Baaghi TV

Tag: سرکاری اراضی

  • کراچی : نیب  نے 250 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرا لی

    کراچی : نیب نے 250 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرا لی

    کراچی میں نیب نے کارروائی کے دوران 250 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرا لی ۔

    ترجمان کے مطابق 75کروڑ روپے مالیت کی سرکاری زمین سے غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیم کا قبضہ ختم کرالیا گیا، نجی ہاؤسنگ اسکیم کی تمام دستاویزات جعلی نکلیں،جعلی ریونیو ریکارڈ، بوگس سیل ڈیڈ اور جعلی ڈاک ٹکٹ استعمال ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے ، 250 ایکڑ اراضی کا کوئی سرکاری لینڈ ریکارڈ موجود نہیں،زرعی زمین کو غیر زرعی ظاہر کرنے کیلئے غیر قانونی اندراجات کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے ، اسسٹنٹ کمشنر کے جعلی دستخط اور سرکاری ریکارڈ سے تضاد ثابت ہوئے۔ہاؤسنگ اسکیم کی انتظامیہ نے عوام سے 6 کروڑ 80 لاکھ روپے غیر قانونی وصول کیے،ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر 2بینک اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم جمع کی گئیں۔

    پہلا ملک جہاں چار صدیوں بعد سرکاری ڈاک سروس کا مکمل خاتمہ

    پہلا ملک جہاں چار صدیوں بعد سرکاری ڈاک سروس کا مکمل خاتمہ

    برطانیہ :عمران خان کے پوسٹر والے ٹرک پر نامعلوم افراد نے سیاہی پھینک دی

  • : پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر 50 سال سے کیا گیا قبضہ ختم،مکانات مسمار

    : پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر 50 سال سے کیا گیا قبضہ ختم،مکانات مسمار

    لاہور: پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر 50 سال سے کیا گیا قبضہ ختم ، ناجائز طریقے سے تعمیر کیے گئے مکانات کو مسمار کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی :میڈیا ذرائع کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کی ہدایت پر 50 سال بعد ناجائز قابضین سے قبضہ واگزار کرالیا گیا، جامعہ پنجاب ہیلتھ سینٹر سے متصل سرکاری زمین پر 37 خاندان 50 سال سے قابض تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ غیر متعلقہ افراد اور با اثر ملازمین نے ناجائز طریقے سے 12 کنال سرکاری اراضی پر گھر بنا رکھے تھے، چند ملازمین نے سرکاری زمین بیعانے پر فروخت کرکے غیر متعلقہ افراد کو گھروں کا قبضہ دے رکھا تھا جامعہ پنجاب میں آنے والے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے چارج سنبھالتے ہی ناجائز قبضے کا نوٹس لے لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر قانونی گھر فوری گرا دیئے جائیں۔

    توشہ خانہ 2 کیس: آئندہ سماعت پر مزید 2 گواہ طلب

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمد علی نے ناجائز قبضہ واگزار کرانے سے متعلق اہم ترین شخصیات کی سفارش بھی نہیں سنی، ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ریحان صادق کی سربراہی میں انتظامیہ نے رات گئے آپریشن کیا اور ناجائز تعمیر کیے گئے گھر گرا دیئے گئے۔

    خیبر میں سیکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں، 22 خوارج ہلاک ، 18 زخمی

  • لاہور جنرل ہسپتال کے ملازمین کی رہائشی کالونی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کی فراہمی

    لاہور جنرل ہسپتال کے ملازمین کی رہائشی کالونی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کی فراہمی

    پی جی ایم آئی و امیر الدین میڈیکل کالج کو زمین دینے کیلئے پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کی گئی ۔
    ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی، طبی اداروں کی مشکلات سے آگاہ کیا
    میڈیکل سٹوڈنٹس کے ہاسٹلز، جنرل ہسپتال ملازمین کی رہائشی کالونی کیلئے سرکاری اراضی کی نشاندہی کرنے کے احکامات جاری۔
    وزیر اعظم پاکستان نے امیر الدین میڈیکل کالج و پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے کیمپس،میڈیکل سٹوڈنٹس کے لئے ہاسٹلز اور لاہور جنرل ہسپتال کے ملازمین کی رہائشی کالونی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کی فراہمی کی نشاندہی کے لئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سیمی بخاری کی درخواست پر صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر سیمی بخاری نے پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کی دعوت پر لاہور جنرل ہسپتال کا دورہ کیا تھا جہاں ان کے علم میں یہ دیرینہ مسئلہ لایا گیا تھا اور انہوں نے اس کے حل کی یقین دہانی کروائی تھی۔ واضح رہے کہ ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کے دوران دونوں طبی اداروں کی بلڈنگ، طلباء و طالبات کے ہاسٹل اور ملازمین کی رہائشی کالونی کیلئے زمین فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری ہونے والے اس مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت اس ضمن میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرے اور اس مسئلے کے حل کے لئے جلد از جلد کاروائی عمل میں لائی جائے۔
    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے ڈاکٹر سیمی بخاری کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ واحد ادارہ ہے جہاں پاکستان کے علاوہ دیگر ملکوں سے بھی ڈاکٹرز سپیشلائزیشن کے لئے آتے ہیں اور اس ادارے کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز دنیا بھر میں وطن عزیز کا نام روشن کرتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2012میں امیر الدین میڈیکل کالج قائم ہوا دونوں میڈیکل اداروں کی عمارت، گریجویٹ و انڈر گریجویٹ میڈیکل سٹوڈنٹس کیلئے ہاسٹلز اور ایل جی ایچ ملازمین کی رہائشی کالونی نہ ہونے کے باعث خاصی مشکلات درپیش ہیں جس کا ازالہ کرنے کے لئے ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری کی نشاندہی پر وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے چیف سیکرٹری پنجاب کو مراسلہ بھجوا دیا گیا ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کسی التوا کے بغیر اس معاملے کے حل کی عملی کوششیں کی جائیں گی جو پی جی ایم آئی،امیر الدین میڈیکل کالج اور لاہور جنرل ہسپتال کے لئے خوش آئند امر ہوگا.

  • سرکاری اراضی پر قبضہ بوجہ پٹواری

    قصور
    کنگن پور اور الہ آباد میں محکمہ ہائی وے کی سرکاری اراضی پر بااثر افراد کا قبضہ
    ک
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد میں تعینات ہونے والا پٹواری بہت بااثر ہے کہ مقامی ایم پی اے اور ایم این اے بھی اس کے اشاروں پر چلتے ہیں اچونکہ الہ آباد قیمت کے لحاظ سے ضلع قصور کا سب سے زیادہ قیمت والا علاقہ ہے تحصیلدار اسسٹنٹ کمشنر اور مقامی حکومتی سیاست دانوں کو ہر ماہ ایک کثیر رقم منتھلی کی صورت میں فراہم کی جاتی ہے عرصہ تقریباً تیس سال سے نذرانہ وصولی کی یہ روایت چلی آرہی ہے جس پارٹی کی بھی حکومت ہو پٹواری سے ماہانہ اپنا حصہ وصول کرنا اپنا قانونی حق سمجھا جاتا ہے الہ آباد میں تعینات رہنے والے تمام پٹواری کروڑ پتی ہو چکے ہیں ایک معمولی پٹواری صرف پٹوار خانے میں اپنے چار پرائیوٹ ملازم رکھتا ہے گاڑی کا ڈرائیور اور گھریلو ملازموں کی تعداد علیحدہ سے ہے کرپٹ سیاست دانوں سے ساز باز ہو کر کرپٹ پٹواریوں نے اربوں روپے کی سرکاری اراضی فروخت کر دی ہے محکمہ ہائی وے کی سرکاری اراضی پر کنگن پور میں قبضہ مافیہ نے عرصہ دراز سے قبضہ کر رکھا ہے چونیاں روڈ دیپالپور روڈ ڈھٹے شاہ روڈ اور شہر میں دیگر جگہوں پر سینکڑوں کنال سرکاری اراضی فروخت کی جا چکی ہے کرپشن کا بے تاج بادشاہ موجودہ پٹواری قبضہ مافیہ کو تحفظ دینے میں پیش پیش ہے وزیراعظم پاکستان اور سپریم کورٹ کے حکم پر شروع کی جانے والی مہم اور ناجائز تجاوزات کا خاتمہ اور سرکاری اراضی قبضہ مافیہ سے واگزار کروانے میں پٹواری طارق رکاوٹ بنا ہوا ہے اور قبضہ مافیہ سے بھاری رقم بٹور کر اعلیٰ افسران کو بوگس رپورٹیں بنا کر ارسال کر رہا ہے
    الہ آباد کے رہاشیوں نے وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ الہ آباد میں اربوں روپے کی سرکاری اراضی پر قبضہ مافیہ کے خلاف کاروائی کی جائے اور سرکاری اراضی واگزار کروائی جائے اور ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے