Baaghi TV

Tag: سرمایہ کاری

  • پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق

    پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے انڈونیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری و ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری اور خودمختار ویلتھ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو روزان روزلانی سے وفد کی سطح پر ملاقات کی۔

    ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے، ممکنہ مشترکہ منصوبوں اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا گیا صحت سمیت ترجیحی شعبوں میں بہترین تجربات کے تبادلے اور تعاون پر بھی گفتگو ہوئی-

    اجلاس کے دوران وزارتِ خزانہ، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول، ترجیحی شعبوں اور سہولت کاری کے نظام پر بریفنگ دی گئی، جبکہ انڈونیشیا کے خودمختار ویلتھ فنڈ اور ڈاؤن اسٹریم سرمایہ کاری کے تجربے سے استفادے پر بھی بات چیت کی گئی۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان اور انڈونیشیا کے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ باہمی سرمایہ کاری دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

    ملاقات میں وزیر صحت، معاون خصوصی برائے وزیراعظم طارق باجوہ، چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ، نیشنل کوآرڈینیٹر SIFC، سیکریٹری خزانہ، قائم مقام سیکریٹری خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • حنیف عباسی سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری پر گفتگو

    حنیف عباسی سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری پر گفتگو

    وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے ملاقات کی جس میں شراکت داری، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں امریکی ناظم الامور کو پاکستان ریلوے کے ذریعے علاقائی روابط کے فروغ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ شراکت داری نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گی، جبکہ ریلوے شعبے میں تعاون سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔امریکی ناظم الامور نے پاکستان ریلوے کی اسٹریٹیجک اہمیت کو تسلیم کیا اور تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کی کامیابی ملکی معیشت کو بھی تقویت دے گی۔

    وزیر ریلوے نے بتایا کہ وزیراعظم کے وژن کے تحت پاکستان ریلوے میں جدید ڈیجیٹائزیشن کا آغاز ہو چکا ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے ساتھ معاہدے طے پا گئے ہیں، اسٹیشنز کی صفائی ستھرائی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ بڑے اسٹیشنز پر ایگزیکٹو سی آئی پی لاؤنجز، جدید ویٹنگ ایریاز، ایسکلیٹرز اور مانیٹرنگ سسٹم قائم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 40 بڑے ریلوے اسٹیشنز پر مسافروں کو مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

    غیرقانونی ادویات اور اشتہارات کا الزام،حکیم شہزاد کی گرفتاری کا حکم

    پیوٹن کی ٹرمپ کو ’نیو اسٹارٹ‘ معاہدے میں توسیع کی پیشکش

    لندن میں فلسطینی مشن کو سفارتخانے کا درجہ دے دیا گیا

    ایشیا کپ: پاکستانی ٹیم ابوظبی پہنچ گئی، کل اہم میچ ہوگا

  • عرب امارات کا امریکا میں سینکڑوں ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان

    عرب امارات کا امریکا میں سینکڑوں ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان

    متحدہ عرب امارات نے امریکا میں 1400 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

    وائٹ ہائوس کے مطابق 1400ارب ڈالر کی یہ سرمایہ کاری 10 سالہ فریم ورک پر مشتمل ہے،یو اے ای حکام نے اوول آفس میں امریکی صدر سے ملاقات کے بعد اعلان کیا۔وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری سے امریکا میں ایلومینیم پلانٹ لگایا جائے گا۔واضح رہے یہ معاہدہ اس ملاقات کے بعد طے پایا جس میں امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید نے منگل کے روز اوول آفس میں صدر ٹرمپ سے بات چیت کی۔اس کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس اور متعدد کابینہ اراکین نے اماراتی وفد کے ساتھ عشائیہ کیا، جس میں یو اے ای کے بڑے خودمختار سرمایہ کاری فنڈز اور کارپوریشنز کے سربراہان شامل تھے۔

    لاہور سے گرفتار ہونے والے خودکش بمبار کے بارے میں اہم انکشافات

    پیپلز پارٹی کا 6 کینال منصوبے کے خلاف 25 مارچ کو احتجاج کا اعلان

  • ہانگ کانگ کی کمپنی کا پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعلان

    ہانگ کانگ کی کمپنی کا پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعلان

    ہانگ کانگ کی معروف کمپنی سی کے ہیچیسن نے پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس سے بندرگاہی آپریشنز اور لاجسٹک کنیکٹیوٹی میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کی ذیلی شاخ ہیچیسن پورٹس کراچی کے گہرے پانی کے کنٹینر ٹرمینل کی خودکاری پر توجہ مرکوز کرے گی، جس سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بندرگاہی نظام کو مزید موثر بنایا جائے گا۔اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں اگلے 25 سالوں میں 4 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے، جبکہ پاکستان میں سڑکوں اور پارکنگ کی سہولتوں کو بھی جدید بنایا جائے گا۔ہیچیسن پورٹس اب تک 25 سالوں میں حکومت پاکستان کو 225 ارب روپے فراہم کر چکا ہے اور نئی سرمایہ کاری سے ملک میں معاشی ترقی کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

    انسٹاگرام ٹک ٹاک کے مقابلے میں ایپ متعارف کروائےگی

    بھارت میں گائے کا کاروبار جرم بن گیا، تاجروں میں خوف و ہراس

    مرکزی مسلم لیگ کا کراچی میں 450 سے زائد مقامات پر سحر و افطار کا انتظام

    اسٹیل مل کے 1370ملازمین فوری بحال ، زیر التواء واجبات اداکیے جائیں ،منعم ظفر خان

  • ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

    ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

    پاکستانی معیشت کے لئے اچھی خبر ،چینی گروپ نے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ پلانٹس میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ کے توانائی کے وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت چینی کمپنی کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی،اگر چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں بناتی ہے تو سندھ حکومت کراچی میں لگنے والے پلانٹ سے 20 فیصد سے زائد گاڑیاں سندھ حکومت اپنی خریداری کے لے گی۔انہوں نے یہ بات مقامی ہوٹل میں تقریب کے چیئرمین ملک گروپ اورچائنا کی کمپنی اے ڈی این گروپ کے مشترکہ چارجنگ اسٹیشنزکے منصوبے کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں میڈیا سے گفتگو میں کہی۔اس موقع پر ملک گروپ کے چیئرمین ملک خدا بخش اور اے ڈی این گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ تقریب میں معروف سرمایہ کار عارف حبیب،ممتاز صنعتکار زبیرطفیل،خالدتواب،حنیف گوہر،عبدالسمیع خان،مظہر علی ناصر،مرزا اشتیاق بیگ،عبدالحسیب خان اوردیگر بھی موجود تھے۔
    ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چارجنگ پلانٹس کے لئے بھی سندھ حکومت جگہ اور ہر قسم کی سہولت دینے کو تیار ہے۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت غیر ملکی کمپنی کو ملک میں سرمایہ کاری کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں رواں سال کے اخر تک چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں ،منی ٹرکس ،ایس یو ویز بنانے شروع کردیں گے، چینی کمپنی اگر مقامی طور پر بننے والی گاڑیوں کو رعایتی طور پر سندھ حکومت کو دے تو وہ سندھ حکومت کی لئے گاڑیوں کی خریداری کا بیس فیصد ان سے لے گی۔

    پاکستان میں چینی گروپ کے پارٹنر ملک خدا بخش نے کہا کہ چین سے 30 چارجنگ پلانٹس مزید دس روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے جو پورے ملک میں لگنا شروع ہوجائیں گے ،،امید ہے کہ رواں سال کے اخر تک ہم ملک بھر میں الیکڑک چارجنگ پلانٹس مطلوبہ تعداد میں لگا لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلا چارجنگ اسٹیشن کراچی میں لگا لیا ہے اوردوسرا چارجنگ اسٹیشنز جمعرات کو لاہور میں لگے گا۔

    اے ڈی این گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی نے کہا کہ دوسرا لاہور میں لگنے جارہا ہے ،ان کی کمپنی پاکستان میں 90 ملین یو ایس ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک بھر میں 3 ہزار چارجنگ اسٹیشن لگائے گی ،جبکہ 240 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے گاڑیوں کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائے گی۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سال کے اخر تک ملک بھر میں ایک ہزار چارجنگ اسٹیشنز لگ جائیں گے جس کے بعد دسمبر تک پاکستان میں الیکڑک گاڑیاں بننا شروع ہوجائیں گی۔چینی کمپنی نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں سالانہ 72 ہزار الیکڑک گاڑیاں مینوفیکچر کریں گے ،،ساتھ ہی وہ پاکستان سے ان گاڑیوں کو مڈل ایسٹ ،سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی ایکسپورٹ کریںگے۔

    جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے روسی صدر کے قتل کی سازش کا انکشاف

  • وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور میڈیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس ملاقات میں وزیرِ اعظم نے حکومت اور میڈیا کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتہ کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کی پالیسیوں پر میڈیا کی تعمیری تنقید گورننس کی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا کی تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے اور ملک میں اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون مانتی ہے اور اس کے حقوق کا مکمل احترام کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر اڑان پاکستان کے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو مقامی طور پر تیار کردہ ملک کی ترقی کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے میڈیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کو ضروری قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو میں پاکستان کی حالیہ اقتصادی ترقی اور استحکام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کی ترقی کی رفتار دوبارہ شروع ہو چکی ہے، جو 2018 میں رک گئی تھی۔ وزیرِ اعظم نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی استحکام کے دوران ترقی کے سنہری دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ان کی قیادت میں پاکستان معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہے۔وزیرِ اعظم نے دوست اور برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے واپس آ کر معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح اور شرحِ سود میں کمی کا سہرا حکومت کی محنتی معاشی ٹیم کے سر ہے، اور برآمدات میں اضافے، صنعتی اور زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

