Baaghi TV

Tag: سزا

  • فوجی عدالتوں سے سزائیں،برطانیہ کے بعد امریکا کا ردعمل

    فوجی عدالتوں سے سزائیں،برطانیہ کے بعد امریکا کا ردعمل

    امریکا نے 9 مئی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں کی جانب سے 25 شہریوں کو سزائیں سنائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پاکستان کی فوجی عدالتوں کی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو 9 مئی کے مظاہروں میں ملوث شہریوں کے خلاف فوجی ٹریبونلز کی جانب سے سزاؤں کی سنائی جانے والی کارروائی پر تحفظات ہیں،فوجی عدالتوں میں عدالتی آزادی، شفافیت اور مناسب عمل کی ضمانتوں کا فقدان ہے، پاکستانی حکام آئین میں درج منصفانہ ٹرائل کا احترام کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل یورپی یونین نے بھی اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں کئے جانے والے فیصلے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں، برطانوی حکومت نے بھی پاکستان میں فوجی عدالتوں سے 25 شہریوں کو سزاؤں پر اپنا ردعمل جاری کیا ہے،برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے قانونی عمل میں دخل اندازی نہیں کرتا، برطانیہ اپنی قانونی کارروائیوں پر پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت، آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہے۔

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائی، تحریک انصاف کا رد عمل سامنے آیا ہے

    قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ سویلینز کے خلاف ملٹری کورٹس کے سزاوں کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں،فوجی عدالتوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے زیر حراست افراد کے خلاف سنائی گئی سزائیں انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں۔ زیر حراست افراد عام شہری ہیں اور ان پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا،فوجی عدالتیں قانونی طور پر ریاست کی عدالتی طاقت کی شراکت دار نہیں ہو سکتیں، مسلح افواج ریاست کے انتظامی اختیار کا حصہ ہیں ،ایسی عدالتوں کا قیام عام شہریوں سمیت عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے ،ایسے فیصلوں سے آئین کی بنیادی خصوصیت طاقت کی تقسیم کی نفی ہوئی ہے۔

    واضح رہے کہ سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت ،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے سانحہ 9 مئی کے 25 مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ یہ سزائیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے تحت دی گئیں، جس میں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا۔

    ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، سزائیں سننے کے بعد تمام ملزمان کو ان کے قانونی حقوق کی فراہمی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ مجرموں کو ان کے حقوق دینے کے لیے قانونی عمل کی ہر سطح پر پابندی کی گئی، جس سے ان کے حقوق کی پامالی کا کوئی سوال نہیں اٹھتا۔

    سانحہ 9 مئی میں ملوث ملزمان نے اپنے اعترافی بیانات میں اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان بیانات میں انہوں نے عمران خان کی فوج مخالف تقریروں اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اکسانے کی مذمت کی اور ان عوامل کو 9 مئی کے واقعات کے پیچھے ذمے دار ٹھہرایا۔مجرموں کے مطابق، عمران خان اور ان کے دیگر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے فوجی اداروں اور ملک کی افواج کے بارے میں کی جانے والی اشتعال انگیز تقاریر نے حالات کو بگاڑ دیا اور عوامی سطح پر عدم استحکام کی صورت پیدا کی۔ ان رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی باتوں نے لوگوں کو اُکسانے اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے آمادہ کیا، جو بالآخر 9 مئی کے سانحے کا سبب بنیں۔ 9 مئی کا سانحہ نہ صرف پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، بلکہ یہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ سیاسی اور فوجی اداروں میں ہم آہنگی اور ایک دوسرے کا احترام قوم کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    نومئی، سزا یافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات

    جناح ہاؤس حملے میں ملوث پی ٹی آئی کے شرپسند جان محمد خان کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ اپنے اقرار جرم میں مجرم جان محمد خان نے اعتراف کیا کہ وہ جناح ہاؤس پر حملے میں ملوث تھا اور اس نے ملٹری یونیفارم کی شرٹ پہن کر ویڈیو بنائی اور پھرشرٹ کو جلا دیا۔

    پی ٹی آئی شدت پسند شان علی کو بھی 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ مجرم علی شان نے اقرار جرم میں کہا کہ عمران خان کی آرمی مخالف تقاریر سے میری ذہن سازی ہوئی۔ جب عمران خان کی گرفتاری ہوئی تو سیاسی رہنماؤں کے ورغلانے پر میں نے جناح ہاؤس پر حملہ کیا۔میں نے جناح ہاؤس میں جا کر توڑ پھوڑ کی۔

    پی ٹی آئی کے شرپسند بابر جمال خان کو ایم ایم عالم بیس میانوالی پر حملے میں 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ مجرم بابر جمال خان نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ میں میانوالی بیس پر حملے میں ملوث تھا اور میں اپنا جرم قبول کرتا ہوں۔

    پی ٹی آئی شر پسند داؤد خان کو جناح ہاؤس حملے میں 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے، مجرم داؤد خان نے بھی اپنے اعتراف جرم میں بتایا کہ میں نے یاسمین راشد اور حسان نیازی کے اُکسانے پر جناح ہاؤس پر حملہ کیا۔ تقاریر کے ذریعے ہمارے ذہنوں میں فوج کیخلاف نفرت پیدا کی گئی، میں اپنا جرم قبول کرتا ہوں ۔

    پی ٹی آئی کے ایک اور شرپسند محمد حاشر کو 6 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے، جس نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ میں نے 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملہ کیا اور انقلاب کے نام پر لوگوں کو اکسایا اور ویڈیوز بنائیں۔ جناح ہاؤس پر حملے کی منصوبہ بندی پہلے سرزمین پارک میں یاسمین راشد کی قیادت میں کی گئی۔

    مجرم فہیم حیدر کو بھی 6 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، جس نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے جناح ہاؤس حملے کے لیے میری ذہن سازی کی۔

    مجرم محمد عاشق خان کو 4 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، جس نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ 9 مئی کو ہمیں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے جناح ہاؤس پر حملے کے لیے اکسایا گیا۔ میں جناح ہاؤس میں داخلے ہوا اور وہاں کے سامان کو اٹھا کر ویڈیو بنوائی۔ ہمیں زمان پارک میں فوج کیخلاف حملے کے لیے ٹریننگ ملتی رہی۔

    مجرم محمد بلاول کو 2 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی، جس نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ ‘9 مئی کو پی ٹی آئی قیادت کے اکسانے پر میں نے جناح ہاؤس حملے میں حصہ لیا اور توڑ پھوڑ کی۔ پی ٹی آئی قیادت بشمول ڈاکٹر یاسمین راشد کی تقاریر سے میری ذہن سازی ہوئی۔

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی ہے، مگر ریاست کو مکمل انصاف تب ملے گا جب 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے اس سنگین واقعے کے بعد وہ تمام افراد جو اس منصوبے میں ملوث تھے، انہیں کسی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔جاوید لطیف نے 9 مئی کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منظم سازش تھی جس میں متعدد افراد نے نہ صرف ملک کی جڑوں کو ہلا دیا بلکہ ریاست کی طاقت کو بھی چیلنج کیا۔ "ان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی بجائے، ان کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کو کبھی بھی نرم رویہ نہیں اپنانا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی جماعت یا ادارے سے تعلق رکھتے ہوں۔

    جاوید لطیف نے مزید کہا کہ "ریاست نے آخرکار فیصلہ کیا ہے کہ ان عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے گا، اور یہ اقدام ریاست کے استحکام اور عوام کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔” جاوید لطیف نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو انصاف ملنے تک حکومت اپنی تمام تر طاقت اور وسائل کو اس معاملے میں استعمال کرے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کو مضبوط کرنے کے لیے ہر سطح پر قانون کی بالادستی ضروری ہے اور قانون کی نظر میں کوئی بھی فرد یا گروہ بالاتر نہیں ہو سکتا۔ "یہ وقت ہے کہ ہم اپنی تمام توانائیاں ملک کی تقدیر کو بہتر بنانے میں صرف کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ملک کے دشمنوں کے خلاف سازش کرنے میں کامیاب نہ ہو۔”

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نومئی بہت بڑا حادثہ تھا ، یہ سزائیں بہت پہلے سنا دینی چاہیئں تھیں

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کی دی گئیں ہیں ، شہدا کے مجسوں کو توڑنا ملک دشمنی اور غداری ہے، منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی، جب تک ہمارا دفاع مضبوط ہے ملک کو خطرہ نہیں،ڈیڑھ برس کے بعد مجرموں کو سزا سنائی گئی اور فیصلہ آیا، یہ بہت بڑا سانحہ تھا، امریکہ، برطانیہ میں ایسا حادثہ ہوا تو راتوں کو بھی عدالتیں کھلی رہیں اور سزائیں ہوئیں ،لیکن پاکستان میں تاخیر ہوئی،میانوالی،مردان، پشاور، لاہور، پنڈی تمام شہروں میں شہدا کے نشانوں کی توہین کی گئی،ملک کو باہر کی بجائے اندر سے خطرے اس طرح کے تھے،اختلاف کرنا حق ہے لیکن سیاست میں یہ چیزیں نہیں ہوتیں، پاکستان کے شہدا کی نشانیوں‌پر حملہ حب الوطنی نہیں ہے،شہدا کے مجسموں کو زمین پر پھینکا گیا، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ آج سانحہ 9مئی کے 25ملزموں کو سزائیں سنائی گئی ھیں۔ ھونا تو چاہئے تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرح فوری انصاف ھوتا۔ اس تاخیر نے ملزموں اور انکے سہولت کاروں کے حوصلے بڑھاۓ۔ ایک تاریک دن کی مذمت سے بھی گریز کیا گیا۔ جس سے شہداء اور غازیوں کی توھین کرنے والوں کو ھییرو بنا یا گیا۔

    واضح رہے کہ سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت ،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    سانحہ 9 مئی میں ملوث مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9مئی میں ملوث مجرمان کو سزائیں سنا دی گئیں،9مئی 2023 کو قوم نے سیاسی طور پر بڑھکائے گئے اشتعال انگیز تشدد اورجلاؤ گھیراؤ کے افسوسناک واقعات دیکھے،9 مئی کے پرتشدد واقعات پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتے ہیں،نفرت اور جھوٹ پر مبنی ایک پہلے سے چلائے گئے سیاسی بیانیے کی بنیاد پر مسلح افواج کی تنصیبات بشمول شہداء کی یادگاروں پرمنظم حملے کئے گئے اور اُن کی بے حرمتی کی گئی ،یہ پر تشدد واقعات پوری قوم کے لئے ایک شدید صدمہ ہیں،9مئی کے واقعات واضح طور پر زور دیتے ہیں کہ کسی کو بھی سیاسی دہشتگردی کے ذریعے اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ،اس یوم سیاہ کے بعد تمام شواہد اور واقعات کی باریک بینی سے تفتیش کی گئی،ملوث ملزمان کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد اکٹھے کئے گئے،کچھ مقدمات قانون کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے لئے بھجوائے گئے جہاں مناسب قانونی کارروائی کے بعد ان مقدمات کا ٹرائل ہوا،13 دسمبر 2024 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سات رکنی آئینی بنچ نے زیر التواء مقدمات کے فیصلے سنانے کا حکم صادر کیا ،وہ مقدمات جو سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کی وجہ سے التواء کا شکار تھے ، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پہلے مرحلے میں 25 ملزمان کو سزائیں سنا دی ہیں،یہ سزائیں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور مناسب قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد سنائی گئی ہیں،سزا پانے والے ملزمان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے تمام قانونی حقوق فراہم کئے گئے

    سزا پانے والے 25ملزمان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
    1۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث جان محمد خان ولد طور خان کو 10 سال قید بامشقت
    2۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمران محبوب ولد محبوب احمدکو10 سال قید بامشقت
    3۔جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ محمد احسان ولد راجہ محمد مقصود کو 10 سال قید بامشقت
    4۔پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث رحمت اللہ ولد منجور خان کو 10 سال قید بامشقت
    5۔پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث انور خان ولد محمد خان کو 10 سال قید بامشقت
    6۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث محمد آفاق خان ولد ایم اشفاق خان کو 9 سال قید بامشقت
    7 ۔چکدرہ قلعہ حملے میں ملوث داؤد خان ولد امیر زیب کو 7 سال قید بامشقت
    8 ۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث فہیم حیدر ولد فاروق حیدر کو 6 سال قید بامشقت
    9۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد خان کو 4 سال قید بامشقت
    10۔پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث یاسر نواز ولد امیر نواز خان کو 2 سال قید بامشقت
    11۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث عبدالہادی ولد عبدالقیوم کو 10 سال قید بامشقت
    12۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی شان ولد نور محمد کو 10 سال قید بامشقت
    13۔جناح ہاوس حملے میں ملوث داؤد خان ولد شاد خان کو 10 سال قید بامشقت
    14۔جی ایچ کیو حملے میں ملوث عمر فاروق ولد محمد صابرکو 10 سال قید بامشقت
    15۔پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث بابر جمال ولد محمد اجمل خان کو 10 سال قید بامشقت
    16۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد حاشر خان ولد طاہر بشیرکو 6 سال قید بامشقت
    17۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عاشق خان ولد نصیب خان کو 4 سال قید بامشقت
    18۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم شہزاد ولد لیاقت علی کو 3 سال قید بامشقت
    19۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث،محمد بلاول ولد منظور حسین کو 2 سال قید بامشقت
    20۔پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث سیِعد عالم ولد معاذ اللہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    21۔آئی ایس آئی آفس فیصل آباد حملے میں ملوث لئیق احمد ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت
    22۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی افتخار ولد افتخار احمدکو10 سال قید بامشقت
    23۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث ضیا الرحمان ولد اعظم خورشید کو 10 سال قید بامشقت
    24۔پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث عدنان احمد ولد شیر محمد کو 10 سال قید بامشقت
    25۔پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث شاکر اللہ ولد انور شاہ کو 10 سال قید بامشقت

    مکمل انصاف اُس وقت ہوگا جب 9مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو سزا ملے گی
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دیگر ملزمان کی سزاؤں کا اعلان بھی اُن کے قانونی عمل مکمل کرتے ہی کیا جا رہا ہے،9مئی کی سزاؤں کا فیصلہ قوم کے لیے انصاف کی فراہمی میں ایک اہم سنگ میل ہے، 9مئی کی سزائیں اُن تمام لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں جو چند مفاد پرستوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے ہیں،سیاسی پروپیگنڈے اور زہریلے جھوٹ کا شکار بننے والے لوگوں کیلئے یہ سزائیں تنبیہ ہیں کہ مستقبل میں کبھی قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،متعدد ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں میں بھی مقدمات زیر سماعت ہیں، صحیح معنوں میں مکمل انصاف اُس وقت ہوگا جب 9مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو آئین و قانون کے مطابق سزا مل جائے گی،ریاست ِ پاکستان 9مئی کے واقعات میں مکمل انصاف مہیا کر کے ریاست کی عملداری کو یقینی بنائے گی ،9مئی کے مقدمہ میں انصاف فراہم کرکے تشدد کی بنیاد پر کی جانے والی گمراہ اور تباہ کُن سیاست کو دفن کیا جائے گا ،9مئی پر کئے جانا والا انصاف نفرت، تقسیم اور بے بنیاد پروپیگنڈا کی نفی کرتا ہے ،آئین اور قانون کے مطابق تمام سزا یافتہ مجرموں کے پاس اپیل اور دیگر قانونی چارہ جوئی کا حق ہے

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • دس سالہ سارہ کا قتل،برطانوی عدالت نے والدین،چچا کو سنائی سزا

    دس سالہ سارہ کا قتل،برطانوی عدالت نے والدین،چچا کو سنائی سزا

    دس سالہ بچی سارہ شریف کا قتل، والدین کو سزا سنا دی گئی

    برطانوی عدالت نے پاکستانی شہریوں کو سزا سنائی،سارہ کے والد عرفان شریف کو عمر قید کی سزا سنائی گئی،سارہ کی سوتیلی والدہ بینش بتول کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی،سارہ شریف کے چچا فیصل ملک کو 16 سال قید کی سزا سنائی گئی، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عرفان شریف کو کم سے کم 40 سال جیل میں گزارنا پڑیں گے۔ بینش بتول کو کم سے کم 33 سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔ سزا کا کم سے کم وقت ختم ہونے کے بعد بھی رہائی کی گارنٹی نہیں۔کم سے کم سزا کا وقت ختم ہونے کے بعد پیرول فیصلہ کرے گا۔جیل سے رہا ہونے کے بعد ساری عمر بینش اور عرفان ساری عمر لائسنس پر رہیں گے۔ رہائی کے بعد موت تک لائسنس کی خلاف ورزی کی تو دوبارہ جیل میں ڈال دیا جائے گا۔بینش بتول کو پہلے بھی فراڈ کے کیس میں سزا ہو چکی ہے۔

    سزا سنائے جاتے وقت والد، سوتیلی ماں اور چچا کمرہ عدالت میں موجود تھے ،عرفان شریف، بینش بتول اور فیصل ملک قتل کے بعد پاکستان بھاگ گئے تھے ،برطانوی حکومت نے انٹرپول نوٹس بھجوائے، پنجاب پولیس نے ملزمان کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا ،ڈی پی اور جہلم ناصر محمود اور ایس ایچ او عمران حسین نے ملزمان کی واپسی کیلئے آپریشن کیا ،ملزمان کو لندن واپسی پر گیٹوک ایئرپورٹ پر جہاز کے اندر سے گرفتار کیا گیا ،عدالت میں انکشاف سامنے آیا کہ سارہ شریف کو دو سال تک گھر میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سارہ شریف کو استری سے جلایا گیا، بیٹ سے مارا گیا، دانتوں سے کاٹا گیا،دس سالہ بچی کو سوتیلے بہن بھائیوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

    خیال رہے کہ 10 سالہ سارہ کی لاش 10 اگست کو برطانوی کاؤنٹی سرے کے ایک مکان سے ملی تھی لاش ملنے سے ایک دن پہلے والد عرفان اس کی بیوی بینش اور بھائی فیصل پاکستان آ گئے تھے ،عرفان نے پاکستان سے برطانیہ کی ایمرجنسی ہیلپ لائن فون کرکے سارہ کی موت کی اطلاع دی،جہلم کے علاقہ کڑی جنجیل سے تعلق رکھنے والے ملزم ملک عرفان نے 2009 میں برطانیہ میں پولش خاتون اوگلا سے شادی کی جس سے ایک بیٹی اور بیٹے کی پیدائش ہوئی سال 2017 میں عرفان نے اوگلا کو طلاق دے دی طلاق کے بعد دونوں بچوں کو والد کی تحویل میں دے دیا گیا ،ملک عرفان اپنی دوسری بیوی بینش بتول اور بچوں کے ساتھ سرے کے علاقہ میں شفٹ ہوا جہاں 10گست 2023 کو بچی کے قتل کا واقعہ پیش آیا، بچی کی موت کے دوسرے دن ہی ملک عرفان برطانیہ چھوڑ کر فیملی کے ہمراہ جہلم پہنچا اور کہیں روپوش ہوگیا تھا،عرفان اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ آبائی علاقے میں پہنچے تھے تاہم وہ اپنی مقامی رہائش گاہ سے بھی غائب ہو گئے تھے،بعد ازاں وہ برطانیہ گئے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا

    کراچی،نوجوان راہ چلتی خاتون کے سامنے برہنہ ہو گیا، ویڈیو وائرل

    دوستی،جنسی عمل،پھر نازیبا ویڈیو،بلیک میلنگ سے ڈھائی کروڑ بٹورلئے

    طیارے میں جوڑےکا "جنسی عمل”فلائٹ کریو نے ویڈیو لیک کر دی

  • سانحہ 9 مئی، اسلام آباد میں پہلا بڑا فیصلہ،10 ملزمان کو تین تین برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی، اسلام آباد میں پہلا بڑا فیصلہ،10 ملزمان کو تین تین برس کی سزا

    9 مئی احتجاج ،اسلام آباد میں درج مقدمات میں سے پہلا بڑا فیصلہ آگیا ۔ 10 مظاہرین کے خلاف پہلا بڑا فیصلہ،ضمانت پر رہا ہونے والے دس ملزمان گرفتار،تین تین سال قید کی سزا سنا دی گئی،ملزمان کے خلاف نو مئی 2023 پی ٹی آئی احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا گیا تھا.

    نو مئی احتجاج پر درج اسلام آباد کے مقدمات میں سے پہلے مقدمے کا فیصلہ آگیا۔پی ٹی آئی کارکنان میں دس ملزمان کو تین تین سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ملزمان کے خلاف 10 مئی 2023 کو پی ٹی آئی احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا گیا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ملزمان کو دہشت گردی کی دفعہ میں بری کر دیا گیا، کار سرکار میں مداخلت و دیگر دفعات میں سزائیں سنا دی گئیں۔ملزمان کے خلاف تھانہ آئی نائن پولیس نے 2023 میں فیض آباد کے مقام پر احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا تھا۔مقدمہ میں دس پولیس کے گواہان نے شہادتیں قلمبند کرائیں تھیں۔ملزمان کے خلاف دہشت گردی، توڑ پھوڑ، دھاوا بولنا، پولیس کے ساتھ لڑائی جھگڑا و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    قبل ازیں رواں برس ماہ مارچ میں نو مئی جلاؤ گھیراؤ کیس کا پہلا فیصلہ آ یا تھا جس میں 51 ملزمان کو سزا سنائی گئی تھی،سزا پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی عدالت نے سنائی، گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو گوجرانوالہ کینٹ میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں ملزمان کو سزا سنادی،عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 51 ملزمان کو پانچ پانچ برس قید کی سزا سنائی، انسداد دہشت گردی عدالت کی جج نتاشا نسیم سپرا نے مقدمے کا فیصلہ سنایا،

  • توشہ خانہ کیس،عمران، بشریٰ   کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا

    توشہ خانہ کیس،عمران، بشریٰ کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس ون میں سزا کے خلاف اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،عمران خان اور بشریٰ کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر رہا ہوں،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ دے دیں، اس متعلق پریشان نہ ہوں، آرڈر کر دیں گے۔وکیل علی ظفر نے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں بھی استثنیٰ کی درخواست پر اعتراض نہیں کروں گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا پیپر بُکس بنی ہوئی ہیں،نیب پراسیکیوٹر امجد پرویز نے کہا کہ میں خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے طریقہ کار سے متفق نہیں ہوں، میں نے اعتراف کرتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کا بیان دیا تھا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کر دیا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسکیوٹر امجد پرویز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں پہلے علی ظفر کو سن تو لینے دیں کہ وہ کیا کہتے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ یہ ایک جیل ٹرائل تھا، 29 جنوری کو جرح کا حق ختم کیا گیا، 30 جنوری کو بشریٰ بی بی کا 342 کا بیان رات 11 بجے کے قریب ریکارڈ کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس وقت عمران خان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا؟علی ظفر نے کہا کہ 31 تاریخ کو سوال نامہ عمران خان کو دیا گیا، میں عدالت کے سامنے ثبوت پیش کروں گا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے علی ظفر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ہدایات لینے کے لیے وقت دے دیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ نیب پراسیکیوٹر کے بیان پر کیا کہتے ہیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں اس حوالے سے اپنی گزارشات رکھنا چاہتا ہوں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ 2 ہی طریقے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ امجد پرویز جو بات کر رہے ہیں اُس کو مان لیں، آپ دوسری استدعا یہ کر سکتے ہیں کیس ٹرائل کورٹ میں فردِ جرم سے دوبارہ شروع ہو، اگر آپ یہ دونوں نہیں مانتے تو ہم پھر تکنیکی خرابیوں کی طرف جائیں گے ہی نہیں، آگر آپ یہ نہیں مانیں گے تو پھر ہم میرٹ پر کیس سُنیں گے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں سزا کا یہ فیصلہ برقرار رہ ہی نہیں سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ کی اپیلوں پر سماعت 21 نومبر تک کے لئے ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی سے سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کرنے کے نیب پراسیکیوٹر کے بیان سے متعلق ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کرنے کیلئے 21 نومبر تک وقت دیدیا

  • ریپ کیسز میں ملزم کو عبرتناک سزا دینے کا فیصلہ

    ریپ کیسز میں ملزم کو عبرتناک سزا دینے کا فیصلہ

    ریپ کیسز میں ملزم کو عبرتناک سزا دینے کا فیصلہ ، سینیٹ قائمہ کمیٹی میں ریپ کے ملزم کو کم از کم 25 سال سزا دینے کی تجویز ،چیئرمین کمیٹی نے سزا پر حتمی تجاویز کی لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی

    قائمہ کمیٹی کے چیئرمین فیصل سلیم رحمان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا،کمیٹی میں سینیٹر محسن عزیز کا ریپ کیسز میں سزا بڑھانے کا ترمیمی بل غور کیا گیا،سینیٹر محسن عزیز نے کہا ہے کہ ریپ کیسز میں سزا بہت کم ہے، سخت سے سخت سزا دینا ہو گی، ریپ کیسز میں مجرم جب تک زندہ ہے اسے جیل میں رہنا چاہیے،چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمٰان کا کہنا تھا کہ ریپ کیسز کے حوالے سے ترمیمی بل پر ذیلی کمیٹی بناتے ہیں، ذیلی کمیٹی 10 دنوں میں اپنی رپورٹ جمع کرائے گی،کمیٹی میں وزارت داخلہ، قانون اور انسانی حقوق کے نمائندے شامل ہوں گے۔

    سینٹر افنان نے Zionist کو بطور مذہب اپنانے ، اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کرنے کے خلاف بل پیش کیا اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بل منظور کر لیا۔ اور اسکی تبلیغ کرنے والوں کو 3 سال سزا ہوگی۔

    ریپ مقدمات میں کتنے درندوں کو سزا ملی؟ ایمل ولی

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا