Baaghi TV

Tag: سرفراز بگٹی

  • آبپاشی منصوبے زرعی ترقی اور معاشی استحکام کے بنیادی ستون ہیں،سرفراز بگٹی

    آبپاشی منصوبے زرعی ترقی اور معاشی استحکام کے بنیادی ستون ہیں،سرفراز بگٹی

    میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آبپاشی منصوبے زرعی ترقی اور معاشی استحکام کے بنیادی ستون ہیں، اور نصیر آباد ڈویژن صوبے کا گرین بیلٹ اور فروٹ با سکٹ ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں پارلیمانی اراکین اور آبپاشی حکام کا اجلاس منعقد ہوا جس میں نصیر آباد ڈویژن میں جاری ترقیاتی اور بحالی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،اجلاس میں دریائی ذرائع کی بہتر منصوبہ بندی، نہروں کی تنظیم نو اور آبپاشی منصوبوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ضلع صحبت پور میں 5 ارب روپے کے خیر دین ڈرینج منصوبے کو جلد مکمل کرنے اور مانجھوٹی اور اوچ کینال کی بحالی کے منصوبے کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کرنے کی ہدایت کی، کہا کہ آبپاشی منصوبے زرعی ترقی اور معاشی استحکام کے بنیادی ستون ہیں، اور نصیر آباد ڈویژن صوبے کا گرین بیلٹ اور فروٹ باسکٹ ہے زرعی پیداوار والے علاقوں میں آبپاشی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا اور تمام نہروں اور ڈریج سسٹم کی تنظیم نو مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔

    سابق برطانوی وزیر خارجہ کا پاکستان پر عمران خان کے علاج کیلئے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

    وزیر اعلیٰ نے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی متعلقہ محکموں سے کرنے، جوابدہی کے عمل کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کے معیار کو دیرپا بنانے کی ہدایت بھی کی، اجلاس میں کہا گیا کہ زرعی ترقی کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

    اجلاس میں میر محمد صادق عمرانی، میر سلیم خان کھوسہ، عبدالمجید بادینی کے علاوہ صوبائی وزیر نوابزادہ میر طارق خان مگسی، پارلیمانی سیکرٹری حاجی محمد خان لہڑی، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات زاہد سلیم، سیکریٹری آبپاشی سہیل الرحمٰن اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

    اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ

  • چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ،محسن نقوی

    چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ہم حملہ کرنے والوں اور ان کے آقاؤں کو معاف نہیں کریں گے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 12 مقامات پر حملے کرنے والے تمام 92 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔

    وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں نے پلان کر کے حملے کیے جن کو ناکام بنادیا گیا اور آپریشن مکمل ہوگیا جس میں موجود تمام دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا گیا دو روز میں 108 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں آج کے حملوں میں پولیس، ایف سی اور آرمی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کر کے داستان رقم کردی۔

    انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے منصوبہ بندی سے حملے کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی بہادر آدمی ہیں جو اس صورت حال کا سامنا کررہے ہیں، چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ہم حملہ کرنے والوں اور ان کے آقاؤں کو معاف نہیں کریں گے۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کیا کہ آپریشن مکمل ہوگیا تاہم حتمی تفصیلات اب آنا باقی ہیں، گوادر میں لیبر کالونی میں بلوچ شہریوں کو قتل کیا گیا جسکی شدید مذ مت کرتے ہیں، فورسز نے بھرپور اور بہترین ردعمل دے کر فتنہ الہندوستان کا مورال مزید کم کردیا کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کا تعاقب کر کے ٹھکا نے لگایا جائے گا،لیکن ایسے 10 حملے بھی دہشتگردی کے خلاف ہمارا عزم کمزور نہیں کر سکتے ہماری فورسز نے دہشتگردوں کو بھرپور اور بروقت جواب دیا، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن قریباً مکمل ہو چکا ہے، اور اب صرف تفصیلات آنا باقی ہیں، مصروفیات ترک کرکے کوئٹہ پہنچنے پر وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں-

    واضح رہے کہ فتنہ الہندوستان کے مسلح شرپسندوں نے 12 مقامات پر حملے کیے جس پر فورسز نے ردعمل دیتے ہوئے 67 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گوادر کی لیبر کالونی میں دہشت گردوں نے 11 بلوچ افراد کو قتل کیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

  • بلوچستان کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہے،سرفراز بگٹی

    بلوچستان کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہے،سرفراز بگٹی

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہاہے کہ ہمیشہ حقیقت کو پرسپشن میں بدل دیا جاتا ہے اور بلوچستان کے کیس میں بھی یہی ہوا ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سپریم کورٹ بار کی تقریب ’میٹ دی لائر‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات بار کے سامنے رکھنا ان کے لیے فخر کی بات ہے، ان کی خواہش تھی کہ بلوچستان کے حوالے سے ان کیمرہ گفتگو کی جاتی کیونکہ کچھ باتیں کیمروں کے سامنے بیان کرنا مشکل ہیں، اسلام آباد میں گزشتہ 30 سے 40 برس سے جو کچھ بتایا جاتا رہا ہے وہ بلوچستان کی حقیقت نہیں بلکہ تاثر ہے، ہمیشہ حقیقت کو پرسپشن میں بدل دیا جاتا ہے اور بلوچستان کے کیس میں بھی یہی ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہم سب ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں، ہمارے مسائل اور ان کے حل آپس میں جڑے ہوئے ہیں لیکن اصل تصویر سامنے نہیں لائی گئی،میڈیا کا کردار خاص طور پر بلوچستان میں انتہائی اہم ہے جہاں صحافت بہت مشکل ہے پاکستان کا میڈیا ہمیشہ مظلوم اور محکوم طبقے کی آواز بنا ہے اور اسی کردار کی ضرورت بلوچستان کے معاملات میں بھی ہے،وکلا کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، سیاست میں بولنے سے کوئی نہیں ڈرتا لیکن بلوچستان کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہےکیمرے بند کر کے بلوچستان کے اندرونی حالات پر زیادہ کھل کر بات ہو سکتی ہے۔

  • منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، سرفراز بگٹی

    منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، سرفراز بگٹی

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک مبینہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کر کے یومِ آزادی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا،جبکہ،دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے-

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 11 اگست کو کوئٹہ سے ایک خود کش حملہ آور کو گرفتار کیا، جس نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ اسے خود کش حملے کے لیے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے تیار کیا تھابعد ازاں گرفتار بمبار کی نشاندہی پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے خودکش بمبار تیار کرنے والے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو افنان ٹاؤن سے گرفتار کیا۔

    ڈاکٹر محمد عثمان قاضی نے بتایا کہ ان کا تعلق تربت سے ہے وہیں پلا بڑھا اور انہوں نے ملک کے اچھے اداروں سے تعلیم حاصل کی، وہ کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں ملازمت کر رہے تھ قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، اور گریڈ 18 میں بطور لیکچرار تعینات ہے، اس شخص نے بتایا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہےگرفتار ملزم ڈاکٹر عثمان قاضی نے تفصیل بتائی کہ 2020 میں قائداعظم یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران اس کی ملاقات ’ایک تنظیم‘ سے تعلق رکھنے والے 3 افراد سے ہوئی تھی، جن میں سے دو بعد میں مارے گئے، باقی 2 افراد نے اسے اس شدت پسند گروہ میں شامل کرایا اور اس کی ملاقات بشیر زئی سے کرائی۔

    خیبر پختونخوا،متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جائے،ڈاکٹرحافظ مسعود اظہر

    عثمان قاضی نے بتایا کہ یہ تمام تعارف ’ٹیلی گرام‘ کے ذریعے کروائے گئے اور کوئٹہ آنے پر اس نے گروہ کی ہدایات پر 3 کارروائیوں میں سہولت فراہم کی، ڈاکٹر حبیطان اور فی خالق کی ہدایات کے مطابق گروہ کی مدد کی، ایک ایسے عسکریت پسند کو پناہ دی جو قلات میں جھڑپ کے دوران زخمی ہوگیا تھا، میں نے اسے کسی اور شخص کے حوالے کر دیا تھا اور اگلے دن وہ یہاں ریلوے خودکش دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔

    terrorist

    دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث،عثمان قاضی

    اس نے ایک اور ایسا ہی واقعہ سنایا کہ جس شخص کو اس نے 7 سے 8 دن تک پناہ دی تھی، وہ 14 اگست کے کسی واقعے میں استعمال ہونے والا تھا، لیکچرار نے یہ بھی اقرار کیا کہ اس نے ایک پستول خریدا تھا جو سیکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے میں استعمال ہوا، یہ وہ کام ہیں جو میں نے کیے، یہ وہ سہولت کاری ہے جو میں نے کی، اگر دیکھا جائے تو ریاست نے مجھے اور میری اہلیہ کو عزت، وقار، نوکری سب کچھ دیا، لیکن اس کے باوجود میں نے قانون کی خلاف ورزی اور ریاست سے غداری کی، مجھے بہت زیادہ شرمندگی ہے کہ میں ان کارروائیوں میں شامل رہا اور اس پر افسوس ہے، اور اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں، نوجوان، یہاں کے طلبہ ان تنظیموں سے بچ سکیں جو بدامنی پھیلا رہی ہیں۔

    بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی</a

    کوئٹہ میں دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 14 اگست کو خودکش حملہ آور ان معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے تھے، جو یومِ آزادی منا رہے تھےانہوں نے سیکیورٹی اداروں، محکمہ انسداد دہشت گردی بلوچستان اور پولیس کو صوبے کو بڑی تباہی سے بچانے پر سراہا، انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ مجید بریگیڈ کے کسی عہدیدار کو گرفتار کیا گیا، یہ پاکستان اسٹڈیز کا لیکچرار ہے، اندازہ کریں کہ کتنے بچوں کو اس نے ورغلایا ہوگا، یہ شخص دہشت گردوں کا علاج اپنے گھر پر کرواتا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، اس طرح پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہماری ایجنسیاں، حکومت اور ہر کوئی پریشان ہے، اس دہشت گردی کو کچھ اور نام دیا جاتا ہے، ایسے لوگ جن کے رشتہ دار کسی عسکریت پسند تنظیم کا حصہ بنتے ہیں تو ان کے اہل خانہ کسی کو اطلاع نہیں دیتے، حالانکہ ایسے لوگ تربیت لے کر واپس گھر بھی آتے ہوں گے۔

    یورپ ہمارے میزائلوں کی پہنچ میں ہے،ایران

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ اب ایسا نہیں چلے گا، ایسے لوگوں کے اہل خانہ کو حکومت کا اطلاع دینا ہوگی، ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ پورا خاندان ملا ہوا ہے، والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، گرفتار ملزم نے کئی انکشافات کیے ہیں، مجید بریگیڈ کئی ٹیئرز میں کام کرتی ہے، یہ لوگوں کو ورغلا کر انہیں تربیت دیتے ہیں، انہیں خودکش حملہ آور بناتے ہیں، ایک ٹیئر میں پولیس، لیویز، فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنے پر پیسے دیے جاتے تھے، پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی ٹارگٹ کرنے پر انہیں پیسے دیے جاتے ہیں،ہم اس کے ساتھیوں تک بھی پہنچیں گے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سے قبل ایسا تاثر بنایا گیا تھا کہ فوج اور سرمچاروں کے درمیان جنگ یا لڑائی چل رہی ہے، ہم نے ایک پورا سیل بنایا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک گرفتار شخص کا ریکارڈ شدہ بیان بھی جاری کیا، جس نے کہا کہ اس نے قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے، اور گریڈ 18 کے لیکچرار کے طور پر کام کر رہا ہے اس شخص نے مزید کہا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے۔

    درخت آفات کے خلاف ڈھال اور آئندہ نسلوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں، صدرمملکت

    حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے،محمد اورنگزیب

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ گرفتار لیکچرار کا محدود اعترافی بیان اس لیے جاری کیا تاکہ جاری تحقیقات متاثر نہ ہوں،انہوں نے نومبر 2024 کے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن بم دھماکے کا ذکر کیا، جس میں 32 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 50 سے زائد زخمی ہوئے اور بتایا کہ گرفتار لیکچرار مبینہ طور پر اس حملے میں سہولت کاری میں ملوث تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس (لیکچرار) نے حملہ آور کو موٹر سائیکل پر بٹھایا اور ریلوے اسٹیشن کے قریب اتارا، اور اس کے بعد اسے ایک اور ہینڈلر کے حوالے کیا جو ریلوے اسٹیشن سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، بلوچستان میں شورش کے مسئلے کو بعض لوگ ’محرومی‘ سے جوڑتے ہیں، اس پر وزیراعلیٰ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ یہ لوگ کیسے محروم ہیں؟ ملزم کی ماں اب بھی پنشن لے رہی ہے جس کا مطلب ہے وہ بھی سرکاری ملازم تھی،اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے، وہ خود گریڈ 18 کا افسر ہے، پاکستانی اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر کے پی ایچ ڈی کی، بھائی ریکوڈک منصوبے میں ملازم ہے، اس کا مطلب ہے وہ کسی طرح محروم نہیں تھا۔

  • امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    کوئٹہ: بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کو وسعت دینے اور سول آرمڈ فورسز کی استعداد کار بہتر بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا-

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان کی مجموعی صورتحال پر کوئٹہ میں اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی،اجلاس میں عید پلان، سیکیور ٹی پلان، قومی شاہراہوں اور امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اجلاس میں قلات میں سیکورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن کو سراہا گیا، اس کے علاوہ دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کو مزید وسعت دینے پر اتفاق بھی کیا گیا،اجلاس میں سول آرمڈ فورسز کی استعداد کار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اہم فیصلے بھی لیے گئے، دوران اجلاس وزیر اعلیٰ بلوچستان نے حکام کو بحالی امن کے لیے ٹھوس ہدایات اور اقدامات کو مؤثر بنانے کا حکم دیا۔

    قبل ازیں بلوچستان حکومت نے ریاست کے خلاف بیانیہ میں ملوث سرکاری افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تھا، وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا تھا کہ اب صوبے میں کوئی شاہراہ بند نہیں ہوگی۔

    اجلاس میں ریاست مخالف پروپیگنڈوں اور سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تمام کمشنرز اور ضلعی افسران کو سب ورژن میں ملوث سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کا حکم دیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی سطح پر ریاست مخالف عناصر کو فورتھ شیڈول میں شامل کرکے منفی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے حکام کو ہدایت کی کہ بلوچستان کے ہر تعلیمی ادارے میں قومی ترانہ پڑھا اور پاکستان کا قومی جھنڈا لہرایا جائے گا، جن تعلیمی اداروں کے سربراہان ان احکامات کی پابندی نہیں کروا سکتے، اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں، ریاست کے احکامات کی بجا آوری فرائض منصبی میں شامل ہے، ہر سرکاری افسر اور اہلکار کو عمل کرنا ہوگا۔

    وزیر اعلٰی سرفراز بگٹی نے کہا کہ امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے صوبے میں کوئی شاہراہ بند نہیں ہوگی ہر ضلعی افسر اپنے علاقے میں ریاستی رٹ قائم کرنے کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاست کے ہر ادارے اور ہر فرد کی جنگ ہے ہمیں مل کر لڑنا ہے۔ پالیسی حکومت دیتی ہے عمل درآمد فیلڈ افسران کی ذمہ داری ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ انفرادی ذاتی سوچ ریاست کی پالیسی سے بالا تر نہیں۔ کوئی بھی افسر حکومت کی پالیسی پر عمل درآمد نہیں کر سکتا تو رضا کارانہ طور پر عہدے سے الگ ہوجائے کسی بھی سیاسی پریشر سے بالاتر ہو کر تفویض کردہ آئینی ذمہ داری کو پورا کیا جائےکسی چیک پوسٹ پر بھتہ خوری نہیں چلے گی، ایسی کوئی بھی مصدقہ شکایت ملی تو متعلقہ ایس ایچ او یا رسالدار لیویز نہیں رہے گا۔

    وزیر اعلٰی بلوچستان نے افسران کو ہدایت کی کہ ریاست مخالف عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے، آئینی حلف کی پاسداری ضروری ہےریا ست مخالف عناصر کے سامنے نہیں جھکنا، عوامی میل جول اور اجتماعات میں حکومت پالیسیوں کی ایڈوکیسی اور ترویج کریں۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا کلچر روایتوں کا امین ہے جس میں مسافروں اور معصوم مزدوروں کے قتل کا سوچا بھی نہیں جاسکتا، بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جاررہا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ہر سطح پر میرٹ کو فروغ دیکر نوجوانوں کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا ہے،یوتھ پالیسی منظور ہوچکی ہے، ضلعی افسران مقامی سطح پر نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کریں۔

  • بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے،سرفراز بگٹی

    بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے،سرفراز بگٹی

    کوئٹہ: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں انتظامی افسران نے شرکت کی، اجلاس کا آغاز جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کے لیے دعا اور فاتحہ خوانی سے کیا گیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاست مخالف پروپیگنڈ ے میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے ہر تعلیمی ادارے میں قومی ترانہ پڑھا اور قومی جھنڈا لہرایا جائے گا، جن تعلیمی اداروں کے سربراہا ن احکامات کی پابندی نہیں کروا سکتے، عہدے سے دستبردار ہو جائیں، پالیسی حکومت دیتی ہے عمل درآمد فیلڈ افسرا ن کی ذمے داری ہے، کوئی بھی افسر پالیسی پر عمل درآمد نہیں کر سکتا تو رضا کارانہ طور پر عہدے سے الگ ہو جائے، کسی بھی سیاسی پریشر سے بالاتر ہو کر تفویض کردہ آئینی ذمے داری کو پورا کیا جائے۔

    ماریہ قتل کیس، والد اور بھائی کو سزائے موت کی سزا

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے، کوئی شاہراہ بند نہیں ہو گی، ہر ضلعی افسر اپنے علاقے میں ریاستی رٹ قائم کرنے کا ذمے دار ہے، کسی چیک پوسٹ پر بھتہ خوری نہیں چلے گی دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاست کے ہر ادارے اور ہر فرد کی جنگ ہے، مل کر لڑنا ہے۔

    عید الفطر سے قبل ملک بھر میں بارشوں کے نئے سلسلے کا امکان

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ثقافتی روایات امن و بھائی چارے کی علامت ہیں، اور یہاں معصوم مزدوروں اور مسافروں کے قتل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے، جسے روکنا ضروری ہے،انہوں نے میرٹ کی بالادستی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔

    ملکی دفاع میں نمایاں کارکردگی،فوجی افسران میں اعزازت تقسیم

  • عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائیگی،سرفراز بگٹی

    عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائیگی،سرفراز بگٹی

    کوئٹہ: وزیراعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں قیام امن کے لیے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں،عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائیگی-

    باغی ٹی وی: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت منگل کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمانڈر بلوچستان کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، آئی جی پولیس سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، انسداد دہشت گردی کے اقدامات، اور سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،اجلاس میں قومی اور صوبائی سطح پر ہونے والے گذشتہ اپیکس کمیٹی اجلاسوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    بیٹا خود مغوی بن کر والد سے تاوان مانگنے لگا،پولیس کی کاروائی،گرفتار

    صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیااس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں قیام امن کے لیے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

    سربیا کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج ، ایوان میدان جنگ بن گیا

    اجلاس میں بارڈر مینجمنٹ، اسمگلنگ کی روک تھام، اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیے جانے والے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،ایپکس کمیٹی میں اعلیٰ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز اور سول انتظامیہ کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہے۔

    عمران خان کو ارباب نیاز اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کی بات پسند نہیں آئی،علیمہ خان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

  • بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، وزیراعلٰی بلوچستان

    بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، وزیراعلٰی بلوچستان

    کوئٹہ: وزیراعلٰی بلوچستان سرفرازبگٹی کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف تقریریں کرکے اپنی شناخت بناتے ہیں جو مناسب رویہ نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے بلوچستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قلات میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی اوراس حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت کی، سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے جسے تشدد کے ذریعے نہیں توڑا جا سکتا ریاست سیاست سے زیادہ اہم ہے اور ہمیں ان عناصر کے خلاف اقدام کرنا ہوگا، جو بندوق کی زبان بولتے ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں سچ بولنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئیے، مگرسیاسی مجبوریوں اور فائدوں کی وجہ سے اکثرحقائق بیان نہیں کئے جاتے، کچھ لوگ سوشل میڈیا پراداروں کے خلاف تقریریں کرکے اپنی شناخت بناتے ہیں جو منا سب رویہ نہیں ہے۔

    مظفر گڑھ میں پیکا قانون کے تحت پہلا مقدمہ درج ، ملزم گرفتار

    وزیراعلٰی بلوچستان نے بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی صرف بلوچستان کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہےانہوں نے بلوچستان کو آئینی حقوق دیئے جانے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ترقی پورے ملک کا مسئلہ ہے جس پر سب کو مل کر کام کرنا ہوگاسرفراز بگٹی نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ ارکان بلاخوف اپنی بات کہہ سکیں۔

    خاتون نے بھینسوں کا گوبر چوری کرنے پر مقدمہ درج کروا دیا

  • دشمنوں کے لا حاصل عزائم ہر صورت ناکام ہوں گے،سرفراز بگٹی

    دشمنوں کے لا حاصل عزائم ہر صورت ناکام ہوں گے،سرفراز بگٹی

    کوئٹہ: وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہم شہداء کو کسی صورت نہیں بھول سکتے اور ان کے خاندانوں کی کفالت کریں گے-

    باغی ٹی وی : سرفراز بگٹی نے اے ٹی ایف اسکول سے پاس آؤٹ ہونے والے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں میں عوام کی خدمت کرنی ہے اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول کو سہولیات فراہم کی جائیں گی، دہشت گردوں نے اسکولوں، کالجوں اور وکلاء کو نشانہ بنایا ہے، لیکن دشمنوں کے لا حاصل عزائم ہر صورت ناکام ہوں گے غازیوں کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں چیلنج کریں۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم شہداء کو کسی صورت نہیں بھول سکتے اور ان کے خاندانوں کی کفالت کریں گے، کیونکہ شہداء ہمارے دلوں میں بستے ہیں اے ٹی ایف پر تنقید آج تک نہیں سنی، اور میرے لیے یہ ایک اعزاز ہے کہ میں غیرت مند غازیوں سے خطاب کر رہا ہوں۔

    سال 2025 کا نیوزی لینڈ سے آغاز، شاندار آتش بازی

    وزیراعلی بلوچستان نے دہشتگردی کے خلاف خون بہانے والوں کو سلام پیش کیا اور کہا کہ بزدل دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے، انہوں نے اسکولوں، جامعات، پارکوں اور ہسپتالوں پر حملوں کو ناکام قرار دیا اور کہا کہ دشمنوں کی لا حاصل جنگ کو ختم کرنا ہے فورس کا حصہ بننے والے ایمان داری سے شہریوں اور اثاثوں کی حفاظت کریں پولیس کی ہر ضرورت کو پورا کیا جائے گا، اور اے ٹی ایف اسکول کو تھرمل کیمروں اور عمارت کی مرمت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    کوٹ چھٹہ: سعودی عرب میں غلام سرور دلشاد کے بھتیجے کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی

  • ریسرچ کے بغیر کوئی قوم یا ادارہ ترقی نہیں کرسکتا، سرفراز بگٹی

    ریسرچ کے بغیر کوئی قوم یا ادارہ ترقی نہیں کرسکتا، سرفراز بگٹی

    کراچی: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کراچی کے صعنتکاروں کو بڑی پیشکش کر دی-

    باغی ٹی وی : وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صنعتوں کے لیئے زمین مہیا کرنے کا اعلان کیا کہا کہ دس ہزار ایکڑ زمین صنعتی زون کے قیام کے لیے مہیا کرنے کو تیار ہے،9 ماہ سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو تیزی سے فروغ دے رہے ہیں-

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ سرمایہ کار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات سے فائدہ اٹھائیں،سرمایہ کاری کے لیے توانائی دوسری اہم ضرورت ہے،بلوچستان کے پاس گیس کے علاوہ سولر اور ونڈ انرجی کا بہت پوٹینشل ہے، ریسرچ کے بغیر کوئی قوم یا ادارہ ترقی نہیں کرسکتا،آج ہی ڈسٹرکٹ اکانومی پر کمیٹی بنائیں گے-

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ہر ڈسٹرکٹ میں کاروبار کے بھرپور امکانات ہیں،پاکستان میں سب سے زیادہ امکانات بلوچستان میں ہیں،سرمایہ کاروں اور تاجروں کو پارٹنرشپ کی دعوت دیتا ہوں-