Baaghi TV

Tag: سبسڈی

  • نئی سولر پالیسی ، کروڑوں صارفین کو بھاری سبسڈی فراہم کرنا ممکن نہیں رہا، وزیر توانائی

    نئی سولر پالیسی ، کروڑوں صارفین کو بھاری سبسڈی فراہم کرنا ممکن نہیں رہا، وزیر توانائی

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت کی مجوزہ نئی سولر پالیسی کا اطلاق صرف نئے صارفین پر ہوگا جبکہ موجودہ صارفین کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔

    نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےوفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا کہ ریاست کے لیے کروڑوں صارفین کو بھاری سبسڈی فراہم کرنا ممکن نہیں رہا بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے باعث صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ اب خطے کے دیگر ممالک کے قریب آ چکے ہیں بعض حلقوں کی جانب سے بنگلہ دیش میں چھ سے سات سینٹ فی یونٹ بجلی کے دعوے درست نہیں اور زمینی حقائق مختلف ہیں۔

    وفاقی وزیر کے مطابق ملک میں کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تیزی سے بڑھی ہےاضی میں 200 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد چند ملین تھی جو بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ گئی ہے، اور اس طبقے کو بھاری سبسڈی دینا ریاست کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے اس سے قبل بھی حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو 70 فیصد تک سبسڈی دی جاتی رہی ہے۔

    اویس لغاری نے کہا کہ بعض صاحب حیثیت افراد سولر سسٹم لگانے کے بعد اپنی بجلی کی کھپت کم ظاہر کرتے ہیں اور رعایتی صارفین کی فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے سبسڈی کا بوجھ مزید بڑھتا ہے اتنے بڑے طبقے کو بجلی کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد رعایت دینا معاشی طور پر پائیدار نہیں۔

    واضح رہے کہ حکومت ماضی میں بھی یہ عندیہ دے چکی ہے کہ سولر اور نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ایسی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں جن سے بجلی کے شعبے پر مالی دباؤ کم ہو اور دیگر صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

  • پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    حکومت نے بجلی کے شعبے کے لیے مزید 50 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی جاری کرنےکافیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق رواں مالی سال کے دوران اب تک پاورسیکٹرکو سبسڈی کی مد میں 159 ارب روپےجاری کیے جاچکے ہیں،حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے طے شدہ دسمبر 2024 کے ہدف کے مطابق پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کا فلو 461 ارب روپے کے اندر برقرار رکھنا ہے جبکہ 19 دسمبر 2024 تک سرکلر ڈیٹ کا ہدف صرف 70 ارب روپے تک پہنچا جوہدف سے کہیں کم ہے۔ یہ بھی پڑھیں:ملکی ترقی میں خواتین کی شراکت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،وزیراعظم حکومتی ذرائع نے توقع ظاہر کی ہے کہ نقصانات میں کمی اور کارکردگی میں اضافے کے نتیجے میں پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ہدف کو باآسانی حاصل کرلیا جائے گا،حکومتی ذرائع کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاور سیکٹر کو سبسڈی کی مد میں 128 ارب روپے جاری کیے گئے،دوسری سہ ماہی میں اب تک 31 ارب روپے سبسڈی کی مد میں جاری کئے جاچکے ہیں،مزید 50 ارب روپے کے بعد پاور سیکٹر کو جاری کی گئی سبسڈی کی مجموعی مالیت 209 ارب روپے سے بڑھ جائے گی۔

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

    آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

  • بجلی بلوں پر سبسڈی، آئی ایم ایف کا اعتراض

    بجلی بلوں پر سبسڈی، آئی ایم ایف کا اعتراض

    عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) نے پنجاب حکومت کی بجلی ریلیف پالیسی پر اعتراض اٹھا دیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت بجلی بلوں میں ریلیف 30 ستمبر تک ختم کردے۔

