Baaghi TV

Tag: زیادتی کیس

  • صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    صارم قتل کیس میں پولیس نے تفتیش کے دوران بچوں کے معلم کے کمرے سے ملنے والی چیزوں کے حوالے سے بڑا انکشاف کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پولیس کی جانب سے یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں کے معلم کے کمرے سے کچھ ادویات ملی ہیں اور فارنزک کے دوران موبائل سے نازیبا ویڈیوز بھی ملی ہیں، جو اس نے خود اپنے موبائل فون سے بنائی تھی۔دوسری جانب زیرحراست تمام افراد سے مستقل تفتیش کا عمل جاری ہے اور کوشش ہے جلد ڈی این اے رپورٹ ملے تو کیس فائنل کیا جائے گا۔

    کیس میں اب تک کی پیش رفت

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش کے دوران 200 سے زائد گھروں کو چیک کیا گیا، مشتبہ افراد کے ڈی این اے ہو چکے ہیں، کسی کا بھی نتیجہ نہیں آیا، ڈی این اے کے رزلٹ آنے میں مزید ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ 9 افراد ایسے ہیں جن پر زیادہ شک ہے، صارم قتل کیس پر چار ٹیمیں کام کر رہی ہیں، اے وی سی سی، سی پی ایل سی، ٹیم تفتیش کر رہی ہے۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی ویسٹ کی خصوصی ٹیم، ایس ایچ او کی ٹیم تفتیش میں مصروف ہے، رات گئے خصوصی ٹیم نے فلیٹس میں سرچنگ کی، مزید شواہد اکھٹا کرنے کی کوشش کی، ابھی تک کی تفتیش میں کسی باہر کے افراد کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

    واضح رہے کہ نارتھ کراچی میں 7 سالہ صارم کیس ڈی این اے اور فارنزک رزلٹ تاخیر کا شکارہوگیا ہے، پولیس حکام نے بتایا کہ فارنزک لیب کی جانب سے مزید وقت مانگ لیا گیا ہے۔ 7سالہ صارم کے قتل کی تحقیقات میں تفتیشی حکام پریشانی کا شکار ہیں۔تفتیشی حکام نے بتایا کہ پانی میں ڈوبے رہنے کے وجہ سے لاش خراب ہوگئی تھی اور لاش سے لیا جانے والا ڈی این اے بھی خراب ہوگیا تھا۔ ڈی این اے خراب ہونے کی وجہ سے میچنگ میں مشکلات کا سامناہے، اب تک قاتل کے پکڑے نہ جانے کی اہم وجہ بھی ڈی این اے کا میچ نہ ہونا ہے۔تفتیشی حکام نے کہا کہ ڈی این اے بہتر کرنے کیلئے خصوصی ماہرین کی خدمات لینے پر غور کررہے ہیں۔

    حکام نے مزید بتایا تھا کہ ڈی این اے کے علاوہ دیگر ٹیکنکل شواہدپرکام تیزکردیاگیاہے اور ہیومن انٹیلی جنس سمیت دیگر طریقوں سےکوشش جاری ہے۔اس سے قبل ایس ایس پی سینٹرل نارتھ کراچی میں صارم کے گھر پہنچ گئے، ایس ایس پی سینٹرل نے جائے وقوعہ کا ایک بار پھر دورہ کیا تھا۔پولیس حکام نے اہل خانہ سے ملاقات کی اور کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا، حکام نے بتایا تھا کہ صارم کیس میں تفتیش کےدوران اہم شواہد ملے ہیں، جلد ملزم کوگرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائیں گی۔

    خیال رہے صارم کے قاتل کی تلاش کے لئے تفتیش میں بڑے بریک تھرو کیلئے پولیس کو کیمیائی تجزیہ کی رپورٹ کا انتظار ہیں۔ خصوصی تفتیشی ٹیم نے مرحلہ وار تمام شواہد اکٹھا کرلئے، تفتیش میں پیشرفت فارنزک، کیمیائی تجزِیہ، ڈی این اے رپورٹ کے بعد ہوگی۔کیمیائی تجزیے کی رپورٹ کے بعد پولیس کوحتمی پوسٹمارٹم رپورٹ بھی موصول ہوگی ، شواہد کی فارنزک رپورٹس، حتمی پوسٹمارٹم رپورٹ کو ملا کر جائزہ لیاجائے گا۔پولیس حکام نے کہا کہ فرانزک رپورٹس کی بنیاد پر زیرحراست افراد سے ایک بار پھر پوچھ گچھ ہوگی۔

    یاد رہے 7سالہ صارم قتل کیس میں واقعاتی شواہد اور ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بہت کم مماثلت سامنے آئی تھی اور ٹیم کو ابتدائی پوسٹ مارٹم کے نکات غیر تسلی بخش ہونے کا شبہ ہے۔تحقیقاتی ذرائع نے بتایا تھا کہ میڈیکل لیگل آفیسر کو سوالا نامہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ، سوالنامہ ڈی این اے،کیمیکل ایگزامن رپورٹ آنے کے بعد بھیج دیا جائے گا۔تحقیقاتی ٹیم کو ٹینک سے صارم کی مدرسہ کی ٹوپی اورگیند بھی مل گئی، ٹیم کو ملنے والے اہم شواہد کوصارم کے والدین نےبھی شناخت کرلیا۔ذرائع نے مزید کہا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے ڈاکٹروں کا خصوصی میڈیکل بورڈ بنانے کیلئے اعلیٰ حکام کو مشورہ دیا۔تحقیقاتی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے ڈاکٹرز سے ملاقات کی تھی۔

    واقعے کیسے پیش آیا؟

    کراچی میں نارتھ کراچی کے علاقے میں 11 روز سے لاپتا 7 سالہ بچے صارم کی لاش گھر کے قریب زیرزمین پانی کے ٹینک سے برآمد ہوئی تھی، پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہے کہ بچے خود ٹینک میں گرا یا کسی نے اسے گرایا۔ 7 سالہ صارم 11 روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہوا تھا، پولیس اور اہلخانہ اس کی بازیابی کے لیے کوششیں کررہے تھے۔اہل علاقہ کے مطابق پانی کے وال مین نے بدبو آنے پر بچے کی لاش کی اطلاع یونین کو دی، ننھے صارم کی لاش زیرزمین ٹینک سے نکال لی گئی، یونین نے ٹینک کو گتے سے ڈھکا ہوا تھا اور کوئی احتیاطی تدبیر اختیار نہیں کی تھی، اس سے قبل پولیس نے ٹینک کو چیک کیا تھا تاہم اس وقت لاش کے شواہد نہیں ملے تھے۔اہل علاقہ نے بتایا بچے کی لاش 11 دن بعد ملی ہے لیکن لاش پرانی نہیں لگتی، بچہ جس وقت اغوا ہوا اس وقت بجلی نہیں تھی اور اب بھی بجلی نہیں ہے۔

    ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل کنور آصف کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے، لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل ہوگا اس کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے، اس معاملے میں تحقیقات کررہے کہ واقعہ حادثہ ہے یا بچے کو قتل کیا گیا ہے۔ایس پی نے مزید بتایا کہ بچہ جن کپڑوں میں لاپتہ ہوا تھا انہی کپڑوں اور جوتوں میں ملا ہے، لاش کی حالت اچھی نہیں ہے، جِلد اتر رہی ہے، پوسٹ مارٹم میں ڈاکٹر سے پوچھا ہے کہ لاش کتنی پرانی ہے، جسم پر تشدد کے نشانات ہیں یا نہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد حقائق سامنے آسکیں گے۔

    بچے کی لاش ملنے کے بعد والدین غم سے نڈھال ہیں اور فلیٹس کے مکین بھی افسردہ نظر آئے۔کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرلیے ہیںپولیس کے مطابق تحقیقات کی جارہی ہیں کہ بچہ حادثاتی طور پر ٹینک میں گرا یا کسی نے اسے گرایا،مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔واضح رہے کہ صارم کی گمشدگی کا معاملہ سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آیا تھا جس کے بعد گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بچے کے گھر جاکر والدین سے اظہار یکجہتی بھی کیا تھا۔

  • فیصل آباد میں ڈکیتی کے دوران خاتون سے مبینہ زیادتی

    فیصل آباد میں ڈکیتی کے دوران خاتون سے مبینہ زیادتی

    فیصل آباد کے چک 119 ج ب سمانہ میں ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں نے خاتون سے مبینہ زیادتی کی ہے۔

    باغی تی وی: پولیس کے مطابق 2 ڈاکو رات میں گھر میں گھسےجنہوں نے اسلحے کے زور پر خاتون سے زیادتی کی ۔مدعی مقدمہ کے مطابق خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ڈاکو نقدی اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے۔فیصل آباد پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ 2 دن قبل پیش آیا تھا، متاثرہ خاتون کامیڈیکل کرایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ فیصل آباد میں مسلسل زیادتی کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے گزشتہ روز بھی تھانہ ساہیانوالہ کے علاقہ سالار والا کی رہائشی لڑکی (الف) کانشانہ بنادیا گیا۔ تھانہ ٹھیکریوالہ 67 ج ب میں اوباش ملزم سمیر نے لڑکے (ب ) کوہوس کانشانہ بناڈالا۔

    اس سے قبل 21 اگست کو فیصل آباد کے چک چھ میں محنت کش کے آٹھ سالہ بیٹے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا، گرفتار ملزم وارث علی نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف کرلیا۔ ذرائع نے بتایا کہ چک چھ کے رہائشی آصف کا 8 سالہ بیٹا طیب منگل کے روز لاپتا ہو گیا تھا، تلاش کے باوجود طیب کا کہیں سراغ نہ ملا، اسی دوران علاقہ مکینوں نے بتایا کہ انہوں نے بچے کو اسی علاقے کے رہائشی وارث علی کے ساتھ گاؤں سے باہر جاتے دیکھا تھا۔

  • موٹروے زیادتی کیس،دو ملزمان کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر دلائل طلب

    موٹروے زیادتی کیس،دو ملزمان کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر دلائل طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں موٹروے زیادتی کیس میں دو ملزمان کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس پر سماعت کی۔ عدالت نے وکلاء سے حتمی دلائل طلب کر لیے، ملزم عابد حسین ملہی اور شفقت بگا نے اپنی سزائے موت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،سماعت کے دوران سرکاری وکیل پیش نہیں ہوئے،

    پولیس نے ملزموں کے خلاف 9 ستمبر 2020 کو مقدمہ درج کیا تھا،انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے دونوں ملزموں کو خاتون کی بے حرمتی کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ اپیل میں سزائے موت کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے.

    20 مارچ 2021 کو انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نےموٹروے کیس کا فیصلہ سنایا تھاعدالت نے ملزمان کو سزائے موت سنائی ،عدالت نےعابد ملہی اورشفقت بگا کوسزائے موت سنا دی ،انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین نے فیصلہ لکھوایا تھا،ملزم عابدملہی اورشفقت بگاکو376/2 کے تحت سزائےموت سنائی گئی دونوں ملزمان کودفعہ365اےمیں عمرقیدکی سزاسنائی گئی ، دونوں ملزمان کودفعہ392میں 14،14سال قیدکی سزاسنائی گئی دونوں ملزمان کو دفعہ 440 کے تحت 5،5سال قیدکی سزاسنائی گئی.

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹر وے کے قریب خاتون سے اجتماعی زیادتی،سراج الحق کا ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    درندہ صفت مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ دردانہ صدیقی

    موٹروے زیادتی کیس،سی سی پی او کے بیان پر کابینہ کو معافی مانگنی چاہئے تھی،عدالت،ریکارڈ طلب

    موٹرے پر سفر ذرا احتیاط سے، سینیٹر کی گاڑی پر حملہ،پولیس کا روایتی بیان،ملزم فرار

