Baaghi TV

Tag: زیادتی

  • 14 سالہ بچے سے زیادتی کرنے والا اوباش ملزم گرفتار

    14 سالہ بچے سے زیادتی کرنے والا اوباش ملزم گرفتار

    کاہور:پولیس نے 14 سالہ بچے سے زیادتی کرنے والے اوباش ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم نے گھر سے پارک سیر کے لیے جانے والے لڑکے کو زبردستی گودام میں لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنایامصری شاہ پولیس نے اطلاع ملنے پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    ایس پی سٹی بلال احمد نے اوباش ملزم کی بروقت گرفتاری پر ایس ایچ او مصری شاہ اور ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ بچوں پر تشدد اور جنسی استحصال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

    ادھرسیشن کورٹ نے ریپ کیس میں جناح اسپتال کے ڈاکٹر کو 14 سال کی سزا سنادی،عدالت نے ملزم ڈاکٹر عبدالرحمٰن کو چودہ سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دے دیا، ایڈیشنل سیشن جج ظفر یاب چدھڑ نے کیس پر فیصلہ جاری کیا،ملزم کے خلاف 2024 میں تھانہ نواب ٹاؤن میں اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    تفتیشی افسر کے مطابق ملزم نے مشہور رشتہ ایپ کے ذریعے لڑکی کو ورغلایا اور شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایاپراسیکیوٹر نے بتایا کہ عدالت میں ملزم کے خلاف بارہ گواہان پیش ہوئے، ملزم پر میڈیکل سے جرم ثابت ہےعدالت میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر یاسمین کوثر نے ملزم کے خلاف شہادتیں پیش کیں، ملزم کے خلاف متاثرہ بچی کے بیان سے جرم ثابت ہے۔

  • شادی کا جھانسہ دیکر میٹرک کی طالبہ سے مبینہ جنسی زیادتی ، پرنسپل گرفتار

    شادی کا جھانسہ دیکر میٹرک کی طالبہ سے مبینہ جنسی زیادتی ، پرنسپل گرفتار

    راولپنڈی : شادی کا جھانسہ دیکر اور امتحان کی تیاری کرانے کے بہانے بلا کر میٹرک کی طالبہ کو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے اکیڈمی پرنسپل کو گرفتار کرلیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق اکیڈمی پرنسپل،نےراولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں شادی کا جھانسہ دیکر اور امتحان کی تیاری کرانے کے بہانے بلا کر میٹرک کی طالبہ کو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا،طالبہ حاملہ ہوئی تو ملزم نے نجی کلینک لے جا کر چیک اپ کرایا اور ادویات دیتا رہا جس سے حمل ضائع ہوگیا، پولیس نے اکیڈمی پرنسپل ضیا الرحمان کے خلاف زیادتی و اسقاط حمل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔

    مقدمے کے متن کے مطابق طالبہ نے کہا کہ،سال 2023 میں اسد اکیڈمی خیابان سر سید میں میڑک کلاس میں داخلہ لیا، مئی 2025 میں اکیڈمی کے پرنسپل ضیا الرحمان نے کہا کہ میری اولاد نہیں، مجھ سے شادی کرلو، پرنسپل کو منع کردیا اور کہا کہ ایسا کوئی رشتہ قائم کرنا ہے تو میرے والدین سے بات کرلیں،لیکن حیلے بہانوں سے میرے قریب ہونا شروع کردیا، ٹیوشن پڑھانے اور اچھے نمبروں کا لالچ دینے لگا، طالبہ ہونے کے ناطے اپنے خاندان کی بدنامی کی ڈر سے خاموش رہی۔

    شادی کا جھانسہ دیکر میٹرک کی طالبہ سے مبینہ جنسی زیادتی ، پرنسپل گرفتار

    متاثرہ طالبہ نے مقدمے میں کہا کہ 21 مئی کو پیپر کی تیاری کے لیے اکیڈمی بلوایا، وہاں گئی تو تمام اسٹوڈنٹس چھٹی کرکے جاچکے تھے، پرنسپل اکیڈمی میں بیٹھا تھا، تمام دروازے بند کرکے مجھ سے زبردستی زیادتی کی اور کسی کو بتانے کی صورت میں دھمکیاں دیں،پرنسپل کہتا رہا کہ میں جلد تم سے شادی کرلوں گا، میری طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی تو صدر کے ایک نجی کلینک میں لے جاکر علاج کرایا، ایک ماہ بعد مجھے پتہ چلا کہ میں حاملہ ہوچکی ہوں، جس پر میں نے ضیا الرحمان کو بتایا تو اس نے کوئی دوائی لاکر دی۔

    مقدمے کے متن کے مطابق طالبہ نے کہا کہ مجھے معلوم نہ تھا لیکن استعمال کرنے پر میری طبعیت خراب ہوگئی، بعد میں پتا چلا کہ دوائی اسقاط حمل کی تھی، میرا حمل ضائع ہوگیا، ضیا الرحمان کو پتا چلا تو اس نے کہا اب تم کسی سے شادی کے قابل نہیں، میں ہی تم سے شادی کروں گا لیکن کچھ وقت درکار ہے،جولائی میں پرنسپل ضیا الرحمان نے اکیڈمی کے دفتر کے اندر ہی مجھ سے زبردستی زیادتی کی اور دھمکیاں دیں کہ کسی کو بتایا تو شادی نہیں کروں گا، اس کے بعد بھی مختلف اوقات میں وہ بلیک میل کرکے زیادتی کرتا رہا جس سے دوبارہ حاملہ ہوگئی۔

    شاہ رخ خان کی بیٹی سہانا خان کو قانونی مشکلات کا سامنا

    متن کے مطابق لڑکی نے کہا کہ ’ضیا الرحمان سے شادی کے ضد کی تو وہ ذہنی و جسمانی ٹارچر کرنے لگا، خاندان کی عزت کی وجہ سے سخت پریشان رہنے لگی جس سے حمل از خود ضائع ہوگیا،اکیڈمی پرنسپل ضیا الرحمان نے درس و تدریس کے مقدس پیشے کی آڑ میں شادی کا جھانسہ دیکر زبردستی زیادتی کرکے حاملہ کرنے اور پھر حمل ضائع کرکے سخت زیادتی کی اور میری زندگی برباد کردیا، مزکورہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

  • راولپنڈی ، ہمسائےکی 13 سالہ یتیم لڑکی کے ساتھ زیادتی، مقدمہ درج

    راولپنڈی ، ہمسائےکی 13 سالہ یتیم لڑکی کے ساتھ زیادتی، مقدمہ درج

    پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ہمسائےنے 13 سالہ یتیم لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ گوجرخان میں درج کروائے گئے مقدمے کے متن کے مطابق بچی کی والدہ نے بتایا کہ گھروں میں کام کاج کرکے گزر اوقات چلاتی ہوں۔13 اپریل کو 13 سالہ بیٹی گھر پر تھی۔ محلے دار ہارون کی چھوٹی بہن ہمارے گھر آئی اور میری بیٹی کو کھیلنے کے لیے اپنے گھر لے گئی۔ ہارون کی بہن رات 8 بجے میری بیٹی کو گھر چھوڑنے آئی اور بتایا کہ اس کو بخار ہوگیا ہے۔

    مدعیہ کے مطابق بیٹی کو کمرے میں لٹا دیا اور خود بھی سوگئی اور اگلی صبع کام پر چلی گی۔ واپس آئی تو بیٹی سے طبیعت کا پوچھا تو اس نے رونا شروع کردیا۔ بیٹی نے بتایاکہ گزشتہ روز ہارون نے اپنے گھر میں کوئی نشہ اورچیزدے کر زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ بیٹی کے بتانے پراس کو اسپتال لے گی اور میڈیکل کروایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش جاری ہے۔

    کے پی کے میں موٹروے پر گاڑی پر فائرنگ،سینئر سول جج بہنوئی سمیت قتل

    سندھ ،ناقص کمرشل گاڑیوں کی رجسٹریشن کی منسوخ کرنے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

  • لاہور پولیس کا اہلکاربھکاری خاتون سےزیادتی کرتے پکڑا گیا

    لاہور پولیس کا اہلکاربھکاری خاتون سےزیادتی کرتے پکڑا گیا

    لاہور کے علاقے مناواں میں ایک باوردی پولیس اہلکار بھکاری خاتون سے جنسی زیادتی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہےکہ اہلکار نے پکڑے جانے پر شہری پر فائرنگ کر دی، جس سے نوجوان زخمی ہو گیا۔ مقامی افراد نے ملزم اہلکار کو قابو کر کے مناواں پولیس کے حوالے کر دیا۔ فائرنگ سے زخمی ہونے والے نوجوان ساجد کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔واقعے کی موبائل ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے،جس میں پولیس اہلکار کو خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات اور فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم اہلکار کی شناخت امجد کے نام سے ہوئی ہے، جو شفیق آباد تھانے میں تعینات ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    جوڈیشل کمیشن رکن سینیٹر علی ظفر کا چیف جسٹس کو خط

    وزیراعظم کامتحدہ عرب امارات میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں شرکت کا اعلان

  • زیادتی کے بعد خاندان کے خوف سے لڑکی نے چاقو گھونپ لیا

    زیادتی کے بعد خاندان کے خوف سے لڑکی نے چاقو گھونپ لیا

    بھارتی شہرممبئی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں زیادتی کی شکار بیس سالہ لڑکی کو ریلوے اسٹیشن سے نیم بے ہوشی کی حالت میں برآمد کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کے مطابق لڑکی کے جسم سے پتھر اور ایک سرجیکل بلیڈ بھی برآمد ہوا۔ تاہم، پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں ایک حیران کن انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ لڑکی نے یہ چیزیں خود اپنے جسم میں داخل کیں۔واقعے کے بعد پولیس نے ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کو زیادتی کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نوجوان لڑکی نالاسوپارہ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتی ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے آٹو رکشہ ڈرائیور کی طرف سے زیادتی کا شکار ہونے کے بعد اپنے والدین کی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے بچنے کےلیے یہ خوفناک قدم اٹھایا۔پولیس کے مطابق لڑکی اور آٹو رکشہ ڈرائیور اکٹھے آرنالا بیچ گئے تھے۔ ان کا وہاں رات گزارنے کا منصوبہ تھا لیکن شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہوٹل میں کمرہ نہیں مل سکا اور انہوں نے رات ساحل سمندر پر ہی گزاری۔

    پولیس کا خیال ہے کہ اسی دوران لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ واردات کے بعد آٹو رکشہ ڈرائیور فرار ہوگیا۔ لڑکی کسی نہ کسی طرح نالاسوپارہ کے ریلوے اسٹیشن تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی، لیکن گھر واپس جانے کے خوف سے، جہاں اسے رات باہر گزارنے اور زیادتی کا اعتراف کرنا پڑتا، اس نے ایک سرجیکل چاقو خریدا اور اسے اپنے جسم میں گھونپ دیا۔ پولیس کے مطابق اس نے اپنے جسم میں پتھر بھی ڈالے۔درد اور خون بہنے کے بعد لڑکی نے مقامی پولیس سے رابطہ کیا، جنہوں نے اسے اپنی تحویل میں لیا اور آٹو رکشہ ڈرائیور کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس سے قبل لڑکی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ وارانسی میں ایک یتیم ہے اور اپنے چچا کی دیکھ بھال میں رہتی ہے۔ لڑکی نے بتایا کہ وہ اور رکشہ ڈرائیور دونوں اتوار کو ممبئی آئے تھے۔پولیس کا یہ بھی خیال ہے کہ لڑکی ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہے۔

    ننکانہ : بے نظیر وسیلہ تعلیم کے تحت ڈراپ آؤٹ بچوں کی انرولمنٹ بڑھانے کا عزم

    آئی سی سی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم آف دی ایئر کا اعلان

    لنڈی کوتل: جونیئرز ٹیپ بال کرکٹ ٹورنامنٹ اختتام پذیر، زوہیب کرکٹ کلب فاتح قرار

    سلمان خان کےکراچی میں 3 ماہ قیام کرنے کا انکشاف

  • بھارت،خاتون ڈاکٹرزیادتی و قتل کیس،ملزم کو عمر قید کی سزا

    بھارت،خاتون ڈاکٹرزیادتی و قتل کیس،ملزم کو عمر قید کی سزا

    بھارت: کلکتہ میں 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور وحشیانہ قتل کے ملزم کو عمر قید کی سزا

    بھارت کے شہر کلکتہ میں گزشتہ سال 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور وحشیانہ قتل کے الزام میں گرفتار ملزم سنجے رائے کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، یہ فیصلہ 20 جنوری 2025 کو سنایا گیا، جبکہ عدالت نے سنجے رائے کو 18 جنوری کو مجرم قرار دیا تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پیش کیے گئے ثبوتوں سے ملزم سنجے رائے پر الزام ثابت ہوتا ہے۔ تاہم، سی بی آئی کی طرف سے سنجے رائے کو سزائے موت دینے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے اُسے عمر قید کی سزا سنائی۔ مجرم نے عدالت میں اپنے جرم سے انکار کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ بے گناہ ہے اور اسے جھوٹے الزامات میں پھنسایا گیا ہے، جبکہ اس پر الزام عائد کرنے والے دستاویزات پر زبردستی دستخط کروائے گئے ہیں۔

    عدالت نے مجرم سنجے کو اس سنگین جرم میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ سنجے رائے نے عدالت میں اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ انہیں جھوٹے طور پر اس جرم میں ملوث کیا گیا ہے اور وہ "جھوٹا الزام” برداشت نہیں کر سکتے۔سی بی آئی نے کیس کی تحقیقات کی اور عدالت کو بتایا کہ یہ کیس "سب سے نایاب” (rarest of rare) نوعیت کا ہے۔ سی بی آئی کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ سنجے رائے کو موت کی سزا دی جائے تاکہ معاشرتی اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے اور ایسے جرائم کی روک تھام ہو سکے۔عدالت کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انیر بن داس نے سی بی آئی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی نوعیت "سب سے نایاب” نہیں ہے، اور اس وجہ سے موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے سنجے رائے کو عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے اس کے علاوہ سنجے رائے پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ جج انیر بن داس نے ریاستی حکومت کو بھی ہدایت کی کہ وہ مقتول ڈاکٹر کے خاندان کو 17 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرے۔

    مقتول ڈاکٹر کی والدہ نے سی بی آئی کی تحقیقات پر شدید تنقید کی اور افسوس کا اظہار کیا کہ اس کیس میں شامل دیگر ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک ملزم سنجے رائے کو پکڑا گیا ہے، حالانکہ اس جرم میں اور بھی لوگ ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی بی آئی نے ان دیگر مجرموں کو گرفتار کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا، "ایسے جرائم میں ملوث افراد کا معاشرے میں زندہ رہنا جرم ہے اور ان کو سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔” مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ سنجے رائے کو بائیولوجیکل ثبوتوں کی بنیاد پر سزا سنائی گئی ہے، اور اس کے خاموش رہنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس جرم میں ملوث تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ انصاف ابھی مکمل نہیں ہوا اور وہ اس کیس میں مزید لڑائی جاری رکھیں گی۔

