Baaghi TV

Tag: سائیکل

  • فریج،سائیکل آ گئی،اب کلب بھی جیل میں بنا دیں تاکہ ناچ گانے کا پروگرام چل سکے،عطا تارڑ

    فریج،سائیکل آ گئی،اب کلب بھی جیل میں بنا دیں تاکہ ناچ گانے کا پروگرام چل سکے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ قیدی شہنشاہ نے فرج مانگا ہے جو کہ عدالتی حکم پر دے دیا گیا ہے۔ ورزش والی سائیکل پہلے ہی تھی۔ اب سوئمنگ پول، کلب اور بار کی ہی کمی رہ گئی ہے، وہ بھی پوری کر دیں۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ کہتا تھا اے سی اتار دوں، گھر کا کھانا بند کر دوں گا، لیکن اب کہتا ہے میرے سیل میں ذاتی فریج مہیا کیا جائے، فریج آ گیا ہے، جیل والوں کو کہوں گا کہ ایک فزیبلیٹی بنائیں تالاب بنا دیں تا کہ وہ تیراکی بھی کر سکیں، ساتھ ایک چھوٹا سا کلب بھی بنا دیں تا کہ شام کو کوئی ناچ گانے کا پروگرام کرنا ہو تو وہ بھی کر لیں،کیونکہ فریج آیا گیا،سائیکل آ گئی، اب پارٹی رہ گئی وہ بھی وہاں‌ہو سکتی ہے

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان پہلے اپنا موازنہ شیخ مجیب کیساتھ کرتے اور کہتے رہے میرے ساتھ وہی کچھ ہورہا ہے جو شیخ مجیب کیساتھ ہوا اور پھر جب بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کے مجسمے گرائے اور پوسٹر پھاڑے گئے تو حسب عادت یوٹرن لیتے ہوئے کہنے لگے دیکھیں عوام نے انکے ساتھ کیا کیا ہے،یوٹرن نہ لے تو وہ عمران خان کہلوا ہی نہیں سکتا، بیانیہ ہے کیا، کچھ پتہ نہیں،

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام بنگلادیش کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، بنگلادیش کے لوگوں نے عزم اور ہمت دکھائی ہے، بانی پی ٹی آئی نے شیخ مجیب کو ہیرو کے طور پر پورٹریٹ کیا، انہوں نے تقریریں کیں کہ ہمارا لیڈر شیخ مجیب کی طرح ہے،تحریک انصاف کے بدلتے بیانیے سے بندہ چکرا جاتا ہے، وہ بھی بیرونی مدد مانگتے رہے، یہ بھی بیرونی مدد مانگتے رہے، شیخ مجیب سے موازنہ کرتے تھے ایک مجسمہ گرنے سے موٌقف بدل لیا، یوٹرن کی ڈگری ہو تو تمام جامعات کو مشترکہ طور پر بانی پی ٹی آئی کو دے دینی چاہیے، بانی پی ٹی آئی کے بھی کرپشن کے وہی معاملات تھے جو بنگلادیش میں تھے، اندازہ کریں آگ لگانے والے پوچھتے ہیں کہ ہمیں روکا کیوں نہیں، بیرسٹر گوہر جا کر ان کو کہیں کہ آپ شیخ مجیب کو ہیرو گردانتے رہے تھوڑی سی گڑ بڑ ہوگئی ہے اب بیانیہ بدلیں

    کل “شیخ مجیب بیانیہ” زمیں بوس ہوا اور آج عمران خان بیانیہ ڈھے گیا

    معافی مانگوں گا لیکن آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں،عمران خان

    جن کے پاس طاقت ہے ان سے ہی بات کروں گا ،عمران خان

    خلیل الرحمان قمر کو تھپڑ کس نے مارا،خاتون اینکر سے غیر اخلاقی حرکت

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

  • عمران خان کی سائیکل اڈیالہ جیل پہنچا دی گئی

    عمران خان کی سائیکل اڈیالہ جیل پہنچا دی گئی

    سابق وزیراعظم عمران خان کی ورزش کیلئے سائیکل اڈیالہ جیل کے باہر منگوا لی گئی

    سائیکل جب اڈیالہ جیل کے اندر لے جانے کی کوشش کی گئی تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے سائیکل اندر لے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ عدالتی آرڈر ابھی تک نہیں ملا، عدالتی آرڈر ملے گا تو اسکے بعد سائیکل اندر جائے گا، جس پرعمران خان کے وکلاء نے کہا کہ عدالتی آرڈر کچھ دیر میں پہنچ جائے گا

    واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائیکل مہیا کرنے سے متعلق درخواست منظور کی جس پر پی ٹی آئی وکلاء سائیکل لے کر اڈیالہ جیل پہنچے تھے،دوران سماعت جج اور عمران خان کی بہن علیمہ خان کے مابین دلچسپ مکالمہ بھی ہوا تھا,علیمہ خان عدالت پیش ہوئیں اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں، اڈیالہ جیل میں جِم کی سہولت موجود ہے عمران خان کے گھر میں سائیکل ہے جو وہ استعمال کرتے ہیں میرے بھائی نے سائیکل کے علاؤہ اور کچھ نہیں مانگا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے فیملی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو فیور دےدی ہے، ٹینشن نہ لیں، علیمہ خان نے کہا کہ ہمارا بھائی اور کچھ نہیں مانگتا، بس ایک سائیکل مانگی ہے کیا ایسا ہوسکتاہے کہ ایک مخصوص شخص گھر سے سائیکل خود جیل میں مہیا کردے؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت ہیں، اہم زندگی ہے، سائیکل پہنچاتے ہوئے دوران راستہ کچھ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ علیمہ خان نے جج ابوالحسنات سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف سی بات ہے! جیل کا کنٹرول آپ کے پاس ہے، سائیکل پر آپ جب حکم جاری کریں گے توجیل پہنچا دی جائے گی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے جیل میں جا کر دیوار تڑوا دی، کون جج ایسا کرتاہے؟ جیل سے دیوار توڑ دی، اب چیئرمین پی ٹی آئی کی چہل قدمی آرام سے جاری ہے، علیمہ خان نے عدالت میں بار بار اسرار کیا کہ جتنی جلدی ہو جائے سائیکل دےدیں،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل کیا موٹر سائیکل بھی دےدیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ کچھ بتائیں کہ پٹشنر نے مانگا ہو اور میں نے نہ دیا ہو، علیمہ خان نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو انصاف مل جائے تو بہت شکر ادا کریں گے،چیئرمین پی ٹی آئی نے زندگی میں صرف اپنی صحت مانگی ہے،جج صاحب!! آپ سے ہی امید ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل بھی پہنچادیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سوئمنگ پول کے علاوہ باقی سب کچھ مہیا کردیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائیکل کا خیال رکھیےگا کہیں پنکچر نہ ہو،علیمہ خان یہ کہتے ہوئے کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئیں کہ جج صاحب آرڈر کریں، سائیکل ہم ابھی بھیج رہے ہیں،

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کی بیٹوں سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، عمران خان اسوقت اٹک جیل میں تھے، اب عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، سائفرکیس میں ایف آئی اے نے چالان جمع کروا دیا ہے جس میں عمران خان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے سزا دینے کی استدعاکی گئی ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ایک صارف نے ٹویٹ کرتےہوئے کہاکہ چیک کیجئے اڈیالہ جیل کو سسرال بنانے والے جنہیں دیسی گھی میں مرغے بھون کر کھلائے جاتے فرمائش پر دیواریں توڑی جاتیں اور ورزش کا جدید ترین سامان مہیا کیا جاتا انہیں بھی دو دن کی ضمانت پر دندل پڑے ہوئے غشی کی حالت ہے

  • سائیکل پر دنیا گھومنے نکلنے والی برازیلین فیملی ایک رات کیلیے سندھ پولیس کی مہمان

    سائیکل پر دنیا گھومنے نکلنے والی برازیلین فیملی ایک رات کیلیے سندھ پولیس کی مہمان

    سائیکل پر دنیا گھومنے نکلنے والی برازیلین فیملی ایک رات کے لیے سندھ پولیس کی مہمان

    سائیکل پر دنیا گھومنے نکلنے والی برازیلین فیملی ایک رات کے لیے سندھ ڈسٹرکٹ کیماڑی پولیس کی مہمان بن گئی۔چرسٹوف نامی سیاح اپنی تین بیٹیوں ، یومی ، سہا عالیہ ، جمانجا کے ہمراہ برازیل سے سائیکل پر دنیا گھومنے نکلا تھا ,اپنے سفر کا آغاز انہوں نے ڈھائی سال قبل کیا تھا ،چرسٹوف ڈھائی سالوں میں دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کر رہا ہے ایران سے پاکستان کا سفر تین دن میں کرکے پاکستان میں داخل ہوا۔مذکورہ برازیلین سیاح بلوچستان سے براستہ حب ریور روڈ آج کراچی پہنچا۔

    کراچی پہنچنے پر ایس ایچ او سعید آباد سب انسپکٹر شاکر حسین نے برازیلین سیاح اور اسکی فیملی کا استقبال کیا۔محمد عاطف قاسمی جنرل سیکرٹری انجمن تاجران سعید اباد اور ایس ایچ او سعید اباد شاکر حسین نے برازیلین فیملی کو سندھ کی ثقافت سندھی اجرک کا تحفہ پیش کیا گیا۔مہمانوں کے لیے ڈنر کا اہتمام اور رات گزارنے کے لیے تھانہ سعید آباد میں رہائش کا انتظام کیا گیا ،برازیلین سیاح فیملی کی جانب سے پاکستان زندہ باد اور سندھ پولیس زندہ باد کے نعرے لگائے گئے،

    فٹبال کے بادشاہ‘ اور لیجنڈری کھلاڑی پیلے 82 برس کی عمر میں دنیا چھوڑ گئے
    بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی والدہ 100 برس کی عمر میں چل بسیں
    لاہور انتظامیہ کا نان روٹی کی قیمت بڑھانے کی اجازت دینے سے انکار
    2022 نئے جیو پولیٹیکل دور کا آغازثابت ہوا، چین امریکہ کیلئے سب سے بڑاخطرہ
    کراچی ٹیسٹ؛ پاکستان نے دوسری اننگز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 82 رنز بنا لئے

  • امریکی صدرجوبائیڈن سائیکل سے گرگئے

    امریکی صدرجوبائیڈن سائیکل سے گرگئے

    واشنگٹن :امریکی صدر جو بائیڈن سائیکل سے گرگئے تاہم انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سائیکل سے گرنے کے فوراً بعد ہی امریکی صدر کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن اپنی اہلیہ اور دیگر افراد کے ساتھ سائیکلنگ کر رہے تھے۔ امریکی صدر ان دنوں چھٹیاں گزارنے کیلئے ریاست ڈیلاویئر میں موجود ہیں۔

    چین، ہالینڈ اور یورپ کے دیگر ممالک نےسرکاری سطح پر ایسے انتظامات کیے ہیں کہ لوگ زیادہ سے زیادہ سائیکل کا استعمال کریں۔ چھوٹا، بڑا، بزرگ، جوان ہر شخص سائیکل چلانا پسند کرتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہالینڈ کے وزیر اعظم اپنے بادشاہ سے ملنے سائیکل پر شاہی محل پہنچے۔ ڈنمارک کا بادشاہ اپنے بچوں کو سائیکل پر سکول چھوڑنے جاتا ہے، پاکستان میں جرمنی کے سابق سفیر ماٹن کوبلر پاکستان سے ٹرک ڈیزائن کی سائیکل اپنے ساتھ جرمنی لے کر گئے۔ اس کی ہر گز وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس گاڑی نہیں بلکہ انہوں نے وقت کی ضرورت کی طرف نشان دہی کی ہے۔

