Baaghi TV

Tag: سانحہ اے پی ایس

  • قومی اسمبلی میں سانحہ اے پی ایس کے 10 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور

    قومی اسمبلی میں سانحہ اے پی ایس کے 10 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور

    اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں سانحہ اے پی ایس کے 10 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی ۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے پیش کی، جس میں لکھا گیا ہے کہ یہ ایوان قرار دیتا ہے کہ اے پی ایس کے شہید بچوں کی قربانی نے پورے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف متحد کیاہے ۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت ایوان اور عوام اعادہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، یہ ایوان دہشتگردی کے خلاف فورسزکی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے یہ ایوان 16 دسمبر کو قومی دن کے طور پر منانے کی سفارش کرتا ہے ، معصوم بچوں، اسٹاف اور اسکولز نے ناقابل یقین بہادری کا مظاہرہ کیا ،شہداء کی قربانی نے قوم کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یکجا کیا۔

    قرارداد کے مطابق یہ ایوان پاکستان کی آرمڈ فورسز اور مسلحہ افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، ایوان معاشرے کے تمام طبقات سے دہشت گردی سے پاک پاکستان کی تعمیر کے لئے یکجا ہونے کا مطالبہ کرتا ہے یہ ایوان پاکستان کو دہشت گردی سے مکمل پاک کرنے کا اعادہ کرتا ہے۔

  • اے پی ایس طالب احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کا صدر بننے پر وزیراعظم شہباز شریف کی مبارک باد

    اے پی ایس طالب احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کا صدر بننے پر وزیراعظم شہباز شریف کی مبارک باد

    وزیر اعظم شہباز شریف نے طالب علم احمد نواز جو سانحہ اے پی ایس میں زخمی ہوئے تھے کو آکسفورڈ یونین کا صدر بننے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا: "عظیم اعزاز اور حوصلہ افزا سفر جو عزم اور سراسر قوت ارادی سے ہوا ہے۔ اے پی ایس پشاور پر ہولناک حملے میں بچ جانے والے احمد نواز باوقار آکسفورڈ یونین کے صدر بن گئے ہیں۔ اس نے ہمارے نوجوانوں کے لیے قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ پاکستان کو تم پر فخر ہے احمد”


    احمد نواز ان بچوں میں شامل ہیں جو سانحہ اے پی ایس میں بچ گئے تھے۔ جب انہیں اسپتال لایا گیا تو یہ شدید زخمی تھے، انہیں بہتر علاج کے لیے برطانیہ بھیجا گیا جہاں وہ اب تک مقیم ہیں آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔

    وزیراعظم نے قبل صدر پاکستان نے بھی احمد نواز کو مبارکباد دی تھی جس میں لکھا تھا کہ: "ہماری تمام امیدیں پاکستان کے نوجوانوں سےوابستہ ہیں۔میں سانحہ اے پی ایس میں بہادری سے مقابلہ کرنےوالے احمد نواز کو،جنھوں نے اسی سانحے میں اپنابھائی بھی کھویا،آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے پرمبارکباد دیتا ہوں۔ہمیں تسلیم کرنا چاہیےکہ تمام ترآزمائشوں کےباوجود پاکستان آگےبڑھتارہے گا.”


    طالب احمد نواز نے صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ:
    ہمارے وطن پاکستان کے سربرہان کی طرف سے مبارکباد ملنا اعزاز کی بات ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ: میں ہر قدم پر پاکستانیوں کی طرف سے ملنے والے تعاون اور پیار کے لیے انتہائی شکر گزار ہوں۔
    ان کا مزید کہنا تھا کہ: میری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے کام جاری رکھوں اور زیادہ مساوی دنیا کے لیے کام کروں گا۔


    واضح رہے جب اے پی ایس پشاور پر حملہ ہوا تھا تو اس میں ناصرف احمد نواز زخمی ہوئے تھے بلکہ ان کے ایک بھائی حارث نواز شہید ہوگئے تھے۔
    اس بارے میں احمد نواز نے بتاتے ہیں کہ: اے پی ایس سانحے سے ایک دن قبل جب ہم اسکول سے اپنے گھر واپس آئے تو پتا چلا کہ ہمارے گاٶں میں ہمارے کوئی رشتہ دار فوت ہو گئے ہیں۔ لہٰذا امی، ابو اور ہمارا چھوٹا بھائی “عمرنواز” وہاں چلے گئے۔ ابو رات کو تقریبا ایک بجے واپس آگئے تو دیکھا حارث ابھی تک جاگ رہا تھا۔
    انہوں نے جاگنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ چونکہ امی گھر نہیں ہیں تو وہ اگلے روز سکول جانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ابو غصہ ہو گئے اور اسے فوری طور پر سونے کا کہا تاکہ اگلی روز جلد اٹھ کر سکول جا سکے۔ اگلے روز جب ہم سکول جا رہے تھے تو وہ مجھ سے بہت لڑ رہا تھا۔ کاش ہمیں پتا ہوتا کہ آج کے بعد وہ کبھی واپس نہ آئے گا تو ہم اسے کبھی زبردستی سکول نہ بھیجتے۔
    پس منظر
    احمد نواز جب پاکستان اسپتال میں زندگی اور موت سے لڑ رہا تھا تو ان کے والد سے اسپتال کے ایک ڈاکٹر نےکہا کہ آپکا ایک بیٹا حارث نواز شہید ہو چکا ہے اور دوسرا بیٹا شدید زخمی ہے۔ آپ اسے جلد ازجلد بیرون ملک علاج کیلئے لے جائیں۔ تو ان کے والد کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے ہر کسی سے احمد کےعلاج کیلئے منت سماجت کی مگر انہیں اس وقت صرف نا امیدی ملی تھی۔

    آخرکار احمد کے والد محمد نواز نے مایوس ہو کر کہا کہ اگر میرے بیٹےکو علاج کیلئے نہ بھیجا گیا تو میں انہیں ایمبولینس میں ڈال کر وزیراعظم ہاٶس کے سامنے لے جا کر احتجاج کرونگا۔ اس بیان پر پوری پاکستانی قوم یہاں تک کہ مختلف ممالک سےکالیں آئیں۔ پھر اس وقتکی وفاقی حکومت حرکت میں آئی تھی، اور یوں ویزے جاری کیے گئے تھے-

    سابق وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف نےاحمد نواز کے علاج کیلئے دو لاکھ پاٶنڈ اسپتال میں جمع کروائے تھے اور پھر علاج کے لیے باہر بھجوایا گیا۔

  • سانحہ اے پی ایس میں زخمی ہونیوالا نوجوان آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ یونین کا صدر منتخب

    سانحہ اے پی ایس میں زخمی ہونیوالا نوجوان آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ یونین کا صدر منتخب

    سانحہ اے پی ایس میں زخمی ہونیوالا نوجوان آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ یونین کا صدر منتخب

    آرمی پبلک اسکول پشاورپر دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والا طالبِ علم آکسفورڈ یونیورسٹی کا طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوگیا ہے

    احم نواز کا بھائی اے پی ایس دہشت گردانہ حملے میں شہید بھی ہو چکا ہے، احمد نواز کی عمر 21 برس ہے اور وہ آکسفورڈ یونین کا صدر بن گیا ہے، احمد نواز، 14 سال کی عمر میں برطانیہ آئے تھے، نے بتایا کہ اس نے پچھلی رات کا زیادہ تر حصہ خوشی سے روتے ہوئے گزارا اور اس نے سب سے پہلے جس شخص کو یہ خبر سنائی وہ اس کی ماں تھی۔ نواز کی عمر 14 سال تھی جب ان کے اسکول پر حملے میں انہیں گولی لگی تھی، آرمی پبلک اسکول پشاور پر دسمبر 2014 میں دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں 148 افراد جاں بحق جبکہ 114زخمی ہوئے تھے ،احمد نواز ان طلبہ میں شامل تھے جو دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچنے میں کامیاب رہے وہ حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور انہیں علاج کی غرض سے برطانیہ بھیجا گیا تھا جہاں صحت مند ہونے کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ برطانیہ سے مکمل کیا

    اب احمد نواز آکسفورڈ یونیورسٹی کی طلبا یونین کا صدر بن گئے ہیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر احمد نواز نے اپنے آکسفرڈ یونیورسٹی کی طلبا یونین کے صدر بننے کوبڑا اعزاز اور تاریخی لمحہ قراردیا ،احمد نواز کا کہنا تھا کہ آج تاریخی دن میں ہمیشہ انکو یاد رکھوں گا جنہوں نے میرا ساتھ دیا میں اپنے والدین کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے ہر چیز میں ناقابل یقین حد تک مدد کی! میرے وہ دوست جو اس سفر میں میرے ساتھ رہے۔اور آخر کار میری ٹیم، جس نے اس تاریخی لمحے کو حقیقی معنوں میں رونما کرنے کے لیے انتہائی غیر معمولی محنت کی ہے!شکریہ

    احمد نواز کے والد محمد نواز نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ اور الحمدللہ مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والا پہلا نوجوان ہے جس نے یہ سنگ میل حاصل کیا۔آکسفورڈ یونین الیکشن میں سخت ترین مقابلے کے بعد تاریخی فتح بے نظیر بھٹو کے بعد احمد نواز دوسرے پاکستانی ہیں جنہوں نے یہ مقام حاصل کیا

    https://twitter.com/MuhammaddNawaz/status/1500751563605819393

    احمد نواز کے والد محمد نواز خان نے ایک اور ٹویٹ میں مزید کہا کہ الیکشن سے ایک دن پہلے میں اور میری اہلیہ آکسفورڈ گئے اور ہم نے احمد نواز کی حوصلہ افزائی کی۔جب اس نے اپنے والدین کو اپنے آس پاس دیکھا تو اسے حوصلہ ملا،والدین کے طور پر ہم اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی ہی کر سکتے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی سانحہ اے پی ایس کی ذمہ دار ٹی ٹی پی قیادت سے قطر میں ملتے رہے، شرجیل میمن

    سانحہ اے پی ایس،سپریم کورٹ کا انکوائری کمیشن رپورٹ بارے بڑا حکم

    سانحہ اے پی ایس، آرمی چیف میدان میں آ گئے، قوم کو اہم پیغام دے دیا

    سانحہ اے پی ایس، وزیراعلیٰ پنجاب نے دیا اہم ترین پیغام

    سانحہ آرمی پبلک سکول: 3 ہزار صفحات پر مشتمل انکوائری کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ کے سپرد

    حکومت جواب دے ،پشاوردھماکے میں کون ملوث ہے،سراج الحق

    خٹک صاحب مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ یہ …………….کام بھی کرتے ہیں، خواجہ آصف

    ہمیں قانون نہ سکھایا جائے،صبر کریں، اب تماشا نہیں چلے گا،پرویز خٹک کا اسمبلی میں دبنگ اعلان

    علی امین گنڈا پور کا مولانا کو الیکشن لڑنے کا چیلنج اسمبلی میں کس نے قبول کیا؟

    حلف پاکستان کا اور نوکری کسی اور کی، ایسے نہیں چلے گا،مراد سعید

    سانحہ اے پی ایس، سپریم کورٹ میں نواز شریف کو بلانے کا مشورہ دیا جائے،وزیراعظم کو بریفنگ

    سانحہ اے پی ایس: زخم مندمل نہ ہوسکے،ٹویٹرپرٹاپ ٹرینڈ

    سانحہ اے پی ایس،حکومت نے سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگ لیا

  • عمران نیازی  کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہے، حمزہ شہباز

    عمران نیازی کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہے، حمزہ شہباز

    اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ عمران نیازی کوملک میں مہنگائی اور قوم کیساتھ جھوٹےوعدوں کا حساب دینا ہوگا۔

