Baaghi TV

Tag: سافٹ ڈرنکس

  • کیا آپ تھوڑی سی پیتے ہیں‌ ! پینےسے پہلے یہ ضرور پڑھ لیں‌!

    کیا آپ تھوڑی سی پیتے ہیں‌ ! پینےسے پہلے یہ ضرور پڑھ لیں‌!

    لندن : سافٹ ڈرنکس کی تھوڑی مقدار پئیں یا زیادہ یہ انتہائی نقصان دہ ہیں، اس کے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کئی برسوں سے تحقیق کرتے آچلے ہیں ، اس سلسلے مٰیں ایک واضح ،بروقت اور عین حقیقت تحقیق جو سامنے آئی ہے ، وہ بہت ہی پریشان کن ہے، ’ڈائٹ ڈرنکس‘ قبل از موت کی وجہ قرار بہت سے لوگ کولڈ ڈرنک کے استعمال کی جگہ ڈائٹ کولڈ ڈرنکس کا ستعمال کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ڈائٹ ڈرنکس میں چینی کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ڈائٹ ڈرنکس کا استعمال ایک گلاس سے زیادہ کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کے اس سے انہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔حال ہی میں ایک تحقیق کی گئی جس کا یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ وہ لوگ جو دن میں 2 گلاس ’ڈائٹ ڈرنکس‘ استعمال کرتے ہیں ان لوگوں میں قبل از موت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

    اس تحقیق میں 450,000 سے زائد لوگوں کا مطالعہ کیا گیا جن کا تعلق یورپ کے 10 ممالک سے تھا، تحقیق سے یہ نتیجہ حاصل ہوا ہے کہ اگلی دو دہائیوں میں ڈائٹ ڈرنکس کا روزانہ استعمال کرنے والے افراد میں قبل از موت کے 26 فیصد سے زائد امکانات ہوں گے۔

    محققین کا مزید کہنا تھا کہ سافٹ ڈرنکس کا استعمال مہلک بیماریوں کو جنم دیتا ہےجن میں دورانِ خون اور نظام ہاضمہ کے حوالے سے بیماریاں شامل ہیں۔دو یا دو سے زیادہ گلاس سافٹ ڈرنکس پینے والے افراد میں دل کا دورہ پڑنے، فالج اور شریانوں کی دیگر مہلک بیماریوں کے 52 سے زائد فیصد امکانات ہوتے ہیں۔

    اس تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر نیل مرفی کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتیجے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ہمیں لوگوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سافٹ ڈرنکس کا استعال کم کرنے کی ہدایت دینی ہو گی۔ڈاکٹر نیل مرفی نے مزید بتایا کہ سافٹ ڈرنکس دل کی بیماری، ٹیومر اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بنتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ2010 میں سافٹ ڈرنکس کے باعث مرنے والوں کی تعداد تقریباً 184,000 تھی۔

    فرانس کے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے ڈاکٹر نیل مرفی نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ بجائے کولڈ ڈرنک پینے کے زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کرنا چاہیے۔محققین کا کہنا ہے کہ ڈائٹ کولڈ ڈرنکس یا سافٹ ڈرنکس دونوں کا استعمال دل اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں اور یہ وہ بیماریاں ہیں جس سے دنیا بھر میں اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

  • ڈائٹ مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی ہیں .آسٹریلوی ڈاکٹرز نے خبردار کر دیا

    ڈائٹ مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی ہیں .آسٹریلوی ڈاکٹرز نے خبردار کر دیا

    سڈنی:آسٹریلوی ماہرین طب دنیا میں بڑی تیزی سے پھیلنے والے مرض ذیابطس جسے شوگر کا نام بھی دیا جاتا ہے کے بارے میں بڑے ہوش ربا انکشافات کرکے اس کے شکار افراد کی جہاں رہنمائی کی ہے وہاں خطرات سے آگاہ بھی کیا ہے. مصنوعی مٹھاس والے مشروبات یا ڈائٹ سافٹ ڈرنکس موٹاپے یا ذیابیطس سے بچاﺅ میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ چینی سے بنے مشروبات سے زیادہ صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

    آسٹریلیا کے ایک ممتاز میڈیکل سینٹر ایڈیلیڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی معدے میں موجود بیکٹریا میں تبدیلیاں لانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔یہ تبدیلیاں جسم کی بلڈشوگر جذب اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو بدل دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس تحقیق کے دوران 2 ہفتے تک 29 صحت مند نوجوانوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ان میں سے آدھے نوجوانوں کو مصنوعی مٹھاس کے کیپسول دیے گئے جو مقدار میں دن بھر میں ساڑھے 4 ڈائٹ سافٹ ڈرنکس کے کین کے برابر تھے۔باقی افراد کو عام کیپسول دیے گئے، جن میں کوئی مٹھاس نہیں تھی۔

    ماہرین طب نے رضاکاروں کے معدے کے بیکٹریا کا تجزیہ کیا اور جن نوجوانوں نے مصنوعی مٹھاس استعمال کی تھی، ان کے بیکٹریا میں نمایاں تبدیلیاں دریافت کیں جبکہ اس ہارمون کا اخراج کم ہوگیا جو کہ بلڈ گلوکوز لیول کو کنٹرول کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی بیکٹریا کو متاثر کرکے ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔اس سے قبل ہاورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ڈائٹ یا مصنوعی مٹھاس سے بننے والے مشروبات میں ایسا جز پایا جاتا ہے جو کہ میٹابولک سینڈروم کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور موٹاپے کا امکان ہوتا ہے۔جن افراد میں میٹابولک سینڈروم ہو انہیں امراض قلب، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض لاحق ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

    SHAREFacebook Twitter