Baaghi TV

Tag: ستونت کور

  • رن مرید ۔۔۔ دوسرا رخ — ستونت کور

    رن مرید ۔۔۔ دوسرا رخ — ستونت کور

    کافی عرصہ ہوا کسی رسالے میں پڑھا تھا کہ :

    اگر انسان کو ماں سے محبت ہو تو۔۔۔ عبادت۔

    باپ سے محبت ہو تو۔۔۔ فرض۔

    بھائی سے محبت ہو تو۔۔۔ اخوت ۔

    بہن سے محبت ہو تو ۔۔۔ شفقت۔

    کام، کاروبار سے محبت ہو تو۔۔۔ احساسِ ذمہ داری ۔

    ملک سے محبت ہو تو ۔۔۔ حب الوطنی ۔

    اور اگر ۔۔۔۔ بیوی سے محبت ہو تو لوگ کہتے ہیں "رن مرید ہے ” یا ” بیوی کے نیچے لگ گیا ہے ۔”.

    اور یہ حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں ‘محبوبہ/گرل فرینڈ’ کے لیے شعر لکھنا اور ‘بیوی’ پر عجیب و غریب لطیفے بنانا، پوسٹ کرنا باضابطہ ٹرینڈ بن چکا ہے۔

    کسی شخص کو رن مرید کا طعنہ دینے والے عام طور پر دو لوگ ہوتے ہیں ۔

    1- دوست ۔
    2- اہلِ خانہ ۔

    کسی شخص کو بیوی سے محبت و الفت پر رن مرید کا طعنہ دینے والے اکثر اس کے دوست ہوتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ :

    یا تو خود "سرٹیفائیڈ سنگل” ہوتے ہیں کوئی انہیں اپنی بیٹی تو دور کی بات اپنی بائیک بھی مستعار دینے پر راضی نہیں ہوتا۔

    یا پھر اس قسم کے شادی شدہ کے جن کی شادی منگل سوتر باندھنے کے بجائے "نرڑ” باندھنے کے مترادف ہوتی ہے ۔۔۔۔ (نرڑ : کسی سرکش بکروٹے، وچھے یا کٹے کو قابو میں رکھنے کے لیے اس کی ٹانگ رسی کے زریعے کسی گائے، بھینس یا بیل کے ساتھ باندھ دینا ).

    جن کی بیوی اگر انہیں رات موبائل میں مگن دیکھ کر ” سوجائیے ، کافی رات ہوگئی ہے ۔۔۔” کے بجائے ” مرن جوگیا، تینو موت کیوں نئیں پیندی پئی؟” جیسے الفاظ سے نوازتی ہیں۔

    یعنی جن کی عمر بھر اپنی بیوی کے ساتھ نہیں بنتی انہوں نے ظاہر ہے جیلس ہونا ہی ہے کسی دوسرے کو بیوی کے ساتھ ہنستا بستا دیکھ کر ۔

    تو احباب !! اگر کوئی دوست یا کولیگ کہے کہ آپ رن مرید ہو تو کہنا ” میری ایک ہی اکلوتی لاڈلی بیوی ہے۔۔۔ اب اس سے پیار نہ کروں تو کیا تمہاری بیوی سے عشق لڑاؤں؟ کمال کرتے ہو پانڈے جی!”

    اور پھر آجاتے ہیں گھر والے ،

    ایکچولی سب سے زیادہ تکلیف تو ماؤں کو ہوتی ہے ۔۔۔ یعنی جو مائیں "چاند سی بہو” کو ” بڑی چاہ سے ” لائی ہوتی ہیں ۔۔۔ ایک ماہ بعد انہیں لگتا ہے کہ ” یہ ڈائن ہے جس نے میرے بیٹے پر تعویز کرکے اسے اپنے بس میں کرلیا ہے .”

    ارے آنٹی جی۔۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کا بیٹا پوری عمر بچہ ہی بنا رہے ؟ آپکی گودی میں بیٹھا رہے اور آپ پوری عمر اسے لوری سناتی رہیں ؟

    بھئی۔۔۔ اگر آپ کا بیٹا کسی غیر لڑکی کے ساتھ وقت گزارتا تو تشویش کی بات تب تھی۔۔۔ اپنی ‘سگی’ بیوی کے ساتھ کچھ وقت بِتا لے ، اس کے ساتھ گھومنے پھرنے چلا جائے یا اسے کوئی گفٹ خرید کر دے تو ان ذیابیطس زدہ بڈھی کھوسٹ کُٹنیوں کو لگتا ہے کہ ” بیٹا ہاتھ سے نکل گیا ہے۔”

    تو احبابِ گرامی ، اگر آپ کو کوئی ” رن مرید” کہے تو مسکرا کر جواب دیں کہ کسی شُف شُف پیر یا ” سائیں رکشہ ساڑ” کا مرید بننے سے اچھا ہے کہ بنا رن مرید ہی بنا رہے۔

    بشکریہ : آل برصغیر انجمنِ بیگمات ۔

  • دنیا بھر سے میل ملن کی منفرد رسومات!!! — ستونت کور

    دنیا بھر سے میل ملن کی منفرد رسومات!!! — ستونت کور

    عام طور پر ملاقات کے وقت سلام دعا ، مصافحہ یا معانقہ کرنا میل ملن کا مروج دستور ہے ۔۔۔ تاہم دنیا بھر کے مختلف ممالک اور اقوام میں ملتے وقت کچھ الگ اور عجیب و غریب رسومات بھی موجود ہیں :

    1- تبت میں ملاقات کے وقت اپنی زبان باہر نکالنا احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    2- کینیاء کے معروف "مسائی” قبیلے کے لوگ ملاقات کے وقت ایک دوسرے کے منہ پر تھوک کر جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں۔

    3- ننیدرلینڈز کے "ماؤری” قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ملاقات کے وقت اپنی ناک، دوسرے کی ناک سے رگڑ کر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں ۔

    4- لائبیریا اور بینن کے قبائلی لوگ آپس میں ملتے وقت اپنی انگلیوں سے چٹکی بجا کر سلام دعا کرتے ہیں ۔

    5- فلپائن میں لوگ عمر میں خود سے بڑے احباب سے ملتے وقت ان کا ہاتھ تھام کر ان کے ہاتھ کی پشت کو اپنے ماتھے سے مَس کرتے ہیں ۔

    6- ٹریڈشنل عرب کلچر میں ملاقات کے وقت دوسرے کے ہاتھ یا گال پر بوسہ دینا مروج ہے۔

    7- موزمبیق میں مقامی قبائلی ملاقات کے وقت تین مرتبہ تالی بجا کر گرمجوشی کا ثبوت دیتے ہیں۔

    8- ہندوستان میں لوگ عمر یا مرتبے میں خود سے بڑے احباب سے ملتے وقت چرن سپرش کرتے ہیں یعنی ان کے پیر چھوتے ہیں۔

    9- جاپان میں ملاقات کا دستور یہ ہے کہ دونوں افراد ایک دوسرے کے سامنے جھک کر احترام پیش کرتے ہیں۔

    10- ملائشیا میں لوگ ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے کے بعد ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر الفت کا اظہار کرتے ہیں ۔۔۔ یہ رسم کچھ حد تک ہندوستان میں بھی مروج ہے مسلمانوں میں ۔

  • ناگ فروش — ستونت کور

    ناگ فروش — ستونت کور

    1911 میں تاجِ برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی راجدھانی کو کلکتہ سے دِلی منتقل کردیا ۔ آنے والے وقتوں میں ایک نیا مسئلہ سر اٹھانے لگا ، بلکہ پھن اٹھانے لگا ۔۔۔ اور وہ تھا دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگ کی بڑھتی ہوئی آبادی ۔

    جو کہ ناصرف ایک زہریلا اور خطرناک خزندہ ہے بلکہ اس کی بڑھتی آبادی بھی لوگوں بھی خوف و ہراس اور بےچینی کا باعث بن رہی تھی ۔
    چنانچہ برٹش حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص زندہ یا مردہ ناگ لے کر آئے گا اسے نقد انعام ملے گا۔

    اس طرح لوگوں نے ناگ کا شکار کرنا اور انہیں مقررہ سرکاری دفاتر لیجا کر انعام حاصل کرنا شروع کردیا ۔

    لیکن۔۔۔۔ کچھ عقلمند ہندوستانیوں نے اس موقع سے دگنا فائدہ اٹھانے کا سوچا اور انہوں نے خفیہ طور پر ناگوں کو پالنا شروع کر دیا تاکہ ان کی بریڈنگ کروا کر زیادہ سے زیادہ ناگ حکومت کو پیش کر کے خوب انعامی رقم حاصل کی جائے۔۔۔۔ اور اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا۔

    اہلِ دلی نے اس "زہریلی گنگا” میں خوب ہاتھ پیر دھوئے بلکہ ڈبکیاں لگائیں ۔

    اور جب برطانوی حکومت کو پتا چلا کہ ہندوستانی گھر گھر ناگ پال کر انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔۔۔ تو انہوں نے ناگ لانے پر مقرر کی گئی انعامی رقم کو منسوخ کردیا ۔

    لیکن پھر جن سینکڑوں لوگوں نے ہزاروں ناگ پال رکھے تھے اور کوئی چارہ نہ ہونے پر انہوں نے ان ناگوں کو یہاں وہاں جھاڑیوں ، درختوں ، مٹی کے ٹیلوں پر آزاد کردیا۔۔۔ اور جب آزاد کیے سانپوں نے قدرتی ماحول میں اپنی نسل بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا تو دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگوں کی آبادی میں پھر سے بےپناہ اضافہ ہوگیا ۔

    اس رحجان کو آج تک Cobra effect کے نام سے یاد کیا جاتا ہے !!!

  • حکیم حضرات اور "زبان گردی” — ستونت کور

    حکیم حضرات اور "زبان گردی” — ستونت کور

    بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین بالخصوص والدِ گرامی سے مختلف چیزوں ، کینڈیز، سنیکس اور کھلونوں کی فرمائشیں کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ کہیں پڑا کہ ایک صاحب کے بچوں نے کہا کہ ” ہمیں کاٹن کینڈی اور رائس کیک کھانے ہیں ” تو وہ صاحب کہتے ہیں ” یہ کیا چیزیں ہیں ؟ کبھی نہ دیکھیں نہ سنی نہ کھائیں۔” تو بچوں نے جب موبائل پر انہیں پکچرز دکھائیں تو وہ بولے ” اوہ اچھا انہیں کھاتے تو ہمارا پورا بچپن گزرا انہیں ہم لچھا اور مرُونڈا کہا کرتے تھے ".

    ہمارے ہاں یعنی پاک و ہند و بنگال میں حکماء کرام کی ایک صدیوں پرانی عادت ہے کہ خوامخواہ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے ، دوسروں پر اپنی علمیت کا رعب بٹھانے اور اپنی طبی قابلیت ثابت کرنے کے لیے حکماء کرام ہمیشہ مشکل اور ثقیل الفاظ کا استعمال کرتے ہیں پھر چاہے وہ امراض کے نام ہوں یا ادویہ کے نام۔

    مثلاً روغنِ کنجد ، عرقِ بادیان ، آبِ گھیکوار، قہوہِ نیشکر ، کشتہِ بیضہ مرغ، معجونِ خرما ، شربتِ گلُ سرخ، معجونِ سمک بحری ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔
    اب۔۔۔

    سننے یا پڑھنے والوں کو یہ بھاری بھرکم عربی و فارسی اصلاحات سننے پر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ ” صدیوں پرانے قیمتی و نایاب نسخے ” دارصل ہمالے کی برفیلی چوٹیوں پر اگنے والی کسی نایاب جڑی بوٹی۔۔۔۔ بارش کے بعد صحرائے صحارا کے ٹیلوں پر پھوٹنے والے کسی مشروم ۔۔۔۔ ایمازون کے جنگلات میں پائے جانے والے کسی پھل۔۔۔۔رانگاماٹی کی بلندیوں پر اگنے والے کسی پھول ۔۔۔۔ یا اوقیانوس کی گہرائیوں سے نکالے جانے والے کسی مونگے سے بنائی جاتی ہوں گی ۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ فی الحقیقت یہ سب نام اور ان جیسے درجنوں دیگر بھی جو آپ نے پڑھے ، سنے ہوں گے کسی محلے کی کریانہ شاپ سے ملنے والے عام آئٹمز کے نام ہیں ۔۔۔۔ جیسا کہ میں نے بتایا :

    روغنِ کنجد(تِل کا تیل) ، عرقِ بادیان (سونف کا عرق ) ، آبِ گھیکوار (کوار گندل/ایلوویرا کا Gel)، قہوہِ نیشکر (گنے کی چائے) ، کشتہِ بیضہ مرغ (مرغی کے انڈے کا کشتہ) ، معجونِ خرما (کجھور کا پیسٹ ) ، آب گلُ سرخ (عرق گلاب)، معجونِ سمک بحری( سمندری مچھلی سے بنی کوئی دوا ).