    باغی ٹی وی :اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نےعدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جب سے آئے ہیں انہوں نے ڈرامہ رچایا ہوا ہے حکومت کا چوتھا سال ہے کہاں ہیں 50 لاکھ گھر؟پیشی اس کی ہونی چاہیے جس نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا مگر نہیں دی پیشی اس کی ہونی چاہیے جس نے عوام کو چینی کے لیے لائنوں میں لگادیا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ معاشی ماہرین کہہ رہےہیں پاکستان دیوالیہ ہوچکا عمران نیازی کوبنی گالہ میں بیٹھ کرغریب کےدکھ نظرنہیں آتے؟آج یوریا کھاد کی قیمت آسمان سےباتیں کررہی ہے آج مریضوں کےپاس دواخریدنےکےپیسےنہیں ہیں کہتےہیں گیس صبح،دوپہر،شام آئےگی،کیا قوم بھکاری ہے؟-

    "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    مسلم لیگ ن رہنما نے کہا ہے کہ 3 سال سے عوام کودھوکہ دیا جارہاہے ،معیشت کوتباہ کردیا گیا یہ کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہےاس حکومت نے ایک کلو میٹر موٹروے نہیں بنائی موٹروے پر جگہ جگہ گڑھے پڑ چکے ہیں،عمران نیازی یوم حساب کا وقت آچکا ہے افغانسان کے کرائسسز کے اثرات پاکستان پر مرتب ہو رہے ہیں چار سالوں میں یہ حکومت ایک دن بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بیٹھی ہے؟ ان کی انا بنی گالہ سے بھی اونچی ہے اگر اس قوم نے عوامی مسائل سے چھٹکارا پانا ہے تو حکومت کے سامنے کھڑے ہو جائیں۔

    ایک ہی دشمن کے دو زخم ازقلم :غنی محمود قصوری

    حمزہ شہبازکا کہنا ہے کہ آج کا دن یہ یاد دلاتا کہ اس قوم کو دہشت گردی کے ناسور کے خلاف متحد ہونا پڑے گا،مسانحہ اے پی ایس کے بچے اس قوم کو جھومر ہیں سکیورٹی کا معاملے پر وزیر اعظم غائب کیوں ہو جاتے ہیں سانحہ اے پی ایس کا سبق ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کام کرنا ہے۔

    کورونا وبا: مزید 6 افراد جاں بحق،302 نئے کیسز رپورٹ

  • ایک ہی دشمن کے دو زخم   ازقلم :غنی محمود قصوری

    ایک ہی دشمن کے دو زخم ازقلم :غنی محمود قصوری

    ایک ہی دشمن کے دو زخم

    ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام پاکستان سے ہی ہندوستان نے اس ارض پاک کو بے شمار زخم دیئے ہیں مگر اس نجس ہندو پلید کے دو زخم ایسے ہیں کہ جو ہم سدا یاد رکھینگے اور کبھی بھلا نا پائین گے اللہ کی حکمت ہے اللہ رب رحمان جو بھی کرتا ہے سب اچھا ہی کرتا ہے اس کے فیصلے میں ہمیشہ ہی بہتری ہوتی ہے بس ہمیں وقتی نامناسب لگتا ہے مگر وہ نامناسبیتی ہمیں بہت سے سبق دے دیتی ہے جو کہ ہمارے آنے والے وقت اور آنے والی نسلوں کیلئے بہت سود مند ہوتا ہے

    آج ارض پاک پاکستان کو دولخت ہوئے 50 سال اور سانحہ اے پی ایس پشاور کو ہوئے 7 سال ہو چکے ہیں

    یہ دونوں زخم بہت بڑے ہیں اور ان دونوں زخموں کو دینے والا ہمارا پڑوسی اور سب سے بڑا دشمن ملک بھارت ہے اس رزدیل نے مشرقی پاکستان میں شورش بپا کروائی اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کروا دیا اس نے سیاستدانوں کی غلط پالیسوں کو بنیاد بنا کر علیحدگی کا نعرہ لگوا کر مکتی باہنی جیسی علیحدگی پسند تنظیم کی بنیاد رکھی اور اسے مسلح تربیت دی جس نے مشرقی پاکستان میں قومیت،لسانیت جیسا نفرت انگیز نعرہ لگا کر علیحدگی کی شروعات کی-

    اس شورش کا آغاز تو 1971 سے پہلے ہی ہو چکا تھا مگر باقاعدہ آغاز مارچ 1971 کو ہوا تھا مشرقی پاکستان یعنی موجودہ بنگلہ دیش ہمارا حصہ اور صوبہ تھا جس کے بیچ انڈیا سینڈوچ بنا ہوا تھا اور اس کی ہر تدبیر پاکستان کو دولخت کرنے کیلئے ہوتی تھی مشرقی پاکستان میں ہماری مسلح وج یعنی ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان میں ہمارے کل فوجی جوانوں کی تعداد 42 ہزار تھی 90 ہزار بتائے جانے والے بات ایک بہت بڑا جھوٹ ہے-

    جبکہ ان کے مدمقابل مکتی باہنی کے غنڈوں کی تعداد تقریبا 190000 اور اس کی پشت پناہی کیلئے بھارتی فوج کی تعداد 250000 تھی یعنی کہ 42 ہزار کے مقابلے میں ساڑھے چار لاکھ مگر اس کے باوجود ہمارے فوجی جوانوں نے انتہائی کم وسائل کے باوجود تقریباً 9 ماہ تک اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر دشمن کے عزائم کو روکے رکھا اور ان کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا تاہم ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان کے کمانڈر ان چیف امیر عبداللہ خان نیازی کے حکم پر 16 دسمبر 1971 میں ہتھیار ڈالے گئے-

    تاریخ گواہ ہے اور آج بھی بنگالی اپنی زبان سے بتلاتے ہیں کہ پاک فوج کے جوان بھوکے پیسے اور زخمی ہو کر بھی خالی بندوقوں کی سنگینوں سے لڑتے رہے مگر ہتھیار ڈالنے کو تیار نا تھے جس پر ہندو درندہ صفت فوج اور مکتی باہنی کے غنڈوں نے عام مشرقی،و مغربی پاکستانیوں کو شہید کرنا شروع کر دیا تو جنرل نیازی نے سختی سے ہتھیار ڈالنے کا حکم جاری کیا اور واسطہ دیا کہ اپنی جانیں دے کر ان سویلینز کو بچا لو جو کہ ایک سپاہی کا اصل کام ہوتا ہے
    تب ہمارے شیر دل جوان مجبوراً ہتھیار ڈالنے پر راضی ہوئے-

    واضع رہے کہ مشرقی پاکستان میں بہت زیادہ تعداد میں سول محکموں میں سویلین مغربی پاکستانی تعینات تھے جن کو مکتی باہنی و بھارتی فوج نے بے تحاشہ قتل کرنا شروع کر دیا تھا اور یہی سب سے بڑی وجہ ہتھیار ڈالنے کی بنی نیز چائنہ و امریکہ کی طرف سے باوجود وعدہ کے عین ٹائم پر ہتھیاروں کی کھیپ روک لی گئی اور محض تسلیاں ہی دی گئیں جس سے ہماری مسلح طاقت ختم ہو کر رہ گئی تھی-

    بھارت کے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کی سربراہی میں تقریباً 40 ہزار فوجی جوانوں و 50 ہزار عام مغربی پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں انڈیا میں 1974 تک قید رکھا گیا تھا-

    واضع رہے دو طرفہ سیاستدانوں کی نااہلی و ذاتی مفاد پرستی کے باعث جنگ عظیم دوئم کے بعد ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہےتاہم مغربی محاذ پر پاکستان کو ہر لحاظ سے بھارت پر برتری حاصل تھی اس کے کئی شہروں پر پاکستانی فوج نے قبضہ کر لیا تھا مگر مکار ہندو بنئے نے موقع دیکھ کر سلامتی کونسل سے جنگ بندی کروائی اور مشرقی پاکستان میں اپنی فتح کو مغربی پاکستان میں شکست میں تبدیل ہونے سے بچا لیا ارض پاک کو دولخت کرنے کا یہ زخم ہمیشہ ہمارے سینوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا-

    بھارت مکار نے 1971 کے بعد پاکستان میں اپنی مکاریوں کا جال مذید بچھا دیا اس نے قومیت،لسانیت،صوبائیت،فرقہ واریت،مہاجریت جیسے مکروہ نعروں کو پروان چڑھایا اور مغربی ماندہ پاکستان کو بھی ختم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں مگر رب کریم نے ہر مرتبہ بھارت کو افواج پاکستان و عوام پاکستان سے ذلیل ہی کروایا-

    16 دسمبر 2014 کو انڈیا نے اپنی لے پالک اور تربیت یافتہ مسلح خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردانہ حملہ کروایا جس میں سکول میں پڑھنے والے 8 سال سے 18 سال کے لگ بھگ 132 طالب علموں کو شہید کیا گیا اور دیگر 17 اساتذہ و سکول عملے کو بھی شہید کیا گیا کہ جن میں خواتین بھی شامل تھیں-

    دشمن کی یہ حرکت انتہائی تکلیف دہ ہے اس نے ہمارے بچوں کو تعلیم سے دور کرنے اور جہاد جیسے مقدس فرض کو بدنام کرنے کیلئے بدنام زمانہ خودساختہ جہادی اور حقیقتاً خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے یہ کام کروایا تھا جنہوں نے بڑے فخر سے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی-

    واضع رہے کہ متعدد بار پاکستان نے تحریک طالبان کی انڈین را سے فنڈنگ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے حتی کہ اس خارجی جماعت کے نہاد مجاھدین کا حال یہ ہے کہ ان کو کلمہ تک نہیں آتا اور ان کے ختنے تک نہیں ہوئے بلکہ ماضی میں امریکن سی آئی اے کے ایجنٹ بھی پکڑے گئے جو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کے خلاف لڑتے تھے اور باقاعدہ ان نام نہاد خودساختہ مجاھدین کو ٹریننگ بھی دیتے تھے-

    یہ ظالم درندے بھول گئے کہ اسلام تو بچوں،بوڑھوں،عورتوں حتی نا لڑنے والے نوجوانوں تک کو بھی قتل کرنے سے منع کرتا ہے مگر اس سب کے باوجود ان نام نہاد جہادیوں نے جہاد کو بدنام کرنے اور انڈیا کو خوش کرنے کیلئے معصوم بچوں کا قتل عام کیا اور دن کا انتخاب بھی سقوط ڈھاکہ والے دن کا کیا تاکہ زخمی محب وطنوں کو مذید دکھی کیا جائے-

    میرے پاک نبی کا فرمان ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کے نام پر ناحق قتل کرنے والے خارجی ہیں اور ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ لوگ پکے جہنمی ہیں جبکہ اللہ تعالی کا بے گناہ مارے جانے اور اللہ کے راستے میں لڑتے ہوے مارے جانے والوں کیلئے ارشاد ہے-

    "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انھیں مردہ نہ کہو ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں-"( 154 آل بقرہ)

    یقیناً بھارت نے سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر کی یاد تازہ کرنے کیلئے آرمی کے سکول میں اس لئے بچوں کا قتل عام کروایا تھا کہ کل کو یہی بچے بڑھے ہو کر فوج میں بھرتی ہو کر بھارت کے خلاف لڑینگے اسی لئے بھارت نے بچوں میں خوف و ہراس پیدا کرکے تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کی مگر بچ جانے والے بچوں نے بھارت کو بڑا سخت پیغام دیا-

    مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

    غور کیجئے یہ بچے کہہ رہے ہیں ہم تعلیم حاصل کرکے اپنے دشمن کے بچوں سے بدلہ لینا ہے مگر کون سا بدلہ؟ وہ بدلہ اس ظالم کی نسلوں کو اسلام کا سبق دے کر اصلاح کرکے دین اسلام کی حقانیت دکھا کر دین حنیف میں لانا ہے –

    سانحہ اے پی ایس پشاور میں زخمی ہونے والے بچوں کے بیانات پوری دنیا نے بذریعہ میڈیا دیکھے اور سنے اور سبھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ ایک آہنی قوم ہے اس کے بچوں کے جذبے بلند ہیں تو بڑے تو پھر فولادی عزم سے بھی اوپر عزم رکھتے ہیں ایک ہی دشمن کے یہ دو زخم ہمارے دل میں اس نجس دشمن کیلئے مذید نفرت ڈال رہے ہیں-

  • سانحہ اے پی ایس،پاک افواج کو خراج تحسین جنہوں نے جانیں دے کر ملک میں امن بحال کیا،آصف علی زرداری

    سانحہ اے پی ایس،پاک افواج کو خراج تحسین جنہوں نے جانیں دے کر ملک میں امن بحال کیا،آصف علی زرداری

    سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور: شہداء کی ساتویں برسی آج 16 دسمبر جمعرات کو منائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : سات برس بیت گئے مگر زخم آج بھی تازہ ہیں، سانحہ اے پی ایس ایک ایسا اندوہناک واقعہ جو کبھی بھلایا نہ جا سکے گا سانحہ کی یاد میں جہانیاں سمیت ملک بھر میں سیاسی و سماجی تنظیموں ،سول سوسائٹی اوراین جی اوز کے زیر اہتمام شہداء کیلئے قرآن خوانی ، فاتحہ خوانی اور دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا-

    پشاور میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا،جس کے باعث سکیورٹی کے بھی انتظامات کرلئے گئے ہیں شہدا کی درجہ بلندی کے لئے فاتحہ خوانی اور قرآن خوانی بھی کی جائے گی شہدا کے قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جائیں گیں۔

    16 دسمبر 2014 ء کی صبح 6 بزدل دہشت گرد آرمی پبلک اسکول پشاور میں داخل ہوئے، عقبی دیوار پھلانگ کر داخل ہونے والے دہشت گردوں نے اسکول کے آڈیٹوریم ہال میں جاری فرسٹ ایڈ ورکشاپ میں شامل بچوں پر گولیوں کی اندھا دھند بوچھاڑ کردی گولہ بارود اور خودکش جیکٹوں سے لیس درندہ صفت حملہ آوروں اس بزدلانہ کارروائی میں 132 طالبِ علموں سمیت 141 افراد کو شہید کردیا تھا-

    اس دن ہر آنکھ اشکبار تھی، ملک سوگ میں ڈوب چکا تھا ہر طرف قیامت جیسا سناٹا تھا، اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے والے والدین اپنے بچوں کے ساتھ ان سارے خوابوں کو بھی دفن کرتے رہے، روتے بلکتے بس ایک ہی سوال پوچھتے رہے کہ آخر ان کے بچوں کا قصور کیا تھا ، خودان کا قصور کیا تھا۔

    16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس کے واقعہ نے پوری قوم کو یکجا کر دیا ،دفاعی و سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کا زخم بہت گہرا تھا لیکن پاکستانی قوم اور اداروں کا عزم اس سے کہیں بلند۔

    پوری قوم نے پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ایک ایسے آپریشن کا آغاز کیا کہ جس کا ہدف ایک ایسا پاکستان تھا جہاں ریاست ہی کو طاقت کے استعمال کا حق حاصل ہو معصوم بچوں پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کو افواج پاکستان نے اسی وقت آپریشن میں جہنم واصل کردیا جبکہ سہولت کار بعد میں پھانسی پر چڑھ گئے لیکن 16 دسمبر کا وہ دن ملک کی تاریخ کا بھیانک خواب بن کررہ گیا۔

    اس واقعے کو گزرے 7سال بیت چکے ہیں،سانحے میں شہید ہونے والے طلبہ کے والدین تاحال انصاف کے منتظر ہیں،سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیس کی سماعت بھی جاری ہے،جس میں وزیراعظم عمران خان نے عدالت عظمیٰ کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ججز حکم دیں تومتعلقہ حکام کے خلاف ایکشن لیں گے۔

    ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کےشریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی یوم شہادت پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ جب تک منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کٹہرے میں لاکر سزا نہیں دی جاتی ریاست شہیدوں کی مقروض رہے گی۔نیشنل ایکشن پلان میں ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کا عہد کیا گیا تھا،افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے جانیں دے کر ملک میں امن بحال کیا۔


