عوام کے پیسوں سے کھڑا ہے۔ سی ڈی اے کو اسلام آباد میں اسٹیڈیم بنانے کے لیے خط لکھا ہوا ہے، ماضی میں حکومت نے لیز پر گراؤنڈ دیے جس پر پی سی بی نے پیسے لگائے۔

    رکن کمیٹی نے سوال کیا کہ فوڈ اسٹریٹ جو اسٹیڈیمز کے ساتھ بنی ہیں اس کا پیسہ کہاں ہے؟ رمیز راجہ نے کہا کہ فوڈ اسٹریٹس صرف نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے ساتھ ہے، دیگر جگہ پی سی بی کے تحت نہیں ہے۔رکن کمیٹی نے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں اچھی مٹی نہیں جو آسٹریلیا سے منگوا رہے؟ رمیز راجہ نے کہا کہ ٹیکنیکل بات ہے، آسٹریلیا کی مٹی میں باؤنس زیادہ ہوتا ہے، آسٹریلیا میں رواں سال ورلڈ کپ کی پریکٹس کے لیے آسٹریلیا سے مٹی منگوائی ہے، جب پچز پر باؤنس نہیں ہوتا تو اچھی بیٹنگ اور بولنگ کی پریکٹس نہیں ہوسکتی۔

    رمیز راجہ نے مزید کہا کہ ماضی میں دورہ نہ کرنے کا ازالہ کرنے کے لیے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ اضافی میچ کھیلنے پاکستان آرہے ہیں۔رکن کمیٹی نے کہا کہ لاڑکانہ کے کرکٹرز کے لیے اسٹیڈیم کیوں نہیں بنایا جارہا؟ کرکٹ میچ کیوں نہیں ہورہے؟ رمیز راجہ نے کہا کہ سندھ میں کرکٹ کے حوالے سے ڈیولپمنٹ ہو رہی ہے، شاہنواز دھانی لاڑکانہ سے جبکہ زاہد محمود دادو سے تعلق رکھتے ہیں۔

    رمیز راجہ نے کہا کہ بلوچستان میں کرکٹ کو فروغ دینا چاہتے ہیں، اگلے 6 ماہ میں سندھ اور بلوچستان میں کرکٹ کو فروغ دینا ہے، میں نے ایک بچے سے پوچھا کہ 5 لاکھ روپے انعام کیا معنی رکھتا ہے؟ بچے نے کہا کہ اس کا والد 1500 روپے دیہاڑی پر کام کرتا ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر این ایچ پی سی ندیم خان نے کہا کہ حکومت پنجاب سے 56 گراؤنڈ مانگے تھے، وہ 33 گراؤنڈ دے رہی ہے، گزشتہ سال نچلی سطح سے 9 ہزارمیچز پی سی بی نے کروائے ہیں، پاکستان میں بہت زیادہ کرکٹ ہورہی ہے۔

    ندیم خان نے کہا کہ پاکستان میں اسکول کرکٹ کو دوبارہ زندہ کررہے ہیں، ٹیلی ویژن پر اسکول کرکٹ نشر کی جائے گی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے اجلاس میں چائے پانی نہ ہونے کا شکوہ کیا، جس پر رکن کمیٹی مہرین بھٹو نے کمیٹی اجلاس میں چائے پانی نہ ہونے کی وجہ بتادی۔ مہرین بھٹو نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے ہدایات ہیں کہ چائے پانی اپنے پیسوں سے لے کر پئیں۔رمیز راجہ نے کہا کہ پی ایس ایل کے میچز، لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد اور کراچی میں کروانا چاہتے تھے، فیصل آباد کا گراؤنڈ مقامی انتظامیہ نے لے لیا، ہم اس پر پیسہ نہیں لگا سکتے، جب لیز پر گراؤنڈ ہمیں ملے گا تو پیسہ لگا سکیں گے۔

    رکن کمیٹی مہرین بھٹو نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ اپنی مراعات بتائیں، رمیز راجہ نے کہا کہ مجھے کچھ مراعات ملتی ہی نہیں تو کیا پی سی بی کو واپس کروں گا، میری تنخواہ صفر ہے، چیئرمین پی سی بی کی جب آفر ہوئی تو میں نے گھر میں ووٹنگ کروائی۔رمیز راجہ نے مزید کہا کہ پی سی بی چیئرمین کی تنخواہ کچھ نہیں لیکن گالیاں پڑتی ہیں، میرے بچوں نے کہا کہ میں پاگل ہوجاؤں گا، پی سی بی میں کم سے کم تنخواہ 20 ہزار تھی جو میں نے5 ہزار بڑھائی، میں نے انٹرٹینمنٹ الاؤنس ابھی تک پی سی بی سے نہیں لیا، بطور پی سی بی چیئرمین دوروں کے لیے اب تک صرف ڈھائی لاکھ 3 ماہ میں استعمال کیے ہیں۔

  • بے وقت کی نیند، زندگی کیسے تباہ ہوتی ہے، سونے کا بہترین وقت،تحقیق سامنے آ گئی

    بے وقت کی نیند، زندگی کیسے تباہ ہوتی ہے، سونے کا بہترین وقت،تحقیق سامنے آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نیند کا ہماری عمرکے زیادہ یا کم ہونے، جسمانی صحت کے اچھے یا برے ہونے اور زندگی میں کئے گئے مختلف فیصلوں کی کامیابی یا ناکامی سے کیا تعلق ہے۔۔۔ اور وہ کون سی خطرناک بیماریاں ہیں جن سے بچاو میں ہماری نیند کی روٹین ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے اپنے آس پاس بہت سے لوگوں کو دیکھا ہو گا جو بہت فخر سے یہ بات کہتے ہیں کہ ہم توپورے دن میں صرف چار سے پانچ گھنٹے سوتے ہیں یا پھر یہ کہ ہماری تو نیند بہت کم ہے ہم زیادہ دیر تک سو نہیں سکتے۔ لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اس عادت کی وجہ سے ان کے دماغ اور جسم کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔ یہ تمام فوائد اور نقصانات تو میں آپ کو آج کی ویڈیو میں آگے چل کر بتاوں گا ہی لیکن اس سے پہلے کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم سوتے کیوں ہیں؟ اور سونے کے دوران ہمارے جسم کے ساتھ کیا عمل ہوتا ہے؟بھوک لگنے پر کھانا کھانے، پیاس محسوس ہونے پر پانی پینے اور سانس لینے کی طرح نیند بھی ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ہم کسی دن نہ سوئیں تو پہلے پہل ہمارا جسم تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم کم سونے کو اپنی روٹین کا حصہ بنا لیں تو ہمارا جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دراصل جب ہم سوتے ہیں تو نیند کے دوران ہمارے جسم میں کچھ ایسے خاص مادے پیدا ہوتے ہیں جو پورے دن جسم میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی ایک طرح سے تعمیر شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے کسی آفس میں پورے دن کام ہوتا ہے اور اس کے بعد وہاں صفائی کا عمل کیا جاتا ہے چیزوں کو دوبارہ ترتیب سے لگایا جاتا ہے۔ ہمارے جسم اور نیند کا بھی کچھ ایسا ہی حساب ہے پورے دن کام کاج کے بعد جب ہم رات کو سوتے ہیں تو نیند کا عمل ہمیں آنے والے دن کے لئے تیار کرتا ہے تاکہ ہم اپنا اگلا دن اچھا گزار سکیں۔ اگر نیند اچھی ہوگی تو آنے والا وقت بہت اچھا گزرے گا لیکن اگر نیند پوری نہیں ہوگی تو ظاہری بات ہے کہ آپ کا وقت بھی برا گزرے گا۔ اور اگر کسی انسان کی روٹین بن جائے اور وہ لمبے عرصے تک کم نیند لے تو پھر مختلف بیماریوں کا اس پر حملہ ہونا ایک لازمی بات ہے۔ اور اگر آپ کا جسم اور دماغ صحت مند نہیں ہے تو سوچ لیں کہ آپ کیسے کوئی اچھے فیصلے کر سکتے ہیں۔ دراصل آج کل لوگ بہت مصروف ہو گئے ہیں اور تھوڑے وقت میں بہت کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے نیند ان کی Priorities میں سب سے آخر میں آتی ہے۔ پچھلے سو برس کے دوران ترقی یافتہ ملکوں میں نیند میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت حالات یہ ہیں کہ ہم کام زیادہ کرتے ہیں، پھر سفر میں بھی خاصا وقت گزرتا ہے۔ ہم صبح جلدی گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو دیر سے گھر آتے ہیں۔اس کے بعد ہم اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال الگ ہے اور آخر میں ہمارے پاس نیند کے لئے وقت ہی بہت کم بچتا ہے۔اور آپ کو حیرت کی بات بتاوں کہ مختلف Age groupsکے لئے ہم نے نیند کا Required timeمختلف بنایا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اگر آپ کسی سے کہیں کہ نو گھنٹے کی نیند ضروری ہے تو وہ آپ کو عجیب نظروں سے دیکھے گا۔کیونکہ عام لوگوں کے خیال میں اتنی دیر تو کوئی کاہل اور سست شخص ہی سوتا ہے۔ زیادہ سونے کی عادت اتنی بدنام ہو گئی ہے کہ لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ وہ کتنا کم سوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں جب کوئی بچہ زیادہ سوتا ہے تو اسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ بچوں میں زیادہ نیند کو نشوونما کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔اب کسی انسان کو کتنی نیند چاہیے تو اس کا مختصر جواب ہے سات سے نو گھنٹےسات گھنٹے سے کم نیند ہماری جسمانی اور ذہنی کارکردگی اور ہمارے Immune systemکو متاثر کرتی ہے۔بیس گھنٹے تک مسلسل جاگتے رہنے کا اثرکسی بھی انسان پر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کسی نشہ آور چیز کے قانونی حد سے زیادہ لینے کا۔