Baaghi TV

Tag: سائنسدان

  • گیس سے بھری ہوئی  کہکشائیں دریافت

    گیس سے بھری ہوئی کہکشائیں دریافت

    سائنسدانوں نے گیس سے بھری ہوئی لاتعداد کہکشائیں دریافت کر لیں۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو میں پانچ سو میٹر قطر کی ریڈیو ٹیلی سکوپ (فاسٹ) کے ذریعے دور کائنات میں گیس سے بھری ہوئی لاتعداد کہکشائیں دریافت کیں-

    تحقیق کے مطابق نئی دریافت ہونے والی کہکشائوں سےخارج ہونے والی ریڈیائی لہروں کو زمین تک پہنچنے میں ہمارے نظام شمسی کی تقریبا عمر لگ گئی ہے، ان میں اس قدر یا اس سے زیادہ ایٹم ہائیڈروجن گیس موجود ہے جتنی اس سے قبل ریڈیو دوربینوں سے دریافت ہونے والی ہزاروں کہکشاوں میں پائی جاتی ہے۔

    جاپان: ڈبل روٹی کے پیکٹس سے چوہے کی باقیات برآمد ہونے پر کمپنی کا …

    چین کی اکیڈمی آف سائنسز (این اے او سی)کے تحت قومی فلکیاتی رصد گاہوں سے وابستہ اس تحقیق کے سرکردہ مصنف شی ہونگ وی نے آسٹریلیا، امریکہ اور روس کے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر اس تحقیق میں چھ نئی ہائی ریڈ شفٹ کہکشاں کی خصوصیات کو دریافت کیا۔

    ہالی ووڈ پاکستانی ثقافت سے متاثر ہوکر فلم بنانے کیلئے پرامید

    تحقیق کے مطابق نیا ہائی ریڈ شفٹ کہکشاں کا نمونہ کہکشاوں میں ٹھنڈی گیس کے بننے کے عمل کو جاننے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، مستقبل میں ایک بڑی جسامت کی ریڈ شفٹ کہکشاں کے نمونے سے کہکشاوں کی تشکیل اور ارتقا کے حوالے سے انسانی علم میں بہتری ممکن ہوسکے گی۔

    گزشتہ 21 سالوں میں سب سے طاقتور شمسی طوفان زمین کی فضا سے ٹکرا گیا

  • چرنوبل پاور پلانٹ کے اطراف میں موجود کیچووں میں نئی سُپر پاور کا انکشاف

    چرنوبل پاور پلانٹ کے اطراف میں موجود کیچووں میں نئی سُپر پاور کا انکشاف

    نیو یارک: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ شمالی یوکرین (سابقہ سویت یونین) میں واقع چرنوبل پاور پلانٹ کے اطراف میں موجود کیچووں میں نئی سُپر پاور کا انکشاف ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کو تابکار شعاعوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

    باغی ٹی وی:ایک نئی تحقیق میں، سائنسدانوں نے چرنوبل کا دورہ کیا تاکہ نیماٹوڈس، سادہ جینیاتی میک اپ والے چھوٹے کیڑے، جو تیزی سے دوبارہ پیدا ہوتے ہیں، محققین نے مٹی کے نمونوں، سڑنے والے پھلوں اور دیگر مواد سے کیڑے اکٹھے کیے اور تابکاری کی مقامی سطح کا تجربہ کیا-

    تابکاری کی سطحیں نچلی سطحوں سے مختلف ہوتی ہیں جو بڑے شہروں میں ریکارڈ کی جائیں گی، اور بلند سطحیں جو بیرونی خلا میں پائی جاتی ہیں، اس کے بعد سائنسدان ان کیڑے کو منجمد کرنے اور ان کا مطالعہ کرنے کے لیے واپس نیویارک یونیورسٹی لے گئے۔

    پہلی بار صدارتی الیکشن میں نہ کوئی ووٹ بیچا گیا نہ خریدا گیا،محمود خان …

    1986 میں چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بعد سے اس کے اطراف کا علاقہ دنیا کا سب سے تابکار خطہ بن گیا ہےتحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹر صوفیا ٹِنٹر کا کہنا تھا کہ چرنوبل ناقابلِ فہم پیمانے پر ہونے والی تباہی تھی لیکن اب تک مقامی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو اچھے طریقے سے نہیں سمجھا جا سکا ہےپاور پلانٹ میں ہونے والے دھماکے کے بعد علاقے سے انسانوں کا انخلا تو کرادیا گیا تھا لیکن بڑی مقدار میں تابکار شعاعوں کےباوجود متعدد پودے اور جانور اس خطےمیں موجود رہے اور تقریباً چار دہائیوں بعد آج بھی موجود ہیں۔

