Baaghi TV

Tag: زوہیب علی چوہدری

  • عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    پاکستان کی سیاست آجکل اس ہانڈھی کی مثال پیش کر رہی ہے جس میں صرف پانی ہے اور اسکے نیچے تیز آنچ جل رہی ہے جس سے پانی جوشِ ابال سے چھلک چھلک کر باہر آنے کو بیتاب ہے۔۔۔چونکہ ملک میں ایک بڑی سیاسی جماعت لانگ مارچ لیے دارالحکومت کی جانب رواں دواں ہے اور وفاق میں بیٹھی مخلوط حکومت کو اپنے ڈر اور تحفظات نے گھیرا ہو ہے تو ایسا ہونا بعید از قیاس اور انہونا نہیں۔۔۔

    کل عمران خان کے لانگ مارچ کو چھٹا روز تھا اور حسب معمول خان صاحب کی توپوں کا رخ اداروں کی قیادت اور مخلوط حکومت کی جانب ہی رہا۔۔۔ بہر کیف یہ تو ماننا ہوگا کہ خان صاحب واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جنہیں مخالفت برائے مخالفت کی سیاست راس آگئی ہے اورعوام کی ایسی پولیٹیکل اور سوشل سپورٹ بھی میسر آگئی ہے جو باقی سیاستدانوں سے تو انکی قابلیت، اہلیت اور کارکردگی کا سوال کرتی ہے لیکن خان صاحب کو استثنیٰ دیکر بجز انکے مخالفین کے متعلق خان صاحب کی پر جوش تقاریر سن کر ہی مطمئن اور خان صاحب کے شانہ بشانہ ہے۔

    خیر کل خان صاحب کا کہنا تھا کہ ” اگر نیوٹرل اور غیرسیاسی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا چیزآپ کوصاف اورشفاف الیکشن کرانے میں روک رہی ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگ سن لیں، نوازشریف جنرل جیلانی کے گھر سریا لگاتے لگاتے وزیراعلیٰ بن گیا، میں چھبیس سال سے مقابلہ کر کے ادھرپہنچا ہوں، میچ کے دوران ہی کپتان کو پتا چل جاتا ہے وہ میچ جیت گیا ہے، پاکستانیوں ہم اللہ کے فضل سے پاکستان کا میچ جیت چکے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس کچھ نہیں، ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں اورپسینے آرہے ہیں۔ مجھے پہلی دفعہ پاکستان میں حقیقی آزادی نظرآرہی ہے۔”

    اسکے بعد خان صاحب نے خطاب کے دوران مقتدر قوتوں سے چھ سوالات بھی کیے اور ساتھ ہی یہ بھی خبریں گرم ہیں کہ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کا شیڈول بھی اب 11 نومبر طے کیا گیا ہے جبکہ خان صاحب کے 6 سوالات کے جوابات کے لیے ردعمل میں پھر مریم اورنگزیب نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ” آپ روئیں،پیٹیں یا کچھ اور کریں،حکومت شہباز شریف کی ہے اور یہی حقیقت بھی ہے،،شہباز شریف چور تھا تو عدالتوں میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟اگر احتساب کر رہے تھے تو پھر آرمی چیف کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر کیوں کی ؟رانا ثنا اللہ قاتل تھا تو ہیروئن کا کیس بنا کر انہیں گرفتار کیوں کیا؟شہباز شریف چور تھا تو3سال برطانیہ کی عدالت میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟”

    بطور عوام ہمارے بھی چھ سوالات ہیں کہ "ملک کب تک عدم استحکام کا شکار رہے گا؟، عوام کب تک سیاستدانوں کی کٹھ پتلی بنی رہے گی؟، ملکی معیشت اور دفاع کی بھی کسی اقتدار کے خواہشمند کو سچ میں فکر ہے؟، اداروں کو کمزور کرنے اور ان سے تصادم کی یہ بھونڈی چالیں کب تک جار رہیں گی؟، حقیقی آزادی کے نام پر کب تک قوم ٹرک کی بتی کے پیچھے لگی رہے گی؟ اور تمام سیاستدان کب مل بیٹھ کر حقیقی جمہوری طریقے سے اپنے اور ملک و عوام کے مسائل کے حل بارے سوچیں گے۔۔۔۔۔ آخر کب؟”

    ملک جس سیاسی، ریاستی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے وہاں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاستدان اور ادارے قوم وملک کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر مشاورت کرتے اور باہمی اتفاق سے کسی قومی حکومت کی بنیاد رکھ کر عوام کو خوشخبری سناتے لیکن ہو اس کے بر عکس رہا ہے کہ روزانہ عوام کو ایک دوسرے کی کمزوریاں اور برائیاں سنا کر نا صرف ایک دوسرے کی بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے،عام آدمی جس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں سراپا سوال ہے کہ میں کب تک سیاست اور حالات کی اس بے رحم چکی میں پستا رہوں گا؟

  • عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    ملک کا درجہ حرارت بتدریج ٹھنڈ کی جانب گامزن ہے جبکہ ملکی سیاست کے درجہ حرارت میں انتہا کی شدت اور گرمی پیدا ہوتی جارہی ہے۔ عمران خان جی ٹی روڈ پر لفظوں کی گولا باری کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب پیش قدمی کی قیادت کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں مخلوط پارٹی حکومت کے لوگ جوابی لفظوں کی گولا باری میں مصروف ہیں۔

