Baaghi TV

Tag: سارہ شریف

  • دس سالہ سارہ کا قتل،برطانوی عدالت نے والدین،چچا کو سنائی سزا

    دس سالہ سارہ کا قتل،برطانوی عدالت نے والدین،چچا کو سنائی سزا

    دس سالہ بچی سارہ شریف کا قتل، والدین کو سزا سنا دی گئی

    برطانوی عدالت نے پاکستانی شہریوں کو سزا سنائی،سارہ کے والد عرفان شریف کو عمر قید کی سزا سنائی گئی،سارہ کی سوتیلی والدہ بینش بتول کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی،سارہ شریف کے چچا فیصل ملک کو 16 سال قید کی سزا سنائی گئی، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عرفان شریف کو کم سے کم 40 سال جیل میں گزارنا پڑیں گے۔ بینش بتول کو کم سے کم 33 سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔ سزا کا کم سے کم وقت ختم ہونے کے بعد بھی رہائی کی گارنٹی نہیں۔کم سے کم سزا کا وقت ختم ہونے کے بعد پیرول فیصلہ کرے گا۔جیل سے رہا ہونے کے بعد ساری عمر بینش اور عرفان ساری عمر لائسنس پر رہیں گے۔ رہائی کے بعد موت تک لائسنس کی خلاف ورزی کی تو دوبارہ جیل میں ڈال دیا جائے گا۔بینش بتول کو پہلے بھی فراڈ کے کیس میں سزا ہو چکی ہے۔

    سزا سنائے جاتے وقت والد، سوتیلی ماں اور چچا کمرہ عدالت میں موجود تھے ،عرفان شریف، بینش بتول اور فیصل ملک قتل کے بعد پاکستان بھاگ گئے تھے ،برطانوی حکومت نے انٹرپول نوٹس بھجوائے، پنجاب پولیس نے ملزمان کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا ،ڈی پی اور جہلم ناصر محمود اور ایس ایچ او عمران حسین نے ملزمان کی واپسی کیلئے آپریشن کیا ،ملزمان کو لندن واپسی پر گیٹوک ایئرپورٹ پر جہاز کے اندر سے گرفتار کیا گیا ،عدالت میں انکشاف سامنے آیا کہ سارہ شریف کو دو سال تک گھر میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سارہ شریف کو استری سے جلایا گیا، بیٹ سے مارا گیا، دانتوں سے کاٹا گیا،دس سالہ بچی کو سوتیلے بہن بھائیوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

    خیال رہے کہ 10 سالہ سارہ کی لاش 10 اگست کو برطانوی کاؤنٹی سرے کے ایک مکان سے ملی تھی لاش ملنے سے ایک دن پہلے والد عرفان اس کی بیوی بینش اور بھائی فیصل پاکستان آ گئے تھے ،عرفان نے پاکستان سے برطانیہ کی ایمرجنسی ہیلپ لائن فون کرکے سارہ کی موت کی اطلاع دی،جہلم کے علاقہ کڑی جنجیل سے تعلق رکھنے والے ملزم ملک عرفان نے 2009 میں برطانیہ میں پولش خاتون اوگلا سے شادی کی جس سے ایک بیٹی اور بیٹے کی پیدائش ہوئی سال 2017 میں عرفان نے اوگلا کو طلاق دے دی طلاق کے بعد دونوں بچوں کو والد کی تحویل میں دے دیا گیا ،ملک عرفان اپنی دوسری بیوی بینش بتول اور بچوں کے ساتھ سرے کے علاقہ میں شفٹ ہوا جہاں 10گست 2023 کو بچی کے قتل کا واقعہ پیش آیا، بچی کی موت کے دوسرے دن ہی ملک عرفان برطانیہ چھوڑ کر فیملی کے ہمراہ جہلم پہنچا اور کہیں روپوش ہوگیا تھا،عرفان اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ آبائی علاقے میں پہنچے تھے تاہم وہ اپنی مقامی رہائش گاہ سے بھی غائب ہو گئے تھے،بعد ازاں وہ برطانیہ گئے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا

    کراچی،نوجوان راہ چلتی خاتون کے سامنے برہنہ ہو گیا، ویڈیو وائرل

    دوستی،جنسی عمل،پھر نازیبا ویڈیو،بلیک میلنگ سے ڈھائی کروڑ بٹورلئے

    طیارے میں جوڑےکا "جنسی عمل”فلائٹ کریو نے ویڈیو لیک کر دی

  • سارہ شریف قتل کیس: والد، سوتیلی والدہ اور چچا پکڑے گئے

    سارہ شریف قتل کیس: والد، سوتیلی والدہ اور چچا پکڑے گئے

    برطانیہ میں قتل کی جانے والی 10 سارہ شریف کے پاکستان میں روپوش والد عرفان شریف، سوتیلی والدہ بینش بتول اور چچا فیصل پکڑے گئے۔

    باغی ٹی وی: پولیس ذرائع کے مطابق تینوں کو گزشتہ رات سیالکوٹ سے گرفتار کیا گیا، فی الحال پولیس گرفتاری کی تصدیق سے گریزاں ہے پولیس نےگزشتہ روز جہلم میں عرفان کے والد کے گھر سے بازیاب کرائے جانے والے بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو لاہور بھیجا تھا۔

    پولیس کو پولش والدہ کی بیٹی سارہ کی لاش 10 اگست کو گھر سے ملی تھی اور اُس نے تصدیق کی تھی کہ خاندان کے تین افراد بچوں کے ہمراہ لاش ملنےسے ایک دن پہلے پاکستان فرار ہو گئے تھے دس سالہ سارہ شریف کو اس کے والد نے ہی قتل کیا جس کی تلاش میں برطانیہ کی ایجنسیز پاکستان کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔

    لیبیا میں طوفان اورسیلاب سےاموات میں اضافہ،سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں

    برطانوی پولیس کو سارہ کی موت کے حوالے سے 41 سالہ والد نے فون کیا تھا جو اپنی 29 سالہ اہلیہ بینش بتول اور اپنے 28 سالہ بھائی فیصل مالی کے ساتھ برطانیہ میں پوچھ گچھ کرنے سے پہلے اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔

    چند دن قبل بینش بتول نے اپنے شوہرعرفان شریف کے ساتھ ایک ویڈیو شیئرکرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سارہ کی موت معمول کا واقعہ تھا بینش کےمطابق پاکستان میں ہماری فیملی کو ہراساں کیا جارہا ہے، ہم اس لیے چھپے ہوئے ہیں کہ پولیس یا تشدد کرے گی یا پھر ہمیں ماردے گی سوتیلی والدہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ قتل کی تحقیقات میں برطانوی اتھارٹیز سے بھی تعاون کرنے کےلیے تیارہیں۔

    خواتین کیلئے مناسب عمرہ لباس کے حوالے سے ضابطہ جاری کر دیا

    قبل ازیں سارہ کے چچا عمران شریف نے بھی پاکستان میں پولیس کو بتایا تھا کہ خاندان کا مؤقف یہ ہے کہ سارہ گھر میں سیڑھیوں سے نیچے گر گئی تھی جس کے سبب اس کی گردن ٹوٹ گئی تھی، بینش نے گھبرا کر عرفان کو فون کیا تاہم سرے پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے معائنے سے یہ بات سامنے آئی کہ سارہ کے جسم پر کئی گہرے زخم تھے جو کہ ممکنہ طور پر طویل عرصے سے موجود تھے۔

  • برطانیہ میں دس سالہ بچی قتل کیس،ملزمان کے رشتے داروں کو ہراساں نہ کرنیکا حکم

    برطانیہ میں دس سالہ بچی قتل کیس،ملزمان کے رشتے داروں کو ہراساں نہ کرنیکا حکم

    لاہور ہائیکورٹ،راولپنڈی بینچ ،برطانیہ میں پاکستانی نژاد دس سالہ بچی سارہ شریف قتل کیس کا معاملہ،مقتولہ کے فرار والد ملک عرفان کے والد محمد شریف، بھائیوں ملک عمران اور ملک ظریف کی جہلم پولیس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے کی ،درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ حق نواز کیانی عدالت میں پیش ہوئے،درخواست گزار نے کہا کہ ملک عرفان کی تلاش کیلئے جہلم پولیس نے ہمیں حراست میں رکھا، جہلم پولیس ملک عرفان کے بارے بار بار پوچھ گچھ کیلئے تنگ کررہی ہے، ملک عرفان برطانیہ سے پاکستان آیا ہے لیکن انکے بارے کوئی معلومات نہیں،