    مذہبی رہنما ڈاکٹر حافظ مسعوداظہر کیساتھ ڈکیتی کی واردات،پولیس کی بروقت کارروائی میں ڈاکو گرفتار …

    حالیہ برسوں میں محققین کو معلوم ہوا ہےکہ چرنوبل ایکسکلوژن زون (شمالی یوکرین میں پاور پلانٹ کے 29.93 کلومیٹر ریڈیس کا علاقہ) کے علاقے میں رہنے والے جانور جسمانی اور جینیاتی اعتبار سے اپنے جیسے دنیا کے دیگر جانوروں سے مختلف ہیں اور یہ چیز ان کے ڈی این اے پر پڑنے والی دائمی شعاعوں کے اثرات کے متعلق سوالات اٹھاتی ہے۔

    بہاولنگر میں بیٹے نے باپ کو چھریوں کے وار سے مار دیا

    اس نئی تحقیق میں محققین نے چرنوبل جا کر نیمیٹوڈز کا مطالعہ کیا،نیمیٹوڈز سادہ جینوم اور فوری افزائش نسل کرنے والے چھوٹے کیچوے ہوتے ہیں، جو ان کو بنیادی حیاتیاتی مظہر سمجھنے کے لیےکافی کارآمد بناتا ہےمحققین یہ بات جان کر حیران ہوئے کہ چرنوبل سے لائے گئے کیچوں کے جینوم میں شعاعوں کے سبب کسی قسم کے نقصان کی کوئی تشخیص نہیں ہوسکی۔

  • چاند ایک ‘نئے دور’ میں داخل ہو گیا ہے،سائنسدان

    چاند ایک ‘نئے دور’ میں داخل ہو گیا ہے،سائنسدان

    کینزس: سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی سائنس دانوں کی جانب سے اس دور کو ’لونر(قمری) اینتھروپوسین‘ کا نام دیا گیا ہےاینتھروپوسین وہ ارضیاتی عمر ہوتی ہے جس کو بطور اس دور کے دیکھا جاتا ہے جب انسانی سرگرمیاں موسم اور ماحول کو اثر انداز کرنے کے لیے غالب رہی ہوں،چاند کے نئے دور کے متعلق محققین کی جانب سے کی جانے والی یہ بحث نیچر جیو سائنس میں بطور کمنٹ آرٹیکل کے طور پر شائع ہوئی۔

    محققین کا کہنا ہے کہ انسانوں نے چاند کی سرزمین کو بدلا ہے اور اس حد تک بدلنے کا ارادہ کیا ہے کہ یہ مصنوعی سیارچوں (سیٹلائٹ) کے نئے دور کے طور پر سمجھا جائےانسانیت کا آئندہ برسوں میں چاند کے ماحول کو مزید تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں چاند کی سطح پر واپس جانا اور انسانوں کو دوبارہ اتارنا شامل ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ انسانیت کی جانب سے کی جانے والی تبدیلیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا یہ واضح کرنے کا ایک اہم طریقہ ہو گا کہ چاند کی سطح غیر متغیر نہیں ہے اور انسانیت نے اسے کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے، اس دور کی ابتداء 1959 میں ہوئی جب روس کا لُونا 2 خلائی جہاز چاند کی سطح پر اترنے والا پہلا اسپیس کرافٹ بنا۔

    یونیورسٹی آف کینزس سے تعلق رکھنے والے ارضیاتی محقق اور تحقیق کے سربراہ مصنف جسٹن ہولکومب کا کہنا تھا کہ یہ خیال بالکل زمین پر اینتھروپوسین کے متعلق ہونے والے مباحثے جیسا ہے، جس میں یہ مطالعہ کیا گیا کہ انسانوں نے اس سیارے کو کتنا متاثر کیا ہے،زمین پر اتفاق رائے یہ ہے کہ انتھروپوسین کا آغاز ماضی میں کسی وقت ہوا، چاہے سیکڑوں ہزار سال پہلے ہو یا 1950 کی دہائی میں۔

    شائع ہونے والے اس تبصرے میں سائنس دانوں نے بتایا کہ قمری اینتھروپوسین کی ابتدا ہوچکی ہے لیکن سائنس دان چاند کو بڑے نقصان سے بچانا چاہتے ہیں یا اس کی شناخت کو اس وقت تک قائم رکھنا چاہتے ہیں جب تک سائنس دان انسانی سرگرمیوں کے سبب بننے والے چاند کے ہالے کی پیمائش کر سکیں، اور اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

    انسان چاند کی سطح پر پہلے ہی بہت کچرا پھیلا چکا ہے اس کچرے میں پہلی بار چاند پر اترتے وقت گالف کی گیندیں اور جھنڈے شامل ہیں جو وہاں پر چھوڑے گئے تھے اس میں انسانی فضلا اور دیگر کچرا بھی شامل ہے۔

    مزید یہ کہ انسانیت چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے، کیونکہ انسان چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور لوگ اس سطح کو کھود کر وہاں رہنے کی تیاری کر رہے ہیں-

    "ثقافتی عمل چاند پر ارضیاتی عمل کے قدرتی پس منظر کو پیچھے چھوڑنا شروع کر رہے ہیں،” ہالکومب نے کہا۔ "ان عملوں میں حرکت پذیر تلچھٹ شامل ہیں، جسے ہم چاند پر ‘ریگولتھ’ کہتے ہیں۔ عام طور پر، ان عملوں میں meteoroid اثرات اور بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کے واقعات شامل ہوتے ہیں۔ تاہم، جب ہم روورز، لینڈرز اور انسانی نقل و حرکت کے اثرات پر غور کرتے ہیں، تو وہ ریگولتھ کو نمایاں طور پر پریشان کرتے ہیں۔

    "نئی خلائی دوڑ کے تناظر میں، چاند کا منظر 50 سالوں میں بالکل مختلف ہو جائے گا متعدد ممالک موجود ہوں گے، جس سے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، ہمارا مقصد قمری جامد افسانہ کو دور کرنا اور اپنے اثرات کی اہمیت پر زور دینا ہے، نہ صرف ماضی میں بلکہ جاری اور مستقبل میں۔ ہم چاند کی سطح پر اپنے اثرات کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔”

  • پاکستانی سائنسدانوں نےلمبے چاولوں کی نئی قسم پیدا کرلی

    پاکستانی سائنسدانوں نےلمبے چاولوں کی نئی قسم پیدا کرلی

    اسلام آباد،باغی ٹی وی (ویب نیوز) پاکستانی سائنسدان سب سے لمبے چاولوں کی نئی قسم سونا سپر باسمتی پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، نئی قسم کے چاول کے دانے کی لمبائی 9.5 ملی میٹر ہے۔
    رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کالا شاہ کاکو کے سائنسدانوں نے یہ کامیابی حاصل کر کے اپنے ہی ادارے کے تیار کردہ رائس ورائٹی PK 2021 کا ریکارڈ توڑ دیا ہے جس کا دانہ 8.26 ملی میٹر لمبا تھا۔چیف سائنسداں سید سلطان علی اور ڈاکٹر مخدوم صابر کے مطابق رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کالا شاہ کاکو کی تیار کردہ چاولوں کی دو اقسام کو PARC میں منعقدہ ورائٹی ایویلیوایشن کمیٹی میں عام کاشت کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
    ڈاکٹر مخدوم صابر کے مطابق چاولوں کی ایک قسم سونا سپر باسمتی ہے جو کہ اب تک کا سب سے لمبا باسمتی اناج ہے جس کی لمبائی 9.5 ملی میٹر ہے جب کہ اسی ادارے کی تیار کردہ دوسری ورائٹی وائٹل سپر باسمتی کہلاتی ہے جو آئرن اور زنک کی زیادہ مقدار کی حامل ملک کی پہلی مضبوط ورائٹی ہے۔
    علاوہ ازیں RRI کالا شاہ کاکو نے موٹے چاولوں کی ملک میں پہلی نئی ہائبرڈ قسم KSK 2023 بھی متعارف کرائی ہے جس کی فی ایکڑ پیداوار 110 من حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاولوں کی یہ ہائبرڈ قسم 109 دن میں تیار ہوجاتی ہے۔

  • 100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    فلوریڈا: گزشتہ 30 دنوں سے زیر آب رہنے والے سائنسدان نے ایک نئی نوع کے دریافت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سابق نیول افسر ڈاکٹر جوزف ڈِٹوری جو فلوریڈا لگون میں سطح سمندر سے 30 فٹ کی گہرائی میں ریکارڈ بنانے کی غرض سے100 دن کے لیے موجود ہیں۔ اس کوشش کا ایک مقصد طویل مدت تک جسم پر پڑنے والے انتہائی دباؤ کے سبب ہونے والے اثرات کا مطالعہ کرنا بھی ہے۔البتہ تجربے کے دوران ایک مہینے میں ہی ان کی ٹیم نے غیر متوقع طور پر ایک مختلف سائنسی دریافت کی ہے۔

    جامعہ فلوریڈا کے ایک پروفیسر100 دن زیر آب رہیں گے

    ڈاکٹر جوزف ڈِٹوری کے مطابق ٹیم نے ایک خلیے کا سیلیئٹ دریافت کیا جس کے متعلق ٹیم کا خیال ہے کہ یہ ایک بالکل نئی نوع ہے۔ لوگوں نے ہزاروں بار یہاں غوطہ خوری کی، یہ نوع یہیں تھی صرف ہم نے نہیں دیکھا تھا تاہم، مائیکرو بائیولوجسٹ اس کے نئے نوع ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے اس کا جائزہ لیں گے۔

    ڈاکٹر جوزف پُر امید ہیں کہ یہ دریافت بھی ان متعدد دریافت میں سے ایک ہوگی جو انہوں نے زیر آب گزارے جانے والے طویل وقت میں کی ہیں۔

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ تجربے کے دوران جسم پر پڑنے والے شدید دباؤ کے سبب ان کا قد ایک انچ تک کم ہو سکتا ہے۔ بالکل اس ہی طرح جیسے خلاء میں وقت گزارنے کے بعد خلاء نوردوں کا قد تین فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    ناسا نے چاند پرجانےکیلئے پہلی بارخاتون اورسیاہ فام خلانوردوں کومنتخب کرلیا

    واضح رہے کہ اس سے قبل وہ زیرِ آب بلبلے نما مرکزمیں وہ 16 روز 22 میٹرگہرائی میں گزارکر تحقیق کرچکے ہیں۔ تاہم گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق 2014 میں بروس سینٹرل اور جیسیکا فائن جولس انڈر سی لاج میں 73 دن تک رہ کر عالمی ریکارڈ بناچکے ہیں اب پروفیسر جوزف طویل تحقیق کے ساتھ یہ ریکارڈ بھی توڑنا چاہتے ہیں وہ فلوریڈا کے پاس کی لارگو لگون کے پاس 22 فٹ گہرائی میں بنے بلبلہ نما گھر میں آبی حیات پر تحقیق کر رہے ہیں-

    اس منصوبے کو ’پروجیکٹ نیپچون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جو ڈیٹوری چاہتے ہیں کہ ایک جانب وہ سمندر کی گہرائی میں رہ کر نئی دریافتیں کریں تو دوسری جانب وہ اتنے طویل عرصے تک پانی نے اندر رہ کر خود اپنے جسم پر اس کے اثرات دیکھنا چاہتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

  • مفتی تقی عثمانی کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کومشورہ

    مفتی تقی عثمانی کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کومشورہ

    نامور عالم دین مفتی تقی عثمانی نے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنے کا مشورہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ اگر کسی گھر کے لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں اور گھر میں آگ لگ جائے توکیا اس وقت یہ بحث کی جائیگی کہ آگ کس نے لگائی یا واحد راستہ یہ ہوگا کہ سب ملکر آگ بجھائیں؟ موجودہ بحران کا حل صرف یہی ہے کہ تمام جماعتیں اور ادارے منافرت اور دشمنی کے بجائے سرجوڑکرملک کوبچائیں-


    انہوں نے مزید لکھا کہ قرآن کریم فرماتاہے کہ "تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراو اوراللہ سے ڈرو تاکہ تمھارےساتھ رحمت کامعاملہ کیا جائے ” عوام اور بااثرحضرات کافرض ہے کہ وہ اس قرآنی حکم پرعمل کرکے رھنماوں کو ساتھ بٹھانے کی بھرپور کوشش کریں-


    مفتی تقی نےکہا کہ فوج اور عدلیہ کو یقیناًسیاست میں دخل نہیں دینا چاہئیے لیکن ایسے سنگین حالات میں جماعتوں کو ساتھ بٹھا کر غیرجانب داری سے خالص ملک کے مفاد اور قومی سلامتی کے لئے مسئلے کاحل نکالنا انکا فرض بنتا ہے اللہ تعالی اسکی توفیق عطا فرمائے آمین-

  • کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین بنانے والے روسی سائنسدان قتل

    کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین بنانے والے روسی سائنسدان قتل

    ماسکو: کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین بنانے والے روسی سائنسدان کو قتل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:” ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے گزشتہ روز ایک اعلیٰ سائنسدان کی ماسکو کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے جانے کے بعد قتل کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    2020 میں دیگر 18 سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کورونا کی ویکسین اسپوٹنک فائیوبنانے والے روسی سائنسدان اینڈرے بوٹیکوو کو ان کے گھر میں قتل کیا گیا۔

    حکام نے کہا تھا کہ وہ انکاؤنٹر میں اس وقت بچ گیا جب ایک گھسنے والا اس کے گھر میں گھس گیا اور پیسوں کے لیے اس کے ساتھ جھگڑا شروع کر دیا اینڈرے کی لاش ملنے کے چند گھنٹے بعد ایک 29 سالہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔

    تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ روسی سائنسدان کو بیلٹ سے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔

    حکام کا دعویٰ ہے کہ اینڈرے بوٹیکوو نے مرنے سے قبل شدید مزاحمت بھی کی تھی۔ اینڈرے بوٹیکووروس کے ریسرچ سینٹر میں سینئر ریسرچر کے طور پر کام کرتے تھے اور انہوں نے اسپوٹنک فائیو ویکسین کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا کہ انہوں نے ‘کم سے کم وقت میں’ مشتبہ شخص کو موقع سے فرار ہونے کی کوشش کے بعد ڈھونڈ لیا۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف کیا ہے۔

    کمیٹی نے یہ بھی بتایا کہ مدعا علیہ پر پہلے ہی ایک اور ‘سنگین’ جرم کرنے کے لیے مقدمہ چلایا جا چکا ہے۔

    روسی میڈیا نے بتایا کہ الیکسی زیڈ کے نام سے مشہور ملزم نے جنسی خدمات فراہم کرنے کے الزام میں 10 سال جیل میں گزارے۔

    اینڈری بوٹیکوف نیشنل ریسرچ سنٹر برائے ایپیڈیمولوجی اور مائیکرو بیالوجی کے سینئر محقق تھے۔

    اس سے قبل وہ روس کے ریاستی کلکشن آف وائرسز ڈی آئی میں کام کر چکے ہیں۔ Ivanovsky انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی ایک سینئر سائنسدان کے طور پر.

    سپوتنک وی ویکسین پر کام کرنے پر انہیں آرڈر آف میرٹ فار فادر لینڈ سے نوازا گیا۔

  • سوئیڈن سائنسدان نے طب کا امریکا،آسٹریا اور فرانس کے سائنسدانوں نے فزکس کا نوبل انعام اپنے نام کر لیا

    سوئیڈن سائنسدان نے طب کا امریکا،آسٹریا اور فرانس کے سائنسدانوں نے فزکس کا نوبل انعام اپنے نام کر لیا

    سوئیڈن کے سوانتے پابو نے فزیولوجی کے میدان میں اس سال کا نوبل انعام اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نوبل کمیٹی کے مطابق سوئیڈش سائنس دان کو یہ انعام معدوم ہوجانے والے انسانوں کے جینوم اور انسانی ارتقاء کے حوالے سے کی جانے والی دریافتوں پر دیا گیا ہے۔


    نوبل کمیٹی کا کہنا تھا کہ اپنی تحقیق کے ذریعے سوانتے پابو نے آج کے انسان کی معدوم قسم نِینڈرتھل کے جینوم کو ساخت دے کر بظاہر ناممکن دِکھنے والی چیز کو ممکن کر دِکھایا۔ انہوں نے ڈینیسووا نامی انسانی قسم کی دریافت بھی کی جو اس سے قبل نامعلوم تھی۔


    میکس پلینک انسٹیٹیوٹ کے شعبہ جینیات کے ڈائریکٹر سوانتے پابو کے متعلق جیوری نے بتایا کہ انہوں نے 70 ہزارسال قبل معدوم انسانی قسم سےموجودہ نوعِ انسانی میں افریقا سے مشرقِ وسطیٰ ہجرت کرجانے کے بعد ہونے والی جینیاتی منتقلی بھی دریافت کی۔


    جیوری کا کہنا تھا کہ دورِ حاضر کے انسانوں میں جینز کی یہ قدیم منتقلی آج بھی مطابت رکھتی ہے، جس کی مثال ہمارے مدافعتی نظام کا انفیکشنز پر دِکھایا جانے والا ردِ عمل ہے۔

    دوسری جانب رائل سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے سال 2022 کے لیے طبعیات (فزکس) کا نوبل انعام ’’کوانٹم مکینکس‘‘ پر تحقیق کرنے والے امریکا، آسٹریا اور فرانس سے تعلق رکھنے والے تین سائنس دانوں کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔


    رائل سویڈش اکیڈمی کی جانب سے فرانس کے ایلین ایسپیکٹ، امریکا کے جان کلوزر اور آسٹریا کے اینتون زِیلِنگر کو ایٹمی زرات کے رویوں سے متعلق کی جانے والی تحقیقات پر فزکس کا نوبل انعام برائے 2022 دیا گیا ہے۔


    https://twitter.com/NobelPrize/status/1577370223522496532?s=20&t=rVvKInbq57qYIJXZb0nfJw
    جیوری کے مطابق تینوں سائنس دانوں نے ذیلی ایٹمی ذرات کے رویوں سے متعلق تحقیق کی، جو سُپر کمپیوٹر اور اِنکرپٹڈ کمیونیکیشن کے حوالے سے مزید تحقیق کے دروازے کھولے گی اور اس موضوع کو مزید وسیع کرے گی۔


    رائل سویڈش اکیڈمی کی جیوری کے مطابق سائنس دانوں کو ’الجھے ہوئے فوٹون پر تجربات کرنے، ’بیل اِن اکویلیٹیز‘ کی خلاف ورزی ثابت کرنے اور کوانٹم انفارمیشن سائنس متعارف کرانے پر ایوارڈ دیا گیا ایوارڈ حاصل کرنے والوں نے اپنی تحقیق سے مزید بنیادی تحقیق کے راستے کھولے اور نئی عملی ٹیکنالوجی کے لیے راہیں ہموار کیں ہیں۔


    ایوارڈ حاصل کرنے والے فرانس کے ایلین ایسپیکٹ کا تعلق یونیورسٹی آف پیرس-سیکلے سے، آسٹریا کے اینتون زِیلِنگر یونیورسٹی آف ویانا سے وابستہ ہیں جبکہ امریکا کے جان کلوزر کیلیفورنیا میں ایک کمپنی کے مالک ہیں ان تینوں سائنس دانوں نے 2010 میں بھی مشترکہ طور پر وولف پرائز اپنے نام کیا تھا۔

    خیال رہے کہ سائنس کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دے کر نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنس دانوں کو ایوارڈ کے ساتھ 10 ملین سویڈش کرونر کی رقم بھی دی جائے گی۔ یہ رقم نوبل انعام کے موجد سویڈش الفریڈ نوبل کی چھوڑی گئی جائیداد میں سے دیا جاتا ہے۔


    واضح رہے کہ رائل سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے بدھ 05 اکتوبر کو کیمسٹری، جمعرات 6 اکتوبر کو لٹریچر جب کہ 7 اکتوبر جمعے کو امن کے نوبل انعام کے لیے ناموں کا اعلان کیا جائے گا جبکہ نوبل انعام برائے اکنامکس کی کیٹگری کیلیے اعلان سب سے آخر میں دس اکتوبر کو کیا جائے گا۔

  • دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا کونسا ہے؟

    انٹارکٹیکا !!

    مگر کیوں؟ انٹارکٹیکا میں تو برف ہی برف ہے۔ اور صحراؤں میں تو پانی نہیں ہوتا. یے ناں!! اسے سمجھنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ صحرا دراصل کہتے کسے ہیں۔ صحرا زمین کا ایسا حصہ ہوتا ہے جہاں سارا سال بہت کم بارش ہو اور جہاں جانور، پرندے یا درخت وغیرہ باقی زمینی علاقوں کی نسبت بے حد کم ہوں۔ جہاں دراصل زندہ رہنا محال ہو۔

    انٹارکٹیکا زمین کا سب سے سرد علاقہ ہے۔ یہاں سالانہ اوسط درجہ حرارت منفی 57 ڈگری سے بھی کم رہتا ہے۔

    لہذا ایسے سرد موسم میں بارش نہیں ہوتی۔ البتہ انٹارکٹیکا چونکہ زمین کے جنوبی قطب پر واقع ہے تو یہاں دو ہی موسم ہوتے ہیں۔۔طویل سردیاں اور طویل گرمیاں۔ ایسے میں گرمیوں میں جب اسکے قریب ساحلی پٹی پر درجہ حرارت صفر سے اوپر جاتا ہے تو کبھی کبھی بارش ہو جاتی ہے ۔ ایسے ہی یہاں برف باری بھی یہاں سال بھر میں بےحد کم ہوتی ہے۔ اور رہی بات جانورں کی تو اسکے اردگرد سمندروں میں کچھ ہی جانور رہتے ہیں جن میں پینگوئین، سیل، وہیل مچھلیاں یا کچھ آبی پرندے شامل ہیں۔ پینگوئین انٹارکٹیکا پر یہاں کے قریب ساحلوں پر جمی برف پر کالونیوں کی صورت رہتی ہیں۔ یہ تعداد میں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ انٹارکٹیکا پر کام کرنے والے سائنسدان انہیں گن نہیں سکتے لہذا وہ خلا میں سٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے انکے کالونیوں اور تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سفید انٹارکٹیکا پر خلا سے انکی کالونیوں کو ڈھونڈنا آسان ہے۔ وجہ؟ ان کے پاخانے کا رنگ جو سرخی مائل بادامی ہوتا ہے۔ سفید برف پر خلا سے دیکھنے پر اس رنگ کی لکیریں نظر آتی ہیں جن سے انکی کالونیاں با آسانی ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔

    اور رہی بات پودوں کی تو اتنے ٹھنڈے علاقے میں جہاں ہر طرف برف ہی برف ہو کونسا درخت یا ہودا اُگ سکتا ہے؟ البتہ کہیں کہیں پانیوں کے پاس ایلجی یا کائی موجود ہے۔ اسی طرح انٹارکٹیکا کے شمالی علاقے میں قریب بارہ قسم کے پھولدار پودے بھی پائے جاتے ہیں۔اتنی ٹھنڈ میں اور دنیا کے ایک الگ تھلگ سے کونے میں یہ پودے کہاں سے آئے؟ اسکی کہانی کچھ طویل ہے۔ مگر مختصر یہ کہ آج سے قریب 20 کروڑ سال پہلے انٹارکٹیکا ، افریقہ، انڈیا ، آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ یہ سب ایک بڑے سے بر اعظم کا حصہ تھے جسے گونڈوانہ کہتے ہیں۔ زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس جن پر تمام بر اعظم تیر رہے ہیں ، ان پلیٹس کی آہستہ آہستہ حرکت سے یہ بر اعظم ایک دوسرے سے الگ ہوتے گئے اور ان پر موجود پودے بھی انہی کے ساتھ جاتے رہے۔ انٹارکٹیکا، گونڈوانہ سے آہستہ اہستہ جدا ہوتے، کھسکتے ہوئے آج سے تقریباً 7 کروڑ سال پہلے زمین کے شمالی قطب تک آ پہنچا۔

    یہاں سخت موسموں کے باعث بہت سے جاندار وقت کیساتھ ساتھ معدوم ہوتے گئے مگر چند ہی پودوں نے ارتقاء سے گزرتے زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا۔ہم یہ سب کیسے جانتے ہیں؟

    کیونکہ ہمیں انٹارکٹیکا پر اور دنیا کی دوسرے بر اعظموں پر پرانے دور کے ایک جیسے جانداروں کے فوسلز ملے ہیں جو اس کہانی کو مکمل کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین کی ٹیکٹانک پلیٹس کی ہونے والی حرکت کی رفتار اور سمت کو جان کر سائنسدان کمپوٹر ماڈلز کے تحت یہ بتا سکتے ہیں کہ ماضی میں یہ تمام برِ اعظم کیسے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔ ویسے تمام برا اعظم اب بی آہستہ اہستہ اہنی موجود جگہیں بدل رہے ہیں اور آج سے 25 کروڑ سال بعد یہ تمام برا اعظم ایک بار پھر سے ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔

    انٹارکٹیکا سائنسدانوں کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ یہاں سارا سال، دنیا بھر کے سائنسدان مشکل حالات اور سخت سردی میں رہتے ہوئے سائنسی تجربات اور دریافتیں کرتے رہتے ہیں۔ ناسا بھی انٹارکٹیکا کے موسم اور یہاں ہونے والی تبدیلیوں کو خلا سے مانیٹر کرتا رہتا ہے ۔۔جسکا مقصد دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر جاننا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں برف اگر تیزی سے پگلنا شروع ہو جائے تو پوری دنیا کے سمندروں میں پانی کی سطح کئی فٹ بلند ہو جائے گی جس سے دنیا کے تمام ساءلی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ناسا یہاں خلا میں انسانوں کی خوراک کی ضروریات کے حوالے سے بھی تجربات کرتا ہے۔ دراصل خلا میں بھی سورج کی روشنی خلابازوں کے جسم پر نہیں پڑتی اور ہم جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی سے وٹامن بنتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے انٹارکٹیکا پر رہنے والے سائنسدان جو طویل عرصہ سورج کی روشنی حاصل نہیں کر پاتے ، اُن پر جسمانی اور نفسیاتی اثرات کو جانا جاتا ہے۔

    مگر سب سے اہم یہ کہ ناسا یہاں کئی ایسے روبوٹس کو بھی ٹیسٹ کرتا ہے جو مریخ پر بھیجے جانے ہوں۔ وجہ یہ کہ انٹارکٹیکا اور مریخ دونوں سرد ہیں اور دونوں صحرا کی طرح خشک ہیں۔

    ایک اور اہم بات، زمین پر گرنے والے شہابیوں کے ٹکڑے انٹارکٹیکا میں بھی گرتے ہیں اور یہاں سائنسدان انکو سفید برف میں آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہاں کے موسم کے باعث قدرے اچھی حالت میں محوفظ رہتے ہیں۔ اس طرح ہم ان شہابیوں کا تجزیہ کر کے نظام شمسی اور زمین کے ماضی کے بارے میں بی بہتر جان سکتے ہیں۔

  • چینی سائنسدانوں نے کینسرکے علاج کیلئے دوہرا اثر رکھنے والی دوا تیار کر لی۔

    چینی سائنسدانوں نے کینسرکے علاج کیلئے دوہرا اثر رکھنے والی دوا تیار کر لی۔

    بیجنگ :چینی سائنسدانوں نے کینسر کے علاج کیلئے انتہائی مؤثر دوا تیار کرلی ،اطلاعات کے مطابق چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سائنسدانوں نے کینسر کے علاج کیلئے ایک ہائیڈروجیل تیار کیا ہے جو دھاتی بایو میٹریل پر مبنی ہے اور دیگر خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر ‘ٹیومر’ کو جلا دیتا ہے۔

    سو چاؤ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف فنکشنل نینو اینڈ سافٹ میٹریلز کے سائنسدانوں نے کیلشیم اور مینگنیز آؤنز سے اس ہائیڈرو جیل تیار کیا ہے، جو انسانی جسم کے محدود ہدف شدہ حصے کو زیادہ حرارت دے کر بنیادی ٹیومر کے مکمل خاتمے کو فروغ دیتا ہے، اس عمل کے دوران نزدیکی صحتمند خلیوں کو نقصان نہیں پہنچتا۔

    یونیورسٹی کے ایک مقالے کے مصنفین فینگ لیانگ زو اور لیو ژوانگ کا کہنا ہے کہ یہ طریقۂ علاج ٹیومر کے مکمل خاتمے اور اسے دوبارہ ہونے سے روکنے میں بھی مدد گار ثابت ہوگا۔

    فینگ نے مزید کہا کہ محققین اس طریقۂ علاج کو مریضوں پر استعمال کرنے کیلئے جائزہ لے رہے ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 10 لاکھ افراد کینسر کی مختلف اقسام کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، عالمی سطح پر ہر 6 میں سے ایک شخص اس کا شکار ہوتا ہے۔