    بھئی ، سیدھا سیدھا پھوٹ دینے میں کیا حرج ہے ؟ ان کو لگتا ہے کہ عام روزمرہ کا نام بول دیا تو ان کی دکانداری کو گرہن لگ جائے گا ۔۔۔ یوں تو میڈیکل ادویات کے بھی فارمولوں کے طویل اور پیچیدہ نام ہوتے ہیں لیکن فارما والے عام طور پر ان ناموں کی مختصر شکل یا پھر الگ سے مناسب سا نام استعمال کرتے ہیں مثلاً Soluble Aspirin کا نام "ڈسپرین ” وغیرہ ۔

    اور پھر ادویات ہے نہیں یہ حضرات امراض کے نام بھی عجیب و غریب قسم کے رکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن وہ پھر کبھی سہی !!

  • نفیراورجبری بھرتی سے بچنے کے طریقے!!! — ستونت کور

    نفیراورجبری بھرتی سے بچنے کے طریقے!!! — ستونت کور

    گزشتہ روز روسی صدر پیوٹن کی طرف سے یوکرین میں حالیہ ہزیمت و پسپائی کے بعد کیے گئے Partial Mobilization کے اعلان نے پورے روس میں کشیدگی کا سماں پیدا کردیا ہے اور روسی نوجوان کسی بھی قیمت پر اس یقینی موت یا معذوری سے بچ کر نکلنا چاہتے ہیں پھر چاہے انہیں عجلت میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر زمینی یا فضائی راستے سے روس چھوڑنا ہی کیوں نہ پڑ جائے چنانچہ گزشتہ روز سے اب تک روس کے سب ہوائے اڈے اور سرحدی کراسنگز ان بیسیوں ہزار لوگوں سے اٹی پڑی ہیں کہ جو جبری بھرتی اور یوکر– ین جنگ میں جھونک دیے جانے سے بچنا چاہتے ہیں !!

    لیکن۔۔۔۔۔

    ہر شخص نہ تو فضائی راستے سے ملک چھوڑ سکتا ہے نہ ہر شخص زمینی راستے سے روس نامی زندان سے نکل سکتا ہے ۔

    چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ نفیر سے بچنے کے طریقوں پر مشتمل ایک انگلش تحریر لکھ چند یوکرینی دوستوں کو بھیج دوں اس ہدایت کے ساتھ کہ اسے روسی زبان میں ترجمہ کرکے ٹیلی گرام، ویکے ، کوب یا دیگر سوشل میڈیا کے زریعے روسی صارفین تک میں وائرل کرنے کا بندوبست کر لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ روسی عوام کو بھرتی ہونے اور یوکرین جنگ میں حصہ لینے سے بچایا جاسکے اور یوکرینی عوام کو ان سے محفوظ رکھا جا سکے ۔

    یہ ایک دلچسپ تحریر ہے چنانچہ سوچا اسے معلومات افزاء تحریر کے طور پر اردو میں بھی پوسٹ کردوں ۔۔۔ یاد رہے اس پوسٹ میں مخاطب بس روسی عوام ہیں ۔

    تو بات کرتے ہیں نفیر اور جبری بھرتی سے بچنے کے طریقوں کی :

    ✓ روس رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تاہم اس کی آبادی رقبے کے تناسب سے بہت کم ہے ۔۔ روسی مشرق بعید ، قفقاز، سائبریا اور کوہِ یورال کا اکثر علاقہ انتہائی کم آباد ہے جہاں کئی کئی سو مربع کلومیٹر تک کوئی آبادی نہیں اور دشوار گزار پہاڑی جنگلات میں ہزاروں چھوٹے بڑے گاؤں اور بستیاں موجود ہیں ۔۔۔ بھرتی سے بچنے کے لیے روپوشی ایک بہتر راستہ ہے ۔ قفقاز میں روپوش ہونے کا ایک فایدہ یہ بھی ہے کہ اس راستے انسان جارجیاء، آرمینیا یا آذربائیجان بھی فرار ہو سکتا ہے ۔
    تاہم۔۔۔۔ یہ سب علاقے سخت سرد ہیں اور یہاں روپوش ہونے کے لیے انسان کا سخت جان ہونا ضروری ہے۔۔۔ تاہم یہ ناممکن بھی نہیں لاکھوں لوگ ان خطوں میں آباد ہیں۔

    ✓ روسی فوج میں بےپناہ کرپشن ہے ۔ لیفٹیننٹ سے لے کر جنرلز تک 99٪ افسران کرپٹ ہیں ۔۔۔ چنانچہ ڈرافٹنگ کے وقت متعلقہ افسر کو بھاری رشوت کھلا کر خود کو کانسکرپشن کے لیے ‘ناٹ ریکمنڈڈ’ یعنی غیر موزوں قرار دلایا جا سکتا ہے۔۔۔ اس مقصد کے لیے اگر رقم نہ ہو تو بائیک ، موبائل کچھ بھی فروخت کرکے رقم کا انتظام کرنا چاہیے۔

    ✓ اگر بوجوہ کسی افسر کو دام میں لانا ممکن نہ ہو تو پھر میڈیکلی خود کو Unfit قرار دلوائے جانے کے لیے کچھ اقدامات کیے جا سکتے ہیں ۔۔۔ مثلاً اگر بازو یا ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو ڈرافٹنگ سے بچا جاسکتا ہے ۔ تاہم قصداً ایسا کر پانا اکثر لوگوں کے لیے بہت مشکل ، تکلیف دہ اور مہنگا سودا ثابت ہوسکتا ہے ۔

    ✓ کورونا وائرس یا ملیریا بھی ایک بہتر آپشن ہے ۔ جس کے لیے خود کو مچھروں یا پھر کورونا کسی مریض سے اتنے کانٹیکٹ میں لانا ہوگا کہ مرض منتقل ہوجائے ۔۔۔ ہیضہ اور ٹائیفائڈ سمیت دیگر چند آپشنز بھی موجود ہیں۔

    ✓ یا پھر اگر اداکاری کے ماہر ہوں تو خود پر جنون ، شدید ڈیپریشن ، توڑ پھوڑ اور اینزائٹی کی سخت علامات طاری کر لیں ۔۔۔ اتنی کہ کوئی سائیکیٹرسٹ بھی آپ کو متعلقہ مرض یا امراض میں مبتلا قرار دے دے اور اس کی میڈیسنز تجویز کردے ۔۔۔ سائیکٹرسٹ کی پرسکرپشن اور ادویات امید ہے جبری بھرتی سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکیں گی ۔

    ✓ یا پھر ڈرافٹنگ کے وقت کیے جانے والے طبی ٹیسٹوں کو ٹیمپر کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔ مثلاً
    یورن ٹیسٹ کے لیے سیمپل دینے کے لیے واش روم جائیں تو کسی پِن وغیرہ سے بازو میں چھوٹا سا زخم لگا کر خون کے ایک دو قطرے اس سیمپل میں شامل کر دیں ۔۔ ٹیسٹ میں جب یورن سیمپل کے اندر خون کی نشاندہی ہوگئی تو آپ کو بھرتی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔
    یا پھر ۔۔۔۔
    منشیات کا استعمال نہ بھی کرتے ہوں تو عارضی طور پر حیش، اوپیم سمیت کوئی بھی ایسی ڈرگ کا استعمال شروع کر دیں کے جو خون کے ٹیسٹ یا بریتھلائزر میں واضح طور پر آجائے ۔۔۔ کوئی بھی فوج کسی عادی چرسی موالی کو ایک حساس ترین جنگ میں نہیں جھونکا چاہے گی ۔

    ✓ یاد رہے کہ کوئی جرم کرنے اور جیل میں جانے سے آپ بھرتی سے نہیں بچ سکتے کیونکہ روس میں سب سے پہلے جیلوں میں بند قیدیوں کو ہی سب سے پہلے جنگ کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے ۔

    ✓ ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ڈرافٹنگ پر تعینات متعلقہ افسر کو بلیک میل کیا جائے مثلاً اگر اس کا اتا پتا معلوم ہو تو یہ دھمکی دی جا سکتی ہے کہ تم بھی ڈیوٹی پر ہوگے اور میں بھی بھرتی ہو جاوں گا مگر پیچھے اپنے خاندان کی خیر منا کے رکھنا پھر۔ کیونکہ میں کسی کی ڈیوٹی لگا کر ہی جاؤں گا ۔۔۔۔ یا پھر۔۔۔۔ اگر افسر کا حدود اربعہ معلوم نہ ہو تو پھر یہ طریقہ کریں کہ چند ساتھیوں سے مل کر ایک ساتھی اسے رشوت دے کر اپنی بھرتی روکے اور اس کا ویڈیو یا تصویری ثبوت لے کر باقی ساتھی اسے بلیک میل کریں کہ ” عین حالت جنگ میں تم رشوت لے کر بھرتی رکواتے پکڑے گئے ہو اب یہ ثبوت افسران بالا کو پہنچ گئے تو کورٹ مارشل الگ ہوگا اور طویل قید الگ۔۔۔ اس لیے شرافت اسی میں ہے کہ ہم سب کی بھی بھرتی رکواؤ۔”.

