Baaghi TV

Tag: زیادتی

  • لاہور میں خواجہ سرا کے ساتھ اجتماعی زیادتی،مقدمہ درج

    لاہور میں خواجہ سرا کے ساتھ اجتماعی زیادتی،مقدمہ درج

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے،خواجہ سرا کو تقریب کےلیے بلا کر چھ افراد نے بدفعلی کر ڈالی

    واقعہ تھانہ گڑھی شاہو کی حدود میں پیش آیا، پولیس نے خواجہ سرا کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ہے، خواجہ سرا کے مطابق ملزمان نے اسلحہ کے زور پر جنسی زیادتی کی،خواجہ سرا عمران عرف نور نے 3 نامزد اور 3 نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ گڑھی شاہو میں مقدمہ درج کروایا ہے،نامزد ملزمان میں جہانزیب،غلام حیدر اور عزیز شامل ہیں، درج ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے تقریب کا کہہ کر بلایا اور مجھے ایک کوارٹر میں لے گئے جہاں دیگر افراد بھی موجود تھے، ملزمان نے ملکر اجتماعی زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے ،پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی ہے

    لاہور میں خواجہ سرا کمیونٹی کو عدم تحفظ کا سامنا ہے، جس نے ان کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، شہر کے مختلف علاقوں میں خواجہ سرا افراد کو ہراساں کرنے، جسمانی تشدد اور دیگر نوعیت کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں خواجہ سراوں کے خلاف ہونے والے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں روزمرہ کی زندگی میں خوف کا سامنا ہے، کئی خواجہ سرا افراد نے بتایا کہ انہیں بھیک مانگنے یا کارکردگی دکھانے کے دوران ہراساں کیا جاتا ہے۔حقوق انسانی کے کارکنوں نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواجہ سراوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔ کمیونٹی کے افراد کو نہ صرف قانونی تحفظ کی ضرورت ہے، بلکہ معاشرتی قبولیت بھی حاصل ہونی چاہیے۔

    میہڑ:خواجہ سرا کے گھر سے چوری سرچ آپریشن کہ دوران پولیس پر فائرنگ

    خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے لئے مفت قانونی اقدامات

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

  • لاہور ہائیکورٹ:لڑکی کے ساتھ زیادتی و ویڈیو بنانے والے ملزم کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ:لڑکی کے ساتھ زیادتی و ویڈیو بنانے والے ملزم کی اپیل خارج

    لڑکی سے زیادتی اور ویڈیو بنانے والے ملزم کی سز ا کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ نے خارج کردی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ اورجسٹس امجد رفیق نے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ جاری کردیا، عدالت نے گھناؤنے کام کے مجرم عبد الباسط کی عمر قید کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی، تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ملزم کی اس حرکت کومعصوم غطلی نہیں سمجھا جاسکتا، پراسکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی، اس سےقبل مجرم ڈکیتی اورکریمنل کیسز میں ملوث رہا ہے، مجرم بچپن سے متاثرہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا، میڈیکل کرنےوالی لیڈی ڈاکٹرنے بتایا کہ لڑکی کے ساتھ ریپ ہوا، مجرم نے متاثرہ لڑکی کی ماں سے تعلق بنایا، متاثرہ لڑکی کو نشہ آور چیز دیکر ریپ کیا اور ویڈیو بنائی، مجرم بار بارمتاثرہ لڑکی کونازیباویڈیو لیک کرنےکی دھمکی دیتا، مجرم بار بار متاثرہ لڑکی سے زیادتی کرتا رہا، متاثرہ لڑکی کی طبعیت خراب ہونے پر نشتراسپتال لایا گیا، اسپتال میں لڑکی نے اپنے والدین کو واقعے سے متعلق بتایا، مجرم کے خلاف ملتان میں 2018 میں مقدمہ درج کیا گیا، مجرم کو ٹرائل کورٹ نے 2022 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی

    دفتر میں خاتون ساتھی کے ساتھ بداخلاقی،ملزم کو دس برس قید کی سزا
    دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت نے دفتر میں کام کرنے والی ساتھی کے ساتھ بداخلاقی کے جرم میں ملزم کو دس سال قیدکی سزا سنائی ہے، سیشن عدالت کے جج رفاقت علی قمر نے فیصلہ سنایا عدالت نے ملزم کو دس سال قید کے ساتھ پچاس ہزار جرمانے کی بھی سز اسنائی،ملزم محمد رمضان پر الزام تھا کہ اس نے اپنی کولیگ کے ساتھ دفتر میں زبردستی بد اخلاقی کی،واقعہ لاہور کے تھانہ جنوبی چھاؤنی کے علاقے میں پیش آیا تھا، پولیس نے متاثرہ خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کے ملزم کو گرفتار کیا تھا،دوران سماعت متاثرہ خاتون کے وکیل سید ابرار حسین نے عدالت میں دلائل پیش کئے اور ملزم کے خلاف گواہان کو پیش کیا ، سرکاری وکیل اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عائشہ طفیل نے بھی ملزم کے خلاف اہم شہادتیں پیش کیں،عدالت نے شواہد اور گواہان کی روشنی میں ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے10سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

    لاہور: نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیرمصدقہ خبر کی تحقیقات، سوشل میڈیا پیج کا پردہ فاش

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • پنجاب کالج معاملہ،جھوٹی خبریں پھیلانے والے 4ملزمان گرفتار

    پنجاب کالج معاملہ،جھوٹی خبریں پھیلانے والے 4ملزمان گرفتار

    پنجاب کالج معاملہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    واقعہ سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنادی گئی ہے،ٹیم پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل میں ہلاک ہونے والی طالبہ کے واقعے پر جھوٹی خبروں کی تحقیقات بھی کریگی،کمیٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کی قیادت میں تمام اکاونٹس کی تحقیقات چھان بین کریگی، ڈائریکٹر سائبرآپریشن ایف آئی اے لاہوربھی اس کمیٹی کا حصہ ہونگے،ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ چارملزمان جھوٹی خبریں پھیلانے کےالزام میں گرفتارکئے گئے ہیں،ایک ملزم سرکاری ملازم ہے ، انکوپارلیمنٹ سے گرفتارکیا گیا ہے، اڑتیس ملزمان کیخلاف مقدمہ درج ہوچکا ہے،لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    پنجاب کالج ریپ کیس کا ڈراپ سین،پنجاب کالج لاہور میں ریپ کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ جعلی واقعہ بنا کر جعلی اکاؤنٹس سے پھیلایا گیا اور طلباء میں شرپسند عناصر کو گھسا کر اشتعال انگیزی کی گئی۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پر آ گئی۔

    چیف سیکرٹری پنجاب ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، سیکرٹری داخلہ ،سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ،سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن نے رپورٹ مرتب کی،کمیٹی نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش کر دی،کمیٹی رپورٹ کے مطابق معاملے کو سوشل میڈیا پر پوسٹوں کے ذریعے اچھالا گیا، سوشل میڈیا کی پوسٹوں میں کوئی ٹھوس شواہد نہیں تھے، ہرپوسٹ سنی سنائی باتوں اور افواہوں پر مبنی تھی ، اطلاع ملنے پر پولیس نےکالج انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا، پولیس نے اس بیسمنٹ کا معائنہ بھی کیا جس کا مبینہ واقعے میں ذکر کیا گیا، پولیس نے سی سی ٹی وی ویڈیوز اور دیگر ریکارڈنگ دیکھیں، پولیس نے سی سی ٹی وی ویڈیوز اور دیگر ریکارڈنگ تحویل میں بھی لیں،تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم گارڈ چھٹی لے کرگیا ہوا ہے،کالج میں اس کی چھٹی کی درخواست بھی موجود تھی، من گھڑت اسٹوری کے لیے مخصوص طلبہ کا ویڈیو پیغام باربار استعمال کیا گیا، اس لڑکی نےکمیٹی کو بتایا کہ وہ کیمپس 10 کی اسٹوڈنٹ ہی نہیں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے معاملات کو ہینڈل کیا، بے بنیاد خبر پھیلانے کا مقصد امن و امان کی صورتحال خراب کرنا تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالب علموں کو اپنے معاملات مثبت انداز میں لینے کی ضرورت ہے،طالب علموں کو منفی اور مثبت سرگرمیوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے،طالب علموں کو فیک نیوز فلٹر کرنے میں رہنمائی دینے کی ضرورت ہے،والدین اپنے بچوں کا استحصال نہ ہونے دیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کی ضرورت ہے،کمیٹی نے سوشل میڈیا پر مبینہ واقعے پر نفرت انگیز معاملے کی مزید تفتیش کی سفارش کر دی،رپورٹ میں کہا گیا کہ انفلوئنسرز اور وی لاگرز کو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے سے روکنے کی ضرورت ہے، فیک نیوز پھیلانے کیلئے جعلی سوشل میڈیا اکائونٹس استعنال کیے گئے،فیک نیوز کے ذریعے معصوم طالب علموں کو نشانہ بنایا گیا،اس واقعے سے فیک نیوز کے ذریعے اشتعال پھیلانا بھی ثابت ہوتا ہے، حکومت کو متاثرہ خاندان کی عزت کی بحالی کیلئے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ پر چیف سیکرٹری پنجاب سمیت تمام افسران کے دستخط موجود ہیں،کمیٹی نے 15 اور 16 اکتوبر کو ریکارڈ کیے گئے 16 افراد کے بیانات کو اہم قرار دیا ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران، اے ایس پی گلبرگ شاہ رخ خان، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر شاید وحید کے بیانات ریکارڈ کیے گئے،جنرل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین اور ڈی ایم ایس ڈاکٹر وقاص یاسین ، ایور کیئر ہسپتال کے کرنل ریٹائرڈ صابر حسین بھٹی اور اتفاق ہسپتال کے واصف بیانات ریکارڈ کیے گئے،کمیٹی نے جنرل ہسپتال کے عملے سے رواں ماہ جنسی زیادتی سے متعلق آنے والے مریضوں سے متعلق بھی تفتیش کی

    دوسری جانب پنجاب کالج مبینہ زیادتی واقعہ پر احتجاج کی تحقیقات کے لئےبنائی گئی جے آئی ٹی نے ڈس انفارمیشن پھیلانے والوں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے،محکمہ داخلہ کی جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ہوا، اجلاس میں پولیس اور حساس اداروں کے نمائندے شریک ہوئے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں شیئر کرنے والوں کا ڈیٹا اکھٹا کیا جائے گا اور اس ڈیٹا کی روشنی میں ویڈیو اور پوسٹیں شیئر کرنے والوں کو جے آئی ٹی میں بلایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں طالبہ سے متعلق وائرل خبرکی تحقیقات کیلئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی سربراہی میں 6 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی،جے آئی ٹی میں تین پولیس اور تین حساس اداروں کے نمائندے شامل ہیں جبکہ جے آئی ٹی تھانہ ڈیفنس اے میں درج مقدمے کی تفتیش کر رہی ہے۔

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • ہر بچہ کہہ رہا تھا  زیادتی ہوئی  مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    لاہور ہائیکورٹ،تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی

    آئی جی پنجاب عثمان انور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ لا افسر صاحب آپ بتائیں اس میں کیا کیا ، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پوسٹ میں کہا گیا نجی کالج کی لڑکی کے ساتھ ریپ ہوا ،مختلف گروپس میں یہ خبر فوری پھیلی،کیمپس 10 کی بچیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کی جب بچیوں کو محفوظ کرنے کے لیے اوپر کلاسز میں روکا گیا تو پھر ایک نئی بات شروع ہو گئی ،یہ واقع نو اور دس اکتوبر کا ہے ، ایک بچی گھر میں گری اور اسکو جنرل ہسپتال میں لایا گیا ،گیارہ اکتوبر کو یہ بچی ڈسچارج ہوتی ہے اور گھر آتی ہے ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی پنجاب کہاں ہیں ؟ ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا کہ وہ عدالت سے باہر ہیں، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ وہ عدالت سے باہر کیوں ہیں ؟

    آئی جی پنجاب عدالت میں پہنچ گئے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ عدالت کے وقت آپ باہر کیوں تھے؟ویڈیوز کو روکنے کا کام آدھے گھنٹے کا تھا، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی اتھارٹی نہیں ہے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ کیا آپ کسی اتھارٹی کے پاس گئے؟ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم پی ٹی اے کے پاس گئے،یہ ویڈیوز 13, 14 اکتوبر کو وائرل ہونا شروع ہوئیں، سی ٹی ڈی نے 114 اکاؤنٹس کی شناخت کی، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ کو فوراً ایف آئی اے سے رابطہ کرنا تھا، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے فورا ایف آئی اے سے رابطہ کیا،پولیس نے 700 سے زائد اکاؤنٹس کی شناخت کی، انگلینڈ میں بھی اپلوڈ روکنے کی طاقت نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ وہاں کی بات مت کریں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے وزارت داخلہ سے بات کی، انہیں مراسلے لکھے، 700 سے زائد اکاؤنٹس پر یہ ویڈیوز چل رہی تھیں،ان کو بند کرنے کا اختیار پی ٹی اے کے پاس ہے،ہمارے پاس جتنی اتھارٹی ہے، ہم اس پر کام کرنا شروع ہو گئے تھے،ہم نے کچھ اکاؤنٹس کی شناخت کی، وہ ابھی تک ڈیلیٹ نہیں ہوئے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر ارادہ ہو تو سارے کام ہوتے ہیں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمارا کیوں ارادہ نہیں تھا،

    ہم جسے گرفتار کرتے ہیں وہ اگلے دن ہیرو بن جاتا ہے،سرکاری وکیل کی پنجاب کالج بارے فیک نیوز دینے والے ملزم کی رہائی پر مایوسی
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا حکومت پنجاب نے اس حوالے سے کچھ کیا ؟ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ اپلوڈ ہوئی کہ نجی کالج میں ایک طالبہ سے مبینہ زیادتی کا واقعہ ہوا ہے،علاقے کے اے ایس پی کالج پرنسپل سے ملے، سی سی ٹی وی چیک کیا، ہر بچہ کہہ رہا تھا کہ زیادتی ہوئی ہے مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے،دوسرے کیمپس کے بچے بھی اس کیمپس پہنچ گئے،ایک منظم طریقے سے یہ سب کچھ ہوا،صرف یہ ایک بچی ہسپتال نہیں آرہی تھی تو کسی نے کہا کہا کہ ہمیں زیادتی کا شکار بچی مل گئی ہے،صرف اس بنا پر کہ بچی کالج نہیں آ رہی اسے زیادتی کی افواہ سے جوڑ دیا گیا ہے، اگر آپ کہیں گے تو میں آپ کی اس بچی سے ملاقات کروا سکتا ہوں،ایک اور صاحب نے جو خود کو وکیل کہتے ہیں ان بچیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ویڈیو بنائی، اس وکیل کو مجسٹریٹ کی جانب سے مقدمے سے بری کر دیا گیا، مقدمے سے بری کرنے کا نیا رواج چل پڑا ہے،ہم جسے گرفتار کرتے ہیں وہ اگلے دن ہیرو بن جاتا ہے، ہم شاید اتوار کے دن تعین نہیں کرسکے کہ اتوار کو کیا ہونے جا رہا ہے، ہمارے حوالے سے کچھ ناکامیاں ضرور ہیں۔

    اس وقت جو بچے سڑکوں پر ہیں کیا وہ اس اسٹیٹ آف مائنڈ میں ہیں کہ دوبارہ کالج آسکیں،عدالت
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ایک منظم طریقے سے ہوا مگر جب یہ ہوا موقع پرستوں نے فائدہ اٹھایا، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں ہراسانی کی کتنی شکایات ہیں؟ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ 14 اکتوبر کو ایک بچی نے ہراسانی کی درخواست دی،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ اس شخص کے خلاف کتنی شکایات ہیں؟رجسٹرار لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے جواب دیا کہ اس شخص کے حوالے سے ایک ہی شکایت ہوئی ہے، ہم نے مذکورہ شخص کو معطل کر دیا ہے، ہماری ہراسمنٹ کمیٹی بہت عمدہ طریقے سے کام کر رہی ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سوال کیا کہ اس شخص کے پاس طالبہ کا نمبر کیسے آیا؟رجسٹرار نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی یہ ہے کہ وہ نمبر مذکورہ شخص کا نہیں تھا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں، کوئی ڈاکومنٹ دیں،رجسٹرار یونیورسٹی نے کہا کہ ہم اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں گے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ آج بھی کوئی کہتا ہے کہ اس نے یہ واقعہ ہوتے دیکھا ہے تو اس عدالت میں پیش ہو، جو نقصان ہوا ہے کالج کی بلڈنگ کا اس کو کیا والدین پورا کریں گے، اگر کسی بات کا غصہ ہے تو سب سے پہلے اپنا گھر توڑیں،ایک فیک نیوز پر اگر ایسا ہوا تو انتہائی افسوس ناک ہے، بچوں کے مستقبل کا سوچیں، بچوں کا مستقبل خرابی کی طرف جارہا ہے، بچوں کی تعلیم کا بہت بڑا نقصان ہورہا ہے،ایک دن چھٹی ہو جائے تو تعلیمی شیڈول میں اس کو ریکور نہیں کیا جاسکتا،اس وقت جو بچے سڑکوں پر ہیں کیا وہ اس اسٹیٹ آف مائنڈ میں ہیں کہ دوبارہ کالج آسکیں،ایسے لگتا ہے کہ ایک ماہ تک بچے کالجز کا رخ نہیں کریں گے، کیا والدین دوبارہ بچوں کو کالجز بھیج پائیں گے؟ بچوں کے مستقبل کا سوچیں، فوری ایکشن لیں جہاں طالبات موجود ہیں وہاں مردوں کو موجودگی ممنوع کریں،والدین کا بھروسہ دوبارہ بحال کیجیے۔

    ڈی جی ایف آئی اے پنجاب یونیورسٹی خودکشی، پنجاب کالج زیادتی اور لاہور کالج ہراسگی شکایت کیس کی تحقیقات کرینگے،عدالت
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ یہ کیس بہت اہم ہے اس پر فل بنچ بنا رہے ہیں ،فل بنچ منگل سے کارروائی سماعت کریگا،سرکاری وکیل نے کہا کہ ہمیں پیر کا دن دے دیں تاکہ مکمل رپورٹ پیش کی جا سکے.عدالت نے ڈجی ایف آئی اے کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی،ڈی جی ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کرینگے،عدالت نے کہا کہ یہ کالج انتظامیہ کا فیلئر ہے،لڑکی کا بیان لیا جائے ،آگر یہ علم ہوا کہ لڑکی کا بیان لینے کیلئےدباؤ ڈالا گیا تو پھر نتائج کیلئے تیار رہیں. ڈی جی ایف آئی اے پنجاب یونیورسٹی خودکشی پنجاب کالج زیادتی اور لاہور کالج ہراسگی شکایت کیس کی تحقیقات کرینگے۔یہ دیکھنا ہے کہ آخر یہ بندہ کون ہے کہاں سے آیا، لاہور ہائیکورٹ کا فل بنچ ان حالیہ واقعات اور سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلنے کے حوالے سماعت کرے گا،منگل کے روز فل بنچ ان کیسز پر سماعت کرے گا، عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    لاہور ہائیکورٹ ، لاہور کے تعلیمی اداروں میں حالیہ واقعات ،احتجاج سے متعلق اعلی سطح تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری اعظم بٹ کی درخواست پر سماعت کی، لاہور ہائیکورٹ نے کل آئی جی پنجاب کو رپورٹ سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے رجسٹرار لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی رجسٹرار کو ذاتی حیثیت میں کل طلب کر لیا، دوران سماعت چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایک فل بنچ میں ایک کیس چل رہا ہے، ہم نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ نجی کالج واقعے کے حوالے سے رپورٹ جمع کرائیں، اس بچی کی زندگی تباہ کر دی، چاہے اس کے ساتھ واقعہ ہوا ہے یا نہیں،آئی جی پنجاب عدالت کو بتائیں کہ ایسی ویڈیوز اور تصاویر پھیلنے کے بعد پولیس نے ایکشن کیوں نہیں لیا، اینٹی ریپ ایکٹ تو متاثرہ بچی کا نام پبلشر کرنے کی اجازت نہیں دیتا،کیا آئی جی پنجاب اتنا بے خبر تھا، اس نے تصاویر اور ویڈیو وائرل ہونے دیں، آئی جی پنجاب سمیت دیگر تمام افسران ریکارڈ سمیت کل عدالت میں پیش ہوں، آئی جی پنجاب پنجاب یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کے حوالے سے بھی رپورٹ کریں، ہمیں اس واقعہ کا ہاتھ سے لکھا ہوا روزنامچہ چاہیے، کمپیوٹرائزڈ روزنامچہ نہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے فلور پر کہا کہ لاہور کالج کی وائس چانسلر نے مجھے کہا کہ یونیورسٹی میں ہراسگی کے خلاف ہم کچھ نہیں کر پا رہے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ یہ کس چیز کی شکایت ہے؟ درخواستگزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ ہراسگی کی شکایت ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے درخواستگزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس قسم کی شکایات ہیں کس طرح کی ہراسگی؟ وکیل درخواستگزار نے کہا کہ میڈیا نے ہراسگی رپورٹ کیا ہے، مجھ تک یہی لفظ پہنچا ہے، پنجاب یونیورسٹی میں ایک طالبہ کے خودکشی کا واقعہ سامنے آیا، پنجاب یونیورسٹی کے واقعے کی تحقیقات تو ہونی چاہیے

    واضح رہے کہ لاہورہائیکورٹ میں پنجاب میں طلبا احتجاج اور مبینہ زیادتی واقعات بارے تحقیقات بارے درخواست دائر کی گئی ہے

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس کے بارے میں سوشل میڈیا پر من گھڑت افواہ پھیلانے والے کوگرفتار کر لیا گیا ہے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایکس پر پوسٹ میں کہا ہے کہ یہ لڑکا جس نے صریح جھوٹ کا پرچار کیا، تشدد کو ہوا دیا اور طلباء کو اکسایا، گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وعدے کے مطابق، میں کسی بھی ایسے شخص کو نہیں بخشوں گی جو اس سازش اور جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ تھا جس نے ایک معصوم لڑکی اور اس کے خاندان کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس نے عصمت دری کا الزام لگایا ہے جو کبھی نہیں ہوئی تھی،

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ملزم کی تصویر بھی شیئر کی، ملزم پی ٹی آئی کا رکن ہے اور اسکی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ تصاویر بھی ہیں،مریم نواز نے وہ تصویر بھی شیئر کی ہے

    قبل ازیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دہشتگرد جماعت ہے، پنجاب کالج میں کوئی واقعہ نہیں ہوا، کہانی گھڑی گئی جس کا وجود ہی نہیں،طلبا کو سازش کے ذریعے استعمال کیا، انتشار کی کال کی ناکامی کے بعد گھٹیا منصوبہ بنایا گیا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں ماں بھی ہوں اور صوبے کی چیف ایگزیکٹو بھی ہوں، خواتین کی آبرو کی حفاظت میری ذمہ داری ہے،بچی کی والدہ سے بات ہوئی ہے وہ شدید صدمے میں ہیں اور والدہ نے کہا کہ اس کی چار بییٹیاں باقی ہیں جن کی شادی ہونی ہیں میں غریب ہوں مجھے کچھ نہیں چاہیے جنہوں ںے یہ کہانی گھڑی ہے انہیں ایکسپوز کریں اور سزا دلوائیں گے،تحریک انصاف ایک دہشتگرد جماعت ہے اور نجی کالج میں مبینہ زیادتی والا واقعہ گھڑنے کے پیچھے تحریک انصاف ہے۔

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

  • کالج میں مبینہ زیادتی واقعہ گھڑنے کے پیچھے تحریک انصاف ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    کالج میں مبینہ زیادتی واقعہ گھڑنے کے پیچھے تحریک انصاف ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ لاہور کے نجی کالج میں طالبہ سے زیادتی کا جھوٹا کیس بنایا گیا، واقعہ وائرل ہونے پر ہم نے تحقیقات کیں، جاننے میں کئی دن لگے اور حتمی تحقیقات کے بعد اعلان کرتی ہوں کہ بچی سے زیادتی نہیں ہوئی۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ آج انتہائی اہم ایشو پر پوری قوم سے مخاطب ہوں، پچھلے کچھ دنوں سے سامنے آنے والے واقعے کے مکمل حقائق جان کر سامنے آئی ہوں، وہ واقعہ مکمل جھوٹ پر مبنی تھا، بطور ماں میرے لئے یہ واقعہ بہت اہم ہے ، بطور وزیراعلی یہ میری ذمہ داری ہے،پولیس کو رپورٹ ملی کہ ایک نجی کالج میں ریپ کا واقعہ ہوا ہے، سکیورٹی گارڈ پر ریپ کا الزام لگا، ہم اُس دن سے آج تک ریپ کا شکار لڑکی کو تلاش کر رہے ہیں،10 اکتوبر کو واقعہ رونما ہونے کا کہا گیا، ایک لڑکی کا نام سامنے آیا جو 2 تاریخ سے ہسپتال کے آئی سی یو میں تھی، اس بچی کی والدہ نے کہا کہ میری 5 بچیاں ہیں، اس کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں، سوشل میڈیا پر یہ خبر چلی اور جھوٹی کہانیاں گھڑی گئیں، طلبا کو اشتعال دے کر ایک مہم چلائی گئی، میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ بار بار احتجاج، انتشار کی کال کی ناکامی کے بعد ایک اور گھناؤنی مہم چلائی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کا ایجنڈہ ہی یہ ہے کہ ملک ترقی کرتا ہے تو یہ نیچے جاتی ہے، انہوں نے بچوں کو استعمال کیا، صحافی ٹاوٹس سے پوسٹیں کروائیں، ماہ نور نامی اس بچی کا میں نے خود انٹرویو کیا، یہ چلایا گیا کہ بیسمنٹ میں لڑکی کی چیخوں کی آواز آئی اور کنڈی لگائی گئی اور پھر ریسکیو آئی، اس دن ریسکیو اس ادارے میں گئی ہی نہیں، اس لڑکی نے بتایا کہ ایک ٹیچر کے کہنے پر میں نے ایسا کہا حالانکہ وہ اس کیمپس کی طالبہ ہی نہیں ہے، سکیورٹی گارڈ کو سرگودھا سے حراست میں لیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج غائب ہونے کا کہا گیا، گجرات میں کل احتجاج میں طلبہ کو لایا گیا جنہیں ایشو کا ہی علم نہیں تھا،

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں ماں بھی ہوں اور صوبے کی چیف ایگزیکٹو بھی ہوں، خواتین کی آبرو کی حفاظت میری ذمہ داری ہے،بچی کی والدہ سے بات ہوئی ہے وہ شدید صدمے میں ہیں اور والدہ نے کہا کہ اس کی چار بییٹیاں باقی ہیں جن کی شادی ہونی ہیں میں غریب ہوں مجھے کچھ نہیں چاہیے جنہوں ںے یہ کہانی گھڑی ہے انہیں ایکسپوز کریں اور سزا دلوائیں گے،تحریک انصاف ایک دہشتگرد جماعت ہے اور نجی کالج میں مبینہ زیادتی والا واقعہ گھڑنے کے پیچھے تحریک انصاف ہے۔

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر چند روز قبل دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’پنجاب کالج‘ کے خواتین کے لیے مخصوص گلبرگ کیمپس میں فرسٹ ایئر کی ایک طالبہ کو اُسی کالج کے ایک سکیورٹی گارڈ نے مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا ساتھ ہی ساتھ احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ کالج کی انتظامیہ مبینہ طور پر اس واقعے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس اس حوالے سے دستیاب تمام شواہد بھی ختم کر دیے ہیں،اُن کے کالج کے مالکان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے مقامی میڈیا پر بھی یہ خبر نشر نہیں ہونے دے رہے ہیں۔

  • کالج کی طالبہ سے زیادتی، سیکورٹی گرفتار،طالبات کا انصاف کیلئے احتجاج

    کالج کی طالبہ سے زیادتی، سیکورٹی گرفتار،طالبات کا انصاف کیلئے احتجاج

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں نجی کالج کی طالبہ کو سیکورٹی گارڈ نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    یہ افسوسناک واقعہ 11 اکتوبر بروز جمعہ دن تقریبا 11:30 اور 12:30 کے درمیان پنجاب کالج کیمپس 10 لاہور میں پیش آیا ۔گیارہویں جماعت کی طالبہ بریک کے دوران غلطی سے کالج کے تہہ خانے میں بند ہو گئی جسے وہاں پر ایک سکیورٹی گارڈ نے وین میں ہی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ۔مبینہ طور پر بچی کی چیخیں ایک مرد استاد نے سنی جس سے اس ساری صورتحال کا پتہ چلا ۔جس وقت وہ استاد تہہ خانے میں پہنچا اس وقت اس میں شامل گارڈ جائے وقو عہ سے فرار ہو گیا اور ابھی تک نظر نہیں آ رہا،

    ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق طالبہ سے زیادتی کا واقعہ کچھ رو زقبل کا ہے، زیادتی کرنے والا ملزم سیکورٹی گارڈ ہے جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، طالبہ سے مبینہ زیادتی کی تحقیقات جاری ہیں، ترجمان لاہور پولیس کے مطابق کالج میں زیادتی کا شکار لڑکی یا اس کا خاندان کسی نے پولیس کو اطلاع نہیں دی، متعلقہ پولیس اسٹیشن، ون فائیو یا کالج انتظامیہ کو واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ملی، ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے واقعےکی پولیس تحقیقات کررہی ہے مگر طالبہ سے زیادتی کی اب تک تصدیق نہیں ہوسکی جب کہ 4 سے 5 نجی اسپتالوں میں طالبہ کے داخلے کا کوئی ریکارڈ نہیں ،کالج کےاندرونی حصوں کےکلوزسرکٹ کیمروں سےبھی کوئی شواہدنہیں ملے لہٰذا طلبہ افواہوں پریقین نہ کریں، اگرکوئی متاثرہ طالبہ ہےتوپولیس کوبتائیں پولیس تعاون کرےگی

    دوسری جانب لاہور گلبرگ کے علاقہ میں پنجاب کالج میں طالبہ سے زیادتی کے واقعہ،واقعہ کو چھپانے اور انصاف کے حصول کے لئے طالبات نےکالج کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا،کالج انتظامیہ کی جانب سے معاملہ دبانے کے لیے دباو کی وجہ سے کالج کی طالبات سراپا احتجاج ہوئیں، گیارہویں کلاس کی طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور مبینہ طور پر اس واقعہ کے خلاف آواز اٹھانے والی طالبات کو بھی حراساں کیا جارہا ہے جس پر طالبات نے آج بھر پور احتجاج کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا.

    پنجاب کالج میں طالبہ سے زیادتی، طالبات کا احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج،کئی زخمی
    گزشتہ روز پنجاب کالج کی طالبہ کو گارڈ کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بنانے کی خبر آنے کے بعد آج پنجاب کالج کے مختلف برانچز میں طلباء و طالبات سراپا احتجاج ہیں، طلباء کی جانب سے سڑکی بند کی گئی، جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی،طلباء اور پولیس میں جھڑپوں کے نتیجہ میں ایک طالبعلم زخمی ہوگیا، جسے زخمی حالت میں قریبی اسپتال پہنچا دیا گیاپولیس کیساتھ جھڑپوں میں متعدد طلباء و طالبات زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں قریبی اسپتال اور ریسکیو کی جانب سے طبی امداد فراہم کی گئی ہے،پنجاب کالج کے طلبا کی جانب سے توڑ پھوڑ بھی کی گئی اورکالج کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ طلبا نے سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے، پنجاب کالج میں احتجاج کی وجہ سے طالبات کالج کے احاطے میں محصور ہوگئی ہیں،طلبا کے احتجاج کی وجہ سے طالبات خوف کے مارے کالج سے باہر آنے سے قاصر ہیں،طالبات کا کہنا ہے کہ میل سٹاف کا باہر گیٹ پر کام ہے، میل سٹاف کالج کے اندر کیوں جاتا ہے، ہم جیل روڈ بلاک کریں گے، ہمیں انصاف چاہئے،آج ایک طالبہ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہم اس کے لئے جمع ہوئے ہیں کل کسی اور کے ساتھ کچھ ہوا تو کیا کیا جائے گا،

    کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے واقعے پر کالج کے طلبا اور طالبات نے مسلم ٹاؤن موڑ کے قریب کینال روڈ پر کالج کے باہر احتجاج کیا جس دوران شیشہ لگنےسے طالب علم شدید زخمی ہوا،ریسکیو حکام کے مطابق احتجاج میں شامل ایک طالبہ کی حالت خراب ہوئی جب کہ احتجاجی طلبہ کا کہنا ہےکہ ایک طالبہ اور ایک طالب علم پرمبینہ طور پر کالج کے گارڈ نے تشددکیا جنہیں بعد ازاں اسپتال منتقل کیا گیا،ریسکیو 1122 کے مطابق نجی کالج کے طلبہ نے گلبرگ برانچ کے باہر مظاہرہ کیا جہاں طلبہ اور پولیس کے درمیان مڈبھیڑ ہوئی، مظاہرے میں زخمی 28 افراد کوابتدائی طبی امداددی گئی ہے، زخمیوں میں 4 پولیس اہلکار اور 24 طلبہ شامل ہیں

    وزیر تعلیم پنجاب کا پنجاب کالج کا دورہ، گلبرگ برانچ کی رجسٹریشن معطل،طلبا سے پرامن رہنے کی ہدایت
    وزیرتعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اچانک پنجاب کالج کا دورہ کیا ، اس موقع پر گلبرگ برانچ کی رجسٹریشن معطل کردی گئی ہے وزیرتعلیم پنجاب نے احتجاج کرنے والے طلباء کو انصاف کی یقین دہانی بھی کروائی ہے، طلباء نے وزیرتعلیم سے پولیس کے لاٹھی چارج کی شکایت کی، وزیرتعلیم نے پولیس کو لاٹھی چارج نہ کرنے کی ہدایت کردی۔ وزیرتعلیم نے دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ثبوت ڈیلیٹ کرنے والے اساتذہ کیخلاف کارروائی کی جائے گی،وزیرتعلیم نے واضح کیا کہ طلباء پُرامن احتجاج کریں، میں ساتھ دوں گا،کالج سیل، رجسٹریشن منسوخ کرنے کی نوبت آئی تو اس سے بھی گریز نہیں کریں گے، طالبات کو محفوظ تعلیمی ماحول دینا ہماری ذمہ داری ہے۔

    سیکورٹی گارڈ گرفتار،زیادتی کا شکاربچی سامنے نہیں آ رہی، کون ہے؟ عظمیٰ بخاری
    پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پہلا ایکشن نہیں ہے،جس گارڈ پہ الزام لگایا گیا ہے وہ کل سے حراست میں ہے،لیکن ابھی تک کوئی بچی یا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا،پولیس آج بھی ایک بچی کا نام لیا گیا اس نام کی تمام بچیوں کو گھروں پہ پتا کیا گیا،سب انکاری ہیں،کسی کے پاس اس واقعے کی مصدقہ اطلاعات ہیں تو ضرور شئیر کریں،سی ایم ایک ایک لمحے کی رپورٹ لے رہی ہیں

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر امجد اسلام اعوان کہتے ہیں کہ لاہور گلبرگ کے علاقے میں واقع پنجاب کالج میں طالبہ کو سیکیورٹی گارڈ نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا کالج انتظامیہ معاملے کو دبانے کی خاطر اسے خود کشی کا واقعہ قرار دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ سوال صرف یہ ہے لاکھوں فیس والے اس کالج میں یہ سب کچھ ہوا تو سیکیورٹی امور پر تعینات دیگر لوگوں یا سی سی ٹی وی کیمروں پر تعینات لوگوں نے اسے کیوں نہ روکا یا کیوں روک نہ سکے؟پولیس نے شواہد کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کرلیا۔اس واقعہ کے خلاف طلبا احتجاج کررہے ہیں پنجاب کے تمام طلبا کو اس پر شدید احتجاج کرنا چاہیے

  • خیبر پختونخوا کی جیلیں خواتین کیلئے محفوظ،لڑکی کی عزت لوٹ لی گئی

    خیبر پختونخوا کی جیلیں خواتین کیلئے محفوظ،لڑکی کی عزت لوٹ لی گئی

    خیبر پختونخوا میں جیلوں میں بھی خواتین محفوظ نہ رہیں، جیل میں خاتون کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے

    واقعہ بٹگرام کی سب جیل میں پیش آیا، جیل میں قید 20 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، لڑکی نے جیل سپرنٹنڈنٹ پر زیادتی کا الزام عائد کیا تو میڈیکل کروایا گیا، میڈیکل رپورٹ میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے ،لڑکی کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ نے اسے اپنے دفتر بلایا اور عزت لوٹ لی،واقعہ کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے.ڈی پی او کا کہنا ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے مقامی عدالت سےضمانت قبل ازگرفتاری کروالی ہے تاہم جیل سپرنٹنڈنٹ کےخلاف محکمانہ انکوائری کی جارہی ہے۔

    جیل میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ پر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر جیلوں میں قید خواتین بھی محفوظ نہیں تو اسکا ذمہ دار کون ہے، ایسے اہلکاروں کو کڑی سزا ملنی چاہئے جو گھناؤنا کام کرتے ہیں یہ کسی معافی کے لائق نہیں، معاشرے سے ایسی درندگی کے خاتمے کے لئے کڑی سزائیں ضروری ہیں.