اسلام آباد، وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ پنجاب میں جنگلات کے تحفظ اور بحالی کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ اجلاس میں معاون خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم، وزیر برائے جنگلات پنجاب سبطین خان و دیگر شریک تھے۔وزیرِ اعظم کو چھانگا مانگا و دیگر جنگلات کی بحالی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ گذشتہ چند سالوں میں چھانگا مانگا کے ڈھائی ہزار ایکٹر رقبے کو درختوں سے محروم کرکے بنجر بنا دیا گیا۔ موجودہ دورِ حکومت میں ٹین بلیئن سونامی مہم میں ایک ہزار ایکڑ رقبے پر شجر کاری کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ ڈھائی ہزار ایکڑ رقبے پر سال 2023تک یہ عمل مکمل کر لیا جائے گ۔
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کم کرنے کے حوالے سے جنگلات اور شجرکاری کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ جنگلات کا تحفظ و بحالی موجودہ حکومت کی ترجیحات کا حصہ ہیں۔ جنگلات کے تحفظ و بحالی کے لئے ٹیکنالوجی کو برؤے کار لایا جائے۔ صوبہ بھر میں جنگلات کی بحالی کے لئے مربوط پالیسی مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ غیر قانونی شکار اور درختوں کی کٹائی کی روک تھام کے حوالے سے بھی منظم اقدامات یقینی بنائیں جائیں
Tag: زیر صدارت
-

جنگلات کے تحفظ و بحالی کے حوالے سےوزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس۔
-

ڈائریکٹر جنرل لیویز مجیب الرحمان قمبرانی کی زیر صدارت بلوچستان کی پہلی لیویز کانفرنس کا انعقاد!!
کوئٹہ۔ 16 فروری۔ ڈائریکٹر جنرل لیویز مجیب الرحمان قمبرانی کی زیر صدارت بلوچستان کی پہلی لیویز کانفرنس کا انعقاد ہوا۔کانفرنس میں صوبے کے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں لیویز فورس کی تشکیل نو، فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے،انٹیلیجنس ونگ کا قیام، سی پیک ونگ،لیویز فورس میں بہتری کے لیے اصلاحات،فورس کو جدید آلات سے لیس گاڑیوں کی فراہمی، اہلکاروں اور افسران کی ٹریننگ سمیت دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔ڈی جی لیویز نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کا تقاضہ ہے کہ لیویز فورس کو بھی دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بناتے ہوئے اسے جدید آلات سے لیس گاڑیوں کی فراہمی،اہلکاروں اور افسران کی ٹریننگ اور اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے فورس کی تشکیل نو کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ لیویز فورس کے زیر انتظام بلوچستان کا وسیع رقبہ آتا ہے جسکی بہتری سے مجموعی طور پر صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کانفرنس میں شریک ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کی بہتر شنوائی کے لیے فورس میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو جاری رکھنے ہوئے ای ایف آئی آر کے اندراج کو بھی یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ لیویز فورس میں انٹیلیجنس ونگ اور سی پیک ونگ کے قیام کا مقصدعوامی رابطوں کو مزید مضبوط کرتے ہوئے صوبے کی اجتماعی فلاح و بہبود اور خوشحالی کو ممکن بناتے ہوئے اوئے بلوچستان کی اجتماعی ترقی کے لئے کاوشوں کو جاری رکھنا ہے تاکہ صوبہ دیرپا امن کی جانب درست سمت میں گامزن ہو سکے
-

