Baaghi TV

Tag: سربیا

  • سربیا  حکومت  کیخلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

    سربیا حکومت کیخلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

    سربیا میں صدر الیگزینڈر ووچک اور ان کی حکومت کے خلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج سامنے آیا، جس میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق دارالحکومت بلغراد میں احتجاج کے باعث ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا، جبکہ شہر بھر میں پبلک ٹرا نسپورٹ بھی معطل رہی، سربیا میں یہ حکومت مخالف تحریک گزشتہ چار ماہ سے جاری ہے، جو اس وقت شروع ہوئی جب نومبر 20 24 میں زیر تعمیر ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے سے 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    سیکڑوں حکومتی حامی، جن میں زیادہ تر سیاہ پوش نوجوان بیس بال کی ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے، بلغراد کے پیونیرسکی پارک میں، سربیا کی پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہوئےمقامی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ان میں فٹ بال کے منظم گروپوں کے ارکان کے ساتھ ساتھ ریڈ بیریٹس اسپیشل فورسز یونٹ کے سابق فوجی بھی تھے جو 2003 میں سربیا کے آزاد خیال وزیر اعظم زوران ڈینڈجیچ کے قتل میں ملوث تھے۔

    بلوچستان میں نوشکی اور قلعہ سیف اللہ میں دھماکے

    پولیس کے ایک گھنے گھیرے نے اسمبلی کی عمارت کو گھیر لیا اور Vučić کے حامیوں کو مظاہرین سے الگ کر دیا، جو قریبی سلاویجا اسکوائر میں قائم ایک اسٹیج کے سامنے بھی جمع تھے۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ حکومت کی بدعنوانی اور نااہلی کا نتیجہ ہے، جبکہ حکومت نے مظاہرین کو سخت کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے۔

    نواز شریف کی تجاوزات سے متاثرہ افراد کو معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت

  • سربیا کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج ، ایوان میدان جنگ بن گیا

    سربیا کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج ، ایوان میدان جنگ بن گیا

    سربیا کی پارلیمنٹ میں احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے اسموک گرینیڈ اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث ایوان میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق سربیا کی پارلیمنٹ میں منگل کے روز اپوزیشن ارکان نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان میں اسموک گرینیڈ اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث ایوان میں افراتفری پھیل گئی۔

    چار ماہ قبل ایک ٹرین اسٹیشن کی چھت گرنے سے شروع ہونیوالے مظاہرےجس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھےسربیا کی حکومت کے لیے اب تک کے سب سے بڑے خطرے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

    عمران خان نےفیصل چوہدری کو جیل معاملات پر قانونی معاونت سے روک دیا

    پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران جب حکمران جماعت سربین پروگریسو پارٹی (ایس این ایس) کی قیادت میں اتحادی حکومت نے ایجنڈے کی منظوری دی،تو کچھ اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر کی طرف بڑھے جہاں ان کی سکیورٹی گارڈز کے ساتھ جھڑپ ہوئی اس دوران دیگر اپوزیشن ارکان نے اسموک گرینیڈ اور آنسو گیس کے شیل پھینکے جس کے نتیجے میں ایوان دھوئیں سے بھر گیا۔

    غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ،اسرائیل کی شرط،حماس کا ردعمل

    پارلیمنٹ کی اسپیکر آنا برنابچ کے مطابق ہنگامے میں دو اراکینِ پارلیمنٹ زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

  • بوسنیا کے مسلمانوں پر اسانیت سوز مظالم اور قتل عام کو 27 برس بیت گئے۔

    بوسنیا کے مسلمانوں پر اسانیت سوز مظالم اور قتل عام کو 27 برس بیت گئے۔

    سربرینیکا: بوسنیا کے مسلمانوں پر اسانیت سوز مظالم اور قتل عام کو 27 برس بیت گئے۔تفصیلات کے مطابق11 جولائی سن 1995 میں سربین فوجیوں نے بوسنیا کے سربرینیکا کے قصبے پر قبضہ کرلیا، جس کے بعد دو ہفتوں کے دوران فورسز نے منظم انداز میں 8 ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کی سرزمین پر بدترین اجتماعی قتل و غارت تھی، یہ سلسلہ 10 دنوں تک جاری رہا۔ خود کار اسلحے سے لیس اقوام متحدہ کے امن فوجیوں نے پناہ گاہ قرار دیئے گئے اس علاقے میں جاری تشدد کو روکنے کیلئے کچھ نہ کیا۔

    بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی کی خون آلود تاریخ 90 کی دہائی سے شروع ہوتی ہے، 1990 کی دہائی میں جب یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ہوئے تو کئی مسلح تنازعات نے جنم لیا، بوسنیائی جنگ بھی ان تنازعات میں سے ایک تھی۔

    بوسنیا ہرزیگووینا نے 1992 میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے اپنی آزادی کا اعلان کیا کچھ ہی عرصے بعد اسے امریکی اور یورپی حکومتوں نے تسلیم کر لیا، بوسنیائی سرب آبادی نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا ، جلد ہی سربیا کی حکومت کی حمایت یافتہ بوسنیائی سرب فورسز نے اس نئے ملک پر حملہ کردیا۔

    یہ حملہ گریٹر سربیا منصوبے کا حصہ تھا جس کی تکمیل کیلئے بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ ابتدائی طور پر بوسنیائی سرب فورسز نے 1992 میں سربرینیکا پر قبضہ کیا، جسے بوسنیائی فوج نے جلد ہی چھڑا لیا تھا۔ چھ جولائی 1995 کو بوسنیا کی سرب فورسز نے سربرینیکا پر بھرپور حملہ کیا، اقوام متحدہ کی افواج نے ہتھیار ڈال دیے اور جب نیٹو فورسز کو فضائی حملے کے لیے بلایا گیا تو انہوں نے بھی کوئی مدد نہ کی یوں سربرینیکا نامی یہ علاقہ پانچ دنوں میں ہی سرب فورسز کے قبضے میں آ گیا۔ مسلمان پناہ گزین جب علاقے کو چھوڑنے کیلئے بسوں پر سوار ہوئے تو مردوں اور لڑکوں کو ہجوم سے الگ کیا اور انھیں دور لے جا کر گولیاں مار دی گئیں، ہزاروں افراد کو پھانسی دے دی گئی اور پھر بلڈوزروں کے ذریعہ ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دھکیل دیا گیا۔

  • تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی،سربیا میں پاکستانی سفارتخانے کا ٹویٹ،ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل آ گیا

    تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی،سربیا میں پاکستانی سفارتخانے کا ٹویٹ،ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل آ گیا

    تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی،سربیا میں پاکستانی سفارتخانے کا ٹویٹ،ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل آ گیا
    سربیا میں پاکستان کے سفارتخانے کے آفیشیل اکاؤنٹ کی جانب سے ٹویٹ کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی نے ماضی کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ،سربیا میں پاکستانی سفارتخانے کے ملازم تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں فیسیں نہ دینے پر بچوں کو سکولوں سے نکالا جا رہا ہے کیا یہ ہے نیا پاکستان؟ ہم کب تک خاموش رہین گے

    اس اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو بھی لگائی گئی ہے وہ دراصل سعد علوی کا ایک گانا ہے جو انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر مزاحیہ انداز میں تنقید کرتے ہوئے گایا تھا۔ اس گانے کا ٹائٹل آپ نے گھبرانا نہیں ہے دراصل وزیراعظم عمران خان کا تکیہ کلام ہے

    دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سربیا میں پاکستانی سفارت خانہ کے سوشل میڈیا اکاونٹس ٹویٹر، فیس بک،انسٹا گرام ہیک ہو گئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سربیامیں پاکستانی سفارت خانہ کے سوشل میڈیا پر آنے والے پیغامات عملے نے نہیں کیے،معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے،

    سربیا کے سفارتخانے کا اکاؤنٹ ہیک ہونے پر عمار مسعود کہتے ہیں کہ وہ سارے سرکاری ترجمان جو اس وقت سربیا کے سفارت خانے سے جاری ہونے والے پیغام کو ٹوئیٹر اکاونٹ ہیک ہونا بتا رہے ہیں وہی سارے ترجمان ای وی ایم کی شفافیت کے حق میں دلیلیں دے رہے ہوتیں ہیں سفارت خانے کا اکاونٹ سنبھالا نہیں جاتا اور چلے ہیں الیکٹرانک ووٹنگ کروانے ،ہے نا کھلا تضاد