رضا پہلوی جو سابقہ ایرانی سامراجی ریاست کے ولی عہد اور جلا وطن کیے گئے پہلوی خاندان کے سربراہ ہیں وہ ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا پہلوی اور ملکہ فرح دیبا کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔
رضا نکالے گئے ایک خود ساختہ مخالف گروہ، قومی مجلس ایران کے بانی اور سابق لیڈر اور ایران کی اسلامی جمہوری حکومت کے بڑے حریف ہیں بطور ولی عہد، رضا نے لابوک، ٹیکساس کے نزدیک ریز ایئر فورس بیس میں فضائی فوجی تربیت کے لیے سنہ 1977ء میں انقلاب ایران سے دو سال پہلے ایران چھوڑ دیا وہ اُس وقت کے بعد سے ایران واپس کبھی نہیں آئے۔
فارسی شاونزم کے سب سے اونچے پیڈلرز کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی ابتدا فارسی نہیں تھی رضا شاہ کے والد پالانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے مازندرانی تھے، ان کی والدہ ایروملو ترک یریوان کے علاقے سے تھیں محمد رضا شاہ پہلوی کی والدہ، تاج الملوک، دوبارہ ایروملو تھیں، اس بار اس کی جڑیں باکو میں تھیں۔
لہٰذا نام نہاد فارسی ولی عہد اور ان کا پورا گھر مازندرانی اور کاکیشین ترکوں کے ذخیرے کی پیداوار ہیں، پھر بھی وہ کچھ تخیل شدہ "خالص فارسی” نسب کے سرپرست کے طور پر اپنا روپ دھارتے ہیں ایک قوم پرست افسانہ جو خون کی لکیروں پر بنا ہے جو ہر موڑ پر اس سے متصادم رکھتے ہیں-
محمد رضا شاہ پہلوی پوری دنیا اسے شاہ ایران کے نام سے جانتی تھی۔ وہ ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا دوست تھا‘ یورپی پریس اسے ’’امریکن گورنر‘‘ کہتا تھا‘ وہ امریکی وفاداری میں بہت آگے چلا گیا‘ امریکہ نے اسے روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا حکم دیا اور اس نے ایران میں داڑھی اور پردہ پر پابندی لگا دی۔ اس کے دور میں کوئی باپردہ عورت گھر سے نکلتی تھی تو پولیس سرے عام اس کا برقع پھاڑ دیتی تھی‘ شاہ ایران نے تمام زنانہ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سکرٹ کو یونیفارم بنا دیا‘ شراب نوشی‘ رقص اورزنا فیشن بن گیا۔
شاہ کے دور میں ایران دنیا کا واحد ملک تھا جس میں کالجوں میں شراب کی دکانیں تھیں‘ یونیورسٹیوں میں خواتین کی سودے بازی ہوتی تھی اور اس مکروہ کاروبار کو قانونی حیثیت حاصل تھی‘ شاہ کے زمانے میں دو جرنیلوں کے ہم جنس پرست بیٹوں نے آپس میں شادی کی‘ سرکاری سطح پر نہ صرف ان کی دعوت ولیمہ ہوئی بلکہ شاہ اور اس کی کابینہ نے خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کی۔ شاہ نے امریکہ کی محبت میں ایران میں موجود 42ہزار امریکیوں کو سفارتی حیثیت دے دی ‘ امریکہ نے شاہ ایران کے دفتر میں ’’گرین فون‘‘ لگا رکھا تھا اور اسے امریکہ سے جو ہدایات ملتی تھیں ‘ وہ ان پر فوری عملدرآمد کراتا تھا لیکن پھر شاہ کی امریکہ نواز پالیسیوں پر بغاوت ہوئی ‘ یہ بغاوت تین سال تک چلتی رہی‘ شاہ نے 12شہروں میں مارشل لاء لگا دیا‘ عوام نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا-
شاہ نے حکومت شاہ پور بختیار کے حوالے کی اور ملک سے فرار ہو گیا‘ اس کا خیال تھا امریکہ اب اس کی وفاداریوں کا بدلہ دے گا لیکن جوں ہی شاہ ایران کا طیارہ ایران کی حدود سے نکلا‘ امریکہ نے آنکھیں پھیر لیں‘ شاہ پہلے مصر گیا‘ پھرمراکش‘ پھر بہا ماس اور پھر میکسیکو‘ وہ اس دوران امریکہ سے مسلسل مدد مانگتا رہا لیکن وائٹ ہاؤس اس کا ٹیلی فون تک نہیں سنتا تھا شاہ ایران سواسال تک مارا مارا پھرتا رہا لیکن کسی نے اس کی مدد نہ کی‘ امریکہ نے اس کے اکاؤنٹس تک ’’سیز‘‘ کر دئیے‘آخر میں انورالسادات کام آیا اوراس نے اسے پناہ دے دی ۔
جولائی 1980ء میں قاہرہ میں اس کاانتقال ہوا‘ انتقال کے وقت اس کے پاس اس کی تیسری بیوی کے سوا کوئی نہ تھا‘لوگ اس کا جنازہ تک پڑھنے نہ آئے چنانچہ اسے اس کے بیڈ روم ہی میں امانتاً دفن کردیا گیا-
بعدازا ں اس کے بیٹےرضا شاہ پہلوی نے گزشتہ 40 سال سے ایرانی سیاسی منظرنامے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے، اور بغیر کسی عوامی حمایت یا قانونی جواز کے بارہا ایران کے دشمن ممالک کا سہارا لیا ہے، جو ان کے عزائم میں موجود مایوسی اور سیاسی موقع پرستی کو ظاہر کرتا ہےحالیہ مظاہروں میں جہاں کچھ اپوزیشن جماعتیں ایران کے اندر سرگرم ہیں جب کہ کئی جلاوطن رہنما بیرونِ ملک سے اپنی آواز ملا رہے ہیں۔
ایران، یورپ اور امریکا میں مقیم ایرانی تارکینِ وطن نے حالیہ مظاہروں کے حق میں برلن، لندن اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں. ایران کے سابق بادشاہ کے واحد ولی عہد رضا پہلوی اس وقت امریکا میں جلاوطن ہیں وہ ایران کے معزول بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے صاحبزادے ہیں۔
رضا پہلوی ’’ایران نیشنل کونسل‘‘ نامی پلیٹ فارم سے ایک سیکولر اور جمہوری نظام کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بادشاہت کی بحالی کے بجائے ریفرنڈم کے ذریعے نظام کے تعین کے حامی ہیں، انھیں ایرانی تارکینِ وطن اور کچھ نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے، تاہم بائیں بازو اور جمہوری ریپبلکن حلقے ان کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی کے پاس ایران کے اندر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔
