Baaghi TV

Tag: سرمایہ کاری

  • اس وقت دنیا میں کاروبار کرنے کے لیے چین سے بہتر کوئی جگہ نہیں،سمیر احمد

    اس وقت دنیا میں کاروبار کرنے کے لیے چین سے بہتر کوئی جگہ نہیں،سمیر احمد

    لانژو:28 واں چائنہ لانژو سرمایہ کاری وتجارتی میلہ گذشتہ دنوں چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کے صدر مقام لانژو میں اختتام پذیر ہوگیا۔ پانچ روزہ ایونٹ میں اسپین، پاکستان، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے متعدد غیر ملکی کاروباری اداروں نے شرکت کی۔ پاکستان کے کاروباری شخص سمیر احمد نے اپنے کاروباری شراکت داروں کے ساتھ مل کر میلے میں مختلف قسم کی شاندار دستکاری مصنوعات پیش کیں جن میں ریشمی قالین، کشمیری سکارف اور جیکٹس شامل تھیں۔

    سمیر احمد پانچ سال سے چین میں مقیم ہیں۔ ان کا زیادہ ترکاروبار بیجنگ میں ہے۔ وہ مختلف نمائشوں میں شرکت اور چین کے مختلف اہم شہروں میں اپنی مصنوعات کی نمائشں کرتے ہیں۔وہ شنگھائی، شین ژین، گوانگژو، کنمنگ اور لانژو کے شہروں میں پاکستانی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ نمائشوں میں اپنی مصنوعات کی تشہیرکے ساتھ ساتھ، سمیر کا انٹرنیٹ کے ذریعے خصوصی پاکستانی اشیا فروخت کرنے کا بھی منصوبہ ہے ۔سمیر احمد کا کہنا ہے کہ چین میں کاروبار کرنا بہت آسان ہے، اس میں کچھ بھی پیچیدہ نہیں ۔” مجھے نہیں لگتا کہ اس وقت دنیا میں کاروبار کرنے کے لیے چین سے بہتر کوئی جگہ ہے۔

    "ان کا کہنا ہے کہ چینی باشندوں کا غیرملکیوں کے ساتھ خلوص اور دوستانہ برتاو ہے جس کی وجہ سے انہیں کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں بھی بڑی سہولت ملی ہے۔ اس کے علاوہ وہ چین کے مستحکم عوامی تحفظ کے ماحول میں خود کو پرسکون محسوس کرتے ہیں۔سمیر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں آپ جہاں بھی جاتے ہیں، لوگ سب سے اہم ہوتے ہیں۔ لوگ آپ کو تحفظ کا حساس دلاتے ہیں یا لوگ آپ کو یہ محسوس کرواتے ہیں کہ آپ ان میں سے ایک ہیں۔

    سمیر احمد کہتے ہیں کہ جب لوگوں کا رویہ آپ کے ساتھ دوستانہ ہوتا ہے تو کوئی بھی جگہ خوبصورت بن جاتی ہے۔ جب لوگوں کا برتاو آپ کے ساتھ صحیح نہیں ہوتا پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں ہیں آپ ہمیشہ پریشان رہیں گے۔پہلی بار 1993 میں منعقد ہونے والا یہ میلہ چین کے شمال مغربی علاقے کو دنیا کے لیے کھولنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم اور بیلٹ اینڈ روڈ اقتصادی وتجارتی تعاون کا ایک اہم ایونٹ بن گیا ہے۔

  • آمنہ الیاس نے فلم انڈسٹری کی کامیابی کا فارمولا بتا دیا

    آمنہ الیاس نے فلم انڈسٹری کی کامیابی کا فارمولا بتا دیا

    آمنہ الیاس نے فلم انڈسٹری کی کامیابی کا فارمولا بتا دیا
    ماڈل و اداکار ہ آمنہ الیاس کہتی ہیں کہ فلم انڈسٹری کی کامیابی یا ترقی کے لئے سب کو مل کر سوچنا ہوگا ایسی حکمت عملی بنانی ہو گی جو فلم انڈسٹری کے ساتھ ساتھ اس سے جڑے لوگوں کو بھی فائدہ دے ۔زیادہ سے زیادہ فلمیں بنانا خوش آئند ہے لیکن صرف فلموں کی تعدا د سے فلم انڈسٹری ترقی نہیں کریگی بلکہ جتنی سرمایہ کاری آئیگی اتنی ہی اچھی اور بہتر فلم بنے گی۔اس طرح تو ایک ہزار بھی فلمیں بنا لی جائیں لیکن اگر وہ غیر معیاری ہیں تو پھر تو فلم انڈسٹری کو ان سے کوئی فائدہ نہ ہوا نا ۔اس لئے کوشش کی جانی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے جب تک زیادہ سرمایہ کاری نہیں کی جائیگی بہتری ممکن نہیں ہے ۔ آمنہ الیاس نے کہا کہ تمام فنکار اور ہدایتکار مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ چلیں تو مسائل کو سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں حل کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے بجٹ میں کئے گئے فلم کے لئے اعلانات کو سراہا لیکن اس چیز کی بھی امید کی کہ ان اعلانات پر عمل درآمدبھی کیا جائیگا ۔

    یاد رہے کہ آمنہ الیاس ماڈلنگ کی دنیا سے آنے والی ایسی فنکارہ ہیں جن کا کام دیکھنے والوں کو بے حد متاثر کرتا ہے آمنہ ایک مکمل پیکج ہیں سنجیدہ ہو یا مزاحیہ ،ڈانس ہو یا ڈرامہ وہ ہر چیز پرفیکٹ انداز میں کرتی ہیں ۔آمنہ الیاس سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں کورونا کے دنوں میںانہوں نے بہت ساری سبق آموز وڈیوز شئیر کیں ان سب وڈیوز میں آمنہ خود نظر آتی رہی ہیں ۔آمنہ بنیادی طور پر تخلیقی ذہن کی مالک ہیں اور ان کو تخلیقی کام ہی اچھا لگتا ہے۔

  • وزیراعظم کی مختلف سیکٹرزمیں سرمایہ کاری بڑھانےکیلئےٹاسک فورس بنانےکی ہدایت

    وزیراعظم کی مختلف سیکٹرزمیں سرمایہ کاری بڑھانےکیلئےٹاسک فورس بنانےکی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف سیکٹرزمیں سرمایہ کاری بڑھانےکیلئےٹاسک فورس بنانےکی ہدایت کر دی-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ برآمدی صنعتوں کےخام مال پرتمام ٹیکس ختم کیےجائیں،حکومت ملک میں ایکسپورٹ کوالٹی کی زرعی اجناس کی پیداواریقینی بنارہی ہے،تاریخ میں پہلی بارپالیسیوں کےتسلسل کی بات ہم نےکی-

    زراعت کے شعبے کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں. سید خورشید شا

    وزیرِ اعظم نے سیکٹری کامرس اور سیکٹری سرمایہ کاری بورڈ کو سرمایہ کاروں کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی، کہا ایک ہفتے کے اندر تمام مسائل کا سدِ باب کرکے رپورٹ پیش کی جائے.

    انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان میں ایکپسورٹ کوالٹی کی زرعی اجناس کی پیداوار یقینی بنا رہی ہے. تاریخ میں پہلی مرتبہ پالیسیوں کے تسلسل کی بات ہم نے کی ہے. ملکی معیشت اور عام آدمی کی فلاح سیاست سے بالاتر ہے.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے امریکن بزنس کونسل کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی، ملاقات میں فارما، فوڈ پراسیسنگ، آئی ٹی سیکٹر، ای کامرس، ریٹیل سیکٹر، ٹیکسٹائل، سپورٹس اور لاجسٹکس کے شعبوں کے نمائندوں شریک تھے۔

    ملاقات میں وفاقی وزراء سید نوید قمر، مخدوم مرتضی محمود، مریم اورنگزیب اور متعلقہ اعلی افسران نے بھی شرکت کی، شرکاء نے کہا کہ حکومت کی پالسیوں کی بدولت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے. بجٹ سے پہلے حکومت کی تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت خوش آئند ہے-

    پنجاب میں فلورملزمالکان اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال،آٹا سپلائی بند،عوام کو…

    دوسری جانب ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 1232ارب روپےکی گرانٹس دی جائیں گی، وفاق سےصوبوں کو 4215 ارب روپےمنتقل ہوں گے،قرض اورسودکی ادائیگیوں کیلئے 3523 ارب روپےکاتخمینہ لگایا گیا ،حکومتی امورکیلئے 550 ارب روپے اور نان ٹیکس کی مدمیں 1626 ارب روپےحاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا فیڈرل بورڈآف ریونیو 7255 ارب کاٹیکس جمع کرےگا، وفاق کےاخراجات کاتخمینہ 9 ہزارارب روپےسےزائد ہوگا-

    ذرائع کے مطابق پنشن کی مدمیں 530 ارب روپےمختص کرنےکا،سبسڈیزکی مدمیں 578 ارب روپےمختص کرنےکاتخمینہ لگایا گیا جبکہ آئندہ مالی سال ترقیاتی بجٹ کاحجم 800 ارب ہوگا،بجٹ خسارہ 4282 ارب روپےتک محدودرکھنےکا،بجٹ خسارہ معیشت کا 5.5 فیصدتک محدودرکھنےکا کا تخمینہ لگایا گیا آئندہ مالی سال معیشت کاحجم 78 ہزار 197 ارب روپے ہوگا-

    کوہ پیما شہروز کاشف کو ایوان صدر کی جانب سے دعوت نامہ موصول

  • پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری میں جرمنی کی دلچسپی

    پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری میں جرمنی کی دلچسپی

    جرمنی نے ملک میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے پاکستان کے تمام شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جرمن سرمایہ کاروں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری لانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور پاکستان اور جرمنی کے درمیان کاروباری اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو بڑھانے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے-

    رمضان بازار میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں کیا ہوں گی:پنجاب حکومت نے اعلان کردیا

    ممتاز صنعت کار اور ملتان اور ڈیرہ غازی خان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر خواجہ جلال الدین رومی سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے اتاشی جان ٹمپا نے پاکستانی مصنوعات کے معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کے کونے کونے میں پسند کی جاتی ہیں۔

    جرمنی نے ملتان میں میٹرو کیش اینڈ کیری پراجیکٹ شروع کرکے جنوبی پنجاب کے خطے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ 2.659 بلین ڈالر مالیت کے کل تجارتی حجم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ جلال الدین رومی نے کہا کہ وہ دونوں کے درمیان تجارتی حجم میں مزید بہتری کے لیے پر امید ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جرمن حکومت نے ہمیشہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ 40 سے زائد جرمن کمپنیاں پاکستانی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ پاکستان میں مقیم کچھ معروف جرمن کمپنیوں میں BASF (کیمیکلز)، BMW (آٹو موبائل)، ڈیملر AG (آٹو موٹیو)، DHL (کوریئر)، لفتھانسا کارگو (کارگو ایئر لائن) (فی الحال پاکستان کے لیے پرواز نہیں کر رہی ہے)، مرک گروپ شامل ہیں۔ فارماسیوٹیکل)، میٹرو کیش اینڈ کیری (تھوک)، اور سیمنز (کونگلومریٹ)۔ اس کے علاوہ جرمن ترقیاتی ادارے GIZ نے پاکستان کے مختلف شعبوں میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنا تعاون بڑھایا ہے۔

    ایم کیو ایم محب وطن جماعت ہے،جو بھی فیصلہ کرے گی ملکی مفاد میں کرے گی ،نسیم فروغ

    خواجہ جلال الدین رومی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دیگر یورپی ممالک بھی پاکستان پر اعتماد کریں گے۔خواجہ جلال الدین رومی نے مزید کہا کہ پاکستان میں بنی ویلیو ایڈڈ مصنوعات پوری دنیا میں مقبول ہیں۔ اور ہم مستقبل میں جرمنی کے ساتھ مضبوط دوطرفہ تعلقات کے منتظر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جرمنی پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ وہ واقعی ایک اچھا دوست ہے۔ ہر پاکستانی حکومت نے جرمن عوام، سرمایہ کاروں، تاجروں کو ترجیح دی ہے اور انہیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ویزے جاری کیے ہیں۔ وہ پاکستانی ہوائی اڈوں پر پہنچ کر بھی ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔ چونکہ پاکستان سی پیک کی وجہ سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کے طور پر ابھر رہا تھا، اس لیے جرمن سرمایہ کاروں کو جدید صنعت کے قیام میں دلچسپی لینا چاہیے۔ خصوصی اقتصادی زونز میں جہاں ان کے لیے زبردست مراعات کا انتظار ہے۔

    خواجہ جلال الدین رومی نے کہا کہ جرمنی کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے، صرف پاکستان سے یورپ کو برآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیرف کم کرنا ہے۔ تاہم، یوروجرمنی سے درآمدات پر زیادہ ٹیرف ادا کیے جاتے ہیں، پاکستان کا ایک بڑا تجارتی پارٹنر ہے، تجارتی حجم بڑھ کر 3.34 بلین USD تک پہنچ گیا ہے۔ کوویڈ 19 وبائی امراض کے باوجود اس می پچھلے سال سے 2 فیصد تک معمولی اضافہ ہوا تھا۔

    ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے ہو گا،حکومت کی ایم کیو ایم کو بڑی آفر

    انہوں نے کہا کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جن کے ساتھ جرمنی کا تجارتی سرپلس ہے۔ پاکستان نے 2020 میں جرمنی کو 2.12 بلین امریکی ڈالر مالیت کی اشیاء برآمد کیں اور 1.21 بلین امریکی ڈالر کی درآمدی اشیا جرمنی کو برآمد کیں۔ پاکستان کو جرمن برآمدات کا ایک بڑا حصہ مشینری، کیمیکلز اور فارماسیوٹیکل مصنوعات پر مشتمل ہے۔ جرمن معیشت یورپی یونین میں سب سے بڑی ہے اور زیادہ تر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی سرپلس چلاتی ہے۔

    جرمن ڈیفنس اتاشی جان ٹمپا نے خواجہ جلال الدین رومی کی خدمات کو بے حد سراہا اور کہا کہ وہ سماجی، طبی، تعلیمی خدمات اور پسماندہ طبقے کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ دوسروں کے لیے رول ماڈل بن گئے ہیں وہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے مختلف اسپتالوں میں گردے کے مریضوں کی مدد کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملتان کے مختلف علاقوں میں ضرورت مندوں کو روزانہ خوراک کی فراہمی نے سماجی تبدیلی کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ جس انداز میں وہ جنوبی پنجاب میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مصروف ہیں۔ وہ پیروی کرنے کے لیے ایک مثال ہے۔

    بچوں کی طرح ڈی چوک پر ٹھمکے لگانا ہماری شناخت بن کر رہ گیا ہے،خط کے معاملے پر عامر لیاقت برس پڑے

    انہوں نے کہا کہ ہم جی ایس ٹی پلس کے معاملے میں پاکستانی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ کیونکہ جرمنی پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اور پاکستان مصنوعات کی برآمدات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور پاکستان مصنوعات کی برآمدات کی حوصلہ افزائی کرتا ہےاس کے علاوہ جرمنی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جرمنی اور پاکستان کے تعلقات دوستانہ ہیں اور کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ جو انشاء اللہ بتدریج مضبوط ہوتا جائے گا۔

    خواجہ جلال الدین رومی نے مزید کہا کہ پاکستان میں بننے والی ویلیو ایڈڈ مصنوعات دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ اور ہم مستقبل میں جرمنی کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔

    امریکی سفارتی ذرائع کی پاکستان کو دھمکی آمیز خط کی سختی سے تردید:سید کوثرکاظمی

  • اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی،سرمایہ کاروں کے 213 ارب ڈوب گئے

    اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی،سرمایہ کاروں کے 213 ارب ڈوب گئے

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ ایک بار پھر شدید مندی کا شکار ہوگئی، کے ایس ای 100 انڈیکس 1284 پوائنٹس کی کمیٹی سے 43 ہزار 200 کی سطح پر آگیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری دن میں 100 انڈیکس 1501 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا تاہم کاروبار کے اختتام پر 1284 پوائنٹس کم ہوکر 43266 پر بند ہوا 100 انڈیکس کی کم ترین سطح 43049 رہی جبکہ حصص بازار میں 23 کروڑ 68 لاکھ شیئرز کےسودے ہوئے جن کی مالیت 8 ارب روپے رہی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 213 ارب روپے کم ہوکر 7445 ارب روپے ہوگئی۔

    روس یوکرین جنگ نے تیل مزید مہنگا کر دیا

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو مجموعی طور پر 358 کمپنیوں کے شیئرز کی لین دین ہوئی، جن میں 301 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں گرگئیں اور 41 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 16 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ بیشتر کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں گرنے کے باعث سرمایہ کاروں کو 2 کھرب 13 ارب 80 کروڑ 49 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

    اسٹاک ماہرین کے مطابق امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے روسی خام تیل کی درآمد پر پابندی کا عندیہ دینے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا جارہا ہے، جس کے معاشی منفی اثرات کے خدشات نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی لپیٹ میں لیا پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی یہ اثرات دیکھنے میں آئے۔

    یوکرین جنگ: روس کی خاموش حمایت پربورس جانسن سے بھارت کی مالی امداد روکنے کا مطالبہ

    ماہرین کے مطابق عالمی اثرات کے ساتھ پاکستان میں تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال کے پیش نظر بھی سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے پیر کو شدید مندی دیکھنے میں آئی۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت بڑھنے سے پاکستان کا تجارتی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کے خدشات نے مقامی کرنسی مارکیٹوں کو بھی متاثر کیا اور پیر کو انٹر بینک میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر 63 پیسے اضافے سے 177.50 سے بڑھ کر 178.13روپے کی بلند سطح پر پہنچ گئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 50 پیسے کے اضافے سے 178.50 روپے ہوگئی ہے۔

    یوکرین کی طرح مسلمان ممالک پر حملوں کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی؟ بیلا حدید کا دنیا…

  • سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب  ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    سعودی عرب نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق سعودی مواصلات اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر عبدالله بن عامرالسواحہ نے بین الاقوامی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم لیپ کے موقع پر کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی بڑی کمپنی آرامکو اپنے فنڈ دنیا بھر کے کاروباری افراد کو تبدیلی لانے میں مدد دے گی سعودی ٹیلی کام کمپنی، آبدوزوں کی تاروں اور ڈیٹا مراکز کے بنیادی ڈھانچے میں ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی، جبکہ سرمایہ کاری میں ای ڈبلیو ٹی پی عربیہ کیپیٹل کا 2 ارب ڈالر کا فنڈ بھی شامل ہے۔

    کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں…

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی بڑی کمپنی آرامکو اپنے فنڈ خوش حالی 7وینچرزکے ذریعے دنیا بھر کے کاروباری افراد کو تبدیلی لانے والے اسٹارٹ اپ کی تعمیر میں مدد دے گی اور اس مقصد کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جبکہ سعودی ٹیلی کام کمپنی (ایس ٹی سی) سب میرین (آبدوزوں) کی تاروں اور ڈیٹا مراکز کے بنیادی ڈھانچے میں ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی۔

    انہوں نے اگلے آٹھ سال میں ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ تک ملازمتیں پیش کرنے کا اعلان بھی کیا انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت مملکت میں ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل مارکیٹ کا حجم 40 ارب ڈالرہے اور یہ خطے میں اب تک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے ہمیں خطے میں خاص طور پر ای کامرس، گیمنگ، ڈیجیٹل مواد اورکلاؤڈ کمپیوٹنگ میں جو ترقی دیکھنے میں آئی ہے،اس پر بہت فخر ہے۔

    روئٹرز کو دیئے گئے انٹرویوں میں وزیر ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ آرامکو پرسپرٹی7 کے اقدام میں سبزٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوزکی جائے گی جبکہ لاجسٹک کمپنی جے ٹی ایکسپریس گروپ کا مشترکہ منصوبہ خطے کے لیے ایک اسمارٹ مرکزتعمیرکرے گا جس سے کارکردگی میں 100 فی صد تک بہتری آئے گی بحیرہ احمر کے ساحل پرتعمیر ہونے والے مستقبل کے میگاشہرنیوم کے مکینوں اورزائرین کی خدمات کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا آغاز کیا گیا ہے اس کے علاوہ ایک اور پلیٹ فارم بھی ہے جس سے صارفین کو اپنے ذاتی ڈیٹا کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد ملے گی۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    سعودی حکومت کویہ بھی توقع ہے کہ 1.4 ارب ڈالرانٹرپرینیورشپ میں خرچ کیے جائیں گے اورڈیجیٹل مواد کی معاونت کے لیے فنڈزمختص کیے جائیں گے جن میں گیراج کے نام سے ایک اقدام بھی شامل ہے دارالحکومت الریاض میں گیراج کے نام سے مختص مقام پرنئی ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھنے والے نئے کاروباریوں کی میزبانی کرے گا ان تمام اعدادوشمار کی تیسرے فریق (تھرڈپارٹی) نے توثیق کی ہے،ہم ہوا میں کوئی تیر چلا رہے ہیں اور نہ ظاہری نمودونمائش کا کوئی کاروبار کرتے ہیں بلکہ ہم عزم کے ساتھ عملی اقدامات کرتے ہیں‘‘۔

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    واضح رہے کہ اس وقت دولت مندخلیجی ممالک غیرتیل کی آمدن کو فروغ دینے اور خام تیل پر انحصار کم کرنے کے اقدامات کررہے ہیں کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی مہم چلانے والوں اور تیل کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ نے حکومتی مالیات پر دباؤ ڈالا ہے۔

    سعودی عرب پہلے ہی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں وژن 2030 کے نام سے معروف اقتصادی اصلاحات کے وسیع ترمنصوبے میں سیکڑوں ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کررہا ہے۔اس کے تحت سعودی معیشت کو متنوع بنانے اورتیل کی آمدن پرانحصار کم کرنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں

    سلمان خان کے لیے سعودی عرب کا "پرسنالٹی آف دی ایئر” ایوارڈ

    دوسری جانب شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی نے "نورہ ہیلتھ” پروگرام متعارف کرایا ہے۔ یہ علاقے کے ممالک میں صحت کے لیے پہلا جامعاتی پروگرام ہے جس کو عالمی ادارہ صحت کی منظوری حاصل ہے۔

    سعودی عرب میں شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی میں اکیڈمک سپورٹ اور طلبہ کی خدمات کی سکریٹری ڈاکٹر ریم الوہیبی نے تعلیمی اداروں میں صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے حوالے سے منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی کانفرنس میں کہا کہ "نورہ ہیلتھ” پروگرام ان کی یونیورسٹی کی حکمت عملیوں اور صحت کے حوالے سے سعودی ویژن 2030 کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ یہ پروگرام نفسیاتی ، سماجی اور عضوی جامع صحت کے مفہوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کا مقصد جامعہ کے اندر کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا اور ایک محفوظ صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔

  • حکومت اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،وزیر خارجہ

    حکومت اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،وزیر خارجہ

    حکومت اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،وزیر خارجہ

    اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا

    بورڈ آف گورنرز کا اجلاس بورڈ کے چیئرمین وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت منعقد ہوا ، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود ،سابق سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی ، ایڈیشنل سکریٹری پبلک پالیسی ، ڈاکٹر اسرار حسین، ماہرین بین الاقوامی امور، ڈاکٹر رفعت حسین اور ڈاکٹر صائمہ ملک سمیت دیگر بورڈ ممبران نے اجلاس میں شرکت کی ،انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر ایمبیسڈر ندیم ریاض نے انسٹیٹیوٹ کے تاریخی پس منظر اور کارکردگی کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی

    وزیر خارجہ نے انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا
    وزیر خارجہ نے بورڈ میں شامل ہونے والے نئے ممبران کو مبارکباد دی ، مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی منظر نامے میں تھنک ٹینکس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ خارجہ پالیسی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے وزارتِ خارجہ اور ہمارے تھنک ٹینکس کے درمیان قریبی ربط ناگزیر ہے۔ ہمارے پاس بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی امور کے حوالے سے، بہترین سکالرز اور محققین موجود ہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے ذریعے بین الاقوامی معیار کی تحقیق کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔ حکومت پاکستان،وزیر اعظم عمران خان کی قیادت اور وژن کی روشنی میں، اقتصادی سفارت کاری ،علاقائی روابط کے فروغ اور خطے میں قیام امن جیسی اہم ترجیحات پر عمل پیرا ہے،وزیر خارجہ نے بورڈ ممبران کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز کو سراہتے ہوئے، معزز ممبران بورڈ کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیر خارجہ کا سعودی عرب بارے بیان،شہباز شریف نے بڑا مطالبہ کر دیا

    برف پگھلنے لگی، سعودی سفیر کی وزیر خارجہ سے ملاقات، سعودی اہم شخصیت کا دورہ پاکستان متوقع

    سعودی عرب بمقابلہ پاکستان، اصل کہانی سامنے آ گئی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    سعودی عرب کا بین الاقوامی مسافر پروازوں کا آپریشن معطل،پی آئی اے نے بھی اعلان کر دیا

    سعودی عرب کا بڑا وفد کب آ رہا ہے پاکستان؟ وزیر خارجہ کا بڑا اعلان

    وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے سعودی سفیر کی ملاقات،کیا ہوئی بات؟

    سعودی سفیر اچانک وزیر خارجہ کو ملنے پہنچ گئے

    آرمی چیف کا سعودی نائب وزیر دفاع کی وفات پر اظہار افسوس

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اگلے 2 ماہ میں محمد بن سلمان تخت یا تختہ، اقتدار کا کھیل آخری مراحل میں،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب سے پہلے سعودی سفیر متحرک، اہم شخصیات سے ملاقاتیں

    سعودی عرب میں پاکستانی سفیرکو واپس بلائے جانے کا امکان

    بلال اکبرکی واپسی، سعودی عرب میں کون ہو گا نیا سفیر،طاہر اشرفی نے بتا دیا

    قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی وفاقی سرمایہ کاری بورڈ آمد ہوئی ، چیرمین سرمایہ کاری بورڈ ،محمد اظفر احسن نے وزیر خارجہ کا خیر مقدم کیا ،وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی چیرمین بورڈ آف انوسٹمنٹ محمد اظفر احسن سے ملاقات ہوئی، سیکرٹری بورڈ آف انوسٹمنٹ ، مس فارینہ مظہر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل بی او آئی ، مکرم جاہ انصاری, ایڈیشنل سیکرٹری بی او آئی، خشی الرحمان، ڈایکٹر جنرل ثریا جمال اور وزارتِ خارجہ کے سینیئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے

    مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جغرافیائی اقتصادی ترجیحات کے تناظر میں، اقتصادی سفارت کو بروئے کار لا کر، پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے مسلسل کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں، ہمارے سفراء، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں اقتصادی سفارت کاری کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ پاکستان میں کاروبار کے میسر مواقعوں کی طرف مبذول کروا رہے ہیں،ہماری اقتصادی سفارت کاری کے مثبت اور حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو رہے ہیں،حکومت کے اقتصادی ایجنڈے کی تکمیل اور معاشی اہداف کے حصول کیلئے وزارتِ خارجہ، سرمایہ کاری بورڈ کے ساتھ مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے اور ممکنہ معاونت کی فراہمی کیلئے پر عزم ہے،چیرمین سرمایہ کاری بورڈ، محمد اظفر احسن نے بی او آئی آمد اور وزارت خارجہ کی جانب سے تعاون کی فراہمی پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا

  • چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب سپیشل اکنامک زونز میں سہولتیں دینےکافیصلہ:لاکھوں کی تعداد میں روزگارکی امید

    چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب سپیشل اکنامک زونز میں سہولتیں دینےکافیصلہ:لاکھوں کی تعداد میں روزگارکی امید

    اسلام آباد: چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب کے سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے لئے ترجیحی طورپرسہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لئے وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو فیڈمک اورپیڈمک میں سہولتوں کو تیزی سے مکمل کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق چین کی 20 سے زائد کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں جبکہ سپیشل اکنامک زونز میں ضروری سہولتوں کی ضرورت ہے جس کے لئے حکومت پنجاب کو سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے لئے ضروری اقدامات مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے دورہ لاہور کے دوران اعلیٰ سطحی اجلاس میں سپیشل اکنامک زونز میں تیزی لانے کی ہدایت کی اور کہا کہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی کے لئے سپیشل اکنامک زونز میں حکومتی اداروں کی سہولتوں کو یقینی بنایاجائے ۔

    ترجیحی طورپر کم ازکم ایک ہزار ایکڑ رقبہ سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کی ضروری سہولتوں سے لیس کرنے کی تجویز زیر غور ہے ، وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو اہم ٹاسک سونپ دیئے ہیں جبکہ وزیراعظم کی ہدایت کے بعد گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں حکومت پنجاب کے اہم اجلاس ہوئے، پیر کو متعدد حکومتی اقدامات کو حتمی شکل دیکر وزیراعظم کو دورہ چین سے قبل رپورٹ پیش کی جائے گی ۔

  • پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پیر کو رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے استفادہ کریں۔پاکستان رومانیہ کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوسرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرے گا:شاہ محمود قریشی

    اپنے رومانیہ کے ہم منصب بوگڈان اوریسکو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ رومانیہ کے سرمایہ کاروں کے لیے نہ صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے بلکہ پاکستان کے وسطی ایشیا کے لیے برآمدات کا مرکز بننے کے امکانات کے حوالے سے بھی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ بازار اب دنیا کے لیے کھولے جا رہے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی راہداری بنا رہا ہے اور گوادر پورٹ کی تعمیر دنیا کو خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی جمہوریہ اور افغانستان کے لیے کھول دے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ رومانیہ کی قیادت سے ملاقاتوں میں اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم کو مزید فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں کیونکہ یہ آگے بڑھنے کا صحیح وقت ہے۔

    رومانیہ کے ہم منصب کے مطابق، انہوں نے مزید کہا کہ COVID چیلنج کے باوجود گزشتہ مالی سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں تقریباً 50.6 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم، یہ ان کے دوطرفہ تعلقات اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی مواقع کے تناظر میں حقیقی صلاحیت کے قریب نہیں تھا، انہوں نے مشاہدہ کیا۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان فائدہ مند پوزیشن پر ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ GSP+ اسٹیٹس کے ساتھ، انہوں نے محسوس کیا کہ یہ EU اور پاکستان دونوں کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند رہا ہے۔

  • الحمدللہ : درآمدات میں کمی، برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے: مشیر تجارت نے خوشخبری سنادی

    الحمدللہ : درآمدات میں کمی، برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے: مشیر تجارت نے خوشخبری سنادی

    اسلام آباد:الحمدللہ : درآمدات میں کمی، برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے: مشیر تجارت نے خوشخبری سنادی ،اطلاعات کے مطابق مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ درآمدات میں اضافہ کم ہونا شروع ہو گیا ہے جبکہ جولائی دسمبر کی پہلی ششماہی میں برآمدات 25 فیصد بڑھیں۔

    تفصیلات کے مطابق مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ درآمدات میں اضافہ کم ہونا شروع ہو گیا ہے، دسمبر کے دوران 6.9 ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔

     

     

    مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ نومبر میں درآمدت کا حجم 7.9 ارب ڈالر تھا، ایک ماہ میں درآمدات میں ایک ارب ڈالر کی کمی آئی۔ دسمبر 2021 کے لیے درآمدی تخمینہ 6.2 ارب ڈالر تھا۔

    انہوں نے کہا کہ جولائی دسمبر کی پہلی ششماہی میں برآمدات 25 فیصد بڑھیں، جولائی دسمبر کی پہلی ششماہی برآمدات بڑھ کر 15.125 ارب ڈالر ہوگئیں، جولائی تا دسمبر 2020 کے دوران برآمدات 12.110 ارب ڈالر تھیں۔

    مشیر تجارت کا مزید کہنا تھا کہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے لیے برآمدات کا ہدف 15 ارب ڈالر تھا۔انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ دسمبر 2021 کے دوران برآمدات اور درآمدات کی تفصیل جلد شیئر کی جائیں گی۔