    ریپ کے مجرموں کو نامرد بنانے کی بجائے کونسی سزا دینی چاہئے؟ انصار عباسی کی تجویز

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    موٹروے زیادتی کیس،گجرپورہ سے تفتیش تبدیل ،مرکزی ملزم کا شناختی کارڈ بلاک

    واضح رہے کہ  لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔ دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون لاہور سے گوجرانوالا جارہی تھی، کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔

    موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی اور موٹر وے پولیس بھی نہیں آئی۔ رشتے داروں کے پہنچنے سے پہلے ہی دو افراد نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزمان خاتون سے ایک لاکھ روپے نقد، سونے کے زیورات اور اے ٹی ایم کارڈز بھی لے گئے

  • اسلام آباد:  ٹریل تھری زیادتی کیس کا نامزد ملزم گرفتار

    اسلام آباد: ٹریل تھری زیادتی کیس کا نامزد ملزم گرفتار

    اسلام آباد: وفاقی پولیس نے ٹریل تھری زیادتی کیس کے نامزد ملزم کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی: ترجمان پولیس کے مطابق تکنیکی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے ملزم تک رسائی حاصل کی، آئی سی سی پی او نے تفتیش کو میرٹ پر جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایات کی ہے۔

    قبل ازیں اسلام آ باد پولیس نے کہا تھا کہ ٹریل تھری واقعے میں متاثرہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کے شواہد نہیں ملے،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا تھا کہ ٹریل تھری جنسی زیادتی وقوعہ کی تفتیش میرٹ پر عمل میں لائی جارہی ہے۔ مدعیہ کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق زیادتی کے شواہد نہیں پائے گئے،مدعیہ اور ملزم کے مابین دوستی تھی لڑکی پولیس سے تعاون کرنے سے گریزاں ہے اور ملزم کی تفصیلات مہیا نہیں کررہی ۔


    پولیس کے مطابق مارگلہ ٹریلز محفوظ ہیں جن کی ڈرون سے نگرانی اور مؤثر گشت کو یقینی بنایا جاتا ہے وقوعہ کی جگہ کا تعین کیا جارہا ہے۔ پولیس مقدمے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش عمل میں لائے گی۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل وفاقی دارالحکومت میں نعمان نامی شخص نے شیخوپورہ کی جواں سالہ لڑکی کو ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر ٹریل تھری پر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا ایف ایس سی کی طالبہ موبائل میسج پرراولپنڈی پہنچی تھی جہاں نعمان نامی لڑکے نے محکمہ تعلیم میں ملازمت کے لیے 50 ہزار روپے مانگے۔

    متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا تھا کہ ملزم 30 ہزار روپے وصول کرکے ملازمت دلوانے کے لیے صاحب سے ملوانے کا کہہ کر ٹریل تھری لایا جہاں ملزم نے ٹریل تھری کے جنگل میں گن پوائنٹ پر زیادتی کی اور بعد میں ٹریل تھری سے راولپنڈی ٹنچ اسٹاپ پر چھوڑ دیا۔

    زیادتی کا شکار بننے والی لڑکی کے مطابق ملزم نے کسی کو بتانے کی صورت میں قتل کی دھمکی دی ہے، تاہم خوف کی وجہ سے وہ خاموش رہی مگر گھر والوں کو سب بتا دیا۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کے ورثا نے تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کروا دیا ہے، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔

  • صوابی، عریفہ نور کے قتل کا معمہ حل، قاتل گرفتار، آلہ قتل اور خون آلود کپڑے برآمد

    صوابی، عریفہ نور کے قتل کا معمہ حل، قاتل گرفتار، آلہ قتل اور خون آلود کپڑے برآمد

    ضلع صوابی کے علاقے سلیم خان میں گزشتہ شب پانچ سالہ بچی عریفہ نور شام کو گھر سے نکل کر واپس نہ آئی، جبکہ بعد میں اس کی قتل شدہ لاش قریبی حجرے سے برآمد ہوئی۔
    ایس پی انوسٹی گیشن صوابی خان خیل کی ڈی ایس پی صوابی جواد خان اور ایس ایچ او صوابی عجب درانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ پر ڈی پی او صوابی کیپٹن ریٹائرڈ نجم الحسنین لیاقت نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر جا کر ایس پی انوسٹی گیشن صوابی اور ڈی ایس پی صوابی کو ملزم کو فوری طور پر تلاش کر کے گرفتار کرنے کا ٹاسک دے دیا۔ تفتیش ٹیم نے قریبی مکانات کی پروفائلنگ کرتے ہوئے کئی مشتبہ افراد حراست میں لئے جن کے انکشاف پر چند ہی گھنٹوں میں ملزم امن ولد یونس سکنہ سلیم خان کگلیج بانڈہ کا سراغ لگا کر گرفتار کرلیا گیا۔
    دوران تفتیش ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بچی کو بے توقیری کی نیت سے لے قریبی حجرے لے گیا تا ہم بچی کی چیخ و پکار پر اسے چھری کے وار کر کے قتل کر دیا۔ تفتیشی ٹیم نے ملزم سے آلہ قتل چھری، ملزم کے خون آلود کپڑے اور دیگر شواہد حاصل کرلئے ہیں جبکہ گواہان کے بیانات بھی قلم بند کئے جا رہے ہیں۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ اہلیان علاقہ کی جانب سے پولیس کی اس کاوش کو کافی سراہا جا رہا ہے۔

  • راولپنڈی میں 9 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل

    راولپنڈی میں 9 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل

    راولپنڈی : 9 سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : راولپنڈی کے علاقے چک بیلی میں 9 سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کردیا گی پولیس نے لاش اسپتال منتقل کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

    اسلحہ کے زور پر اغواء ہونے والا 10 سالہ بچہ بازیاب

    پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں چند مشکوک افراد کی نشاندہی کی گئی ہےدوسری جانب علاقہ مکین نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ حالیہ دنوں میں راولپنڈی میں بچیوں کے ساتھ ریپ کے متعدد کیسز ہوچکے ہیں۔

    چارسدہ،چار سالہ مریم کی گلا کٹی لاش مل گئی

    قبل ازیں عید کے ایام میں خیبر پختونخواہ کے علاقے چارسدہ میں چار سالہ معصوم بچی کو ذبح کر دیا گیا تھا مریم چارسدہ کے علاقے پڑانگ کی رہائشی تھی، گھر والوں نے پولیس کو اطلاع دی، بچی کی تلاش شروع کی گئی تو بچی کی لاش رات کو جندی دریا کے کنارے ملی، وحشی درندے نے اس معصوم کلی کو ذبح کرکے قتل کیا تھا-

    جامن توڑنے پر 4 سالہ بچی کو قتل کرنیوالے 2 ملزمان گرفتار

  • زیادتی کیس میں کرکٹر یاسر شاہ کے دوست کی ضمانت منظور

    زیادتی کیس میں کرکٹر یاسر شاہ کے دوست کی ضمانت منظور

    اسلام آباد: عدالت نے زیادتی کیس میں کرکٹر یاسر شاہ کے دوست فرحان الدین کی ضمانت منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے لڑکی سے زیادتی کیس میں کرکٹر یاسر شاہ کے دوست فرحان الدین کی عبوری ضمانت منظور کرلی، اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج عطاء ربانی نے 5 جنوری تک ایک لاکھ روپے کے عوض ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جب کہ عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرکے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا ہے۔

    کرکٹر یاسر شاہ 14 سالہ لڑکی کے ساتھ ریپ کیس میں نامزد

    واضح رہے کہ کرکٹر یاسر شاہ کے دوست فرحان الدین پر لڑکی سے زیادتی کا مقدمہ درج ہے جب کہ یاشر شاہ مقدمہ میں جرم میں معاونت کرنے پر شامل ہیں مقدمہ میں 14 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا انکشاف ہوا تھا مقدمہ متاثرہ لڑکی کے ماموں کی مدعیت میں درج کیا گیا لڑکی کا کہنا تھا یاسر شاہ اور اس کا دوست فرحان مجھ سے واٹس ایپ پر بات کرتا تھا،دونوں نے مجھے ٹریپ کیا 14 اگست کو جب ٹیوشن جارہی تھی تو فرحان نے اسے ٹیکسی میں بٹھایااورایف الیون فلیٹ پرلےگیا، فلیٹ پرفرحان نے دست درازی شروع کی ،مزاحمت کرنے پرمیرے ساتھ گن پوائنٹ پرجنسی زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی اور مجھے دھمکی دی کہ کسی سے ذکرکیاتو ویڈیو وائرل کردوں گا اورجان سے بھی مار دوں گا۔

    فرحان نے یاسر شاہ سے بھی اسی وقت دھمکی دلوائی،یاسرشاہ نے کہا کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹرہے شکایت کی صورت میں کسی بھی مقدمے میں پھنسا دے گا،فرحان نے بعد میں بھی بلیک میل کیا اور زیادتی کانشانہ بنایا،فرحان یاسرشاہ سے فون پربات کرواتااور اس سے بھی تعلقات استوار کرنے پر مجبورکرتا 11ستمبرکو واٹس ایپ پر یاسر شاہ کو سارے معاملے کےبارے میں بتایا تو مذاق اڑایا اور کہا کہ مجھے کمسن لڑکیاں پسند ہیں یاسر شاہ نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور کہا وہ بہت بااثرہے،اعلی افسران سے دوستی ہے۔

    بورڈ کی فرنچائزز کو سالانہ فیس کیلئے دوسری بار یاد دہانی

    جب پولیس کو درخواست دینے کا کہا تویاسر شاہ نے کہا کہ جوہونا تھا ہوگیا ،تمہارے نام پرفلیٹ کرادوں گااور18 سال تک تمہارے اخراجات بھی برداشت کروں گا ،فرحان سے نکاح کرلو ور وہ فرحان کے ذریعے بھی مجھے دھمکیاں دیتا رہا جس کی آڈیو بھی موجود ہیں چند دن قبل مجھے یاسر شاہ نے ایف سکس کے سیکنڈ کپ کیفے پر فرحان سے ملنے کو کہا اور کہا کہ وہ کراچی میں ہے جہاں ویسٹ انڈیز کے میچز ہو رہے ہیں تم فرحان سے معاملات طے کرو فرحان نے وہاں بھی میرے ایک جاننے والے صحافی کے سامنے دھمکیاں دیں کہ اگر کسی کو بھی بتایا تو یاسر شاہ کا پیغام ہے کہ جان سے جاو گی اب یاسر شاہ مجھے 22 دسمبر کو ملنے کا کہہ رہا ہے کہ وہ اسلام آباد آئے گا تم فرح کو لے کر میرے فلیٹ میں آو فرح مجھے خوش کرے گی تو میں سارے معاملات طے کروں گا بصورت دیگر جو کرنا ہے کر لو تنگ آ کر تھانہ آئی ہوں –

    سیکورٹی کا مسئلہ حل، نیوزی لینڈ ٹیم کا دورہ پاکستان کا اعلان

    لڑکی کے مطابق یاسر شاہ اور فرحان باہمی ملی بھگت سے اپنے شیش-ہ سینٹر پر نو عمر اور معصوم بچیوں کو پھنساتے ہیں جنسی زیادتی کر کے ویڈیو بناتے ہیں اور پھر بلیک میل کر کے مزید لڑکیاں پھنسانے کا گندا کم کرتے ہیں

    متاثرہ لڑکی کے ماموں کا کہنا تھا کہ مجھے اور میری بھانجی اور گھر والوں کو دونوں ملزمان سے جان کا خطرہ ہے ان دونوں کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کر کے فوری کاروائی کی جائے میری بھانجی ہر وقت روتی رہتی ہے کہتی ہے کہ میں میڈیا کے سامنے ساری بات بتا کر خود کشی کر لوں گی انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں قانونی تحفظ کے ساتھ سخت کاروائی عمل میں لائی جائے-

    شاہد آفریدی اور شعیب اختر سمیت دنیا بھر کے ریٹائرڈ کھلاڑی کرکٹ میں واپسی کیلئے تیار