    چوہدری مونس الہی نے یوم سقوط ڈھاکہ اور یوم سانحہ اے پی ایس پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج 16 دسمبر ہےسقوط مشرقی پاکستان اور سانحہ اے پی ایس کی تاریخ ۔آئیے آج کے روز ان سانحات کےشھیدوں کو اس عہد کےساتھ سلام پیش کریں کہ ہم ان کی عظیم قربانیوں کو کبھی نہ بھولیں گےاور دشمن کو اس کے ناپاک ارادوں میں شکست دیں گے۔ پاکستان زندہ باد۔


    سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہا 16دسمبر وطن عزیز کی تاریخ میں غم واندوہ لیکر آتاہے،سانحہ مشرقی پاکستان ہو یا اے پی ایس سکول کے بچوں کا صدمہ جانکاہ بحیثیت قوم جسد قومی کو ہلا کررکھ دیتا ہےاور تقاضہ کرتا ہے کہ ہم اپنےدُشمن کو پہچانے،اُس کا تدارک کریں۔ وہ ہندتوا ہے یااُنکے معنوی پیروکار


    پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ 16 دسمبر وہ دن جب پاکستانی قوم کو ایک مشترکہ اور ناقابلِ فراموش غم کی کٹھن گھڑی سےگزرنا پڑا۔ اُس دن سے دہشت گردی کیخلاف ہمارا عزم مضبوط تر ہے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کےکیمپوں اور ٹھکانوں کیخلاف کارروائی شروع کی اور پاک سر زمین کو دہشت گردی سے پاک کیا۔


    عامر لیاقت نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول کے بچوں کو عامر لیاقت حسین کا سلام تحسین , میرے وطن کی شہید ننھی کلیاں اب شہادت کے رنگین پھول بن چکے مگر اب بھی انصاف سے محروم ہیں، اللہ والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے،آمین


    وجیہہ قمر نے کہا کہ تعلیم پر حملہ ہمارے کامیابی کے راز پر حملہ ہے۔ بچوں پر حملہ ہمارے مستقبل پر حملہ ہے سانحہ اے پی ایس ہمیں دشمن کے خلاف مضبوط اور اتفاق کے ساتھ مقابلے کرنے کا درس دیتا ہے-


    سینیٹر ذیشان خانزادہ نے لکھا کہ شہدائے آرمی پبلک سکول پشاور ہم تمہیں بھولے نہیں ہیں ۔ پروردگار اے پی ایس کے شہدا کے درجات بلند فرمائے اور ہمارے وطن پاکستان کی حفاظت فرمائے ،آمین


    انہوں نے لکھا کہ اے پی ایس شہداء کی قربانیوں کو رہتی دُنیا تک یاد رکھا جائیگا، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مُلکی یکجہتی اور سالمیت کو برقرار رکھنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا-

    سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

  • سانحہ اے پی ایس میں زخمی طالب علم احمد نواز کو برطانوی ایوارڈ ملنے پرخوشی ہوئی ہے ،عثمان بزدار

    سانحہ اے پی ایس میں زخمی طالب علم احمد نواز کو برطانوی ایوارڈ ملنے پرخوشی ہوئی ہے ،عثمان بزدار

    لاہور:  وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارنے سانحہ اے پی ایس میں زخمی بہادر طالب علم احمد نواز کو برطانوی ایوارڈ ملنے پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ بہادر طالب علم احمد نواز کو برطانوی پارلیمنٹ میں لیڈی ڈیانا ایوارڈ ملنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔اور ہمیں‌اس ایوارڈ کے ملنے پر بہت زیادہ خوشی بھی ہوئی ہے.

    سانحہ اے پی ایس کے شہداء دلوں میں بستے ہیں اور غازی آنکھوں کا نور ہیں۔ احمد نواز جیسے بہادر اور ذہین طالب علم پاکستان کا روشن مستقبل ہیں۔ طالب علم احمد نواز کو نوجوانوں کی تعلیم کے حوالے سے خدمات پر لیڈی ڈیانا ایوارڈ ملنا پاکستان کیلئے اعزاز ہے۔