Baaghi TV

Tag: سرکاری ملازمین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارتوں کے اخراجات اور وزرا کی تعداد کم کرنےکی تجاویز

    سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارتوں کے اخراجات اور وزرا کی تعداد کم کرنےکی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: خبررساں ادارے”دی نیوز” کے مطابق قومی کفایت شعاری کمیٹی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی ،وزارتوں/ ڈویژنوں کے اخراجات میں 15 فیصد کمی اور وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تعداد 78 سےکم کرکے 30 کرنےکی تجویز کے حوالے سے آج یعنی بدھ کو اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔

    دبئی : وفاقی وزیر مملکت اورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل سردار سلیم حیدر کے اعزاز میں پر تکلف…

    قومی کفایت شعاری کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے رپورٹ وزیراعظم کو بھیجی جائے گی۔

    اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ این اے سی نے ایک سفارش کو حتمی شکل دی ہے کہ وزراء، وزیر مملکت، مشیروں اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی تعداد کو کم کر کے صرف 30 کر دیا جائے جب کہ بقیہ ضرورت پڑنے پر قومی خزانے سے کسی قسم کے وسائل سے مستفید نہ ہوں۔ انہیں بلامعاوضہ کام کرنا چاہئے۔

    حکومت کفایت شعاری سے متعلق سفارشات کو حتمی شکل دے رہی ہے جب ملک آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے جو بنیادی طور پر مالی استحکام کا مطالبہ کرتا ہے لیکن حکومت فنڈ پروگرام پر عمل درآمد سے گریزاں ہے اس نے پچھلے ڈھائی ماہ کی مدت سے تعطل پیدا کیا۔

    این اے سی نے صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر فنڈز کا استعمال روکنے، سرکاری ضمانتوں کے ذریعے قرضے حاصل کرنے کے لیے پبلک سیکٹر انٹرپرائزز پر پابندی عائد کرنے اور کئی دیگر کی بھی سفارش کی تاہم این اے سی بجٹ کے وسائل پر بڑے اخراجات میں کٹوتیوں کے لیے بڑے ٹکٹ لینے سے گریزاں ہے جیسے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد وزارتوں/ ڈویژنوں کی تعداد کو کم کرنا کیونکہ وزارتوں/ ڈویژنوں اور محکموں کی اوور لیپنگ کا کام بلا روک ٹوک جاری ہے۔

    وفاقی سطح پر کئی اوور لیپنگ وزارتیں/ ڈویژن کام کر رہے ہیں اور مرکز کو چاہیے کہ ان کی تعداد صرف پانچ سے چھ تک محدود رکھے، جن میں دفاع، خارجہ امور، مالیات، سکیورٹی شامل ہیں جبکہ دیگر تمام منقولہ وزارتوں کو ختم کر دینا چاہیے۔

    لاہور: پرانی فرنیچر مارکیٹ میں آتشزدگی، کروڑوں روپے کا سامان جل گیا

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے تشکیل دی گئی کفایت شعاری کمیٹی نے منگل کو فنانس ڈویژن میں مسلسل دوسرے روز بھی غور و خوض جاری رکھا، بہت سے شرکاء نے آن لائن دوسرے شہروں سے حصہ لیا۔

    یہ بڑی عجیب بات ہے کہ حکومت ایک جانب کفایت شعاری کے نام پر سفارشات کو حتمی شکل دینے کا کام کر رہی ہے جبکہ حکومت نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام میں 3 ارب روپے کا اضافہ کیا اور صوابدیدی فنڈنگ ​​کو 86 ارب روپے سے بڑھا کر 89 ارب روپے کر دیا جو پارلیمنٹیرینز کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ این اے سی بڑے پبلک سیکٹر اداروں کے نقصانات سے کیسے نمٹے گا کیونکہ اس سال پی آئی اے کا خسارہ 67 ارب روپے تک پہنچ گیا پاکستان اسٹیل ملز، پاسکو، پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اور دیگر بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں صرف پاور سیکٹر کو 1600 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

    کراچی ایئرپورٹ پر مسافر سے ایک لاکھ سے زائد ڈالر اور سونا برآمد

    این اے سی نے آئی ایس آئی اور آئی بی سمیت انٹیلی جنس ایجنسیوں کے صوابدیدی فنڈز منجمد کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا۔ کمیٹی نے دفاعی اخراجات میں کمی کی تجویز پر غور کیا تاہم سیکرٹری دفاع نے جواب دیا کہ مہنگائی اور شرح مبادلہ میں کمی کےپیش نظر یہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ تاہم کمیٹی کفایت شعاری کے اس وقت غیر جنگی اخراجات کو معقول بنانے پر غور کر سکتی ہے۔

    کمیٹی نے گاڑیوں کی خریداری پر پابندی، مقامی اور بیرون ملک تمام مراعات منجمد کرنے اور مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں میں غیر ضروری آسامیوں کی تعداد کو کم کرنے پر غور کیا۔

    ورلڈ بینک نے پاسکو کو ترک کرنے کی سفارش کی تھی کیونکہ کسانوں اور ملرز کے درمیان براہ راست روابط ہونے چاہئیں اور اس قسم کی بین ثالثی تنظیم کو ختم کر دینا چاہیے۔پاسکو کے پاس 900 ارب روپے کا قرضہ جمع ہو چکا ہے اور یہ ایک اور قسم کے گردشی قرضے کا انبار لگا رہا ہے، جسے حکومت کو دن کے آخر تک ختم کرنا ہو گا۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئلی مذاکرات

    اعلیٰ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ این اے سی نے اپنی داخلی میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ پانچ دنوں میں اپنی سفارشات کو حتمی شکل دی جائے تاکہ وہ فنانس ڈویژن کے جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن میں 15 دن کی دی گئی آخری تاریخ سے بہت پہلے اپنی حتمی سفارشات پیش کر سکیں۔

    وزارت خزانہ کے ایک افسر نے تبصرہ کیا کہ این اے سی بڑی سفارشات کر رہی ہے لیکن موجودہ حکومت کے لیے ایسی کسی بھی تجویز پر عمل درآمد کرنا مشکل ہو گا۔ یہ صرف ایک ڈیبیٹنگ کلب رہے گا اور حکومت اپنےدور اقتدار کے اختتام کے وقت کوئی بڑا فیصلہ لینے کی جانب بڑھنے کے بجائے صرف اچھا تاثر دینے والے کام پر عملدرآمد کرے گی جب سیاسی درجہ حرارت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے سابق بیوروکریٹ ناصر محمود کھوسہ کی سربراہی میں قومی کفایت شعاری کمیٹی تشکیل دی تھی۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کا ڈالر ریٹ کیپ ختم کرنےکا فیصلہ

    یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کو گیس مہنگی کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کرنے کے علاوہ پاکستانی روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے روکنے اور بجلی کی قیمت مہنگی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • ریٹائرمنٹ کےوقت گھرکی چھت سرکاری ملازمین کاحق ہے:کوششیں کریں گےیہ حق دے دیں:وزیراعلیٰ پنجاب

    ریٹائرمنٹ کےوقت گھرکی چھت سرکاری ملازمین کاحق ہے:کوششیں کریں گےیہ حق دے دیں:وزیراعلیٰ پنجاب

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی ویلفیئر ترجیحات میں شامل ہے، ریٹائرمنٹ کے وقت اپنے گھر کی چھت سرکاری ملازمین کا حق ہے، پلاٹ اور گھر ملازم کی ضرورت بھی ہے اور حق بھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ یہ حق دے دیں ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اس حوالےسے بھرپورکوششیں جاری رکھے گی

     

    چودھری پرویزالٰہی کے زیر صدارت پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا اجلاس منعقد ہوا، پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی مینجنگ ڈائریکٹر ناہید گل بلوچ نے تفصیلی بریفنگ دی۔

     

     

    وزیراعلیٰ نے پی جی ایس ایچ ایف ممبرز کو زیر التواء الاٹمنٹ کیلئے فوری اقدامات کا حکم دیا اور کہا کہ گورٹمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ سکیم میں تعلیم اور صحت جیسی سہولتوں کی فراہمی کو بھی مدنظر رکھا جائے، ہاؤسنگ سکیم میں ملازمین پر ادائیگی کا بوجھ کم از کم رکھا جائے، ہاؤسنگ سوسائیٹز کو پوری طرح ڈویلپ کر کے ملازمین کو سہولت دی جائے۔

     

     

    پرویز الٰہی نے کہا کہ زیر التواء پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بعد نئی ممبر شپ کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جی ایم سکندر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری ہاؤسنگ اور دیگر بھی موجود تھے۔

  • سرکاری ملازمین کو پھل اور سبزیاں اگانےکیلئے ایک دن کی اضافی چھٹی دینے کا فیصلہ

    سرکاری ملازمین کو پھل اور سبزیاں اگانےکیلئے ایک دن کی اضافی چھٹی دینے کا فیصلہ

    سری لنکا کی حکومت نے سرکاری ملازمین کو پھل اور سبزیاں اگانے کے لیے ہفتے میں ایک دن کی اضافی چھٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنے والے ملک سری لنکا میں حکومت نے اس تجویز کی باقاعدہ منظوری دی جس کے تحت سرکاری ملازمین کو اگلے تین ماہ تک ہرہفتے میں ایک دن اضافی چھٹی دی جائے گی۔

    سری لنکا کی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد سرکاری ملازمین کو اس طرف راغب کرنا ہے کہ اس چھٹی کا استعمال کرتےہوئےوہ اپنےخاندان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنےکےلیے سبزیاں اورپھل اگائیں اسکےساتھ ساتھ ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کی وجہ سے دفاتر پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ملازمین کی مشکلات بھی کم کی جا سکیں گی۔

    آن لائن پورٹل پر حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مناسب سمجھا گیا کہ سرکاری ملازمین کو ہفتے میں ایک اضافی چھٹی دی جائے اور ان کو درکار سہولیات دی جائیں تاکہ وہ زرعی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے گھر کے باغیچے میں یا پھر کسی اور مناسب جگہ پر مستقبل میں خوارک کی قلت کے خطرے کے پیش نظر کام کر سکیں۔

    واضح رہے کہ دو کروڑ بیس لاکھ آبادی والے ملک سری لنکا میں تقریباً دس لاکھ افراد سرکاری ملازمین ہیں اضافی چھٹی جمعے کے دن دی جائے گی یہ فیصلہ ملک میں خوراک کی قلت کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے-

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سری لنکا اپنی 70 برس کی تاریخ میں بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔زرمبادلہ ذخائر میں کمی کی وجہ سے سری لنکا کو خوراک، تیل اور ادویات جیسی ضروری اشیا کی درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق امریکہ کی جانب سے سری لنکا کی مدد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا دوسری جانب سری لنکا کی حکومت اس وقت معاشی امدادی پیکج کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں مصروف ہے اور آئی ایم ایف کا وفد آئندہ سوموار کو کولمبو پہنچنے والا ہے۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • برطانوی حکومت کا 90 ہزار سرکاری ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے پر غور

    برطانوی حکومت کا 90 ہزار سرکاری ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے پر غور

    برطانوی حکومت اخراجات میں کمی لانے کے لیے 90 ہزار سرکاری ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے پر غور کر رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ” دی گارجئین” کے مطابق اس سلسلے میں برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی کابینہ کے وزرا کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں بورس جانسن نے وزرا سے کہا ہے کہ وہ مختلف محکموں سے ملازمین کی تعداد میں کمی لائیں۔

    بورس جانسن کا کہنا کہ ملازمین کی تعداد میں کمی سے حکومتی اخراجات میں واضح کمی آئے گی اور اس سے بچنے والا پیسہ عوام کی فلاح و بہبہود کے لیے خرچ کیا جائے گا۔

    برطانوی وزیراعظم نے کابینہ سے کہا ہے کہ وہ ملازمین کی تعداد میں کمی لانے کیلئے تجاویز ایک ماہ میں پیش کریں سرکاری اخراجات میں کمی لا کر معیارِ زندگی کی بڑھتی قیمتوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    بورس جانسن نے کہا کہ ٹیکس دہندگان سے وصول کیا گیا ہر پائونڈ ترجیحی طور پر عوام پر خرچ کرنا ضروری ہے۔

    عمران خان کے آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد کے پابند ہیں،مفتاح اسماعیل

    ” دی گارجئین ” کے مطابق انہوں نے ڈیلی میل کو بتایا کہ میں زندگی گزارنے کی لاگت کو کم کرنے کے لیے حکومت کی لاگت میں کمی کرنی ہوگی انہوں نے مستقبل میں ٹیکسوں میں کٹوتیوں کا اشارہ دیتے ہوئے تجویز کیا کہ سرکاری ملازمین کی تعداد کو کم کرنے سے بچائے گئے اربوں سے ایسے اقدامات کو فنڈ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس دہندگان سے ہر پاؤنڈ پہلے سے نکالتی ہے وہ رقم ہے جسے وہ اپنی ترجیحات، اپنی زندگیوں پر خرچ کر سکتے ہیں۔

    جانسن نے وزراء کو حکم دیا کہ وہ آنے والے سالوں میں 2016 کے سرکاری ملازمین کی تعداد واپس کریں، عملہ تقریباً 25 فیصد بڑھ کر 475,000 کل وقتی مساوی ملازمتوں تک پہنچ گیا ہے وزراء کے پاس ایک ماہ کا وقت ہوگا کہ وہ اپنے محکموں میں اس کو کیسے حاصل کریں گے اس کے لیے تجاویز پیش کریں۔

    صورت حال انتہائی خطرناک ہوتی جا رہی ہے،اسد عمر

    ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم اور وزراء واضح ہیں کہ سول سروس عوام کے لیے ایک شاندار کام کرتی ہے اور حکومت کی ترجیحات میں پیشرفت کو آگے بڑھاتی ہے لیکن جب ملک بھر میں لوگوں اور کاروباری اداروں کو بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے، عوام بجا طور پر توقع کرتے ہیں کہ ان کی حکومت مثال کے طور پر رہنمائی کرے گی اور ہر ممکن حد تک مؤثر طریقے سے چلائے گی۔

    عمران خان کی فول پروف سیکیورٹی دی جائے،شہباز گل نے سیکرٹری داخلہ کو خط لکھ دیا

  • عیدا لفطر: پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑی خوشخبری سنا دی،نوٹیفیکیشن جاری

    عیدا لفطر: پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑی خوشخبری سنا دی،نوٹیفیکیشن جاری

    لاہور: پنجاب حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کو 27 اپریل تک تنخواہوں کی ادائیگی کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے عید الفطر سے قبل اس کی تیاریوں کے لیے کیا گیا۔

    پنجاب حکومت نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا جس میں تمام اداروں کے سربراہان کو 27 اپریل کو ہر صورت تنخواہ ادائیگی کا حکم دیا گیا۔

    شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں دوڑیں لگوا دیں،ملازمین کی موجیں ختم

    دریں اثنا شہباز شریف نے گزشتہ روز پیر کے روز کیے گئے اعلانات پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر دئیے تھے رمضان المبارک کے دوران سستے بازاروں میں معیاری اور کم دام پر اشیا کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دیا تھا-

    اسٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے سے متعلق سماعت: حکومت کو بالکل بھی انتقامی کارروائی نہیں…

    وزیراعظم نے رمضان بازاروں کی سخت مانیٹرنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا تھا کہ عوام کو سستی اشیا کی فراہمی میں غفلت برداشت نہیں کروں گا، پینشن میں اضافے، کم از اکم اجرت 25 ہزار کرنے کے اعلانات پر فی الفور عمل کاحکم جاری کیا-

    شہباز شریف کی وزیراعظم آفس کے افسران اور عملے سے ملاقات ہوئی ،شہباز شریف کا اس دوران کہنا تھا کہ کمر کس لیں، عوام کی خدمت کے لیے آئے ہیں، ایک لمحہ مزید ضائع نہیں کرنا،ایمان داری، شفافیت، مستعدی، انتھک محنت ہمارے رہنما اصول ہیں-

    سابق وزیراعظم عمران خان قومی خزانے میں کتنا پیسہ چھوڑ گئے؟پی ٹی آئی کے دعوے…

  • طالبان نے بغیر داڑھی والے سرکاری ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری کردیں

    طالبان نے بغیر داڑھی والے سرکاری ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری کردیں

    افغانستان میں طالبان نے بغیر داڑھی والے سرکاری ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جانب سے تمام سرکاری محکموں میں ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس میں تمام ملازمین کو داڑھی نہ منڈوانے اور مقامی لباس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے اور متنبہ کیا گیا ہے کہ ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر نوکری سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔

    بھارتی بحرین میں بھی باز نہ آئے، حجاب پہنے خاتون کو ریسٹورینٹ میں داخل ہونے سے روک دیا

    سرکاری ملازمین کو اوّل وقت میں نماز کی ادائیگی اور دراڑھی نہ منڈوانے کے حکم کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی لباس پہنیں جس میں لمبی ڈھیلی قمیص، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور سر پر ٹوپی یا پگڑی شامل ہے۔

    ہدایات نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومتی نمائندے سرکاری دفاتر کے داخلی حصوں پر موجود ہیں جنہیں ملازمین پر نظر رکھنے اور نئے قوانین پر عمل دارآمد یقنی بنانے کیلئے تعینات کیا گیا ہے بغیر داڑھی والے سرکاری ملازمین کو تنبیہ کے ساتھ گھر بھیج دیا گیا ہے۔ ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ان ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تو نوکری سے برطرف کردیا جائے گا۔

    امریکا میں موجود افغان سفارتخانے اور قونصلیٹ بند ہو گئے

    عالمی میڈیا کے نمائندے نے سرکاری ملازمین کے لیے ان پابندیوں کے بارے میں عوامی اخلاقیات کی وزارت کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تاہم کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

    خیال رہے کہ پچھلے ہفتے طالبان نے سیکنڈری اسکولوں کو کھولنے کا حکم پہلے ہی دن واپس لیتے ہوئے تاحکم ثانی اسکول بند کردیئے تھے جب کہ کسی مرد سرپرست کے بغیر بیرون ملک جانے والی خواتین کو پرواز سے روک دیا گیا تھا۔

    طالبان نے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کا حکم واپس لے لیا

  • وفاقی حکومت کا تمام سرکاری ملازمین کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا تمام سرکاری ملازمین کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گریڈ ون سے گریڈ 22 کے افسران اور ملازمین کو 33 سوالات پر مشتمل سوالنامہ ارسال کر دیا جس میں ملازمین سے ذاتی و پروفیشنل معلومات مانگی گئی ہیں، ان میں ملازمت کی نوعیت، تعلیمی قابلیت، ڈومیسائل، کیڈر،مدت ملازمت سمیت دیگر تفصیلات شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ ملک کے اندر یا بیرون ملک، لازمی ٹریننگ اور کسی شعبہ میں اگر سپیشلائزیشن کی ہوتو اس کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔

    دوسری جانب بیرون ملک 51نئے ٹریڈ افسران کی تعیناتی کا عمل آغاز پر ہی متنازع ہوگیا ہے ذرائع کے مطابق آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے 26 افسران کی درخواستیں مسترد کی گئیں جس پر کچھ افسران نے عدالت سے رجوع کرنا شروع کر دیا، نجی شعبے سے بھی بڑی تعداد میں درخواستیں مسترد کی گئیں ہیں، امیدواروں کا تحریری امتحان ایک ہفتے کیلیے ملتوی کردیا گیا۔

    وزیراعظم نے وزارت تجارت کو تعیناتیوں کا عمل شفاف اورمیرٹ پر کرنے کی ہدایت کی تھی ذرائع کے مطابق وزارت تجارت نے 300 امیدواروں کی درخواستیں تحریری امتحان کیلئے منظور کیں۔

    لوئرکوہستان میں غیرت کے نام پر15 سالہ طالب علم قتل

    واضح رہے کہ حکومت آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے آڈٹ سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے افسران کو روکنے کے لیے کوشاں ہےجس کی وجہ سے وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے-وزیراعظم عمران خان نے آڈیٹرجنرل آف پاکستان کے دفتر کی طرف سے آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے آڈٹ کے اختیار کی وسعت جاننے کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے سمری پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    7 ویں مردم شماری کی منظوری:کس نے دی منظوری نام سامنے آگیا

    جبکہ اس اقدام سے وفاقی حکومت اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کے مابین قانونی تنازع چھڑجانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے جو پہلے ہی آڈٹ کو محدود کرنے کے کسی بھی اقدام کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے۔

    فواد چوہدری کا میڈٰیا سے متعلق بیان ایک”سازش” ہے،صحافتی تنظیمیں

    ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ وفاقی کابینہ سمری کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل 100 کے تحت اٹارنی جنرل کے دفتر کو فیڈرل آڈیٹرز کے دائرہ کار پر نظرثانی کے لیے ریفرنس بھیجے گی تاہم اٹارنی جنرل پہلے ہی یہ رائے دے چکے ہیں کہ اے جی پی کا کام اکاؤنٹس کے آڈٹ تک محدود ہونا چاہیے اور انھیں گورنمنٹ انٹرپرائزز کے پرفارمینس آڈٹ سے دور رہنا چاہیے۔

    پاکستان کی ابوظبی ایئرپورٹ پر بزدلانہ دہشتگرد حملے کی شدید مذمت

  • سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ طلب

    سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ طلب کرلیا

    عدالت نے سیکرٹری اطلاعات، ایم ڈی اے پی پی کو نوٹس جاری کردیا ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 10 جنوری تک اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ پیش کیا جائے، حسنین حیدر تھہیم ایڈوکیٹ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرا موکل بھرتی کے معیار پر پورا اترتا،غیر متعلقہ افراد کو بھرتی کیا جارہا ہے،اے پی پی میں خلاف ضابطہ بھرتی کرکے تھرڈ پارٹی حق بنایا جارہا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کام غیر قانونی ہوتا ہے چاہے جو بھی کرلیا جائے، وکیل درخواست گزار حسنین حیدر ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ کچھ امیدواروں کے پاس متعلقہ ڈگری ہے نہ ہی تجربہ،اے پی پی کو ٹیسٹ ریکارڈ اور انٹرویو کی وڈیو ریکارڈنگ پیش کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، اے پی پی کو سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عملدرآمد کے احکامات جاری کیے جائیں

    دوسری جانب ‏سپریم کورٹ میں سیکڈ ایمپلائز ایکٹ 2010 کالعدم قرار دینے سے متعلق کیس‏ کی سماعت ہوئی،16ہزار سے زائد برطرف ملازمین اور وفاقی حکومت کی نظرثانی اپیلوں پر سماعت‏ ہوئی .جسٹس منصور علی شاہ‏ نے کہا کہ 11سال بعد ایکٹ بنا کے ہزاروں لوگوں کو بحال کیا گیا،وکیل ایس این جی پی ایل‏ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جن میں ملازمین کو بحال کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کچھ ملازمیں کو بحال کر کے دوسروں کا استحصال کیا گیا،وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ کسی کا استحصال نہیں ہوا حکومت تبدیل ہوئی تو نئی نے بحال کیا،جسٹس منصور علی شاہ‏ نے کہا کہ آپ کیس کو دوسری طرف لے جارہے ہیں،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کیا سوئی گیس ملازمین ٹیسٹ اور انٹرویو دےکر بھرتی ہوئے تھے؟ وکیل نے کہا کہ واک-ان انٹرویوز کے ذریعے بھرتیاں ہوئی تھیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ختم شدہ کنٹریکٹ گیارہ سال بعد کیسے بحال ہوگئے؟ جن کے کنٹریکٹ بحال ہوئے انہوں نے کیا کارنامہ انجام دیا تھا؟ کیا تمام ملازمین دہشتگردی کی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے؟ وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے تحت ملازمین کو بحال کیا گیا،پارلیمان اس نتیجہ پر پہنچی تھی کہ ملازمین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے شواہد کہاں ہیں؟ صرف انہی لوگوں کو کیوں بحال کیا گیا یہ سمجھائیں، ملازمت کے اہل تو بہت سے اور بھی ہوں گے جن کی جگہ یہ بحال ہوئے، وکیل نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث منگوا کر جائزہ لے لے، اس عمر میں ملازمین کہاں جائیں گے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوئی گیس میں پنشن کتنا عرصہ ملازمت کے بعد ملتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ حکومت نے غلطی کی ہے تو سزا ملازمین کو نہ دی جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا تعیناتی کالعدم ہونے کے دس سال بعد پنشن مل سکتی ہے؟

    ایڈووکیٹ وسیم سجاد کے دلائل مکمل ہوئے تو کے پی محکمہ تعلیم کے وکیل افتخار گیلانی کے دلائل شروع ہوئے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی کو برطرف کر دے تو پارلیمنٹ کی قانون سازی سے کسی مخصوص فرد کو بحال نہیں کیا جا سکتا ،وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایکٹ کو صحیح سے پرکھا نہیں گیا، ایک عبوری حکومت نے آکر متعدد ملازمین کو فارغ کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ یہ نہیں کہہ رہا کہ ایک جماعت کے بھرتی کیے گئے ملازمین برطرف کیے جائیں،پارلیمنٹ نے لوگوں کے ایک مخصوص گروہ کو قانون سازی کر کے فائدہ کیوں پہنچایا؟ وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ سپریم کورٹ خود کہہ چکی کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے،قانون سازوں کی بصیرت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ اپنے فیصلےپر نظر ثانی کرے،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ملازمین کی بحالی کا قانون کس طرح آئین کے مطابق ہے؟ قانون آئین کے مطابق ہونے پر آپ نے ایک دلیل بھی نہیں دی، اعتزاز احسن نے کہا کہ آئی بی افسران سول سرونٹ ہیں ان پر عدالتی فیصلہ لاگو نہیں ہوتا،سال 1996 میں نگران حکومت نے آئی بی ملازمین کو برطرف کیا تھا نگران حکومت کو ملازمین کی برطرفی کا اختیار نہیں ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نگران حکومت والے معاملے پر سپریم کورٹ 2000 میں فیصلہ دے چکی ہے، فیصلے کے 21 سال بعد کسی اور نظرثانی کیس میں مقدمہ دوبارہ نہیں کھول سکتے، وکیل آئی بی اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ملازمین بحالی کے قانون کی غلط تشریح کی،کیس کی مزید سماعت کل 11:30 تک ملتوی کر دی گئی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کو لالی پاپ دے دیا!!!

    وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کو لالی پاپ دے دیا!!!

    تنخواہوں میں اضافہ، حکومت نے ملازمین کو نئی مشکل میں ڈال دیا
    وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کو لالی پاپ دے دیا ہے، یکم مارچ سے گریڈ ایک سے 19 تک کے وفاقی سرکاری ملازمین کو 25 فیصد الاؤنس دینے کا اعلان کردیا مگر یہ الاؤنس صرف ان کو ملے گا جن کی بنیادی تنخواہ میں کبھی بھی 100 فیصد اضافہ نہ ہوا جبکہ ایڈہاک ریلیف اور ٹائم اسکیل گرانٹ پر آئندہ بجٹ میں غور ہوگا۔وفاقی سرکاری ملازمین اور حکومت کے درمیان طے پانیوالے معاہدے کی روشنی میں وزارت خزانہ ملازمین کو ریلیف فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے مگر زیادہ تر مطالبات آئندہ بجٹ میں ماننے کا وعدہ کرلیا ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں 25 فیصد الاؤنس فراہم کیا جائے گا مگر یہ الاؤنس ان ملازمین کو دیا جائے گا جن کی تنخواہوں میں کبھی 100 فیصد اضافہ نہ ہوا ہو گا۔گریڈ 1 سے 19 تک کے ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 25 فیصد الاؤنس شامل کیا جائے گا جبکہ امتیازی الاؤنس یکم مارچ سے جاری کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ کی طرز پر یکم مارچ سے گریڈ 1 سے 16 کی پوسٹوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا، مگر ٹائم اسکیل گرانٹ پر آئندہ بجٹ میں غور کیا جائے گا۔
    یکم جولائی سے ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا مگر صوبوں کو تنخواہوں میں اضافے کی سفارشات اپنے وسائل سے پورے کرنے کی تجویز دی جائے گی لیکن تنخواہوں میں اضافے کی سمری وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی۔

  • ‏سرکاری ملازمین کو اپنے اخراجات کم کرنے سے متعلق میں نے کوئی بیان نہیں دیا:  شبلی فرازٹویٹ

    ‏سرکاری ملازمین کو اپنے اخراجات کم کرنے سے متعلق میں نے کوئی بیان نہیں دیا: شبلی فرازٹویٹ

    وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کا ‏سرکاری ملازمین کے احتجاج کے حوالے سے ٹویٹ کیا-

    ٹویٹ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ میں ‏سرکاری ملازمین کو اپنے اخراجات کم کرنے سے متعلق خود سے منسوب جملوں کی تردید کرتا ہوں- ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات کو سننے اور ان پر پیش رفت کے لئے تیار ہیں۔
    افسوس ہے کہ ایسی بات مجھ سے منسوب کی گئی جو میں نے نہیں کہی۔غلط طورپر جو بات مجھ سے منسوب کی گئی، اس کا اس کے سوا اور کوئی مقصد دکھائی نہیں دیتا کہ غلط فہمیاں پیدا کرکے سیاسی مفاد حاصل کیاجائے۔ امید کرتا ہوں کہ میڈیا اس معاملے پر اپنی ذمہ داریاں نبھائے گا۔