Baaghi TV

Tag: ستلج

  • دلجیت دوسانجھ کی فلم ‘ستلج’ پر بھارت میں پابندی لگ گئی

    دلجیت دوسانجھ کی فلم ‘ستلج’ پر بھارت میں پابندی لگ گئی

    اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی نئی فلم ’ستلج‘ پر بھارت میں اچانک پابندی عائد کردی گئی ہے، اور اسے اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’زی فائیو‘ سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق فلم ’ستلج‘ کو 3 جولائی کو ریلیز کیا گیا تھا اور 5 جولائی کو اسے ہٹا دیا گیا، زی فائیو نے اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے فلم کو ہٹانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی، بلکہ صرف اتنا کہا ہے کہ موجودہ حالات اور پیشرفت کو دیکھتے ہوئے فلم کو فی الحال بھارت میں روک دیا گیا ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ فلم بنانے والوں اور ان کی کہانی کے ساتھ کھڑے ہیں اور قانونی طریقے سے اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ فلم کو جلد سے جلد دو بارہ ناظرین کے لیے پیش کیا جا سکے زی فائیو نے فلم کو پسند کرنے پر عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    اس فلم کا پرانا نام ’پنجاب 95‘ تھا اور اسے بنانے میں 3 سال سے زیادہ کا وقت لگا، جب اسے سینما میں چلانے کے لیے بھارت کے سینسر بورڈ کے پا س بھیجا گیا تو بورڈ نے فلم میں 125 سے زیادہ کٹس یعنی تبدیلیاں اور منظر ہٹانے کا مطالبہ کیا جبکہ فلم کی ٹیم نے ان تبدیلیوں کو ماننے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے یہ فلم 3 سال تک سینما گھروں کی زینت نہ بن سکی بعد میں اسے انٹرنیٹ پر ریلیز کیا گیا لیکن وہاں بھی یہ زیادہ دن نہ رہ سکی۔

    فلم کے گرد گھومنے والی کہانی تنازع کی وجہ ہے یہ فلم پنجاب کے ایک انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی پر مبنی ہے، جن کا کردار دلجیت دوسانجھ نے نبھایا ہے جسونت سنگھ کھالرا نے 1980 اور 90 کی دہائی میں پنجاب میں شورش کے دوران مبینہ طور پر ہزاروں لاپتہ افراد کی لاشوں کو پولیس کی جانب سے خفیہ طور پر جلائے جانے کے معاملے کو بے نقاب کیا تھا۔

    انہوں نے اس حوالے سے ثبوت جمع کیے تھے کہ جن لوگوں کو لاپتہ ظاہر کیا گیا، انہیں خاندان والوں کو بتائے بغیر ہی جلا دیا گیا اس تحقیقات کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ اس معاملے پر گئی، لیکن 1995 میں جسونت سنگھ کو خود اغوا کر کے قتل کر دیا گیا، جس کے الزام میں بعد میں کئی پولیس افسران کو سزا بھی ہوئی۔

  • ملک بھر میں بارشوں اور فلڈ وارننگ جاری

    ملک بھر میں بارشوں اور فلڈ وارننگ جاری

    دریائے ستلج اور فیروزپور بیراج کے قریب بھارتی وارننگ پر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے 8 سے 14 ستمبر تک ملک بھر میں شدید بارشوں، شہری و فلیش فلڈنگ اور دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کی ہے،وزارتِ آبی وسائل کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے حکومت پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ7 ستمبر2025 صبح 8 بجے دریائے ستلج کے علاقے ہریکے اور فیروزپور کے نیچے حصوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

    مشترکہ کمشنر برائے سندھ طاس، محمد خورشید اصغر نے ہنگامی مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاع باقاعدہ منظوری کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہے،مراسلے کی نقول چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA)، فوجی اور کور انجینئرز کے اداروں، محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ محکموں کو بھیجی گئی ہیں۔

    انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے کا خدشہ

    ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی کے اچانک اخراج کے باعث پاکستان کے نشیبی علاقے خصوصاً پنجاب اور جنوبی حصے متاثر ہوسکتے ہیں،متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بروقت آگاہی فراہم کی جائے۔

    محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 8 ستمبر سے 14 ستمبر تک ملک بھر میں شدید بارشوں، شہری و فلیش فلڈنگ اور دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کر دی ہےمراسلے کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بھاری سے انتہائی بھاری بارشیں اور کہیں کہیں انتہائی شدید بارشیں متوقع ہیں،سب سے زیادہ بارشوں کا امکان سکھر، میرپور خاص، شہید بینظیرآباد، کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور بہاولپور ڈویژن میں ہے۔

    اسی طرح بالائی دریائی علاقے بشمول اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، مردان، گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال اور ڈی جی خان میں بھی شدید بارشیں برسنے کا خدشہ ہےدریاؤں کی صورتحال کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے جو آئندہ دنوں میں برقرار رہنے کا امکان ہے.

    جبکہ دریائے راوی بلکیسر کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب اور سدھنائی و جسر کے مقامات پر درمیانے درجے کے سیلاب کا سامنا کر رہا ہےدریائے پنجند میں بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جو آئندہ 24 گھنٹوں تک جاری رہنے کا خدشہ ہے،اسی طرح ڈی جی خان، راجن پور، کوہِ سلیمان اور مشرقی بلوچستان کے علاقوں میں بھی فلیش فلڈنگ کے امکانات ہیں۔

    مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کا ایک مضبوط سسٹم بھارت کے علاقے راجستھان سے پاکستان میں داخل ہوا ہے جس نے بارشوں کے امکانات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس دوران وسطی اور بالائی سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے،محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔

  • بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا

    بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے جانے کے باعث دریائے ستلج اور چناب میں پانی کے بہاؤ میں پھر اضافہ ہونے لگا ہے، جس پر پی ڈی ایم اے نے ہیڈ تریموں اور ہریکے پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی-

    ذرائع کے مطابق بھارت نے ایک بار پھر انڈس واٹر کمیشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط طریقے سے پاکستان کو اطلاع دی، بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو اطلاع دی کہ ستلج ہریکے اور فیروزوالہ کے علاقے میں سیلاب آئے گا بھارت نے سیلابی ریلے سے آج صبح 8 بجے آگاہ کیا، بھارت کی جانب سے سیلاب سے متعلق ڈیٹا شیئر نہیں کیا گیا دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروزپور پر اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔

    دریائے ستلج ہریکے کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافے اور اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ستلج میں ہریکے ڈاؤن اسٹریم پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، دریائے ستلج اور ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا،پی ڈی ایم اے پنجاب نے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی، دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 34 ہزار کیوسک ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری

    دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا جھنگ اور ہیڈ تریموں سے گزر رہا ہے، دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 1 ہزار کیوسک ہے،خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 76 ہزار کیوسک ہے اور قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 54 ہزار کیوسک ہے۔

    ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق ہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 79 ہزار کیوسک ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،دریائے راوی جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 66 ہزار کیوسک اور شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 67 ہزار کیوسک ہے، بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 72 ہزار کیوسک اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 72 ہزار کیوسک ہے۔

    مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر پنجاب کو "باغوں کا صوبہ” بنانے کافیصلہ

    نالہ ایک، بئیں اور بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پلکھو نالہ میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب ہے،منگلا ڈیم 82 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے، دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 84 فیصد تک بھر چکا ہے، پونگ ڈیم 98 فیصد جبکہ تھین ڈیم 92 فیصد تک بھر چکا ہے،لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا جبکہ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی الرٹ جاری کیا گیا۔

    یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی مغربی کوششیں جنگ کی بڑی وجہ ہے،روسی صدر

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق لوکل گورنمنٹ، محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت، محکمہ جنگلات، لائیو اسٹاک اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے ریسکیو ٹیموں کو پیشگی حساس مقامات پر تعینات کریں، موسلادھار بارشوں کی صورت میں شہریوں کو پیشگی آگاہ کریں، گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی۔ لاہور 42، گجرانوالہ 19، خانیوال اور قصور 12، مری 11، گجرات اور نارووال 5، اور سیالکوٹ میں 4 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی،آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا امکان ہے، 9واں اسپیل 2 ستمبر تک جاری رہے گا۔

    بھارتی اداکارہ کینسر سے انتقال کرگئیں

  • بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب پیدا ہو گیا ، جس سے مزید درجنوں دیہات متاثر ہو گئے۔

    فلڈ کاسٹنگ ذرائع کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 4 ہزار 664 کیوسک جبکہ اخراج 98 ہزار 353 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہےدریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 95 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے ، گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 22 فٹ سے بلند ہونے کے باعث مزید دیہات زیر آب آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہےاپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم پر دریائے ستلج کی تباہ کاریاں جاری ہیں ، سیلاب سے 10عارضی بند بہہ گئے ، متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے ، متاثرین اونچے ٹیلوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

    دریائے ستلج میں ہریکے کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، ہریکے کے بالائی اور زیریں علاقے اونچے درجے کی سیلابی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں، ستلج اور اس سے منسلک دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے،دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ تربیلا اور تونسہ پر پانی کی سطح معمول کے مطابق ہے-

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر اونچے درجے اور سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہےاسی طرح دریائے چناب میں مرالہ اور خانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، ڈیموں کی بات کی جائے تو تربیلا ڈیم مکمل بھر چکا ہے جبکہ منگلا 76 فیصد بھرا ہے، بھارتی ڈیموں میں بھاکرا 80 فیصد، پونگ 87 فیصد اور تھیئن ڈیم 85 فیصد بھرے ہوئے ہیں،تاہم بھارت کے مادھوپر ڈیم سے پانی کے اخراج کی وارننگ کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، این ڈی ایم اے نے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا۔

    نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں دریائے راوی میں جسر کے مقام پر 80 ہزار سے ایک لاکھ 25 ہزار کیوسک تک کے بہاؤ کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح ایک لاکھ 50 ہزار سے 2 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتی ہے، اسی طرح دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر ایک لاکھ 90 ہزار سے 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک کے بہاؤ کے ساتھ شدید سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

    کراچی : ملیر جیل سے 225 قیدی فرار ہونے کی انکوائری مکمل، رپورٹ تیار

    ہائیڈرولوجیکل اعداد و شمار کے مطابق راوی اور اس سے منسلک نالوں میں مسلسل درمیانی سے شدید بارش کے باعث تھیئن ڈیم میں پانی 1717 فٹ تک پہنچ گیا ہے، پیر تک دریائے راوی میں کوٹ نیناں کے مقام پر 64 ہزار کیوسک پانی خارج ہو رہا تھا، جو 24 گھنٹوں میں جسر کے مقام پر ’نچلے سے درمیانے درجے‘ کے سیلاب کا باعث بن سکتا ہے اور اگر بارشیں جاری رہیں اور اسپِل وے مزید کھولے گئے تو 27 اگست تک اونچے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بتایا کہ دریائے سندھ، چناب، راوی اور ستلج کے زیریں علاقوں سے ہفتے کے روز سے اب تک 24 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، یہ دریا بالائی علاقوں میں شدید مون سون بارشوں کے باعث نچلے سے اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں اور اگلے 48 گھنٹوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی ہے،انخلا کی یہ کارروائی قصور، اوکاڑا، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی اور نارووال میں کی گئی، کیونکہ بھارت کی جانب سے سیلابی الرٹ ملنے کے بعد ان اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

    ممتاز صحافی عبدالستار خان کی نیب سے متعلق انگریزی کتاب،کی تقریب رونمائی

    ادھر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بھی پنجاب میں شدید بارشوں کے پیش نظر سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا، اگلے 48 گھنٹوں میں بالائی علاقوں میں بارش کے باعث دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ ہے، دریائے چناب، راوی اور ستلج میں ’اونچے سے بہت اونچے درجے‘ کے سیلاب کا خطرہ ہے، جبکہ راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    ممکنہ سیلاب کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان کے کمشنرز کو بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے، قصور، اوکاڑا، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی سیلاب کے پیش نظر الرٹ پر رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں،گزشتہ 24 گھنٹوں میں نارووال میں 27 ملی میٹر، سیالکوٹ 5 ملی میٹر، قصور 4 ملی میٹر، لاہور اور گوجرانوالہ 3 ملی میٹر، جبکہ گجرات اور خانیوال میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

  • دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ

    دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ

    قصور: بھارت نے دریائے ستلج میں چوتھا سیلابی ریلا چھوڑ دیا جس سے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی :سیلابی ریلوں کے باعث پاکپتن، قصور، بہاولنگر، بہاولپور، لودھراں اور وہاڑی کی دریائی پٹی پر سیکڑوں دیہات پہلے ہی زیر آب ہیں اور فصلیں ڈوبی ہوئی ہیں متاثرہ علاقوں کے مکین گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں بہاولپور میں پانی کے دباؤ سے ایمپریس برج کا بند ٹوٹ گیا جس سے 6 بستیوں میں پانی داخل ہوگیا اور فصلیں متاثر ہوگئیں ریلا احمد پور شرقیہ کی دریائی بیلٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    بورے والا میں دریائے ستلج میں درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، جلالپور پیروالہ میں حفاظتی بند ٹوٹٹنے سے پانی آبادی میں داخل ہوگیا زمین کے کٹاؤ کے باعث زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، سڑکیں پانی میں بہہ گئیں ہیں سیلاب کی صورتحال کی وجہ سے متعدد آبادیوں کا دوسرے علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا سیلاب کے باعث مکان گرگئے جبکہ سامان، جانور پانی میں بہہ گئے، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئیں ہیں۔

    61 سال ماں کے پیٹ میں رہنے والا بچہ پتھرکا بن گیا

    جلالپور پیروالہ میں دریائے ستلج پر پانی میں مسلسل اضافہ بستی نون والہ کا عوامی حفاظتی بند ٹوٹٹنے سے سیلابی پانی آبادی میں داخل ہوگیا سیلابی پانی کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ فصلیں زیرآب آ گئیں اورعلاقہ مکین امداد کے منتظرہیں۔

    کراچی:نوجوانوں کے ساتھ بدفعلی کی ویڈیوزبناکربلیک میل کرنیوالے5 ملزمان گرفتا

  • دریائے ستلج ، بھارتی ڈیم پونگ اورباکھرا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    دریائے ستلج ، بھارتی ڈیم پونگ اورباکھرا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    دریائے ستلج پر بھارتی ڈیم پونگ اور باکھرا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مزید بارشوں کی صورت میں بھارت سے پانی کی آمد میں تباہ کن اضافہ متوقع ہے۔ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، ویہاڑی، بہاولنگر، لودھراں،ملتان اور بہاولپور کے اضلاع شدید متاثر ہوسکتے ہیں دریائے ستلج کے راستے میں قائم سوسائٹیوں اور قصبوں کو خالی کروانا پڑ سکتا ہے۔ متاثر ہونے والے موضع، دیہات اور سوسائیٹیوں بارے تفصیلات متعلقہ انتظامیہ کو فراہم کی جاچکی ہیں۔

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے ہدایت کی کہ بھارتی ڈیموں کی صورتحال پر تشویش، تمام ادارے ہائی الرٹ رہیں۔ متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ ندی نالوں کے راستوں سے تجاوزات کا خاتمی یقینی بنائے۔مقامی آبادیوں کے ساتھ بھی معلومات شئیر کی جائیں تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار رہیں۔عوام اور ادارے مل کر سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم سے کم کر سکتے ہیں۔کسی بھی ایمرجنسی صورت حال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن پر چوبیس گھنٹے اطلاع دے سکتے ہیں۔

    بورے والا دریائے ستلج ہیڈ اسلام کے حدود میں اونچے درجے کے سیلاب ، متعدد زمینیں زیر آب آ گئیں اور کئی گھروں کو نقصان پہنچا ہے ، سیلابی پانی کا تیزی سے شہری آبادیوں کی طرف بہاو جاری ہے ،۔محکمہ آبپاشی کے مطابق بہاولپور کی 3 تحصیلوں میں دریائے ستلج کے سیلابی ریلے سے متعدد بند بہہ گئے، ادھر ہیڈ میلسی سائفن پرپانی کی سطح ایک لاکھ 24 ہزارکیوسک ہو گئی جس کے باعث متعدد دیہات ڈوب گئے

    پاکستان آرمی کی سیلاب زدگان کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، بھارت کی طرف سے دریائے ستلج میں سیلابی پانی چھوڑا گیا ، پاک فوج کی جانب سے بہاولپور ڈویژن کے نشیبی علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، سیلاب متاثرین کے لئے پاک آرمی کی طرف سے فری میڈیکل کیمپس اور ریسکیو آپریشن سمیت فری راشن تقسیم کا سلسلہ جاری ہے، پاک آرمی کی جانب سے میلسی، چشتیاں، منچناں آباد ، پاکپتن ، عارف والا، وہاڑی ، لودھراں، بورے والا اور ہیڈ سلیمانکی میں مقامی انتظامیہ سے مل کر متاثرہ علاقوں سے سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنےکا سلسلہ جاری ہے،سیلاب کے دوران وبائی امراض سے بچانے کے لیے میڈیکل کیمپس بھی قائم کئے گئے ہیں، بڑی تعداد میں متاثرین کو مفت طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

  • دریائے راوی اور ستلج میں مختلف مقامات پر سیلابی صورتِ حال

    دریائے راوی اور ستلج میں مختلف مقامات پر سیلابی صورتِ حال

    قصور: بھارت کی طرف سے چھوڑے گئے سیلابی ریلوں سے دریائے راوی اور ستلج میں مختلف مقامات پر سیلابی صورتِ حال ہے۔

    باغی ٹی وی: ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام کے مقامات پر پانی کی سطح بڑھنے لگی ہے،بہاول پور کی دریائی بیلٹ پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے جس کے پیش نظر 19 ریلیف کیمپ قائم کردیئے گئے ہیں، ساتھ ہی 10 ہزار سے زائد افراد اور مال مویشی ریلیف کیمپوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کردیئے گئے ہیں۔

    دریائی بیلٹ سے ملحقہ علاقوں کے رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ہیں جبکہ چونیاں میں کنگن پور چوکی کے مقام پر دریائے ستلج کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی دیہات میں داخل ہوگیا ہے۔

    مون سون: کراچی میں آج سے بارشوں کا امکان

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے21 اگست تک روزانہ کی بنیاد پر پانی چھوڑے جانے کی اطلاعات کے پیش نظر دریائے ستلج سے ملحقہ قریبی بستیوں کو خالی کروایا گیا نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قصور میں 35 سال بعد پانی آیا ہے سیلاب کی صورتحال سے باخبر ہیں، سیلاب سے بچاؤ کےلیےبہترین حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے، تیاری نہ ہوتی توبہت سارے گاؤں پانی میں بہہ جاتے محسن نقوی نے متاثرہ علاقوں کو دوہرہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ پنجاب کے اسپتالوں میں ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں، اسپتالوں کی بہتری کے لیے کام کررہے ہیں، مل کرکام کریں گے تو ہہتر نتائج برآمد ہوں گے۔

    بورے والا میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کردیا۔ میپکو، محکمہ ٹیلی فون سمیت دیگراداروں کو تنصیبات محفوظ بنانے کی وارننگ جاری کی گئی محکمہ خوراک اور پاسکو کو گندم محفوظ مقامات پرمنتقل کرنے کے ساتھ ہی محکمہ زراعت، لائیواسٹاک کو جانوروں کے چارے کا انتظام کرنے کا حکم دیا –

    لداخ: بھارتی فوج کا ٹرک کھائی میں جاگرا،9 فوجی ہلاک، 2 زخمی

    ستلج میں سیلاب کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر امتیاز احمد کھچی نے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں اور موٹر بوٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، 12 پوائنٹس پر20 موٹر بوٹس اور60 ریسکیو اہلکار تعینات ہیں 6 موٹر بوٹس اور18ریسکیو اہلکار دوسرے اضلاع سے لیے ہیں، خطرناک سیلابی ریلے سے 100 سے زائد دیہات متاثرہ ہونے کا خطرہ ہے۔

    دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 23 فٹ تک بلند اور بہاؤ دو لاکھ 78 ہزار کیوسک تک پہنچ گیاتلوار پوسٹ کے مقام پر پانی کی سطح 12 فٹ اور فتح محمد پوسٹ کے مقام پر سطح 15 فٹ تک پہنچ گئی۔ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جہاں 80 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے ہیڈ اسلام کے مقام پر 21 اگست سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔

    سائفرگمشدگی کیس:چئیرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی کےخلاف مقدمہ درج

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بھارت کی جانب سے 21 اگست تک روزانہ کی بنیاد پر پانی چھوڑے جانے کی اطلاعات ہیں دریائے ستلج سے ملحقہ انتہائی قریبی بستیوں کو خالی کروایا جارہا ہے۔ ملحقہ اضلاع کی انتظامیہ کو فوڈ، شیلٹرز، ادویات، بوٹس اور دیگر اشیائے ضروریہ فراہم کی جا رہی ہیں دریاﺅں اور ندی نالوں میں نہانے پر پابندی ہے، انتظامیہ دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کو یقینی بنائے۔

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے قصور کے سیلابی علاقے کا دورہ کیا، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او قصور نے وزیراعلی کو سیلاب کے متعلق بریفینگ دی سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کی جانب سے ریسکیو آپریشن کی بریفنگ دی گئی۔ اس وقت دریائے ستلج قصور میں 69 ریسکیو بوٹ و آپریٹر 240 ریسکیور کیساتھ متعین ہیں سیلابی علاقے میں اہم مقامات پر ریسکیو بوٹ کیساتھ خصوصی پوسٹیں بنائی گئی ہیں۔ پتن پوسٹ، چندا سنگھ، تلوار پوسٹ، بھیکی ونڈ، باقر کے، بھیڈیاں عثمان والا، رتنے والا، منڈی عثمان والا، کوٹلی فتح محمد میں ریسکیو آپریشن جاری ہے جمعہ کے دن قصور کے سیلابی علاقہ سے 5578 لوگوں کا انخلا کیا گیا۔

    بحرین میں 500 قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی

  • دریائے ستلج،کشتی حادثہ،ایک بجے کی موت،33 افراد کو بچا لیا گیا

    دریائے ستلج،کشتی حادثہ،ایک بجے کی موت،33 افراد کو بچا لیا گیا

    دریائے ستلج کشتی حادثہ اپڈیٹ ،دریائے ستلج سوجیکی ضلع اوکاڑہ کے مقام پر دریا عبور کرنے کے لیے استعمال ہونے والے بیڑے کے حادثہ میں اب تک ایک بچے کی ڈیڈ باڈی کو نکال لیا گیا

    ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر محمد ذیشان حنیف کا کہنا ہے کہ کشتی الٹنے کے باعث ڈوبنے والے افراد میں سے 33 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور باقی کی تلاش کے لیے ریسکیو اپریشن جاری ہے ریسکیو آپریشن میں بچائے جانے والوں میں 24 خواتین 6 مرد اور ایک بچہ شامل ہے جنہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ریسکیو کیے جانے والے افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے ریسکیو کئے جانے والے تمام افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے بیڑا میں 40 افراد سوار تھے جن میں سے اٹھ افراد کا تعلق ضلع اوکاڑا اور 32 افراد کا تعلق ضلع بہاول نگر سے ہے جائے وقوعہ پر ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر محمد ذیشان حنیف اور ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کیپٹن ریٹائرڈ منصور امان ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افیسر ظفر اقبال اور تمام متعلقہ محکمے موقع پر پہنچ کر ریسکیو اپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں اللہ تعالی کے فضل و کرم سے تمام سرکاری محکموں کے ربط و رابطہ سے کیے گئے ریسکیو اپریشن کی بدولت قیمتی انسانی جانوں کو بچایا گیا ہے

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    حادثے کے مرکزی ملزم ممتاز آرائیں کو وہاڑی سے گرفتار کیا گیا

    انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا ساتوں اجلاس ایف آئی اے ہیڈ کواٹر میں منعقد ہوا

    شہری ڈوب چکے، کئی کی لاشیں ملیں تو کئی ابھی تک لاپتہ ہیں،

    دوسری جانب دریائے ستلج ہیڈ سلیمانکی پر پانی کی سطح میں اضافہ جاری ہے، ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 76035 اور اخراج میں 65877 کیوسک ہوگیا دریائے ستلج میں ضلع بہاولنگر کی حدود میں نچلے درجے کا سیلاب ہے،سیلابی پانی کی تباہ کاریاں تیز ہوگئیں انی کےتیز بہاو کی وجہ سے متعدد حفاظتی بند ٹوٹ گئے مومیکا روڈ اور ساہوکا روڈ پر سیلابی پانی سے شگاف کی وجہ آمدورفت کا سلسلہ معطل ہو گیا، درجنوں آبادیوں کا زمینی راستہ کٹ گیا ،دریائی بیلٹ سے ملحقہ مواضعات کی درجنوں آبادیوں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا،سیلابی پانی کیوجہ سے لوگوں کو نقل مکانی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت لوگ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے پانی میں بھنسے افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کردیا ، سیلابی پانی سے موضع عاکوکا ، ماڑی میاں صاحب، سنتیکا ، بہادرکا ، چاویکا اور دیگر مواضعات میں دریائی کٹاو بھی تیزی سے جاری ہے، متاثرین کھلے آسمان تلے حکومت کی جانب سے ریلیف پیکج کے منتظر ہیں

  • دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب،متعدد آبادیاں زیر آب،مزید بارشوں کی پیشگوئی

    دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب،متعدد آبادیاں زیر آب،مزید بارشوں کی پیشگوئی

    مون سون بارشوں سے دریاؤں میں سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی، دریائے ستلج ،سندھ اور چناب میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے دریاؤں کے کنارے متعدد آبادیاں زیرآب آ گئیں۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے متعدد آبادیاں زیرآب آ گئیں جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،بہاولنگر میں دریائے ستلج کا ریلہ سڑک کا ایک حصہ بہا کر لے گیا

    بارشوں کے باعث دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی سے مسلسل پانی چھوڑا جانے لگا، جس کے باعث کمالیہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، دریا کنارے کی بستیوں میں پانی داخل ہو گیا، مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مویشیوں کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب سندھ کے بیراجوں پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوگیا ہے، پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلے سندھ کے بیراجوں سے گزرنے لگے ہیں دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب آنے سے گھوٹکے کے کچے کے مزید 20 دیہات زیر آب آگئے-

    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

    جبکہ بلوچستان کےعلاقے ڈیرہ مرادجمالی سمیت مختلف علاقوں میں ایک بار پھر ہونے والے بارشوں سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ڈیرہ بگٹی میں ایف سی کی جانب سے بارش متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے ،محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان ،گلگت بلتستان ، کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش کی بھی توقع ہے،کرم وزیرستان بنوں ڈیرہ اسماعیل خان میں گرک چک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا

    زشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش خان پور 28، بہاولنگر ، ملتان (سٹی 4)، نارووال 3،چکوال، کوٹ ادو2، جیکب آباد 25، لاڑکانہ 2، بنوں 14، پاراچنار، کالام 3،میر کھانی 2،دروش ،بالاکوٹ، ڈی آئی خان (ائیر پورٹ اور سٹی ایک)، بابو سر 18،استور 8، بگروٹ 2،بونجی ایک جیوانی 5 اور بار کھان میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    اتوار کو ریکارڈکیےگئےزیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت کی رپورٹ کے مطابق نوکنڈی اوردالبندین میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا ہے۔

    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات

  • حکومت بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    حکومت بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے دریائے ستلج اور دریائے چناب میں ایک بار پھر سیلابی پانی چھوڑ دیا ہے ۔ اس طرح سے بھارت پاکستان کو تباہ، زرعی زمینوں کو برباد اورلاکھوں کو بے گھر کرنا یا ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے اور عالمی اداروں میں آواز بلند کرے بصورت دیگر لاکھوں پاکستانیوں کے گھر اجڑ جائیں گے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوجائے گی اور بہت بڑی تعداد میں لوگ جان بحق ہوجائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا پاکستان میں زرعی انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے پوری قوم آرمی چیف کے اس فیصلے کا دل وجان سے خیر مقدم کرتی ہے لیکن پاکستان میں زرعی انقلاب اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا ہے کہ جب تک بھارت کے پاکستان پر ہونے والے آبی حملوں کو نہ روکا جائے ۔ بھارت پاکستان کا بدترین دشمن ہے وہ پاکستان کے ساتھ دشمنی کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ہے 75برس کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت کے آج بھی پاکستان پر آبی حملے جاری ہیں ۔ جس موسم میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہوتی ہے اس موسم میں بھارت کے حکمران پاکستان کی طرف آنے والے دریاﺅں کا پانی روک لیتے ہیں جس سے فصلوں اور زرعی زمینوں کو پوری طرح پانی نہیں ملتا ہے اور زمینیں خشک اور بنجر ہوجاتی ہیں اس طرح سے پاکستانی کاشت کاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے جبکہ موسم برسات میں جب بارشوں کی وجہ سے پاکستان کے دریا پانی سے بھر جاتے ہیں تب بھارت اپنی طرف کا سیلابی پانی بھی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے جس سے تقریباََ ہرسال پاکستان میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے ۔

    ڈاکٹر سبیل اکرام کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا پاکستان میں زرعی انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے لیکن یہ زرعی انقلاب اس وقت تک برپا نہیں ہوسکتا ہے کہ جب تک بھارت کی آبی جارحیت کا موثر سدباب نہ کرلیا جائے ۔اسلئے کہ بھارت کے پاکستان پر ہونے والے آبی حملوں سے ہونے والا نقصان پاکستان کےلئے ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر بھارت کی آبی جارحیت روکنے کےلئے کا فوری اقدامات کریں ۔

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

     زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے ۔