Baaghi TV

Tag: سانحہ گل پلازہ

  • سانحہ گل پلازہ: یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟فاروق ستار

    سانحہ گل پلازہ: یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟فاروق ستار

    کراچی:ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ لاپتا افراد کے اہل خانہ کی تسلی کے لیے ضروری ہے انہیں مطمئن کیا جائے ان کی تسلی و تشفی کے لیے فارنزک کی ویڈیو سامنے لائی جائے، باقیات کی تصدیق اور جسد اہل خانہ تک پہنچانے کے کام میں تیزی لائی جائے-

    دہلی کالونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک المناک قومی سانحہ ہے جس میں 100 سے زیادہ قیمتی جانوں کا اور اربوں روپے کا نقصان ہوا، پورا ملک اس سانحہ پر سوگوار ہے ہر آنکھ اشک بار ہے، آج یہاں سے چار جنازے اٹھے ہیں جب کہ اس کالونی میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد شہید ہوئے، چار کا جسد خاکی ڈی این اے سے میچ ہوگیا ہے اور دو باقی ہیں، ایک بیٹی بچی ہے اور پورا خاندان شہید ہوگیا، شادی کے گھر کی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟ باقیات کا احترام اور تقدس کے ساتھ فارنزک ٹیسٹ کیا جائے لواحقین صرف یہ چاہتے ہیں، وزیر اعلی سندھ اور میئر کراچی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیں، لاپتا افراد کے اہل خانہ کو مطمئن کریں، گنتی پوری کیے بغیر سکو ن نہیں ملے گا، اہل خانہ لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہیں۔

    فاروق ستار نے کہا کہ ایک دکان سے 30 لاشیں مل سکتی ہیں تو یہ رش کا وقت تھا، بہت سے لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی، اندرون ملک سے آنے والے محنت کشوں کے لواحقین کو تو معلوم بھی نہیں ہوگا، دو ٹرکوں کی باقیات کا چوری ہونا تشویش ناک ہے، بہت سے سوال ہیں جن کا جواب دینا ہے، لاپتا افراد کے اہل خانہ کی تسلی کے لیے ضروری ہے انہیں مطمئن کیا جائے ان کی تسلی و تشفی کے لیے فارنزک کی ویڈیو سامنے لائی جائے، باقیات کی تصدیق اور جسد اہل خانہ تک پہنچانے کے کام میں تیزی لائی جائے، جس طرح گورنر ہاؤس میں رابطہ مرکز بنایا گیا ہے اس طرح وزیراعلی اور میئر کے دفتر میں بھی مراکز قائم کریں-

    انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں وہ کیسے رپورٹ دیں گے کہ حکومت سندھ یا بلدیاتی اداروں کی غفلت ہے؟ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے، آئی ایس آئی اور ایف آئی اے پر مشتمل آزاد اور غیر جانب دار کمیشن سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم کیا جائے، کمشنر کی سربرا ہی کی تحقیقات کو کوئی نہیں مانے گا۔ آپ جواب دیں آگ کیوں نہ بجھائی گئی؟ عوام سزا نہیں دے سکتے ہوسکتا ہے شفاف تحقیقات سے آپ سد ھر جائیں، فائر فائٹرز کی جانوں کو بچایا جائے، فائر فائٹر فرقان کے گھر وزیر اعلیٰ میئر کیوں نہ گئے؟ جو لوگ فرقان کے گھر نہیں گئے انہی جانا چاہیے۔

  • سانحہ گل پلازہ :جماعت اسلامی کا وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ

    سانحہ گل پلازہ :جماعت اسلامی کا وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ

    لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ گل پلازہ پر وزیر اعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کر دیا-

    منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یکم فروری کو کراچی میں ملین مارچ نکالیں گے، سارے ڈسٹرکٹ میں لوگوں کو دعوت دیں گے، کیا کراچی کے لوگ کبھی آگ تو کبھی گٹر میں گرتے رہیں گے؟، وزیر اعلیٰ سندھ کو اب استعفیٰ دے دینا چاہئے آرمی چیف نے کہا تھا کراچی میں ایک سسٹم کام کرتا ہے وہ سسٹم اسلام آباد چلا گیا تو اب کس سے گلہ کریں گے، جو کراچی میں اس مافیا کو لائے ہیں وہی اس کا صفایا بھی کریں، کراچی میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کام کرتی تو سانحہ گل پلازہ رونما نہ ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ پانی بجھانے والی گاڑیاں دیر سے گل پلازہ پہنچیں پھر گاڑیوں میں پانی اور ڈیزل نہیں تھا، فائر فائٹرز کے پاس کٹس نہیں تھیں، سندھ حکومت والے ہزاروں ارب روپے کھا گئے لیکن فائر فائٹرز کو جدید آلات نہیں دے سکے، تین ہزار تین سو ساٹھ ارب روپے کہاں گئے؟ بلاول بھٹو نے ونڈر بوائے سمجھنا شروع کردیا ہے، بلاول بھٹو ونڈر بوائے بننے کیلئے میجک شو کرتے رہے، بلاول کی بریفنگ کرپشن کارکردگی اور لوٹ مار گل پلازہ میں جل رہی ہےپنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کے کالے قانون کو واپس لے، عوامی ریفرنڈم میں ستانوے فیصد لوگوں نے اس کالے قانون کو مسترد کیا ہے، اگر ہماری بات کو نہ مانا گیا تو پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ بھی کیا جائے گا۔

    سانحہ گل پلازہ:سندھ ہائیکورٹ نے حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے

    امریکا: برفانی طوفان کے باعث 100 سے زائد گاڑیوں کے درمیان تصادم

    پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی

  • سانحہ گل پلازہ:سندھ ہائیکورٹ نے حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے

    سانحہ گل پلازہ:سندھ ہائیکورٹ نے حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں پر سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے۔

    ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی درخواستگزاروں کے وکیل ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ گل پلازہ شاپنگ مال کراچی کا مصروف کمرشل سینٹر ہے گل پلازہ سانحے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے سانحہ کے ذمہ داروں کوتعین کرکے کارروائی کا حکم دیا جائے۔

    درخواست گزار بیرسٹر حسن نے موقف دیا کہ سانحہ اداروں کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے حکومت کو نقصان کا تخمینہ کرکے ازالہ کرنے کا حکم دیا جائے واقعے کی مکمل انکوائری کراکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے عدالت نے سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کمشنر کراچی سے 10 فروری تک تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    امریکا: برفانی طوفان کے باعث 100 سے زائد گاڑیوں کے درمیان تصادم

    درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ انتظامیہ کی براہ راست سنگین غفلت، معائنہ میں ناکامی، حفاظتی قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کا نتیجہ ہے فائر سیفٹی اور بلڈنگ قوانین کو نافذ کرنے میں ناکامی نے انسانی جانوں کو براہ راست خطرے میں ڈالا اور اس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں شفاف انکوائری کے ذریعے غفلت برتنے والے افسران کی معطلی کا حکم دیا جائے۔

    درخواست گزاروں نے کہا کہ ریاستی ذمہ داری کے اصول کے تحت متوفی متاثرین کے خاندانوں کو مناسب معاوضے کی براہ راست ادائیگیاں دی جائیں، مالی نقصانات کے لئے تاجروں اور دکانداروں کو براہ راست ریاستی فنڈ سے معاوضہ دینے کا حکم دیا جائے کراچی بھر کی کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی کی تعمیل کا حکم دیا جائے عدالتی تحقیقات کروائی جائے اور آئندہ اس طرح کے سانحات سے بچنے کے لئے سندھ فائر سیفٹی ایکٹ 2016 کا سختی سے نفاذ کا بھی حکم دیا جائے۔

    پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی

    درخواستوں میں چیف سیکریٹری، سندھ، ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے ، میئر، کراچی، چیف فائر آفیسر، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ڈائریکٹر جنرل سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس ریسکیو 1122، ڈپٹی کمشنر، ضلع جنوبی، ڈائریکٹر جنرل محکمہ داخلہ کو فریق بنایا گیا تھا۔

  • سانحہ گل پلازہ :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط

    سانحہ گل پلازہ :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط

    پشاور:سانحہ گل پلازہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط ارسال کردیا۔

    خط میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے گل پلازہ میں آتشزدگی میں قیمتی جانی و مالی نقصانات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہےوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سندھ حکومت سے مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ایک صوبے کا دکھ پوری قوم کا دکھ ہے، خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت سندھ کے ساتھ کھڑے ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

    دوسری جاںب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں، آج کل شادیوں کا سیزن ہے، کل رات 10بجے کے بعد یہاں آگی لگنے کی اطلاع ملی، ہماری میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس کیا اور مجھے اطلاع دی، 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا، آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوئی، تقریباً 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور 10 باؤزر نے حصہ لیا، کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک اسنارکل دیا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی 3 آگ بجھانے کی مشینیں آئیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق 6 لوگوں کی جانیں گئی ہیں جس میں ایک کے ایم سی کا فائرفائٹر بھی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 22 لوگ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتا ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کو زندگی دے، یہ بیسمنٹ گراؤنڈ اور تین منزلہ عمارت تھی، یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں، جس طریقے سے آگ لگی ہے ابھی حتمی طورپر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کچھ کہتے ہیں کہ کسی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے بعد یہ آگ لگی اور وہاں ایسا میٹریل موجود تھا کہ جس کی وجہ سے آگ فوری پھیل گئی، فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔

    ایک سوال پر انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم صاحب نے مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ نہیں کیا، ہوسکتا ہے حکومت سے کیا ہو، مجھے جلدی آنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ میں یہاں موجود نہیں تھا، میں تقریباً 5 بجے کے قریب شہر آیا ہوں، میں تمام تر حالات کا جائزہ لے کر یہاں آیا ہوں، جو لوگ انتشار پھیلاتے ہیں میں اُن پر دھیان نہیں دیتا،کوشش کریں گے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، تاجروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے، ہمارے کے ایم سی اور 1122 کے فائر فائٹرز والوں کے پاس مہارت موجود ہے، اگر کسی اور کی ضرورت پڑی تو ضرور اپروچ کریں گے، کسی سے مدد طلب کرنا کوئی مضحکہ عمل نہیں ہوگا، یہ بلڈ نگ بھی 80 کی دہائی میں تعمیر ہوئی ہے، اُس وقت یا اُس سے پہلے ایسا نظام لایا گیا جس کو ہم بھی نہ سنبھال سکے۔