Baaghi TV

Tag: ساحل سمندر

  • سمندری طوفان،بھارتی گجرات میں لینڈ فال مکمل،سندھ میں ساحلی علاقے زیر آب

    سمندری طوفان،بھارتی گجرات میں لینڈ فال مکمل،سندھ میں ساحلی علاقے زیر آب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سمندری طوفان کی شدت کم پڑ گئی

    سمندری طوفان بائپر جوئے کے حوالہ سے محکمہ موسمیات نے 29 واں الرٹ جاری کیا ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کی شدت کم ہونے کے بعد ایک درجہ کم ہو گئی ہے، آج دوپہر تک سمندری طوفان سائیکلونک سٹروم میں بدل جائے گا، شام کو اور کم ہونے کے بعد ڈپریشن میں بدل جائے گا، سندھ کے ساحلوں سے طوفان دور ہو رہا ہے ،طوفان کے اثرات سے راچی اور سندھ میں بارشوں کی پیشگوئی ہے ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ ایک دو دن جاری رہے گا، سمندری طوفان کراچی سے براہ راست نہیں ٹکرائے گا مگر اس کے اثرات نظر آئیں گے جس کے سبب کراچی میں سمندر میں تیزی اور لہریں مزید بلند ہوں گی بارشو‌ں کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد میں موسلادھار بارشوں سے اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے

    طوفان،پاکستان مکمل طور تیار تھا لیکن بڑی حد تک اس سے محفوظ رہا، شیری رحمان
    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ کہ بحیرہ عرب سے اٹھنے والے سمندری طوفان نے بھارتی گجرات میں لینڈ فال مکمل کر لیا پاکستان مکمل طورپر تیار تھا لیکن بڑی حد تک اس سے محفوظ رہا طوفان کے باعث سطح سمندر بلند ہونے کی وجہ سے سندھ میں سجاول جیسے ملحقہ ساحلی علاقے زیر آب آئے ہیں لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پر زیادہ تر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا زندگیاں بچانے کے لیے شاندار اورمربوط کوششیں کی گئیں جس پر تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں

    این ڈی ایم کے مطابق سمندری طوفان کراچی سے 225، ٹھٹہ سے 165 اورکیٹی بندرسے 125 کلو میٹر دور ہے آج شام طوفان کی شدت کم ہوکر ڈپریشن میں تبدیل ہوجائے گی 17 جون تک ٹھٹہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، میر پورخاص اور عمرکوٹ میں تیز ہوا کے ساتھ بارش کا امکان ہے کراچی، حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، شہید بے نظیر آباد اور سانگھڑ میں آج تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے

    سمندر کے قریبی علاقوں سے عوام کو منتقل کیا جا چکا
    طوفان بھارتی علاقے جھکاؤ پورٹ اورپاک بھارت سرحدی علاقوں سے ٹکرایا، طوفان کےزیراثر گجرات کے علاقے دوارکا میں طوفانی ہوائیں چل رہی ہیں جس کی وجہ سے متعدد درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور اشتہاری بورڈز گرگئے ہیں۔ بھارت میں گجرات کے علاقوں میں زبردست ہوائیں چل رہی ہیں کہیں بارش ہو رہی ہے چھتیں گر گئی ہیں مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں تا ہم ابھی تک جانی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی طوفان کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس ہے تا ہم حکومت کی کوشش تھی کہ کم سے کم جانی نقصان کے لئے شہریوں کو منتقل کیا جائے ۔ سمندر کے قریبی علاقوں سے عوام کو منتقل کیا جا چکا ہے پانچ سو کے قریب درخت طوفان کی وجہ سے گر چکے ہیں شہری اپنے ضروری سامان اور مویشیوں سمیت منتقل ہوئے ہیں بھارت میں طوفان کے حوالہ سے آگاہی مہم چلائی گئی تھی اور حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے تھےامدادی اور ریسکیو ٹیمیں بھئ متحرک ہو چکی ہیں بھارتی نیوی بھی الرٹ اور ریسکیو میں شریک ہے

    امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹر الرٹ،مندروں میں دعائیں
    بھارتی گجرات میں 75 ہزار افراد کو منتقل کیا گیا ہے چھ سو افراد کی ٹیم بجلی کی بحالی کے لیے تیار ہے مندروں میں طوفان سے بچاو کے لیے پجاری دعائیں مانگ رہے ہیں امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹر بھی حکومت نے الرٹ کر رکھے ہیں گجرات کے وزیراعلی نے کئی علاقوں کا معائنہ کیا جام نگر میں شدید بارش ہوئی جس سے کئی علاقے زیر آب آ گئے ،امت شاہ نے خصوصی اجلاس بلایا اور ہر گھنٹے بعد طوفان کی اپڈیٹ لے رہے ہیں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا یے بھارت میں ماضی میں کئی طوفان آئے اور شدید نقصان ہوا تا ہم اس بار حفاظتی انتظامات کیے گئے ۔ سمندر کے کنارے رہنے والے افراد کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں نے دور دراز علاقوں میں منتقل کیا ۔

    طوفان نے بھارت سمیت دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے
    سمندری طوفان کی رفتار کو مانیٹر کیا جا رہا ہے دنیا کی نظریں طوفان پر جمی ہوئی ہیں دس دن گزر گئے طوفان کی رفتار کم نہیں ہوئی یہ سب سے لمبے عرصے تک چلنے والا طوفان یے چھ اور سات جون کو طوفان کی رفتار میں اضافہ ہو تو آٹھ اور نو جون کو رفتار مزید تیز ہو گئی عموما کسی طوفان کا پیریڈ اتنا لمبا نہیں ہوتا جتنا اس طوفان کا ہو چکا ہے ، طوفان کی سپیڈ مختلف دنوں میں مختلف رہی جس کی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ طوفان زیادہ نقصان ہو سکتا ہے ایسا گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے بحیرہ عرب سے اٹھنے والے طوفان نے بھارت سمیت دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔

    درخت تنکوں کی طرح گرتے نظر آئے، بھارت میں طوفان کے مناظر
    بھارتی گجرات میں جب طوفان سمندر سے ٹکرانے والا تھا تو سمندر باہر آنے کو بیتاب نظر آتا تھا ، دن کو سب صحیح تھا مگر رات کے وقت طوفان کی وجہ سے ماحول ڈراؤنا ہو گیا آس پاس درخت ہیں اور قریبی علاقوں کی بجلی معطل کر دی گئی ہے بارش اور تیز ہوائیں چل رہی ہیں ، 110 کلومیٹر کی رفتار سے طوفان کی وجہ سے سمندر میں کھڑی کشتیوں کی رسیاں ٹوٹ گئیں جس کی وجہ سے کئی کشتیاں ڈوب گئیں، ہوا کی رفتار تیز ہونے کی وجہ سے سمندر کے قریبی علاقوں میں کچے مکان گر چکے ہیں درختوں کے گرنے سے بھی گھر گرے ہیں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے ،طوفان گجرات کے قریب آیا تو جام نگر کے علاقے میں ایک لمبا درخت گرنے کی وجہ سے کم از کم چار گھروں کو نقصان پہنچا ہے ، درخت تنکوں کی طرح گرتے نظر آئے ، سڑکوں پر ہر طرف درخت گرنے کی وجہ سے راستے بند ہو چکے ہیں جسکو کھولنے کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں سمندر کے کنارے ماربل سے تیار کردہ اوپن تھیٹر بھی طوفان کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے چھتوں کے شیڈ بھی تنکوں کی طرح آڑ رہے تھے ،طوفان کی کوریج کے لئے بھارتی صحافی کئی علاقوں میں موجود ہیں احتیاطی تدابیر کے ساتھ کوریج کی جا رہی ہے جام نگر میں ایک مندر کو بھی نقصان پہنچا ہے

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری
    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

     جوائے کے پیشِ نظر کراچی پورٹ پر الرٹ جاری

     پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل 

     کیٹی بندرسے شہریوں کا انخلا مکمل

  • ٹھٹھہ میں 1.4ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد:شیریں رحمان

    ٹھٹھہ میں 1.4ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد:شیریں رحمان

    اسلام آباد: ٹھٹھہ کے علاقے میں 1.4 ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد ہوگئی ہے۔،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر شیریں رحمان کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں پینے کا پانی نمکین ہو رہا ہے، زیر زمین پانی بھر تو رہا ہے لیکن کھارا ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ٹھٹھہ کے علاقے میں 1.4 ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد ہوگئی ہے۔