جبکہ نیند کی کمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو فوری طور پر اس کے برے اثرات کا علم نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی نشہ میں دھت انسان خود کو بالکل ٹھیک ٹھاک سمجھتا ہے۔ مگر آس پاس والے جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ کونسی بیماریاں ہیں جو نیند کی کمی سے ہوتی ہیں۔ کچھ باتیں تو عام طور پر ہر کوئی جانتا ہے کہ نیند کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، آنکھوں کے گرد حلقے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں، سر میں درد رہنے لگتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں ہیں جن کا تعلق نیند سے بنتا ہے جس میں موٹاپا، نظر کی کمزوری، کمزور مسلز، انفیکشنز سے جلد متاثر ہونے کا خطرہ، ویکسینینشن کا اثر کم ہونا، بولنے میں مشکلات، نزلہ زکام رہنا، پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہونا، ہر وقت بھوک لگنا، قبل از وقت بڑھاپا، ڈپریشن، ہر وقت بھوک لگنا وہ عام مسائل ہیں جو کہ نیند کی کمی سے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ الزائمر امراض، بانجھ پن، ذیابیطس، کینسر اور فالج جیسی خطرناک بیماریوں کی شروعات ہونے کی بھی ایک وجہ نیند کا پورا نہ ہونا ہی ہے۔ اور خودکشی کے رجحان میں اضافہ کی بھی ایک وجہ یہ ہی بتائی جاتی ہے۔عام الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ نیند کا directlyتعلق ہماری عمر کے ساتھ ہے۔ نیند جتنی کم ہوگی عمر بھی اتنی ہی کم ہوگی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پچاس سال پر مبنی سائنسی تحقیق کے بعد نیند کے ماہرین کہتے ہیں کہ سوال یہ نہیں ہے کہ نیند کے فائدے کیا ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے جس کو نیند سے فائدہ نہیں پہنچتا۔ اب تک کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس کے لیے نیند کو مفید نہ پایا گیا ہو۔بلکہ ایک حالیہ تحقیق میں تو یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دل کی صحت کے لیے رات کو دس سے گیارہ بجے کے درمیان کا وقت سونے کے لیے بہترین وقت ہو سکتا ہے۔ اور یہ نتیجہ 88 ہزارلوگوں پر تحقیق کے بعد نکالا گیا ہے۔ یہ ریسرچ Europian Heart Journalمیں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق UK bio bankکے لیے کام کرنے والی ٹیم کا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے جسم کی اندرونی گھڑی کے مطابق مکمل نیند لیں تو اس سے دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔اس ریسرچ میں شامل لوگوں کو ایک گھڑی نما ڈیوائس کلائی پر باندھی گئی اور ان کے سونے اور جاگنے کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا۔ اور تقریبا چھ سال تک اس ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا۔ اور اس دوران تین ہزار سے زیادہ لوگوں میں دل کی بیماریاں ظاہر ہوئیں۔اور یہ تمام وہ افراد تھے جو یا تو سونے میں دیر کرتے تھے یا پھر وہ میعاری وقت دس اور گیارہ بجے سے پہلے سو جاتے تھے۔ اور سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوئے جو کہ آدھی رات کے بعد سوتے تھے۔یعنی اس ریسرچ کے مطابق ہر انسان کے جسم کے اندر قدرتی طور پر بھی ایک گھڑی فٹ ہوئی ہوئی ہے جس کا نیند سے بہت گہرا تعلق ہے اگر وہ گھڑی ٹھیک چلتی رہے تو سب اچھا ورنہ اس کا ٹائم خراب ہو جائے تو انسان کی صحت اس کا ساتھ چھوڑنا شروع کردیتی ہے۔یعنی نیند خود کو صحت مند رکھنے کا ایسا نسخہ ہے جس پر کچھ خرچ نہیں آتا اور نہ ہی یہ کوئی کڑوی دوا ہے جسے پینے سے انسان ہچکچائے لیکن اس کے فائدے بے شمار ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن اس تمام معاملے میں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپ نیند کو سٹور نہیں کر سکتے۔ اس لئے اگر آپ یہ سوچیں کہ پورا ہفتہ آپ خوب کام کریں اور چھٹی والا پورا دن سو کر گزار دیں تو یہ کسی بھی طرح سے ٹھیک نہیں ہے۔ نیند کی نہ تو کوئی قضا ہے اور نہ ہی ایڈوانس ادائیگی۔ اس کا سرکل روزانہ کی بنیاد پر چلتا ہے۔ اگر آپ نے ایک دن نیند پورا کئے بغیر گزار دیا تو اس کو جو نقصان ہے وہ آپ آنے والے دن میں پورا نہیں کر سکتے۔ اور اس کے لئے بہترین یہی ہے کہ جو نیند کا ٹائم ہے اس پر سوئیں اور جاگنے کے وقت پر جاگیں۔اپنی زندگی کا ایک ٹائم ٹیبل بنائیں اور کوشش کریں کہ اس پر پورا عمل بھی کریں۔ کیونکہ کوئی بھی کام آپ تب تک ہی کر سکتے ہیں جب تک کہ آپ کی صحت ہے اور زندگی ہے۔

  • عوام  کی بنیادی ضروریات زندگی کی سہولتیں ریاست کی ذمہ داری، صدرافتخار قریشی ایڈووکیٹ

    عوام کی بنیادی ضروریات زندگی کی سہولتیں ریاست کی ذمہ داری، صدرافتخار قریشی ایڈووکیٹ

    پاکستان عوامی تحریک جنوبی پنجاب
    صوبائی سیکرٹریٹ: فرسٹ فلور صدیق سکوائر گلشن مارکیٹ نیو ملتان
    عوام کوبنیادی ضروریات زندگی کی سہولتیں دینا ریاست کی ذمہ داری ہے: افتخار قریشی ایڈووکیٹ
    پاکستان عوامی تحریک بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی،تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔
    بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ترقیاتی منصوبوں کو بلدیاتی اداروں کے ذریعے عملی شکل دینا ہو گی۔
    پاکستان عوامی تحریک جنوبی پنجاب کے سینئر نائب صدر کی عہدیداران سے گفتگو
    03 فروری2021ء
    ملتان( )
    پاکستان عوامی تحریک جنوبی پنجاب کے سینئر نائب صدرافتخار قریشی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ غریب کا جینا مشکل ہو گیا ہے حکومت ساری توجہ مہنگائی کم کرنے پر مرکوز کرے۔حالیہ پٹرول اورگیس کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے۔ عوام کوبنیادی ضروریات زندگی کی سہولتیں دینا ریاست کی ذمہ داری ہے،کسی بھی ملک کے عوام کا خوشحال ہونا اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کی دلیل ہے۔ اب محض بیانات نہیں عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک حکومت عوام کو مہنگائی کے گرداب سے نکالنے کیلئے ٹھوس عملی اقدامات نہیں کرے گی تب تک عام آدمی کی سانسوں پر لگی گرہ نہیں کھلے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان عوامی تحریک جنوبی پنجاب کے عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ افتخارقریشی ایڈووکیٹ نے کہا کہ اچھی جمہوریت کے قیام اور عوام کو ملکی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں کا قیام ناگزیر ہے۔پاکستان عوامی تحریک کا روز اول سے یہ موقف ہے کہ گراس روٹ لیول تک منتخب حکومت اورعوامی نمائندے ہونے چاہئیں۔ جب تک تحصیل اور یونین کونسل سطح پر مالی و انتظامی اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے اس وقت تک جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچیں گے، پسماندگی کے خاتمے اور بنیادی سہولیات کی وسیع تر فراہمی کیلئے ترقیاتی منصوبوں کو بلدیاتی اداروں کے ذریعے عملی شکل دینا ہو گی۔لا قانونیت کے خاتمے،سستے اور فوری انصاف کی فراہمی،بدعنوانی کے ناسور کا خاتمہ صرف گفتگو اور بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کیلئے ٹھوس اور عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہو گا تا کہ فلاحی ریاست کے تصور کو صحیح معنوں میں عملی شکل دی جا سکے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان عوامی تحریک بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اس کے لئے حکمت عملی وضع کر لی گئی ہے۔بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں بھی زور و شور سے جاری ہیں۔ دنیا بھر کے جمہوری ملکوں میں مالی معاملات بلدیاتی ٹاؤن اور لوکل باڈیز کے پاس ہوتے ہیں صرف پاکستان کی جمہوریت میں پارلیمنٹرینز کو ڈویلپمنٹ کے فنڈ دئیے جاتے ہیں سارے فنڈز بلدیاتی اداروں کے پاس ہونے چاہئیں۔اس موقع پرچوہدری علی رضا نت،ملک عبدالرشید،چوہدری شاہد ارائیں،میجر محمد اقبال چغتائی،ضیاء الرحمن سکھیرا ایڈووکیٹ،ملک بشیر اعوان ایڈووکیٹ،چوہدری اقبال یوسف،گامن خان ایڈووکیٹ،مہر شعبان ورک،رانا قیصر علی،اصغر علی چانڈیہ،ظفرآفتاب بھٹی اور دیگر موجود تھے۔
    راؤ محمد عارف رضوی
    مرکزی میڈیا کوارڈینیٹر پاکستان عوامی تحریک برائے جنوبی پنجاب

  • سات درخت ۔۔۔ اظہر محمود

    سات درخت ۔۔۔ اظہر محمود

    زندگی میں یہ سات درخت ضرور لگائیں
    1۔ معاش کا درخت
    ہم درخت سے دوچیزیں لیتے ہیں ایک چھاؤں اور دوسرا پھل، چھاؤں ٹھنڈی ہوتی ہے جبکہ پھل میٹھا ہوتا ہے ، اگر ہمیں زندگی میں ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھے پھل کو لینا ہے تو ہمیں سات درخت لگانے پڑیں گے ۔ اس شخص کی زندگی میں روشنی ہوگی جس کی زندگی میں سات درخت ہیں ،لوگ زندگی میں سات درخت نہیں لگاتے صرف ایک ہی درخت لگاتےہیں اور اسی کو کامیابی سمجھتےہیں اور اس درخت کانام ہے معاش ۔ جب تک بقیہ چھ درخت نہیں لگائیں گے کامیابی نہیں ملے گی۔
    بگ بینگ کے مفروضے کے مطابق اس کائنا ت کی عمر یا زندگی کی عمر چودہ کھرب سال ہے جبکہ اس زمین کی عمر چار کھرب پانچ سو ارب سال ہے اور اس میں انسانی زندگی کی عمر پینتیس لاکھ ہے ۔ اتنے زیادہ وقت میں آج کے انسان کے پاس صرف ساٹھ برس ہوتے ہیں ان ساٹھ برس میں شعور والی زندگی بہت تھوڑی ہوتی ہے ۔جس کے پاس شعور ہوتا ہے اس کے پاس قوت فیصلہ ہوتی ہے جبکہ شعور کا حساب ہونا ہے کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میں نے حساب لینا ہے ۔ جب شعور والی زندگی اتنی مختصر اور مہنگی ہے تو پھر سوال ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا ؟ کیا کبھی اس کی ترجیحات بنائیں ؟ ہمیں مہینے کی ایک کمائی تنخوا ہ کی صورت میں ملتی ہے ہم اس کی پلاننگ کرتےہی جبکہ جو کل کمائی ہے اس کے بارے میں سوچتے نہیں ہیں ،ہم نے صرف پیسے کو اپنی ترجیح بنایا ہوا ہے ،ہم نے ہر چیز کو مادے کے ساتھ جوڑ دیا ہے ۔لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے لیکن بعض اوقات سکون نہیں ہوتا ، بعض اوقات عز ت نہیں ہوتی ، بعض اوقات اپنے آپ کا پتا نہیں ہوتا ، بعض اوقات ایمان نہیں ہوتا ، بعض اوقات اپنی ذات نہیں ہوتی ۔ معاش کا درخت ضرور ہونا چاہیے لیکن صرف معاش کا درخت نہیں ہونا چاہیے۔

    2۔ خدمت کا درخت
    زندگی میں سب سے خوبصورت چیز اطمینان قلب ہے ۔ جو سکون بانٹنے میں ملتا ہے وہ کمانے میں نہیں ملتا یہ شائد اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ب بھی بانٹنا ہے ۔ زندگی میں دوسرا خدمت کا درخت ضرور لگائیں، ” جو بندہ یہ کہتا ہے میں امیر ہو جاؤں تو بانٹوں گا وہ کبھی نہیں بانٹےگا کیو نکہ وہ امیر تو ہو جائے گا لیکن حوصلہ نہیں ہوگا ” جو بندہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی بانٹ دیتا ہے وہ بڑا انسان بنتا ہے ۔ خدمت کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ پیسے ہوں تو خدمت ہو گی ہے خدمت تو مزاج سے ہوتی ہے حدیث مبارک کا مفہوم ہے "سخاوت دل سے ہے مال سے نہیں "۔ خدمت کا مطلب ہے معاوضہ بندے سے نہیں ملنا اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے ۔ خدمت میں چوکیداری نہیں کرنی بس نیکی کرنی ہے اور دریا میں ڈال دینی ہے ۔ خدمت عقل کی زکوٰۃ ہے، یہ فہم کی زکوۃ ہے ،یہ ذہانت کی زکوۃ ہے ، یہ بڑے پن کی زکوۃ ہے ۔ اگر میٹھا پھل کھانا اور ٹھنڈی چھاؤں لینی ہے تو پھر خد مت اللہ تعالیٰ کےلیے ہونی چاہیے ۔

    3۔ فیملی کا درخت
    فیملی بہت اہم ہے اور اس کو اہم سمجھنا بھی چاہیے اس کی ضروریات کو اہم سمجھنا چاہیے ۔ فیملی کی تین ضروریات ہوتی ہیں ہم ایک کو پورا کر کے دو سے کنارہ کشی کر جاتے ہیں ، پہلی ضرورت پیسہ ہے دوسری توجہ ہے ، توجہ کا مطلب ہے بچوں کی تمام چیزوں کے ساتھ تعلق ہو، تیسری ضرورت قربانی ہے کیو نکہ تعلق کی قیمت قربانی ہے ، تعلق قربانی مانگتا ہے ۔ وہ لوگ جوان تینوں میں سے ایک رکھتے ہیں باقی نکال دیتےہیں وہ زیادتی کرتےہیں ان کا درخت کبھی بھی میٹھا پھل اور ٹھندی چاؤں نہیں دیتا ۔

    4۔ پیشے کادرخت
    زندگی میں انسان کا دو چیزوں کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے ایک پیشہ دوسرا بیوی اس لیے دونوں کا انتخاب سو بار سوچنے کے بعد کرنا چاہیے ۔ ہم نے دنیا کا کوئی کام کرنا ہو اس میں چاہے کپڑے خریدنے ہوں، جوتے خریدنے ہو ، کوئی بیماری ہو یا کوئی اور چیز ہو اس کے لیے سو لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں لیکن جس کے ساتھ ہماری زندگی گزرنی ہوتی ہے اس کے بارے میں مشورہ ہی نہیں کرتے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے انتخاب کی طاقت دی ہے یہ کسی اور مخلوق کو نہیں ملی،انسان اپنے مزاج کے مطابق اپنے پیشے کو منتخب کرتا ہے ، انتخاب میں غلطی ہو سکتی ہے ممکن ہے نوکری والا بندہ کاروبار کرتا ہو، ممکن ہے کاروبار والا نوکری کرتا ہو ، ممکن ہے نوکری جس طرح کی چاہیے تھی ویسی نہ ہو ، ممکن ہے کاروبار جس طرح کا چاہیے تھا ویسا نہ ہو لیکن اس بارے میں سوچنا ضرور چاہیے اور مشور ہ ضرور کرنا چاہیے۔ زندگی میں غلط ٹرین ہو ں تو اتر کر صحیح ٹرین پکڑنےمیں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔ اپنی زندگی میں چیزیں چھوڑنے کی طاقت ، ہمت ، جرات پیدا کریں کیو نکہ جو چھوڑ سکتا ہے وہی آگے جا سکتا ہے پھر اس کو ٹھنڈی چھاؤ ں ملتی ہے اور میٹھا پھل بھی ملتا ہے ۔ جس پیشے سے بندہ انجوائے نہیں کرتا وہ پیشہ پھرسوالیہ نشان ہے ، جس کے لیے اس کا ہم سفر راحت کا سبب نہیں ہے تو پھر سوالیہ نشان ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "دوست سے سکون نہیں ہے اورد شمن سے تکلیف نہیں ہے تو پھر نہ دوست دوست ہے اور نہ دشمن دشمن۔ ”

    5۔ ساکھ کا درخت
    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عزت اور ذلت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے لیکن بندے کو وہ کام کرنے چاہییں جو عز ت کا سبب بنیں کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے یہ کام عزت والے ہیں یہ ذلت والے ہیں ۔یہ اتنی اہم چیز ہے کہ بندے کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کی ساکھ کو دیکھا جاتا ہے اس لیے ہمیشہ زندگی میں ساکھ برقرار رکھیں لیکن یہ بات بھی یاد رہیں کہ ساکھ ہو نے کے باوجود بھی مسئلے رہیں گے ، اچھا ہونے کے باوجود لوگ برا کہیں گے ۔ جس چیز کاکوئی حل نہیں ہے اس کی فکر مندی چھوڑ دیں بس آنکھیں نیچی کر کے چلتے جائیں ایک دن سر اٹھے گا دنیا ساتھ ہوگی ۔ اپنی نگاہوں میں اپنے آپ کو بھی گرنے نہ دیں۔ دنیا میں سب سے بڑا مجرم اپنی ذات کا مجرم ہوتا ہے ، لوگوں میں چور پن ہوتا ہے ، جس کی اپنی نگاہوں میں اپنی عزت نہیں ہے وہ کسی کی عزت کیا کرے گا ، جو چیز ہے ہی نہیں وہ کیسے دی جا سکتی ہے عزت تو عزت دار بند ہ کرتا ہے ۔ساکھ کو اہم سمجھیں اس پر انوسٹمنٹ کریں ، وقت لگائیں ۔ بندے کی دوستوں اور دشمنوں سے بھی پہچان ہونی چاہیے ، شاہین شاہین کے ساتھ ہی اڑتا ہے مردار کھانے والے گدھ کے ساتھ نہیں اڑتا۔ تعلق کی وجہ پیسہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ نظریہ ہونا چاہیے حضرت علی المرتضی ؒ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں "نظریے کا ساتھ ازلی اور ابدی ہوتا ہے۔” طے کریں کن کے ساتھ کام کرنا ہے کن کے ساتھ کام نہیں کرنا کئی، لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ صرف دوستی رکھی جا سکتی ہے کام نہیں کیاجا سکتا کیو نکہ اپنے کا جواب دیا جا سکتا ہے ۔جس کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا جاسکتا اس کے ساتھ تعلق مت رکھیں۔

    6۔ مذہب کا درخت
    زندگی میں یقین ہے، ایمان ہے ، روحانیت ہے ، روح زندہ ہے ، عباد ت ہے،اس درخت کو بھی اہم سمجھنا چاہیے ۔حضور اکرم ﷺ نے جن تمام انداز کے ساتھ نماز ادا کی وہ سب سنت ہیں اب جو بھی جس انداز میں پڑھ رہا ہےاگر اس کی نیت یہ ہے کہ یہ میرے رسول کریم ﷺ کی سنت ہےتو ثواب ہے۔ وہ تمام نیکیوں کے کام جو آپ کو سکون دیتےہیں ان کو ضرور کریں کیو نکہ آپ کی عبادت ، روحانیت اور دین ان سے جڑا ہوا ہے ۔

    7۔ ذات کا درخت
    اپنی ذات کو بھی سکون چاہیے اس درخت کو بھی اہم سمجھنا چاہیے ۔ تنہائی کو انجوائے کرنا سیکھیں، اپنی پسند کی کتابیں خریدیں ، اپنے بے لوث دوست کے ساتھ وقت گزاریں، صبح کے وقت گیلے گھاس پر چل سکون حاصل کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کااحساس ہو ۔ ہم نے سب سے زیادہ اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنا ہوتا ہے اگر ہم اپنے اچھے دوست نہیں ہیں ، اپنی ذات کے ساتھ اچھا تعلق نہیں ہے تو پھر یہ درخت ٹھنڈی چھاؤں نہیں دے گا اور نہ ہی میٹھاپھل دے گا ۔
    آج سے ان درختوں کے بیج لگائیے کچھ دنوں بعد آپ کو محسو س ہوگا کہ پودابننا شروع ہوگیا ہے۔

  • رنگ باز

    رنگ باز

    معاشرہ انسانوں کا جنگل ہے۔ جہاں رہتے ہوئے انسان کو آئے روز مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انسانوں کا واسطہ انسانوں سے ہی پڑتاہے۔ ہر انسان مجبور یوں ، ضرورتوں اور مفادات کا غلام ہے۔ وہ روز باہر نکلتاہے تاکہ اس جنگل میں اپنی صلاحیت اور حیثیت کے مطابق اپنا حصہ گھر لا سکے۔ صبح ہوتے ہی انسانوں کا ریلا گھروں سے نکلتاہے جو بظاہر تو الگ الگ کام دھندے کرتے نظر آتے ہیں مگر ان سب کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہوتاہے کہ اس انسانوں سے بھرے جنگل میں وہ اپنا حصہ کیسے حاصل کریں۔
    کسی نے کیاخوب کہا ہے کہ ” بندہ بندے دا دارو اے تے بندے ای بندے دا مارو اے ”
    اس کاروبار زندگی میں سب انسان برسرپیکار نظر آتے ہیں. کچھ ایمانداری سے کچھ بے ایمانی سے ، کوئی زور زبردستی اور دھونس دھاندلی سے ، کوئی پیار اخلاق اور رواداری سے کوئی مانگے تانگے سے اپنا اپنا حصہ اکٹھا کرتا پھرتا ہے۔ کسی کو اسکی سوچ کے مطابق، کسی کو کم اور کسی کو اپنی اوقات سے کہیں زیادہ حصہ ملتاہے اور کسی کو لاکھ کوشش کے باوجود بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جنہیں معقول حصہ ملتاہے وہ صبر شکر کرتے ہیں ،جنہیں کم ملتاہے وہ واویلا مچاتے ہیں. اور کجن کا ہاتھ بڑے حصے پر پڑ جاتا ہے وہ اپنا حصہ لے کرآگے آگے اور جنہیں حصہ نہیں ملتا اُسکے آگے پیچھے چلتے کچھ دُم ہلاتے نظر آتے ہیں کہ شائد کچھ انہیں بھی مل جائے .
    کچھ راہ میں صرف چھینا جھپٹی کے لیے بیٹھے رہتے ہیں ۔اور دوسروں کا حصہ چھین کر اتراتے پھر تے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں کرتے مگر اُن کی بڑی دھاک ہوتی ہے اور انہیں اُن کا حصہ اُن کے گھر پہنچ جاتاہے۔

    جن کے پاس اُن کی ضرورت سے کہیں زیادہ جمع ہوجاتاہے اُن کی حوس بھی اُتنی ہی بڑھ جاتی ہے وہ بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں بناتے ہیں ۔دولت کو کئی گُنا کرنے کے طریقے اپناتے ہیں ۔ اور دولت اور جائیدادوں کے انبار لگاتے ہیں اورپھر اُن میں سے اکثر خود کو خدا ترس عوام دوست اور سخی ثابت کرنے کے لیے خیراتی ادارے ، ہسپتال اور مفت کھانوں کے دسترخوان بھی سجاتے نظر آتے ہیں۔ مگر اپنے کارخانوں میں کام کرنے والوں کو دو وقت کی روٹی تو دور وقت پر مزدوری تک دینے سے بھی ان کی جان جاتی ہے۔

    رنگ باز کسی رام چوبارے سے، کسی گلی کے نکڑ سے، کسی کھڑکی کے پیچھے سے نیشنل جیوگرافی کے کسی فوٹو گرافر کی طرح سب کا تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے کہ کیسے خود کو اشرف المخلوق کہنے والے انسان اپنے حصے کی تلاش میں مارا مارا پھرتاہے۔ کوئی مارا ماری کرتا پھرتاہے ۔کچھ دست گریباں ہیں ۔کچھ کو دووقت کی روٹی میسر نہیں اور کچھ کے پاس دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔
    لیکن وہ خود کونسا فرشتا ہوتاہے یا پھر اُس کے لیے کونسا من وسلوا اُترتاہے ۔اُسے بھی پیٹ لگا ہوتاہے ۔اس لئے اسے بھی روزباہر نکلنا پڑتاہے ۔ لوگوں سے ملنا پڑتاہے اپنا حصہ ڈھونڈنا پڑتاہے۔
    لیکن رنگ باز کسی کا حق نہیں مارتا۔ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اپنے فن سے وہ اپنا حصہ کماتاہے ۔رنگ باز ایک ایسا کریکٹر ہے ۔جو ہر معاشرے میں پایا جاتاہے ۔ رنگ باز کی جو تعریف ہم سُنتے آئے ہیں وہ حقیقت میں رنگ باز نہیں بلکہ موقع پر ست کی تعریف ہے ۔
    رنگ باز تو کوئی الگ ہی مخلوق ہے۔وہ زندنگی میں رنگ بھرتاہے ،انسانوں کو ہنساتاہے ، انہیں حیران کرتاہے ، انہیں سوچنے پر مجبور کرنے والا کردارہے ۔ رنگ باز زندگی سے چڑتانہیں ، جھگڑتا نہیں، زندگی سے بھاگتا نہیں بلکہ زندگی کو گلے لگا کر اس کے رنگوں اور اسکے انگوں کا لُطف اُٹھاتاہے ۔اور زندگی سے الجھتے لوگوں بھی رنگ سمیٹنے کی دعوت دیتاہے ۔

    رنگ باز انسانوں کے معاشرے کا وہ کردار ہے جو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتاہے۔ وہ سب کوالُجھا ہوا چھوڑ کر خود اُلجھن سے نکل جاتاہے ۔ رنگ باز ایسا فنکار ہوتاہے جو اپنے فن سے آشنا ہوتاہے لیکن اپنے فن کو بے جاحصہ حاصل کرنے میں ضائع نہیں کرتا۔وہ اُتنا حصہ لیتاہے جتنی اُسکی ضرورت ہوتی ہے۔ رنگ باز ایک الگ ہی طرح کا انسان ہوتاہے ۔اسے انسانوں سے ملنے اُن سے باتیں کرنے انہیں ہنسانے اور کبھی انہیں الجھانے میں زیادہ لُطف آتاہے ۔ کبھی کوئی اسے جوکر کہتاہے ،کوئی مسخرہ سمجھتا ہے کوئی باتونی تو کوئی چول یا پھر جوکر .مگر رنگ باز سب کی سُن کر ہنستا آگے بڑھ جاتاہے ۔

    رنگ باز کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا مگر اپنی ذہانت اور چکنی چیڑی باتوں سے خود کو تھوڑا بہت فائدہ ضرور پہنچا تاہے ۔ رنگ باز بہت ہی ہنس مکھ، حاضر جواب ،اور صورتحال کے مطابق ڈھلنے والا یا پھر یوں کہیے کہ صورتحال کو اپنے حق میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ مگر وہ موقع پرست نہیں ہوتا بلکہ موقع کا درست استعمال جانتاہے ۔ مفت کے مشورے دینے میں اُس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا مگر غلط مشورہ نہیں دیتا۔ کوئی راستہ پوچھ لے تو گھر تک چھوڑ کرآنے میں خوشی محسوس کرتاہے ۔

    لوگ اپنی زندگیوں میں سارا دن اپنے تھوڑے بہت حصے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ لیکن رنگ باز زندگی کے رنگوں کی تلاش میں پھرتاہے ۔۔ وہ رنگ اکٹھے کرتا ہے بانٹاہے ، بکھیرتاہے ۔اورزندگی میں رنگ بھرتاہے۔کیونکہ اُس کی بھوک بہت کم ہوتی ہے ۔
    وہ لوگوں کی خوشی میں بھی بن بلائے پہنچ جاتاہے تو دُکھ میں بھی۔ چاہے کرسیاں لگوانی ہوں یا کھانا تقسیم کروانا ہووہ سب سے آگے نطر آتاہے ۔ آخرمیں خود بھی پیٹ پھر کر کھانا کھا کر چلتا بنتاہے۔
    لوگ اپنی زندگیوں سے ایسے جونجتے پھر تے ہیں ایسے لڑتے پھرتے ہیں کہ زندگی کے رنگوں کو دیکھنے کی حس کھوبیٹھتے ہیں ۔لیکن رنگ باز نہ صرف خود ان رنگوں سے لطف اندوز ہوتاہے بلکہ اورں کو بھی رنگ بانٹتا اورکبھی آئینہ دکھاتا گزر جاتاہے۔۔ رنگ باز کوڈھونڈنا مشکل نہیں ۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں پر نہیں بستا۔۔ آپ کے ارد گرد ہی کہیں گھومتا پھر تا ہے۔

  • دین کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں ۔۔۔ سعدیہ بنتِ خورشید احمد

    دین کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں ۔۔۔ سعدیہ بنتِ خورشید احمد

    210 ہجری کا ذکر ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے 16 سال کی عمر میں حصولِ علم کے لیے خراسان، عراق، مصر، شام اور دوسرے علاقوں کا سفر کیا۔ امام ابو الحسین مسلم رحمہ اللہ نے بغداد، بُصرہ اور دیگر اسلامی شہروں کے لمبے سفر کیے۔ اسی طرح دیگر آئمہ حدیث نے ایک ایک حدیث کو حاصل کرنے کے لیے انتہائی لمبے سفر کیے۔ اور ہمارے لیے حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا۔
    ایک طرف ہمارے اسلاف کا علمِ حدیث کے لیے پوری زندگی پر محیط لمبا اور تھکا دینے والا سفر۔
    دوسری طرف ہم جس جدید دور میں زندگی گزار رہے ہیں کتابیں عام ہو رہی ہیں۔ حدیث، اصول حدیث، فقہ اور اصول فقہ کی کتابیں نئی تزئین و تدوین کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔ کمپیوٹر نے اس جدید دور میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ کتب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کی آسانی کے لیے پی ڈی ایف فارمیٹ میں کتابیں موجود ہیں، مکتبہ الشاملہ جیسی کتب کی وسیع آن لائن لائبریری موجود ہے۔
    کتنا ہی اچھا ہوتا کہ اتنی آسانیوں کے دور میں ہمارا ہر جوان قرآن کا مفسر ہوتا، حدیث کا عالم ہوتا۔
    لیکن ہم تو اتنے بے فیض لوگ ہیں کہ ہمیں اپنی ذاتی زندگی سے ہی فرصت نہیں۔ دنیاوی علوم میں تو ہم نے بڑی بڑی ڈگریاں لے لیں۔ آج المیہ یہ ہے کے انگلش اتنی سیکھ لی کہ انگریز کو پڑھا سکتے ہیں اور قرآن اتنا نہیں سیکھا کے ہم اللہ کے احکام کو جان سکیں کہ رب العالمین کہہ کیا رہے ہیں۔ کبھی قرآن کے معنی ومفاہیم پر غور و فکر نہیں کیا یا احادیث رسول ﷺ کو سمجھ کر اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش نہیں کی۔
    اگر کبھی قرآن کریم کو کھولا بھی جاتا ہے تو صرف ثواب یا تبرک کے لیے۔ احادیث کا ذوقی انتخاب کر لیا جاتا ہے اور صرف چند ابواب پر مبنی احادیث کو ہی پڑھا جاتا ہے۔
    اُصولِ حدیث اور شرعی اصطلاحات سے ہماری نوجوان نسل کو کوئی خاص رغبت نہیں رہی ہے۔ حدیث کی سند اور راویان حدیث کے حالات زندگی کو معلوم کرنا ہمارے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔
    بلکہ سنی سنائی باتوں کی نسبت فوری طور پر رسول کریم ﷺ کی طرف کر دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ((اطلب العلم ولو بالصّین)) علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے جیسی بے اصل روایات ہماری نصابی کتب میں شامل ہیں۔ سکولوں، کالجوں میں بورڈز پر آویزاں ہیں۔
    علم حدیث سے بالکل بے خبر ارسطو اور افلاطون جیسوں کے اقوال کو ہمارے دانشور حضرات حدیث شریف کا درجہ دے دیتے ہیں۔
    اگر شروع سے ہی بچے بے اصل اور من گھڑت روایات کو حدیثِ صحیح سمجھ کر پڑھنے لگیں گے تو وہ بڑے ہو کر کس طرح صحیح اور موضوع روایت میں فرق کا ذوق رکھیں گے۔
    سستی شہرت حاصل کرنے والے علماء نے ایسی ایسی باتوں کو حدیث کا درجہ دے دیا ہے جس کا حدیث نبوی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ عوام بھی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے اس کو من و عن تسلیم کرنے لگتے ہیں۔ جب ان سے کہا جائے کہ یہ فعل تو نبی کریم ﷺ نے پوری زندگی میں نہیں کیا اور نہ ہی کرنے کا حکم دیا ہے تو اگے سے وہی گھسے پِٹے جواب کہ کم از کم برائی کا کام تو نہیں کر رہے نہ، نیکی ہی کر رہے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟
    باشعور اور پڑھی لکھی عوام سے ایسے جوابات سن کر حیرت ہونے لگتی ہے۔
    ان حالات کو دیکھ کر انتہائی افسوس ہونے لگتا ہے کہ کثیر تعداد میں وسائل ہونے کے باوجود ہم احادیثِ رسول ﷺ سے اتنے بے خبر ہیں کہ نماز کا نبوی طریقہ نہیں معلوم، حج و عمرہ کے فرائض صحیح سے ادا کرنے نہیں آتے، سب سے بڑھ کر غسل کا طریقہ تک نہیں معلوم۔
    ہمارے اسلاف نے احادیث کو سیکھنے کے لیے زندگیاں وقف کردی تھیں۔ آج وہی احادیث، اسناد، راویانِ حدیث کے حالات زندگی، اسماء الرجال کے ساتھ انٹرنیٹ پر ایک کلک کے فاصلے پر موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس قرآن و حدیث کو سیکھنے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ سے محبت و عشق کے دعوے کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں لیکن عملی زندگی پر نگاہ دوڑائی جائے تو اسی نبی کی حیاتِ مبارکہ کے حالات اور ان کے بتلائے ہوئے طریقے ہمیں معلوم نہیں ہیں۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں صحیح معنوں میں نبی کریم ﷺ کا امتی بنائے ۔ قرآن و حدیث کو کماحقّہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ روزِ قیامت ہم بارگاہ ایزدی میں سرخرو ٹھہریں۔ آمین