    ساتھ ہی کنٹینرز اور خندقوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایسا منظر بنایا جا رہا ہے جیسے کوئی بیرونی حملہ آور فوج اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے آرہی ہے اور رانا ثناء اللہ کسی ریاست کے آخری وارث ہیں۔

    عمران خان نے آج گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "نواز شریف اور آصف علی زرداری مل کر ہمارے خلاف سازش کر رہے ہیں،،میں نواز شریف نہیں جو باہر بھاگ جاؤں گا،سن لو!میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے،ڈاکو نواز شریف کا استقبال کریں گے،سیدھا جیل پہنچائیں گے،الیکشن لڑیں ،ان کے حلقے میں شکست دوں گا۔۔۔”

    دوسری جانب لندن میں پریس کانفرنس سے شعلہ بیانی کرتے ہوئے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ "عوام کے ٹیکس کا پیسہ لانگ مارچ پر خرچ کیا جا رہا ہے، عمران خان کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے،لانگ مارچ میں لوگ شریک نہیں ہوئے،آخری کارڈ بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکا،4سال معیشت کو تباہ کیا گیا،مہنگائی عروج پر پہنچائی،اور کوئی ایسا شعبہ نہیں جو عمران خان کی تباہی سے محفوظ رہا ہو،عمران خان چاہتا تھا موجودہ حکومت آرمی چیف کی تعیناتی نہ کر سکے۔۔۔”

    جبکہ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ” لانگ مارچ میں 5سے 700لوگ شریک ہیں،،،عوام نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو مسترد کر دیا، صرف ایک مخصوص طبقہ عمران خان کی باتوں میں آ کر گمراہ ہوا،الیکشن جیتنے میں صوبائی حکومتوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے،،یہ لانگ مارچ نہیں فتنہ مارچ ہے،آئندہ دنوں میں یہ مزید سکڑ جائے گا، اور فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پی ٹی آئی کا شوشہ تھا۔۔۔”

    خیرہم نے سب سیاستدانوں کی گفتگو سنی اور ان کے مزاج کی گرمی دیکھ لی جو کسی صورت جمہوری اقدار کی آئینہ دار نہیں، عوام بھی ایک حد تک ہی اس گرمی اور شدت کا بوجھ اٹھا سکتی ہے اور بہت جلد ملک میں افواج پاکستان کی کمان کی تبدیلی بھی متوقع ہے لیکن اس سے پہلے ادارے کی قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ اور ممکنہ چیف پر شکوک و شبہات کے سائے طاری کرنا کیا سود مند رہے گا ؟

  • تحریک انصاف کا احتجاج اور معاشی نتائج — زوہیب علی چوہدری

    تحریک انصاف کا احتجاج اور معاشی نتائج — زوہیب علی چوہدری

    سال دوہزار چودہ وہ سال ہے جب پاکستان میں دھرنوں اور لانگ مارچ اور لاک ڈاؤنز کی سیاست کا باقاعدہ آغاز ہوا اور تب سےآج کے دن تک ہم اس منحوس طرز سیاست سے نبردآزما ہیں۔ ذرا ذرا سی باتوں کو پکڑ کر جلا دوں گا, مار دوں گا, بھگادوں گا وغیرہ وغیرہ کا شورو غل بلند کرکے حکومتوں اور ریاستوں کے کیے کی سزا عوام کو دینا کہاں کی سیاست اور جمہوریت ہے؟

    خان صاحب کے اچھے اورکرزمیٹک فیصلوں اور کاموں کی سراہنا کرنا اچھی بات ہےلیکن یاد رہے خان صاحب بھی ایک عوامی لیڈر ہیں جنہیں اپنے برے فیصلوں اور کاموں کا جواب دینے کے لیے عوام کی عدا لت میں آنا ہی پڑے گا۔

    سال دوہزار چودہ کا دھرنا ہمیں 547 ارب میں پڑا تھا اور ملا کیا۔۔۔ گھنٹا؟

    ایک بڑا قومی سانحہ دیکھا اور تب اس دھرنے کا اختتام ہوا لیکن دھرنا اور لانگ مارچ سیاست نے جو پنجے تب سے اس ملک پر گاڑے ہیں اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ تب سےآج تک ناصرف تحریک انصاف بلکہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے دھرنا اور لانگ مارچ سیاست کو ایک طلسماتی منتر سمجھ لیا ہے کہ جب جب حکومت اور ریاست کو انڈر پریشر لانا ہے تو عوام کا جینا دوبھرکردو اور ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردو۔

    اب کل توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کو الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے موجودہ مدت کےلیے نااہل قرار دے دیا تو آدھے گھنٹے کے اندر اندر پورے ملک کی عام شاہراؤں اور شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر تحریک انصاف کے عام سپورٹرز نےاحتجاج کے نام پر جو ہلڑ باز اور طوفان بدتمیزی برپاکیا اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

    اور اگر تحریک انصاف نے یہی سلسلہ آگے بھی جاری رکھا تو یقینا اس بار ملک 547 ارب کو بھول جائے گا کیونکہ اس دفعہ بات ملک کے ڈیفالٹ پر ہی ختم ہوگی کیونکہ ہماری حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ ہم اب ہلکا سا بھی جھٹکا برداشت نہیں کرسکتے۔

    دھرنا اور لانگ مارچ کی سیاست سے آج تک کیا فائدہ حاصل ہوا ہے؟

    سوائے توڑ پھوڑ, گالم گلوچ, تصادم اور ملکی معشیت کو نقصان پہنچانے کے اس لغو انداز سیاست نےکیا دیا ہے؟

    اور کل ہی ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ ایک اکثریتی سیاسی پارٹی کے کارکنان نے ریڈلائن لائن کراس کی اور فوج کے چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف بھی بیہودہ نعرےبازی کی اور ملک کا تماشہ بنانے کا بھارتی میڈیا کو ایک اور سنہری موقع دیا۔

    بھارت جو کہ ہمارا ازلی دشمن ہے اس کے پاکستان اور اسکی عوام کے خلاف تین بنیادی مشن یا ایجنڈے تھے جو کہ اب تقریباً پورے ہوچکے بیشک ملک ایف اےٹی ایف کی گرےلسٹ سےنکل چکا ہے۔

    1-پاکستانی معشیت کا بیڑا غرق کرنا۔
    2-افواج پاکستان اور عوام کی محبت ختم کرنا۔
    3-دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنا۔

    کیا بھارت کے یہ تین مشن مکمل نہیں ہوگئے؟

    اس کا سہرا بالترتیب آصف ذرداری, نواز شریف, مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کے سربندھنا چاہیے کہ ان چار نفوس نے عرصہ بیس بائیس سال میں پاکستان اور اس کی عوام کو بھارت اور اقوام عالم کے سامنےپلیٹ میں رکھ کر پیش کردیا کہ لو بھئی جو کرنا ہے کرلو۔

    خیر ملک اس طرح کی سیاست کا متحمل نہیں لیکن ہماری مقتدرہ و سیاسی اشرافیہ کو یہ بات اب بھی سمجھ نہیں آرہی۔ اللہ ہی پاکستان کی حفاظت کرے ورنہ ہم نےتو کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    ایک ایسے وقت میں جب ملکی معیشت تنزلی کی جانب گامزن ہے، سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں قیامت خیز تباہی ہوئی، لوگ پینے کے پانی کو ترس گئے، پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے نے مہنگائی کی قدر اتنی بڑھا دی کہ غریب کے لئے دو وقت کی روٹی کھانا محال ہو چکا ایسے میں تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ ، احتجاج کی کال ملکی معیشت کو مزید زمین بوس کرے گی، یہ وقت احتجاج کا نہیں بلکہ میثاق معیشت کا ہے،پاکستان کوبچانے کا ہے، پاکستان کی سیاسی صورتحال مستحکم ہو گی تو معیشت بھی مستحکم ہو گی لیکن یوں لگتا ہے کہ عمران خان کا ایجنڈہ ہی یہی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر عدم استحکام سے دو چار کیا جائے

  • مظلومِ سیاست عمران خان اور آڈیو لیکس سکینڈل — زوہیب علی چوہدری

    مظلومِ سیاست عمران خان اور آڈیو لیکس سکینڈل — زوہیب علی چوہدری

    پاکستان میں ہر بندہ مظلوم ہے اور سب سے زیادہ ہمارے سیاستدان مظلوم ہیں اور ان میں بھی سب سے زیادہ مظلوم ہیں ہمارے خان صاحب ۔۔۔ کیونکہ انہوں نے سیاست میں مظلومیت کے لگ بھگ 26 سال گزار دیے ہیں جن میں سے چار سال وہ پاکستان کے مظلوم وزیراعظم بھی رہے۔۔۔ وہ مظلوم کیوں ہیں اور وہ کن کے ظلم کا شکار رہے؟۔۔۔ یہ سوال جواب طلب ہے۔۔۔

    لیکن پھر بھی اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بس جب جب انہوں نے کسی پر بھروسہ کرکے کوئی عہدہ دیا، کسی کو عوام سے عزت دلائی اور کسی کو اپنا ہمراز و ہمنوا بنایا اور ان سب کی جانب سے جب خان صاحب کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا تب خان صاحب نے جو غم و غصے اور دکھ کا اظہار عوامی سطح پر کیا وہ بیانات ہی سن پڑھ لیں تو تشفی ہوجاتی ہے کہ جی بلکل خان صاحب ایک زیرک اور ذہیں مگر مظلوم سیاستدان ہیں۔۔۔

    جیسے کہ چار سال ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے اور آج جب خان صاحب حکومت میں نہیں اور انکی آڈیو لیکس باہر آرہی ہیں جن میں ملکی سیاست، سفارت اور بلخصوص دفاعی معاملات سے متعلق انتہائی سیکرٹ باتیں ہیں تو خان صاحب نے روایت برقرار رکھتے ہوئے بڑی خوبصورتی سے مظلومیت کارڈ نکال لیا ہے۔۔۔

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ” آڈیو لیکس کے ذریعے پاکستان کی قومی سلامتی کی رازداری کو عالمی سطح پربےنقاب کیا گیا ہے”۔۔۔آڈیو لیکس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ” بحیثیت وزیراعظم میرے فون کی محفوظ لائن بگ کی گئی، آڈیو لیکس قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہیں”۔۔۔

    اس کے علاوہ خان صاحب نے آڈیو لیکس کی صداقت جانچنے کے حوالے سے عدالت جانے کا جو عندیہ دیا تھا آج اس پر عمل کردیا ہے، آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن یا جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کے ساتھ آج عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے تاکہ مظلومیت کے رنگ پھیکے نہ پڑ جائیں۔۔۔ عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس اور آفس کی نگرانی، ڈیٹا ریکارڈنگ اور آڈیو لیکس کو غیر قانونی قرار دیا جائے، آڈیو لیکس کی تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔۔۔ لیکن یہاں ہمارے پیارے خان صاحب نے مظلومیت کی انتہا کردی کہ نام نہیں لیا کہ کون ذمہ دار۔۔۔

    جب یہ ملک کے وزیر اعظم تھے تب ان کو خبر تھی نا کہ جی آفس کی نگرانی اور ڈیٹا ریکارڈنگ وغیرہ وغیرہ ہوتی ہے اور وہ کون کرتے ہیں؟ تب ہی کیوں نا اس پر سخت یا ضروری اقدامات کیے کہ آج آڈیو لیکس کی خفت مٹانے کی ایسی کوششیں کرنی پڑ رہی ہیں؟
    خان صاحب سے پہلے بھی وزرائے اعظم اور صدور رہے ہیں جن کے ادوار میں آفس کی نگرانی اور ڈیٹا ریکارڈنگ وغیرہ وغیرہ ان کی موجودگی اور رخصتی کے بعد معمول کی ہی کاروائی رہی ہے، کوئی لیکس یا سیکیوریٹی بریچ جیسا واقع اس طرح رونما نہیں ہوا جیسے خان صاحب کی دفعہ ہوا یا ہو رہا ہے حالانکہ پورے دور حکومت میں خان صاحب اور انکی پارٹی کی جانب سے ایک صفحے والی کہانیاں بھی سنائی جاتی رہیں۔۔۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ خان صاحب

    خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
    صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

    کہ مصداق اسی طرح مظلومیت، الزام تراشی اور اداروں سے نادیدہ تصادم کی سیاست کرتے کرتے دوبارہ اقتدار کا راستہ سیدھا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہوں؟

    ایک طرف ملک میں سیاسی اور معاشی بحران کے کالے سائے لہرا رہے ہیں، دوسری جانب ملک کی مکسچر اور کمزور ترین حکومت مردہ گھوڑے میں روح پھونکنے کی سبیلیں کر رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر نئی بساط بچھ رہی ہے اور تمام قوتیں اپنے مہرے سیٹ کر رہی ہیں اور پاکستان جیسا اہم ملک اس منظر نامے میں اپنی جگہ طے کرنے سے جزوی طور پر قاصر ہے۔۔۔ ملکی اور عالمی سطح پر حالات کیا رخ اختیار کریں گے

  • آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ — زوہیب علی چوہدری

    آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ — زوہیب علی چوہدری

    جی ہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ایک بار پھر عمران خان اور تحریک انصاف کے نشانے پرہیں ، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منعقدہ دو دو ضمنی انتخابات میں تاریخی فتح سمیٹنے والے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کیخلاف ہی ریفرنس دائر کر دیا، ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ جانبدار ہیں، مبینہ جانبداری کے باعث وہ اس عہدے کے اہل نہیں، چیف الیکشن کمشنر کو اس کے عہدے سے ہٹایا جائے۔۔۔ اب فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے۔

    لیکن عمران خان اور تحریک ِ انصاف کے دوست قوم کو یہ بھی تو بتائیں اور سمجھائیں کہ جس چیف الیکشن کمشنر کو آپ نے خود تعینات کیا تھا اپنے دورِ حکومت میں وہ جانبدار کیسے؟ اور وہ کس کا جانبدار ہے؟

    کیا اس عہدے پر تعیناتی کے وقت آپ کو معلوم نہیں تھا کہ "بھئی یہ تو جانبدار بندہ ہے”؟

    یہ تو وہی بات ہوئی کہ” میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو۔۔۔۔”

    جن نشستوں پر تحریکِ انصاف جیتی وہاں جمہوریت کی جیت اور حق کی فتح جبکہ جن جگہوں پر بہت کم مارجن سے شکست ہوئی وہاں دھاندلی کا الزام اور چیف الیکشن کمشنر جانبدار۔۔۔؟

    ایسے کیسے گلشن کا کاروبار چلے گا کہ آپ میدان میں اکیلے دوڑکے خواہش مند ہیں اور ریفری بھی اپنی مرضی کا چاہتے ہیں۔۔۔

    حقیقی آزادی کی تحریک میں گیم فکسنگ کی اس کوشش کو کیا سمجھا جائے؟

    کیونکہ آج آپ اپنے دور میں تعینات کیے گئے بیشتر عہدیداروں جن میں آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف، چیف جسٹس اور اب چیف الیکشن کمشنر تک پر شکوہ کناں ہیں کہ کسی نے آپ کو عدم اعتماد کی تحریک میں ریسکیو نہیں کیا، کسی نے آئین کی مبینہ غلط تشریح کرکے پی ڈی ایم کو فائدہ دیا، کوئی مبینہ مسٹر ایکس وائے زیڈ بن گیا اور اب چیف الیکشن کمشنر بھی آپ کو جانبدار لگ رہا ہے۔۔۔

    آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ والا یہ رویہ زیب نہیں دیتا لیکن اس کی پرواہ تحریکِ انصاف یا عمران خان کی جانب سے کب کی گئی ہے؟

    اگر اسی چیف الیکشن کمشنر پر آمادگی ظاہر بھی کی تو ساتھ ہی کہہ دیا کہ اور چوائس ہی کہاں ہے؟ مطلب کوا سفید ہی ہے۔۔۔۔

    دوسری طرف خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کے مصداق جماعت اسلامی کراچی بھی چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کرکے برہم ہے۔۔۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے پر چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کیا اور ساتھ ہی مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ الیکشن ملتوی کرانا پی ڈی ایم کامشترکہ ایجنڈا ہے، الیکشن کرانے والے بھی زرداری ڈاکٹرائن پرچل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اہلکاروں کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی، الیکشن کمیشن کا یہ کام نہیں کہ الیکشن کیلئے سیاسی جماعتوں سے پوچھے، الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کا سہولت کار بنا ہوا ہے، بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا مقصد صرف وسائل پرقبضہ برقراررکھناہے۔

    حافظ نعیم کا کہنا تھاکہ جواز بیان کیا گیا سندھ میں سیلاب کی وجہ سے نفری کم ہے، ہم نے پوچھا کہ بتایا جائے نفری کہاں کہاں لگی ہے؟ چیف الیکشن کمشنر آپ کی پوزیشن نہیں کہ آپ پوچھتے رہیں، آپ سندھ حکومت کے سہولت کار بن رہے ہیں، بہتر ہے چیف الیکشن کمشنر استغفی دے دیں۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے۔

    آئینی اداروں کے پاس کیا اختیارات ہیں اور کس طرح وہ اپنی غیر جانبداری پر عوام اور سیاستدانوں کو مطمئن کرسکتے ہیں اس پر اداروں کو اب مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اداروں پر سیاستدانوں اور عوام کے عدم اعتماد اورغم و غصے کا یہی مومینٹم رہا تو نظام اور ریاست مزید خرابی کے شکار ہو سکتے ہیں۔

  • ملکی سیاست کا درجہ حرارت، گمشدہ سمت اور غداری؟ — زوہیب علی چوہدری

    ملکی سیاست کا درجہ حرارت، گمشدہ سمت اور غداری؟ — زوہیب علی چوہدری

    ملکی سیاست کا درجہ حرارت ایک بار پھر بلند سطح پر، گزشتہ چند دن سے ملکی سیاست کی صورتِحال بدلی تو تحریکِ انصاف کے قائدین اور رہنماؤں کی بھی ٹون جو کہ دس اپریل 2022 سے ہی بدلی ہوئی تھی، اس میں شدت آگئی۔۔۔

    اعظم سواتی جو کہ ٹوئٹر پر اداروں اور مختلف ریاستی شخصیات کو اپنی شست پر لیے بیٹھے تھے خود قانون کی شست پر آگئے۔۔۔ تفصیلات کے مطابق اعظم سواتی کےخلاف مقدمہ پیکا ایکٹ سیکشن 20 کے تحت درج کیا گیا ہے ،جس میں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 131/500/ 501، 505 اور 109 کی شقیں بھی شامل ہیں، اور ایف آئی آر کے مطابق اعظم سواتی کے خلاف مقدمے کا مدعی ایف آئی اے کا ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان ہے، ان کے خلاف مقدمے کا اندراج انکوائری کی تکمیل پر عمل میں لایا گیا ہے۔۔۔

    اعظم سواتی کوایف آئی اے سائبر کرائمز کی جانب سے رات گئے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ان کے متنازعہ ٹوئٹس پر گرفتار کیا گیا ہے، اعظم سواتی پر اداروں کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کواشتعال دلانےجیسےالزامات ہیں۔۔۔

    ایسے ہی بیانات دینے پر پہلے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل ٹھیک ٹھاک قانونی کاروائی بھگت چکے ہیں اور اسی کیس میں کورٹ کی تاریخیں بھگت رہے ہیں۔۔۔

    اسلام آباد کی عدالت میں پیشی کے موقع عمران خان سے اعظم سواتی کی گرفتاری سے متعلق بھی سوال کیا گیا جس کے جواب میں عمران خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ”ملک کو بنانا ری پبلک بنادیا ہے، شرم آنی چاہیے۔”

    ادھر ایک جلسے میں عمران خان صاحب ذومعنی لب و لہجے میں اداروں کی تضحیک اور ان پر تنقید کرتے ہیں اور دوسرے جلسے میں کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ادارے بھی میرے ہیں اور پاکستان بھی میرا۔۔۔۔ یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟

    اور مردان جلسہ میں خان صاحب کا پارہ بھی بلند نظر آیا، خان صاحب نے جلسے میں کہا کہ

    ” جو بھی ان چوروں کو این آر او دے رہا ہے وہ اس ملک کا غدار ہے، اگر مجھ پر مقدمات بنانے اور جیلوں میں ڈالا تو میں زیادہ زور سے مقابلہ کروں گا۔۔۔ میں کرپٹ ہوتا تو آج دم دبا کرنواز شریف کی طرح ملک سے بھاگ ہوا ہوتا۔۔۔۔سوات اور قبائلی علاقوں میں ہونے والی گڑبڑ کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔۔۔اعظم سواتی کو بھی برہنہ کرکے تشدد کیا گیا، تمام اداروں سے کہتا ہوں کہ غلط فہمی میں نہ رہیں کہ تشدد کرکے عزت کروالیں گے۔۔۔”

    خان صاحب کبھی جیل بھرو تحریک کی بات کرتے ہیں تو کبھی جیلوں میں ڈالنے والوں کو دھمکا رہے ہیں، کبھی کہتے ہیں ہم آئین اور ریاست کا احترام کرتے ہیں اور کبھی آئین اور ریاست کے زمہ داران کو غدار کہہ رہے ہیں۔۔۔ عمران خان کے بیانات اور بیانیے میں اتنا تضاد اور کنفیوژن کیوں ہے؟

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف کی نااہلی کیلئے درخواست دائر کردی گئی ہے، تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس نے درخواست دائر کی ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کی 62(1) ایف کی تحت نااہلی کی استدعا کی گئی۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے، وہ اپنے سرکاری دوروں کے دوران اشتہاری اور سزا یافتہ ملزمان سے ملاقاتیں کر تےرہے ہیں، مزیدکہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو احتساب عدالت نے دس سال قید اور 80 لاکھ جرمانہ کی سز ا سنا رکھی ہے جبکہ بیرون ملک دوروں میں شہباز شریف بطور وزیراعظم حسین نواز ، سلمان شہباز اور اسحاق ڈار سے بھی ملاقاتیں کرتے رہے، جس سے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ملک کے آئین کی خلاف ورزی کی، لہذا انہیں نااہل کیا جائے۔

    یہ سب ملک اور قوم کو کہاں لیکر جائے گا اور کب یہ سیاسی مقدمہ بازی، غداری کے فتوے لگانا اور الزامی سیاست اختتام پذیر ہوگی؟؟؟

  • سوشل میڈیا کو گٹر بنانے والے چوڑے اور احسان فراموش خان!!! — زوہیب علی چوہدری

    سوشل میڈیا کو گٹر بنانے والے چوڑے اور احسان فراموش خان!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان اور ان کے مداحوں کو ریس میں اکیلے دوڑنے کا شوق ہے وگرنہ جتنی تنقید عمران خان سے پہلے اور دیگر سیاستدانوں اور حکمرانوں پر ہوئی ہے عمران خان پر اس کا عشر عشیر بھی تنقید نہیں ہورہی، لیکن اہلیانِ عمران خان کو درد ذہ سب سے زیادہ ہے۔

    اہلیان عمران خان, میں تو یہی کہوں گا ورنہ ان کو دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کس گھٹیا لقب سے یاد کرتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے اور یہ کہ وہ قطعی پارلیمانی اور صحافتی اقدار کے خلاف ہے جبکہ ہماری تربیت ہمیں اس برے فعل سے ہمیشہ روکتی ہے۔

    جی تو اہلیان عمران خان کو نجانے کیوں یہ خبط سوار ہوگیا ہے دماغ پر کہ خان صاحب کا پسینہ عطر خاص ہے اور خان صاحب دنیا کے ہینڈسم ترین اور معصوم عن الخطاء انسان ہیں, او بھئی نکل آؤ اس سحر سامری سے اور غلو و انتہا پسندی سے بچو ورنہ جب بت پاش پاش ہوتے ہیں تو ان کے ٹوٹنے کی آواز اور تکلیف تادم مرگ پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    خان صاحب سب کچھ بہت اچھے سے جاننے کا دعوی کرتے ہیں مطلب دنیا کی جس چیز, جس جگہ اور جس شخص کا نام لے لو جھٹ خان صاحب فرماتے پائے جاتے ہیں کہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا لیکن افسوس صد افسوس کہ خان صاحب بنیادی اخلاقی اور تعمیرِ کردار کی بابت کچھ نہیں جانتے اور یہی ان کا مشن ہے کہ قوم کی نوجوان نسل بھی ان اصولوں سے بہرہ ور نہ ہوسکے۔

    کوئی خان صاحب سے جتنا بھی تمیز کے دائرے میں رہ کر سوال کرلے, اہلیان عمران خان کی دم پر نجانے کہاں سے نادیدہ پاؤں دھرا جاتا ہے کہ پھر گھنٹوں بلکہ دنوں تک سوشل میڈیا پر نحیف سی چیاؤں چیاؤں سننے کو ملتی رہتی ہے اور سوشل میڈیا والز پر آؤ تو لگتا ہے کہ گھر کا فلش اوور ہوگیا ہو اور چہار سو بول و براز پھیلا ہو۔

    چلیں حامد میر, سلیم صافی, غریدہ فاروقی اور ثناء بچہ کی حد تک اہلیان عمران خان کہہ سکتے ہیں کہ یہ بغض عمران میں مبتلا ہیں اور لفافہ لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن مبشر لقمان صاحب پر پی ٹی آئی اپنی گھٹیا کیمپین کو کس طرح جسٹیفائی کرسکتی ہے؟

    2014 کا سارا دھرنا اور اس وقت خان صاحب کو ملی میڈیا ہائپ میں 90% تک مبشر لقمان صاحب کا ہاتھ تھا۔ بہت سے میرے جیسے لوگ تب عمران خان کی طرف راغب ہوئے تو اس میں مبشر لقمان اور اے آر وائے نیوز پر ان کے پروگرام کھرا سچ کا بہت اہم کردار تھا۔۔۔ مطلب خان صاحب کی تمام تر سیاسی جدو جہد کو اگر 2014 سے پہلےاور بعد میں تقسیم کریں تو پہلے کی کارکردگی اور شہرت کے مقابلے میں بعد کی کارکردگی اورشہرت ان کی سیاست میں بہت اہم ہے کیونکہ بعد کی شہرت اور عوامی شعور جس پر خان صاحب کا کلیم ہے کہ وہ انہوں نے دیا سراسر غلط بیانی ہے کیونکہ جتنا ایکسپوز مبشر لقمان صاحب نےن لیگ اورپیپلز پارٹی کو کیا خان صاحب کا کام تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے دیگر صحافیوں کی طرح خان صاحب اور ان کے ہمنوا تب مبشر لقمان صاحب کے بغیر اندھے بہرے اور گونگے تھے کہ جب مبشر لقمان صاحب رات کو سٹوری کرتےتو اگلےدن بشمول خان صاحب پوری پی ٹی آئی قیادت اور سوشل میڈیا وہی سٹوری بیان کرکے مخالفین کو دھول چٹا رہے ہوتے۔

    آج ایک ادھوری وفاقی حکومت گنوا کر خان صاحب دن بھر سڑکوں کی دھول چاٹ کر رات کو "ناراض دوستوں” سے "پیچ اپ” کی سکیمیں بناتے ہیں جبکہ ان کے اہلیان عمران خان سوشل میڈیا پر فی سبیل اللہ "سگِ بنی گالا” کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں اور خان صاحب کی طرح ان کے محسنین اور سابقہ دوستوں کو سوال اور اعتراض کرنے کی پاداش میں ذلیل و رسوا کرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن قوم یاد رکھے کہ جو شخص مطلبی اور خودغرض ہوتا ہے وہ مطلب نکلنے پر یہی کچھ کرتا اور کرواتا ہے حو خان صاحب اور ان کی قوم یوتھ کرتی پھر رہی ہے۔

    خان صاحب آپ پیر کامل بننے کی کوشش میں حد لانگ رہے ہیں یہ مت کریں, ریڈ لائن صرف ایک ہی تھے, ہیں اور تاقیامت رہیں گے اور وہ ہیں آقا حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کہ جن کی خاطر ماں باپ قربان کرنا اور اولاد سے سرف نظر کرنا فرض کیاگیا ہے بذبان اللہ۔

    خان صاحب اپنے اہلیان کو لگام دیں وگرنہ ڈھول کا پول کھل گیا تو آپ اپنا گریباں چاک کرنے اور عوام میں جاکر سچے ہونے کا دعوی کرنے سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

    اکڑ, غرور اور تکبر خواہ بری شہ پر ہو یا اچھی پر۔۔۔ اللہ کو یہ حرکت سخت ناپسند ہے۔ پوری قوم کو سیرت کےاسباق بعد میں رٹوائیےگا, پہلے اہلیان عمران خان کو اس پر عمل کی تلقین کریں۔

    سوشل میڈیا کو ایک گٹر بنانے میں جتنا کردار پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسرز اور ایکٹیوسٹس نے ادا کیا ہے اسکی نظیر نہیں ملتی۔۔۔ اور خود یہ اس گٹر کے اکلوتے مالک اور چوڑے بن کر سارا دن چوڑے والی آکڑ دکھا دکھا کر شرفاء کی پگ اچھالتے رہتے ہیں۔

  • کتوں کا جھنڈ اور شیر کی شان، پی ٹی آئی بمقابلہ مبشر لقمان — زوہیب علی چوہدری

    کتوں کا جھنڈ اور شیر کی شان، پی ٹی آئی بمقابلہ مبشر لقمان — زوہیب علی چوہدری

    اگر ہم وسعت نظری اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو آلودہ کرنے کا سہرا باندھیں تو بلا شک و شبہ اس کا سہرا پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاستدانوں اور پارٹی ورکرز کو جاتا ہے کیونکہ 1990 سے آج کی تاریخ تک یہ واحد پارٹی تھی جس کے نمائندوں نے پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری سٹیجز پر ببانگ دہل مخالفیں جس میں پی پی پی سر فہرست تھی اوراب پاکستان تحریکِ انصاف ہے کو خوب لتاڑا اور ان کے خلاف نازیبا اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا

    اب خرابی یہ شروع ہوگئی ہے کہ بات سیاست اور جمہوریت تک رہتی تو کام چل جاتا جیسے گذشتہ تین دھائیوں سے چل رہا تھا لیکن اب تحریکِ انصاف نے مسلم لیگ ن سے ایک قدم آگے جاکر پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کے ساتھ ساتھ سماج اورمعاشرے کو بھی بد تہذیبی اور بدتمیزی کی ذد پر رکھ لیا ہے۔اب صورتِحال یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت نے پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو آلودہ کیا تھا وہ بھی تحریک انصاف کو دیکھ کر شرمانے اور گھبرانے لگی ہے۔

    عمران خان جو قوم کی تربیت اور شعور و بالیدگی کی باتیں کرتے نہیں تھکتے خود ان کا عمل انکی بہت سی باتوں کے متضاد ہے، مخالفین کے نام بگاڑنا، تہمتیں اور بہتان تراشی اور ٹپوری لینگویج کا استعمال کرنا انکوذرا بھی معیوب نہیں لگتا لیکن تسبیح ہاتھ میں پکڑے 24 سو گھنٹے غیبتیں اور چغلیاں کرنے کے بعد قوم اور مخالفین کو نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ریاست اور سیرت کی باتیں سنا کر مرعوب کرنے کا فن صرف خان صاحب کے پاس ہی ہے۔

    مسلم لیگ ن نے جس بیہودہ کلچر کی داغ بیل ڈالی تھی تحریکِ انصاف نے اسکو خوب پروان چڑھایا ہے کہ اب پی ٹی آئی کے سیاستدانوں سے لیکر عام کارکن اور سپورٹر تک ایک ہی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔چھوٹے بڑے کی تمیز اور زبان سے ادب و اداب ختم ہوجائیں تو پھر انسان اور حیوان میں بس نام اور ہیت کا ہی فرق رہ جاتا ہے لیکن خصائل اور فضائل برابر ہوجاتے ہیں۔

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    اس وقت ملک میں انارکی اور کلٹ ازم و فاشسٹ ازم کی واحد نمائندہ جماعت صرف اور صرف پاکستان تحریکِ انصاف ہے جس کے شر سے نا کوئی سیاستدان، نا کوئی سرکاری نمائندہ اور ادارہ اور نا ہی کوئی صحافی محفوظ ہے۔جو بھی عمران خان یا تحریکِ انصاف پر تنقید کردے، اعتراض کردے یا سوال کرلے تو سمجھو اس نے بھڑوں کے چھتے پر وٹا مار دیا ہے کیونکہ چند منٹوں کے نوٹس پر پاکستان تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس سوشل میڈیا سائیٹ پر وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔

    تازہ واردات ان کی یہ ہے کہ پاکستان کے مایہ ناز اور انتہائی کریڈیبل اور نامور اینکر پرسن مبشر لقمان صاحب کو نشانے پر لے آئے ہیں، وجہ؟ وجہ یہ ہے کہ مبشر لقمان صاحب نے ہمیشہ حق اور کھرے سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔ ۔ ۔ جب تک خان صاحب صحیح ٹریک پر تھے تو مبشر لقمان صاحب سمیت ہر با شعور اور غیرجانبدار صحافی کے سر آنکھوں پر تھے لیکن جب خان صاحب نے بھی ایک مافیا کی بنیاد رکھ دی اور قوم کے بچوں کو سگ بنی گالہ بنا لیا اور سیاہ و سفید کے مالک بننے کی کوشش کی تو پھر باقی تو تتر بتر ہوگئے کہ کس کو عزت اور جان پیاری نہیں، البتہ مبشر لقمان صاحب نے اپنی روایت برقرار رکھی اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا بیشک کوئی کچھ بھی کہتا اور سمجھتا پھرے حق اور سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔

    بس اسی جرم کی پاداش میں تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس باولے ہوکر ایسے اوٹ پٹانگ ٹرینڈز لا رہے جو کم از کم شعور سے مربوط نہیں۔آج تیسرا دن ہے جب پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس مبشر لقمان صاحب کے خلاف ہر حد کراس کر رہے کیونکہ مبشر لقمان صاحب نے خان صاحب اور انکے ہمنواؤں کے خلاف اپنے چینل کے توسط سے جو نا قابلِ تردید ثبوت دیے ہیں ان سے خان صاحب تو کیا پوری تحریکِ انصاف کو سانپ سونگھ گیا ہے۔۔۔

    اگر مبشر لقمان صاحب جھوٹے ہیں تو تحریکِ انصاف عدالت کا دروازہ کھڑکائے۔۔۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ مبشر لقمان صاحب سچے ہیں اور پی ٹی آئی و سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس جھوٹے ہیں اسی لیے پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس بھرپور اینٹی کیمپین چلا کر چور مچائے شور کی مثال قائم کر رہے ہیں لیکن انکو کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے ، مبشر لقمان صاحب ایسے بیہودہ حربوں سے رکنے یا جھکنے والے نہیں۔پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس بس انتطار کریں اور اپنی خیر منائیں کیونکہ مبشر لقمان ان کے لیے اکیلے ہی کافی ہیں کہ جھنڈ میں تو کتے آتے ہیں جبکہ شیر ہمیشہ اکیلا ہی آتا ہے!!!

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    لسبیلہ ہیلی حادثہ، پاک فوج کیخلاف مہم میں یوٹیوبر سمیت سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی شامل