اٹک ۔حضرومیں 9 سالہ بچی زیادتی کے بعدقتل کر دی گئی۔بچی گزشتہ رات والدہ کے ساتھ شادی کی تقریب میں گئی تھی ۔دوران تقریب بچی کی گمشدگی پرورثاء نے تلاش شروع کردی۔ نو سالہ شبانہ کومبینہ زیادتی کےبعد قتل کیاگیا۔ بچی کو گلے میں پھندالگاکرقتل کیاگیا ۔بچی کی لاش چھچھ انٹرچینج کے قریب پنج ڈھیرگاوں سے برآمد کی گئی۔ بچی کاحضروہسپتال میں پوسٹ مارٹم جاری ہے۔
Tag: زيادتی

6 نامعلوم افراد نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور ویڈیو بھی بناتیے رہے
پنڈدادن خان, تھانہ للہ کے نواحی گاوں لنگر میں اجتماعی زیادتی کا واقعہ سات افراد کی لڑکی سے اجتماعی زیادتی ملزمان ویڈیو بناتے رھے. واقعہ گذشتہ روز پیش ایا مقدمہ درج چار ملزمان گرفتار فرانزک ٹیمیں جاے وقوعہ کی طرف روانہ ہوئی۔
تھانہ للہ ٹاون کے نواحی گاوں لنگر میں (ش) خاتوں سے اجتماعی زیادتی کا افسوسناک واقعہ ملزمان مبینہ طور پر زیادتی کے دوران ویڈیو بناتے رھے متاثرہ خاتوں (ش) نامی عورت نے بتایا کہ میں دربار مائی توکاں پر سلام کرنے آئی جہاں سے کامران نامی نوجوان مجھے اپنے ڈیرے پر لے گیا جہاں پر دیگر 6 نامعلوم افراد موجود تھے جنھوں نے مجھے سے باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا اور میری ویڈیو بناتے رھے تھانہ للہ ٹاون پولیس نے مقدمہ نمبر 36 / 21 بجرم 376/ 2 درج کر چار ملزمان گرفتار کر لیے ہیں جبکہ فرانزک ٹیمیں جاے وقوعہ کا معاہنہ کرنے کے سمپل اکٹھے کرنے کے لنگر روانہ ھو گی ہیں متاثرہ خاتوں کا تعلق رتوکالا بھلوال سے بتایا جاتا ھے پولیس نے تفتش شروع کر دی ھے مذید انکشافات کی توقع ہے
7 سالہ معصوم کو زیادتی اور قتل کرنے والے کو 02 مرتبہ سزائے موت اور جرمانہ،راولپنڈی پولیس
راولپنڈی پولیس کی ایک اور بڑی کامیابی،اپنی ہی 7 سالہ معصوم بھتیجی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے سفاک درندے کو 02 مرتبہ سزائے موت اور 06 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دلائی ۔ مجرم ولی اللہ نے نا صرف مقدس رشتے کو پامال کیا بلکہ 7 سالہ ننھی پری سدرہ کو زیادتی کے ساتھ قتل بھی کیا تھا ۔ ایس پی پوٹھوہار
واقعہ کا مقدمہ 22 نومبر 2019 کو بچی کے والد کی مدعیت میں تھانہ ائرپورٹ درج کیا گیا تھا، جاۓ وقوعہ کے معائنہ کے دوران ایس ایس انویسٹی گیشن محمد فیصل ، ایس پی پوٹھوہار سید علی اور اے ایس پی بینش فاطمہ نے شواہد کی بناء پر ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کیا،ملزم نے اپنے سفاکانہ جرم کا اعتراف پہلے پولیس اور پھر معزز عدالت کے سامنے بھی کیا تھا، پولیس کے فوری رسپانس ، موثر تفتیش اور پیروی مقدمہ کی بدولت ملزم کو اس کے قبیح جرم کی قرار واقعی سزا دلوانے میں مدد ملی ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد فیصلہ ۔ بچوں سے زیادتی اور قتل جیسے جرائم ناقابل برداشت ہیں ، ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سزا ملنا مظلوم اور قانون کی فتح ہے ۔ سی پی او راولپنڈی۔


