Baaghi TV

Tag: سائنسدان

  • بھارتی خلائی ایجنسی اسرو کے 100 سے زائد  سائنسدان مستعفی،مودی سرکار پریشان

    بھارتی خلائی ایجنسی اسرو کے 100 سے زائد سائنسدان مستعفی،مودی سرکار پریشان

    بھارت کے خلائی ادارے اسرو (آئی اس آر او) 120سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی حکومت نے سائنسدانوں کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں کے قواعد سخت کر دیے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق نجی خلائی شعبے کی تیزی سے ترقی اور بہتر معاوضوں کے باعث ماہر سائنسدان سرکاری ادارے چھوڑ کر نجی کمپنیوں کا رخ کر رہے ہیں،اس اچانک فیصلے اور سائنس دانوں کے جانے کی سب سے بڑی وجہ نجی شعبے یعنی پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے ملنے والی پرکشش مراعات اور کام کا شدید دباؤ ہے۔

    حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں کئی پرائیویٹ کمپنیاں اور نئے اسٹارٹ اپس سامنے آئے ہیں جو ان تجربہ کار سائنس دانوں کو سرکاری ملاز مت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنخواہیں، بہتر عہدے اور جدید سہولیات پیش کر رہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’اسرو‘ سے 120 خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد محکمہ خلا نے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں سے متعلق نئی سخت پالیسی نافذ کر دی ہے،دوسری بڑی وجہ گگن یان اور چندریان جیسے بڑے اور حساس ملکی مشنز کا شدید دباؤ ہے، جہاں دن رات کام کرنے کی وجہ سے بہت سے سائنس دان ذہنی سکون اور ذاتی زندگی کو وقت دینے کے لیے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سائنسدان سرکاری اداروں کے فرسودہ انتظامی نظام، محدود ترقی کے مواقع اور نسبتاً کم تنخواہوں سے نالاں ہو کر زیادہ معاوضہ اور بہتر سہولیات فراہم کرنے والی نجی خلائی کمپنیوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

    اس صورتِ حال کے پیش نظر بھارتی محکمہ خلائی امور نے اب استعفوں کے قواعد کو اتنا سخت کر دیا ہے کہ کوئی بھی سائنس دان اب آسانی سے نوکری نہیں چھوڑ سکے گا نئے قانون کے تحت اب اسرو کے مقامی سینٹرز کے ڈائریکٹرز براہ راست کسی سائنس دان کا استعفیٰ قبول نہیں کر پائیں گے، بلکہ ہر درخواست حتمی منظوری کے لیے براہ راست حکومت کے مرکزی محکمے کو بھیجی جائے گی تاکہ اہم ترین منصوبے ادھورے نہ رہ جائیں۔

    دوسری جانب اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے اس صورتِ حال کو زیادہ تشویشناک قرار نہیں دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کا آنا جانا ہر ادارے کا حصہ ہوتا ہے اور وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں ان اقدامات کا مقصد صرف لوگوں کو روکنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اہم منصوبوں کا کام اچانک متاثر نہ ہو، اگر کوئی ملازم جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرے ماہرین کو ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔

    اگرچہ اسرو میں مجموعی طور پر 14 ہزار 600 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں اور100 افراد کا استعفیٰ بظاہر ایک چھوٹا عدد لگتا ہے، لیکن اصل تشویش ان سائنسدانوں کے پاس موجود برسوں کا وہ تجربہ ہے جو انہوں نے پیچیدہ خلائی مشنز پر کام کر کے حاصل کیا ہے نئے لوگوں کو بھرتی کرنا تو آسان ہے لیکن ان کی جگہ ایسے ماہرین لانا انتہائی مشکل ہے جو حساس منصوبوں کی باریکیوں سے واقف ہوں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020 میں بھارت کی جانب سے خلائی شعبہ نجی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے کے بعد ملک میں 400 سے زائد اسپیس اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں، جو اب تک تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر چکے ہیں،اسرو کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی ایک ہزار سے زائد نئی سائنسی اور تکنیکی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم بھارت کے مستقبل کے خلائی عزائم کے لیے پرانے اور تجربہ کار سائنس دانو ں کو روکنا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے

  • سائنسدانوں نے 5 ہزار سال پرانی ممی کےخمیر کی مدد سے روٹی تیارکر لی

    سائنسدانوں نے 5 ہزار سال پرانی ممی کےخمیر کی مدد سے روٹی تیارکر لی

    سائنسدانوں نے ایک حیران کن تجربے میں 5 ہزار سال پرانی ممی سے حاصل کیے گئے خمیر کی مدد سے کھٹی روٹی (سورڈو بریڈ) تیار کر لی ہےمحققین اب اسی قدیم خمیر کو استعمال کرتے ہوئے بیئر بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

    یوراک ریسرچ کے انسٹی ٹیوٹ برائے ممی اسٹڈیز میں کام کرنے والے ماہرِ حیاتیات محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی سے حاصل شدہ خمیر کے نمونوں پر تحقیق کے بعد روٹی تیار کی محمد سرحان کے مطابق تجربات کے دوران بالآخر ایسا آٹا تیار کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی جو 24 گھنٹوں کے اندر عام خمیر کی طرح اچھی طرح پھول گیا، انہوں نے اس سے قبل کبھی روٹی نہیں بنائی تھی، اس لیے ابتدائی نتائج میں مزید بہتری کی گنجائش موجود تھی، تاہم یہ تجربات اپنی نوعیت کے پہلے تجربات تھے اور ان کے نتائج حوصلہ افزا ثابت ہوئے۔

    محققین اب جرمنی کی معروف بریونگ کمپنی کے ماہرین خوراک کے ساتھ مل کر یہ جانچنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا یہی قدیم خمیر بیئر کی تیاری میں بھی استعما ل کیا جا سکتا ہے یا نہیں یہ مخصوص خمیر سرد ماحول میں بہتر نشوونما پاتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ خمیر ممی کے جسم میں اس کی زندگی کے دورا ن نہیں بلکہ موت کے کچھ عرصے بعد داخل ہوا تھا۔

    یہ ممی، جسے ’اوٹزی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یورپ کی قدیم انسانی زندگی کے بارے میں اہم معلومات کا خزانہ سمجھی جاتی ہے تقریباً 5 ہزار سال پرانی یہ لاش غیر معمولی طور پر محفوظ حالت میں دریافت ہوئی تھی، اس کے جسم پر 61 ٹیٹو کے نشانات موجود ہیں، جو اب تک دریافت ہونے والے قدیم ترین ٹیٹوز میں شمار ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اوٹزی کو پہاڑوں میں ایک تیر مار کر قتل کیا گیا تھا، جس کے باعث اس کی موت کو دنیا کے قدیم ترین حل طلب قتل کے واقعات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ نئی تحقیق قدیم مائیکرو آرگینزمز اور خوراک کی تاریخ کے مطالعے میں ایک دلچسپ پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔

  • گیس سے بھری ہوئی  کہکشائیں دریافت

    گیس سے بھری ہوئی کہکشائیں دریافت

    سائنسدانوں نے گیس سے بھری ہوئی لاتعداد کہکشائیں دریافت کر لیں۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو میں پانچ سو میٹر قطر کی ریڈیو ٹیلی سکوپ (فاسٹ) کے ذریعے دور کائنات میں گیس سے بھری ہوئی لاتعداد کہکشائیں دریافت کیں-

    تحقیق کے مطابق نئی دریافت ہونے والی کہکشائوں سےخارج ہونے والی ریڈیائی لہروں کو زمین تک پہنچنے میں ہمارے نظام شمسی کی تقریبا عمر لگ گئی ہے، ان میں اس قدر یا اس سے زیادہ ایٹم ہائیڈروجن گیس موجود ہے جتنی اس سے قبل ریڈیو دوربینوں سے دریافت ہونے والی ہزاروں کہکشاوں میں پائی جاتی ہے۔

    جاپان: ڈبل روٹی کے پیکٹس سے چوہے کی باقیات برآمد ہونے پر کمپنی کا …

    چین کی اکیڈمی آف سائنسز (این اے او سی)کے تحت قومی فلکیاتی رصد گاہوں سے وابستہ اس تحقیق کے سرکردہ مصنف شی ہونگ وی نے آسٹریلیا، امریکہ اور روس کے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر اس تحقیق میں چھ نئی ہائی ریڈ شفٹ کہکشاں کی خصوصیات کو دریافت کیا۔

    ہالی ووڈ پاکستانی ثقافت سے متاثر ہوکر فلم بنانے کیلئے پرامید

    تحقیق کے مطابق نیا ہائی ریڈ شفٹ کہکشاں کا نمونہ کہکشاوں میں ٹھنڈی گیس کے بننے کے عمل کو جاننے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، مستقبل میں ایک بڑی جسامت کی ریڈ شفٹ کہکشاں کے نمونے سے کہکشاوں کی تشکیل اور ارتقا کے حوالے سے انسانی علم میں بہتری ممکن ہوسکے گی۔

    گزشتہ 21 سالوں میں سب سے طاقتور شمسی طوفان زمین کی فضا سے ٹکرا گیا

  • چرنوبل پاور پلانٹ کے اطراف میں موجود کیچووں میں نئی سُپر پاور کا انکشاف

    چرنوبل پاور پلانٹ کے اطراف میں موجود کیچووں میں نئی سُپر پاور کا انکشاف

    نیو یارک: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ شمالی یوکرین (سابقہ سویت یونین) میں واقع چرنوبل پاور پلانٹ کے اطراف میں موجود کیچووں میں نئی سُپر پاور کا انکشاف ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کو تابکار شعاعوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

    باغی ٹی وی:ایک نئی تحقیق میں، سائنسدانوں نے چرنوبل کا دورہ کیا تاکہ نیماٹوڈس، سادہ جینیاتی میک اپ والے چھوٹے کیڑے، جو تیزی سے دوبارہ پیدا ہوتے ہیں، محققین نے مٹی کے نمونوں، سڑنے والے پھلوں اور دیگر مواد سے کیڑے اکٹھے کیے اور تابکاری کی مقامی سطح کا تجربہ کیا-

    تابکاری کی سطحیں نچلی سطحوں سے مختلف ہوتی ہیں جو بڑے شہروں میں ریکارڈ کی جائیں گی، اور بلند سطحیں جو بیرونی خلا میں پائی جاتی ہیں، اس کے بعد سائنسدان ان کیڑے کو منجمد کرنے اور ان کا مطالعہ کرنے کے لیے واپس نیویارک یونیورسٹی لے گئے۔

    پہلی بار صدارتی الیکشن میں نہ کوئی ووٹ بیچا گیا نہ خریدا گیا،محمود خان …

    1986 میں چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بعد سے اس کے اطراف کا علاقہ دنیا کا سب سے تابکار خطہ بن گیا ہےتحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹر صوفیا ٹِنٹر کا کہنا تھا کہ چرنوبل ناقابلِ فہم پیمانے پر ہونے والی تباہی تھی لیکن اب تک مقامی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو اچھے طریقے سے نہیں سمجھا جا سکا ہےپاور پلانٹ میں ہونے والے دھماکے کے بعد علاقے سے انسانوں کا انخلا تو کرادیا گیا تھا لیکن بڑی مقدار میں تابکار شعاعوں کےباوجود متعدد پودے اور جانور اس خطےمیں موجود رہے اور تقریباً چار دہائیوں بعد آج بھی موجود ہیں۔

    مذہبی رہنما ڈاکٹر حافظ مسعوداظہر کیساتھ ڈکیتی کی واردات،پولیس کی بروقت کارروائی میں ڈاکو گرفتار …

    حالیہ برسوں میں محققین کو معلوم ہوا ہےکہ چرنوبل ایکسکلوژن زون (شمالی یوکرین میں پاور پلانٹ کے 29.93 کلومیٹر ریڈیس کا علاقہ) کے علاقے میں رہنے والے جانور جسمانی اور جینیاتی اعتبار سے اپنے جیسے دنیا کے دیگر جانوروں سے مختلف ہیں اور یہ چیز ان کے ڈی این اے پر پڑنے والی دائمی شعاعوں کے اثرات کے متعلق سوالات اٹھاتی ہے۔

    بہاولنگر میں بیٹے نے باپ کو چھریوں کے وار سے مار دیا

    اس نئی تحقیق میں محققین نے چرنوبل جا کر نیمیٹوڈز کا مطالعہ کیا،نیمیٹوڈز سادہ جینوم اور فوری افزائش نسل کرنے والے چھوٹے کیچوے ہوتے ہیں، جو ان کو بنیادی حیاتیاتی مظہر سمجھنے کے لیےکافی کارآمد بناتا ہےمحققین یہ بات جان کر حیران ہوئے کہ چرنوبل سے لائے گئے کیچوں کے جینوم میں شعاعوں کے سبب کسی قسم کے نقصان کی کوئی تشخیص نہیں ہوسکی۔

  • چاند ایک ‘نئے دور’ میں داخل ہو گیا ہے،سائنسدان

    چاند ایک ‘نئے دور’ میں داخل ہو گیا ہے،سائنسدان

    کینزس: سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی سائنس دانوں کی جانب سے اس دور کو ’لونر(قمری) اینتھروپوسین‘ کا نام دیا گیا ہےاینتھروپوسین وہ ارضیاتی عمر ہوتی ہے جس کو بطور اس دور کے دیکھا جاتا ہے جب انسانی سرگرمیاں موسم اور ماحول کو اثر انداز کرنے کے لیے غالب رہی ہوں،چاند کے نئے دور کے متعلق محققین کی جانب سے کی جانے والی یہ بحث نیچر جیو سائنس میں بطور کمنٹ آرٹیکل کے طور پر شائع ہوئی۔

    محققین کا کہنا ہے کہ انسانوں نے چاند کی سرزمین کو بدلا ہے اور اس حد تک بدلنے کا ارادہ کیا ہے کہ یہ مصنوعی سیارچوں (سیٹلائٹ) کے نئے دور کے طور پر سمجھا جائےانسانیت کا آئندہ برسوں میں چاند کے ماحول کو مزید تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں چاند کی سطح پر واپس جانا اور انسانوں کو دوبارہ اتارنا شامل ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ انسانیت کی جانب سے کی جانے والی تبدیلیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا یہ واضح کرنے کا ایک اہم طریقہ ہو گا کہ چاند کی سطح غیر متغیر نہیں ہے اور انسانیت نے اسے کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے، اس دور کی ابتداء 1959 میں ہوئی جب روس کا لُونا 2 خلائی جہاز چاند کی سطح پر اترنے والا پہلا اسپیس کرافٹ بنا۔

    یونیورسٹی آف کینزس سے تعلق رکھنے والے ارضیاتی محقق اور تحقیق کے سربراہ مصنف جسٹن ہولکومب کا کہنا تھا کہ یہ خیال بالکل زمین پر اینتھروپوسین کے متعلق ہونے والے مباحثے جیسا ہے، جس میں یہ مطالعہ کیا گیا کہ انسانوں نے اس سیارے کو کتنا متاثر کیا ہے،زمین پر اتفاق رائے یہ ہے کہ انتھروپوسین کا آغاز ماضی میں کسی وقت ہوا، چاہے سیکڑوں ہزار سال پہلے ہو یا 1950 کی دہائی میں۔

    شائع ہونے والے اس تبصرے میں سائنس دانوں نے بتایا کہ قمری اینتھروپوسین کی ابتدا ہوچکی ہے لیکن سائنس دان چاند کو بڑے نقصان سے بچانا چاہتے ہیں یا اس کی شناخت کو اس وقت تک قائم رکھنا چاہتے ہیں جب تک سائنس دان انسانی سرگرمیوں کے سبب بننے والے چاند کے ہالے کی پیمائش کر سکیں، اور اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

    انسان چاند کی سطح پر پہلے ہی بہت کچرا پھیلا چکا ہے اس کچرے میں پہلی بار چاند پر اترتے وقت گالف کی گیندیں اور جھنڈے شامل ہیں جو وہاں پر چھوڑے گئے تھے اس میں انسانی فضلا اور دیگر کچرا بھی شامل ہے۔

    مزید یہ کہ انسانیت چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے، کیونکہ انسان چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور لوگ اس سطح کو کھود کر وہاں رہنے کی تیاری کر رہے ہیں-

    "ثقافتی عمل چاند پر ارضیاتی عمل کے قدرتی پس منظر کو پیچھے چھوڑنا شروع کر رہے ہیں،” ہالکومب نے کہا۔ "ان عملوں میں حرکت پذیر تلچھٹ شامل ہیں، جسے ہم چاند پر ‘ریگولتھ’ کہتے ہیں۔ عام طور پر، ان عملوں میں meteoroid اثرات اور بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کے واقعات شامل ہوتے ہیں۔ تاہم، جب ہم روورز، لینڈرز اور انسانی نقل و حرکت کے اثرات پر غور کرتے ہیں، تو وہ ریگولتھ کو نمایاں طور پر پریشان کرتے ہیں۔

    "نئی خلائی دوڑ کے تناظر میں، چاند کا منظر 50 سالوں میں بالکل مختلف ہو جائے گا متعدد ممالک موجود ہوں گے، جس سے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، ہمارا مقصد قمری جامد افسانہ کو دور کرنا اور اپنے اثرات کی اہمیت پر زور دینا ہے، نہ صرف ماضی میں بلکہ جاری اور مستقبل میں۔ ہم چاند کی سطح پر اپنے اثرات کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔”

  • پاکستانی سائنسدانوں نےلمبے چاولوں کی نئی قسم پیدا کرلی

    پاکستانی سائنسدانوں نےلمبے چاولوں کی نئی قسم پیدا کرلی

    اسلام آباد،باغی ٹی وی (ویب نیوز) پاکستانی سائنسدان سب سے لمبے چاولوں کی نئی قسم سونا سپر باسمتی پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، نئی قسم کے چاول کے دانے کی لمبائی 9.5 ملی میٹر ہے۔
    رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کالا شاہ کاکو کے سائنسدانوں نے یہ کامیابی حاصل کر کے اپنے ہی ادارے کے تیار کردہ رائس ورائٹی PK 2021 کا ریکارڈ توڑ دیا ہے جس کا دانہ 8.26 ملی میٹر لمبا تھا۔چیف سائنسداں سید سلطان علی اور ڈاکٹر مخدوم صابر کے مطابق رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کالا شاہ کاکو کی تیار کردہ چاولوں کی دو اقسام کو PARC میں منعقدہ ورائٹی ایویلیوایشن کمیٹی میں عام کاشت کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
    ڈاکٹر مخدوم صابر کے مطابق چاولوں کی ایک قسم سونا سپر باسمتی ہے جو کہ اب تک کا سب سے لمبا باسمتی اناج ہے جس کی لمبائی 9.5 ملی میٹر ہے جب کہ اسی ادارے کی تیار کردہ دوسری ورائٹی وائٹل سپر باسمتی کہلاتی ہے جو آئرن اور زنک کی زیادہ مقدار کی حامل ملک کی پہلی مضبوط ورائٹی ہے۔
    علاوہ ازیں RRI کالا شاہ کاکو نے موٹے چاولوں کی ملک میں پہلی نئی ہائبرڈ قسم KSK 2023 بھی متعارف کرائی ہے جس کی فی ایکڑ پیداوار 110 من حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاولوں کی یہ ہائبرڈ قسم 109 دن میں تیار ہوجاتی ہے۔

  • 100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    فلوریڈا: گزشتہ 30 دنوں سے زیر آب رہنے والے سائنسدان نے ایک نئی نوع کے دریافت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سابق نیول افسر ڈاکٹر جوزف ڈِٹوری جو فلوریڈا لگون میں سطح سمندر سے 30 فٹ کی گہرائی میں ریکارڈ بنانے کی غرض سے100 دن کے لیے موجود ہیں۔ اس کوشش کا ایک مقصد طویل مدت تک جسم پر پڑنے والے انتہائی دباؤ کے سبب ہونے والے اثرات کا مطالعہ کرنا بھی ہے۔البتہ تجربے کے دوران ایک مہینے میں ہی ان کی ٹیم نے غیر متوقع طور پر ایک مختلف سائنسی دریافت کی ہے۔

    جامعہ فلوریڈا کے ایک پروفیسر100 دن زیر آب رہیں گے

    ڈاکٹر جوزف ڈِٹوری کے مطابق ٹیم نے ایک خلیے کا سیلیئٹ دریافت کیا جس کے متعلق ٹیم کا خیال ہے کہ یہ ایک بالکل نئی نوع ہے۔ لوگوں نے ہزاروں بار یہاں غوطہ خوری کی، یہ نوع یہیں تھی صرف ہم نے نہیں دیکھا تھا تاہم، مائیکرو بائیولوجسٹ اس کے نئے نوع ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے اس کا جائزہ لیں گے۔

    ڈاکٹر جوزف پُر امید ہیں کہ یہ دریافت بھی ان متعدد دریافت میں سے ایک ہوگی جو انہوں نے زیر آب گزارے جانے والے طویل وقت میں کی ہیں۔

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ تجربے کے دوران جسم پر پڑنے والے شدید دباؤ کے سبب ان کا قد ایک انچ تک کم ہو سکتا ہے۔ بالکل اس ہی طرح جیسے خلاء میں وقت گزارنے کے بعد خلاء نوردوں کا قد تین فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    ناسا نے چاند پرجانےکیلئے پہلی بارخاتون اورسیاہ فام خلانوردوں کومنتخب کرلیا

    واضح رہے کہ اس سے قبل وہ زیرِ آب بلبلے نما مرکزمیں وہ 16 روز 22 میٹرگہرائی میں گزارکر تحقیق کرچکے ہیں۔ تاہم گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق 2014 میں بروس سینٹرل اور جیسیکا فائن جولس انڈر سی لاج میں 73 دن تک رہ کر عالمی ریکارڈ بناچکے ہیں اب پروفیسر جوزف طویل تحقیق کے ساتھ یہ ریکارڈ بھی توڑنا چاہتے ہیں وہ فلوریڈا کے پاس کی لارگو لگون کے پاس 22 فٹ گہرائی میں بنے بلبلہ نما گھر میں آبی حیات پر تحقیق کر رہے ہیں-

    اس منصوبے کو ’پروجیکٹ نیپچون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جو ڈیٹوری چاہتے ہیں کہ ایک جانب وہ سمندر کی گہرائی میں رہ کر نئی دریافتیں کریں تو دوسری جانب وہ اتنے طویل عرصے تک پانی نے اندر رہ کر خود اپنے جسم پر اس کے اثرات دیکھنا چاہتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

  • مفتی تقی عثمانی کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کومشورہ

    مفتی تقی عثمانی کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کومشورہ

    نامور عالم دین مفتی تقی عثمانی نے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنے کا مشورہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ اگر کسی گھر کے لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں اور گھر میں آگ لگ جائے توکیا اس وقت یہ بحث کی جائیگی کہ آگ کس نے لگائی یا واحد راستہ یہ ہوگا کہ سب ملکر آگ بجھائیں؟ موجودہ بحران کا حل صرف یہی ہے کہ تمام جماعتیں اور ادارے منافرت اور دشمنی کے بجائے سرجوڑکرملک کوبچائیں-


    انہوں نے مزید لکھا کہ قرآن کریم فرماتاہے کہ "تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراو اوراللہ سے ڈرو تاکہ تمھارےساتھ رحمت کامعاملہ کیا جائے ” عوام اور بااثرحضرات کافرض ہے کہ وہ اس قرآنی حکم پرعمل کرکے رھنماوں کو ساتھ بٹھانے کی بھرپور کوشش کریں-


    مفتی تقی نےکہا کہ فوج اور عدلیہ کو یقیناًسیاست میں دخل نہیں دینا چاہئیے لیکن ایسے سنگین حالات میں جماعتوں کو ساتھ بٹھا کر غیرجانب داری سے خالص ملک کے مفاد اور قومی سلامتی کے لئے مسئلے کاحل نکالنا انکا فرض بنتا ہے اللہ تعالی اسکی توفیق عطا فرمائے آمین-

  • کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین بنانے والے روسی سائنسدان قتل

    کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین بنانے والے روسی سائنسدان قتل

    ماسکو: کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین بنانے والے روسی سائنسدان کو قتل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:” ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے گزشتہ روز ایک اعلیٰ سائنسدان کی ماسکو کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے جانے کے بعد قتل کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    2020 میں دیگر 18 سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کورونا کی ویکسین اسپوٹنک فائیوبنانے والے روسی سائنسدان اینڈرے بوٹیکوو کو ان کے گھر میں قتل کیا گیا۔

    حکام نے کہا تھا کہ وہ انکاؤنٹر میں اس وقت بچ گیا جب ایک گھسنے والا اس کے گھر میں گھس گیا اور پیسوں کے لیے اس کے ساتھ جھگڑا شروع کر دیا اینڈرے کی لاش ملنے کے چند گھنٹے بعد ایک 29 سالہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔

    تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ روسی سائنسدان کو بیلٹ سے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔

    حکام کا دعویٰ ہے کہ اینڈرے بوٹیکوو نے مرنے سے قبل شدید مزاحمت بھی کی تھی۔ اینڈرے بوٹیکووروس کے ریسرچ سینٹر میں سینئر ریسرچر کے طور پر کام کرتے تھے اور انہوں نے اسپوٹنک فائیو ویکسین کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا کہ انہوں نے ‘کم سے کم وقت میں’ مشتبہ شخص کو موقع سے فرار ہونے کی کوشش کے بعد ڈھونڈ لیا۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف کیا ہے۔

    کمیٹی نے یہ بھی بتایا کہ مدعا علیہ پر پہلے ہی ایک اور ‘سنگین’ جرم کرنے کے لیے مقدمہ چلایا جا چکا ہے۔

    روسی میڈیا نے بتایا کہ الیکسی زیڈ کے نام سے مشہور ملزم نے جنسی خدمات فراہم کرنے کے الزام میں 10 سال جیل میں گزارے۔

    اینڈری بوٹیکوف نیشنل ریسرچ سنٹر برائے ایپیڈیمولوجی اور مائیکرو بیالوجی کے سینئر محقق تھے۔

    اس سے قبل وہ روس کے ریاستی کلکشن آف وائرسز ڈی آئی میں کام کر چکے ہیں۔ Ivanovsky انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی ایک سینئر سائنسدان کے طور پر.

    سپوتنک وی ویکسین پر کام کرنے پر انہیں آرڈر آف میرٹ فار فادر لینڈ سے نوازا گیا۔

  • سوئیڈن سائنسدان نے طب کا امریکا،آسٹریا اور فرانس کے سائنسدانوں نے فزکس کا نوبل انعام اپنے نام کر لیا

    سوئیڈن سائنسدان نے طب کا امریکا،آسٹریا اور فرانس کے سائنسدانوں نے فزکس کا نوبل انعام اپنے نام کر لیا

    سوئیڈن کے سوانتے پابو نے فزیولوجی کے میدان میں اس سال کا نوبل انعام اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نوبل کمیٹی کے مطابق سوئیڈش سائنس دان کو یہ انعام معدوم ہوجانے والے انسانوں کے جینوم اور انسانی ارتقاء کے حوالے سے کی جانے والی دریافتوں پر دیا گیا ہے۔


    نوبل کمیٹی کا کہنا تھا کہ اپنی تحقیق کے ذریعے سوانتے پابو نے آج کے انسان کی معدوم قسم نِینڈرتھل کے جینوم کو ساخت دے کر بظاہر ناممکن دِکھنے والی چیز کو ممکن کر دِکھایا۔ انہوں نے ڈینیسووا نامی انسانی قسم کی دریافت بھی کی جو اس سے قبل نامعلوم تھی۔


    میکس پلینک انسٹیٹیوٹ کے شعبہ جینیات کے ڈائریکٹر سوانتے پابو کے متعلق جیوری نے بتایا کہ انہوں نے 70 ہزارسال قبل معدوم انسانی قسم سےموجودہ نوعِ انسانی میں افریقا سے مشرقِ وسطیٰ ہجرت کرجانے کے بعد ہونے والی جینیاتی منتقلی بھی دریافت کی۔


    جیوری کا کہنا تھا کہ دورِ حاضر کے انسانوں میں جینز کی یہ قدیم منتقلی آج بھی مطابت رکھتی ہے، جس کی مثال ہمارے مدافعتی نظام کا انفیکشنز پر دِکھایا جانے والا ردِ عمل ہے۔

    دوسری جانب رائل سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے سال 2022 کے لیے طبعیات (فزکس) کا نوبل انعام ’’کوانٹم مکینکس‘‘ پر تحقیق کرنے والے امریکا، آسٹریا اور فرانس سے تعلق رکھنے والے تین سائنس دانوں کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔


    رائل سویڈش اکیڈمی کی جانب سے فرانس کے ایلین ایسپیکٹ، امریکا کے جان کلوزر اور آسٹریا کے اینتون زِیلِنگر کو ایٹمی زرات کے رویوں سے متعلق کی جانے والی تحقیقات پر فزکس کا نوبل انعام برائے 2022 دیا گیا ہے۔


    https://twitter.com/NobelPrize/status/1577370223522496532?s=20&t=rVvKInbq57qYIJXZb0nfJw
    جیوری کے مطابق تینوں سائنس دانوں نے ذیلی ایٹمی ذرات کے رویوں سے متعلق تحقیق کی، جو سُپر کمپیوٹر اور اِنکرپٹڈ کمیونیکیشن کے حوالے سے مزید تحقیق کے دروازے کھولے گی اور اس موضوع کو مزید وسیع کرے گی۔


    رائل سویڈش اکیڈمی کی جیوری کے مطابق سائنس دانوں کو ’الجھے ہوئے فوٹون پر تجربات کرنے، ’بیل اِن اکویلیٹیز‘ کی خلاف ورزی ثابت کرنے اور کوانٹم انفارمیشن سائنس متعارف کرانے پر ایوارڈ دیا گیا ایوارڈ حاصل کرنے والوں نے اپنی تحقیق سے مزید بنیادی تحقیق کے راستے کھولے اور نئی عملی ٹیکنالوجی کے لیے راہیں ہموار کیں ہیں۔


    ایوارڈ حاصل کرنے والے فرانس کے ایلین ایسپیکٹ کا تعلق یونیورسٹی آف پیرس-سیکلے سے، آسٹریا کے اینتون زِیلِنگر یونیورسٹی آف ویانا سے وابستہ ہیں جبکہ امریکا کے جان کلوزر کیلیفورنیا میں ایک کمپنی کے مالک ہیں ان تینوں سائنس دانوں نے 2010 میں بھی مشترکہ طور پر وولف پرائز اپنے نام کیا تھا۔

    خیال رہے کہ سائنس کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دے کر نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنس دانوں کو ایوارڈ کے ساتھ 10 ملین سویڈش کرونر کی رقم بھی دی جائے گی۔ یہ رقم نوبل انعام کے موجد سویڈش الفریڈ نوبل کی چھوڑی گئی جائیداد میں سے دیا جاتا ہے۔


    واضح رہے کہ رائل سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے بدھ 05 اکتوبر کو کیمسٹری، جمعرات 6 اکتوبر کو لٹریچر جب کہ 7 اکتوبر جمعے کو امن کے نوبل انعام کے لیے ناموں کا اعلان کیا جائے گا جبکہ نوبل انعام برائے اکنامکس کی کیٹگری کیلیے اعلان سب سے آخر میں دس اکتوبر کو کیا جائے گا۔