Baaghi TV

Tag: سائفر

  • ہمیں علیمہ خان نہیں بلکہ عمران خان کو فالو کرنا ہے،علی امین گنڈا پور

    ہمیں علیمہ خان نہیں بلکہ عمران خان کو فالو کرنا ہے،علی امین گنڈا پور

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ہم نے عمران خان کو فالووکرنا ہے، ہمیں عمران خان کے حکم کاانتظار ہے،باقی لوگ کیا کہہ رہے ہیں کیا نہیں،اس سے فرق نہیں پڑتا،

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ عمران خان کے تحفظات ٹھیک ہیں،ملاقات نہیں کروائی جاتی، انہوں نے عدالت میں درخواست بھی دی ہوئی،یہ سب انکا حق ہے، آئین کے مطابق عمران خان سے ملاقاتوں کا حق ملنا چاہئے،ہم دیکھ رہے ہیں کہ عدلیہ کے احکامات کو رد کر دیا جاتا ہے،ہمیں ہمارا آئین تحفظ دیتا ہے، ہم پرامن احتجاج کر سکتے ہیں،ہمیں علیمہ خان نہیں بلکہ عمران خان کو فالو کرنا ہے، اگر عمران خان نے بھوک ہڑتال کی تو یہ بھوک ہڑتال پورے پاکستان کی ہو گی،

    علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی پہلی حکومت ہے جس نے 100 دن میں قرضہ نہیں لیا، ریونیو جنریٹ کرنے کے حوالہ سے ہم نے کام شروع کر دیا ہے، جب ہم آدھی قیمت پر بجلی دیں گے تو روزگار بھی آئے گا، چاہتے ہیں صوبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے، 2028ء تک 800 میگاواٹ بجلی خود بنالیں گے،اس پر ہم انڈسٹری کو لے کر جائیں گے، جب آدھی قیمت پر بجلی دیں گے تو روزگار آئے گا،ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار دے رہے ہیں، بلاسود قرضے دے رہے ہیں، ہم نے صوبے کو فلاحی صوبہ بنانا ہے، ہم نے عوامی چیزوں پر ٹیکسز کم کیے ہیں، ہماری پالیسی ہے کہ غریب کو ریلیف دینا ہے اور مافیا پر ٹیکس بڑھانا ہے،کے پی کے میں بہترین کام ہو رہا ہے،ہمیں کچھ مسائل ہیں، ڈیمانڈ کی ہیں لیکن وہ نہیں مل رہیں، باقی صوبوں کو مرضی کے فنڈز مل رہے ہیں ہمیں نہیں مل رہے.

    علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ امریکی وفد سے ملاقات ٹھیک رہی، امریکی وفد سے سائفر کے متعلق بات چیت کی گئی،امریکی وفد کو ملاقات میں کہا کہ سائفر کے سلسلے میں ہماری تشویش ہے،وہ دور کریں کہ کیا ہوا تھا، سائفر کے الفاظ قابل مذمت تھے اور مداخلت تھی،

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کی متفرق درخواست

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کی متفرق درخواست

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کی متفرق درخواست دائر کر دی گئی

    ایف آئی اے نے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی ، ایف آئی اےکی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں اجازت دی جائے ،سائفر کیس کی سماعت کچھ دیر چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں خصوصی بنچ کرے گا

    عمران خان نے سائفر کیس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرر کھی ہے، گزشتہ روز بھی اپیل پر سماعت ہوئی تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر میں کیا تھا جس معلومات سے ہیرا پھیری کی گئی؟ عمران خان نے کہا کہ سائفر میں کہا گیا اگر اسے نہ ہٹایا تو نتائج بھگتنے ہونگے، کیا یہی سائفر کا متن تھا کہ عمران خان کو نہ ہٹایا تو نتائج ہونگے، کیا وہ درست کہہ رہے تھے، سچ بول رہے تھے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ بالکل یہی میسج تھا، عمران خان خود تسلیم کر رہے ہیں، عمران خان نے خود سائفر کے متن کو تسلیم کیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفار کیا کہ آپ اس کو چھوڑ دیں آپ خود بتائیں کہ کیا تھا جسے تبدیل کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "شاہ صاحب ایسے نہیں ہے، آپ سول معاملے کی بات کر رہے ہیں یہ کرمنل کیس ہے، کرمنل کیس میں پراسیکیوشن نے اپنا کیس ثابت کرنا ہے، اگر ملزم خود تسلیم بھی کر لے تو پراسیکیوشن نے کیس ثابت کرنا ہے، ایڈمیشن کا یہ مطلب نہیں کہ پراسیکیوشن ڈسچارج ہو گئی، پوچھ پوچھ کر تھک گئے ہیں اَس بند لفافے میں تھا کیا”،

    سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

  • سائفر کیس،عید سے پہلے سزا معطلی کی استدعا،عدالت نے بھی فیصلہ سنا دیا

    سائفر کیس،عید سے پہلے سزا معطلی کی استدعا،عدالت نے بھی فیصلہ سنا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کالعدم قرار دے کر بری کرنے کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سلمان صفدر صاحب، ایک مختصر کا حصہ رہ گیا ہے جس پر آپ نے اپنے دلائل دینے ہیں، ہم نے گزشتہ روز چارجز سے متعلق آپ سے کچھ چیزوں پر معاونت طلب کی تھی،سلمان صفدر نے کہا کہ میری بحثیت وکیل زمہ داری ہوگی کہ ہر اینگل آپ کے سامنے رکھ سکوں، ویسے تو ایک وکیل جب ہاتھی نکال لیتا ہے تو ججز کہتے ہیں دم کی پرواہ نہ کرو، ہم وکلاء نے رمضان میں اتنی محنت سے دلائل دیے ہیں تو کسی ایک فریق کو عید سے پہلے عیدی مل جانی چاہیے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں، پراسیکیوشن کو بھی سننا ہے، عید ہونے یا نہ ہونے کا اس میں کوئی معاملہ نہیں ہے،بیرسٹر سلمان صفدر نے سائفر کیس میں سزا معطلی کی استدعا کی جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی سزا معطل کرکے کیا کرنا، ابھی مرکزی اپیلوں پر فیصلہ کریں گے،سلمان صفدر نے کہا کہ عمومی طور پر جب کوئی وکیل ہاتھی نکال دے تو دم نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن آپ پر یہ سیکشنز لگی ہوئیں ہیں آپ نے اس حوالے سے عدالت کی معاونت کرنی ہے ، سلمان صفدر نے کہا کہ رمضان میں جب آپ کام کرتے ہیں تو عید سے پہلے عیدی ملنے کا تقاضا ہوتا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ حامد علی شاہ صاحب دلائل کے لیے جتنا وقت چاہییں گے ہم انہیں دیں گے ،عید ہونے نا ہونے کا اس میں کوئی معاملہ نہیں ہم نے قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں،

    سلمان صفدر نے کہا کہ آج میں اپنے تمام دلائل قسط وار تقریبآ پندرہ منٹ میں مکمل کرونگا، ایک دستاویز کے حوالے بات ہورہی مگر وہ دستاویز فائل میں ہی موجود نہیں،ایک میرے پاس الزام آیا کہ سائفر کو ٹویسٹ کیا اور واپس بھی نہیں کیا، ایک اور الزام ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو پبلک کیا،الزام یہ بھی ہے کہ سائفر پبلک کرنے سے سیکورٹی سسٹم نقصان پہنچایا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ سیکشن فائیو ون اے یا بی میں کسی ایک میں سزا ہونی تھی ، سلمان صفدر نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کونسے شواہد کا سہارا لیکر سزا سنائی گئی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کو سائفر کاپی لاپرواہی اور جان بوجھ کر گم کرنے دونوں شقوں کے تحت سزا سنا دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں میں تو بیک وقت سزا ہو ہی نہیں سکتی، لاپرواہی یا جان بوجھ کر دونوں میں سے کسی ایک میں ہی ہو گی، اگر سائفر کاپی گم کرنے کا الزام ثابت بھی ہو جاتا ہے پھر بھی دو سال زیادہ سزا ہے، اس الزام پر تو زیادہ سے زیادہ دو سال سزا ہو سکتی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ سائفر ڈی کوڈ ہوا، کاپیاں آٹھ لوگوں کو گئی، مگر مقدمہ دو افراد کے خلاف بنایا گیا؟ کہا گیا کہ اس وقت کے وزیراعظم نے سائفر کاپی گما دی؟ ایک چیز بتا دیں، اعظم خان کے بیان کی کیا اہمیت ہے، جب سیکرٹری کے پاس جو چیز آجاتی ہے تو آگے جو موومنٹ ہوتی ہے وہ آفیشل ہوتی ہے ؟ سلمان صفدر نے کہا کہ جج صاحب نے کہا یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، اعظم خان نے بیان دیا کہ سائفر ٹیلی گرام کو ٹویسٹ کیا،میں پانچ صفحات دکھاؤں گا جہاں پراسکیوشن کے چار گواہ ہیں ، یہ گواہ کہتے ہیں کہ سائفر کی کاپی اعظم خان کے پاس آئی ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس سے آگے چلیں یہ تو اعظم خان خود مانتے ہیں کہ انہیں کاپی آئی اور وہ انہوں نے آگے وزیر اعظم کو دی،سائفر ڈی کوڈ ہوا، آٹھ کاپیاں تیار ہو کر مختلف لوگوں کو گئیں، وزیراعظم کا سیکرٹری کہتا ہے کہ میں نے وہ بانی پی ٹی آئی کو دے دی تھی،سیکرٹری کہتا ہے کہ بعد میں جب وہ کاپی دوبارہ مانگی تو گم ہو چکی تھی،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جب عمران خان کی سائفر کاپی واپس نہیں آئی تو سات ماہ کے بعد ہی نوٹس کیوں دے دیا گیا؟ عمومی طور پر تو سائفر ایک سال تک کے عرصہ میں واپس آتا ہے، مگر یہاں سائفر کاپی واپس کرنے کے لیے ایک سال کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی کریمنل کیس بنا دیا گیا،ہم ایک ایک لفظ سے کیس کو توڑیں گے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر کاپی عمران خان کو سپردگی کا واحد گواہ اعظم خان ہے؟،اعظم خان کا بیان نکال دیں تو تو سپردگی کا کوئی گواہ نہیں، کس قانون میں ہے کہ سائفر ایک سال کے اندر واپس کرنا ہوتا ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کا یہ کیس ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر یہ ایک سال ہے تو ایک سال خصوصی طور پر لکھا جانا چاہیے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کی ورکنگ سے متعلق بُک موجود ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ وہ بُک کونسی ہے؟سلمان صفدر نے کہا کہ وہ سیکرٹ ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں نا، آپ نام بتائیں،سلمان صفدر نےکہا کہ سیکیورٹی آف کلاسیفائیڈ میٹرزاِن گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ بُک ہے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ یہ ٹاپ سیکرٹ ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ کاپی جج کے پاس تھی؟ سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں، جج کے پاس بھی نہیں تھی اور ہمیں بھی دکھانے نہیں دی گئی، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس کے کچھ سیکشنز تو ہم نے ضمانت کے فیصلے میں بھی لکھے ہیں،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • کل کی سماعت میں ثابت ہوا کہ سائفر حقیقت ہے اور موجود ہے،رؤف حسن

    کل کی سماعت میں ثابت ہوا کہ سائفر حقیقت ہے اور موجود ہے،رؤف حسن

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن اور سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے

    رؤف حسن کا کہنا تھا کہ کل ڈونڈلو کی جانب سے بہت کچھ کہا گیا بہت کچھ نہیں کہا گیا، کل سائفر کی حقیقت کو تسلیم کیا گیا، پتہ چلا کہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی سائفر سے متعلق جھوٹ نہیں بولا، پی ڈی ایم ون حکومت نے پہلے کہا کہ سائفر کی کوئی حقیقت نہیں،کل کی سماعت میں ثابت ہوا کہ سائفر حقیقت ہے اور موجود ہے، ڈونڈلو لو نے اس مواصلات کے عمل کو کل تسلیم کیا،ہمارے تب کے سفیر اسد مجید کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے مانا ہے یہ نہیں ہوا، جس سازش کی بات گئی ہے وہ حقیقت ہے، ہمارے پاس نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ کے مینٹس موجود ہیں، میٹنگ میں مانا گیا کہ سائفر میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی گئی، میٹنگ میں ڈیمارش کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا اور وہ جاری کیا گیا،نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی دوسری میٹنگ شہباز شریف کی زیر صدارت ہوئی، دوسری میٹنگ میں بھی سائفر کی حقیقت کو مانا گیا، سائفر کی تفصیلات اب خفیہ نہیں رہیں، سائفر میں واضح کہا گیا ہے کہ اگر ووٹ آف نو کانفییڈینس کے ذریعے عمران خان کو نہیں ہٹایا جاتا تو اسکے پاکستان پر بڑے اثرات مرتب ہونگے، اور اگر ہٹایا دیا جاتا ہے تو سب کچھ بھلا دیا جائے گا۔یہ وہ حقائق ہیں جنھیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ سائفر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی پاکستان کی پالیسیز کو چیلنج کیا گیا اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر اعتراضات لگائے گئے،

    آزاد خارجہ پالیسی کے لیے پاکستان میں کوئی کوشش نہیں کی جاتی،رؤف حسن
    رؤف حسن کا مزید کہنا تھا کہ جوں جوں وقت گزرتا چلا جا رہا ہے حقیقت مزید کھل کر سامنے آرہی ہے،اس وقت بانی چئیرمین عمران خان پر سیکرٹ ٹرائل کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے،اس وقت کابینہ کے سامنے سائفر پیش کیا گیا اور اسے ڈی کلاسیفائی کیا گیا،جب کوئی دستاویز ڈی کلاسیفائی ہوجائے تو وہ پبلک ڈاکومنٹ بن جاتا ہے،اس کی پاداش میں خان صاحب پر مقدمہ چلایا جارہا ہے،اسی سائفر کے بارے میں امریکی کانگرس میں اوپن سماعت ہوئی،امریکی اس معاملے کو سیکرٹ نہیں سمجھتے،کل کی سماعت میں ایران اور ایرانی پائپ لائن کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا،سب جانتے ہیں کہ ایرانی گیس لائن روکنے کےلیے امریکی پریشر ہمیشہ موجود رہتا ہے،سماعت میں مانا گیا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ نہ ہو،ہم عوام سے حقائق چھپانے کی کوشش کرتے ہیں،سائفر کے معاملے پر بار بار حکومت کی جانب سے حقیقت کو جھٹلایا گیا،آزاد خارجہ پالیسی کے لیے پاکستان میں کوئی کوشش نہیں کی جاتی،کل کی سماعت میں الیکشن کے حوالے سے بہت سے مسائل پر بات کی گئی،کانگریس مین نے ڈونڈلو سے بڑے اہم سوالات پوچھے گئے،ڈونلڈ لو کی جانب سے صاف جواب دینے کی بجائے ہر سوال کو گھمایا گیا،الیکشن میں جیتنے والوں کو ہرانے کا معاملہ اب انٹرنیشنل سطح پر ڈسکس ہو رہا ہے

    ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جنرل باجوہ اور اسد مجید کا اوپن ٹرائل کیا جائے،خالد خورشید خان
    خالد خورشید خان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے پہلے کہا گیا کہ سائفر کو کوئی وجود نہیں،اسی سائفر پر امریکہ میں اوپن سماعت ہو رہی ہے،سائفرپر امریکی صحافی نے پورا متن چھاپ دیا لیکن ان کو کوئی مسئلہ نہیں،ہم نے لیڈروں کو امریکہ کے سامنے لیٹتے دیکھا،پہلی دفعہ کوئی لیڈر امریکہ کے سامنے کھڑا ہوا،آج اگر امریکہ کامیاب ہوا تو کوئی اور لیڈر دوبارہ کھڑا نہیں ہوسکے گا،اس قوم کی عزت ہے تو ہماری عزت ہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جنرل باجوہ اور اسد مجید کا اوپن ٹرائل کیا جائے،کل کا جو اوپن ٹرائل ہوا وہ ہمارے لیے باعث شرم ہے،معاملے کے مکمل حقائق قوم کے سامنے لانا اب بہت ضروری ہے،ہم امید سے ہیں کہ عدالت سے انصاف ہوگا اور کیس ختم ہوگا،امید ہے اب پرانے ہتھکنڈے نہیں اپنائے جائیں گے جس سے نفرت بڑھے گی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے سے پہلے پریس کانفرنس کی جاتی ہیں،کوئٹہ میں قتل کا مقدمہ درج کرنے سے پہلے عطاء تارڑ نے پریس کانفرنس کی،ان کو قتل ہونے سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ قتل ہونے والا ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں اس کو سرکار ثابت نہیں کر سکی،ڈی کلاسیفائی ہونے کے بعد سائفر اوریجنل رہتا ہی نہیں ہے،عدالت میں بھی پراسیکیوشن کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی،

    علیمہ خان نے ڈونلڈ لو کے خلاف کیس کا کہا تھا لیکن یہ انکی فیملی کا فیصلہ تھا۔بیرسٹر گوہر
    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کےخلاف سازش ہوئی، ڈونلڈ لو اپنے بیان سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، ڈونلڈ لو کا بیان غلط ہے یا درست، سابق پاکستانی سفیر اسد مجید اپنا بیان دیں،20 گھنٹے ہو چکے اسدمجید کیطرف سے کوئی بیان نہیں آیا،ڈونلڈ لو کے بیان پر اسد مجید کو اپنا مؤقف دینا چاہیئے، ہم دوبارہ سے سائفر کے معاملے کی تحقیقات کامطالبہ کرتے ہیں،مطالبہ ہے کہ اسدمجید اپنا بیان دوبارہ ریکارڈ کروائیں،ڈونلڈ نے جو کہا وہ جھوٹ ہے،اسد مجید نے ڈونلڈ لو کے ساتھ میٹنگ کا اعتراف کیا ہے۔اسد مجید نے جو سائفر نے سائفر کی تصدیق کی اور ان ہی کی سفارش پر ڈیمارش کیا گیا۔ڈونلڈ لو نے سائفر کے کانٹینٹ کو مسترد کیا ہے ملاقات کو بھی مسترد کیا ہے۔اسد مجید نے سائفر کا کانٹینٹ عدالت میں جمع کرایا ہے اور ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ علیمہ خان نے ڈونلڈ لو کے خلاف کیس کا کہا تھا لیکن یہ انکی فیملی کا فیصلہ تھا۔ہم عدالتوں پر اعتماد کرتے ہیں۔بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے یہ حکومت پانچ ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی۔بانی پی ٹی آئی اگر جیل سے باہر آئے تو وہ کسی ڈیل کے نتیجے میں باہر نہیں آئینگے۔بشری بی بی کا نام تو توشہ خانہ کیس میں تھا ہی نہیں،انہیں گرفتار کر کے سزا دی گئی تا کہ عمران خان کو بلیک میل کر سکیں

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • پاکستان کے بعد  امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ،سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے بعد اب امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہہ کر مسترد کیا گیا ہے۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی خارجہ اُمور کمیٹی میں ڈونلڈ لو نے واضح طور پر سائفر بیانیہ ایک جھوٹ قرار دیا۔ اب یہ باضابطہ طور پر طے ہو چکا ہے کہ سائفر کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی مقاصد کا تحفظ کیا۔ آڈیو لیک میں عمران خان اور ان کے ساتھے سائفر پر سیاست کھیلنے کی منصوبہ بندی بناتے سنائی دیئے۔ عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری سائفر کیس سماعت میں تفصیلی وضاحت پیش کر چکے ہیں، ایک سفارتی تحریر کو سیاسی اور ذاتی مفادات کیلئے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ سائفر بیانیہ کو اپنے چھوٹے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے ملکی اور خارجی مفادات کو دائو پر لگانے کی بدترین مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کمیٹی میں انتخابات کے بعد پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل اور پاک امریکا تعلقات پر سماعت ہوئی جس میں امریکا کے جنوبی ایشیا کےلیے اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو امریکی ایوان نمائندگی کی امور خارجہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں پاکستانی الیکشن سے متعلق معاملات پر بیان ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری خارجہ ڈونلڈ لو کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ بانی چیئر مین تحریک انصاف کے الزامات کے حوالے سے ڈونلڈ لو نے کہا کہ بانی تحریک انصاف کی جانب سے لگانے جانے والے الزامات من گھڑت اور جھوٹے ہیں میں اس حوالے سے بلکل واضح ہوں، پاکستانی سفیر کے ساتھ میری ملاقات ہوئی انہوں نے اپنی حکومت کے سامنے گواہی دی کہ کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی۔سائفر ایک جھوٹا بیانیہ تھا ۔ڈونلڈ لو کے اس بیان کےبعد پی ٹی آئی سپورٹرز نےامریکی ایوان میں شورشرابہ کیااور امریکی سفیر کے خلاف نعرے بازی کی

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    نگران وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات 

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ججز کی خالی آسامیوں پر تقرری کیلئے رولز میں ترامیم پر غور کررہے ہیں،چیف جسٹس

    میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    میرے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی دائر ہو تو خوش ہوتا ہوں،چیف جسٹس

  • سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی
    سائفر کیس تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت کی، دوران سماعت ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر شاہ خاور کے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پراسیکیوٹر سپریم کورٹ میں مصروف ہیں،شاہ محمود قریشی کے وکیل ایڈووکیٹ علی بخاری نے سماعت دو بجے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی تاہم عدالت نے اسے مسترد کردیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج خصوصی ڈویژن بنچ ہے، اسے کل کیلئے رکھ لیتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث سماعت کل تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • تحریک انصاف کا جسٹس عامر فاروق کیخلاف بھرپور قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

    تحریک انصاف کا جسٹس عامر فاروق کیخلاف بھرپور قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سائفر مقدمے میں چیئرمین عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر محفوظ فیصلے کا اجراء ،پاکستان تحریک انصاف نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو نہایت جانبدارانہ،  اور فیئر ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کے بنیادی اصول سے یکسر متصادم قرار دے کر مسترد کردیا

    ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ آئین و قانون عمران خان کو جو فیئرٹرائل اور انصاف تک رسائی کے بنیادی حقوق فراہم کرتے ہیں،۹ مئی کو عدالتی احاطے سے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری اور توشہ خانہ کیس میں ایک متعصّب جج ہمایوں دلاور کی سرپرستی سمیت چیئرمین عمران خان کیخلاف جسٹس عامر فاروق کے کم و بیش تمام فیصلے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیے، جسٹس عامر فاروق کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے عہدے سے بلاتاخیر معزول کیا جانا ملک میں عدلیہ کی ساکھ اور عدل و انصاف کی حرمت کے تحفّظ کیلئے ناگزیر ہے،عدل و انصاف تک رسائی شہریوں کا بنیادی آئینی حق ہے، اسے کسی جج کی مطلق مرضی، قانون کے متعصّبانہ نفاذ اور عدالتوں کے سیاسی استعمال کی شرمناک روایت کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا،سپریم جیوڈیشل کونسل کیلئے اگر کوئی معاملہ نہایت اہم اور توجّہ طلب ہے تو وہ یہی کہ قانون و انصاف کا چہرہ مسخ کرنے والے ایک ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طرزِعمل اور غیرمنصفانہ فیصلوں کے ایک طویل سلسلے کا نوٹس لے، تحریک انصاف کے پاس جسٹس عامر فاروق کیخلاف بھرپور قانونی چارہ جوئی کے علاوہ بظاہر کوئی راستہ باقی نہیں،کورکمیٹی کے اجلاس میں جسٹس عامر فاروق کے طرزِ عمل  کا جائزہ لیں گے اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے،

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اخراج مقدمہ کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

  • سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے،وکیل لطیف کھوسہ

    سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے،وکیل لطیف کھوسہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس مقدمہ اخراج اور ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے ، ایف آئی اے نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی،دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب یہ بتائیں کہ پاکستان میں امریکہ کی طرح دستاویزات ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا کوئی قانون موجود ہے ؟ لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ اس سائفر کو تو وفاقی کابینہ نے ڈی کلاسیفائیڈ کردیا تھا ، اس ملک میں لیاقت علی خان کا قتل ہوا ، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے ، یہ سائفر امریکہ میں سفیر اسد مجید نے دفتر خارجہ کو بھجوایا تھا ، میرے دوست کہیں گے سیاسی بات کر رہا ہے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے اسرائیل کے پیچھے امریکہ ہے ، امریکہ کو ہم نے سپر پاور خدا مان لیا ہے ، امریکہ نے اس ملک کے وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے دھمکی دی ، یہ تسلیم شدہ ہے یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی پاکستان نے امریکہ سے احتجاج کیا ، میں نے جب یہ کیس دیکھا تو حیران رہ گیا اس ملک کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور وزیراعظم جو چیف ایگزیکٹو ہے وہ بول بھی نہیں سکتا ، بھٹو صاحب کو بھی مولوی مشتاق کی کورٹ میں جنگلے میں لا کر کھڑا کیا گیا تھا ، یہاں عمران خان کو بھی جنگلے میں لے کر آئے ، ان کو جیل میں بھی ڈر کس چیز کا ہے کیا خوف ہے وہ سابق وزیراعظم ہیں ، سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے ، یہ اعظم خان کا بیان لیکر آ گئے ہیں جو تین ہفتے لاپتہ رہا ، یہ کہنا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سائفر لے گیا یہ مضحکہ خیز ہے ،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو ایک ایسے آرڈر کے تحت گرفتار کیا گیا جس پر تاریخ تک نہیں تھی،سولہ اگست کو ایف آئی اے نے جسمانی ریمانڈ مانگا جسے ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دیا، چیرمین پی ٹی آئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ،عدالت کل چیرمین پی ٹی آئی پر فرد جرم عائد کرنے جا رہی ہے، چیرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اپنا قانونی اور آئینی حق استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا، سابق وزیراعظم نے اپنے آئینی حلف سے غداری نہیں کی، چیرمین پی ٹی آئی پر سائفر میں ردوبدل کا الزام بے بنیاد ہے، سائفر کا کوڈ ملزم نے نہیں بلکہ خود استغاثہ نے ایف آئی آر میں ظاہر کیا،38 ویں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں فارن سیکریٹری کو طلب کیا گیا،فارن سیکریٹری نے سائفر کو کنفرم کیا ، ایک بات واضح ہے کہ بطور وزیراعظم میرے سامنے سائفر آیا ،خان صاحب سائفر کو ہائیئسٹ فارم نینشل سیکیورٹی کمیٹی میں لے کر گئے،نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے سائفر کو بلیٹنٹ انٹرفیئرینس قرار دیا اور سخت ڈیمارش کرنے کا فیصلہ کیا ، پی ڈی ایم غلام رہنا چاہتی ہے تو رہے یہ ان کا سیاسی ہتھیار ہے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس مقدمہ اخراج کی درخواست میں سردار لطیف کھوسہ نے تحریری دلائل بھی عدالت میں جمع کرا دئیے،چیف جسٹس عامر فاروق نے سردار لطیف کھوسہ کے دلائل کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا ،” آپ نے دلائل میں تین نقاط عدالت کے سامنے رکھے ہیں ، پہلی بات آپ کہہ رہے ہیں آرٹیکل 248 کا استثنی حاصل ہے ، دوسری پوائنٹ آپ کا یہ ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا ، تیسرا پوائنٹ آپ کا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری تھی کہ پبلک کے ساتھ شئیر کرتے ” وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک پوائنٹ یہ بھی ہے سائفر کابینہ میٹنگ میں ڈی کلاسیفائی ہو چکا تھا ،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سائفر کیس میں سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا ،میں نے کہا سازش سے نکالا پی ڈی ایم کا موقف تھا عدم اعتماد کرکے نکالا ، سائفر میرے پاس نہیں ہے وہ موجود بھی وزارت خارجہ میں ہے ،انہوں نے ایف آئی آر میں کوڈ لکھا ہے انہوں نے خلاف ورزی کی ہے ، کس نے ان کو کہا تھا کوڈ ایف آئی آر میں لکھیں ،ٹرائل کورٹ نے آرڈر میں دھمکی بھی لگائی ہوئی ہے ، انگریزی تو جیسی بھی ہے میری بھی انگریزی ایسی ہے ، ٹرائل کورٹ کی انگریزی بھی ایسی ہی ہے ،انگریزی سب کی اسی طرح ہی ہے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے نا ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نا سیکشن 5 کا ؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل نا ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نا سیکشن 5 کا اطلاق ہوتا ہے ، یہ ممنوعہ جگہ نہیں ہے اگر ملک کے خلاف کوئی سازش ہو تو عوام کو بتانا وزیراعظم کا کام ہے ، یہاں انہوں نے بڑی آسانی سے اعلان کر دیا کہ سزا موت بھی ہو سکتی ہے ،

    ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات سے متعلق سردار لطیف کھوسہ نے پڑھا اور کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگران حکومتیں چل رہی ہیں ،کیا ہم نے پاکستان کو سرزمین بے آئین بنادیا ہے ؟چیئرمین پی ٹی آئی کو آپ کی عدالت کے احاطے سے نو مئی کو گرفتار کیا گیا ،سپریم کورٹ نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے کر چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کا حکم دیا،
    اس کا تو کوئی ذکر نہیں کرتا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت کی حدود سے غیر قانونی گرفتار کیا گیا،نو مئی کو عدالت کی حدود میں عدالتی عملے وکلا کو مارا گیا ،پی ٹی آئی کے دس ہزار کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اس پر تو کوئی بات نہیں کرتا ،آج کے دن سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا تھا ،آج کے دن میں آپ سے ،متجسس ہوں، درخواست کرتا ہوں، قوم آپ کی طرف انصاف کیلئے دیکھ رہی ہے ،کیس کی سماعت میں دو بجے تک کا وقفہ کردیا گیا

    سائفر کیس مقدمہ اخراج کی درخواست پر عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہو گئے ،

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس،جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،جج

    سائفر کیس،جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،جج

    سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین اور پی ٹی آئی وکیل شیراز رانجھا کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بتائے بغیر اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل ہی نہیں کرنا چاہئے تھا،جج نے کہاکہ اڈیالہ جیل کے حالات سازگار نہیں، ماحول اٹک جیل سے بہت مختلف ہے،اڈیالہ جیل میں 2200ملزمان کی گنجائش ہے لیکن 7ہزار قیدی ہیں،درجنوں مرغیوں کے ڈربے میں 32مرغیاں ہوں گی تو کیا حالات ہوں گے،اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے آمنے سامنے بات ہوتی تھی،اڈیالہ میں حالات ہی مختلف ہیں،

    جج نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ اڈیالہ جیل میں بہت رش ہے ، اٹک جیل میں سکون تھا، وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی پر غیرضروری سختی ہو رہی ہے،عدالت بہتر کلاس کا فیصلہ کرتی،چیئرمین پی ٹی آئی کو ٹی وی، بہتر بستر کیوں نہیں دیتے؟ اٹک جیل میں سکون تھا،جج نے کہاکہ اٹک جیل میں لائبریری ، ورزش ، اخبار کی سہولت چیئرمین پی ٹی آئی کو دی تھی،جیل منتقلی کا خوامخواہ تماشا بنایاگیا، اڈیالہ جیل میں کوئی کہانی ہی نہیں،

    پٹرول کی پوری ٹنکی لگتی تھی لیکن اٹک جیل میں سماعت آسانی سے ہوتی تھی، نوٹ کر لو سب،شکر ہے آپ اڈیالہ جیل منتقلی کی غلطی مانے تو سہی،عدالت
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل شیراز ارانجھا نے کہاکہ جیل منتقلی کی درخواست سے قبل شیر افضل کو قانونی ٹیم سے مشاورت کرنی چاہئے تھی،اٹک جیل میں وکلا کی ملاقات بہت آسان تھی، اڈیالہ جیل میں تو بہت مسائل ہیں،جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے دفتر بیٹھا تھا، میرے سامنے سے 70ملزمان گزرے ،پٹرول کی پوری ٹنکی لگتی تھی لیکن اٹک جیل میں سماعت آسانی سے ہوتی تھی، نوٹ کر لو سب،شکر ہے آپ اڈیالہ جیل منتقلی کی غلطی مانے تو سہی، کوئی اور بہتر جج لگتا ہے تو لے آئیں، میں صاف بات کرنے والا جج ہوں،مجھے کوئی شوق نہیں ، میں اپنا پیشہ ورانہ کام کررہا ہوں،وکیل شیراز رانجھا نے عدالت میں کہاکہ ہم چاہتے ہیں سائفر کیس کا ٹرائل ہی نہ ہو،جج نے کہا کہ جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،سائفر کیس کی سماعت کیلئے لمبی تاریخ دے دیتا ہوں،وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جتنے دن قید ہیں ا س کا کیا ہوگا؟

    ہمایوں دلاور نے اپنے انداز سے توشہ خانہ کیس چلایا، ابوالحسنات سائفر کیس اپنے طریقے سے چلائے گا، جج
    جج نے کہاکہ آپ مجھے جج ہمایوں دلاور سمجھتے ہیں وہ بھی انسان تھے،ہمایوں دلاور نے اپنے انداز سے توشہ خانہ کیس چلایا، ابوالحسنات سائفر کیس اپنے طریقے سے چلائے گا، سائفر کیس کا ٹرائل ہو گا تو چیئرمین پی ٹی آئی باہر آئیں گے نا ،مجھے بتائیں اب تک سائفر کیس کی سماعت کیا موثر انداز میں نہیں ہوئی؟وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ کوئی شک نہیں کہ آپ پی ٹی آئی وکلا کی باتوں کو سمجھتے ہیں، جج نے کہا کہ اللہ نے سائفر کیس کا فیصلہ ابوالحسنات کے ہاتھوں سے کرانا ہے تو ابوالحسنات ہی کرے گا، وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ آپ نے مائنڈ نہیں کرنا، سائفر کیس کی سماعت 10اکتوبر کو تھی، نقول کیلئے کیوں جلد سماعت رکھی؟ جج نے کہاکہ اگر سائفر کیس کا ٹرائل چلانا ہے تو بتائیں، نہیں چلانا تب بھی بتا دیں،ٹرائل کیلئے وافر وقت دے رہا ہوں، آپ کی قانونی ٹیم کو سمجھ ہی نہیں آ رہی،میں سائفر کیس کا ٹرائل بہت موثر انداز میں چلانا چاہ رہا ہوں،ابوالحسنات ذوالقرنین نہیں تو کوئی اور سائفر کیس کا ٹرائل کرلے گا، سائفر کیس میں چالان کی نقول کبھی نہ کبھی تو فراہم کرنی ہیں نا،جوڈیشل ریمانڈ کی اہمیت کو سمجھیں ، چالان آ جائے تو جوڈیشل ریمانڈ غیرموثر ہو جاتا ہے ،جوڈیشل ریمانڈ کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کی 14روز بعد خیروعافیت معلوم کرنا ہے،

    وکیل نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججز نے کہاجج ہمایوں دلاور کو توشہ خانہ کیس میں کیا جلدی ہے،توشہ خانہ، سائفر کیس میں ملزم کو ٹرائل کی جلد ی ہونی چاہئے،یہاں مدعی جلدی کررہا ہے،دیگر کیسز معمول کے مطابق چلائے جارہے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کیسز کا جلدی ٹرائل کیا جا رہا ہے،جج نے کہا کہ سائفر کیس عام نوعیت کا نہیں، ہائی پروفائل حساس کیس ہے، اہمیت کو سمجھیں ،وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ سائفرکیس کوئی حساس کیس نہیں، سائفر کیس کو حساس بنایا جا رہا ہے،جج نے کہاکہ سائفر کیس چالان کی نقول فراہم کرنی تھی، پی ٹی آئی قانونی ٹیم نے عدالت کی نہیں سنی

    چئیرمین پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لئے لیگل ٹیم کے تین ارکان کو اجازت مل گئی،اجازت ملنے والی وکلاء کی ٹیم میں حامد خان، عمیر نیازی، شعیب شاہین شامل ہیں،اڈیالہ جیل کے باہر بھی وکلا کی بڑی تعداد موجودہے

     سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

  • سائفر کیس؛ عمران خان ضمانت مسترد کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سائفر کیس؛ عمران خان ضمانت مسترد کا تفصیلی فیصلہ جاری

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم اسلام آباد کی اسپیشل عدالت نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے اور آفیشل سیکرٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔

    جبکہ تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے ناقابل ضمانت جرم کا ارتکاب کیا، ہمیں اس بات سے نظر نہیں پھیرنی چاہیے کہ یہ ایک ٹاپ سیکرٹ کیس ہے اور فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی مقدمے میں ایک کردار کے تحت نامزد ہیں۔ اور ان کے خلاف کافی مجرمانہ مواد موجود ہے۔

    تاہم جج نے لکھا ہے کہ ایف آئی آر کی روشنی میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے دفعہ 5 اور 9 کے تحت جرم کا ارتکاب کیا، ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت مسترد کرنے کے لیے ریکارڈ ہی کافی ہے۔ اس لیے دونوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کولمبو ، پاکستان بمقابلہ سری لنکا،میچ میں ایک بار پھر بارش کی انٹری
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    جبکہ واضح رہے کہ اس سے قبل آفیشل سیکرٹ عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی، یاد رہے کہ آفیشل سیکرٹ عدالت نے ہی پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل اسد عمر کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی تھی۔