میرٹ کا المیہ اور پاکستان کے مسلسل سانحات
گڈ گورننس کے دعوے بہت، مگر میرٹ آج بھی انصاف کا منتظر
جب عہدے قابلیت نہیں، سفارش سے ملیں تو سانحات جنم لیتے ہیں
جعلی دواؤں سے زیادہ خطرناک جعلی نظامِ حکمرانی ہے
اقتدار کے ایوان خاموش، عوام کی بددعائیں جاگ رہی ہیں
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مسائل کی فہرست روز بروز لمبی ہوتی جا رہی ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ان مسائل کی جڑ اکثر سب کو معلوم ہوتی ہے، پھر بھی ان کے حل کی طرف سنجیدہ توجہ نہیں دی جاتی۔ آج اگر ہم ملک میں ہونے والے سانحات، اداروں کی کمزوری، بدانتظامی، جعلی ادویات، ملاوٹ زدہ خوراک، ناقص تعمیرات، اور عوامی مسائل کا جائزہ لیں تو ایک لفظ بار بار سامنے آتا ہے: میرٹ۔
ہم برسوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ میرٹ پر تقرریاں ہوں گی، گڈ گورننس قائم ہوگی، سفارش اور اقربا پروری کا خاتمہ ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت بھی یہی ہے؟ اگر میرٹ واقعی نافذ ہو چکا ہوتا تو کیا آج بھی اداروں میں ایسے افراد اہم عہدوں پر بیٹھے ہوتے جن کی تقرریوں پر سوالات اٹھتے ہیں؟ کیا عوام کو بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے سفارش اور تعلقات کا سہارا لینا پڑتا؟
گڈ گورننس صرف بیانات اور دعووں سے قائم نہیں ہوتی۔ گڈ گورننس اس وقت قائم ہوتی ہے جب قانون سب کے لیے برابر ہو، جب عہدے قابلیت کی بنیاد پر دیے جائیں، جب ادارے افراد کے نہیں بلکہ اصولوں کے تابع ہوں۔ افسوس کہ ہمارے ہاں اکثر ادارے شخصیات کے گرد گھومتے ہیں اور اصول پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
ملک کا ایک اور بڑا المیہ جعلی ادویات، جعلی ڈاکٹرز، غیر معیاری اسپتال اور ملاوٹ زدہ خوراک ہیں۔ یہ سب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والے عناصر موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ کتنے معصوم لوگ صرف اس وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کہ کسی نے اپنے منافع کو انسانی زندگی پر ترجیح دی۔
اسی طرح ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن، ناقص مٹیریل اور کرپشن بھی ایک کھلا راز ہے۔ سڑکیں بنتی ہیں اور چند ماہ بعد ٹوٹ جاتی ہیں، نکاسی آب کے منصوبے بنتے ہیں مگر بارش کے چند قطروں سے شہر ڈوب جاتے ہیں۔ جب امانت میں خیانت کو معمول بنا لیا جائے تو پھر نتائج بھی قوموں کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف بیرونی دشمنوں سے تباہ نہیں ہوتیں، بلکہ اندرونی ناانصافی، ظلم، کرپشن اور میرٹ کی پامالی انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآن کریم میں بھی بارہا اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے اور حق کو دبایا جائے تو پھر قومیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ذمہ دار شخص اپنے گریبان میں جھانکے۔ جو جس منصب پر بیٹھا ہے وہ خود سے سوال کرے کہ کیا وہ اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کر رہا ہے؟ کیا وہ عوام کے حقوق کا محافظ ہے یا اپنے مفادات کا؟
اقتدار، دولت اور اختیار ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں۔ تاریخ کے اوراق ایسے بے شمار ناموں سے بھرے پڑے ہیں جو اپنے وقت کے طاقتور ترین لوگ تھے، مگر آج صرف عبرت کی مثال بن چکے ہیں۔ قبر میں نہ منصب ساتھ جاتا ہے، نہ دولت اور نہ ہی اختیار۔ ساتھ جاتا ہے تو صرف انسان کا کردار اور اس کے اعمال۔
اگر ہم واقعی ایک بہتر پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں نعروں سے آگے بڑھ کر میرٹ، انصاف اور احتساب کو عملی شکل دینا ہوگی۔ ورنہ سانحات جنم لیتے رہیں گے، معصوم جانیں ضائع ہوتی رہیں گی اور قوم صرف افسوس کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکے گی۔
آخر میں:
میں چیخ چیخ کے کہتا رہا حقیقت کو،
مگر ہجوم کو افسانے ہی پسند آئے۔