    آئی ایم ایف نے پنجاب حکومت کے بجلی بلوں ریلیف پر اعتراض کیا اور کہا کہ اب کوئی صوبہ بجلی اور گیس پر سبسڈی نہیں دے گا، صوبے ایسی سبسڈی نہیں دے سکتے، آئی ایم ایف کی پالیسیز کو ماننا پڑے گا، آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ہدایات کو ماننا پڑے گا، صوبے کوئی ایسی پالیسی نہیں بنا سکتے جو آئی ایم ایف کی قرض پالیسی سے متصادم ہو، آئی ایم ایف نے نئے قرضہ پروگرام کیلیے 3 نئی شرائط عائد کر دیں،ایکسپریس ٹریبون کی خبر کے مطابق پنجاب کی جانب سے دو ماہ کے لیے 45 سے 90 ارب روپے کی بجلی سبسڈی فراہم کرنے کے فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ،آئی ایم ایف نے 30 ستمبر تک اس عارضی سبسڈی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی صوبائی حکومت 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے دوران ایسی سبسڈی متعارف نہیں کرائے گی۔آئی ایم ایف کی نئی شرائط 500 یونٹس تک ماہانہ استعمال والے صارفین کو سولر پینل فراہم کرنے کے لیے 700 ارب روپے تقسیم کرنے کے پنجاب کے منصوبے کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔آئی ایم ایف نے ایک شرط بھی متعارف کرائی جو صوبائی حکومتوں کو ایسی کوئی پالیسی یا کارروائی متعارف کرانے سے منع کرتی ہے جو 7 بلین ڈالر کے پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں کو کمزور یا اس سے متصادم کر سکے، ان کی مالی خودمختاری کو محدود کر سکے،صوبوں نے ستمبر کے آخر تک ایک قومی مالیاتی معاہدے پر دستخط کرنے کا عہد کیا تھا تاکہ فی الحال وفاقی حکومت کی طرف سے سپانسر کیے جانے والے بعض اخراجات کی ملکیت حاصل کی جا سکے،آئی ایم ایف کی ایک اور شرط یہ ہے کہ صوبوں سے ایسے اقدامات میں ترمیم کرنے یا اپنانے سے پہلے وزارت خزانہ سے مشورہ کرنا چاہیے جو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ساختی معیارات اور کلیدی اقدامات کو متاثر یا کم کر سکتے ہیں،صوبائی بجٹ پر آئی ایم ایف کی توجہ اور محصولات کے تخمینے اور نقد سرپلسز کے بارے میں اس کے خدشات 7 بلین ڈالر کے پروگرام کے لیے آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے لیے چیلنج ہیں

    حالات ان دعوؤں کو بھی جھوٹا قرار دیتے ہیں کہ صوبائی حکومتیں بجلی پر سبسڈی دے سکتی ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف کے اس بیان کو بھی سوالیہ نشان بناتی ہیں جنہوں نے تینوں دیگر صوبوں کو بھی اس کی پیروی کرنے کی ترغیب دی تھی۔ خراب طرز حکمرانی، زیادہ لائن لاسز، زیادہ ٹیکسز 300 یونٹس سے زائد ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین پر سبسڈی کا بوجھ ڈالنے اور مہنگے سودوں سے بجلی اب رہائشی صارفین کی اکثریت کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔ان عوامل نے رہائشی اور کمرشل صارفین کے لیے قیمتیں 64 سے 76 روپے فی یونٹ تک پہنچا دی ہیں۔ لیکن مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے، وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومتیں دو ماہ کا سبسڈی کا منصوبہ لے کر آئیں۔پنجاب حکومت نے صوبہ اور اسلام آباد میں 201 سے 500 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اگست اور ستمبر کے بجلی کے بلوں میں 14 روپے فی یونٹ سبسڈی کی منظوری دی۔ صوبائی وزیر خزانہ نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ سبسڈی کی اصل لاگت 90 ارب روپے تھی لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ لاگت 45 ارب روپے ہوگی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے ایک اور شرط بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت تمام صوبائی حکومتوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کوئی ایسی پالیسی یا ایکشن متعارف نہیں کرائیں گے جو 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت دیے گئے وعدوں میں سے کسی کو کمزور کرنے یا اس کے خلاف چلانے کے لیے سمجھا جائے۔صوبائی حکومتوں نے بھی عہد کیا ہے کہ وہ اپنے زرعی انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور سروسز پر سیلز ٹیکس کو بہتر بنائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ اب ان وعدوں کو "کمزور نہ کرنے” کے بارے میں نئی ​​شرط کے متعارف ہونے کے بعد، صوبے یکطرفہ اقدامات نہیں کر سکتے۔

    پاکستان کا نیا آئی ایم ایف پروگرام، جو ابھی تک آئی ایم ایف بورڈ سے غیر منظور شدہ ہے، پانچ بجٹ اور پانچ حکومتوں کی پالیسیوں کا احاطہ کرتا ہے،وزارت خزانہ 7 ارب ڈالر کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کی تاریخ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس ہفتے کو نئے قرضوں اور رول اوور کی منظوری حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔

    سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    بجلی کا بل بنا موت کا پیغام،10ہزارکے بل نے قیمتی جان لے لی

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

  • آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے

    آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے

    لاہور: سبسڈی واپس لینے سے یوٹیلٹی اسٹورز پر آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم ریلیف پیکج کے تحت سبسڈی ختم کرنے کے اثرات سامنے آنے لگے،یوٹیلیٹی اسٹورز پر وزیراعظم ریلیف پیکج کے تحت سبسڈی ختم کرنے سے آٹےکی قیمتوں کوپرلگ گئےیوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈی واپس لینےسے 20 کلو آٹا 1544 روپے مہنگا کردیا گیا، عام صارفین کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز پر آٹے کے 10 کلو تھیلے کی قیمت میں 772 روپے اضافہ ہوا۔

    یوٹیلٹی اسٹورز پر عام صارفین کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 20 کلو آٹا 2840 روپے کا ملے گاملک میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی اوسط قیمت 2824.73 روپے ہے عام صارفین کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز پر آٹے کے 10 کلو تھیلے کی قیمت 1420 روپے ہے جبکہ بی آئی ایس پی صارفین کو 10 کلو آٹے کا تھیلا 648 روپے میں ملے گا۔

    بچوں سے زیادتی کی ویڈیو بنا کر ڈارک ویب پر فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    اس سے قبل عام صارفین کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈی کے ساتھ 20 کلو آٹے کا تھیلا 1296 روپے کا تھا گزشتہ ہفتے بی آئی ایس پی کے سوا باقی صارفین کے لیے سبسڈی ختم کی گئی ہے۔

    نگراں حکومت پنجاب کو کام سے روکنے کی درخواست پر تحریری حکم جاری

  • سبسڈی دینا کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتا،وسائل کا استعمال کریں،آئی ایم ایف

    سبسڈی دینا کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتا،وسائل کا استعمال کریں،آئی ایم ایف

    سبسڈی دینا کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتا،وسائل کا استعمال کریں،آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر مڈل ایسٹ و سینٹرل ایشیا جہاد آزور نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے جانی و مالی نقصان پر افسوس ہے،

    جہاد آزور کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو اس مشکل میں سپورٹ کرتا ہے اس سلسلے میں آئی ایم ایف پروگرام میں توسیع بھی کی گئی،توسیعی پروگرام سے پاکستان کو کووڈ کے بعد سے پیدا صورت حال سے نمٹنے میں مدد ملے گی،حال ہی میں پاکستان کا پروگرام ریویو ہوا جس میں 1.2 ارب ڈالر کی رقم دی گئی،امید ہے نومبر میں اگلے ریویو کی تیاری مکمل ہو جائے گی،ورلڈ بینک اور یو این ڈی پی کی جائزہ رپورٹ میں پاکستان کی معاشی و اقتصادی صورتحال کا پتا چلے گا،جائزہ کے بعد پتہ چلے گا کہ حکومت کی مدد کیسے کی جا سکتی ہے،

    جہاد آزور کا مزید کہنا تھا کہ اشیا پر سبسڈی دینا کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتا اشیا پر سبسڈی دینا رجعت پسندی ہے،پاکستان سمیت دیگر ممالک کو کہہ رہے ہیں کہ سبسڈی دینے کی جگہ وسائل کا استعمال کریں یہ آئی ایم ایف کی شرائط نہیں بلکہ مہنگائی کے دور میں ضرورت مندوں کی مدد کا طریقہ ہے اس سلسلے میں آئی ایم ایف پروگرام میں توسیع بھی کی گئی

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

     آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے مابین معاہدہ طے پا گیا ہ

    عمران حکومت نے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا شہباز شریف پابندی ہیں،مریم نواز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • حکومت کا عوام کو بڑا ریلیف، گھی کی قیمتوں پر فی کلو 250 کی سبسڈی دے دی،مریم اورنگزیب

    حکومت کا عوام کو بڑا ریلیف، گھی کی قیمتوں پر فی کلو 250 کی سبسڈی دے دی،مریم اورنگزیب

    حکومت کا عوام کو بڑا ریلیف، گھی کی قیمتوں پر فی کلو 250 کی سبسڈی دے دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ 2018 میں آٹے کی قیمت 35 روپے تھی،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 4 سال میں آٹے کی قیمت 90 سے 100روپے کلو کی گئی،وزیراعظم شہباز شریف نے 10 کلو تھیلے کو 400 روپے کردیا ،سابقہ دورمیں آٹا اسمگل کیا گیا،یکم جون سے خیبر پختونخوا کے یوٹیلیٹی اسٹورز پرآٹا کم قیمت پر مل رہا ہے خیبر پختونخوا کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر آٹا 40 روپے فی کلو مل رہا ہے،خیبر پختونخوا کے لیے 100 موبائی یو ٹیلیٹی سٹورز کا آغاز کر دیا گیا ،خیبر پختونخوا کوآٹے کی فراہمی کے لیے مزید 100 پوائنٹس بنائے جارہے ہیں، آٹے کی قیمت میں اضافہ یا معیار میں فرق دیکھیں تو مطلع کر سکتے ہیں، وزیراعظم کی ہدایت پرسستا آٹا اورگھی اسکیم شروع کی گئی،گھی پر سبسڈی دی جائے گی،مارکیٹ میں گھی کی قیمت 550 روپے پر پہنچ گئی ،گھی سبسڈائز کر کے 300 روپے فی کلو کر دی گئی ہے، گھی پر 250 روپے کی سبسڈی بنتی ہے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آج بیرونی ملک سازش پیچھے رہ گئی ،مہنگائی پر زور دیا جارہا ہے،اشیائے ورونوش پر17ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے،تمام اقدامات 4 سال کی نااہلی کو مد نظررکھتے ہوئے اٹھائے جارہے ہیں مشکل فیصلے عوام سمجھ رہےہیں ، بجٹ کا بہت بڑا حصہ زراعت پر مشتمل ہے، آٹے سے متعلق شکایت کیلئے 05111123570 ٹول فری نمبرہے،سابق وزیراعظم کہتے تھے میں آٹااورپیازسستا کرنے نہیں آیا،بہت جلد بہتری کی طرف جائیں گے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ عمران خان حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدے کا حصہ ہے،ن لیگ نے 2015 میں آئی ایم ایف کا معاہدہ مکمل کیا،2018میں معیشت 6 فیصد ترقی اور مہنگائی کم ترین سطح پر تھی عمران خان نے مجرمانہ فیصلہ کیاتھا، سابقہ حکومت کو عدم اعتماد کا پتہ چلا تو پیٹرول 10 روپے سستا کر کے بارودی سرنگ بچھائی،پیٹرول سستا کرنے پر کابینہ کے کوئی دستخط بھی نہیں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے 2000 روپے دینے کا اقدام کیا، ہمارے ملک میں پیٹرول مہنگا خرید کر سستا بیچا جارہا ہے،اگر مہنگائی یا بوجھ بڑھ رہا ہے، تو اسے ریلیف سے کم کرنے کی کوشش کی گئی،روس سے سستا تیل کی خبریں بے بنیاد ہیں،

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا شاندار بجٹ پیش کیا گیا عوام ناراض، اسٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان ، روپے کی قدر میں مزید کمی امپورٹڈ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ای ایف اب بھی خوش نہیں پھرکینڈی بنانے والی کمپنیوں کے علاوہ بجٹ سے ہے کون خوش ہے؟

  • وزیراعظم امرا اورنفلی حج کرنے والوں کوسبسڈی نہ دیں:طاہراشرفی

    وزیراعظم امرا اورنفلی حج کرنے والوں کوسبسڈی نہ دیں:طاہراشرفی

    لاہور:پاکستان علمائے کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے وزیراعظم شہبازشریف سے ایک درخواست کرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ اپنے اس فیصلے پرنظرثانی کریں جس میں انہوں نے حجاج کےلیےسبسڈی کا اعلان کیا ہے ، طاہر اشرفی کا کہنا تھاکہ پاکستان مشکل میں ہے اور وزیراعظم کواپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے

    اپنے ویڈیو پیغام میں طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ حج ایک دینی فریضہ ہے اورایک مقبول عمل بھی ہے ، پاکستان اس وقت سخت معاشی صورت حال سے دوچار ہے اورحکومت کی طرف سے حجاج کو سبسڈی دی گئی ہے جس کی مد میں کروڑوں روپے حکومت کودینے پڑیں گے جہ کہ درست نہیں ہے ، طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اہل ثروت بھی اس چیز کا خیال رکھیں کہ وہ اپنے خرچ پر ہی حج کریں اور حکومت پر بوجھ نہ بنیں

    طاہر اشرفی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہاہےکہ وہ حضرات جوپہلے حج کرچکے ہیں اور اب نفلی حج کرنا چاہتےہیں ان کو بھی سبسڈی نہ دی جائے ، طاہر اشرفی نے ایک اور برادر اسلامی ملک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں مگروہاں حج پاکستان سے بھی مہنگا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اور اہل ثروت اور نفلی حج کرنے والوں کو سبسڈی نہ دیں تاکہ ملکی خزانے پر اس کے منفی اثرات مرتب نہ ہیں

     

    پاکستان علما کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ کرونا کی بدولت دنیا میں خوفناک صورتحال بنی ہوئی ہے حکومت سعودی عرب نے حج سے متعلق جو فیصلہ کیا ہے اس پر ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں.

    اس سال 10 ہزار کے لگ بھگ عازمین حج ادا کر سکیں گے جن لوگوں نے حج کے ارادے کئے تھے اللہ ان کو اجر دے گاجن لوگوں نے نفلی حج کے لئے اپلائی کرنے والے اپنے پیسے غریبوں میں تقسیم کریں.

     

    انہوں نے کہاہم سمجھتے ہم قربانی کا مسلہ بہت اہم ہے پاکستان میں اکثر لوگ نفلی قربانی کرتے ہیں میں درخواست کرتا ہوں کہ عید کے دوران نفلی قربانی کے بجائے پیسے غربا میں تقسیم کریں.

     

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا،شاہد خاقان عباسی

    پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا،شاہد خاقان عباسی

    پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا،شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکمران استعفیٰ دیں اورالیکشن کروائیں،

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم آئی ایم ایف ان کی کارستانیوں کی وجہ سے گئے ،عوام کی خاطر آئی ایم ایف سے متعدد مطالبات تسلیم نہ کرنے پر اصرارکیا عوام کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبات پر اعتراضات اٹھائے تھے ،انہوں نے تو ہم پر الزام عائد کیا اور خود پیٹرول کی قیمت بڑھا کر بم گرا دیا گیا ،ہم سخت فیصلے کیے ،آئی ایم ایف جانے کےباوجود عوام کو ریلیف دیا، حکومت نے رات کو بجلی کی قیمت میں 47فیصد اضافہ کیا،حکومت کو ڈر ہے روس کے پاس گئے تو امریکہ ناراض ہوجائیگا ،مفتاح اسماعیل خود آئی ایم ایف گئے ہمارے پروگرامز کی تعریف کی گئی ،ہم نے کامیاب جوان، صحت کارڈ اور احساس پروگرام شروع کیے 2ماہ حکومت نے بہتر چلتی معیشت کو ختم کردیا ،

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم پیٹرولیم مصنوعات سے کچھ نہیں کما رہے،ملک کو 2018 کے حالات پر واپس لانے کےلیے وقت درکار ہے،سستے پیٹرول کو خریدنے کا کوئی معاہدے نہیں،معیشت کو استحکام دینے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے،یہ فیصلے نہ کرنا ملک سے انصاف ہے نہ عوام سے ،پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا، روپے کی قدر میں کمی سے پیٹرول مہنگا ہوجاتا ہے،پیٹرول ہم ڈالرز میں خریدتے ہیں اضافی قرضے لے کر اگر ہم مصنوعی سبسڈی دے گے تو ملکی معیشت کمزور ہوگی،

    وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت کیوں پیش آئی ،عمران خان نے پیٹرول کی 10 روپے قیمت بڑھا کر کہااب یہی رہے گی ،ہمیں لگا شاید کابینہ کی منظوری سے ہوا ہو گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا،سابق وزیر اعظم عمران خان ملک کو تباہ کرنا چاہ رہے تھے، عمران خان کی سبسڈی کی قیمت 3 ماہ میں 300 ارب روپے تھی، عمران خان نےجوسبسڈی دی اس کی منظوری کسی فورم سےنہیں لی،عمران خان حکومت ختم ہونے سے پہلے سبسڈی کا اعلان کیوں کرکے گئے؟ آئی ایم ایف کیساتھ انہوں نےطےکیاکہ قیمتیں بڑھائیں گے،عمران خان نے کہا اگرمیں کھیل نہیں سکتا توکھیل ہی ختم کردوں گا،نواز شریف اور شہباز شریف نے کہا کہ غریب کو آسانی دینے تک تیل کی قیمت نہیں بڑھانی،پھر ہم نے تین لائحہ عمل وزیر اعظم کو پیش کیے، کچھ ماہ میں پہلے تکلیف پھر استحکام نظر آئے گا،کابینہ کا مجموعی بجٹ500 ارب اور عمران خان نے جاتے جاتے 800 ارب روپے کی سبسڈی دی عمران خان نے جاتے جاتے 800 ارب روپے کی سبسڈی دی ،چالیس ہزار کمانے والے شخص کو 2ہزار روپے کا وظیفہ دیا گیا،عمران خان ملک خزانے خالی کر گئے جس کی وجہ سے ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑیں گے

    تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کارٹون جو آج بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے پاس پیسے نہیں ،روس کا سستا تیل خریدنے کے پیسے نہیں حکمران جب عیاشیوں میں مصروف تھے تو بھارت نے روس سے تیل خریدلیا،مفتاح اسماعیل کہتے ہیں اگر روس پر کوئی پابندیاں نہیں ہوں گی تو ہم خرید لیں گے،آپ کو پتا تھا یہ خریدنا ضروری ہے لیکن آپ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، یکم جنوری کو عمران خان نے 4 روپے پیٹرول بڑھایا پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر شہباز شریف اور بلاول نے وزیراعظم سے استعفیٰ مانگا عمران خان نے روس سے سستا تیل لینے پر 2 اجلاس کیے روس میں سفیر نے مجھے ایس ایم ایس کیا کہا کہ تحریری طور پر معاہدہ کریں میں نے خط لکھا اور کہا اپریل میں پہلی کنسائنمنٹ لیں گے ،55 دن ہوگئے مفتاح اسماعیل کو یہ تک نہیں پتہ کہ روس پر کوئی پابندی عائد نہیں، جس لابی کی مدد سے حکومت اقتدار میں آئی وہ پاکستان کوغیر مستحکم کرناچاہتی ہے،

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

  • پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں ہوں گے

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں ہوں گے

    اسلام آباد:پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات 18 مئی سے شروع ہوں گے۔آئی ایم ایف حکام کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں شروع ہورہےہیں ۔گزشتہ ماہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک رضاباقر نے کہا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    ذرائع کے مطابق کل سے شروع ہونے والا مذاکراتی اجلاس 25 مئی تک ختم ہو جائے گا۔یہ بھی کہا جارہاہے ہے کہ ان مذاکرات میں آئی ئی ایم ایف کی طرف سے زیادہ زور اس بات پرہوگا کہ زیادہ سے زیادہ ریونیواکٹھا کیا جائے،اس کے ساتھ ساتھ ایندھن کے ذریعے دی گئی غیر فنڈ شدہ سبسڈی کو ختم کرنا بھی کل کے مذاکرات کے مرکزی نقاط میں سے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مئی کے پہلے پندرہ دن میں سبسڈی کی رقم تقریباً 55 ارب روپے ہے۔دوسرے پندرہ دن میں یہ تقریباً 70 ارب روپے ہو جائے گا۔آئی ایم ایف مالی سال 23 کے لیے محصولات کی وصولی بڑھانے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

     

     

    بین الاقوامی معاشی اعداد و شمار رکھنے والے ادارے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ایندھن اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر عمل کرنا مشکل رہا ہے۔ سیاسی حالات درپیش ہوں تو مشکل فیصلے لینے میں تاخیر کرنی پڑتی ہے۔

    دوسری طرف سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ حکومت کو پیٹرولیم پر 350 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نےقیمت بڑھانے کے بجائے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت دس روپے کم کردی،

    سابق وزیرخزانہ کاکہنا تھا کہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں دُگنی ہوچکی ہیں، اب ملکی تاریخ میں 5600 ارب روپے کا وفاقی بجٹ خسارہ ہونے جا رہا ہے۔

  • پاکستان بزنسل کونسل کا ایندھن پر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا مطالبہ

    پاکستان بزنسل کونسل کا ایندھن پر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا مطالبہ

    اسلام آباد:پاکستان بزنسل کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ معاشی استحکام کے تمام راستے عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) سے ہو کر گزرتے ہیں اور اگر آئی ایم ایف کا پروگرام بحال نہ ہوا تو دوست ملکوں کی جانب سے بھی مدد متوقع نہیں۔

    پاکستان بزنس کونسل نے مطالبہ کیا کہ ایندھن پر سب کو سبسڈی دینے کے بجائے ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے، حکومت کو چاہیے کہ ایندھن کے استعمال اور درآمد کو محدود کرنے کی کوشش کرے تاہم بے عملی کے سنگین نتائج ہوں گے۔

    پاکستان بزنس کونسل نے مزید کہا کہ تیل پر سبسڈی جاری رکھی گئی تب بھی ملک مہنگائی سے بچ نہیں سکے گا، بہتر یہ ہو گا کہ مزید معاشی مشکلات سے بچنے کے لیے فیصلہ کیا جائے۔