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نالج اکانومی کے فروغ کے حوالے سے اجلاس
اسلام آباد،
٭ اجلاس میں وزیرِ تعلیم شفقت محمود، سیکرٹری منصوبہ بندی، سیکرٹری ایجوکیشن، ڈاکٹر عطا الرحمن، پروفیسر شعیب خان، پروفیسر ناصر خان و سینئر افسران شریک
٭ اجلاس کے دوران ملک میں نالج اکانومی کے فروغ کے حوالے سے مختلف منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ
٭ وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے وزیرِ اعظم کو تعلیم کے فروغ کے حوالے سے مختلف منصوبوں اور اقدامات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔
٭ ڈاکٹر عطا ء الرحمن کی جانب سے ملک میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، بائیو ٹیکنالوجی و دیگر جدید علوم کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
٭ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا مستقبل تعلیم کے فروغ سے وابستہ ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان نوجوانوں کی صلاحیتوں سے اسی وقت ہی استفادہ کیا جا سکتا ہے جب یہ نوجوان جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا فروغ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجود حکومت کی جانب سے تعلیمی اصلاحات کا مقصد نہ صرف تعلیم کا فروغ بلکہ طلبا کی شخصیات میں اعلیٰ اقدار کواجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی کلاسوں کے نصاب میں سیرت النبی ﷺ کے مضمون کو شامل کرنے کا مقصد طلبا کو اسلامی شعار سے روشناس کرانا ہے۔ وزیرِ اعظم نے فنی تعلیم اور اسکل ڈویلپمنٹ کی اہمیت پر خاص طور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی و فنی تعلیم کے اداروں میں فراہم کی جانے والی تربیت کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق یقینی بنایا جائے اور تعلیمی اداروں اور مارکیٹ کے مابین تعلق کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ -

سینیٹ کمیٹی برائے سمندر ی امور کا اجلاس،کمیٹی سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت
۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت سمندری امور اور اس سے منسلک محکموں کے مختص کردہ بجٹ اور اس کے استعمال کا جائزہ، وزارت سمندری امور کی تجویز کردہ پی ایس ڈی پی اور اس سے منسلک محکموں کی مالی سال 2021-22،کے علاوہ کمیٹی کے 31 اگست 2020 کے اجلاس میں ہدایت کی روشنی میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو بقیہ اراضی کی شرح کو حتمی شکل دینے اور بقایاجات کی ادائیگی کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نزہت صادق نے وزارت سمندری امور کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کی تعمیر وترقی میں وزارت سمندری امور کا ایک اہم کردار ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے گوادر میں مکمل ہونے والے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعریف کی اور کہا کہ گوادر میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کرکٹ اسٹیڈیم تیار ہوا ہے جس کی پذیرائی نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا بھر میں ہوئی ہے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے سمندری امور علی زیدی نے کہا کہ نئی فشرنگ پالیسی لا رہے ہیں اور اس پالیسی کے تحت ہمارا ہدف2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہے جبکہ اس وقت 400 سے450 ملین ڈالر ہماری ایکسپورٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک نیا وزل مانیٹرنگ سسٹم کشتیوں پر لگانے جا رہے ہیں اور اس طرح ہم ہر کشتی کو مانیٹر کر سکیں گے اور اس کیلئے ہم نے ایک سمری کابینہ میں لے کر جا رہے ہیں اس کی منظوری کے بعد ہم ہر چھوٹی بڑی کشتی کی مانیٹرنگ با آسانی کر سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک ماہی گیر کو بھی کامیاب نوجوان پروگرام کے ذریعے قرضہ دیا جائے گا اس کیلئے پالیسی تیار ہے اور بہت جلد اس کو کابینہ سے منظور کرا لیا جائے گا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت سمندری امور کے حکام نے وزارت اور اس سے منسلک محکموں کا بجٹ 1157.716 ملین مختص کیا گیا تھا اور وزارت سمندری امور سے منسلک تمام محکموں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا اور وزارت سمندری امور کے منصوبہ جات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
کمیٹی اجلاس میں وزارت سمندری امور کی گوادر پورٹ اتھارٹی کے حوالے سے تجویز کردہ پی ایس ڈی پی کے مالی سال 2021-22 کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے کمیٹی کوبریفنگ دی اور گوادر میں جاری منصوبہ جات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ 31 اگست 2020 کو منعقدہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی ہدایت کی روشنی میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو بقیہ اراضی کی شرح کو حتمی شکل دینے اور بقایاجات کی ادائیگی کے بارے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر گوادر کی جانب سے ایک سروے کیا گیا تھا جس میں مکمل ریکارڈ نہیں لیا گیا تاہم ایک مشترکہ سروے کیا جارہا ہے جو کہ ایک ہفتے میں مکمل ہو جائے گا۔ حکام نے کمیٹی کو یقینی دہانی کرائی کہ جن لوگوں کی زمین اس منصوبے میں آرہی ہے ان کو ادائیگی کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز رانا محمود الحسن، ستارہ ایاز کے علاوہ وفاقی وزیر برائے سمندری امور علی زیدی کے وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی