Baaghi TV

Tag: سرکاری سکول بند

  • مری میں بھی کل تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ

    مری میں بھی کل تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ

    ضلع مری کی حدود میں بھی 25 نومبر بروز سوموار تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ضلعی انتظامیہ مری کی جانب سے ضلع مری کی حدود میں25 نومبر بروز سوموار تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔نوٹیفکیشن کا اطلاق ضلع مری کے تمام تعلیمی اداروں پر ہوگا۔واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی دارالحکومت میں کل تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے دو روز سے اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے بند ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، آج پی ٹی آئی نے اسلام آباد پہنچنا تھا مگر ابھی تک قافلے راستوں میں ہیں،احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی

    ایلون مسک دنیا کی تاریخ کے امیر ترین انسان بن گئے

    دنیا کے کئی ممالک میں پی ٹی آئی کا احتجاج

  • سرکاری سکول اساتذہ کو کئی ماہ سے تنخواہیں نا ملیں،سکول بند

    سرکاری سکول اساتذہ کو کئی ماہ سے تنخواہیں نا ملیں،سکول بند

    قصور
    تحصیل پتوکی کے نواحی قصبہ حبیب آباد کے گاؤں تھڑہ کا 1976 سے قائم شد دو کمروں پر مشتمل 300 بچوں کی تعداد والا سکول PEF کی طرف سے اساتذہ کو کئی ماہ سے تنخواہیں نا دینے پر بند کر دیا گیا،گورنمنٹ خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف

    تفصیلات کے مطابق قصور میں نظام تعلیم کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں
    تحصیل پتوکی کے نواحی قصبہ حبیب آباد کے گاؤں تھڑہ میں 1976 میں عارضی بلڈنگ بنا کر پرائمری سکول قائم کیا گیا جس کی بلڈنگ 1993 میں محض دو کمروں پر مشتمل تعمیر کی گئی
    اس سکول میں 300 بچے زیر تعلیم ہیں اور کل عملہ 5 افراد پر مشتمل ہے
    اس سکول کو 15_3_2017 کو PEF کے انڈر رجسٹریشن نمبر 35130153 کیا گیا

    لوگوں نے بارہا گورنمنٹ کو سکول کی زبو حالی بارے درخواستیں دیں مگر بے سود رہا
    بلاآخر اہلیان علاقہ نے 17_2_2020 کو ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مردانہ کو تحریری درخواست لکھی جنہوں نے باقاعدہ خود وزٹ کرکے سکول کی خستہ حالی دیکھی تاہم کوئی کاروائی نا کی گئی
    اس کے بعد اہلیان علاقہ نے سابق ڈپٹی کمشنر قصور کو بھی آگاہ کیا جنہوں نے سوائے تسلی دینے کے کچھ نا کیا
    بالآخر کئی ماہ کی تنخواہیں نا ملنے، سکول کی چھت گری ہونے اور بچوں کیلئے فرنیچر نا ہونے کے باعث اس سکول کو گزشتہ ماہ کی 28 تاریخ کو بند کر دیا گیا جس پر اہل علاقہ کے 300 غریب بچے گھروں میں بیٹھ گئے ہیں