    اسلام آباد میں 13 اگست بروز ہفتہ وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے مارگلہ ہلز سے متعلق آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے واک کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک ہمارا قومی اثاثہ ہے، فائر سیزن میں بھی وائلڈ لائف اہلکار متحرک ہو کر اپنا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا اسلام آباد دنیا کا واحد کیپٹل ہے جو اتنے بڑے نیشنل پارک کے قریب ہے۔

     

     

    کراچی سرد اور ٹھنڈی ہوائیں :ساحلی پٹی پرموجود ماہی گیراور ان کی کئی کشتیاں لاپتہ

    نیشنل پارک کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ درخت ہمارا قومی سرمایہ ہیں، اسلام آباد کا قدرتی حسن نیشنل پارک کے باعث ہے، اور اس حسن کو برقرار رکھنا ہماری قومی ذمہ داری ہے، مارگلہ ہلز میں گندگی پھیکنا ہماری صحت کیلئے بھی مضر ہے، درخت نہ صرف ہمیں سایہ دیتے ہیں بلکہ ہمارے ماحول کیلئے بھی اہم ہیں۔

    شیری رحمان کے مطابق اس حوالے سے فوڈ سیکیورٹی کی میٹنگ بلا لی ہے، سندھ میں ٹھٹھہ کے علاقے میں 1.4 ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد ہوگئی ہے، اس زمین پر فصلیں لگا کرتی تھی لیکن اب سمندر آگیا، فصلوں کیساتھ سندھ اور بلوچستان میں پینے کا پانی نمکین ہو رہا ہے، اسی طرح کی رپورٹ پنجاب سے بھی آئی ہیں۔

    زیر زمین پانی بھر تو رہا ہے لیکن کھارا ہو رہا ہے، بدین میں تو گندم ، چاول، گنا، کھجور، آم اور یہاں تک کہ پان کی فصل لگی تھی سب ختم ہوگئی۔ ہم اس حوالے سے بھی وزارت سے بات کر رہے ہیں۔

     

    کراچی کے ساحل پر پھنسنے والا جہاز ایک مشکل سے نکلا تو دوسری مشکل میں پھنس گیا

    ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سالانہ 50 ہزار ایکڑ زمین سمند ر بر د ہورہی ہے ۔اس اضافے سے اب تک بلوچستان کا 750 کلو میٹر ،سندھ کا 350 کلو میٹر ،ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے میں 22 لاکھ ایکڑز زرخیز زمین کو سمندر نگل چکا ہے ۔ماحولیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سمندر کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے 2050 ء تک کراچی ،ٹھٹھہ اور بدین صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا اندیشہ ہے ۔علاوہ ازیں گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کےساتھ ساتھ سمندری پھیلائو کاانتظام کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے ،تا کہ قیمتی املاک اور انسانی جانوںکو محفوظ کیا جاسکے ۔

    کراچی کے ساحل پر پھنسا بحری جہاز شہریوں کیلئے تفریح کا سامان بن گیا

     

    دریائے سندھ کا پانی سمندر میں نہ گرنے کی وجہ سے پانی آگے بڑھنے لگا ہے ،اس کے علاوہ یہ سمندر 35 لاکھ زمین بھی نگل چکا ہے ،سیکڑوں گوٹھ ڈوب گئے ہیں اورپانی ٹھٹھہ کے شہر جھرک تک پہنچ چکا ہے ،ساحلی پٹی پر آباد کئی بستیاں غرق آب ہوگئی ہیں ، وہاں کے مکینوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے ۔ڈیلٹا میں میٹھا پانی نہ پہنچنے کے سبب ٹھٹھہ ،بدین اور سجاول کے اضلاع کو سمندر کے کھارےپانی نے تباہ وبرباد کر دیا ہے ،نہ پینے کے لیے صاف پانی میسر ہے اورمیٹھا پانی نہ ہونے کی وجہ سے سر سبز زمینیں بھی بنجر ہوگئی ہیں ۔ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، دریائے سندھ کا پانی پہلے 180 ملین ایکڑ فیٹ 400 ملین ٹن مٹی کے ساتھ سمندر میں داخل ہوتا تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے پانی حیدرآباد سے آگے جانے کے باعث سمندری پانی آہستہ آہستہ دریائے سندھ میں داخل ہوتا جا رہا ہے ۔