Baaghi TV

Tag: سال 2022

  • 2022 میں نیدرلینڈ میں’محمد ‘دوسرا مقبول نام رہا

    2022 میں نیدرلینڈ میں’محمد ‘دوسرا مقبول نام رہا

    2022 کے دوران نیدرلینڈ میں نام ’محمد ‘ نوزائیدہ لڑکوں میں دوسرا مقبول ترین نام رہا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈچ سوشل انشورنس بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 کے دوران نیدر لینڈ میں لڑکوں کے لیے مذہب کی بنیاد پر نام رکھنے کا رجحان زیادہ دیکھنے میں آیا۔

    کراچی اور حیدار آباد میں بلدیاتی الیکشن 15 جنوری کو ہوں گے،تیاریاں مکمل

    ڈچ سوشل انشورنس بینک کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق 2022 میں، نیدرلینڈ میں نوزائیدہ لڑکوں میں نام نوح 871 مرتبہ جبکہ نام محمد 671 مرتبہ رکھا گیا۔

    اسی طرح سال بھر کے دوران لڑکیوں کے لیے نام ایما 677 بار رکھا گیا۔

    بینظیر کفالت کی پہلی سہ ماہی قسط 9 جنوری سےجاری کی جائے گی

  • لاہور پولیس نے سال 2022 میں 94 ہزار ملزمان کئے گرفتار

    لاہور پولیس نے سال 2022 میں 94 ہزار ملزمان کئے گرفتار

    لاہور پولیس نے سال 2022 میں 94 ہزار ملزمان کئے گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور پولیس نے رواں برس ملزمان کی گرفتاریوں کے حوالہ سے اعداد و شمار جاری کر دیئے،

    سی سی پی او لاہور کے مطابق لاہور پولیس نے رواں سال 94800 سے زائد جرائم پیشہ افراد گرفتار کئے گئے،رواں سال 1472 ڈکیت گینگز کے 3561 کارندے گرفتار کئے گئے ملزمان سے87 کروڑ 29 لاکھ 44 ہزار روپے سے زائد مالیت کا مسروقہ مال بھی برآمد کیا گیا، ملزمان کے قبضے سے 77 کاریں،4544 موٹر سائیکلز،207 دیگر گاڑیاں، 36 لیپ ٹاپ،3639 موبائل فونز برآمد ہوئے ہیں، رواں سال 52958اشتہاری،عادی مجرمان و عدالتی مفرور گرفتار کئے گئے، اے کیٹیگری کے 4396 اشتہاری شامل ہیں، ناجائز اسلحہ کے خلاف مہم کے دوران 6416 ملزمان، ہوائی فائرنگ پر 1000سے زائد ملزمان گرفتار کئے گئے،ملزمان کے قبضے سے 39 کلاشنکوف،538 رائفلز،231 بندوقیں،5430 پسٹلز ریوالور،05 کاربین،16ہزار سے زائد گولیاں برآمد کی گئی ہیں،

    رواں سال منشیات فروشی پر 9261 ملزمان گرفتار،9138 مقدمات درج کئے گئے ہیں، ملزمان کے قبضے سے 15کلو 878 گرام آئس،57کلوگرام ہیروئن،4450 کلوگرام سے زائد چرس،103کلوگرام افیون،73802 لٹر شراب برآمد کی گئی ہے، رواں سال 4973قمار بازگرفتار،1163مقدمات درج کئے، رواں سال پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی میں ملوث 6907 ملزمان گرفتار، 6809 مقدمات درج ہوئے ،رواں سال نیشنل ایکشن پلان کے تحت مختلف قانون شکنی پر 21108ملزمان گرفتار کئے گئے، ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کیخلاف ورزی پر 3408،آرمز آرڈیننس 6416،وال چاکنگ پر195 ،نفرت انگیز مواد کیسز میں 23 ملزمان گرفتار کر لئے گئے،

    دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    دوسری جانب پنجاب پولیو پروگرام کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی، ترجمان پولیو پروگرام کے مطابق 2022 میں پنجاب میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا،2022 میں مثبت ماحولیاتی کی شرح میں 1.1 فی صد کمی آئی، مثبت ماحولیاتی نمونوں کی شرح 3.9 فی صد رہی ،2021 میں یہ شرح 5 فی صد تھی ،2022 میں 9 انسداد پولیو مہمات منعقد کی گئیں ،7 مہمات مخصوص ہائی رسک علاقوں میں منعقد کی گئیں ،ہر قومی مہم میں دو کروڑ بچوں کو قطرے پلائے گئے ،نقل مکانی کی وجہ سے پنجاب خطرے کی زد میں رہے گا ، سربراہ پنجاب انسداد پولیو پروگرام کے مطابق بڑے شہروں کے داخلی راستوں پر پولیو قطروں کے پوائنٹ قائم کر دیئے،پنجاب بھر میں 41 راستوں پر قطروں کے پوائنٹ قائم کئے گئے ہیں ،19 اضلاع میں مقامی زبانوں سے ہم آہنگ 827 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں

  • گوادر یوتھ فیسٹیول 2022 کی اختتامی تقریب :تمام پوزیشن ہولڈرز کو انعامات سے نوازا گیا

    گوادر یوتھ فیسٹیول 2022 کی اختتامی تقریب :تمام پوزیشن ہولڈرز کو انعامات سے نوازا گیا

    گوادر یوتھ فیسٹیول 2022 کی اختتامی تقریب

    باغی ٹی وی : گزشتہ دو دنوں سے جاری گوادر یوتھ فیسٹیول 2022 کی اختتامی تقریب میں تمام پوزیشن ہولڈرز کو مبارکباد جنہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انہیں انعامات سے نوازا گیا۔ نتائج درج ذیل ہیں:

    1. سکول کے زمرے کا ٹیبلوز

    پہلی پوزیشن۔ سی ایم بی ایجوکیشنل اکیڈمی سکول گوادر

    دوسری پوزیشن۔ نیو ٹاؤن گرامر ہائی سکول گوادر

    دوسری پوزیشن۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بخشی کالونی گوادر

    تیسری پوزیشن۔ دار فہم اسلامک ماڈل پبلک سکول گوادر

    2. قومی گانے کی کارکردگی

    پہلی پوزیشن۔ بام پبلک سکول گوادر

    دوسری پوزیشن۔گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گوادر

    تیسری پوزیشن۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کولانچی پاڑہ گوادر

    3. سائنس کے ماڈل

    پہلی پوزیشن۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گوادر

    دوسرا جی ڈی اے ہائر سیکنڈری پبلک سکول گوادر

    تیسری پوزیشن۔ نیو ٹاؤن گرامر ہائی سکول گوادر

    4. خطاطی۔

    پہلی پوزیشن۔ عظمیٰ حمید، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ملا بند گوادر

    دوسری پوزیشن۔ محسوری حلیم، نیو ٹاؤن گرامر ہائی سکول گوادر

    دوسری پوزیشن۔ عائشہ، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گوادر

    تیسری پوزیشن۔ نوشین، سی ایم بی ایجوکیشنل اکیڈمی سکول گوادر

    تیسری پوزیشن۔ آسیہ نصیر، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شمبے اسماعیل گوادر

    5. کالجوں اور یونیورسٹی کے ٹیبلوز

    پہلی پوزیشن۔ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج گوادر

    دوسری پوزیشن۔ گورنمنٹ گرلز کالج گوادر

    تیسری پوزیشن۔ گوادر یونیورسٹی

    6. پینٹنگز

    پہلی پوزیشن۔ خان بی بی، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گوادر

    دوسری پوزیشن۔ ڈگری کالج گوادر

    تیسری پوزیشن۔ بسمہ، دی اویسس سکول گوادر
    تیسری پوزیشن۔ فاطمہ، جی ڈی اے سکول گوادر

    7. مباحثہ مقابلہ

    پہلی پوزیشن- سودہ صدیق، گرلز کالج گوادر

    دوسری پوزیشن- گل ناز

    تیسری پوزیشن- حلیمہ عبدالسلام

    8. بزنس آئیڈیا

    پہلی پوزیشن۔ گوادر یونیورسٹی

    دوسری پوزیشن۔ گرلز کالج گوادر

    تیسری پوزیشن۔ ڈگری کالج گوادر

    9. فوٹوگرافی کا مقابلہ

    پہلی پوزیشن۔ اکبر

    دوسری پوزیشن۔

    تیسری پوزیشن۔ رخسانہ

    اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تمام اداروں کو شاباش دی جائے گی-

  • پاسپورٹ کی سال 2022 کی رینکنگ جاری ،فہرست میں پاکستان کا نمبر کونسا؟

    پاسپورٹ کی سال 2022 کی رینکنگ جاری ،فہرست میں پاکستان کا نمبر کونسا؟

    لندن: عالمی درجہ بندی پر نظر رکھنے والے ادارے ہینلے نے پاسپورٹ کی سال 2022 کی رینکنگ جاری کردی جس کے مطابق دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ امریکہ یا برطانیہ کا نہیں بلکہ جاپانی شہریوں کے پاس ہے جبکہ درجہ بندی میں پاکستان کا 108واں نمبر رہا۔

    باغی ٹی وی : ہینلے کی جانب سے جاری ہونے والی سال 2022 کی رینکنگ میں 111 ممالک کے پاسپورٹس کو تین حصوں دنیا کے طاقت ور، اوسط اور بدترین میں تشکیل دیا گیا ہے جن میں جاپان اور سنگاپور ایک مرتبہ پھر پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا درجہ بندی میں پاکستان 108وایں نمبر پر آیا، گزشتہ سال کی درجہ بندی میں پاکستان 116 ممالک میں 113 ویں نمبر پر تھا۔

    بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سنٹرل قرنطینہ پالیسی منسوخ:توپھرہوگا کیا؟اس کے متعلق…

    جاپان اور سنگا پور فہرست میں پہلے نمبر پر رہے، ان دونوں ممالک کے پاسپورٹ رکھنے والے 192 ممالک کا بغیر ویزے کے سفر کرسکتے ہیں-

    دوسرے نمبر پر جرمنی اور جنوبی کوریا، تیسرے پر فن لینڈ، اٹلی، اسپین، چوتھے پر آسٹریا، ڈنمارک، فرانس، نیدر لینڈ اور سوئیڈن، پانچویں پر آئرلینڈ اور پرتگال کے پاسپورٹ رہے جن کے حامل افراد بالترتیب 190، 189، 188، 187 ممالک بغیر ویزے کے جاسکتے ہیں۔

    اسی طرح بلیجیئم، نیوزی لینڈ، ناروے، سوئٹزلینڈ، برطانیہ اورامریکا چھٹے، آسٹریلیا، کینیڈا، چیک ری پبلک، مالٹا، یونان ساتویں، پولینڈ اورہنگری آٹھویں،لتھوانیا، سلوواکیا نویں اور ایسٹونیا، لیٹویا، سلووینیا کے پاسپورٹ دسویں نمبر پر رہے، جن کے حامل افراد بالترتیب 186، 185، 183، 182، 181 ممالک کا بغیر اجازت سفر کرسکتے ہیں۔

    پاکستان چوتھا مہنگا ترین ملک بن گیا،پی پی کا حکومت کیخلاف وائٹ پیپر جاری

    پاسپورٹ کی بدترین رینکنگ میں شمالی کوریا 104، نیپال اور فلسطین 105، صومالیہ 106، یمن 107 ، پاکستان 108، شام 109، عراق 110 اور افغانستان کا پاسپورٹ سب سے آخری یعنی 111 ویں نمبر پر رہا۔

    شمالی کوریا کا پاسپورٹ رکھنے والے 39، نیپال، فلسطین کا پاسپورٹ رکھنے والے 37، صومالین پاسپورٹ کے حامل 34، یمن 33، پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے 31، شام 29، عراق 28 اور افغان پاسپورٹ کے حامل افراد 26 ممالک بغیر ویزے کے سفر کرسکتے ہیں یا انہیں ایئرپورٹ پر ویزا حاصل کرنے کی سہولت دستیاب ہے۔

    شہبازشریف نے منی لانڈرنگ تحقیقات لاہورہائی کورٹ میں چیلنج کردیں

  • ساتویں مردم شماری بھی ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ

    ساتویں مردم شماری بھی ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ

    کراچی: ملک میں ساتویں مردم شماری ماضی کی طرح مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےملک میں سماجی و معاشی منصوبہ بندی کے لیے مردم شماری بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ملک کی آبادی اور اس کے تناسب کو مد نظر رکھ کر ہی حکومت منصوبہ بندی کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں بین الاقوامی اصولوں کے بالکل برعکس 1981 سے 2017 تک dejure یعنی مستقل رہائشی ایڈریس بنیادوں پر مردم شماری کی گئی جس سے ملک کے اہم شہروں کی آبادی متاثر ہوئی ہے بالخصوص ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی کو ہمیشہ گھٹا کر دکھا گیا ہے چھٹی مردم شماری میں بھی کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60لاکھ ظاہر کی گئی ہے جسے سپریم کورٹ سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے غلط قرار دیا ہے۔

    نجی خبررساں ادارے”ایکسپریس” کےمطابق آئی بی اے کےفیکلٹی ممبرماہر اقتصادیات اور محقق عاصم بشیر خان کاکہناہےدنیابھرمیں مردم شماریdefectoبنیاد پر کی جاتی ہے یعنی جو انسان جہاں سکونت اختیار کرتا ہے اسے وہاں شمار کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں ہونے والی مردم شماری کے موقع پرمستقل ایڈریس کی بنیاد پر کی جارہی ہے یعنی کوئی شہری مردم شماری کے موقع پر کسی علاقے میں کئی سالوں سے رہائش پذیر ہے لیکن اس کے شناختی کار ڈ پر مستقل ایڈریس کسی دوسرے اضلاع یا صوبے کا درج ہے تو اسے مستقل ایڈریس والے علاقے میں شمارکیا جاتاہے، باوجود اس کے کہ وہ مردم شماری کے موقع پراس علاقے میں موجود ہے جہاں وہ کئی برسوں سے برسرروزگار ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو نااہل قرار دینے کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عاصم بشیر خان کا کہنا ہے کہ اگر اس بار بھی dejure بنیاد یعنی مستقل رہائشی ایڈریس کی بنیاد پر مردم شماری کی گئی تو اس کی نتائج منصفانہ و شفاف نہیں ہوں گے جو نہ صرف قومی خزانے کے ضیاع کا سبب بنے گا بلکہ ایک بار پھر اس کے نتائج متنازع بنیں گے ایک ہزار 40حلقوں کا تجزیہ کیا ہے جہاں پر بعض حلقوں کے سینسز بلاکس میں خانہ شماری صفر اور آبادی بھی صفرکی گئی ہے جبکہ عملی طور پر اگر اس مقام کا مشاہدہ کیا جائے تو وہاں گھر اور افراد موجود ہیں اور کئی سال سے رہائش پذیر ہیں سندھ میں 86 ایسے بلاک ہیں جن میں گھرانوں کی تعداد بھی صفر ہے اور آبادی بھی صفر،1981 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 54 لاکھ 37 ہزار984 تھی جس کی صحت اور اعداد و شمار پر کئی سوالیہ نشان تھے۔

    کورونا وبا:ملک میں ایک ہزار 467 کیسز رپورٹ،2 افراد جاں بحق

    ادارہ شماریات کے ایک آفیسر نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملک میں ساتویں مردم شماری کے لیے منصوبہ بندی بھی dejure بنیادوں پر کی جارہی ہے، اس ضمن میں 5اکتوبرکو فیڈرل کابینہ کے اجلاس میں dejure بنیادوں پر مردم شماری کی منظوری دیدی گئی ہے جبکہ کونسل آف کامن انٹرسٹ سے اس کی منظوری لی جائے گی ماضی 1981، 1998 اور2017 میں ہونے والی مردم شماری بھی dejure یعنی مستقل ایڈریس کی بنیادوں پر کرائی گئی تھی اگرچہ کہ dejureکی پالیسی یہ ظاہر کی جاتی ہے کہ جو شہری چھ ماہ سے جہاں رہائش پذیر ہے اسے وہیں شمار کیا جاتا ہے لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے، کم ازکم کراچی کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا۔

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ:اپوزیشن لیڈرحلیم عادل کا ورثاء سےمکمل مدد اور تعاون کا اعلان

    علاوہ ازیں اس ضمن میں جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت کی ساتویں مردم شماری کو dejure بنیادوں پر کرانی کی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے 2017 کی مردم شماری dejure بنیاد پرکی جس کی وجہ سے کراچی کی آبادی نصف ظاہر ہوئی، تحریک انصاف کی حکومت اگلی مردم شماری بھیdejure بنیادوں پر کرانے کیلیے جارہی ہے جو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔

    میڈیکل طالبہ کی خودکشی کا معاملہ:اپوزیشن لیڈرحلیم عادل کا ورثاء سےمکمل مدد اور تعاون کا اعلان

    جبکہ وفاقی ادارہ شماریات کے چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفرکا کہنا ہے کہ کچھ سیاسی جماعتوں اوراسٹیک ہولڈر زنے dejureپر اعتراض اٹھایا ہے اور defecto بنیادوں پر مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا ہے، اگرdefecto پر مردم شماری کرانے کے لیے جاتے ہیں توسیکیورٹی کی ضروریات اور بجٹ اتنا زیادہ ہوجاتا ہے کہ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، دنیا بھر میں dejure بنیادوں پر ہی مردم شماری کی جاتی ہے، defecto پر دنیا میں صرف ان ممالک میں مردم شماری کرائی جاتی ہے جہاں آبادی بہت کم ہے، پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا ملک ہے جو defecto پر مردم شماری کرانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

    واضح رہے کہ اگلی مردم شماری کیلیے23ارب روپے اخراجات آئیں گے اور رواں مالی سال 5ارب روپے مختص کردیئے گئے ہیں، نئی مردم شماری کا آغاز 2022میں ہونے جارہا ہے۔

    مری سانحہ: اسسٹنٹ کمشنرمری، ڈی سی راولپنڈی اور سی ٹی او کےخلاف اندراج مقدمہ کی…

    واضح رہے کہ پاکستان میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہوتی ہے۔سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951ء میں ہوئی تھی۔ پھر 1961،1972،1981 اور 1998 میں ہوئی۔1972 والی مردم شماری اصل میں 1971 کو ہونی والی تھی، مگر بھارت سے جنگ کی وجہ سے ایک سال تاخیر ہوئی اور پھر 1991 کی مردم شماری سیاسی گہما گہمی کے باعث موخر ہوئی۔ پاکستان میں آخری بار مردم شماری 2017ء میں کرائی گئی۔

    پاکستان میں پہلی مردم شماری قیام پاکستان کے 4 سال بعد 1951 میں کرائی گئی تھی اور اسکے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی ساڑھے 7 کروڑ سے زائد تھی جس میں مغربی پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 37 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 20 لاکھ تھی۔

    مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا…

    دوسری مردم شماری 1961 میں ہوئی جس میں پاکستان کی مجموعی آبادی 9 کروڑ 30 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔ اس مردم شماری میں مغربی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 28 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 5 کروڑ تھی۔

    سقوط ڈھاکہ کے باعث تیسری مردم شماری ایک سال کی تاخیر کے ساتھ 1972 میں ہوئی۔ جس کے مطابق پاکستان کی آبادی 6 کروڑ 53 لاکھ تھی۔ 1981 میں ہونے والی چوتھی مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 8 کروڑ 37 لاکھ ہوگئی۔

    سترہ سال کے طویل عرصے بعد 1998 میں ہونے والی پانچویں مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 8 لاکھ 57 ہزار ریکارڈ کی گئی۔ جس کے بعد متعدد مرتبہ مردم شماری کی تاریخیں دی گئیں مگر اب 19 سال بعد ہونے والی چھٹی مردم شماری کا آغاز پندرہ مارچ سے ہوا جوکہ پہلی مرتبہ 2 مرحلوں میں کروائی گئی

    مردم شماری کے لیے گھروں میں آنے والے اہلکار گھر کے سربراہ کے نام اور پھر یہاں رہنے والوں کا اندراج کرتے۔ اس کے لیے گھر کے سربراہ کا شناختی کارڈ ہونا ضروری ہوتا اور اگر وہ دستیاب نہ ہو تو انھیں کوئی بھی ایسی دستاویز فراہم کرنا ہوتی جس سے ان کی شناخت کی تصدیق ہو سکے۔

    مری میں سیاحوں کا داخلہ غیر معینہ مدت کے لئے بند

    حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح معلومات کو چھپانے یا غط بیانی کرنے والے کو پچاس ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے پہلی بار ملک میں خواجہ سرا برادری کو بھی مردم شماری میں شمار کیا گیا سپریم کورٹ کی طرف سے اس بارے میں از خود نوٹس کے بعد گزشتہ سال ہی ملک میں مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا-

    پاکستان میں 70 سالہ تاریخ کی چھٹی مردم شماری کے موقع پر وزارت داخلہ نے خانہ و مردم شماری کے موقع پر پاک آرمی کو ان افراد کیخلاف جو کہ معلومات دینے میں تعاون نہ کریں یا غلط معلومات فراہم کرے تو ان کیخلاف موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے خصوصی عدالتی اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا تھا-

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

  • 2022 میں کورونا وبا کا خاتمہ ہونے کی توقع ہے ،سربراہ ڈبلیو ایچ او

    2022 میں کورونا وبا کا خاتمہ ہونے کی توقع ہے ،سربراہ ڈبلیو ایچ او

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 2022 میں کورونا کی وبا کا خاتمہ ہونے کی توقع ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ 2022 میں کورونا کی وبا ختم ہونے کی توقع ہے کیونکہ دنیا کے پاس اب وبا پرقابو پانے کے لئے آلات موجود ہیں۔

    اومیکرون اور ڈیلٹا کی سونامی کاایسا طوفان آنے والاہےکہ دنیاکانظام صحت زمین بوس ہوجائےگا:عالمی ادارہ…

    ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ جب تک عدم مساوات برقراررہے گی اس وقت تک وبا بھی جاری رہے گی افریقہ میں طبی عملے کی بھی مکمل ویکسین نہیں ہوئی جبکہ یورپ میں عوام کو بوسٹرخوراک لگائی جارہی ہے عدم مساوات کی وجہ سے ویرینٹ کے پھیلنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے عدم مساوات ختم ہوگی تو وبا بھی ختم ہوجائے گی اوریہ ڈراؤنا خواب بھی جس میں ہم اب جی رہے ہیں۔

    ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے کہا کہ دنیا بھر میں ویکسین کی ساڑھے 8ارب خوراکیں لگائی جا چکی ہیں جس سے اموات کی شرح کم کرنے میں مدد ملی ۔لوگوں کی جان بچانے کے لیے علاج کے نئے طریقے بھی دریافت ہو چکے ہیں۔

    امریکا میں اومی کرون بے قابو ہوگیا:کیسزکا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    اس سے قبل ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے دنیا کو کورونا کی وبا پر خبردار کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ ڈیلٹا اور اومی کرون کی مختلف اقسام کا ایسا سونامی آئے گا کہ صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا گیبریئس نے کہا تھا کہ دنیا کا نظام صحت اسی طرح اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کر رہا ہےاس کے بعد ڈیلٹا اور اومی کرون جیسے دونوں خطرات انفیکشن کے اعداد و شمار کو ریکارڈ بلندی تک لے جائیں گے اس سے اسپتال میں داخل ہونے اور اموات میں اضافہ ہوگا-

    ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامی ناتھن نے کہا تھا کہ موجودہ ویکسین اومیکرون کے خلاف اب بھی موثر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم میں موجود ٹی سیل امیونٹی نئے قسم کا مقابلہ کرنے کے قابل ہے انہوں نے کہاتھا ‘ایسا لگتا ہے کہ ویکسین اب بھی کارآمد ثابت ہو رہی ہے تاہم، مختلف ویکسین کا اثر مختلف ہوتا ہےڈبلیو ایچ اوکے ہنگامی استعمال کی فہرست میں شامل زیادہ تر ویکسین سنگین بیماری کو روکنے اور ڈیلٹا ویرینٹ کےخلاف تحفظ فراہم کرنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    کرونا کا ایک اور ریکارڈ،دنیا بھر میں ایک روز میں دس لاکھ مریض

  • سال 2022 کے لئے بل گیٹس کی اہم تشویش کیا ہے؟

    سال 2022 کے لئے بل گیٹس کی اہم تشویش کیا ہے؟

    مائیکروسوفٹ کے بانی شراکت دار بل گیٹس سال 2022ء کے حوالے سے خاصے پر امید ہیں تاہم ساتھ ہی وہ آئندہ برس میں بعض اندیشے بھی رکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی خبر رساں ادارے سی این بی سی کے مطابق بل گیٹس کو توقع ہے کہ ایک مسئلہ ہے جو آگے بڑھنے کے عمل کو سست بنا سکتا ہے یا پھر اس عمل میں کافی رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے یہ مسئلہ ‘لوگوں کا حکومتوں پر عدم اعتماد” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "آئندہ برس یعنی 2022ء میں یہ میرے لیے سب سے زیادہ باعث تشویش مسائل میں سے ایک ہے”

    بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

    بل گیٹس نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اہم موضوعات میں مرکزی کردار ادا کریں جن میں ماحولیات کی تبدیلی اور وباؤں کو روکنا شامل ہے تاہم اگر لوگوں نے ان حکومتی اداروں کی ہدایات ماننے سے انکار کر دیا تو پھر ایسا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

    مذکورہ عدم اعتماد کرونا کی وبا ظاہر ہونے کے بعد خاص طور پر عیاں ہو گیا ہے اس دوران میں کووڈ وائرس کے حوالے سے امریکا اور باقی دنیا میں غلط معلومات پھیل گئیں اس کے نتیجے میں ویکسین کے تناسب میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور آخر کار وبا کے اختتام میں تاخیر ہوئی۔

    بل گیٹس نے اس حوالے سے کوئی حل پیش نہیں کیا جیسا کہ ان کے نزدیک مسئلے کے علاج کے حوالے سے یہ ایک یقینی مشکل ہے۔

    ایران مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام لانے میں تعاون کرے ،شاہ سلمان

    واضح رہے کہ اس سے قبل بل گیٹس نے ے گیٹس نوٹس بلاگ پر شائع ہونے والے سال کے جائزے میں لکھا تھا کہ ایک اور پیش گوئی کرنا بے وقوفی ہو سکتی ہے لیکن میرے اندازے کے مطابق سال 2022 میں کورونا کی وبا کسی بھی وقت ختم ہو جائے گی۔

    انہوں نے کہا تھا کہ رواں سال 2021 میں کورونا وائرس کے خاتمے کے امکانات موجود تھے لیکن لوگوں کی ویکسینیشن کے عمل میں سستی اور اس کی مختلف اقسام سامنے آنے پر اس امید نے دم توڑ دیا۔

    بل گیٹس نے کہا تھا کہ کورونا کی نئی قسم اومی کرون بلاشبہ ایک خطرناک قسم ثابت ہو رہی ہے لیکن ویکسینز کی موجودگی اور اینٹی وائرل ادویات کے استعمال میں تیزی اس وائرس کو جلد ختم کرنے میں مدد فراہم کرے گی اور انہیں امید ہے کہ 2022 میں کووڈ 19 ایک مقامی بیماری بن جائے گی۔

    بھارتی محکمہ تعلیم کو "شاعر اکبر الہٰ بادی” کا نام تبدیل کرنا مہنگا پڑ گیا

  • نابینا خاتون نجومی بابا وینگا کی 2022 کیلئے پیش گوئیاں

    نابینا خاتون نجومی بابا وینگا کی 2022 کیلئے پیش گوئیاں

    بلغاریہ کی مشہور خاتون آنجہانی نجومی بابا وینگا نے اگلے سال کےلیے اہم پیش گوئیاں کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : بابا وینگا کا نام دنیا بھر میں مقبول ہے جنہوں نے بہت سے تباہ کن واقعات کی پیش گوئی کی اور ان کی 80 سے 90 فیصد پیش گوئیاں پوری ہوئی ہیں بلغاریہ کی زبان میں ’’بابا‘‘ دادی یا نانی کو کہا جاتا ہے اور یہ خاتون ایک حادثے میں نابینا ہوگئی تھیں۔

    بابا وینگا جنوری 1911ء میں بلغاریہ میں پیدا ہوئی تھیں اور وہ ایک مشہور مذہبی پیشوا، جڑی بوٹیوں کی حکیم تھیں۔ ان کے متعلق مشہور تھا کہ وہ غیرمعمولی اور پراسرار صلاحیتوں کی مالک ہیں اور ان کے علاج سے بیمار ٹھیک ہوجاتے تھے کہتے ہیں کہ انہوں نے روسی زوال، چرنوبل ایٹمی حادثے، 2004 میں انڈونیشیائی سونامی، 11 ستمبر کے ورلڈ ٹریڈ ٹاور حملوں کی پیش گوئی کی تھی-

    ہفنگٹن پوسٹ کے مطابق دیگر اہم واقعات جن کے بارے میں ماننے والوں کے خیال میں بابا وینگا نے پیش گوئی کی تھی ان میں 2004 میں تھائی لینڈ کا سونامی، براک اوباما کا دور صدارت، سوویت یونین کا ٹوٹنا اور مشرقی اور مغربی جرمنی کا دوبارہ اتحاد شامل ہیں تاہم ان کی بعض پیش گوئیاں غلط بھی ثابت ہوئی ہیں بابا وینگا کا انتقال 11 اگست 1996 کو ہوا تھا جبکہ انہیں بلقان کی نوسٹراڈیمس بھی کہا جاتا ہے۔

    وزیراعظم کی”میرا گھر میرا پاکستان” ہاؤسنگ اسکیم، 20 لاکھ قرض پرماہانہ قسط کتنی ادا کرنا…

    سال 2022 کے لیے بابا وینگا نے پیشگوئیاں کی ہیں رپورٹ کے مطابق خاتون نجومی نے پیشگوئی کی کہ کئی ایشیائی ممالک اور آسٹریلیا ’سیلاب کے زد ‘ میں آکر سے متاثر ہوں گے جبکہ محققین کی ایک ٹیم سائبیریا میں ایک مہلک وائرس دریافت کرے گی جو اب تک منجمد ہے خیال رہے کہ 2014 میں ایک قدیم وائرس سائبیرین پرما فراسٹ میں 30 ہزار سال تک غیر فعال رہنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو گیا تھا۔

    صوبہ سندھ میں بلدیاتی ترمیمی بل نافذ کردیا گیا

    بابا وینگا کی پیش گوئی میں ایک یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کے بہت سے شہر 2022 میں پینے کے پانی کی قلت کا شکار ہوں گے اگرچہ دنیا پہلے ہی قلب آب سے دوچار ہے 2022 میں لوگ ٹیکنالوجی سے بہت زیادہ مانوس ہوجائیں گے اور موبائل فون کی اسکرینوں سے چپک جائیں گے زیادہ سے زیادہ اسکرین ٹائم ایسا ماحول اور نفسیاتی خلل پیدا کرے گا کہ لوگ حقیقت اور قوت متخیلہ کے فرق میں تقریق نہیں کرسکیں گے اور جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

    علاوہ ازین بابا وینگا نے دعویٰ کیا کہ ایک سیارچہ جسے ’اومواموا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے زمین پر زندگی کی تلاش کے لیے ایلین کی جانب سے بھیجا جائے گا۔

    مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری، دال، چینی، انڈے اور سیلنڈر سمیت 23 اشیا ضروریہ…

  • حکومت کا 2022 کو بطور نوجوانوں کا سال منانے کا اعلان

    حکومت کا 2022 کو بطور نوجوانوں کا سال منانے کا اعلان

    حکومت نے 2022 کو بطور نوجوانوں کا سال منانے کا اعلان کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان رواں ماہ 6 دسمبر کو کامیاب جوان سپورٹس پروگرام کا افتتاح بھی کریں گے کامیاب جوان سپورٹس پروگرام کے تحت آزاد کشمیراورگلگت بلتستان سمیت ملک کی 25 ریجنز میں ٹیلنٹ ہنٹ اور کھیلوں کے مقابلے کروائے جائیں گے۔

    کرکٹ، ہاکی، فٹ بال سمیت 12 کھیل پروگرام میں شامل ہوں گے۔ 11سے 25 سال تک کے نوجوان کھیلوں میں حصہ لے سکیں گے۔ کامیاب جوان سپورٹس پروگرام سے کھیلوں کی سرگرمیوں اور سپورٹس اکانومی میں اضافہ ہوگا۔

    دنیا کے مہنگے اور سستے ترین شہروں کی فہرست جاری،پاکستان کونسی فہرست میں شامل؟

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت احساس راشن پروگرام سے متعلق اجلاس ہوا جس میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر، مشیر خزانہ شوکت ترین، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید ڈاکٹر شہباز گل اور متعلقہ سینئر افسران نے شرکت کی۔

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی تکالیف دیکھتے ہوئے غریب ترین لوگوں کو اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دے رہے ہیں۔

    اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ احساس راشن پروگرام کے تحت پاکستان کے 20 ملین گھرانوں کو آٹا، گھی اور دالوں پر 1000 روپے دیئے جائیں گے۔ فنڈز ان گھرانوں کو دیئے جائیں گے جن کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے کم ہے پروگرام رواں ماہ دسمبر کو ملک بھر میں شروع کیا جائے گا۔پروگرام کے تحت کریانہ اسٹورز کی رجسٹریشن جاری ہے۔ اور اب تک 15 ہزار سے زیادہ کریانہ اسٹورز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔

    آئی ایم ایف نے 6 ملین ڈالر قرض کے بدلے ہمارا سب کچھ لکھوا لیا گورنر پنجاب

    وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ غریب گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو تیز کیا جائےوزیر اعظم نے کریانہ سٹورز اور ممکنہ فائدہ اٹھانے والوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ضلعی حکومت کے حکام کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی-