Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • عمران خان کے پرسنل ڈاکٹرکو ملی ملاقات کی اجازت

    عمران خان کے پرسنل ڈاکٹرکو ملی ملاقات کی اجازت

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ، سائفر کیس اپڈیٹ،عدالت نے عمران خان کے پرسنل ڈاکٹر فیصل سلطان کو عمران خان سے جیل میں ملنے کی اجازت دے دی

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذولقرنین نے احکامات جاری کئے، تحریک انصاف کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ عمران خان کے پرسنل ڈاکٹر کو جیل میں ملنے دیا جائے، عدالت نے درخواست منظور کر لی ہے

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری درخواست پر جج ابو الحسنات صاحب نے لیگل ٹیم میں شعیب شاہین،انتظار حسین پنجوتھہ،علی اعجاز بٹر،سردار سمیر کھوسہ ،ڈاکٹر فیصل اور مجھے عمران خان صاحب سے ملنے کی اجازت مل گئی ہے،کچھ آج اور کچھ کل خان صاحب سے ملنے اٹک جیل جائیں گے .

    واضح رہے کہ عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی ہے جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں اٹک جیل میں رکھا گیا ہے، عمران خان چودہ روزہ جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں، گزشتہ روزعمران خان نے بیٹوں سے بات کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی، عمران خان نے اپنے وکیل عمیر اور شیراز احمد کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ٹیلی فون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں ،

    جج خصوصی عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو بیٹوں سے والد کی ورچوئل ملاقات کرانے کی ہدایت کردی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس،سماعت اٹک جیل میں کرنے کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا

    سائفر کیس،سماعت اٹک جیل میں کرنے کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    دوسری جانب سائفرکیس،سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین اٹک جیل سے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے، شاہ محمود قریشی کے عدالت پہچنے پر سائفرکیس کی سماعت شروع ہوگی،

    اٹک جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے بعد عمران خان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ یہ پروسیڈنگ جیل میں نہیں ہوسکتی، ہم نے ٹرائل کو چیلنج کیا ہے ،جیل ٹرائل انکے ہوتے ہیں جو خطرناک مجرم ہوں،11 ماہ میں چیئرمین پی ٹی آئی سیکڑوں سماعتوں پر آتے رہے ،چیئرمین پی ٹی آئی کو اس کیس میں 15 روز قبل گرفتار کیا گیا،آج 30 اگست ہوگئی ایف آئی اے کی ٹیم صرف 2 مرتبہ آئی، ملزم کو بھی نہیں پتا اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو فری ٹرائل نہیں دیا جارہا،چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کے حوالے سے 2 الزامات ہیں، کہا گیا سائفر کو چھپا کر رکھا گیا اور اسکا غلط استعمال کیا گیا،

    عمران خان آج بالکل فریش اور صحت مند نظر آئے،وکیل
    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان آج بالکل فریش اور صحت مند نظر آئے، انہوں نے کہا کہ میں حقیقی آزادی کی جنگ جاری رکھوں گا، آزادی کے بغیر پورا پاکستان ایک جیل کی مانند ہے اور اگر آزادی نہ ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انسان جیل میں بند ہے یا باہر ہے کیونکہ اصل آزادی قانون کی حکمرانی اور آئین کی سربلندی میں ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اٹک جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کی جیل میں ٹرائل کی ہر گز ضرورت نہیں ہے، سکیورٹی کی بناء پر صبح 9 بجے سماعت رکھی، ہمیں مشکل سے جیل کے اندر جانے دیا گیا،ہم نے جیل ٹرائل کے خلاف درخواست جمع کرادی ہے، پیر کے روز پر سماعت ہوگی،چیئرمین پی ٹی آئی سے خوشگوار موڈ میں ملاقات ہوئی، چئیرمین پی ٹی آئی کو 15 اگست سے اس کیس میں گرفتار ظاہر کیا گیا جس کا کسی کو علم نہیں تھا ،آج سے 15 دن پہلے چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں جوڈیشل ہو چکے ہیں، اس کا بھی کسی کو علم نہیں ،چیئر مین پی ٹی آئی کو فری ٹرائل کا حق نہ دینا آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے، ہم نے ضمانت کی درخواست بھی دائر کی ہے جس کی 2 ستمبر کو سماعت ہوگی،رانا ثناءاللہ مطابق سائفر انکے پاس ہے تو پھر چیئرمین پی ٹی آئی سے کیا مانگا جا رہا ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل میں ایک ہفتہ صرف دال روٹی کھائی، انہیں چھوٹے کمرے میں رکھا گیا ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ ہفتے میں ایک دن مرغی کا پتلا شوربہ دیا جاتا ہے چیئرمین پی ٹی کے نہانے کے لئے کوئی پردہ نہیں، پہلے3 فٹ کی دیوار تھی، اب تھوڑی سی اونچی کی گئی ہے،

    واضح رہے کہ آج اٹک جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی تھی،جج ابوالحسنات ذولقرنین نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 ستمبر تک توسیع کر دی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس،اٹک جیل میں سماعت ،عمران کے ریمانڈ میں توسیع

    سائفر کیس،اٹک جیل میں سماعت ،عمران کے ریمانڈ میں توسیع

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین اٹک جیل پہنچ گئے

    سائفر کیس کی سماعت سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اٹک جیل میں موجود تھے، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواستِ ضمانت بعد ازگر فتاری دائر کر دی ،ان کیمرہ سماعت کے باعث میڈیا نمائندوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، عمران خان کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 ستمبر تک توسیع کر دی گئی،

    پی ٹی آئی وکیل شیرافضل مروت نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین سےکمرہ عدالت میں مکالمہ کیا اور کہا کہ کیا آپ کوعدالت اٹک جیل میں لگانےکا این او سی ملا تھا؟جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھے اٹک جیل میں سائفرکیس کی سماعت کرنےکا این او سی ملا تھا، وکیل نے کہا کہ کیا آپ سے حکومت نے اٹک جیل سماعت منتقلی پر رائے لی تھی؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھ سے حکومت نے سماعت اٹک جیل منتقلی پر رائے نہیں لی، پی ٹی آئی وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ پھر آپ نے کیسے اٹک جیل منتقل کرکے سائفرکیس کی سماعت کرلی،

    چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے تین درخواستیں دائر کیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت دائر کی گئی،وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرنےکی درخواست بھی دائر کی گئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ستمبر کو جواب طلب کر لیا ،جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے فریقین سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر 2 ستمبر کو دلائل طلب کر لیے

    اٹک جیل میں لگائی گئی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت مکمل ہوگئی، عمران خان کے وکلاء کچھ دیر بعد آکر سماعت سے متعلق مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جج بھی سماعت کے بعد واپس روانہ ہو گئے ہیں،دوسری جانب وکیل لطیف کھوسہ عمران خان سے ملنے اٹک جیل پہنچ گئے

    وزارت قانون نے سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کی اجازت دی تھی ،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا تھا

    قبل ازیں پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کو جیل جانے سے روک دیا ،پولیس کا کہنا ہے کہ صرف ایک وکیل کو جیل کے اندر جانے کی اجازت ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے تمام ممبران کا جیل کے اندر جانے پر اسرار ہے،عمران خان کی لیگل ٹیم میں بیرسٹر گوہر، بیرسٹر عمیر نیازی، خالد یوسف چوہدری، پنجوتھہ برادران شامل ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کی جانب سے ضمانت کی داخواست تیار کر لی گئی ،بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مقدمہ بنتا ہی نہیں،یہ سٹیج ضمانت کی بنتی ہے اس لیے آج ضمانت کی درخواست دائر کریں گے ،ٹرائل شروع نہیں ہوا ثبوت ٹرائل کے دوران دیئے جاتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی مقدمات بنائے جا رہے ہیں،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تھی، جس کے بعد عمران خان جنکو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا تھا وہ جوڈیشیل ریمانڈ پر تھے، آج انکا ریمانڈ ختم ہو رہا ہے، آج انکو عدالت پیش کیا جانا تھا تا ہم اب کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہی ہو گی،

    سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ٹیم عمران خان سے اٹک جیل میں تحقیقات بھی کر چکی ہے، ، تحقیقاتی ٹیم ایک گھنٹے تک اٹک جیل میں عمران خان کے پاس رہی، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کے لیے اٹک جیل گئی تھی،، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • ریلیف نہیں چاہیے، قانون کے مطابق فیصلہ دیں،ترجمان چیئرمین پی ٹی آئی نعیم حیدر

    ریلیف نہیں چاہیے، قانون کے مطابق فیصلہ دیں،ترجمان چیئرمین پی ٹی آئی نعیم حیدر

    اسلام آباد: ترجمان چیئرمین پی ٹی آئی نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا ہے کہ ریلیف نہیں چاہیے ، قانون کے مطابق فیصلہ دیں –

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا ہے کہ عدالت میں ایف آئی اے نے کہا اصل سائفر وزارت خارجہ میں موجود ہے، امید ہے چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت سوموار کو ہو جائے گی،ہم نے کہا ریلیف نہیں چاہیے ، قانون کے مطابق فیصلہ دیں 90 روز کے اندر انتخابات پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر وزیراعظم کو بھی خط لکھا ہے۔

    قبل ازیں شاہ محمود قریشی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں سائفر کیس میں جسمانی ریمانڈ کے تین حکم ناموں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہےشاہ محمود قریشی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلیے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،میں نے نہ تو سائفر ٹیلی گرام لیا اور نہ ہی اس کی نقل کسی غیر مجاز شخص کو ظاہر کی، ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ سائفر وزارت خارجہ کے پاس ہی ہے میں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے قانون کے مطابق اس وقت کے وزیراعظم کو پیغام پہنچایا تھا۔

    سائفر مجھ سے گم ہو گیا ،عمران خان کا تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اعتراف

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان سے اٹک جیل میں سائفر کے حوالہ سے تحقیقات کی گئیں، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی بھی گرفتار ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے-

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟
    خیال رہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔

    اس کے علاوہ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں-

    نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات کو ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔ بعد ازاں اعظم خان نے بھی سائفر کو پری پلان ڈرامہ قرار دے دیا تھا۔

  • مجھے گرفتار نہیں کیا گیا تھا، اسد عمر،سائفر کیس میں ضمانت منظور

    مجھے گرفتار نہیں کیا گیا تھا، اسد عمر،سائفر کیس میں ضمانت منظور

    اسد عمر منظر عام پر آ گئے ،سائفر کیس میں گرفتاری کی خبروں کی تردید کر دی

    اسد عمر عدالت پیش ہوئے، اس موقع پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ میری گرفتاری کی غلط خبر تھی۔مجھے ایف آئی اے نے گرفتار نہیں کیا تھا۔سائفر کے معاملے میں عدالت آیا ہوں اور اس کیس میں ضمانت قبل ازگرفتاری دائر کی ہے دو بار سائفر معاملے پر شامل تفتیش ہو چکا ہوں۔ جج صاحب نے دورہ کیا اٹک جیل کا،سنجیدہ الزامات پر مبنی رپورٹ تیار کی گئی جج صاحب کی طرف سے۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت سے اسد عمر کی سائفر کیس میں 29 اگست تک عبوری ضمانت منظور کر لی گئی، عدالت نے ایف آئی اے کو کیس کے حتمی فیصلے تک اسد عمر کو گرفتاری سے روک دیا،

    انسدادِدہشتگردی عدالت اسلام آباد،اسدعمر کے خلاف تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے میں 12 اکتوبر تک ضمانت میں توسیع کر دی گئی،اسدعمر اپنے وکیل بابراعوان کے ساتھ اے ٹی سی عدالت پیش ہوئے ،اے ٹی سی جج ابوالحسنات نے اسدعمر کی تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے میں ضمانت میں توسیع کی

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی بھی گرفتار ہیں، گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کیا گیا تھا،

  • سائفرگمشدگی کیس:چئیرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی کےخلاف مقدمہ درج

    سائفرگمشدگی کیس:چئیرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی کےخلاف مقدمہ درج

    لاہور: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو سائفرگمشدگی کیس میں بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی توشہ خانہ کیس میں اس وقت اٹک جیل میں تین سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) آج شام شاہ محمود قریشی کو بھی گرفتار کرچکی ہے چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے-

    نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چئیرمین پی ٹی آئی اور وائس چئیرمین پی ٹی آئی کےخلاف ایف آئی آر 15 اگست کو درج کی گئی اور یہ مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج کیا گیا،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے، اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہے-

    پی ٹی آئی کی عمران خان کی جانب سےچندہ جمع کرنے کی مہم کی تردید

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق سابق وزیراعظم اور سابق وزیرخارجہ نے سائفرمیں موجود اطلاعات غیرمجاز افراد تک پہنچائیں، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا مذموم مقاصد اور ذاتی فائدے کے لیے حقائق کو مسخ کیا اور دونوں نے ریاست کے مفادات کو خطرے میں ڈالا، مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے سائفر کے مندرجات کے غلط استعمال کی سازش کی گئی۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق 28 مارچ کو بنی گالہ اجلاس میں سائفر کے مندرجات کے غلط استعمال کی سازش کی گئی، سابق وزیراعظم نے اعظم خان کو سائفر پیغام کے مندرجات میں ہیر پھیر کرنے کو کہا، عمران خان نے قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے مذموم مقاصد کے لیے سائفر کو استعمال کیا عمران خان نے سائفر ٹیلی گرام بدنیتی کے تحت اپنے پاس رکھا اور وزارت خارجہ واپس نہیں بھیجا اور یہ اب بھی سابق وزیراعظم کے قبضے میں ہے۔

    اغوا کے ڈرامے میں دوست کی جان چلی گئی،2 اے ایس آئی گرفتار

    ایف آئی آر کےمتن کے مطابق سائفرٹیلی گرام غیرقانونی قبضے میں رکھنے سے پورا سائفر سکیورٹی سسٹم خطرے سے دوچار ہوا، ملزمان کے ان اقدامات سے غیرملکی قوتوں کو بالواسطہ اور بلاواسطہ فائدہ پہنچا اور ملزمان کے ان اقدامات سے ریاست پاکستان کو نقصان پہنچا، سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے کردار کا تعین تحقیقات کے دوران کیا جائے گاجب کہ سابق وزیراسد عمراور دوسرے ساتھیوں کے کردار کا تعین بھی تحقیقات کے دوران کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو آج اسلام آباد میں سائفر گمشدگی کے معاملے پر درج مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    سندھ کی 10 رکنی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا

  • سائفر آڈیو لیک میں عمران خان کی ایف آئی اے طلبی کے نوٹسز معطل

    سائفر آڈیو لیک میں عمران خان کی ایف آئی اے طلبی کے نوٹسز معطل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ،عمران خان کی سائفر آڈیو لیک سکینڈل میں طلبی کیخلاف ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    سائفر آڈیو لیک میں عمران خان کی ایف آئی اے طلبی کے نوٹسز معطل کر دیئے گئے،لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا لاہور ہائیکورٹ نے مزید سماعت 19دسمبر تک ملتوی کردی، دوران سماعت وکیل نے کہا کہ عمران خان کے طلبی کے نوٹسز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بطور ملزم بلوایا ہے یا گواہ، جسٹس اسجد جاوید گھرال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ آڈیو لیک ہوئی کیسے؟ کیا اس پر کوئی انکوائری ہوئی ،وکیل عمران خان نے عدالت میں جواب دیا کہ یہ نہیں پتہ چلا یہ آڈیو لیک کیسے ہوئی، عدالت نے کہا کہ آڈیو لیک کی انکوائری ضرور ہونی چاہیے، وکیل عمران خان نے کہا کہ ایف آئی اے نے نیٹ سے آڈیو اٹھائی اور نوٹسز جاری کردیے، اس آڈیو کا کوئی فرانزک نہیں ہوا، درخواستگزار سپریم کورٹ میں جلد درخواست دائر کررہے ہیں،

    قبل ازیں وکیل عمران خان نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے لاہور ہائیکورٹ متعلقہ فورم نہ ہونے کا اعتراض لگایا .بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں بھی سماعت ہو سکتی ہے ،وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان لاہور میں رہائش پذیر ہیں ، ان کا گھر بھی یہاں ہے ایف آئی اے کے نوٹس پر پتہ بھی لاہور کا درج کیا گیا ہے ایف آئی اے نے آج عمران خان کو اسلام آباد طلب کر رکھا ہے ،

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کیطرف سے سائفر آڈیو اسکینڈل انکوائری کیخلاف دائر درخواست پر سماعت وقفے تک ملتوی کر گئی، رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کر دیا ہے کہ،یہ کیس یہاں دائر نہیں کیا جاسکتا،وکیل عمران خان نے عدالت میں جواب دیاکہ تین فیصلے ایسے ہیں جنکی روشنی میں عدالت کیس سن سکتی ہے،

    عمران خان نے طلبی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ,درخواست میں وفاقی حکومت ،ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان ایک شریف اور نامور شہری ہیں،ایف آئی اے نے سیاسی بنیادوں پر نوٹسز جاری کیے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کیخلاف پروپیگنڈا کیا گیا ہے، ایف آئی اے نے سائفر میسج معاملے پر انکوائری شروع کر رکھی ہے ،ایف آئی اے سائفر معاملے پر بیان قلمبند کرانے کیلئے 6 دسمبر کو طلب کیا،سائفر انکوائری کو پہلے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے بے بنیاد انکوائری میں طلب کیا گیا عدالت ایف آئی اے طلبی کے نوٹسز کو کالعدم قرار دے،

    عمران خان نے عدالت میں دائر درخواست میں مزید کہا کہ وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ بھی اسی سیاسی انتقام کا شاخسانہ ہے ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سائفر آڈیو لیک سکینڈل کی انکوائری کو غیرقانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے ،درخواست کے حتمی فیصلے تک سائفر آڈیو لیک سکینڈل انکوائری کو روکا جائے

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں ایف آئی اے نے عمران خان کو دوبارہ طلب کیا تھا.ایف آئی اے کا افسر طلبی کے سمن لے کر زمان پارک گیا تھا، ایف آئی اے نے سائفر کیس میں وزارت داخلہ کے حکم پر تحقیقات کا آغاز کردیا ،تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے لاہور کے اعلی ٰافسران شامل ہیں،ایف آئی اے نے اس سے قبل بھی عمران خان کو طلبی کے نوٹس جاری کیے تھے عمران خان کو اس سے قبل 7نومبر اور شاہ محمود قریشی کو 3نومبر کو طلب کیا گیا تھا.

     لانگ مارچ کا آج دوبارہ سے آغاز پنجاب پولیس نے سکیورٹی پلان از سر نو تشکیل دیدیا

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تھی تو اسوقت عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ایک جلسے میں ایک خط لہرایا تھا اور اس خط کو انکی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کہا تھا، بعد ازاں بتایا گیا تھا کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کی جائے، عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد ابھی تک اسی بیانئے کو لے کر چل رہے تھے تا ہم سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں واضح کہا گیا کہ کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی، عمران خان اسی سائفر کو لے کر اپنی تحریک چلا رہے ہیں اور عمران خان کا غیر ملکی سازش و مداخلت کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو چکا ہے تا ہم سائفر کے حوالہ سے عمران خان کی دو آڈیو لیک ہو چکی ہیں جس کے بعد سائفر کا بیانیہ پٹ گیا

    سائفر کے حوالہ سے 25 اپریل کو ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار سے سوال کیا گیا کہ مراسلہ سے متعلق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد بہت کنفیوژن ہے،جس کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں ہونے والی بحث کو دیکھنا ہو گا،این ایس سی کے دونوں اجلاسوں میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا ہے،سیکیورٹی ایجنسیز نے بتایا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی،اسد مجید کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد تھیں، اور ہیں کمیٹی اجلاس میں سفیر اسد مجید ہو کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا کسی سفیر پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا.ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخارکا مزید کہنا تھا کہ مراسلے کوکئی روز تک کو دبانے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔ ٹیلیگرام جیسے ہی دفترخارجہ پہنچا اور قانون کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا اور پھر ڈی مارش دیا گیا