    گزشتہ سال 9 اگست کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر نیم برہنہ حالت میں مردہ پائی گئی تھی۔ اس ہولناک واقعے نے نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا,9 اگست 2024 کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال کی تیسری منزل پر واقع سیمینار ہال سے ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کی نیم برہنہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ ایک عصمت دری اور قتل کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ جیسے ہی یہ واقعہ سامنے آیا، پورے شہر اور بالخصوص ڈاکٹروں کے درمیان غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔واقعے کے بعد کولکتہ پولیس نے ملزم سنجے رائے کو ملزم کے طور پر حراست میں لیا، جس کے بعد مغربی بنگال میں ڈاکٹروں نے احتجاج شروع کیا۔ 12 اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پولیس کو یہ کیس جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت دی، اور اگر ایسا نہ ہو تو معاملہ سی بی آئی کو سونپنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد 13 اگست کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اس کیس کا نوٹس لیا اور اسے سی بی آئی کے حوالے کر دیا۔

    14 اگست کو سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات شروع کی اور ایک 25 رکنی ٹیم تشکیل دی۔ اس دوران کولکتہ میں عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی جاری رہا۔ 16 اگست کو پولیس نے توڑ پھوڑ کے ملزمان کو گرفتار کرنا شروع کیا اور 18 اگست کو سپریم کورٹ نے توڑ پھوڑ کے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں قومی پروٹوکول کی تیاری کی ہدایت بھی دی تھی۔سی بی آئی نے اس کیس میں کئی افراد کو گرفتار کیا، جن میں آر جی کر اسپتال کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ 7 اکتوبر کو سی بی آئی نے سنجے رائے کو ملزم قرار دے کر چارج شیٹ داخل کی۔

    سنجے رائے کے خلاف فرد جرم کی کارروائی 4 نومبر 2024 کو مکمل ہوئی اور مقدمے کی کارروائی 11 نومبر سے شروع ہو گئی۔ تمام ٹرائل کے دوران عدالت کا کمرہ بند رہا اور 50 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جن میں مقتولہ کے والدین، سی بی آئی اور کلکتہ پولیس کے تفتیشی افسران، فارنسک ماہرین اور آر۔جی۔کار کے ساتھی ڈاکٹروں کے بیانات شامل ہیں۔مقتولہ کی لاش کی دریافت کے بعد اور سی بی آئی کی ابتدائی تحقیقات کے دوران، اس واقعے نے وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ میڈیکل کمیونٹی، شہری حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے سڑکوں پر آ کر متاثرہ ڈاکٹر کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا، یہ مظاہرے جلد ہی مغربی بنگال سے باہر بھی پھیل گئے اور دیگر بھارتی ریاستوں سمیت عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، جہاں غیر مقیم بھارتی تنظیموں نے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین وینے اگروال نے اس کیس پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "صرف ہم نہیں، پورا ملک اس فیصلے کا شدت سے منتظر ہے۔ ہمارے ڈاکٹر کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ ایک خاتون ڈاکٹر، جو کہ ایک معروف ریاست کے معروف میڈیکل کالج میں کام کر رہی تھی، کو بے دردی سے زیادتی اور قتل کا نشانہ بنایا گیا۔”انہوں نے مزید کہا، "یہ واقعہ حکومت کے زیر انتظام ہسپتال میں، جب وہ اپنی ڈیوٹی پر تھیں، پیش آیا تھا، جس نے پورے ملک کو غصے میں مبتلا کر دیا۔ صرف میڈیکل کمیونٹی نہیں، بلکہ پوری قوم اس پر غم و غصے کا اظہار کر رہی تھی۔ پورا کولکتہ، بنگال اور دیگر ریاستیں جل اُٹھیں، اور تمام میڈیکل کالجز بند کر دیے گئے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی سخت سزا کی اپیل کی ہے۔”

    عدالت کے باہر 300 سے زائد پولیس اہلکاروں نے گارڈ ڈیوٹی دی جب آر جی کار ریپ اور قتل کیس کے مرکزی ملزم سنجے رائے کو فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت میں داخل کیا گیا۔”سنجے رائے کو پھانسی دو”، "ہم اسے پھانسی چاہتے ہیں” کے نعرے عدالت کے باہر گونج رہے تھے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران کے علاوہ انسپکٹرز بھی موجود تھے جب سنجے رائے تین گاڑیوں کے قافلے میں عدالت کی عمارت میں داخل ہوئے۔

    غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

  • ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    گزشتہ سال 9 اگست کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر نیم برہنہ حالت میں مردہ پائی گئی تھی۔ اس ہولناک واقعے نے نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا

    9 اگست 2024 کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال کی تیسری منزل پر واقع سیمینار ہال سے ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کی نیم برہنہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ ایک عصمت دری اور قتل کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ جیسے ہی یہ واقعہ سامنے آیا، پورے شہر اور بالخصوص ڈاکٹروں کے درمیان غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔واقعے کے بعد کولکتہ پولیس نے ملزم سنجے رائے کو ملزم کے طور پر حراست میں لیا، جس کے بعد مغربی بنگال میں ڈاکٹروں نے احتجاج شروع کیا۔ 12 اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پولیس کو یہ کیس جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت دی، اور اگر ایسا نہ ہو تو معاملہ سی بی آئی کو سونپنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد 13 اگست کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اس کیس کا نوٹس لیا اور اسے سی بی آئی کے حوالے کر دیا۔

    14 اگست کو سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات شروع کی اور ایک 25 رکنی ٹیم تشکیل دی۔ اس دوران کولکتہ میں عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی جاری رہا۔ 16 اگست کو پولیس نے توڑ پھوڑ کے ملزمان کو گرفتار کرنا شروع کیا اور 18 اگست کو سپریم کورٹ نے توڑ پھوڑ کے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں قومی پروٹوکول کی تیاری کی ہدایت بھی دی تھی۔سی بی آئی نے اس کیس میں کئی افراد کو گرفتار کیا، جن میں آر جی کر اسپتال کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ 7 اکتوبر کو سی بی آئی نے سنجے رائے کو ملزم قرار دے کر چارج شیٹ داخل کی۔

    سنجے رائے کے خلاف فرد جرم کی کارروائی 4 نومبر 2024 کو مکمل ہوئی اور مقدمے کی کارروائی 11 نومبر سے شروع ہو گئی۔ تمام ٹرائل کے دوران عدالت کا کمرہ بند رہا اور 50 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جن میں مقتولہ کے والدین، سی بی آئی اور کلکتہ پولیس کے تفتیشی افسران، فارنسک ماہرین اور آر۔جی۔کار کے ساتھی ڈاکٹروں کے بیانات شامل ہیں۔مقتولہ کی لاش کی دریافت کے بعد اور سی بی آئی کی ابتدائی تحقیقات کے دوران، اس واقعے نے وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ میڈیکل کمیونٹی، شہری حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے سڑکوں پر آ کر متاثرہ ڈاکٹر کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا، یہ مظاہرے جلد ہی مغربی بنگال سے باہر بھی پھیل گئے اور دیگر بھارتی ریاستوں سمیت عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، جہاں غیر مقیم بھارتی تنظیموں نے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    آج، 18 جنوری 2025 کو کولکتہ کی سیالڈا سیشن کورٹ اس عصمت دری اور قتل کے کیس میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس کیس کا فیصلہ نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں انصاف کی فراہمی کے عمل کا پورا جائزہ لیا جائے گا۔یہ کیس اس بات کی گواہی ہے کہ عدلیہ، پولیس، اور عوامی احتجاج نے اس گھناؤنے جرم کو بے نقاب کرنے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا اور اس ہولناک جرم کے ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے گی۔

    انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین وینے اگروال نے اس کیس پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "صرف ہم نہیں، پورا ملک اس فیصلے کا شدت سے منتظر ہے۔ ہمارے ڈاکٹر کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ ایک خاتون ڈاکٹر، جو کہ ایک معروف ریاست کے معروف میڈیکل کالج میں کام کر رہی تھی، کو بے دردی سے زیادتی اور قتل کا نشانہ بنایا گیا۔”انہوں نے مزید کہا، "یہ واقعہ حکومت کے زیر انتظام ہسپتال میں، جب وہ اپنی ڈیوٹی پر تھیں، پیش آیا تھا، جس نے پورے ملک کو غصے میں مبتلا کر دیا۔ صرف میڈیکل کمیونٹی نہیں، بلکہ پوری قوم اس پر غم و غصے کا اظہار کر رہی تھی۔ پورا کولکتہ، بنگال اور دیگر ریاستیں جل اُٹھیں، اور تمام میڈیکل کالجز بند کر دیے گئے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی سخت سزا کی اپیل کی ہے۔”

    عدالت کے باہر ہفتہ کے روز 300 سے زائد پولیس اہلکاروں نے گارڈ ڈیوٹی دی جب آر جی کار ریپ اور قتل کیس کے مرکزی ملزم سنجے رائے کو فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت میں داخل کیا گیا۔”سنجے رائے کو پھانسی دو”، "ہم اسے پھانسی چاہتے ہیں” کے نعرے عدالت کے باہر گونج رہے تھے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران کے علاوہ انسپکٹرز بھی موجود تھے جب سنجے رائے تین گاڑیوں کے قافلے میں عدالت کی عمارت میں داخل ہوئے۔

    غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

  • رکشہ ڈرائیور کی ساتھی سمیت 20سالہ لڑکی سے زیادتی

    رکشہ ڈرائیور کی ساتھی سمیت 20سالہ لڑکی سے زیادتی

    بھارتی ریاست اترپردیش میں رکشہ ڈرائیور نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر 20 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ کانپور شہر میں پیش آیا۔ لڑکی تکلیف دہ حالت میں جیسے تیسے گھر پہنچی اور ایل خانہ کو خود پر گزرنے والی قیامت کے بارے میں بتایا۔اہل خانہ متاثرہ بیٹی کو تھانے لے کر گئے۔ 20 سالہ لڑکی نے بتایا کہ میں ملازمت کی تلاش میں تھی تاکہ اپنے والدین کا ہاتھ بانٹ سکوں۔متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ ایک انٹرویو کے لیے گئی لیکن نوکری نہیں ملی تو آٹو ڈرائیور دیپک کشواہا نے کہا کہ کل آنا میں تمھیں ملازمت دلوا دوں گا۔اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی نے مزید بتایا کہ جب میں رکشہ ڈرائیور کے پاس گئی تو اس نے ایک اور شخص سے ملوایا کہ ان کے پاس جاب ہے۔متاثرہ لڑکی نے مزید بتایا کہ رکشہ ڈرائیور اور اس کا ساتھی مجھے ویران جگہ لے گئے اور زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے رکشہ ڈرائیو دیپک کشواہا اور اس کے دوست سورج کشواہا کو گرفتار کرلیا۔ ملزمان نے جنسی زیادتی کا اعتراف بھی کرلیا۔

    شادی پر بھائیوں نے 50 لاکھ روپے بارات میں لٹا دیے

    ملک سے جانے والے 55 مسافر آف لوڈ‘مختلف ممالک سے 107 ملک بدر

    ٹھٹھہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا کیک عوامی پریس کلب مکلی میں کاٹا گیا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا مسلم ورلڈ لیگ کے اعلامیہ کا خیر مقدم

  • صفائی والی لڑکی کے ساتھ چار ملزمان کی اجتماعی زیادتی

    صفائی والی لڑکی کے ساتھ چار ملزمان کی اجتماعی زیادتی

    ملتان میں نجی بس اسٹینڈ پر چار ملزمان نے لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی ہے

    پولیس حکام کے مطابق لڑکی بس اسٹینڈ پر صفائی کا کام کرتی تھی، لڑکی کو ملزمان نے ورکشاپ میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے،زیادتی کا شکار لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ وہ چھٹی کر کے شام ساڑھے چھ بجے واپس جا رہی تھی کہ ایک بس ڈرائیور اسے نزدیکی ورکشاپ میں صفائی کرنے کا کہہ کر ساتھ لے گیا ،وہاں تین اور افراد بھی موجود تھے، چاروں نے ملکر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی، بعد ازاں اس کی طبیعت خراب ہوئی تو ملزمان نیم بے ہوشی کی حالت میں ورکشاپ کے باہر چھوڑ گئے، ہوش آنے پر اس نے بس اسٹینڈ آکر اسٹینڈ کے مینجر کے نمبر سے پولیس کو اطلاع دی۔

    پولیس نے موقع پر پہنچ کر لڑکی کے بیان پر چار افراد کے خلاف اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا تاہم ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ،پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا،

    پی سی بی کا 2024ء کیلئے ہال آف فیم کرکٹرز کا اعلان

    وفاقی وزیرداخلہ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

  • زیادتی کے بعد بچی کو ڈرم میں بند کرنے والا ملزم گرفتار

    زیادتی کے بعد بچی کو ڈرم میں بند کرنے والا ملزم گرفتار

    زیادتی کے بعد بچی کو ڈرم میں بند کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا

    کوٹ لکھپت پولیس نے 7 سالہ بچی عالیہ سے زیادتی کا مرتکب ملزم گرفتار کر لیا ،ملزم رفیق کی کریم پارک کوٹ لکھپت میں کباڑ کی دوکان ہے ،بچی کباڑ کی دوکان پر سوکھی روٹیاں فروخت کرنے آئی ملزم نے ورغلا کر زیادتی کی ،بچی کی تلاش میں چاچا دوکان پر آیا ملزم نے بچی کو دھمکا کر ڈرم میں بند کردیا ،بچی کے اونچا رونے پر چاچا نے ڈرم سے بچی کو نکالا واقعہ کے متعلق دریافت کیا ،ملزم کو جدید ٹیکنالوجی سے کریم پارک رشتہ دار کے گھر سے ٹریس کرکے گرفتار کیامقدمہ درج کر لیا گیا

    دوسری جانب اسلام آباد پورہ ڈولفن ٹیم نے خاتون سے قیمتی موبائل چھیننے کی واردات ناکام بنا دی، ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا،ڈولفن ٹیم نے موقع پر ہی سنیچنگ کرنے والے 1 ملزم کو گرفتار کر لیا، ملزم خاتون سے قیمتی موبائل چھین کر فرار ہو رہا تھا۔ڈولفن ٹیم نے تعاقب کے بعد سیکرٹریٹ سے 1 ملزم کو راؤنڈ اپ کر لیا۔گرفتار ملزم کے قبضہ سے چھینا گیا موبائل فون برآمد کر لیا گیا،ملزم فیضان کارروائی تھانہ اسلام پورہ کے حوالے کر دیا گیا

    دوسری جانب ،تھانہ گجر پورہ کے علاقے میں 15 پر ڈکیتی کی جھوٹی کال کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا،ایس ڈی پی او گجر پورہ سہیل حسین کاظمی کی راہنمائی میں ایس ایچ او تھانہ گجر پورہ نے 15 کی کال پر فوری رسپانس کیا ،ملزم مالکان کا 25 ہزار آن لائن جوا پر لگا کر ہار گیا تھا اور رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیے 15 پر ڈکیتی کی جھوٹی کال کی تھی،ملزم احمد جاوید زیادہ دیر پولیس کو چکما نہ دے سکا اور اپنے جرم کا اعتراف کر لیا،ملزم کے خلاف تھانہ گجر پورہ میں مقدمہ درج مزید کاروائی کے لیے انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا

    اداکارہ ریما خان پر دھوکا دہی کا الزام

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری