Baaghi TV

Tag: سزائے موت

  • ایران میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ایک شخص کو سزائے موت

    ایران میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ایک شخص کو سزائے موت

    ایران میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ایک شخص کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

    ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ملزم کی شناخت امر رمیش کے نام سے ہوئی، جسے شدت پسند گروہ جیش العدل کا رکن قرار دیا گیا تھا حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو جنوب مشرقی ایران میں انسداد دہشتگردی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر مسلح بغاوت، بم دھماکوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے،ملک میں دہشتگردی کے واقعات کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی، جبکہ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

  • سعودی عرب نے  سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    سعودی عرب نے سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    سعودی عرب نے ایک ہی سال میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کے روز مزید تین افراد کو پھانسی دی گئی، جس کے بعد رواں سال اب تک مجموعی طور پر 340 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے حالیہ برسوں میں سعودی عرب سزائے موت دینے والے ممالک میں چین اور ایران کے بعد تیسرے نمبر پر رہا ہے یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ مملکت نے ایک سال میں دی جانے والی پھانسیوں کا اپنا سابقہ ریکارڈ خود ہی توڑا ہے اس سے قبل 2024 میں 338 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔

    سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے ذریعے جاری بیان میں بتایا گیا کہ مکہ ریجن میں قتل کے مقدمات میں مجرم قرار دیے گئے تین افراد کو پھانسی دی گئی-

    2025 کے آغاز سے اب تک دی جانے والی 340 سزاؤں میں سے 232 سزائیں منشیات سے متعلق مقدمات میں دی گئی ہیں، جو مجموعی پھانسیوں کی اکثریت بنتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزارتِ داخلہ اور ایس پی اے کے جاری کردہ بیانات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سزاؤں میں اس غیر معمولی اضافے کی بڑی وجہ سعودی عرب کی جانب سے 2023 میں شروع کی گئی “وار آن ڈرگز” ہے، جس کے تحت ابتدائی طور پر گرفتار کیے گئے کئی ملزمان کو طویل قانونی کارروائی اور عدالتی فیصلوں کے بعد اب سزائے موت دی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب نے تقریباً تین سال تک منشیات کے مقدمات میں سزائے موت پر عملدرآمد معطل رکھنے کے بعد 2022 کے اختتام پر دوبارہ ان سزاؤں کا آغاز کیا تھا،ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب 2022، 2023 اور 2024 میں دنیا بھر میں سزائے موت پر عمل درآمد کرنے والے ممالک میں چین اور ایران کے بعد تیسرے نمبر پر رہا۔

  • ایران میں موساد کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک اور شخص کو سزائے موت

    ایران میں موساد کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک اور شخص کو سزائے موت

    ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک اور شہری کو سزائے موت دے دی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایرانی عدالتی خبر رساں ادارے میزان نے اطلاع دی ہے کہ ماجد موسیبی نامی شخص کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران پر 13 جون کو اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک درجنوں افراد کو موساد سے تعلق کے شبے میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی موساد سے تعلق رکھنے کے الزام میں ایک اور فرد کو سزائے موت دی گئی تھی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو سخت سزا دی جائے گی۔

    ایرانی حملوں کے خوف سے شیلٹرز میں کشیدگی، اسرائیلی شہریوں میں لڑائیاں

    امریکی حملوں کے بعد کشیدگی، سعودی عرب، بحرین اور کویت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

    پاک افغان وزرائے خارجہ ملاقات، سی پیک میں افغان شمولیت کا خیرمقدم

    او آئی سی اعلامیہ جاری، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، کشیدگی کم کرنے کے لیے وزارتی گروپ قائم

  • راولپنڈی: سوتیلی بہن سے زیادتی اور قتل، ملزم کو دو بار سزائے موت کی سزا

    راولپنڈی: سوتیلی بہن سے زیادتی اور قتل، ملزم کو دو بار سزائے موت کی سزا

    راولپنڈی میں سوتیلی بہن سے زیادتی اور سفاکانہ قتل کے جرم میں عدالت نے سوتیلے بھائی اظہر کو دو مرتبہ سزائے موت اور سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کو پھانسی دی جائے اور اسے اس وقت تک پھندے پر لٹکایا جائے جب تک اس کی موت واقع نہ ہو۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم کو قتل کے جرم پر 2 لاکھ روپے جرمانہ، زیادتی پر 1 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ شواہد مٹانے کے جرم میں 7 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

    پراسیکیوشن کے مطابق، مجرم اظہر نے اپنی سوتیلی بہن نمرہ کو پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا، اور بعد ازاں انتہائی بے رحمی سے قتل کر دیا۔واضح رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ تھانہ روات کے علاقے میں 25 اگست 2023 کو پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے فوری مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا۔عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد مجرم کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان میں خواتین پر تشدد ، ایک سال میں 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

    قطر کا 400 ملین ڈالر کا تحفہ، پینٹاگون نے ٹرمپ کے لیے لگژری جیٹ قبول کر لیا

    نکسل باغیوں کی آڑ،بھارتی فورسز نے چھتیس گڑھ میں مزید 36 افراد کوقتل کردیا

    پنجاب اسمبلی میں سانحہ خضدار پر متفقہ مذمتی قرارداد سمیت 14 مسودہ قوانین منظور

  • توہین رسالت کے چار مجرموں کو پھانسی کی سزا

    توہین رسالت کے چار مجرموں کو پھانسی کی سزا

    سیشن کورٹ پنڈی نے توہین رسالت کے ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے چار مجرمان کو سزائے موت،عمر قید اور 80 سال قید کی سزا سنادی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق توہین مذہب کے کیس کا فیصلہ پنڈی کی سیشن عدالت کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد طارق ایوب نے سنایا۔عدالت نے مجرموں پر مجموعی طور پر 46 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جب کہ عدم ادائیگی جرمانہ پر قید سخت بھگتنا ہوگی، مجرمان میں رانا عثمان، اشفاق علی، سلمان سجاد، واجد علی شامل ہیں۔ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے 22 اکتوبر 2022ء کو مقدمہ درج کیا تھا، مجرمان پر فیس بک، سوشل میڈیا پر توہین رسالتؐ، مقدس ہستیوں، قرآن پاک کی بے حرمتی ثابت ہوئی۔

    عدالت نے 295 سی کے تحت چاروں مجرموں کو سزائے موت سنائی، 295 بی پر عمرقید سنائی، مجرمان کو 295 اے پر دس دس سال قید سنائی اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا، مجرمان کو 298 اے جرم میں تین تین سال قید سنائی اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔مجرموں کو پیکا ایکٹ 2016ء کے تحت سات سات سال قید ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مجرموں کو اس وقت تک پھانسی کے پھندے پر لٹکائے رکھا جائے جب تک ان کی موت واقع نہ ہوجائے، توہین رسالتؐ، مقدس ہستیوں اور قرآن پاک کی بے حرمتی ناقابل معافی اور ناقابل رعایت جرم ہے۔فیصلے کے بعد مجرموں کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

    پاکستان کا دوسرے ٹیسٹ میچ کیلئے پلیئنگ الیون کا اعلان

    کراچی کی ترقی پر کتنا پیسہ خرچ کیا؟ کورٹ نے تفصیل مانگ لی

    شب معراج پرسندھ میں عام تعطیل کا اعلان

    سونے کی قیمت میں اضافہ، ارب پتیوں کی دولت بڑھ گئی

    پیپلز پارٹی کا مشترکہ مفادات کونسل اجلاس بلانےاور بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ

  • سعودی عرب ، 2024 میں سزائے موت میں تیزی سے اضافہ

    سعودی عرب ، 2024 میں سزائے موت میں تیزی سے اضافہ

    سعودی عرب میں 2024 کے دوران 330 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے، جو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اضافہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی 2022 میں کی گئی اس یقین دہانی کے باوجود ہوا ہے کہ ان کے وژن کے مطابق مملکت میں موت کی سزا کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، سوائے قتل کے معاملات کے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے "ویژن 2030” کے تحت سعودی عرب کو ایک جدید اور کھلا ملک بنانے کی کوششیں تیز کیں، جہاں سیاحت اور تفریحی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی قیادت میں سعودی عرب نے اپنے قدیم مذہبی اور انسانی حقوق کے ریکارڈ کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی ہیں، تاہم، حالیہ برسوں میں سزائے موت میں اضافے نے ان کے اصلاحات کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔اس سال کی 330 سزائیں حقوقِ انسانی کی تنظیم "ریپریو” نے ریکارڈ کی ہیں، جسے رائٹرز نے تصدیق کیا۔ یہ تعداد گزشتہ برس کی 172 سزاؤں اور 2022 کی 196 سزاؤں سے بہت زیادہ ہے۔ "ریپریو” کا کہنا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے زیادہ ریکارڈ ہے۔

    حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اور دیگر عالمی ادارے سعودی عرب کی اس پالیسی پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سال 150 سے زائد افراد کو غیر مہلک جرائم میں سزائے موت دی گئی، جن میں زیادہ تر افراد کو منشیات کے اسمگلنگ کے الزامات میں سزائیں دی گئیں۔ ان الزامات کا تعلق شام سے نکلنے والی کپٹگون سے ہے، جو سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر اسمگل ہو رہی ہے۔سعودی حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہیں۔ سعودی حکومت کا موقف ہے کہ وہ اپنے قانون کے مطابق، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    اس سال کی سزاؤں میں 100 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو بھی شامل کیا گیا، جن میں مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان سزاؤں کے خلاف عالمی سطح پر تنقید کی گئی ہے کیونکہ ان میں اکثر افراد کو بغیر کسی وکیل یا مناسب دفاع کے موت کی سزا دی گئی ہے۔رائٹرز نے سعودی حکومت سے ان سزاؤں کی تفصیلات کے حوالے سے سوالات کیے، لیکن سعودی حکومت کی طرف سے کسی وضاحت یا جواب کا کوئی جواب نہیں آیا۔

    محمد بن سلمان نے 2017 میں اقتدار سنبھالا تھا اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد، سعودی عرب نے سیاسی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کیں اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کیا۔ خاشقجی کو 2018 میں سعودی قونصلیٹ استنبول میں قتل کر دیا گیا تھا، جس پر سعودی عرب کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    محمد بن سلمان نے 2022 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب نے سزائے موت کا خاتمہ کر دیا ہے، سوائے قتل کے مقدمات کے۔ تاہم، اس بیان کے باوجود سزائے موت میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ ان کے اصلاحاتی دعوے اب زیر سوال ہیں۔سعودی عرب میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف سعودی ولی عہد ملک کو ایک کھلا اور ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں سزائے موت میں اضافے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹیں ان کے اصلاحات کے دعووں پر سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔

    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    سعودی عرب بارے بیان، بشریٰ بی بی کیخلاف کئی شہروں میں مقدمے درج

    ویڈیو:امریکی اداکارہ جینیفر لوپیز کی سعودی عرب میں بولڈ پرفارمنس،جلوے

  • سعوی عرب:سزائے موت رواں سال میں ریکارڈ اضافہ

    سعوی عرب:سزائے موت رواں سال میں ریکارڈ اضافہ

    سعوی عرب میں سزائے موت میں ریکارڈ اضافہ ہوا رواں برس 330 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق 330 میں سے 100 سے زائد مجرمان غیر ملکی تھے جن کو سزائے موت دی گئی۔غیرملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس سے قبل سال 2023 میں 172 اور سال 2022 میں یہ تعداد 196 تھی۔ یہ تعداد انسانی حقوق کی این جی او کے مطابق رپورٹ کی گئی ہے جس کی رائٹرز نے بھی تصدیق کی ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس سال 150 سے زائد افراد کو غیر مہلک جرائم کی وجہ سے سزائے موت دی گئی ہے ان میں زیادہ تر مجرم شام سے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے اور ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جن پر غیر مہلک دہشت گردی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکمران محمد بن سلمان نے 2022 میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب میں سرائے موت ختم کر دی گئی لیکن ان کے اس دعوے کے باوجود سزائے موت کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو ملا، رواں برس سعودی عرب میں 330 افراد کو سزائے موت دی گئی جو گزشتہ کئی برسوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    مقبوضہ کشمیر : گاڑی کھائی میں گرنے سے 5 بھارتی فوجی ہلاک

    ڈومیسٹک ٹی 20 کپ میں بہترین کھلاڑیوں کی نشاندہی کر لی گئی

    ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ

    کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی، وزیر اعظم آزاد کشمیر

  • جو بائیڈن نے 37 قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    جو بائیڈن نے 37 قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے 37 وفاقی قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ فیصلہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے وفاقی سطح پر پھانسیوں پر عائد پابندی کے تناظر میں لیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، صدر جو بائیڈن نے اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام میری انتظامیہ کے زیرِ نگرانی وفاقی سطح پر پھانسیوں پر عائد پابندی کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ قدم انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق اٹھایا گیا ہے اور اس کا مقصد وفاقی عدلیہ کے نظام کو مزید انسان دوست بنانا ہے۔”

    اگرچہ بائیڈن کی انتظامیہ نے 37 قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا ہے، لیکن دہشت گردی اور اجتماعی قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کے لئے سزائے موت کا حکم برقرار رکھا گیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے واضح کیا کہ "جو افراد بڑے پیمانے پر قتل یا دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کے لئے سزائے موت کی سزا برقرار رکھی جائے گی۔”امریکی میڈیا کے مطابق، کچھ معروف مجرموں کی سزائے موت اس فیصلے کے باوجود برقرار رہیں گی۔ ان میں سے ایک اہم نام 2013 کے بوسٹن میراتھون بم دھماکے کے مجرم جوہر سرنیف کا ہے، جسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جوہر سرنیف نے بوسٹن میراتھون کے دوران بم دھماکے کر کے 3 افراد کو قتل اور 260 سے زائد افراد کو زخمی کیا تھا۔اسی طرح، 2015 میں ساؤتھ کیرولائنا کے ایک چرچ میں حملے کے مجرم ڈائیلان روف کی سزائے موت بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ روف نے چرچ میں داخل ہو کر 9 سیاہ فام افراد کو قتل کیا تھا۔اس کے علاوہ، پٹسبرگ میں یہودی عبادت گاہ پر حملے کے مجرم رابرٹ بوورز کی سزائے موت بھی بدستور برقرار ہے۔ بوورز نے 2018 میں پٹسبرگ کی ایک عبادت گاہ میں فائرنگ کر کے 11 افراد کو قتل کیا تھا۔

    ٹھل کے صحافی نبی بخش کنرانی بخشاپور سے مبینہ اغوا، کاربرآمد

    اٹلی،پی ٹی آئی سول نافرمانی کیخلاف پاکستانیوں کا احتجاج

  • ایران :خواتین کو ہراساں کرنیوالے شخص کو سزائے موت  دے دی گئی

    ایران :خواتین کو ہراساں کرنیوالے شخص کو سزائے موت دے دی گئی

    تہران: ایران میں خواتین کو ہراساں کرنے اور ان پر حملے کرنے والے شخص کو سزائے موت دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا مطابق دارالحکومت تہران میں 59 خواتین کو نوک دار آلے سے زخمی کرنے والے راستگوئی کندلاج کو ‘زمین پر فساد پھیلانے‘ کے جرم میں سزائے موت دی گئی متعدد خواتین کی جانب سے شکایت درج کروائی گئی تھی کہ موٹر سائیکل سوار ملزم کی جانب سے ان پر حملہ کیا گیا۔

    ایرانی عدلیہ کی نیوز ویب سائٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ خواتین پر حملہ کرنے اور تہران میں دہشت پھیلانے والے راستگوئی کندلاج کی سزائے موت پر عمل کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران میں قتل، منشیات کی اسمگلنگ اور جنسی جرائم جیسے سنگین جرائم پر سزائے موت دی جاتی ہے۔

  • وطن سے غداری پر سعودی شہری کو سزائے موت دے دی گئی

    وطن سے غداری پر سعودی شہری کو سزائے موت دے دی گئی

    الریاض: دہشتگرد تنظیموں سےوابستگی اور وطن سے غداری پر سعودی شہری کو سزائے موت دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی : سعودی وزارت داخلہ کے مطابق سعودی شہری مشعل بن سلیمان الغنام نے وطن سے غداری کے مجرمانہ کام کیے جس بناء پر اسے سزا دی گئی،مجرم کی دہشتگرد تنظیموں سےوابستگی تھی جب کہ مجرم نےدہشتگردوں کو ٹھکانہ دیا اور ان کی مدد بھی کی ہے،مجرم نےامن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے مجرمانہ کام بھی کیے۔

    واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل بھی سعودی عرب میں مملکت سے غداری کرنے کے الزام میں 3 سعودی شہریوں کو سزائے موت دی گئی تھی، تینوں ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے دہشتگردوں کی تنظیموں کی مدد کی اور دہشتگردانہ سوچ اختیار کرتے ہوئے خون ریزی کا حصہ بننے کی کوشش کی۔