Baaghi TV

Tag: سزائیں

  • فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران فوجی عدالتوں کے ذریعے متعدد سویلین افراد کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔عمران خان نے فوجی عدالتوں کی حمایت کی تھی تو وہیں مراد سعید نے بھی فوجی عدالتوں کے حق میں بیانات دیئے تھے،

    2018 سے لے کر 2022 تک فوجی عدالتوں میں ہونے والے سویلین ٹرائلز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 2018 میں فوجی عدالتوں میں 25 سویلین افراد کا ٹرائل ہوا، جبکہ 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 61 تک پہنچ گئی۔ 2020 میں 46 سویلین، 2021 میں 36 سویلین اور 2022 میں 12 سویلین افراد کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے سویلین افراد پر مقدمات کا آغاز اور ان کے خلاف سزائیں دی گئیں۔پاکستان میں 1972 سے 2023 تک فوجی عدالتوں میں مجموعی طور پر 1875 سویلین افراد کا ٹرائل ہو چکا ہے اور ان پر مختلف نوعیت کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔ ان سزاؤں پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی کیا جا چکا ہے۔ ان افراد میں دہشت گردی، شدت پسندی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں جن کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے۔

    اگرچہ فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا مؤثر جواب دینا تھا، مگر ان عدالتوں کے خلاف سیاسی بیان بازی بھی زور پکڑ گئی ہے۔ اس بات پر تنقید کی جاتی ہے کہ فوجی عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر سکتی ہیں اور ان کے فیصلے ہمیشہ شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اُترتے۔ یہ بات خاص طور پر اہمیت کی حامل ہے کہ جن جماعتوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی، وہ خود بھی اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کی حمایت اور استعمال کرتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما آج فوجی عدالتوں کے خلاف بیانات دیتے ہیں، مگر ان کے اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کے ذریعے 180 سویلین کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔ اس تناقض پر سوال اٹھتا ہے کہ کس طرح ایک ہی سیاسی جماعت ایک وقت میں فوجی عدالتوں کی حمایت کرتی ہے اور بعد میں ان کے خلاف سخت بیانات دیتی ہے۔

    اگر تحریک انصاف اپنے ماضی کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہے کہ "کل ہمارا موقف غلط تھا”، تو شاید اس میں کوئی وزن نظر آ سکتا ہے۔ لیکن جب ایک جماعت اپنے موقف میں واضح تبدیلی لاتی ہے اور اس میں کوئی معقول جواز پیش نہیں کرتی، تو عوامی سطح پر اس کے بیانات کو ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    پاکستان میں 9 مئی کے دوران ہونے والے ہنگامہ آرائی کے بعد فوجی عدالتوں نے آج ان مجرموں کو سزائیں سنا دی ہیں جنہوں نے پاکستان کی فوجی تنصیبات پر حملے کی کوشش کی تھی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے موقف پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ فوجی عدالتوں میں سیاسی رہنماؤں اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی، لیکن آج جب ان کی جماعت کے کارکنان کو ان عدالتوں میں سزا ملی ہے تو پارٹی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور دیگر رہنماؤں بشمول مراد سعید نے ماضی میں فوجی عدالتوں کے ذریعے سیاسی مخالفین، میڈیا پرسنز اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی۔ ان رہنماؤں نے ہمیشہ اس بات کا دفاع کیا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوجی عدالتوں کا استعمال ضروری ہے۔ بانی تحریک انصاف، عمران خان نے بھی اکثر فوجی اداروں کو سپورٹ کیا اور ان کے کردار کو سراہا۔تاہم، 9 مئی کے حملوں کے بعد جب ان کے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا سامنا ہے، تو پی ٹی آئی کی قیادت کی زبان بدل گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس بات کا بار بار اعادہ کیا جا رہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے انصاف کا عمل شفاف اور منصفانہ نہیں ہو رہا، جو کہ ان کی سابقہ پوزیشن کے بالکل برعکس ہے۔

    9 مئی کے دن پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نہ صرف سول حکومت کے خلاف احتجاج کیا بلکہ پاکستان کی فوجی تنصیبات، بشمول آئی ایس آئی کے دفاتر، پر حملے کی کوشش کی۔ ان حملوں کو ملک میں غداری کے مترادف قرار دیا گیا اور فوجی عدالتوں کے ذریعے مجرموں کا ٹرائل کیا گیا۔تاہم پی ٹی آئی نے فوجی عدالتوں کے اس استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہیں اور ان میں شفافیت کا فقدان ہے۔ پارٹی کی قیادت نے ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے ہیں، حالانکہ ماضی میں خود انہوں نے ان عدالتوں کی حمایت کی تھی۔

    جب ان کے کارکن فوجی عدالتوں میں سزا پا چکے ہیں، تو پی ٹی آئی کی قیادت نے سیاست چمکانے کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو ان کے مشکل وقت میں چھوڑ دیا تھا۔ پی ٹی آئی نے 9 مئی کے بعد اپنے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں پیش ہونے یا ان کی قانونی مدد کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں دکھایا۔ اس کے برعکس، انہوں نے اپنے کارکنوں کو “سول کپڑوں میں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار” قرار دیا، جو ایک متنازعہ اور بے بنیاد موقف تھا۔پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے حامیوں نے ہمیشہ فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ پروان چڑھایا تھا۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کے ٹرولز نے بار بار پاکستان کی فوج کو میر جعفر اور میر صادق کے طور پر پیش کیا، جس سے نوجوانوں میں فوج کے خلاف نفرت کا جذباتی ماحول پیدا کیا گیا۔ یہ وہ بیانیہ تھا جس کا منطقی نتیجہ 9 مئی کے حملوں کی صورت میں نکلا، جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا۔

    آج، جب فوجی عدالتوں نے ان مجرموں کو سزا سنائی ہے، تو پی ٹی آئی کو ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ کہا تھا کہ ملک میں امن کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام ضروری ہے، اور آج ان عدالتوں نے اپنے ہی کارکنوں کو سزائیں دی ہیں۔ اب اس پر اعتراض کرنا پی ٹی آئی کے لیے اخلاقی طور پر جائز نہیں ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کی فکر کرتی تو اس نے انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑا ہوتا اور ان کے قانونی حقوق کے لیے جنگ کی ہوتی۔

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑنے کہا ہے کہ آج یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ 9 مئی کو ہونے والے واقعات کے پیچھے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا ہاتھ تھا اور اس کے تمام ساتھی اس منصوبہ بندی میں شامل تھے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ 9 مئی کا واقعہ سیاسی دہشت گردی کی بدترین مثال تھا جس میں ملک کے اہم اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو سزائیں اس المناک واقعے کے حوالے سے دی گئی ہیں، وہ ملک دشمنوں کو واضح پیغام دے رہی ہیں۔ ان سزاؤں کا مقصد یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم ہو اور آئندہ کے لیے یہ ایک مثال قائم ہو کہ کوئی بھی شخص ایسی مکروہ حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کا دوبارہ تدارک کیا جا سکے۔انہوں نے کہا، "یہ فیصلے نہ صرف قانون کی بالا دستی کو قائم کرتے ہیں بلکہ ایک مضبوط پیغام بھی دیتے ہیں کہ ہم ملک میں امن، استحکام اور آئین کی بالادستی کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔”

    نومئی، سارے ملزمان کیفر کردار تک پہنچیں گے تو ہم مل کر جشن منائیں گے، عطا تارڑ
    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن میں جو وعدے کیے تھے اس کی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں ، ریکارڈ ترقی یافتہ کاموں کا وعدہ کیا تھا وہ پوراہوگا، آپ لوگوں نے الیکشن میں ساتھ دیا احسان بھولنے والے نہیں ، الیکشن میں جو وعدے کیے تھے اس کی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں ،ملک میں معیشت ترقی کررہی ہے ، مہنگائی کم ہورہی ہے ،جس نے چوری کی تھی وی آج بھگت رہا ہے پھر بھی ملک دشمنی سے باز نہیں آتا، جنہوں نے 9 مئی کو حملے کیے انہیں آج سزا سنائی گئی ہے ، اس سے پہلے کبھی فوجی تنصیبات پر حملے نہیں ہوئے تھے ، 9 مئی ایک سیاہ دن تھا، آج انصاف پر مجھے خوشی ہے، اِس خوشی کے دن اپنے بھائیوں کے درمیان کھڑا ہوں، جب سارے ملزمان کیفر کردار تک پہنچیں گے تو ہم مل کر جشن منائیں گے،

    واضح رہے کہ 9 مئی کو پاکستان میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں نے پرتشدد مظاہروں اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں کئی اہم سرکاری اور عسکری اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس میں فوجی املاک اور عدلیہ کے حوالے سے بھی توہین آمیز واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات کے نتیجے میں ملک بھر میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوا اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کی گئیں۔آج فوجی عدالتوں نے 25 ملزمان کو سزا سنائی ہے،

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

  • سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،

    فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    فوجی عدالتوں نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں 11 مجرموں کو سزا سنائی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں دو مجرموں کو سزا سنائی گئی،پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث 5 مجرموں کو سزا سنائی گئی،پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث دو مجرموں کو سزا سنائی گئی،بنوں کینٹ حملے میں ملوث ایک مجرم کو سزا سنائی گئی،ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث دو مجرموں کو سزا سنائی گئی،آئی ایس آئی آفس فیصل آباد حملے میں ملوث ایک مجرم،چکدرہ قلعہ حملے میں ملوث ایک مجرم کو سزا سنائی گئی

    سزا پانے والے 25ملزمان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث جان محمد خان ولد طور خان کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمران محبوب ولد محبوب احمدکو10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث فہیم حیدر ولد فاروق حیدر کو 6 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث عبدالہادی ولد عبدالقیوم کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی شان ولد نور محمد کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاوس حملے میں ملوث داؤد خان ولد شاد خان کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد حاشر خان ولد طاہر بشیرکو 6 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عاشق خان ولد نصیب خان کو 4 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی افتخار ولد افتخار احمدکو10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث ضیا الرحمان ولد اعظم خورشید کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث،محمد بلاول ولد منظور حسین کو 2 سال قید بامشقت

    جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ محمد احسان ولد راجہ محمد مقصود کو 10 سال قید بامشقت
    جی ایچ کیو حملے میں ملوث عمر فاروق ولد محمد صابرکو 10 سال قید بامشقت

    پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث سیِعد عالم ولد معاذ اللہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث یاسر نواز ولد امیر نواز خان کو 2 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث عدنان احمد ولد شیر محمد کو 10 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث شاکر اللہ ولد انور شاہ کو 10 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث رحمت اللہ ولد منجور خان کو 10 سال قید بامشقت

    پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث انور خان ولد محمد خان کو 10 سال قید بامشقت
    پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث بابر جمال ولد محمد اجمل خان کو 10 سال قید بامشقت

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد خان کو 4 سال قید بامشقت
    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم شہزاد ولد لیاقت علی کو 3 سال قید بامشقت

    بنوں کینٹ حملے میں ملوث محمد آفاق خان ولد ایم اشفاق خان کو 9 سال قید بامشقت
    چکدرہ قلعہ حملے میں ملوث داؤد خان ولد امیر زیب کو 7 سال قید بامشقت
    آئی ایس آئی آفس فیصل آباد حملے میں ملوث لئیق احمد ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

  • زبردستی بھیک منگوانے والوں کواب ملے گی سخت سزا

    زبردستی بھیک منگوانے والوں کواب ملے گی سخت سزا

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر محکمہ داخلہ پنجاب نے بھکاری مافیا کے گینگ لیڈرز کو سخت سزائیں دلوانے کیلئے قانون میں ترمیم منظوری کیلئے کابینہ کو بھجوا دی ہے۔

    اب پنجاب میں معصوم بچوں، بزرگوں اور خواتین سے زبردستی بھیک منگوانے والے سخت سزا پائیں گے۔ نئے قانون کے تحت بھکاری مافیا کے گینگ لیڈرز کو 10 سال قید اور 20 لاکھ جرمانے کی سزا ہوگی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں 3 سال مذید سزا بھگتنا ہو گی۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ نئے قانون میں زبردستی بھیک منگوانا ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کے اعضاء ضائع کرنے اور زبردستی بھیک منگوانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ پنجاب ویگرنسی آرڈیننس 1958 میں تجویز کی گئی ترامیم کے مطابق بچوں، بزرگوں اور خواتین وغیرہ سے زبردستی بھیک منگوانا سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھکاری مافیا کے گینگ لیڈرز کو سزا دلوانے کیلئے قانون موجود نہیں تھا۔

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے بھکاری مافیا کو لگام ڈالنے کیلئے خصوصی ہدایت کی تھی جس کے بعد سیکرٹری داخلہ پنجاب نور الامین مینگل کی قیادت میں محکمہ داخلہ نے قانون میں ترمیم کی سفارش کی جو منظوری کیلئے کابینہ کو ارسال کیا گیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ محکمہ داخلہ پنجاب معصوم شہریوں سے زبردستی بھیک منگوانے، انہیں اپاہج کرنے اور دیگر مظالم ڈھانے والوں کیخلاف سرگرم عمل ہے اور اس سنگین جرم میں ملوث مافیا چیفس کا ٹھکانہ جیل ہے۔

    پنجاب بھر کی جیلوں میں بھکاریوں کیلئے بیرک مختص کرنے کا فیصلہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجنے میں دھوکا دینے والوں کی سزاؤں میں اضافے کا بل منظور

    پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجنے میں دھوکا دینے والوں کی سزاؤں میں اضافے کا بل منظور

    پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجنے میں دھوکا دینے والوں کی سزاؤں میں اضافے کا بل منظور

    اسلام آباد( رپورٹ،محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اورسیز پاکستانیز نے پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجنے میں دھوکا دینے والوں کی سزاؤں میں اضافہ اور بیرون ملک سفارت خانوں میں مزدور اتاشی لگانے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا، پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجنے میں دھوکہ دینے اور ان سے غلط کام کروانے میں ملوث افراد کی سزا 7سال سے بڑھا کر 14سال کردی گئی،کمیٹی میں انڈسٹریل ریلیشن ترمیمی بل 2022کثرت رائے سے منظور کرلیاگیا،حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ بیرون ملک جیلوں میں 10ہزار سے زائد پاکستانی قید ہیں ۔کمیٹی نے بیرون ملک قید پاکستانیوں کے تفصیلات طلب کرلیں، سینیٹر زرقا نے کہاکہ مزدور پاکستان کو سرمایہ بھیجتے ہیں ان کے تحفظ کے لیے بل لائی ہوں پاکستان سے نوجوان لڑکیوں کو نوکریوں کا کہ کر ان سے بیرون ملک غلط کام کروائے جاتے ہیں اس کے روک تھام کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جا رہا ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اورسیز پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین سینیٹر منظور احمد کاکڑ کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان،سینیٹر ذیشان خانزادہ، سینیٹررانا محمود الحسن ،سینیٹرشاہین خالد بٹ اور سینیٹر زرقا تیمور نے شرکت کی ۔اجلاس میں وزیر اورسیز اور سیکرٹری اوورسیز نے شرکت نہیں کی جس پر کمیٹی نے برہمی کااظہارکیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ وزیر اور سیکرٹری اجلاس میں نہیں ہیں ان میں سے ایک کو لازمی ہوناچاہیے تھا۔جس پرجوائنٹ سیکرٹری وزارت نے کہاکہ 2جنوری کو نوٹس ملا اس لیے وزیر اور سیکرٹری نہیں ہیں وفاقی سیکرٹری لاہور گئے ہوئے ہیں ۔کمیٹی میںانڈسٹریل ریلیشن ترمیمی بل 2022 زیر غور آیا ۔ قائمقام چیئرمین نیشنل انڈسڑیل ریلیشن کمیشن آف پاکستان نور زمان نے کمیٹی کو ترمیم کے حوالے سے بریفنگ دی ۔حکام نے کہا کہ ایکٹ میں جہاں جہاں پرگورنمنٹ کا لفظ استعمال ہواہے اس کو وزیراعظم سے تبدیل کیا جارہاہے مصطفی امپیکٹ کیس میں عدالت نے گورنمنٹ کو کابینہ قرار دیا ہے جس کے بعد اس کو تبدیل کیا جارہاہے۔کیوں کہ چھوٹے چھوٹے معاملے کے لیے کابینہ کے فیصلے کا انتظار کرنا پڑتا تھا 2016 سے پہلے یہ تمام فیصلے وزیراعظم کرتاتھا مگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مجاز اتھارٹی کابینہ بن گئی ہے جس کی وجہ سے معاملات متاثر ہورہے ہیں جس کے بعد کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ تمام ایکٹ(قانون سازی میں ) جہاں جہاں گورنمنٹ آیا ہے اس کو وزیراعظم سے تبدیل کیاجائے اس طرح تمام متعلقہ وزارتوں میں ترمیم کیا جارہاہے ۔ہر معاملہ منظوری کے لیے کابینہ کو نہیں بھیجا جاسکتا ہے ۔

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر ذیشان خانزادہ نے ترمیم کی مخالفت کی اور کہاکہ سپریم کورٹ نے اگر فیصلہ کیاہے تو ٹھیک ہی کیاہے اس کو کابینہ ہی رہنا دیں وزیراعظم نہ کریں ۔جس کے بعد کمیٹی نے انڈسٹریل ریلیشن ترمیمی بل 2022 کثرت رائے سے منظور کرلیا ۔سینیٹر ذیشان خانزادہ نے مخالفت کی ۔کمیٹی میں سینیٹرزرقا تیمور نے داایمیگریشن ترمیمی بل 2022کمیٹی میں پیش کیا ۔بل میں بیرون ملک پاکستانیوں خاص طور پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کویقینی بنانے کے لیے سفارت خانوں میں لیبر اتاشی تعینات کرنے اور پاکستان سے پاکستانیوں کو بھرتی کرکے بیرون ملک غلط کام کرانے پر سزاؤں میں اضافے کی استعداد کی گئی ۔بل کے تحت بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوںمیں مزدور اتاشی تعینات کیاجائے گا اور اس کے ساتھ جو پاکستانیوں کو بیرون ملک لے کر جائے گا اور ان کو بیرون ملک غلط کام یا جو ان سے پاکستان میں کہا گیا ہوگا اسکے برخلاف کام لے گا اس کی سزا 7سال سے بڑھا کر 14سال کردی گئی ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر زرقا تیمور نے کہاکہ پاکستان سے 13سال کی لڑکیوں کو بیرون ملک لے جاتے ہیں اور ان سے سمگلرزبردستی غلط کام کرواتے ہیں ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی یہ بل لائی ہوں ۔ہمارے فارن مشنز میں لیبر اتاشی ہونے چاہئیں ریکروٹمنٹ ایجنسیز والے جو لوگوں کو بیرون ملک لیے جا کر غلط کام کرواتے ہیں ان کیلئے سخت سزائیں ہونی چاہئے سزائیں سات سال سے بڑھا کر چودہ سال کی ہے۔ سینیٹر شہادت اعوان نے سپیشل جج لگانے کی ترمیم واپس لینے کا کہا جس پر سینیٹر زرقا نے و ہ واپس لے لی جس کے بعد کمیٹی نے اتفاق رائے سے بل منظور کرلیا۔

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    او پی ایف کی طرف سے بیرون ملک وفات پاجانے والے پاکستانیوں کے لواحقین کے بقایاجات کے حوالے سے کمیٹی سفارشات پر حکام او رسیزپاکستانی فاؤنڈیشن نے کمیٹی کو بتایاکہ 84کروڑ روپے کی رقم وزارت خزانہ سے مانگی گئی ہے جس کے لیے خط وکتابت ہورہی ہے اس پر وزارت کے ساتھ کام کررہے ہیں جیسے ہی ہمیں یہ پیسے ملیں گے ہم لواحقین میں تقسیم کردیں گے ۔کمیٹی نے جلد ازجلد پیسے تقسیم کرنے کی ہدایت کردی ۔حکام او پی ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ملک جیلوں میں10ہزار پاکستانی قید ہیں ان میں ایک بھی ایسا قیدی نہیں ہے جو بیرون ملک سزا مکمل کرچکاہواور اس کے باجود بھی قید ہو۔جس پر وزیر مملکت برائے قانون انصاف شہادت اعوان نے کہاکہ آپ کہے رہے ہیں کہ کوئی ایک بھی نہیں ہے جو سزا مکمل کرنے کے باجود قید ہواور ہماری معلومات میں کافی پاکستانی ہیں جو سزا مکمل ہونے کے باوجود قید ہیں ۔کمیٹی نے بیرون ملک قید پاکستانیو ں کی تفصیلات طلب کرلیں کہ کس ملک میں کتنے پاکستانی قید ہیں اور سزا مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک کتنے رہا ہوکر نہیں آئے ہیں ،اس کے ساتھ بیرون ملک کتنے پاکستانی طلبہ زیر تعلیم نہیں ،بیرون ملک وفات پاجانے والوں کے لواحقین کو معاوضہ ادا کیاگیاہے اور کتنوں کے کیس عدالتوںمیں چل رہے ہیں ان سب کی تفصیلات اگلے اجلاس میں کمیٹی میں فراہم کیاجائے ۔کمیٹی کی سفارشات پر رپورٹ طلب کرلی ۔

  • فرائض کی ادائیگی میں غفلت برتنے پر پولیس اہلکاروں کو سزائیں

    فرائض کی ادائیگی میں غفلت برتنے پر پولیس اہلکاروں کو سزائیں

    راولپنڈی پولیس میں محکمانہ احتساب کا عمل جاری ہے ۔ سی پی او راولپنڈی محمد احسن یونس نے فرائض کی ادائیگی میں غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو سزائیں سنا دی۔
    ذرائع کے مطابق سی پی او راولپنڈی محمد احسن یونس نے لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے والے پولیس سب انسپکٹر گلتاج کو جبری ریٹائر کردیا.جبکہ ظفر اے ایس آئی تھانہ روات پر رشوت لینے کا الزام درست ثابت ہونے پر ڈسمس کردیا گیا. تھانہ کینٹ میں شہری کو زخمی کرنے والے ایس آئی ناصر ممتاز. اے ایس آئی طاہر اعجاز. کانسٹیبل خرم اور کانسٹیبل شاہد کو ڈسمس کردیا گیا.
    چند روز قبل محکمانہ کاروائی مکمل ہونے سی پی او راولپنڈی محمد احسن یونس نے تمام کرپٹ اہلکاروں کو سزائیں سنائی