Baaghi TV

Tag: سرگرمیاں

  • پاک فضائیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں مزید تیز کردیں

    پاک فضائیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں مزید تیز کردیں

    پاک فضائیہ نے خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں مزید تیز کردیں۔ پاک فضائیہ اس مقصد کے لیے ہر ممکنہ حد تک وسائل وقف کر رہی ہے۔ پاک فضائیہ کے اہلکار سیلاب متاثرین کی بحالی کے عمل میں سول انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہےہیں۔ علاقے میں راشن، ادویات اور اشیاۓ ضروریہ گرانے کے لیئے ہیلی کاپٹر آپریشنز بھی جاری ہیں۔

    ایئر مارشل حامد راشد رندھاوا، ہلال امتیاز (ملٹری)، ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف ایڈمنسٹریشن نے حیدرآباد کے قریب پاک فضائیہ کے ریلیف کیمپ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے سیلاب متاثرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ایئر آفیسر نے دور دراز علاقوں میں بروقت اور مسلسل جاری امدادی کاروائیوں پر پاک فضائیہ کی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔

    اس سے قبل، ائیر وائس مارشل حاکم رضا، ستارہ امتیاز (ملٹری)، ائیر آفیسر کمانڈنگ ناردرن ائیر کمانڈ نے بھی اراک، تحصیل مٹہ میں سیدو شریف ڈیٹ کی جانب سے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ علاقہ مَکِینوں اور سول انتظامیہ نے پاک فضائیہ کی جانب سے بحالی اور امداد کے لیئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

    سیلاب متاثرین کی مشکلات کو کم کرنے کے لیئے پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1853 خشک راشن کے پیکٹ، 1960 پانی کی بوتلیں اور 11860 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ تقسیم کیئے۔ مزید برآں پاک فضائیہ کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپوں میں پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے 3644 مریضوں کا طبی معائنہ بھی کیا۔

  • سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ

    مون سون بارشوں نے ملکی تاریخ کی بدترین تباہی مچائی ہے۔ بارشوں نے بلوچستان، جنوبی پنجاب اور سندھ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے .حکومت نے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوج بھیجے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

    وفاقی کابینہ کی طرف سے سرکولیشن سمری کے ذریعے فوج متاثرہ اضلاع میں بھیجنے کی منظوری دی گئی۔ آئین کے آرٹیکل 245کے تحت فوج تعینات کرنے کی سمری کی منظوری دی گئی۔خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے متاثرہ اضلاع میں فوج بھیجی جائے گی، تمام صوبائی حکومتوں کے محکمہ داخلہ کو آگاہ کردیا گیا۔

    دوسری طرف وزارت داخلہ نے شدید بارشوں اور سیلاب کی ہنگامی صورتحال کے پیش نظرسویلین حکومت کی مدد کیلئے چاروں صوبوں میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دےدی۔

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سویلین حکومت کی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشنز میں مدد کیلئے پاک افواج کی تعیناتی کی جارہی ہے۔ پاک افواج کو چاروں صوبوں کے سیلاب سے آفت زدہ علاقوں میں تعینات کیا جارہا ہے-

    انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ڈیرہ غازی خان ضلع میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک افواج تعینات کی ریکوزیشن کی ہے، حکومت خیبر پختونخوا نے ڈیرہ اسماعیل خان ضلع میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں فوج تعینات کرنے کی ریکوزیشن کی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نےنصیر آباد،جھل مگسی، صحبت پور، جعفر آباد اورلسبیلہ اضلاع میں فوج کی تعیناتی کیلئے ریکوزیشن کی ہے۔ سندھ حکومت نے سیلابی علاقوں میں صوبائی حکومت کی مدد کیلئے فوج تعینات کرنے کیلئے ریکوزیشن وزارت داخلہ بھیجی۔

    انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ میں قائم کنٹرول روم سے سیلاب کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جارہاہے۔سیلاب سے متاثرہ لوگوں کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔انسانی زندگیاں بچانا اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ضروری انسانی اور مالی وسائل فراہم کر رہی ہے۔

  • پنجاب پولیس کی  ڈی جی خان اور راجن پور میں امدادی سرگرمیاں

    پنجاب پولیس کی ڈی جی خان اور راجن پور میں امدادی سرگرمیاں

    آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کی ہدایات پر ڈی جی خان اور راجن پور میں پولیس کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    ترجمان پنجاب پولیس کی مطابق چوبیس گھنٹوں میں پولیس نے سیلابی پانی میں پھنسے 1380 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ۔ پولیس نے605 مویشیوں کو ریسکیو کیا۔

    آر پی او ڈی جی خان کے مطابق ڈی جی خان ریجن کے سیلاب زدہ علاقوں میں مجموعی طور پر پولیس کے1200سے زائد جوان امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ڈیرہ غازی خان ریجن کے سیلاب زدہ علاقوں میں پولیس نے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان و فوڈ پیکٹ بھی تقسیم کیے۔امدادی سامان میں راشن، دودھ، جوس، بسکٹ و دیگر ضروریات کی اشیاء شامل ہیں۔

    آئی جی پنجاب کے حکم پر آر پی او اور ڈی پی اوز سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کے لیے متحرک ہیں،آر پی او محمد سلیم نے راجن پور کے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں حصہ لیا۔

    آر پی او محمد سلیم کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان پولیس اپنے وسائل سے تقسیم کر رہی ہے۔ ایس ایچ اوز امدادی سامان ضرورت مندوں تک اپنی نگرانی میں پہنچا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پولیس امدادی کارروائیوں کے ساتھ جان و مال کا تحفظ بھی کر رہی ہے ۔ سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کا عمل جاری ہے ۔ پولیس کے جوان سیلابی پانی سے شہریوں، مویشیوں اور انکے سامان کو باہر نکال رہے ہیں۔ متاثرین کو ریلیف کیمپوں میں تمام سہولیات اور سکیورٹی فراہم کی گئی ہے ۔