    مزید برآں، وزیرِ اعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کے نفاذ اور مکمل ڈیجیٹائزیشن کے عمل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کسٹمز کے نظام میں بہتری کے لیے فیس لیس اسیسمنٹ کے نظام کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نظام سے شفافیت میں اضافہ، کرپشن کا خاتمہ اور محصولات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات، چینی، کھاد اور آٹے کی اسمگلنگ کی روک تھام سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیرِ اعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ترسیلات زر میں اضافے کو حکومتی پالیسوں پر ان کے اعتماد کا عکاس قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے سی پیک کے منصوبوں کے جلد تکمیل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں اور میاں محمد نواز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کا پاکستان اور خطے کی ترقی کا خواب حقیقت کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو شکست دینے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی باصلاحیت نوجوان افرادی قوت ہے، اور حکومت نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

    ملاقات کے دوران وفد کے شرکاء نے وزیرِ اعظم کی حکومتی پالیسیوں اور اقتصادی اقدامات کو سراہا، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کے ساتھ حکومتی معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کے حوالے سے ان کی کاوشوں کو تحسین کا نشانہ بنایا۔ وفد کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اور حکومت کو اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اس ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزارتِ اطلاعات کے اعلی افسران، چیئرمین پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن میاں عامر محمود، میر ابراہیم، ناز آفرین سہگل، سلطان لاکھانی، سلمان اقبال، شکیل مسعود، ندیم ملک اور کاظم خان بھی شریک تھے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

  • وزیر اعلیٰ پنجاب  سے سعودی عرب کے شہزادہ منصور کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ پنجاب سے سعودی عرب کے شہزادہ منصور کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سعودی عرب کے صوبہ حفر الباطن کے سابق گورنر شہزادہ منصور بن مشعل آل سعود سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور مختلف شعبوں میں پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کو پاکستان خصوصاً پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، اور مذہبی سیاحت کے شعبوں میں سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات فراہم کرنے کی تیاریاں کی ہیں۔مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ پنجاب میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹی اور میرٹ کی بنیاد پر سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سعودی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں خصوصی پیکج دینے کی پیشکش بھی کی، تاکہ سعودی عرب کے سرمایہ کار آسانی سے یہاں اپنے کاروبار کا آغاز کر سکیں۔

    مریم نواز شریف نے سعودی عرب کے پاکستان کے لیے ہمیشہ برادرانہ تعاون کو سراہا اور کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا بڑا بھائی ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے دل یکساں دھڑکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے ہمیشہ پاکستان کو تعاون فراہم کیا گیا ہے اور یہ دوطرفہ تعلقات خطے کے استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    شہزادہ منصور بن مشعل آل سعود نے اس ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔شہزادہ منصور نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہر سطح پر مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے اور سعودی عرب کی حکومت پنجاب سمیت پورے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

    مریم نواز شریف اور شہزادہ منصور کی ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات کو مزید روشن کیا۔ سعودی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے دروازے کھولنا دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم ثابت ہو گا۔اس ملاقات کے نتیجے میں یہ واضح ہوا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نہ صرف سیاسی اور سفارتی سطح پر بلکہ تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں بھی مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔

    قتل کا بدلہ؟ تھانے میں گھس کر فائرنگ،پولیس سوتی رہی،3 افراد قتل

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

  • سال 2025 کی پہلی براہ راست سرمایہ کاری آگئی

    سال 2025 کی پہلی براہ راست سرمایہ کاری آگئی

    پاکستان میں سال 2025 کی پہلی براہ راست سرمایہ کاری آگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھنے لگا ہے۔ذرائع کے مطابق نجی موبائل کمپنی کی گلوبل کمپنی کی جانب سے سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم ڈیڑھ کروڑ ڈالر ہے۔دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے دورہ چین کے فوری ثمرات آنا شروع ہو گئے۔وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف سے چین کے اعلی سطح وفد نے پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔جس میں چینگ ڈو جنرل کوآرڈینیٹر برائے آئی سی ٹی ہب مس اسکارلٹ اور ڈپٹی سی ای او ہواوے مسٹر یو رے شامل تھے۔چینگ ڈونے 700ملین ڈالر کی انوسٹمنٹ پر رضامند ی کا اظہار کیا۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے اصولی منظوری دے دی۔چینگ ڈو حکو مت کے تعاون سے ای- ٹیکسی سروس کا جلد آغاز ہو گا۔لاہور نوازشریف آئی ٹی سٹی میں چینی کمپنی کمپیوٹنگ سنٹر بھی قائم کرے گی۔ ملاقات میں نوازشریف آئی ٹی سٹی میں ڈیٹا او رکلاؤڈ سنٹر قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ حکومت پنجاب ڈیٹا اور کلاؤڈ سنٹر قائم کرنے کیلئے ا راضی اور بلڈنگ فراہم کرے گی۔

    پی ایس ایل پلیئرز ڈرافٹ کا وینیو تبدیل کیےجانے کا امکان

    سعید غنی نے 2025ء میں عمران خان کی رہائی کا دعویٰ کر دیا

  • سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے 540 ملین ڈالر میں ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز سعودی عرب کو فروخت کرنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے نہ صرف اقتصادی تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو یہ شیئرز بین الحکومتی ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت براہ راست فروخت کیے جائیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کو اس سودے کے بدلے 540 ملین ڈالر کی رقم دو قسطوں میں ادا کرے گا۔ پہلے مرحلے میں 10 فیصد شیئرز کی منتقلی پر سعودی عرب 330 ملین ڈالر ادا کرے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی 5 فیصد شیئرز کی منتقلی پر 210 ملین ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب پاکستان کے لیے صرف ریکوڈک کے شیئرز خریدنے تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کے لیے بھی آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ سعودی فنڈ برائے ترقی بلوچستان میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے 150 ملین ڈالر کی اضافی رقم فراہم کرے گا۔

    اس وقت ریکوڈک منصوبے میں وفاقی اور بلوچستان حکومت کے پاس 50 فیصد شیئرز کی ملکیت ہے۔ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کے چاغی علاقے میں واقع ہے اور یہاں سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔سعودی عرب چاغی کے علاقے میں بھی معدنیات کی تلاش اور ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو چکا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی موقع ہو گا۔ اس سے نہ صرف بلوچستان کی معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔

    یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ قدم پاکستان کے لیے مالی فوائد کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گا۔اس پیش رفت سے پاکستان کو ریکوڈک منصوبے کے شیئرز فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سے ترقیاتی فنڈز ملیں گے، جو نہ صرف ریکوڈک بلکہ بلوچستان کے دیگر معدنی وسائل کے استعمال کے لیے بھی معاون ثابت ہوں گے۔ اس سودے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا اور عالمی سطح پر پاکستان کی معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی طرف ایک نیا رجحان پیدا ہو گا۔

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

  • سال 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری میں 11.58 فیصد اضافہ

    سال 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری میں 11.58 فیصد اضافہ

    اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، سال 2024 کے دوران ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں 11.58 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے نومبر 2024 تک بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 2.05 ارب ڈالر رہا، جو کہ سال 2023 کے ابتدائی 11 مہینوں میں 1.84 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح، 2024 کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں تقریباً 21.34 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، نجی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری میں 23 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس سے نجی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 2.25 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس میں سب سے زیادہ اضافہ نجی شعبے میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی صورت میں ہوا ہے، جو 31 فیصد بڑھ کر 3.41 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ اس کے علاوہ، نجی شعبے سے براہ راست سرمایہ کاری کے اخراج میں بھی 93.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 1.04 ارب ڈالر بیرون ملک منتقل ہوئے۔

    اسٹاک مارکیٹ اور حکومتی شعبے میں سرمایہ کاری کا تجزیہ
    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سال 2024 کے ابتدائی گیارہ مہینوں میں اسٹاک مارکیٹ سے 10.77 کروڑ ڈالر نکالے گئے۔ اوسطاً، اس دوران ہر ماہ 98 لاکھ ڈالر کی رقم نکالی گئی۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی شعبے میں بھی بیرونی سرمایہ کاری کے اخراج میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ سرکاری شعبے سے 19.86 کروڑ ڈالر نکالے گئے، جبکہ سرکاری شعبے سے ماہانہ اوسط اخراج 1.8 کروڑ ڈالر رہا۔

    اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری کا بہاؤ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، خصوصاً نجی شعبے میں براہ راست سرمایہ کاری کی شکل میں۔ تاہم، حکومتی اور اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ کاری کا اخراج تشویش کا باعث بنا ہے، جو ملک کی اقتصادی صورتحال اور بیرونی سرمایہ کاروں کی مستقبل کی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بیرونی سرمایہ کاری میں ہونے والے اضافے کو پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک مثبت علامت قرار دیا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ حکومتی اور نجی شعبے کو بیرونی سرمایہ کاری کے اخراج کی وجوہات کا جائزہ لے کر اسے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی