Baaghi TV

Tag: ستارہ

  • زمین سے تقریباً 6,500 نوری سال کے فاصلے پر عجیب ساخت کامردہ ستارہ دریافت

    زمین سے تقریباً 6,500 نوری سال کے فاصلے پر عجیب ساخت کامردہ ستارہ دریافت

    کائنات کے راز آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آرہے ہیں ،حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ کائنات کے ایک دور دراز حصے میں ایک ایسا مردہ ستارہ پایا گیا ہے جس کی سطح پر کانٹے نما اجسام ابھرے ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق یہ ستارہ زمین سے تقریباً 6,500 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے یہ مردہ ستارہ حیرت انگیز طور پر گرم گندھک کے لمبے اجسام میں لپٹا ہوا ہے فلکیات کا مطالعہ کرنے والوں نے تقریباً 900 سال قبل اس ستارے کے سُپرنووا میں تبدیل ہونے کی اطلاع دی،یہ بات کسی کو نہیں معلوم نہیں کہ سُپرنووا دھماکے نے اس مردہ ستارے کے گرد یہ اجسام کیسے بنائے۔

    ہارورڈ اینڈ سمتھسونین سینٹر فار ایسٹرو فزکس کے ماہر فلکیات ٹم کننگھم نے ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں اپنی نئی دریافت سے متعلق بتایا یہ سُپرنووا کی انتہائی عجیب باقیات کا مشاہدہ پہیلی کا ایک ٹکڑا ہے۔

    جب پائلٹ اپنا پاسپورٹ لے جانا بھول گیا، مسافروں سمیت پرواز واپس لانی پڑی

    رپورٹ کے مطابق چینی اور جاپانی ماہرین فلکیات کی جانب سے پہلی بار اس سپرنووا کو 1181 میں آسمان میں ایک نئے ستارے کے طور پر مشاہدہ کیا گیا تھا لیکن جدید فلکیاتی ماہرین کو سال 2013 تک مذکورہ ستارے کی باقیات نہیں ملیں، جسے اب Pa 30 نیبولا کہا جاتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل رجسٹرار کے تبادلے

    جب انہوں نے اس مردہ ستارے کی باقیات کو تلاش کیا تو یہ انہیں عجیب حالت میں ملا جو کہ سُپرنووا کی ایک قسم میں دکھائی دیا جسے ٹائپ 1 اے کہا جاتا ہےاس قسم کے سپرنووا میں ایک سفید بونا ستارہ شامل ہوتا ہے جو دھماکے کے عمل میں خود کو تباہ کر دیتا ہےلیکن اس پی اے 30 کے معاملے میں ستارے کا کچھ حصہ محفوظ رہا-

    متبادل راستہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈمپرز اور ٹینکر شہر سے گزرتے ہیں،مرتضیٰ وہاب

  • سعودی عرب اور کویت میں آدھی رات کےقریب دن کا منظر ،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    سعودی عرب اور کویت میں آدھی رات کےقریب دن کا منظر ،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    سعودی عرب اور کویت میں آدھی رات کے قریب اُس وقت دن کا منظر پیدا ہو گیا جب ایک چمک دار ستارہ آسمان سے ٹوٹ کر زمین کی طرف آ گیا اس منظر کی ویڈیو میں نظر آنے والے جرم سماوی کی رفتار 29 کلو میٹر فی سیکنڈ تھی۔

    باغی ٹی وی: سعودی میڈیا کے مطابق شمال مشرقی شہر “حفر الباطن” میں اندھیری رات کو ایک ستارہ آسمان سے ٹوٹ کر زمین کی طرف آنے کے واقعے سے رات 3 بجے کے وقت دوپہر کی سی روشنی کا منظر پیدا ہوگیا۔

    سال 2030 میں دو بار رمضان المبارک کا مہینہ آئے گا

    اسی طرح یہ کویت ستارے کو کویت کے جنوب مشرقی حصے میں رہنے والے لوگوں نے بھی اپنی آنکھ سے دیکھا۔ ستارے کا رنگ نیلے کی طرف مائل تھا اور یہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں جل گیا-

    کئی شہریوں نے ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر وائرل کردیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اچانک ایک ستارہ آسمان پر روشن ہوتا ہے جو زمین کی طرف جا رہا ہے وائرل ویڈیو میں یہ ٹوٹا ستارہ 3 سیکنڈ کے لیے دکھائی دیا تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس کے سقوط کا دورانیہ وڈیو میں دیکھے جانے والے دورانیے سے 3 گنا زیادہ تھا۔

    بھارت : ہندوانتہا پسندوں نےمسجد کوآگ لگا کرشہید کردیا

    جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی نے فیس بک پر بتایا کہ اس ٹوٹے ستارے کے سبب سعودی عرب کے مختلف حصوں میں رات کے وقت آسمان روشن ہو گیا اور ہر شے چمک اُٹھی-

    مذکورہ ستارہ زمین کے بیرونی فضائی غلاف میں 40 ہزار کلومیٹر سے 2.57 لاکھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے داخل ہوا۔ بعد ازاں یہ ہوا کی مزاحمت کے سبب سست پڑ گیا۔ اس مزاحمت کے نتیجے میں بڑی مقدار میں حرارت پیدا ہوتی ہے۔

    نئی دہلی: گائے ذبح کرنے کا الزام،مسلمان بزرگ تشدد سے جانبحق،کرناٹک:مسلمان پھل فروش…

  • "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب خلائی دوربین نے ستارے پر فوکس کر کے تصویر حاصل کر لی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ تصاویر دس لاکھ میل یعنی 16 لاکھ کلومیٹر کی دوری سے بھیجی گئی ہیں، جن میں دور کہکشاں کا ایک روشن ستارہ سورج کی طرح چمکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے آزمائشی طور پر ایک ستارے کو فوکس کیا تھا اور تصویر کا معیار اُن کی امیدوں سے بھی کہیں زیادہ ہےتاہم ناسا کا کہنا ہے کہ دوربین کو مکمل طور پر فعال اور قابلِ استعمال قرار دینے سے پہلے اب بھی بہت کام باقی ہے۔


    ناسا کی خلائی دوربین نے جس ستارے کی تصویر زمین پر بھیجی ہے، وہ اس سے ایک سو گنا زیادہ واضح اور روشن ہے جتنا کہ زمین سے ایک انسانی آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے جس ستارے کی تصویر بھیجی گئی ہے وہ زمین سے دو ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    ناسا نے یہ دور بین دسمبر کے آخر میں ایک راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کی تھی، جسے دس لاکھ میل کی دوری پر ایک ایسے مقام پر نصب کیا جانا تھا جہاں سے ان کہکشاؤں کے بارے میں تصویری معلومات حاصل کی جا سکیں، جن کے متعلق زمین سےجاننا ممکن نہیں ہے تحقیق کا مقصد کائنات کی تخلیق کے راز سے پردہ اٹھانا ہے اور یہ جاننا ہے کہ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی۔ وہ کتنی وسیع ہے اور اس کی انتہا کیا ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ ناسا نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی کھینچی گئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کی تھی جن میں جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

    جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین