Baaghi TV

Tag: سرکاری گاڑیاں

  • لاہور ہائیکورٹ کا گریڈ 20 اور 21 کے افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ کا گریڈ 20 اور 21 کے افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ نے گریڈ 20 اور 21 کے افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے نئی مونیٹائزیشن پالیسی جاری کر دی-

    چیف جسٹس اور دیگر ججز کی منظوری کے بعد اس پالیسی پر عملدرآمد کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق اب افسران کو سرکاری گاڑی کے بجا ئے ماہانہ بنیاد پر فکس الاؤنس دیا جائے گا، گریڈ 20 کے افسران کو 65 ہزار 960 روپے ماہانہ جب کہ گریڈ 21 کے افسران کو 77 ہزار 430 روپے ماہانہ الاؤنس دیا جائے گا، گریڈ 19 کے افسران کے لیے فکس الاؤنس کی منظوری سے متعلق فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

  • سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنیوالوں کیخلاف مقدمات درج کروانے کا فیصلہ

    سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنیوالوں کیخلاف مقدمات درج کروانے کا فیصلہ

    کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے کفایت شعاری کا اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزرا سعید غنی، علی حسن زرداری اور چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری جی اے محمد نواز سوہو شریک ہوئے۔

    ذیلی کمیٹی برائے کفایت شعاری کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے اور ان کا غیر مجاز استعمال کرنے والوں کو نامزد کرکے ایف آئی آرز کٹوائی جائیں گی کمیٹی اجلاس میں متروکہ سرکاری گاڑیوں کی نیلامی کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ ممبران نے اپنی سفارشات پیش کیں اور اخراجات میں کمی یقینی بنانے کی تجاویز بھی دیں۔

    سرکاری گاڑیوں کے استعمال، پیٹرولیم، آئل اور لبریکنٹس کے اخراجات کو کنٹرول کرنے اور بے کار گاڑیوں کی نیلامی پر بھی تفصیلی تباد لہ خیال کیا گیا ممبران نے ہدایت کی کہ گاڑیوں کی الاٹمنٹ اور ریگولیٹ کرنے کے لیے واضح رہنما خطوط پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، نیلامی کا عمل شفاف بنانے اور حاصل ہونے والے فنڈز ترجیحی منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی تجاویز بھی دی گئی۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال کے روک تھام اور پی او ایل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے، خراب گاڑیوں کی نیلامی مکمل طور پر شفاف بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