Baaghi TV

Tag: سروے

  • پنجاب حکومت کی کارکردگی پر عوامی سروے کی رپورٹ جاری

    پنجاب حکومت کی کارکردگی پر عوامی سروے کی رپورٹ جاری

    لاہور: انسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر عوامی سروے کی رپورٹ جاری کردی۔

    باغی ٹی وی: انسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کے سروے میں پنجاب کے 36 اضلاع سے 6 ہزار سے زائد شہریوں کی رائے شامل کی گئی ہے،سروے کے مطابق پنجاب حکومت کی کارکردگی سے صوبے کے 62 فیصد شہری مطمئن ہیں، تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر اور امن عامہ پر صوبائی حکومت کی کارکردگی کو سراہا،البتہ روزگار کی عدم دستیابی پر 63 فیصد افراد نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ناراضگی کا اظہار کیا-

    سروے میں 57 فیصد شہریوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں صوبائی حکومت کی گورننس میں بہتری آنے کا کہا جبکہ 17 فیصد نے مزید خراب ہونے کی رائے دی، 24 فیصد افراد نے گورننس میں کوئی فرق نہ آنے کا بتایا۔

    یو اے ای کا تل ابیب میں بین المذاہب افطار کا اہتمام

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی سے صوبے کے 59 فیصد شہری خوش اور 16 فیصد ناراض نظر آئے جبکہ 24 فیصد نے ان کی کارکر دگی کوقابلِ قبول قرار دیا،اسی طرح 57 فیصد شہریوں نےگزشتہ ایک سال میں مریم نواز کو صوبے کےاہم عوامی مسائل اور گور ننس کے چیلنجوں کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں بھی کامیاب بتایا، البتہ 36 فیصد افراد نے انہیں اس میں ناکام قرار دیا۔

    نصیبو لال اور ان کے شوہر کے درمیان صلح ہوگئی، مقدمہ واپس لے لیا

  • پاکستان کو  معاشی اور سیاسی بحران سے نواز شریف  نکال سکتے ہیں،سروے

    پاکستان کو معاشی اور سیاسی بحران سے نواز شریف نکال سکتے ہیں،سروے

    لاہور: ایک نئے سروے میں ملک کے عوام کی اکثریت کا خیال ہےکہ پاکستان کو معاشی اور سیاسی بحران سے نواز شریف نکال سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: انسٹیٹیوٹ آف پبلک اوپینیئن اینڈ ریسرچ (آئی پی او آر) نے عوامی آرا پر شامل نیا سروے جاری کیا ہے، جو پنجاب سے 3 ہزار سے زائد افراد کی آراء کی بنیاد پر کیا،سروے میں شہریوں سے سوال ہوا کہ ملک کو معاشی اور سیاسی بحران سے کون نکال سکتا ہے؟سروے نتائج کے مطابق 45 فیصد افراد مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، 36 فیصد افراد کو بانی پی ٹی آئی عمران خان پر بھروسہ ہے جب کہ 6 فیصد نے بلاول بھٹو پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ 2 فیصد افراد نے شہباز شریف، ایک فیصد نے مریم نواز اور ایک فیصد نے ہی آئی پی پی کے سربراہ جہانگیر ترین پر ملکی مسائل کے حل کےلیے اعتماد کیا۔

    سروے کے مطابق ن لیگ صوبے میں کھوئی ہوئی مقبولیت واپس حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئی ہے ن لیگ کی مقبولیت 32 فیصد سے 45 فیصد ہوگئی جبکہ پی ٹی آئی صرف ایک فیصد اضافہ کرپائی اور پی پی پی کی مقبولیت 5 فیصد سے 8 فیصد پر آگئی۔

    نیب نے پشاور میں پی ٹی آئی دور میں بھرتی ہونے والے …

    سروے میں پنجاب سے 51 فیصد شہریوں نے عام انتخابات میں ن لیگ کی جیت کی پیش گوئی کی اور وفاق سمیت پنجاب میں ن لیگ کی حکومت بننے کا دعویٰ کیا 34فیصد نے پی ٹی آئی کی حکومت بننے کا کہا جب کہ 7 فیصد نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کی امید ظاہر کی۔

    امریکا میں خاتون ٹیچر کا 17 سالہ طالبعلم کے ساتھ جنسی تعلقات کا اعتراف

    گلگت بلتستان میں زرعی انقلاب کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے،ڈاکٹرکوثرعبداللہ ملک

  • انتخابی حلقوں میں سروے پر پابندی،الیکشن کمیشن کا وکیل طلب

    انتخابی حلقوں میں سروے پر پابندی،الیکشن کمیشن کا وکیل طلب

    لاہور ہائیکورٹ، میڈیا پر انتخابی حلقوں میں سروے اور پروگرامز پر پابندی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو فوری طلب کر لیا،جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ بادی النظر میں الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن صرف الیکشن ڈے کیلئے ہے، ایسی پابندی لگانے کی وجہ سمجھ نہیں آتی، پوری دنیا میں الیکشن کے دوران حلقوں کے مسائل پر بات ہوتی ہے، سروے ہوتے ہیں،جسٹس علی باقر نجفی نے منیر باجوہ کی مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کی ،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں ٹی وی چینلز پر الیکشن سروے پر پابندی کا اقدام چیلنچ کردیا گیا تھا،صحافی منیر احمد نے ایڈوکیٹ میاں داود کی وساطت سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی، دائر درخواست میں پیمرا، وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے خلاف قانون الیکٹرانک،پرنٹ، ڈیجٹل میڈیا پر پابندی لگائی ہے، الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کی کلاز 12 آئین پاکستان کے متصادم ہے، الیکشن کمشن نے آئین کے آرٹیکل 4 ،19 اور 19 اے کیخلاف ورزی ہے،الیکشن کمیشن کا اقدام بنیادی انسانی حقوق اور معلومات تک رسائی کے اقدام کیخلاف ہے،عدالت الیکشن کمیشن کیجانب سے لگائی گئی پابندی کا اقدام کالعدم قرار دے،

    واضح رہے کہ انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم، الیکشن کمیشن نے پیمرا کو ہدایت دے دی،الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین پیمرا کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا کے خلاف ایکشن لیا جائے,بعض چینلز پول سروے نشر کر رہے ہیں، ضابطہ اخلاق کے مطابق اسکی ممانعت ہے ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پولنگ اسٹیشن اور حلقوں سے سروے اور پول کرانے سے روکا گیا ہے ،یہ سرگرمیاں ووٹر پر اثر انداز ہوتی ہیں اور الیکشن عمل میں خلل ڈالتی ہیں، پیمرا ایسے چینلز کے خلاف فوری ایکشن لے کر رپورٹ جمع کرائے

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

  • انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم، الیکشن کمیشن نے پیمرا کو ہدایت دے دی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین پیمرا کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا کے خلاف ایکشن لیا جائے,بعض چینلز پول سروے نشر کر رہے ہیں، ضابطہ اخلاق کے مطابق اسکی ممانعت ہے ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پولنگ اسٹیشن اور حلقوں سے سروے اور پول کرانے سے روکا گیا ہے ،یہ سرگرمیاں ووٹر پر اثر انداز ہوتی ہیں اور الیکشن عمل میں خلل ڈالتی ہیں، پیمرا ایسے چینلز کے خلاف فوری ایکشن لے کر رپورٹ جمع کرائے

    letter

    الیکشن کمیشن نے قومی میڈیا کے لیے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا
    قومی میڈیا میں پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلونسرز شامل ہیں،جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق الیکشن مہم کے دوران قومی میڈیا پاکستان کے نظریات، خودمختاری اور سیکورٹی کے خلاف تعصب پر مبنی رائے کی عکاسی نہیں کرے گا،ایسے بیانات یا الزامات جن سے قومی اتحاد، امن و امان کی صورت حال کا خطرہ ہو کو نشر نہیں کیا جائے گا،کوئی ایسا مواد شامل نہیں ہو گا جو کسی امیداوار، سیاسی جماعت پر صنف، مذہب، برادری کی بنیاد پر زاتی حملہ ہو، خلاف ورزی پر قانونی کاروائی ہو گی،ایک امیدوار کے دوسرے امیدوار پر الزام پر دونوں اطراف سے بیان اور تصدیق کی جائے گی،پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائبر ڈیجیٹل ونگ سیاسی جماعتوں اور امیداروں کو دی گئی کوریج مانیٹر کرے گا، امیداور اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ادائیگی کی تفصیلات پولنگ ڈے کے 10 دن کے اندر دے گا، پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائیبر ڈیجیٹل ونگ ضابطہ اخلاق پر عملدرامد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گا،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے میڈیا نمائندوں اور ہاوسز کو تحفظ فراہم کریں گے،قومی خزانہ سے کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی مہم نہیں چلائی جائے گی،ووٹرز کی اگہی کے پروگرام چلائے جائیں گے ، الیکشن کے دن سے 48 گھنٹے قبل الیکشن میڈیا مہم ختم کر دی جائے گی،الیکشن عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،انٹرنس ایگزٹ پولز، پولنگ اسٹیشن یا حلقے میں سروے سے اجتناب کیا جائے گا جس سے ووٹر متاثر ہو،صرف تسلیم شدہ میڈیا نمائندگان ایک دفعہ کیمرے کے ساتھ پولنگ عمل کی ویڈیو بنانے پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوں گے، خفئہ بیلٹ کی ویڈیو نہیں بنائی جائیں گی،میڈیا نمائندگان گنتی کا بغیر کیمرا کے مشاہدہ کریں گے،میڈیا نمائندگان الیکشن سے قبل، دوران یا بعد میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے،پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک نتیجہ نشر نہیں کیا جائے گا،نتائج نشر کرتے وقت بتایا جائے گا کہ یہ غیر سرکاری، نامکمل نتائج ہیں جنھیں آر او کی جانب سے اعلان تک حتمی نہ سمجھا جائے،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر صحافی یا میڈیا ادارے کی ایکریڈیشن ختم کی جا سکتی ہے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

  • 98 فیصد پاکستانی ملکی حالات سے ناخوش. سروے

    98 فیصد پاکستانی ملکی حالات سے ناخوش. سروے

    98 فیصد پاکستانی ملکی حالات سے ناخوش. سروے میں انکشاف

    ملکی معیشت کے ساتھ پاکستانی صارفین کا گرتا ہوا اعتماد بھی بحال کرنا نگران حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے جبکہ اپسوس پاکستان نے کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کی تیسری سہ ماہی کی سروے رپورٹ جاری کردی اور اپسوس پاکستان کی جانب سے جاری سروے رپورٹ کے مطابق 98فیصد پاکستانی ملکی سمت سے خوش نہیں،سمت کو درست سمجھنے والے پاکستانیوں کی شرح 2 فیصد پر آگئی۔

    رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت اور اپنی مالی صورتحال سے پاکستانی مایوس ہیں، 76 فیصد پاکستانی ملکی معیشت کو کمزور اور 68 فیصد اپنی مالی صورتحال کو خراب کہہ رہے ہیں اور سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 66 فیصد پاکستانی ملکی معاشی حالات میں اگلے 6 ماہ میں بھی بہتری کے لیے پُر امید نہیں ہیں جبکہ 60 فیصد مستقبل میں اپنے مالی حالات مزید کمزور دیکھ رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    خیال رہے کہ گزشتہ سال اپسوس پاکستان نے عوام کی آراء پر مبنی سروے کیا تھا جس کے مطابق بے روزگاری اور غربت کو ملک کے اہم مسائل قرار دینے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جبکہ اس سے قبل گزشتہ 2021 لے سروے میں 40 فیصد لوگ مہنگائی کو اہم مسئلہ کہتے تھے لیکن اب یہ تعداد 49 فیصد تک جاپہنچی ہے۔

  • گزشتہ10 برسوں سے عالمی سطح پر خواتین میں غصہ بڑھ رہا ہے،رپورٹ

    ایک سروے کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران دنیا بھر میں خواتین میں غصہ بڑھا ہے اور وہ زیادہ تناؤ کی شکار ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں یہ انکشاف گیلپ کے ایک سروے کے 10 سالہ ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا گیلپ کی جانب سے ہر سال دنیا بھر میں 150 سے زیادہ ممالک میں ایک لاکھ 20 ہزار افراد سے ان کی جذباتی حالت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔

    آئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کر دی، بابر اعظم ایک درجہ ترقی کے بعد تیسرے نمبر پر آگئے