    اگریورپ کی طرح سائیکل کے استعمال کو پاکستان میں بھی اپنایا جائے تو ہم سب کی زندگیوں میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی، ہم سب چھوٹی چھوٹی ضرورتوں اور مختصر فاصلوں کا سفر کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سائیکل کا استعمال شروع کریں۔موجودہ حکومت طالب علموں کیلئے لیپ ٹاپ سکیم کی طرح سائیکل سکیم متعارف کرائے ، سائیکل چلانے کے رجحان کو فروغ دے۔ سرکاری دفاتر کے ملازمین کو حاضری پوری کرنے اور اچھی کارکردگی پر سائیکل کا انعام دیا جائےاور شہروں میں سائیکل ٹریک کا جال بچھایا جائے اور سائیکل پارکنگ کی سہولت مہیا کی جائے۔

    میٹرو سٹیشنز پر بھی سائیکلز سٹینڈ ہونا ضروری ہے تا کہ لوگ آسانی سے دو تین کلو میٹر کا سفر سائیکل پر طے کرکے سٹیشن پر اپنی سائیکل سٹینڈ پر لگائیں اور باقی کا سفر بس سے طے کریں۔ توانائی اور پیسے کی بچت، ماحول کی بہتری، صحت مند زندگی اور ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے سائیکل کا نظام لانا ہو گا۔ اس سے کئی سماجی، معاشی اور ماحولیاتی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

  • ماحولیاتی تبدیلیوں کامقابلہ:اقوام متحدہ میں سائیکل چلانے کو فروغ دینے کی قرار داد منظور

    ماحولیاتی تبدیلیوں کامقابلہ:اقوام متحدہ میں سائیکل چلانے کو فروغ دینے کی قرار داد منظور

    اقوام متحدہ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سائیکل چلانے کو فروغ دینے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ” فوربز” کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 193 ارکان نے 15 مارچ کو ایک قرار داد منظور کی جس میں کہا گیا تھا کہ سائیکل موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک ہتھیار ہے۔

    مس یونیورس 2021 کا تاج مس پولینڈ کے سر پر سج گیا

    ترکمانستان کی طرف سے پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی تاہم جنرل اسمبلی سے مںظور کی گئی دیگر قراردادوں کی طرح اس پر بھی رکن ملکوں کے لیے عمل درآمد لازمی نہیں۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے شہری اور دیہی علاقوں کی پبلک ٹرانسپورٹ میں سائیکل کو شامل کیا جائے سڑک پر سائیکل چلانے والوں کے لیے حفاظتی اقدامات کو بڑھایا جائے ۔

    قرار داد میں کہا گیا ہے کہ سائیکل کی سواری کے فروغ سے دیرپا ترقی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے لہذا دنیا بھر میں قومی ترقی کی پالیسی اور پروگرام میں سائیکل کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جائے۔

    مہنگائی میں ہو شربا اضافہ: سری لنکا میں مظاہرین نے صدارتی دفتر پر دھاوا بول دیا

    واضح رہے کہ 2013 میں صدر گربنگولی بردی محمدوف نے تمام شہریوں کو بائک خریدنے کا حکم دیا اقوام متحدہ کی جانب سے سالانہ ورلڈ بائیسکل ڈے کے قیام کے پیچھے وسطی ایشیائی ہرمٹ ریاست کا ہاتھ تھا اس سال 3 جون کو بائیسکل کاپانچواں عالمی دن منایا جائے گا-

    سعودی عرب کا مبینہ طور پر تیل کی فروخت ڈالر کی بجائے یوآن سے کرنے پرغور

    سائیکل چلانے کے صحت پر اثرات:

    سائیکل چلانا ایک ایسی صحت مند سرگرمی ہے جو بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ اس سے جسمانی تندرستی اور چستی حاصل ہوتی ہے جبکہ بچوں کو مستعد رہنے اور توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے۔

    سائیکل ایک سادہ، سستی، قابل اعتماد، صاف ستھری اور ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار ذرائع آمدورفت ہے، جو ماحولیاتی انتظام اور صحت کو فروغ دیتی ہے۔ دو صدیوں سے استعمال ہونے والی سائیکل کی اہمیت، انفرادیت اور استعداد کو تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12اپریل 2018ء کو فیصلہ کیا کہ ہر سال 3جون کو دنیا بھر میں ’سائیکل کا عالمی دن‘ منایا جائے گا۔

    اس دن دنیا بھر میں اس مقصد کے لیے عالمی ادارہ جسمانی اور دماغی صحت اور تندرستی کو مستحکم کرنے اور معاشرے میں سائیکل چلانے کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے قومی اور مقامی سطح پر سائیکلنگ ایونٹس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

    ایفل ٹاور کی اونچائی میں مزید اضافہ کیوں کیا گیا؟

    سائیکل چلانا جسمانی ورزش کی بہترین قسم ہے جو اچھی صحت یقینی بنانے کے ساتھ ہر عمر کے افراد کے لیے مفید ہے۔ سائیکلنگ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو طاقتور بنانے کے ساتھ مختلف اقسام کے کینسر سے بھی بچاتی ہے۔ سائیکل چلانے سے پٹھوں میں لچک اورمضبوطی آتی ہے اور جوڑوں کی حرکت بہتر ہوتی ہے جبکہ اسٹیمنا بھی بڑھتا ہے۔

    سائیکل چلانا دل کی صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے اور یہ انسان کو امراض قلب کی مختلف بیماریوں سے بچاتی ہے۔ سائیکل چلانے سے دل، خون کی نالیاں اور پھیپھڑے سب مشق کرتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے ساتھ ہی سانس گہرا ہونے لگتا ہے اور جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے جو کہ صحت کے لیے فائدے مند ہوتا ہے۔

    سائیکل چلانا جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔ اس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے جبکہ تشویش اور یاسیت گھٹتی ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

    مودی حکومت متنازعہ فلم ”کشمیرفائلز”کشمیریوں‌ کی جان کوخطرات:فتنہ پیدا ہونے کاڈر

    ہر عمر میں، جسمانی طور پر متحرک رہنے کے فوائد کہیں زیادہ ہوتے ہیں 2015ء میں ہالینڈ کی یونیورسٹی آف یوٹریچٹ میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سائیکل چلانے والے دیگر افراد کے مقابلے میں نہ صرف صحت مند ہوتے ہیں بلکہ ان سے لمبی عمر بھی پاتے ہیں۔

    یونیورسٹی کے محقق کالیجن کیمفیوس کے مطابق ایک گھنٹہ سائیکل چلانے والے افراد اپنی زندگی میں ایک گھنٹہ کا اضافہ کر لیتے ہیں تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو لوگ ہفتے میں 74منٹ سائیکل چلاتے ہیں وہ سائیکل نہ چلانے والوں سے 6ماہ زیادہ زندگی جیتے ہیں۔

    سائیکلنگ کے ذریعے بڑی تعداد میں کیلوریز جلائی جاسکتی ہیں۔ وزن کم کرنے کےخواہشمند افراد کے لیے یہ ایک بہترین ورزش ہے جو جسم میں موجود زائد کیلوریز جلانے میں معاون ہو تی ہے۔ اس سے جسم میں خوراک کی تحلیل کی رفتار بڑھتی اور چربی پگھلتی ہے تحقیق کے مطابق ایک گھنٹہ مسلسل سائیکل چلانے سے 300کے قریب کیلوریز جلائی جاسکتی ہیں۔

    امریکا میں نشہ آور ادویات کی فروخت میں ملوث 16 معالجین کو قید کی سزا

  • بچے، مسجد میں ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    بچے، مسجد میں ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    بچوں کی تعلیم و تربیت پر ہر قوم زور دیتی ہے، لیکن اسلام اور مسلمان اس حوالے سے بطور خاص حساس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا ہے، اور تربیت میں بھی نماز کو اولین ترجیح دی ہے کہا کہ اگر بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز سکھلاؤ اور پڑھنے کی ترغیب دلاؤ اور دس سال کے ہو جائیں تو ان پر نماز کو فرض عین کر دو، اگر نہ پڑھیں تو ان کی پٹائی کرو، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے کسی اور معاملہ میں بچوں پر کبھی نہ سختی کی اور نہ کرنے کا حکم دیا، بلکہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "دس سال رسول اللہ کی خدمت کی (آپ نے کسی موقع پر) کبھی اف تک نہ کہا ۔” ایسے حلیم الطبع اور بچوں پر مشفق نبی نماز کے مسئلہ پر اگر بچوں پر سختی کا کہہ رہے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں حکمِ نماز کتنا اہم اور حساس ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بچے بڑے ذوق و شوق سے مسجد میں جایا کرتے تھے، بلکہ جناب عبداللہ بن عمر کہتے ہیں بچپنے سے لے کر کنوارے رہنے تک ہم سویا بھی مسجد میں ہی کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھوٹے بچوں کو مسجد میں لانے سے نہیں روکا۔ حدیث میں آتا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "میرا دل کرتا ہے کہ میں نماز میں قرأت کو لمبا کروں، پھر میں بچوں کے رونے کی آوازوں کو پاتا ہوں تو میں قرأت کو مختصر کر دیتا ہوں۔ ” اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قرأت مختصر کردی مگر بچوں کو مسجد میں لانے سے منع نہیں کیا۔
    موجودہ دور بے راہ روی کا دور ہے، اس میں بچے تو کیا بچوں کے والدین بہت کم مسجد میں آتے ہیں۔ مسجدیں اپنے حجم کے حساب سے تقریبا ویران رہتی ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں اور ان کے والدین کو مساجد میں لا کر مساجد کی رونق کو دو بالا کیا جائے ۔اس حوالے سے ترکی نے سرکاری سطح پر ایک زبردست اقدام کیا، پہلے تو انہوں نے اپنی مساجد میں بچوں کے لیے کھیلنے کے لیے چھوٹے چھوٹے پلے گراؤنڈ بنائے، کہ سات سال سے چھوٹے بچے وہاں کھیلتے رہیں اور ان کے والدین با اطمینان نماز میں مشغول رہیں، پھر سات سال سے اوپر کے بچوں کے لیے یہ اعلان کیا کہ جو بچے چالیس دن نمازیں باجماعت ادا کریں گے انہیں بطور انعام سائیکلیں دی جائیں گی، جو کہ دی بھی گئیں ۔ان بچوں کی سائیکلوں کے ہمراہ تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل بھی ہوئی تھیں ۔ترکی کے بعد پاکستان کی کئی مساجد نے اپنے طور پر اس کار خیر کو اپنایا ۔ان میں گوجرانوالہ کی ایک مسجد کا پوسٹر مجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔اس کے بعد مسجد حلیمہ سعدیہ الرحمان گارڈن فیز ٹو نے یہ قدم اٹھایا، پہلے پہل تو یقین نہ آیا لیکن جب بچوں کو انعامات لیتے اور سائیکلوں کو سرپٹ دوڑاتے دیکھا، تو یقین مانیے دل کو بہت مسرت ہوئی ۔جامع مسجد حلیمہ سعدیہ الرحمان گارڈن فیز ٹو وہی مسجد ہے جہاں مجھے اس سال رمضان المبارک میں قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، فللہ الحمد ۔
    اس مسجد میں رمضان المبارک سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ جو بچے پورا رمضان مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں باجماعت مسجد حلیمہ سعدیہ میں ادا کریں گے انہیں انعام میں سائیکلیں دی جائیں گی اور دیگر قیمتی انعامات بھی دیے جائیں گے ۔اس خبر کے نشر ہوتے ہی ٹاؤن کے بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہ بڑھ چڑھ کر اپنا نام درج کروانے لگے
    پچاس بچوں نے اس میں حصہ لیا جو کہ بہت زبردست اور حوصلہ افزا تعداد تھی ، ماشاءاللہ ان پچاس بچوں کی مسجد آمد سے مسجد میں اچھی خاصی رونق ہوجاتی تھی، جس سے اس بات کی خوشی ہوتی تھی کہ ہم اپنی اگلی نسل تک دین پہنچا رہے ہیں ۔ان بچوں کی باقاعدہ حاضری لگتی تھی، جس کی ذمہ داری مسجد ہذا کے صدر ماسٹر مشتاق صاحب بڑی باقاعدگی سے نبھاتے رہے، جس پر وہ بھی اللہ کے ہاں یقینا اجر کے مستحق ہوں گے۔
    ان پچاس بچوں میں سے بیس بچے باقاعدگی سے آتے رہے اور ایک بھی نماز میں کمی نہیں کی ۔ان کی باقاعدگی کا یہ عالم تھا کہ یہ بچے اپنی نانی اماں اور دادی اماں کے ہاں افطاری پر بھی نہیں گئے، جس نے بھی دعوت دی اسے عید کے بعد کا وقت دیا، خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ بچے طاق راتوں میں بھی مسجد میں جاگتے رہے ہیں اور عبادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں ۔الحمد للہ اس وجہ سے مسجد حلیمہ سعدیہ میں پورا رمضان رونقیں لگی رہیں ۔
    بالآخر رمضان کے آخر جمعہ میں نماز کے بعد بچوں میں سائیکلوں اور دیگر انعامات کی تقسیم کے لیے ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی اور ان پابند بچوں میں نئی، اچھی اور معیاری سائیکلیں تقسیم کی گئیں، جنہیں پاکر بچوں کی خوشی دیدنی تھی اور دین پر عمل پیرا ہونے کے جذبات دوگنا ہو چکے تھے۔
    ان بیس بچوں کے علاوہ باقی تیس بچوں کو جن کی حاضری میں کچھ کمی تھی، ان میں حاضری کے بقدر انعامات بانٹے گئے جو کہ قیمتی بھی تھے اور اصلاحی بھی ۔جس میں دارالسلام کی دینی کتب، معیاری خوشبوئیں، منی فینز، گاڑیاں اور دیگر اچھی چیزیں تھیں۔
    اس کاوش میں سب سے اہم کردار اس مسجد کے خطیب پروفیسر حافظ عثمان ظہیر صدر جمیعت اساتذہ پنجاب کا ہے۔انہوں نے یہ اقدام اٹھایا اور سائیکلوں و انعامات کے لیے کافی متحرک بھی رہے ۔ماسٹر مشتاق ورک صاحب جو مسجد کے صدر ہیں، نے بڑی باقاعدگی سے تینوں اوقات میں بچوں کی حاضری لگائی۔ اسی طرح محترم حبیب کبریا صاحب برادر مکرم حافظ عبدالعظیم اسد صاحب کا کردار بھی لائق تحسین ہے جنہوں نے دارالسلام کی خوبصورت پروڈکٹس کے تحفے بچوں کے لیے عنایت کیے۔
    آخر میں پیغام ٹی وی کے زیر اہتمام تقریب نے اس پروجیکٹ کو چار چاند لگادیے ۔پیغام ٹی وی نے اس پروقار تقریب کی کوریج کی اور اسے چینل پر چلایا
    ہمیں امید ہے مسجد حلیمہ سعدیہ کا یہ منصوبہ دوسری مساجد کے منتظمین کو بھی تحرک دے گا اور وہ بھی اپنے علاقے کے بچوں کو مساجد میں لانے کے لیے ایسے ہی اقدامات کریں گے۔ اور یہ عمل نیکی کے فروغ میں مشعلِ راہ ثابت ہو گا۔