    جہلم پولیس نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سارہ شریف قتل کیس کے بارے انٹرپول کی درخواست پر فیملی کے ارکان سے پوچھ گچھ کررہے ہیں، ملزمان کی تلاش کیلئے برطانوی پولیس ایف آئی اے اور پاکستان حکام سے رابطے میں ہیںعدالت نے دلائل سننے کے بعد جہلم پولیس کو ملزم کے والد اور بھائیوں کی گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کے خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ کیلئے انہیں حراست میں نہ رکھا جائے،عدالت نے ملزم ملک عرفان کے دونوں بھائیوں کی رہائی کے بعد درخواست نمٹا دی۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں دس سالہ بچی کو قتل کر کے والد، سوتیلی ماں اور بہن بھائی پاکستان میں آ کر روپوش ہو گئے ہیں ،برطانیہ میں دس سالہ بچی سارہ شریف کو قتل کیا گیا تھا، سرے پولیس واقعہ کی تحقیقات کر رہی تھی، دوران تحقیقات پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ بچی کو اسکے والد، سوتیلی ماں اور چچا نے قتل کیا اور برطانیہ سے پاکستان فرار ہو گئے، پولیس حکام کے مطابق ملزمان میں 41 سالہ عرفان شریف، 29 سالہ بینش بتول اور 28 سالہ فیصل شہزاد ملک شامل ہیں، تینوں ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے تا ہم انکی تلاش جاری ہے،

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • برطانیہ میں 10 سالہ بچی کا قتل، پاکستان میں مقیم ملزم کا بھائی گرفتار

    برطانیہ میں 10 سالہ بچی کا قتل، پاکستان میں مقیم ملزم کا بھائی گرفتار

    برطانیہ میں قتل ہونے والی 10 سالہ بچی سارہ شریف کے کیس میں پولیس جہلم میں پاکستانی نژاد ملزم عرفان کے بھائی کے گھر پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق پاکستان میں حراست میں لیے جانےوالے چچا نے بتایا ہے کہ سارہ سیڑھیوں سے نیچے گری تھی جس کے نتیجے میں اس کی گردن ٹوٹ گئی سارہ شریف کے چچا نے بتایا کہ عرفان سے ملاقات ہوئی نہ ان کے ٹھکانے کا علم ہے-

    واضح رہے کہ پولیس کو سارہ کی لاش10 اگست کو گھر سے ملی تھی اور اُس نے تصدیق کی تھی کہ خاندان کے 3 افراد لاش ملنے سے ایک دن پہلے پاکستان فرار ہو گئے تھےسارہ شریف کے والد، سوتیلی والدہ اور بہن بھائی پاکستان پہنچ کر روپوش ہوچکے ہیں دس سالہ سارہ شریف کو اس کے والد نے ہی قتل کیا جس کی تلاش میں برطانیہ کی ایجنسیز پاکستان کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔

    ایشیا کپ 2023:نیپال کی کرکٹ ٹیم کراچی پہنچ گئی

    ملزمان لاش ملنے سے ایک دن قبل پاکستان روانہ ہوئے تھے، سرے پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم میں سارہ کی موت کی وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا لیکن پوسٹ مارٹم میں سارہ کے جسم پر ایک سے زیادہ پرانے زخم کے نشانات پائے گئے۔

    پولیس کو سارہ کے 41 سالہ والد نے فون کیا، جو اپنی 29 سالہ اہلیہ بینش بتول اور اپنے 28 سالہ بھائی فیصل مالی کے ساتھ برطانیہ میں پوچھ گچھ کرنے سے پہلے اسلام آباد پہنچ چکے تھے،یہ فون اسلام آباد پہنچنے کے بعد رات 2 بج کر 50 منٹ پر کیا گیا تھابرطانوی پولیس نے قتل کی تفتیش کےلئے مطلوب بچی کے باپ عرفان شریف، سوتیلی ماں بینش بتول اور چچا فیصل ملک کی تصاویربھی جاری کیں۔

    امریکا کے چڑیا گھر میں نایاب زرافے کی پیدائش

  • برطانیہ،دس سالہ بچی قتل کرکے والد،سوتیلی والدہ پاکستان آ کر روپوش

    برطانیہ،دس سالہ بچی قتل کرکے والد،سوتیلی والدہ پاکستان آ کر روپوش

    برطانیہ میں دس سالہ بچی کو قتل کر کے والد، سوتیلی ماں اور بہن بھائی پاکستان میں آ کر روپوش ہو گئے ہیں

    برطانیہ میں دس سالہ بچی سارہ شریف کو قتل کیا گیا تھا، سرے پولیس واقعہ کی تحقیقات کر رہی تھی، دوران تحقیقات پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ بچی کو اسکے والد، سوتیلی ماں اور چچا نے قتل کیا اور برطانیہ سے پاکستان فرار ہو گئے، پولیس حکام کے مطابق ملزمان میں 41 سالہ عرفان شریف، 29 سالہ بینش بتول اور 28 سالہ فیصل شہزاد ملک شامل ہیں، تینوں ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے تا ہم انکی تلاش جاری ہے،

    عرفان شریف نے نو اگست کو بتول اور ملک ، اور ایک سے 13 برس کے پانچ بچوں کے ہمراہ برطانیہ سے اسلام آباد کا سفر کیا، سارہ شریف کی لاش کی شناخت، ڈی این اے سے ہوئی، پولیس کے مطابق بچی کی لاش قتل کے ایک روز بعد ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کی بچی پر تشدد بھی کیا گیا تھا اور اس کو چوٹیں بھی آئی ہوئی تھیں، سارہ کی موت کیسے ہوئی اس کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آئی، پولیس ترجمان کے مطابق رپورٹ آنے پر آگاہی دے دی جائے گی،

    سارہ شریف کے قتل کی پولیس تحقیقات کر رہی تھی، بچی کی شناخت ہوئی تو پتہ چلا کہ بچی کے والد اور اسکے رشتے دار پاکستان روانہ ہو چکے ہیں،سارہ کے والد نے آٹھ ٹکٹ بک کروائے تھے، ٹکٹ فروخت کرنے والے ایجنٹ ندیم کے مطابق تین ٹکٹ بڑوں کے اور پانچ بچوں کے لئے تھے،ٹکٹ ایجنٹ کا کہنا ہے کہ عرفان کے ساتھ فون پر بات ہوئی تھی،اور انکی آواز بالکل نارمل تھی، عرفان نے آٹھ اگست کو رات دس بجے کال کر کے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے لئے ٹکٹ بک کروانا چاہتا ہے کیونکہ اسکے کزن کی موت ہو گئی ہے، میں نے اسے پاسپورٹ کی تصویریں منگوائیں، اور پوچھا کہ ٹکٹ یکطرفہ کرواؤں یا دو طرفہ، تو عرفان نے کہا کہ یکطرفہ،

    پولیس سارہ کے والد اور اسکے ساتھیوں کو تلاش کرنے کے لیے بین الاقوامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے ،برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہے۔عرفان شریف اور ملک دونوں کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہیں، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ بتول اور پانچ بچوں کے پاس پاکستانی NICOP کارڈز ہیں –

    دوسری جانب بی بی سی کا کہنا ہے کہ دس سالہ سارہ شریف کو اس کے والد نے ہی قتل کیا جس کی تلاش میں برطانیہ کی ایجنسیز پاکستان کے ساتھ رابطہ میں ہیں ،

    جہلم کے علاقہ کڑی جنجیل سے تعلق رکھنے والے ملزم ملک عرفان نے 2009 میں برطانیہ میں پولش خاتون اوگلا سے شادی کی جس سے ایک بیٹی اور بیٹے کی پیدائش ہوئی سال 2017 میں عرفان نے اوگلا کو طلاق دے دی طلاق کے بعد دونوں بچوں کو والد کی تحویل میں دے دیا گیا ،ملک عرفان اپنی دوسری بیوی بینش بتول اور بچوں کے ساتھ سرے کے علاقہ میں شفٹ ہوا جہاں 10گست 2023 کو بچی کے قتل کا واقعہ پیش آیا، بچی کی موت کے دوسرے دن ہی ملک عرفان برطانیہ چھوڑ کر فیملی کے ہمراہ جہلم پہنچا اور کہیں روپوش ہوگیا ایف آئی اے حکام نے مقامی پولیس کی مدد سے ملک عرفان کی تلاش شروع کر رکھی ہے۔

    عرفان اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ آبائی علاقے میں پہنچے تھے تاہم اب وہ اپنی مقامی رہائش گاہ سے بھی غائب ہیں عرفان کے بھائی عمران نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ اوگلا سے شادی کے بعد عرفان کا خاندان سے رابطہ ختم ہو چکا تھا۔ جب وہ جہلم آیا تو وہ اپنے بچوں کے بغیر ہی خاندان کے لوگوں سے ملنے آیا لیکن اس کے بعد سے اس کا کچھ پتہ نہیں عمران کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ عرفان اور باقی گھر والے میرپور آزاد کشمیر چلے گئے ہوں جہاں بینش کے والدین رہتے ہیں

    سارہ کی لاش 10 اگست کو سرے کاؤنٹی کے قصبہ ووکنگ میں گھر سے ملی تھی ،برطانوی اخبارات کا کہنا تھا کہ عرفان شریف 20 برس قبل برطانیہ آیا تھا اور وہ ٹیکسی چلاتا تھا۔ تاہم اخبارات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپریل میں اس نے ساڑھے پانچ لاکھ پاؤنڈ سے سرے میں گھر خریدا تھا۔ جہاں وہ مقیم ہوئے

    Urfan Sharif, 41, Beinash Batool, 29, and Faisal Shahzad Malik, 28
    Urfan Sharif, 41, Beinash Batool, 29, and Faisal Shahzad Malik, 28

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی