Baaghi TV

Tag: سائنس ٹیکنالجی

  • 3700 سال پرانی کنگھی پر دنیا کا قدیم ترین تحریری جملہ دریافت

    3700 سال پرانی کنگھی پر دنیا کا قدیم ترین تحریری جملہ دریافت

    ایک نئی تحقیق کے مطابق 3700 سال پرانی کنگھی پر 7 الفاظ پر مشتمل نقش کاری کو کسی بھی انسانی زبان کے حروف تہجی پر مشتمل قدم ترین تحریری جملہ قرار دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تحقیق میں بتایا گیا کہ ہاتھی دانت سے بنی کنگھی پر درج جملہ کنعانی زبان کا ہے جو قدیم ترین حروف تہجی ہے، کنعانی زبان ہی لاطینی زبان کا ماخذ بنی تھی جسے آج انگریزی اور بہت سی دوسری یورپی زبانیں لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہےجو موجودہ عہد کے اسرائیل، فلسطین اور اردن میں بولی جاتی تھی۔

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    اس کنگھی میں جس بارے میں جملہ لکھا گیا وہ موجودہ عہد کے والدین کے لیے بھی پریشانی کا باعث بننے والا مسئلہ ہے یعنی سر میں جوئیں، کیونکہ تحریر کے مطابق شاید یہ کنگھی سر اور داڑھی سے جوئیں نکال دے۔

    مٹی کے برتنوں اور تیر کے نشانوں پر کنعانی خطوط کے الفاظ کی نشاندہی کی گئی ہے کنعانی زبان کے حروف تہجی کے کچھ حصے شاعری اور سنگ میل کے ذریعے شناخت کیے گئے ہیں جس میں یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی Hebrew کے آثار قدیمہ کے پروفیسر یوزف گارفنکل کے مطابق یہ حروف تہجی پر مبنی پہلی زبان ہے اور اس وجہ سے یہ دریافت انسانوں کی لکھنے کی صلاحیت کی تاریخ کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

    یروشلم جرنل آف آرکیالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے ایک مصنف گارفنکل نے کہا کہ ایسا پہلے کبھی دریافت نہیں ہوا، یہ کسی بادشاہ کا شاہی فرمان نہیں بلکہ انسانوں کے عام مسئلے کا اظہار کرنے والا جملہ ہے آپ فوری طور پر اس شخص سے جڑ گئے ہیں جس کے پاس یہ کنگھی تھی-

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    ایسا مانا جاتا ہے کہ 5 ہزار سال قبل پہلا تحریری نظام تشکیل پایا تھا جسے میسوپوٹیمیا (جو اب عراق ہے) کی قدیم تہذیب سمیری نے اپنایا تھا قدیم مصر کی طرح یہ تحریری نظام بھی حروف تہجی کی بجائے تصویری علامات پر مشتمل تھا اور سیکڑوں مختلف تصاویر الفاظ، خیالات اور آوازوں کی نمائندگی کرتی تھیں۔

    گارفنکل نے کہا کہ کنعانی لوگ پہلے ایسے حروف کا استعمال کرتے تھے جو ان کے تحریری نظام میں آوازوں کی نمائندگی کرتے تھے، جو بعد میں فینیشین، یونانی اور بالآخر لاطینی حروف تہجی میں تبدیل ہوئے جو آج کل سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کنعانی افراد نے حروف تہجی کو ایجاد کیا اور آج دنیا کا ہر فرد حروف تہجی کے نظام کو استعمال کرکے لکھتا یا پڑھتا ہے، اس لیے یہ انسانوں کی ایک اہم ترین کامیابی تھی انہوں نے کہا کہ جب آپ انگریزی میں لکھ رہے ہیں، تو آپ واقعی کنعانی استعمال کر رہے ہیں۔

    یہ کنگھی 2016 میں دریافت کی گئی تھی مگر اس وقت تحریر کا علم نہیں ہوسکا تھا 2021 میں ایک محقق نے کنگھی کی آئی فون سے لی گئی ایک تصویر کو زوم کیا تو اسے تحریر نظر آئی جس کے بعد تحقیق کی گئی۔

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

  • دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    یروشلم: اسرائیلی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک دیوار میں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ سکے گولان پہاڑیوں میں بینیاس کے مقام پر بہنے والے چشمے پر ایک پتھر کی دیوار کی بنیاد میں کی جانے والی کھدائی کے دوران ملے اسرائیل میں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ 7ویں صدی کے 44 خالص سونے کے سکے ایک نیچر ریزرو میں دیوار سے چھپے ہوئے ملے ہیں۔

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    ماہرین کا اندازہ ہے کہ تقریباً 170 گرام وزنی، ہرمون سٹریم (بنیاس) کے مقام پر ملنے والا ذخیرہ 635 میں مسلمانوں کی فتح کے دوران چھپایا گیا تھا سکے علاقے میں بازنطینی حکومت کے خاتمے پر روشنی ڈالتے ہیں بازنطینی سلطنت رومی سلطنت کا مشرقی نصف تھا، جو 1,000 سال سے زائد عرصے تک زندہ رہا۔

    کھدائی کے ڈائریکٹر یوو لیر نے کہا، "ہم تصور کر سکتے ہیں کہ مالک جنگ کے خطرے میں اپنی خوش قسمتی کو چھپا رہا ہے، اس امید میں کہ وہ ایک دن اپنی جائیداد واپس لینے کے لیے واپس آئے گا ماضی میں، ہم جانتے ہیں کہ وہ کم خوش قسمت تھا۔

    اسرائیل اینٹیکوئیٹیز اتھارٹیز کے ڈائریکٹر ایلی ایسکیوسیڈو کا کہنا تھا کہ سکوں کا یہ ذخیرہ آثارِ قدیمہ کی ایک انتہائی اہم دریافت ہے کیوں کہ اس کا تعلق بینیاس شہر اور اس پورے خطے کے عبوری دور سے ہے۔

    ادارے کے مطابق ماہرین نے یہ سکے پینیاس (جو بعد میں بینیاس کے نام سے جانا گیا) کے قدیم شہر سے دریافت کئے۔ یہ شہر ماضی میں ذرخیزی کے خدا ’پین‘ (Pan) کے حوالے سے مذہبی رسومات کے لیے خدمات انجام دیتا تھا۔ اسی نام سے پر بعد میں شہر کا یونانی نام رکھا گیا۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    ڈاکٹر گیبریلا بِجووسکی کا کہنا تھا کہ سکّوں میں سب سے پُرانا سکہ بازنطینی بادشاہ فوکس کے دور کا ہے جس نے 602 عیسوی سے 610 عیسوی تک حکومت کی۔جبکہ سب سے نئے سکے کا تعلق اسی صدی کے اگلے حصے میں جب مسلمانوں نے یہ خطہ فتح کیا اس وقت سے ہے۔

    ادارے میں کھدائی کے ڈائریکٹر یوو لیرر کا کہنا تھا کہ یہ سکے ممکنہ طور پر جنگ کے خوف سے بھاگنے والے شخص نے اس امید پر دبائے ہوں گے کہ واپس آکر یہاں سے اپنی ملکیت نکال لے گا۔

    اسرائیلی حکام نے بتایا کہ سونے کے سکوں کے علاوہ، کھدائی کے دوران قدیم شہر کے ایک رہائشی کوارٹر میں – عمارتوں کے باقیات، پانی کے نالے اور پائپ، کانسی کے سکے اور بہت کچھ بھی دریافت ہوا۔

    بنیاس کو عیسائی روایت میں ایک خاص مقام حاصل ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ یسوع نے پطرس رسول سے کہا تھا، کہ اس چٹان پر، میں اپنا چرچ بناؤں گا-

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی