Baaghi TV

Tag: سزا

  • چین:سرکاری ادارے کے سابق اعلیٰ عہدیدار کو  رشوت لینے پر سزائےموت

    چین:سرکاری ادارے کے سابق اعلیٰ عہدیدار کو رشوت لینے پر سزائےموت

    چین میں سرکاری ادارے کے سابق اعلیٰ عہدیدار کو رشوت لینے پر سزائےموت دے دی گئی۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق چین نے منگل کو رشوت لینے پر سرکاری ادارے کے سابق ایگزیکٹو Bai Tianhuiکو سزائےموت دی،سزا پانے والا مجرم چین کی بڑی سرکاری اثاثہ جات کا انتظام کرنے والی کمپنی China Huarong International Holdings میں جنرل مینیجر کے عہدے پر تعینات تھا۔

    چینی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ سابق ایگزیکٹو نے 2014 سے 2018 کے دوران 156 ملین ڈالر سے زائد رشوت لینے کا اعتراف کیا تھا،چینی عدالت نے مئی 2024 میں سابق ایگزیکٹو Bai Tianhui کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی،ملزم کی جانب سے سزائے موت کے خلاف اپیل پر چینی سپریم کورٹ نے ملزم کے جرم کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے سزائےموت برقرار رکھی تھی، تاہم سابق ایگزیکٹو کو منگل کی صبح چینی شہر Tianjinمیں اپنے قریبی رشتہ داروں سے آخری ملاقات کے بعد سزائے موت دی گئی۔

    اس سے قبل اسی کمپنی کے سابق چیئرمینLai Xiaomin کو جنوری 2021 میں 253 ملین ڈالر کی رشوت لینے پر سزائے موت دی گئی تھی جبکہ کمپنی کے کئی دیگر افسران بھی بدعنوانی کی تحقیقات کی زد میں آ چکے ہیں۔

  • بچے کے زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت کا فیصلہ

    بچے کے زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت کا فیصلہ

    راولپنڈی:عدالت نے بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت دینے کا فیصلہ سنا دیا۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے فیصلے میں لکھا کہ مجرم عرفان عظیم کو قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی جب کہ زیادتی کے جرم میں بھی سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی،اسی طرح اغوا کے جرم میں بھی سزائے موت کے ساتھ 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیامجموعی طور پر مجرم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    مجرم نے مارچ 2023ء میں تھانہ دھمیال کے علاقے سے 13 سالہ بچے کو اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور چھری کے وار سے قتل کر دیا تھاٹھوس شواہد اور مؤثر پیروی کی بنیاد پر عدالت نے مجرم کو سخت ترین سزا دیتے ہوئے حکم دیا کہ اسے پھانسی پر اس وقت تک لٹکایا جائے جب تک موت واقع نہ ہو۔

    رواں ماہ مکمل چاند گرہن کا مشاہدہ پاکستان میں بھی کیا جاسکے گا

    ادھرکراچی کی عدالت نے اسکول وین میں 7 سالہ بچی کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر ملزم (ڈرائیور) کو 14 سال قید کی سزا سنا دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسطی کی عدالت میں وین ڈرائیور کی جانب سے کمسن بچی کو ہراساں کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم اویس خان کو 14 برس قید کی سزا سناتے ہوئے 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا،جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کو مزید 3 سال قید بھگتنا ہوگی۔

    بھارت : اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں چوہے نے 2 نومولود بچوں کو کاٹ لیا

    پراسیکیوٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ ملزم نارتھ ناظم آباد میں واقع اسکول سےگھر بچی کو پک اینڈ ڈراپ سروس فراہم کرتا تھا بچی نے اپنے والدین کو بتایا کہ ڈرائیور اس کے ساتھ غیراخلاقی حرکات کرتا ہے، والدین کی شکایت پر ملزم کو گرفتار کیا گیا تھاعدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل صفائی نے نکتہ اٹھایا کہ مقدمے میں وقت اور جگہ نہیں بتائی گئی، بچی 7 سال کی ہے، اس کے لیے یہ یاد رکھنا بہت مشکل ہے،تازہملزم اویس خان کے خلاف تھانہ تیموریہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • توہین آمیز خاکے شائع کرنیوالے اخبار کے سابق دفتر پر حملہ،پاکستانی کو ملی سزا

    توہین آمیز خاکے شائع کرنیوالے اخبار کے سابق دفتر پر حملہ،پاکستانی کو ملی سزا

    فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کے سابق دفتر کے سامنے دو افراد پر قاتلانہ حملے میں ملوث پاکستانی شہری کو عدالت نے 30 سال قید کی سزا سنادی۔

    یہ واقعہ 2020 میں پیش آیا جب ، ظہیر محمود، نے پیرس میں چارلی ہیبڈو کے سابق دفتر کے باہر دو افراد پر خنجر سے حملہ کیا۔ اس حملے کے پیچھے اس کا خیال تھا کہ اخبار کا دفتر ابھی بھی اس مقام پر موجود ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ دفتر وہاں سے منتقل ہوچکا تھا۔پیرس کی عدالت نے اس حملے کو "اقدام قتل” کے جرم کے طور پر قرار دیتے ہوئے مجرم کو 30 سال کی قید کی سزا سنائی۔ ظہیر محمود پاکستانی دیہی علاقے کا رہائشی ہے اور 2019 میں غیر قانونی طور پر فرانس پہنچا تھا۔

    عدالت کے فیصلے کے مطابق، ظہیر نے اپنا حملہ کرنے کے لیے اس بات پر یقین رکھا کہ چارلی ہیبڈو کا دفتر ابھی بھی اسی مقام پر موجود ہے اور اس نے اس حملے کے ذریعے اپنے خیالات اور رد عمل کو ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی۔

    چارلی ہیبڈو نے 2015 میں توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے، جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا، اسی سال اس کے دفتر پر القاعدہ سے وابستہ حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا، جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فرانسیسی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے سزا کے ساتھ ساتھ فرانس میں دوبارہ داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

    بھارتی ساختہ موبائل فونز،آلات پاکستان کی سائبر سکیورٹی کیلئے بڑا خطرہ بن گئے

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ

  • ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر یونیورسٹی کیس کا فیصلہ آچکا ہے اور اس سے متعلق اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ فرح گوگی جو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر رقم لے کر بیرونِ ملک فرار ہوئی، اس نے ریاستی وسائل کا غلط استعمال کیا اور چوری کے مال کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ریاستی رقم کسی کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے، اور ایسا عمل پوری قوم کے لیے باعث شرم ہے۔وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، جو کہ ہمیشہ مخالفین کو چور اور بدعنوان قرار دیتے رہے، انہوں نے خود ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کیا اور عوام کے ساتھ ظلم کیا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف جو کچھ ہوا، وہ سب سامنے آچکا ہے اور ان کی حکومت نے عوام کو صرف دھوکہ دیا۔

    میڈیا والے بتائیں ملک ریاض کا نام کیوں نہیں لیتے؟خواجہ آصف
    خواجہ آصف نے نواز شریف کے بارے میں کہا کہ ان پر کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا، اور مخالفین کے پاس ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ مذاکرات میں پی ٹی آئی کی ڈیمانڈ ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت قیدی رہا کیے جائیں لیکن یہ نہیں ہوگا۔عدالتیں ہی قیدیوں کو رہا کر سکتی ہیں،کسی کوغلط فہمی نہیں ہونی چاہئےکہ القادر کوئی یونیورسٹی نہیں ہے،190 ملین پاؤنڈز پاکستانی عوام اور حکومت کا پیسہ ہے،ٹی وی پر سنا ہے کہ یونیورسٹی سرکاری تحویل میں لی جا رہی ہے، سوکالڈ یونیورسٹی، کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے،یہ یونیورسٹی نہیں ہے، ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے کیونکہ مقدمے میں سب سامنے آگیا ہے،برطانیہ سے آنے والا پیسہ عمران خان نے ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں ڈالا گیا، وہ پیسہ پاکستانی حکومت کا تھا،میڈیا والے بتائیں ملک ریاض کا نام کیوں نہیں لیتے؟ جیو والے بیپ، بیپ کرتے ہیں، جہاں سے مال ملے وہاں کوئی نہیں بولتا،

    عمران خان نجات دہندہ نہیں، نوسرباز فراڈیا ہے،کوئی بزدار ہوتا ہے کوئی گوگی ،نام ہی شریفوں والے نہیں، گوگا، گوگی، کن ٹٹے نام ہیں،خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم میں کوئی بتادےمیں نےمذاکرات سےمنع کیاہو،پی ٹی آئی والوں نےخودکہاہےفیصلےکامذاکرات پراثرنہیں پڑےگا،اللہ کرے ملک کیلئے خلوص کیساتھ مذاکرات جاری رہیں، عمران خان نجات دہندہ نہیں، نوسرباز فراڈیا ہے، کوئی بزدار ہوتا ہے کوئی گوگی ہوتی ہے، عجیب عجیب نام ہیں،نام ہی شریفوں والے نہیں، گوگا، گوگی، کن ٹٹے نام ہیں،

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج بھی کیا

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہم اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج بھی کریں گے، سوال تو پوچھنا چاہیے نواز شریف کے بیٹے حسن نواز سے کہ تم نے جس پیسے سے لندن میں ون ہائیڈ پارک کی عمارت خریدی وہ پیسہ کس طرح باہر لیکر گئے اور آگے پھر بیچی، اس رقم کا تم نے کیا کیا؟ آج وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔

    چور دندناتے پھر رہے اور یونیورسٹی بنانے پر سزا سنا دی گئی، شبلی فراز
    دوسری جانب سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس ملک میں چور دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ معصوم اور ایماندار لوگ جو کہ اس ملک میں نبی کریم ﷺ کو سیرت کو پڑھانے کے لیے القادر یونیورسٹی جیسا ادارہ بناتے ہیں انہیں سزا سنا دی جاتی ہے، القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے معاملے پر نا تو حکومت کو ایک دھیلے کا نقصان ہوا اور نا ہی عمران خان یا بشریٰ بی بی کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم گئی، نیت ٹھیک تھی، مقصد بھی ٹھیک تھا لیکن اس ملک میں یہ رواج بنایا جا رہا ہے کہ ایک شخص جو شوکت خانم کینسر اسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے ادارے بناتا ہے اسے القادر یونیورسٹی بنانے پر سزا دی جا رہی ہے جس میں نوجوان نسل کو سیرت النبی ﷺ پڑھائی جانی تھی اور پاکستان کے نوجوانوں کو مستفید ہونا تھا۔

    فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں بدترین فیصلے کے طور پر جائے گا، فیصل چوہدری
    پی ٹی آئی رہنما، وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایک شرمناک فیصلہ ہے، آج انصاف کا قتل عام ہوا، نواز شریف کے بیٹے نے نو ارب روپے کی پراپرٹی خریدی، آپ ایون فیلڈ بنائیں اور لندن میں پراپرٹی بنائیں اور اپنے کیس معاف کرائیں، میں اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں،آپ کی بھول ہے کہ آپ بانی پی ٹی کو سزا دے کر آپ کچھ بگاڑ سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی ایک نظریے کا نام ہے، عمران خان جیل میں بیٹھا تم پر بھاری ہے، عمران ایک نظریہ اور تحریک کا نام ہے، اس تحریک کو پی ٹی آئی کا ہر ورکر اپنے خون سے سینچے گا، آج عوام کے کھڑے ہونے کا دن ہے، آج کا دن سیاہ ترین دن ہے، یہ فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں بدترین فیصلے کے طور پر جائے گا،

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    پی ٹی آئی نے القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کو سیاہ فیصلہ قرار دیدیا، پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا، احتجاج میں زرتاج گل بھی شریک تھیں، شرکا نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی اور عمران خان کو رہا کرو کے نعرے لگائے،شرکا نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے

    القادر ٹرسٹ کیس میں فیصلے کے بعد عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے، عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کوخراب کردیا ،اس کیس میں نہ مجھے فائدہ ،نہ حکومت کو نقصان ہوا،مجھے کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،ایک آمر اپنی ذات کیلئے یہ سب کررہا ہے، چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے پولیس والوں کوپلاٹ دیئے گئے،جوساتھ ہے وہ آزاد اور جو مخالف ہے انہیں سزائیں، میری بیوی گھریلو عورت ہے ،اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، بشریٰ بی بی کو سزا مجھے تکلیف دینے کیلئے دی گئی،غور سے سُن لیں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا، چاہے مذاکرات ہوں یا کچھ بھی،سزا جتنی بھی سُنائیں فرق نہیں پڑتا، 1971 میں جنرل یحییٰ نے ملک تباہ کیا آج آمر بھی اپنے فائدے کیلئے یہی کام کر رہا ہے،

    پی ٹی آئی رہنما مشعال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے جیل میں اپنی گرفتاری دیدی ہے، اڈیالہ جیل کے حکام انکی گرفتاری نہیں لے رہے، ہمیں اندیشہ ہے کہ پچھلی بار کی طرح اُنہیں بنی گالہ منتقل کرنے کیلئے سازش رچائی جارہی ہے، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں ہی رہنا چاہتی ہیں، وہ بنی گالہ نہیں جانا چاہتیں،ہم اڈیالہ کے باہر موجود ہیں، میڈیا کے توسط سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بشریٰ نے خود گرفتاری دی، نہ خان نے بنی گالہ جانا ہے نہ بشریٰ نے، یہ پھر سے کچھ کریں گے تو ہم دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں گے، بشریٰ کی گرفتاری قبول کی جائے اور اسے اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جائے،

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جج نے فیصلہ سُنایا تو عمران خان ہنس پڑے، عمران خان نے کہا جو ناانصافی پر فیصلے کرتے ہیں اُن کو پروموشن ملتی ہے، عمران خان کا پیغام ہے لوگوں کے لئے مایوسی گناہ ہے، مایوسی نہیں ہونا،ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے،

  • بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی،دولہا کو 6 ماہ قید کی سزا

    بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی،دولہا کو 6 ماہ قید کی سزا

    لودھراں کی تحصیل کہروڑپکا کی رہائشی شکیلہ بی بی نے اپنے شوہر محسن کے خلاف عدالت میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محسن نے اس کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرلی ہے۔

    شکیلہ بی بی نے سول کورٹ میں یہ کیس دائر کیا تھا کہ اس کے شوہر محسن نے بغیر اس کی رضامندی اور اجازت کے دوسری شادی کر لی، جو کہ قانوناً جرم ہے۔ اس کیس کی سماعت کے دوران جج فیملی کورٹ، طاہرہ شہزاد خان نے تمام شواہد اور گواہیوں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا کہ محسن نے شکیلہ بی بی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی ہے، جو کہ اسلامی قوانین اور پاکستانی قوانین کے مطابق جرم ہے۔جج نے مجرم محسن کو 6 ماہ قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔ اگر مجرم نے جرمانے کی رقم ادا نہ کی، تو اسے مزید 2 ماہ قید کی سزا بھگتنی ہوگی۔

    عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے فوری طور پر مجرم محسن کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا اور سینٹرل جیل بہاولپور منتقل کردیا، جہاں وہ اپنی سزا کاٹیں گے۔یہ فیصلہ قانونی طور پر خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور ان کو اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ ان کی رضامندی کے بغیر کسی بھی قسم کی شادی کرنا غیر قانونی ہے۔

    صفائی والی لڑکی کے ساتھ چار ملزمان کی اجتماعی زیادتی

    اداکارہ میرا اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی

  • ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    نیو یارک: امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہش منی کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ نیو یارک کی عدالت نے 10 جنوری 2025 کو ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، جج نے کاروباری معلومات میں جعلسازی کے مقدمے میں ٹرمپ پر فرد جرم برقرار رکھی ہے۔ اس کیس میں ٹرمپ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاروباری معاملات میں جعلی معلومات فراہم کی تھیں، جس کے نتیجے میں انہوں نے مالی فوائد حاصل کیے۔تاہم، ابتدائی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کو اس کیس میں جیل کی سزا ممکنہ طور پر نہیں سنائی جائے گی۔ اس کے بجائے، انہیں جرمانے یا دیگر سزائیں مل سکتی ہیں۔ اس مقدمے میں ٹرمپ کی ذمہ داری کی نوعیت کی وجہ سے جج نے یہ کہا کہ ان پر فرد جرم برقرار رکھی جائے گی، لیکن اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں صدر کے عہدے کے لیے خدمات انجام دینے کی اجازت دی جائے گی، حالانکہ وہ مجرم قرار پائیں گے۔

    واضح رہے کہ 10 جنوری کے فیصلے کے بعد صرف چند دنوں میں، یعنی 20 جنوری 2025 کو، ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر کے عہدے کے لیے حلف اٹھانا ہے۔ اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ کی صدر کے طور پر حلف برداری کے عمل میں کوئی قانونی رکاوٹ آئے گی یا نہیں، اور آیا وہ اس مقدمے کے باوجود امریکی صدر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے پائیں گے۔

    ٹرمپ کی ٹیم اور ان کے حامیوں کی جانب سے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے کئی رہنما اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی نوعیت کا مقدمہ ہے جو ٹرمپ کی صدارت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے۔اگرچہ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا جائے گا، لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اپنے سیاسی کیریئر کو جاری رکھیں گے اور 2025 میں صدر کے طور پر اقتدار سنبھالیں گے، کیونکہ امریکی آئین میں کسی شخص کو صدر بننے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ عدالتی مقدمات میں بے قصور ہو۔

    جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

  • نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے،  عطا تارڑ

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس مفصل تھی،

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نو مئی اور 26 نومبر کے حوالے سے تفصیلی خیالات کا اظہار کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے احسن طریقے سے تمام امور پر روشنی ڈالی،نو مئی کے کیسز میں جن لوگوں نے دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا اور شہداءکی یادگاروں کو مسمار کیا، ان کے ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوئے، ٹرائل میں وکیل کا حق دینے کے ساتھ ساتھ فیملی اور ریکارڈ تک رسائی فراہم کی گئی،ملٹری کورٹس میں ٹرائل غیر موجودگی میں نہیں ہو سکتا، اس کے لئے خود موجود ہونا لازمی ہوتا ہے، ٹرائل میں اپیل کے دو حق دیئے گئے، ملٹری اتھارٹیز اور ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دیا گیا ہے، رائٹ ٹو فیئر ٹرائل کو یقینی بنایا گیا ہے،جن لوگوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا، وہ دیگر جلاﺅ گھیراﺅ کے واقعات میں ملوث تھے ان کے مقدمات اے ٹی سی میں چل رہے ہیں، اگر دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا گیا ہے تو اس کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا،تمام مقدمات قانون اور آئین کے مطابق چل رہے ہیں، نو مئی کے منصوبہ ساز اور ماسٹر مائنڈ کے خلاف بھی کیس آگے بڑھنا چاہئے،نو مئی کے کیسز کا فیصلہ عجلت میں نہیں ہوا، اس میں دو سال کا عرصہ لگا، نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے،

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

  • نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نو مئی کے مزید ساٹھ مجرموں کو سزائیں، کل تعداد 85 ہوگئی ہے،آج پی ٹی آئی کے مزید 60 بلوائیوں کو نو مئی کے فسادات میں ملوث ہونے پر سزائیں سنائی گئی ہیں، جس کے بعد ان مجرموں کی تعداد 85 ہوگئی ہے۔ نو مئی کے فسادات میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات، سرکاری املاک اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامی حالات پیدا ہوگئے تھے۔

    یہ فسادات اس وقت ملک کی سیاست کا اہم موضوع بن گئے تھے، اور ان میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور مقدمات کے سلسلے میں مسلسل پیشرفت ہو رہی ہے۔ تاہم، ایک المیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی قیادت میں سے کسی نے بھی ان بلوائیوں کا مقدمہ لڑنے کی کوشش نہیں کی۔عمران خان اور ان کی جماعت کے قائدین مسلسل اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ فوجی عدالتیں غیر انسانی ہیں، اور ان کے کارکنوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ موقف محض سیاسی مفادات کے تحت اپنایا گیا ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کی جماعت کو اس بات کا خوف ہے کہ عمران خان کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں ہو گا ،خان کو یقین ہے کہ وہاں کیس اتنے مضبوط شواہد کے ساتھ پیش کیا جائیگا جس کیے بعد اس کے خلاف کہیں اپیل بھی منظور نہیں ہوسکے گی

    نو مئی کا واقعہ کوئی راز نہیں ہے۔ آج ہر فرد کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح ایک مخصوص جماعت کے سیاستدانوں اور ان کے حمایتیوں نے افواج پاکستان، خفیہ ایجنسیوں اور سپاہ سالار کے خلاف زہر بھری تقاریر کیں اور ملک میں انتشاری فضا پیدا کی۔مذکورہ سیاستدانوں نے اپنے کارکنوں کو بلوائیوں کی صورت میں میدان میں اُتارا اور عوامی املاک، فوجی تنصیبات اور اہم سرکاری اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم، 9 مئی کے بعد جب فسادیوں کے چہرے بے نقاب ہوئے، تو عوام نے ان کی حمایت کرنا بند کر دیا اور انہیں مسترد کر دیا۔

    نو مئی کے فسادات کے بعد ایک نیا بیانیہ سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ سب کچھ ایک "فالس فلیگ آپریشن” تھا۔ یعنی یہ فسادات حکومت یا ریاستی اداروں کی جانب سے کسی مقصد کے لیے خود کیے گئے تھے تاکہ کسی خاص گروہ کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکے۔ لیکن عوام ان دعووں سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ عوام نے اس بیانیہ کو مسترد کردیا اور ان سیاستدانوں کی حقیقت کو پہچان لیا جو عوام کو ہمیشہ بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمران خان جانتے تھے کہ فوجی عدالتوں میں ان کے کارکنوں کے خلاف فیصلہ آنا تقریباً یقینی تھا اور اس کے بعد ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے خلاف عالمی سطح پر شور مچاتے ہیں۔

    نو مئی کے فسادات کے حوالے سے عدالتوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور ان فسادات میں ملوث افراد کو سزا دی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سارے معاملے میں عمران خان اور ان کی جماعت نے اپنی اخلاقی ذمہ داری سے انکار کیا ہے اور اپنے کارکنوں کا مقدمہ لڑنے کے بجائے انہیں سیاسی ہمدردی کے بہانے ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ 9 مئی کا واقعہ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن چکا ہے، اور عوام نے اس کی حقیقت کو جان لیا ہے۔

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید مجرمان کو سزائیں سنا دی گئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائی گئی ہے،جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللّٰہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے، جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔بریگیڈیئر رجاوید اکرم کو 6 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے،

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائیں، سزا پانے والے 60 مجرمان کی تفصیلات درجہ زیل ہیں۔
    جناح ہاؤس حملہ
    • حسان خان نیازی: 10 سال قید بامشقت
    • میاں عباد فاروق: 2 سال قید بامشقت
    • رئیس احمد: 6 سال قید بامشقت
    • ارزم جنید: 6 سال قید بامشقت
    • علی رضا: 6 سال قید بامشقت
    • بریگیڈیئر (ر) جاوید اکرم: 6 سال قید بامشقت
    • محمد ارسلان: 7 سال قید بامشقت
    • محمد عمیر: 6 سال قید بامشقت
    • نعمان شاہ: 4 سال قید بامشقت

    جی ایچ کیو حملہ
    • راجہ دانش: 4 سال قید بامشقت
    • سید حسن شاہ: 9 سال قید بامشقت
    • محمد عبداللہ: 4 سال قید بامشقت

    اے آئی ایم ایچ، راولپنڈی حملہ
    • علی حسین: 7 سال قید بامشقت
    • فرہاد خان: 7 سال قید بامشقت

    پنجاب رجمنٹ سنٹر، مردان حملہ
    • زاہد خان: 2 سال قید بامشقت

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس، تیمرگرہ حملہ
    • سہراب خان: 4 سال قید بامشقت
    • محمد سلیمان: 2 سال قید بامشقت
    • اسد اللہ درانی: 4 سال قید بامشقت

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملہ
    • خرم لیاقت: 4 سال قید بامشقت
    • پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ: 3 سال قید بامشقت

    قلعہ چکدرہ حملہ
    • ذاکر حسین: 7 سال قید بامشقت
    • اکرام اللہ: 4 سال قید بامشقت
    • رئیس احمد: 4 سال قید بامشقت
    • گوہر رحمان: 7 سال قید بامشقت

    بنوں کینٹ حملہ
    • امین شاہ: 9 سال قید بامشقت
    • اکرام اللہ: 9 سال قید بامشقت
    • ثقلین حیدر: 9 سال قید بامشقت
    • عزت گل: 9 سال قید بامشقت
    • نیک محمد: 9 سال قید بامشقت
    • رحیم اللہ: 9 سال قید بامشقت
    • خالد نواز: 9 سال قید بامشقت

    پی اے ایف بیس میانوالی حملہ
    • فہیم ساجد: 8 سال قید بامشقت
    • احسان اللہ خان: 10 سال قید بامشقت
    • محمد بلال: 4 سال قید بامشقت

    فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملہ
    • حمزہ شریف: 2 سال قید بامشقت
    • امجد علی: 2 سال قید بامشقت
    • محمد فرخ: 5 سال قید بامشقت
    • محمد سلمان: 2 سال قید بامشقت
    • فہد عمران: 9 سال قید بامشقت

    دیگر حملے
    • راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملہ: محمد احمد (2 سال قید بامشقت)، منیب احمد (2 سال قید بامشقت)
    • گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملہ: محمد ایاز (2 سال قید بامشقت)
    • تمام مقدمات آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے گئے۔
    • مجرموں کو اپیل اور دیگر قانونی حقوق حاصل ہیں۔
    • مسلح افواج، حکومت، اور عوام انصاف کے قیام اور ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔

    ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں ،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کے مطابق اِس کے ساتھ ہی فوجی حراست میں لئے جانے والے 9 مئی کے ملزمان پر
    چلنے والے مقدمات کی سماعت متعلقہ قوانین کے تحت مکمل کر لی گئی ہے،تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جیسا کہ آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے،قوم، حکومت اور مسلح افواج انصاف اور ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں

    سزا پانے والے 60 مجرمان کی تفصیلات درجہ زیل ہیں

    1۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت
    2۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت
    3۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث رئیس احمد ولد شفیع اللہ کو 6 سال قید بامشقت
    4۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث ارزم جنید ولد جنید رزاق کو 6 سال قید بامشقت
    5۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت
    6۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ دانش ولد راجہ عبدالوحید کو 4 سال قید بامشقت
    7۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث سید حسن شاہ ولد آصف حسین شاہ کو 9 سال قید بامشقت
    8۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی پر حملے میں ملوث علی حسین ولد خلیل الرحمان کو 7 سال قید بامشقت
    9۔ پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد نبی کو 2 سال قید بامشقت
    10۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤنٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث سہراب خان ولد ریاض خان کو4 سال قید مشقت
    11۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم ولد چودھری محمد اکرم کو 6 سال قید بامشقت
    12۔ ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم لیاقت ولد لیاقت علی شاہد کو 4 سال قید بامشقت
    13۔قلعہ چکدرہ حملے میں ملوث ذاکر حسین ولد شاہ فیصل کو 7 سال قید بامشقت
    14۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث امین شاہ ولد مشتر خان کو 9 سال قید بامشقت
    15۔پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث فہیم ساجد ولد محمد خان کو 8 سال قید بامشقت
    16۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث حمزہ شریف ولد محمد اعظم کو 2 سال قید بامشقت
    17۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد ارسلان ولد محمد سراج کو 7 سال قید بامشقت
    18۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمیر ولد عبدالستار کو 6 سال قید بامشقت
    19۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث نعمان شاہ ولد محمود احمد شاہ کو 4 سال قید بامشقت
    20۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد خانزادہ خان کو 9 سال قید بامشقت
    21۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث محمد احمد ولد محمد نذیر کو 2 سال قید بامشقت
    22۔ ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ ولد پیرزادہ میاں قمرالدین بھٹہ کو 3 سال قید بامشقت
    23۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث محمد عبداللہ ولد کنور اشرف خان کو 4 سال قید بامشقت
    24۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث امجد علی ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت
    25۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد رحیم ولد نعیم خان کو 6 سال قید بامشقت
    26۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث احسان اللہ خان ولد نجیب اللہ خان کو 10 سال قید بامشقت
    27۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث منیب احمد ولد نوید احمد بٹ کو 2 سال قید بامشقت
    28۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد علی ولد محمد بوٹا کو 2 سال قید بامشقت
    29۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث سمیع اللہ ولد میر داد خان کو 2 سال قید بامشقت
    30۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں محمد اکرم عثمان ولد میاں محمد عثمان کو 2 سال قید بامشقت
    31۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث مدثر حفیظ ولد حفیظ اللہ کو 6 سال قید بامشقت
    32۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث سجاد احمد ولد محمد اقبال کو 4 سال قید بامشقت
    33۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خضر حیات ولد عمر قیاض خان کو 9 سال قید بامشقت
    34۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد نواز ولد عبدالصمد کو 2 سال قید بامشقت
    35۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث محمد بلال ولد محمد افضل کو 4 سال قید بامشقت
    36۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان کو 2 سال قید بامشقت
    37۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث اسد اللہ درانی ولد بادشاہ زادہ کو 4 سال قید بامشقت
    38۔چکدرہ قلعے پر حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد شاہ زمان کو 4 سال قید بامشقت
    39۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد فرخ ولد شمس تبریز کو 5 سال قید بامشقت
    40۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث وقاص علی ولد محمد اشرف کو 6 سال قید بامشقت
    41۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث امیر ذوہیب ولد نذیر احمد شیخ کو 4 سال قید بامشقت
    42۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی حملے میں ملوث فرہاد خان ولد شاہد حسین کو 7 سال قید بامشقت
    43۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث عزت خان ولد اول خان کو 2 سال قید بامشقت
    44۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ کو 2 سال قید بامشقت
    45۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث ثقلین حیدر ولد رفیع اللہ خان کو 9 سال قید بامشقت
    46۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد سلمان ولد زاہد نثار کو 2 سال قید بامشقت
    47۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث حامد علی ولد سید ہادی شاہ کو 3 سال قید بامشقت
    48۔ راہولی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد وقاص ولد ملک محمد کلیم کو 2 سال قید بامشقت
    49۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث عزت گل ولد میردادخان کو 9 سال قید بامشقت
    50۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث حیدر مجید ولد محمد مجید کو 2 سال قید بامشقت
    51۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث گروپ کیپٹن وقاص احمد محسن(ریٹائرڈ) ولد بشیر احمد محسن کو 2 سال قید بامشقت
    52۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمر گرہ حملے میں ملوث محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم کو 2 سال قید بامشقت
    53۔گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملے میں ملوث محمد ایاز ولدصاحبزادہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    54۔چکدرہ قلعے حملے میں ملوث رئیس احمد ولد خستہ رحمان کو 4 سال قید بامشقت
    55۔ چکدرہ قلعے حملے میں ملوث گوہر رحمان ولد گل رحمان کو 7 سال قید بامشقت
    56۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث نیک محمد ولد نصر اللہ جان کو 9 سال قید بامشقت
    57۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث فہد عمران ولد محمد عمران شاہد کو 9 سال قید بامشقت
    58۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث سفیان ادریس ولد ادریس احمد کو 2 سال قید بامشقت
    59۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث رحیم اللہ ولد بیعت اللہ کو 9 سال قید بامشقت
    60۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خالد نوازولد حامد خان کو 9 سال قید بامشقت

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل