Baaghi TV

Tag: سانحہ کرائسٹ چرچ

  • نیوزی لینڈ :سانحہ کرائسٹ چرچ کی النورمسجد پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی یاد میں یادگار کے قیام کا فیصلہ

    نیوزی لینڈ :سانحہ کرائسٹ چرچ کی النورمسجد پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی یاد میں یادگار کے قیام کا فیصلہ

    نیوزی لینڈ:سانحہ کرائسٹ چرچ میں مسجد النور پر ہونےوالے حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے اس سلسلے میں فیڈریشن آف اسلامی ایسوسی ایشن نے جگہ اور ڈیزائن کا انتخاب کر لیا ہے.تنظیم کے صدر مصطفیٰ‌فاروق کا کہنا ہے کہ اس یاد گار کے تعمیر کا فیصلہ نیوزی لینڈ کی عوام اور حکومت کی طرف سے مسلمانوں سے ہمدردی کے نتیجے میں‌کیا ہے.

    مصطفیٰ فاروق کہتے ہیں کہ اس یادگار کا ڈیزائن اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نیوزی لینڈ میں بسے والے آپس میں محبت کرنے والے اور یک جان ہیں.تنظیم کے صدر کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر جو رقم خرچ ہو گی وہ باہر کی حکومتیں دیں گیں اور اس میں نیوزی لینڈ کی حکومت بھی مدد کرے گی . مصطفیٰ فاروق کہتے ہیں کہ نیوزی لینڈ میں عیسائی کمیونٹی سے بھی ملے ہیں عیسائی کمیونٹی نے بھی مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس یاد گار کو پسند کیا اور اس کی تعمیر میں مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے.

  • مجھے نیوزی لینڈ چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے.نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے پاکستانی سید جہانداد کی بیوہ نے اپنی بے بسی ظاہر کردی

    مجھے نیوزی لینڈ چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے.نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے پاکستانی سید جہانداد کی بیوہ نے اپنی بے بسی ظاہر کردی

    نیوزی لینڈ:نیوزی لینڈسانحہ کرائسٹ چرچ میں النور مسجد پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے پاکستانی سید جہانداد علی کی بیوہ نے اپنے خاوند کی وفات کے بعد پیش آنے والے غمناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں‌اس وقت بہت پریشان ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں .مجھے زبردستی نیوزی لینڈ چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے. آمنہ علی نے بتایا ہے کہ میرے کرب اور تکلیف کی وجہ سے میرے والد محترم اور بھائی نیوزی لینڈ آنا چاہ رہے ہیں وہ بھی اپنے وطن سے دور اس بیوہ کی تکلیف کو برداشت نہیں کر پا رہے.آمنہ علی بتاتی ہیں کہ مجھے اپنے تینوں بچوں کی فکر بہت ہی زیادہ ہے کیوںکہ اب ان کے والد اس دنیا میں نہیں رہے خاص کر میری پانچ سالہ بیٹی جو بول بھی نہیں سکتی اسے تو یہ بھی نہیں پتا کہ اس کے ابو گھر کیوں نہیں آتے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق آمنہ علی بتاتی ہیں کہ وہ کافی دنوں سے نیوزی لینڈ کی مستقل شہریت کے لیے دفاتر کے چکر لگارہی ہیں لیکن وہ کئی دنوں سے قطار میں کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں.آمنہ کا کہنا ہے کہ سپتمبر میں ان کا وزٹ ویزہ ختم ہورہا ہے.

    آمنہ علی نے یہ بھی بتایا ہے کہ سانحے کے وقت جب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے ان سے ملاقت کی تھی اور خاندان سے غم کا اظہار کیا تھا اس وقت وعدہ کیا تھا کہ وہ آمنہ علی اور اس کے بچوں کو نیوزی لینڈ می مستقل شہریت دے دیں گی لیکن آج تک اس پر بھی عمل نہیں‌ہوسکا.آمنہ بتاتی ہیں کہ اس کی دو سال کی بیٹی ہر روز شام 5 بچے اپنے ابو کا انتظار کرتی ہے کہ اس کے ابو گھر پہنچے والے ہیں لیکن اسے کیا پتہ کہ اس کے ابو ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیے ہیں.آمنہ علی کا کہنا ہے کہ اگر نیوزی لینڈ کی حکومت نے وعدے کے مطابق مجھے اور میرے بچوں کی شہریت نہ دی تو وہ پھر اپنے وطن پاکستان لوٹ جائیں گی.