    اور آخری لیکن سب سے خطرناک طریقہ یہ ہے کہ بھرتی ہو جائیں۔۔ اب اگر تو آپکی ڈیوٹی اندرونِ روس ہی ہے یعنی آپکو یوکرین روانہ کردیے گئے فوجیوں کی ریپیلسمنٹ میں تعینات کیا جا رہا ہے تو روس کے اندر ہونے کی وجہ سے آپ کے زندہ بچے رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔۔۔تاہم۔۔۔اگر آپ کو یوکرین بھیج دیا جاتا ہے تو :

    پہلی فرست میں سرنڈر کر دیں۔

    سرنڈر کرنے کے بعد یوکرینی فوج کے ” رشین لیجن” کو جوائن کر لیں ۔۔ یہ لیجن ان رووسی فوجیوں پر مشتمل ہے جو یوکرین کے حامی ہیں اور اس جنگ میں یوکرین کی طرف سے متحارب ہیں ۔۔۔رشین لیجن میں شمولیت کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو فی الفور یوکرین کی شہریت مل جائے گی اور آپ کو قیدیوں کے تبادلے میں واپس روس نہیں بھیجا جائے گا اور اس طرح آپ سرنڈر کے جرم کی سزا بھگتنے سے بھی بچ جائیں گے۔۔۔ مزید یہ کہ رشین لیجن کے سپاہیوں کو فرنٹ لائن پر لڑنا نہیں پڑتا بلکہ ان کا کام دیگر والنٹیئرز کو ٹریننگ دینا ہے ۔

  • لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز — ستونت کور

    لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز — ستونت کور

    لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز کا تجربہ دنیا میں ہر انسان کو کبھی نہ کبھی ، یا اکثر ہوتا ہے ۔

    لوسڈ ڈریم سے مراد ایسا خواب ہے کہ جس میں انسان کو علم ہو کہ یہ حقیقت نہیں بلکہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔اور سلیپ پیرالسز سے مراد وہ کیفیت ہے جب انسان نیند یا خواب کی کیفیت میں ایسا منجمد ہو جائے کہ نہ تو خواب ٹوٹ رہا ہو اور نہ ہی آنکھ کھل رہی ہو ۔

    ۔۔۔۔۔حیرت انگیز طور پر ابھی چند منٹ قبل میرے ساتھ یہ دونوں واقعات بیک وقت رونما ہوگئے۔۔۔۔

    ہوا کچھ یوں کہ حسبِ معمول میں آج صبح بھی جلدی جاگ گئی مگر الرجی کی وجہ سے طبعیت سخت ناساز تھی (اور اب بھی ہے ) چنانچہ جاگنے کے ایک گھنٹہ بعد پھر سے سونے کے لیے لیٹ گئی۔ سونے سے قبل میں نے اپنا موبائل چارجنگ لگا دیا ۔۔۔۔ اور جب آنکھ لگی تو انتہائی پیچیدہ قسم کا تہہ در تہہ کا ایک لوسڈ ڈریم درپیش تھا ، اور وہ کچھ یوں کہ اس خواب میں میں اسی کمرے میں اسی جگہ سورہی اور مجھے اس بات کا ہلکا سا شک ہورہا کہ میں خواب کی کیفیت میں ہوں ۔۔۔۔اب۔۔۔۔۔۔ماہرین کے مطابق چند ایسے طریقے ہیں کہ جن سے ہم پتا چلا سکتے ہیں کہ ہم خواب میں ہیں یا حقیقت کی دنیا میں ۔۔ مثلاً اپنے ہاتھ کو دیکھیں اور اپنی انگلیاں گننے کی کوشش کریں ۔۔۔ اگر آپ خواب دیکھ رہے ہیں تو کبھی انگلیاں گن نہیں پائیں گے ۔

    اسی طرح گھڑی پر نظر دوڑائیں۔۔۔۔ اگر خواب میں ہے تو کبھی بھی گھڑی سے وقت نہیں دیکھ پائیں گے ۔

    کوئی کتاب یا اخبار پڑھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ اگر خواب کی کیفیت میں ہیں تو نہیں پڑھ سکیں گے ۔

    اور مجھے یہ سب یاد تھا چنانچہ میں نے پہلے رئیلٹی چیک یعنی ہاتھ کی انگلیاں گننے کی کوشش کی اور میں نہیں گن پائی ۔۔۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ میں لوسڈ ڈریم کی کیفیت میں ہوں اور یہ کہ اب مجھے جاگ جانا چاہیے (لوسڈ ڈریم جتنا مختصر رہے اتنا ہی بہتر ہے طویل لوسڈ ڈریم آگے چل کر سلیپ پیرالسز کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے ۔ اکثر و بیشتر ۔)

    چنانچہ میں نے ہمت کی اور جاگ اٹھی ۔۔۔۔ اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ میں پوری طرح سے بیدار ہوں ، میں نے کمرے میں وال کلاک نہ ہونے کی وجہ سے موبائل پر ٹائم دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے فیسبک نوٹیفیکیشنز پر نظر پڑ گئی اور اس میں کھو گئی۔۔۔۔ 5,7 منٹ تک فیسبک پر کھوئے رہنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ” باجی موبائل تو تم نے چارجنگ پر لگا رکھا تھا۔”

    اسی لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ میرا لوسڈ ڈریم ٹوٹا نہیں بلکہ اس کے میرے ساتھ ” پرینک” کردیا ہے ۔۔۔ چنانچہ سب کی بار میں اٹھی ، اور موبائل کو چارجنگ پہ لگا دیکھ کر یقینی بنایا اس بات کو کہ اب دوبارہ میرے ساتھ پرینک نہ ہو جائے ۔۔۔ پھر میں بستر سے اٹھی اور باہر لاونج کی طرف بڑھ گئی ، لاونج میں میرا بھائی بیٹھ کر ٹی-وی دیکھنے میں مگن تھا ۔۔۔

    اب آپ کو لگے لگا کہ شاید میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہی لیکن خدا کو گواہ بنا کے کہہ رہی کہ جب میں نے بھائی کی طرف نظر ڈالی تو ان کا چہرہ بدل گیا ، جیسے کوئی شخص بیٹھا ہو پھر اگلے چند سیکنڈ میں بار بار ان کا چہرہ تبدیل ہونے لگا اور یہ پراسیس اتنا تیز تھا کہ آخر میں ایک چہرے پر چار مختلف نقوش تھے مثلاً ایک گال مختلف شخص کا دوسرا کسی اور شخص کا پیشانی اور بال الگ الگ اشخاص کے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ "باجی جی آپ کا سرے سے کوئی بھائی ہے ہی نہیں۔”

    اور میں فوراً واپس پلٹی کمرے کی طرف ۔۔۔۔۔ اس کے بعد کم از کم۔۔۔۔ کم ازکم پندرہ سے بیس الگ الگ خواب اسی طرح تہہ در تہہ پیاز کی پرتوں کی طرح ایک دوسرے سے اترتے رہے ۔۔۔۔ ہر مرتبہ مجھے یہ ادراک ہوتا تھا کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں اور ہر مرتبہ میں جاگنے کی کوشش کرتی لیکن جاگنے کے بجائے اگلے خواب میں دھکیلی جاتی تھی ۔

    ان میں سے کچھ خواب تو بےانتہا مضحکہ خیز تھے ۔

    اب میں جاگ چکی ہوں اور اطمینان سے اپنی انگلیاں دوبار مرتبہ گن کر دیکھ چکی اور اپنے جاگنے کو یقینی بنانے کے بعد یہ تحریر لکھ رہی ہوں ۔۔۔ لیکن پھر بھی لاشعوری طور پر مجھے یہ خدشہ ستا رہا ہے کہ یہ نہ ہو کہ جب میں پھر سے جاگوں تو فیسبک پر یہ پوسٹ موجود نہ ہو گویا یہ بھی ایک اور لوسڈ ڈریم ہو۔

  • شارٹیج — ستونت کور

    شارٹیج — ستونت کور

    بیئر، رَم یا متوسط مقدار میں ‘واڈکا’ کو میں ذاتی طور پر نشے میں شمار نہیں کرتی۔۔۔ کیونکہ۔۔۔مینوں نئیں چڑھدی.

    پر خدا معاف کرے میرے ساتھ ‘نشے’ کا ایک سیریس کیس ہوتے ہوتے رہ گیا !!

    ہوا کچھ یوں کہ چند ماہ قبل ، معدے کے چند مسائل کی وجہ سے ڈاکٹر سے رجوع کیا تو دیگر چند میڈیسنز کے ساتھ ڈاکٹر کے E•••••c نام کا ایک پاؤڈر بھی تجویز کیا جو چھوٹے چھوٹے ساشے کی شکل میں تھا اور اسے پانی میں گھول کر پینا تھا 7 دن ۔۔ اور ڈبے میں تھے بھی سات عدد ساشے !!

    چنانچہ جب پہلا ساشے گھول کر پیا ، بھلے وہ بےذائقہ تھا ، تاہم اس کی ایک ہلکی سی مخصوص خوشبو تھی جو ذائقے کا سا تاثر دے رہی تھی ۔۔۔ پہلے گھونٹ پر ہی مجھے خوشگوار محسوس ہوئی وہ دوا اور میں نے اسے چائے یا کافی کی طرح آرام آرام سے پیا۔۔۔۔اور جب ختم ہوگیا گلاس تو دل ابھی تک بھرا نہیں تھا، جی میں آیا کہ ایک اور ساشے گھول کر پی لوں مگر یہ اوور ڈوز ہو جانی تھی چنانچہ خود کو اس حرکت سے باز رکھا مگر رہ رہ کر اس کی کمی محسوس ہوتی رہی ۔۔۔ اسی طرح 7 دن بیت گئے ۔۔۔ اور آٹھویں دن مجھے پھر سے اس کی طلب ستانے لگی تو پہلی مرتبہ مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا ،

    میں نے گوگل پر اسے سرچ کیا اور تفصیل سے اس دوا کے مندرجات کا مطالعہ کیا۔۔۔لیکن۔۔۔ نہ تو اس میں کوئی نشہ آور شے شامل تھی اور نہ ہی ممکنہ سائیڈ ایفکٹس کی لسٹ میں ایسی کوئی تنبیہ درج تھی۔

    مزید یہ معلوم ہوا کہ اس دوا کا مقصد معدے میں ، مفید بیکٹیریا کی استعداد کار کو بہتر بنانا تھا ۔۔۔

    خیر چند روز شش و پنج میں رہنے کے بعد میں ایک اور ڈبہ خرید لائی اور اب کی بار 2 ، 2 دن کے وقفے سے ایک ایک ساشے پیتی رہی ۔۔۔ چنانچہ کئی دن کام چل گیا !!
    لیکن جب دوسرا ڈبہ بھی ختم ہوگیا مگر اس کی طلب ختم نہ ہوئی ۔۔۔۔ تو اب واضح طور پر میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں !

    میں نے اپنے ڈاکٹر تایا زاد سے رابطہ کیا اور بغیر سیاق و سباق سے آگاہ کیے اس سے استفسار کیا کہ کیا فلاں میڈیسن کسی بھی حالت میں ایڈکشن کا باعث بن سکتی ہے ۔۔۔ ؟؟ اس کا جواب بھی یہی تھا کہ ” بالکل بےضرر دوا ہے ایسا کچھ نہیں”.

    میرے ذہن میں یہ خیال یہ بھی لہرایا تھا کہ کہیں میڈیسن ایکسپائرڈ تو نہیں ۔۔۔ مگر دوسری دفعہ خریدنے پر میں نے ایکسپائری ڈیٹ بھی چیک کر چھوٹی تھی جسے ختم ہونے میں ڈیڑھ سال باقی تھے ۔

    تو خیر ۔۔۔ پندرہ بیس دن کے وقفے سے ، جب میںنے تیسری مرتبہ مذکورہ میڈیسن خریدنے کا قصد کیا ، تو معلوم ہوا کہ ” مارکیٹ میں شارٹ ہے ” ۔

    تو قصہ مختصر یہ کہ ۔۔۔۔ اس کے بعد سے وہ میڈیسن دوبارہ کبھی پاورڈ/ساشے کی شکل میں مارکیٹ میں نہیں آئی بلکہ اب اسی نام کا ایک سیرپ ملتا ہے بدمزہ سا ۔

    تو اس طرح یہ ” شارٹیج ” میرے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی اور مزید ایک مہینے بعد طلب بھی معدوم ہوتی چلی گئی ۔

    ۔۔۔۔۔ اس واقعہ پر میرا قیاس یہ ہے کہ یقیناً وہ میڈیسن بےضرر اور محفوظ ہی ہوگی مگر شاید اس مرتبہ اس کی جو کھیپ تیار ہوئی ہو اس میں کوئی ایسا معمولی مسئلہ آگیا ہو کہ جو اس کی اضافی طلب کا باعث بن رہا ہو اور مسئلے کی نشاندہی ہوتے ہی میڈیسن کو مارکیٹ سے اٹھوالیا گیا ہوگا ، کیونکہ اس کے بعد دوبارہ یہ میڈیسن اس شکل میں نہیں فروخت کی گئی !!