    ہر سال سروے 150 سے زیادہ ممالک میں 120,000 سے زیادہ لوگوں سے یہ پوچھتا ہے کہ دوسری چیزوں کے علاوہ، انہوں نے پچھلے دنوں کے لیے کیا جذبات محسوس کیے تھے۔

    بی بی سی کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 2012 کے بعد سے مردوں کی نسبت زیادہ خواتین اداسی اور پریشانی کے احساس کی اطلاع دیتی ہیں، حالانکہ دونوں جنسیں مسلسل اوپر کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

    تاہم جب غصے اور تناؤ کی بات آتی ہے تو مردوں کے ساتھ خلیج بڑھ رہی ہے نو سال بعد خواتین زیادہ غصے میں ہیں – چھ فیصد پوائنٹس کے فرق سے – اور زیادہ تناؤ کا شکار بھی۔ اور وبائی مرض کے وقت کے آس پاس ایک خاص فرق تھا۔

    فیفا ورلڈکپ میں مراکشی کھلاڑیوں نے فتح کے بعد فلسطین کا جھنڈا لہرا دیا

    ڈیٹا کے مطابق جب منفی احساسات جیسے غصہ، اداسی، تناؤ اور فکرمندی کا جائزہ لیا جائے تو مردوں کے مقابلے میں خواتین کی جانب سے ان کا اظہار زیادہ کیا جاتا ہے 2012 سے خواتین کی جانب سے مردوں کے مقابلے میں اداسی اور فکرمندی کو زیادہ رپورٹ کیا جارہا ہے مگر یہ فرق بتدریج گھٹ رہا ہے۔

    مگرجہاں تک غصے اور تناؤکی بات ہے تو 2012 میں مردوں اور خواتین میں یہ شرح لگ بھگ ایک جیسی تھی مگر ایک دہائی بعد خواتین زیادہ غصے اور تناؤ کو رپورٹ کررہی ہیں، خاص طور پر کورونا وائرس کی وبا کے دوران یہ فرق مزید بڑھ گیا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیاکہ کچھ ممالک میں خواتین اور مردوں میں غصہ ظاہر کرنے کا فرق عالمی اوسط سے زیادہ ہے مثال کے طور پر 2021 میں کمبوڈیا میں 17 فیصد، جبکہ بھارت اور پاکستان میں 12 فیصد فرق ریکارڈ کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق وبا کے باعث خواتین کی ملازمتوں پر مرتب اثرات سے بھی یہ فرق بڑھا 2020 سے افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت کا عمل سست روی سے جاری تھا مگر کورونا کی وبا کے دوران مکمل طور پر تھم گیا۔

    واضح رہے کہ رپورٹ میں گیلپ کے 2012 سے 2021 کے سرویز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔

  • مہنگائی مارگئی:33 فیصد برطانوی شہری اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپکوبے گھرہوتےدیکھ رہے ہیں

    مہنگائی مارگئی:33 فیصد برطانوی شہری اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپکوبے گھرہوتےدیکھ رہے ہیں

    لندن :مہنگائی مارگئی:33 فیصد برطانوی شہری اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپکوبے گھردیکھ رہے ہیں،اطلاعات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے کیے گئے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً تین میں سے ایک یعنی 33 فیصد بالغ برطانوی رہائشی اخراجات میں اضافے کے نتیجے میں اگلے پانچ سالوں میں بے گھر ہونے کی فکر میں ہے۔

    اسی چیز کو معروف برطانوی اخبار دی انڈپنڈینٹ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ محققین نے کہا کہ اکتیس فیصد سے زائد لوگ فکر مند ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں صوفے پر سرفنگ یا عارضی رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔

     

     

    ملکہ برطانیہ کی تخت نشینی کی 70ویں سالگرہ کی شاندار تقریبات کا اختتام

    یاد رہے کہ یہ سروے 2,264 بالغوں پرایک حقوق کے خیراتی ادارے کی طرف سے بے گھر ہونے کی ایک نئی تحقیق کے ساتھ رپورٹ کیا گیا تھا۔دوسری طرف یہ ادارہ مستبقل کے خطرات کےپیش نظرحکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ عارضی رہائش تک رسائی کو آسان بنایا جائے اور امیگریشن کی پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

    اس ادارے کے چیف ایگزیکٹیو سچا دیشمکھ کہتے ہیں کہ "رہائش ایک انسانی حق ہے، عیش و آرام کی نہیں اور اسے قانون میں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انگلینڈ میں موجودہ ہاؤسنگ سسٹم مقصد کے لیے موزوں نہیں ہے۔ انصاف اور ہمدردی کو بحال کرنے کے لیے اسے تھوک میں اصلاحات کی ضرورت ہے،‘‘

    برطانیہ نے یوکرین کو راکٹ لانچرز فراہم کرنے کی رضامندی ظاہر کردی

    اس خیراتی ادارے نے سروے کے دوران یہ پایا کہ پانچ میں سے مزید دو بالغوں نے کہا کہ وہ فکر مند ہیں کہ جس کو وہ جانتے ہیں وہ بغیر گھر کے ختم ہو جائے گا۔رپورٹ میں دلیل دی گئی کہ ہزاروں افراد کو برطانیہ میں پناہ کے حقوق تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔اس نے یہ بھی پایا کہ وسیع پیمانے پر اور طویل عرصے تک بے گھر ہونے کی ایک اہم وجہ سستی رہائش کی کمی تھی۔اس میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2020 سے ستمبر 2021 کے درمیان انگلینڈ میں 283,440 گھرانوں نے بے گھر ہونے کی امداد کے لیے درخواست دی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکام کا کوئی فرض نہیں ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو بے گھر پناہ گاہ فراہم کریں جو امیگریشن کنٹرول کے تابع ہیں۔ جن لوگوں کے پاس "عوامی فنڈز کا کوئی سہارا نہیں ہے” اور غیر دستاویزی تارکین وطن ان گروہوں میں سے دو ہیں۔

    اس ادارے کے چیف ایگزیکٹیو سچا دیشمکھ کہتے ہیں کہ "بہت سے لوگ جن کو امیگریشن پابندیوں کا سامنا ہے انہیں عوامی فنڈز اور کام کرنے کی اجازت دونوں سے خارج کر دیا جاتا ہے،” انہوں نے مزید کہا، "اپنی کفالت کرنے سے قاصر ہو کر اور رہائش سے متعلق مدد سے انکار کر دیا گیا، وہ لامحالہ نیند کی نیند سوتے ہیں۔ ان کے خلاف نظام دھاندلی کا شکار ہے۔کونسلوں کا یہ فرض بھی نہیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو فراہم کریں جنہیں رہائش کے لیے "ترجیحی ضرورت” کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے، یا ان لوگوں کے لیے جنہیں "جان بوجھ کر بے گھر” سمجھا جاتا ہے۔

    روس کی برطانیہ پر 4 منٹ سے بھی کم وقت میں جوہری حملے کی دھمکی

    خیراتی ادارے نے خدشات کا اظہار کیا کہ لوگ دراڑوں سے گر رہے ہیں۔ چونکہ کونسلیں ایسے بے گھر لوگوں کی مدد کرتی ہیں جنہیں "ترجیحی ضرورت” سمجھا جاتا ہے، جیسے کہ حاملہ خواتین یا وہ بچے جن پر انحصار کیا جاتا ہے، ان میں سے بہت سے لوگ جنہیں "سنگل بے گھر” کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے، بغیر کسی مدد کے چھوڑ دیا جا سکتا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اس نے کم از کم چھ خواتین کا انٹرویو کیا ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو سماجی خدمات کے ذریعے سنبھالا تھا اور اس لیے انہیں "سنگل بے گھر” سمجھا جاتا تھا اور یہ ترجیح نہیں تھی۔

    دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق یوجین نے، جو اس کا اصل نام نہیں ہےکہتے ہیں‌کہ 2021 کے وسط میں اس کے اور اس کے بچوں کو عارضی رہائش سے بے دخل کیے جانے کے بعد ان کے لیے کوئی انتظامات نہ کیے جانے کے بعد اسے بے گھر کر دیا گیا۔”میں سڑک پر اپنے چھ سال کے بچے اور اپنے تمام سامان کے ساتھ کھڑی تھی،”

    ایک خیراتی ادارے سے مدد حاصل کرنے کے بعد، وہ مقامی اتھارٹی سے تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی جنہوں نے اسے ایک ہوٹل اور پھر عارضی رہائش میں رکھا۔محققین نے رپورٹ کے لیے بے گھر ہونے کے تجربات والے 82 افراد سے بات کی۔

    ایڈورڈ، ایک 55 سالہ فوجی تجربہ کار، جس کا نام اس کی شناخت کے تحفظ کے لیے تبدیل کیا گیا ہے، جب اس کا انٹرویو لیا گیا تو وہ ایک اونچی گلی کے دروازوں میں کھردرے سو رہے تھے۔ اس نے ایمنسٹی کو بتایا کہ اسے دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری اور فائبرومیالجیا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ’’میں خیمے میں نہیں سونا چاہتا، میرا سلیپنگ بیگ اور کمبل کافی ہے،‘‘ اس نے کہا۔

    اس نے مزید کہا کہ اس نے بے گھر ہوسٹل "طاعون کی طرح” سے گریز کیا کیونکہ اس نے سنا تھا کہ یہ "بہت زیادہ منشیات استعمال کرنے والوں کے ساتھ” چلا گیا تھا۔فلپ، جس کا نام بھی تبدیل کیا گیا تھا، نے بتایا کہ ہاسٹلز میں منشیات اور شراب کا استعمال عام ہے۔انہوں نے ایمنسٹی کو بتایا، "یہ کسی کو ناکام ہونے کے لیے ترتیب دے رہا ہے،” انہوں نے مزید کہا، "یہ پھنسے ہوئے محسوس ہو رہا ہے، یہ سب سے بری چیز ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کے پاس منشیات کی طرف واپس نہ جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔”

    2021 میں، کچے سوتے یا بے گھر رہنے والے لوگوں کی موت کی اوسط عمر مردوں کے لیے 45.9 سال اور خواتین کے لیے 41.6 سال تھی۔

    سروے میں آدھے سے زیادہ بالغوں، 54 فیصد نے کہا کہ انہوں نے فرض کیا تھا کہ انفرادی حالات کی وجہ سے کوئی شخص بے گھر ہے۔ صرف 36 فیصد نے کہا کہ وہ حکومت کو مناسب رہائش فراہم کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

    لیولنگ اپ، ہاؤسنگ اور کمیونٹیز کے محکمے کے ترجمان نے اس رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا، "اگلے تین سالوں میں، ہم کونسلوں کو بے گھر ہونے اور سخت نیند سے نمٹنے کے لیے £2 بلین دے رہے ہیں جو کسی کی بھی مدد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں۔ محدود اہلیت، جب تک کونسل ایسا کرنے میں قانون کے اندر کام کر رہی ہے۔”

    ترجمان نے مزید کہا کہ "کمزور تارکین وطن کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جو کہ بے سہارا ہیں اور ان کو دیگر ضروریات ہیں، جیسے بچوں کی مدد کرنا، مدد حاصل کر سکتے ہیں اور عوامی فنڈز کی شرائط کو ختم کرنے کے لیے بھی درخواست دے سکتے ہیں۔”

  • تھرپارکر:بچوں کی اکثریت غذائی قلت، کم وزنی اور بونا پن کی شکار

    تھرپارکر:بچوں کی اکثریت غذائی قلت، کم وزنی اور بونا پن کی شکار

    سندھ یونیورسٹی کے شعبہ فزیالوجی کے ماہرین اور طالبعلموں نے تھرپارکر کے سینکڑوں بچوں کا جائزہ لینے کے بعد وہاں کے بچوں کے حوالے سے پریشان کن رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ( جے پی ایم اے) کی تازہ اشاعت میں تھرپارکر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کا ایک مطالعہ سامنے آیا ہے اس میں بطورِ خاص تھرپارکر کے دوردراز اور غریب دیہی علاقوں میں بچوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    اشاعت کے مطابق سال 2017 اور 2018 کے دوران تھرپارکر کی 4 تحصیلوں میں یہ سروے کیا گیا جس میں پانچ سال سے کم عمر کے 597 بچوں کا معائنہ کیا گیا۔ ان میں 299 بچیاں اور 298 بچے شامل تھے تمام بچوں کی اوسط عمریں 12 سے 23 ماہ تھی۔

    قمری اور شمسی نظام دونوں ہی اللہ کے ہیں:ہمیں نئے سال کا آغازنیکیوں اورخیر سے کرنا…

    حیرت انگیزطورپر485 بچوں میں بونا پن یا اسٹنٹنگ نمایاں تھی یعنی 81 فیصد بچے عمر کے لحاظ سے اپنے پورے قد تک نہیں پہنچ سکے تھے 112 بچوں میں ویسٹنگ یعنی ہڈیوں اور پٹھوں کا گھلاؤ کا عمل دیکھا گیا جو 18 فیصد تک تھ۔ اس کے علاوہ 342 یعنی 57 فیصد بچے اس عمر میں اوسط وزن سے کم وزن کے تھے۔

    اگرچہ یہ تحقیق ایک سیمپل تحقیق ہے لیکن اس سے تھرپارکر میں بچوں کی نشوونما کی شدید کمی سامنے آئی ہے اس کی وجوہ بیان کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ ان خاندانوں کی اوسط آمدنی 6000 روپے ماہانہ سے کم نوٹ کی گئی ہے۔

    بد زبانی کنٹرول کرنے کا زبردست فارمولا:عوامی مقامات پر گالم گلوچ کرنے پر جرمانہ…

    دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ماؤں کی جانب سے بچوں کو دودھ پلانے کا دورانیہ بھی کم تھا۔ اس کے علاوہ بچوں میں ڈائریا اور دیگر بیماریوں کو بھی اس کی وجہ بتایا گیا ہے۔

    دوسری جانب طبی ماہرین نے پاکستان میں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ذیابیطس سمیت صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے صحت کا بجٹ فوری طور پر بڑھایا جائے۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور ان مریضوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو ذیابیطس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنے اعضا بھی کٹوانے پڑ رہے ہیں۔

    کراچی: سال نو پر ہوائی فائرنگ سے 16 افراد زخمی

    گزشتہ ماہ کراچی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائبیٹک ایسویسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں تقریبا سالانہ دو لاکھ افراد ذیابیطس کی وجہ سے اپنے پیر یا دوسرے اعضا کٹوا رہے ہیں۔

    ڈاکٹر باسط کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زیادہ ذیابیطس کے مریض ہیں اور ان میں سے پچاس لاکھ ایسے ہیں جنہیں اس حوالے سے طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 20 لاکھ مریضوں کو فٹ السر ہوجاتا ہے اور ان 20 لاکھ میں سے دو لاکھ کے قریب افراد کو اپنے پیر کٹوانے پڑتے ہیں جبکہ اس کی روک تھام ممکن ہے۔

    پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ اعضا کٹوانے والے ان مریضوں میں سے 70 فیصد آپریشن کے پانچ سال کے اندرہی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

  • گھر گھر سروے کا آغاز

    گھر گھر سروے کا آغاز

    قصور
    این ایس ای آر گھر گھر قومی خوشحالی سروے کا آغاز ٹیمیں یونین کونسل کی سطح پر کام کرینگیں
    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور میں این ایس ای آر کے تحت گھر گھر جا کر قومی خوشحالی سروے کا آغاز کر دیا گیا ہے ٹیمیں یونین کونسل کی سطح پر گھر گھر جا کر سروے کرینگیں اور گھر کے سربراہ کے کوائف کے علاوہ دیگر افراد کے کوائف جمع کرینگیں جس کا مقصد لوگوں کی ضروریات زندگی کا اعدادوشمار اکھٹا کرنا ہے تاکہ سرکاری منصوبہ جات بناتے وقت معاونت حاصل ہوسکے

  • اوکاڑہ تا چک جھمرہ ون وے سڑک کی تعمیر کے لیے سروے شروع

    اوکاڑہ تا چک جھمرہ ون وے سڑک کی تعمیر کے لیے سروے شروع

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ تا چک جھمرہ براستہ نول پلاٹ دو رویہ سڑک کی تعمیر کے لیے سروے شروع کردیا گیا ہے. سروے ٹیم کے مطابق چھ ماہ تک کام شروع کردیا جائے گا. اوکاڑہ فیصل آباد روڈ کے مسافروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی. باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کئی افراد نے اس سڑک کی تعمیر شروع کرنے پر نیک خیالات کا اظہار کیا ہے.