Baaghi TV

Tag: سابق حکومت

  • لوڈ شیڈنگ کی وجوہات سامنے آگئیں،سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا

    لوڈ شیڈنگ کی وجوہات سامنے آگئیں،سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا

    سابق حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پاکستان کے عوام اور ملک کو شدید گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، سابق حکومت نے پاور پلانٹس کیلئے بروقت فیول کا انتظام نہیں کیا، سستے اور مقامی بجلی گھروں پر کام میں دانستہ تاخیر کی، عالمی سطح پر ایل این جی کی کم قیمتوں کے وقت طویل المدتی معاہدے نہ کرنے، ڈالر کی قدر میں اضافہ اور سرکلر ڈیٹ بھی لوڈشیڈنگ کی وجوہات ہیں، موجودہ حکومت نے بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے اگست 2022 تک 70 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا بندوبست کیا ہے،سابق حکومت کی سستی کی وجہ سے کروٹ ہائیڈرو، شنگھائی الیکٹرک اور پنجاب تھرل آر ایل این جی کے 3197 میگاواٹ کے منصوبے اپنی معین مدت میں مکمل نہ ہوسکے۔

    دستیاب اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کی زیادہ تر وجوہات سابقہ حکومت کی 2018 سے 2022 کے دوران غفلت اور کمیشن ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے باعث پاکستان کے پاور سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مالیاتی بندش میں تاخیر بھی سابق حکومت کی نااہلی تھی، حکومت پاکستان کی جانب سے ساہیوال کول اور حب جیسے مکمل شدہ منصوبوں کیلئے ریوالونگ اکائونٹ کھولنے میں ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سی پیک کے تحت بجلی کی تیاری کے سلسلہ میں توانائی کے شعبہ کیلئے مزید فنانسنگ نہیں ہے۔

    سابق حکومت یا تو سی پیک کے توانائی کے فریم ورک کو سمجھ نہیں سکی یا یہ فریم ورک اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ اس سستی کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا اور اس شعبہ کاگلہ گھونٹا گیا۔ 720 میگاواٹ کا حامل کروٹ ہائیڈرو پراجیکٹ فروری 2022ء میں مکمل ہونا تھا تاہم یہ منصوبہ اب جولائی میں مکمل ہوا ہے۔ 1214 میگاواٹ کا تھرکول بلاک اور معدنیاتی شنگھائی الیکٹرک منصوبہ کی تکمیل مئی 2022ء میں ہونا تھی تاہم اب یہ مئی 2023ء میں مکمل ہونا ہے۔

    اسی طرح اعلیٰ کارکردگی کا حامل 1263 میگاواٹ کا پنجاب تھرمل آر ایل این جی پاور پلانٹ جھنگ پی ٹی آئی کی حکومت کی وجہ سے تین سال سے زیادہ تاخیرکا شکار رہا۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق فیول مکس کی عدم دستیابی کی وجوہات میں آر ایف او کی عدم دستیابی ہے۔ 30 جون 2022 تک آئل انڈسٹری (او ایم سیز اور ریفائنریز) کے پاس دستیاب آر ایف او کے موجودہ ذخائر دو لاکھ 77 ہزار میٹرک ٹن ہیں جبکہ ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن آر ایف او کے دو کارگو اس وقت بندرگاہ سے باہر ہیں ۔

    جولائی 2022 کیلئے تقریبا ایک لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن کی درآمد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ انتظامات جولائی 2022 کے دوران پاور ڈویژن کی طرف سے رکھی گئی چار لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن کی طلب کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ تیل کی صنعت نے پراڈکٹ کا بندوبست کیا ہے لیکن پاور پلانٹس کی طرف سے پاور ڈویژن کے کم آرڈرز اور ادائیگیوں کے مسائل کی وجہ سے اس کی حقیقی اپ لفٹمنٹ کم رہی۔ پٹرولیم ڈویژن پاور سیکٹر کیلئے مطلوبہ آر ایف او انتظام کرنے کیلئے تمام کوششیں کر رہا ہے اور متعلقہ پاور پلانٹس کی جانب سے بروقت آرڈر دینے اور پیشگی ادائیگیوں سے مشروط آر ایف او کی ضروریات کو آرام سے پورا کرسکتا ہے۔

    اعداد وشمار کے مطابق 21 اپریل 2022 کو مئی اور جون کیلئے تین کارگو کے ٹینڈر دیئے گئے تاہم جون کے کارگو کیلئے کوئی بڈ موصول نہیں ہوئی جبکہ مارکیٹ کی قیمت سے زائد قیمت کی وجہ سے دو کارگو ایوارڈ نہیں کئے گئے۔3 جون 2022 کو جولائی 2022 کیلئے ایک کارگو کے ٹینڈر کی آخری تاریخ تھی۔ تاہم ایل سی کنفرمیشن مسائل کی وجہ سے اس میں شرکت کم رہی۔10 جون کو جولائی کے ماہ کیلئے ایک کارگو، اور 23 جون 2022 کو چار کارگو کے ٹینڈر کی آخری تاریخ تھی اس میں بھی یہی مسائل رہے۔ 16 سے 30 اپریل 2022 کے دوران ایک لاکھ 39 ہزار میٹرک ٹن کی ڈیمانڈ دی گئی جبکہ ایک لاکھ 68 ہزار میٹرک ٹن آر ایف او اپ لفٹ کیا گیا۔ مئی 2022 میں تین لاکھ چار ہزار میٹرک ٹن کی ڈیمانڈ کے مقابلہ میں دو لاکھ 58 ہزار میٹرک ٹن اپ لفٹ کیا گیا جبکہ جون 2022 کیلئے چار لاکھ 42 ہزار میٹرک ٹن ڈیمانڈ کے مقابلہ میں تین لاکھ چھ ہزار میٹرک ٹن اپ لفٹ کیا گیا۔

    موجودہ حکومت نے اپریل میں 8 ملین ، مئی میں 12ملین، جون میں 12 ملین، جولائی میں 8 ملین اور اگست 2022 میں 7 ملین کیوبک فٹ یومیہ آر ایل این جی کا انتظام کیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اپریل سے جون 2022 کے دوران ایل این جی کی سپاٹ خریداری شروع کی۔ اس دوان 573 ملین ڈالر کی ایل این جی کی خریداری کی گئی۔ گوکہ پی ایس او اور پی ایل ایل کے ایس این جی پی ایل اور پاور سیکٹر کی طرف بڑی مقدار میں بقایا جات ہیں لیکن اس کے باوجود بجلی کیلئے سپلائی جاری رکھی گئی۔ جون میں ایل این جی کی ادائیگی میں پی ایس او کا شارٹ فال 285 ارب جبکہ پی پی ایل کا 119 ارب قابل وصول ہے۔ پی ایس او اور پی ایل ایل، ایل این جی درآمد کیلئے مصروف عمل ہیں۔

    سابق حکومت کی جانب سے ایل این جی کی عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہونے پر طویل المدتی کنٹریکٹ نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے اب زائد قیمت پر ایل این جی مل رہی ہے جوکہ آر ایل این جی کی خریداری کے طویل المدتی معاہدوں میں کمی ہے۔ 2020 کے وسط میں آر ایل این جی 3 سے 5 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو دستیاب تھی تاہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اگر اس وقت یہ معاہدہ کرلیا جاتا تو آج صارفین کو بجلی کے بل کم ملتے۔2018 سے 2022 کے دوران مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت کے معاہدہ کی وجہ سے ایل این جی 8 ڈالر پر دستیاب تھی جبکہ اس وقت اس کی قیمت 9 ڈالر 44 سینٹ تھی جبکہ حالیہ مہینوں میں آر ایل این جی 38 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو سے تجاوز کرچکی ہے۔

    دستاویز کے مطابق جو 2018 میں سرکلر ڈیٹ 1152 ارب روپے تھا جبکہ مارچ 2022 میں اس میں 114 فیصد اضافہ کے ساتھ 2467 ارب تک پہنچ گیا۔ سرکلر ڈیٹ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ پی ٹی آئی کے دور میں ڈالر کی قدر 115 کے مقابلہ میں 191 روپے تک بڑھ جانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ نے پرائیویٹ پاور پلانٹس کو حکومتی ادائیگیوں کو بھی متاثر کیا۔ 3900 میگاواٹ کے کوئلہ کے تین بڑے پاور پلانٹس کوئلہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی استعداد کے مطابق نہیں چل رہے۔

    ایک کول پاور پلانٹ کا کوئلہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کراچی پورٹ سے واگزار نہیں ہوسکا۔عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں گزشتہ 18 ماہ میں 300 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ 2018 میں آر ایف او فی میٹرک ٹن 58 ہزار 85 روپے سے تھی جو اپریل 2022 میں ایک لاکھ 28 ہزار 210 میٹرک ٹن ہوگئی اسی طرح آر ایل این جی 1250 ایم ایم بی ٹی یو دستیاب تھی جو اپریل 2022 میں 2671 روپے تک پہنچ گئی۔2018 میں کول 18107 روپے ٹن تھا جو اپریل 2022 میں 63775 روپے ہوگیا۔

  • سابق حکومت نے پاکستان تباہی کے دہانے پہنچایا،ہم نے بچا لیا،شہباز شریف

    سابق حکومت نے پاکستان تباہی کے دہانے پہنچایا،ہم نے بچا لیا،شہباز شریف

    وزیراعظم شہبازشریف نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی میں لوڈشیڈنگ بڑھے گی، تاہمعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدہ جلد طے پا جائے گا .وزیراعظم نے کہا کہ صاحب ثروت افراد سے 200ارب سے زائد جمع ہونے کی توقع ہے، عوام مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، شمسی پروگرام کے حوالے سے پروگرام جلد لے کر آئیں گے،براہ راست ٹیکس انقلابی قدم ہے،پاکستان دیوالیہ پن ہونے سے نکل چکا ہے،آئی ایم ایف سے معاہدہ جلد ہونے والا ہے،آئی ایم ایف نے کڑی شرائط رکھی ہیں،مختلف شعبوں میں مالکان کی آمدن پر براہ راست ٹیکس لگایا گیا.

    وزیراعطم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو رفاعی ریاست دیکھنا چاہتے تھے، تبدیلی اور نئے پاکستان کی بات کرنے والی سابقہ حکومت یہ اقدامات نہیں کر سکی،ملک میں خوردنی تیل کی کوئی کمی نہیں ہے،پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے،پچھلی حکومت کو 3ڈالر میں گیس مل رہی تھی لآئی ایم ایف نے کڑی شرائط رکھیں.

    وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا،دنیا میں کوئلہ بہت مہنگا ہوچکا ہے،کوئلے کی امپورٹ پر اربوں ڈہم ان مشکلات سے ضرور نکل جائیں گے،الر خرچ ہو رہے ہیں،کاروباری لوگوں کواللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل سے نوازاہے،گزشتہ دور حکومت میں پاکستان دیوالیہ ہونےکےقریب تھا،خوردنی تیل کا بحران آنے والا تھا اس سےبھی پاکستان بچ گیا،گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی،جولائی سے کوئلہ افغانستان سے درآمد کرنا شروع کریں گے.

  • سابق حکومت نے عوامی اہمیت کے منصوبوں کو نظر انداز کیا ،حمزہ شہباز

    سابق حکومت نے عوامی اہمیت کے منصوبوں کو نظر انداز کیا ،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے پراجیکٹ کا دورہ کیا،وزیر اعلی حمزہ شہباز نے زیر تکمیل منصوبے کے مختلف حصے دیکھے ،وزیر اعلی حمزہ شہباز مختلف فلور پر گئے اور پراجیکٹ پر کام کا جائزہ لیا ،وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی.

    حمزہ شہباز نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں شروع اس اہم پراجیکٹ کو سابق دور میں نظر انداز کیا گیا۔ گزشتہ 4 برس کے دوران سست روی کے باعث منصوبے کی لاگت میں تقریبا 3 ارب روپے سے زائد اضافہ ہوا۔ قومی وسائل کا نااہلی کی وجہ سے ضیاع مجرمانہ غفلت ہے۔ عوامی اہمیت کے منصوبے کو جلد فنکشنل کیا جائے۔

    وزیراعلی نے کہا کہ منصوبے کو آپریشنل کے لئے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے۔ منصوبے پر 3 شفٹ میں کام کرنے کا پلان بنایا جائے۔ عمارت کے اطراف بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں ،ڈی جی پی ایچ اے خود موقع پر آ کر وزٹ کریں اور اس ضمن میں جامع پلان بنائیں ،بلڈنگ کو بھی پودوں کے ساتھ گرین بنانے کا جائزہ لیا جائے۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ چند روز میں ٹائم لائن کے ساتھ منصوبے کو آپریشنل کرنے کا حتمی پلان پیش کیا جائے۔ دسمبر 2017 میں شروع کئے جانے والے اس منصوبے کو مارچ 2019 میں مکمل ہونا تھا۔وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کو سیکرٹری تعمیرات ومواصلات نے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی ،انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے.

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے ”دلکش مری“پراجیکٹ شروع کرنے کی ہدایت کی ، وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نےسیزن کے دوران مری کے ہوٹلوں کے کرائے کا تعین کرنے کا حکم بھی دیا.اس موقع پر حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ کرائے کا تعین ہونے سے سفید پوش طبقے کو ریلیف مل سکے گا۔ مری میں ٹریل موٹر بائیک ایمبولینس چلانے کا جائزہ لے کر حتمی پلان پیش کیا جائے۔

    وزیر اعلی حمزہ شہباز نے ٹورازم پولیس کی استعداد کار بڑھانے کی ہدایت کی. ٹورازم پولیس کوہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پیشہ وارانہ ٹریننگ دی جائے۔ریسکیو 1122 کے تعاون سے ٹورازم پولیس کی پروفیشنل ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے۔ مری آنے والی ٹریفک کو کیمروں کےذریعے 24/7 مانیٹر کیا جائے۔ موثر مینجمنٹ کے ذریعے ٹریفک رواں دواں رکھنے کے جامع پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے مری سمیت سیاحتی مقامات پر سہولتیں بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سیاحوں کی سہولت کیلئے بہترین انتظامات یقینی بنانے۔مری کے دیہات میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا سسٹم وضع کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے املاک میں آتشزدگی کے واقعات کا سدباب کرنے کیلئے فائر سیفٹی پلان بھی طلب کرلیا،وزیراعلی کو بریفنگ دی گئی کہ مری کی 34کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیرو مرمت مکمل ہوچکی ہے۔کلڈنہ چوک کو ری ڈیزائن کر کے وسیع کیا جارہا ہے۔ سڑکوں کی لینڈ مارکنگ اورسائن بورڈ کی تنصیب کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ مری کی سڑکوں کے اطراف میں دوکانوں کو یونیورسل شکل دی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبازشریف کی زیر صدارت مری ڈویلپمنٹ اینڈ امپرومنٹ پلان پر پیش رفت کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس میں عمران گورایہ، سیکرٹری سیاحت،سیکرٹری ہاؤسنگ، سیکرٹری تعمیرات ومواصلات ،سیکرٹری اطلاعات،ڈی جی ریسکیو1122 اورمتعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ کمشنر راولپنڈی ڈویژن، آر پی او راولپنڈی،سی پی او، ڈپٹی کمشنر،سی ٹی او اور متعلقہ حکام وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے.

  • سابق حکومت نے ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا،شہباز شریف

    سابق حکومت نے ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا،شہباز شریف

    سابق حکومت نے ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا،شہباز شریف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سکھر حیدر آباد موٹروے منصوبے کو جلد شروع کرنے کی ہدایت کردی. وزیرِ اعظم نے قراقرم ہائی وے (تھاہ کوٹ رائے کوٹ سیکشن)، بابوسر ٹنل اور خضدار کچلاک روڈ پر بھی کام جلد شروع کرنے کی ہدایات جاری کیں.

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا گیا،ملک ترقیاتی منصوبوں میں مزید تعطل کا متحمل نہیں ہو سکتا. وزیرِ اعظم شہبازکا کہنا تھا کہ منصوبوں کیلئے کنٹریکٹ دینے کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنایا جائے.وزیرِ اعظم نے پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کیلئے کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی.

    وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی کمپنیوں کی تصدیق کیلئے پاکستانی سفارتخانوں سے معاونت حاصل کریں.متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ملک و قوم کا وقت اور پیسہ بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں.وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری شاہراہوں کے تعمیراتی منصوبوں پر پیش رفت پر جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، مولانا اسد محمود، وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ، چیئرمین این ایچ اے اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.وزیرِ اعظم کو سکھر حیدر آباد موٹروے منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ M-6 سکھر حیدر آباد موٹروے کراچی پشاور موٹروے کا اہم سیکشن ہے جس پر کام گزشتہ حکومت کی سست روی کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا. 306 کلومیٹر لمبا چھ رویہ موٹروے 15 انٹرچینجز کے ساتھ 6 اضلاع میں سے گزرے گا. موٹروے کے قیام سے سفر کا وقت کم ہونے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی بچت اور پورے پاکستان سے برآمدات کی کراچی بندرگاہوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہوگی. منصوبے پر کام چھ ماہ کے اندر شروع کردیا جائے گا جس کی تکمیل 2.5 سال میں ہوگی.

    250 کلومیٹر قراقرم ہائی وے (تھاہ کوٹ رائے کوٹ سیکشن) کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس کی فیضیبلٹی رپورٹ پر کام جاری ہے جسے 7 ماہ کے دوران مکمل کر لیا جائے گا جس سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی ٹریفک کے بہاؤ میں آسانی، اور داسو اور دیامر بھاشا ڈیمز کی تعمیر کی وجہ سے متبادل راستہ میسر ہوگا.

    بابوسر ٹنل کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹنل کے علاوہ 66 کلومیٹر روڈ کا مکمل سیکشن تعمیر اور موجودہ روڈ کی بحالی کا کام کیا جائے گا. شاہراہ کے اس حصے میں موسمِ سرما کی برفباری کے دوران ٹریفک کی بلا تعطل روانی کیلئے سنو گیلیریز بھی تعمیر کی جائیں گی. وزیرِ اعظم نے اس منصوبے کو شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے فروغ کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی معیار کے مطابق منصوبے کی تکمیل کی ہدایات جاری کیں.

    وزیرِ اعظم کو پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. وزیرِ اعظم نے پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کو بہتر اور مؤثر بنانے کیلئے جامع تجاویز مرتب کرنے کیلئے 9 رکنی کمیٹی تشکیل کردی. کمیٹی میں وفاقی وزیرِ مواصلات، ہاوسنگ منسٹر، ایم ڈی PPRA، چیئرمین PEC شامل ہونگے. وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایات جاری کیں.

  • سابق حکومت کی نالائقی سے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،مریم اورنگزیب

    سابق حکومت کی نالائقی سے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،مریم اورنگزیب

    سابق حکومت کی نالائقی سے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ سابق حکومت کی نالائقی، نااہلی، چوری، کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے پاکستان کے عوام آج مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جن کمزور بنیادوں پر نالائقوں اور نااہلوں نے آئی ایم ایف معاہدے پر دستخط کئے اس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا عالم ہے، پاکستان کے عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے بچانے کے لئے موجودہ اتحادی حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف دن رات کام کر رہے ہیں، گزشتہ چار سال کے دوران توانائی اور موٹر وے جیسے رکے ہوئے منصوبوں کو ہم دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ وہ منصوبے ہیں جو 2018ء میں شروع ہو چکے تھے لیکن پچھلے چار سال کے دوران نااہل اور کرپٹ ٹولے نے اس پر کوئی کام نہیں کیا، ان کی نیت منصوبوں پر کام کرنا نہیں بلکہ ملک سے لوٹ مار کرنا تھی، لوٹ مار سے عمران خان اور فرح گوگی کے اثاثوں میں اضافہ کیا گیا۔عمران خان نے فارن فنڈنگ کی، چندے کے پیسے کی منی لانڈرنگ کی اور اپنے اکائونٹس کو ڈیکلیئر نہیں کیا.

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ جب اسٹیٹ بینک نے الیکشن کمیشن میں ان اکائونٹس کو ڈیکلیئر کیا تو انہوں نے الیکشن کمیشن پر حملے کی کوشش کی، جو خبر ان کے اسکینڈل اور کرتوتوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرے تو یہ اس پر ایسا بیانیہ لاتے ہیں جو تباہی پر مبنی ہوتا ہے، فرح گوگی عمران خان کی فرنٹ مین تھی جس نے پنجاب میں دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کی، فرح گوگی کے خلاف بات کریں تو عمران خان تڑپنا شروع ہو جاتے ہیں.

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پچھلے چار سال بنی گالا درحقیقت منی گالا بنا ہوا تھا، عمران خان کے فرنٹ مین پرسنز نے ان کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ملک اور عوام کا پیسہ لوٹا۔ ان کے ترجمان کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تحریک عدم اعتماد کا پہلے سے پتہ تھا.ایک موصوف نے یہ بھی کہا کہ ہمیں تحریک عدم اعتماد کا پتہ تھا ہم نے اس لئے معیشت کی بارودی سرنگیں بچھائیں، ایک طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ بیرونی سازش ہوئی اور دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ عدم اعتماد کا ہمیں پہلے سے پتہ تھا، یہ اپنے جھوٹے بیانیے کی ترتیب تو ٹھیک کرلیں.