Baaghi TV

Tag: سزا

  • عمران خان جیل میں اہلیہ سے علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، وکیل

    عمران خان جیل میں اہلیہ سے علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، وکیل

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی اور ضمانت کے خلاف اپیلوں پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نےکی،چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین سمیت دو درجن سے زائد وکلا عدالت پیش ہوئے، الیکشن کمیشن کی جانب سے امجد پرویز و دیگر عدالت پیش ہوئے،،دوران سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر ہمیں موصول ہوا ہے، سپریم کورٹ نے آج سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کا کہا ہے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ سب سے پہلے عدالت نے دائرہ اختیار کو طے کرنا ہے، اس کیس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن ڈسڑکٹ الیکشن کمشنر کو اتھارٹی دے رہا ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن آگے اختیار نہیں دے سکتا۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ صدر پاکستان نے 14 اگست کو قیدیوں کی 6 ماہ سزا معاف کی،عمران خان کی 6 ماہ کی سزا معاف کی جا چکی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کا حکم مل گیا ہے ہم آج فیصلہ دینے کے پابند ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ عمران خان کی سزا معطل کر کے فوری رہا کیا جائے

    سردار لطیف کھوسہ نے خواجہ حارث کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا، لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ دائرہ کار کا معاملہ تا حال طے نہیں ہوا۔الیکشن کمیشن شکایت کر سکتی ہے ،یہاں ایک پرائیویٹ سیکریٹری نے شکایت کی ،الیکشن ایکٹ کے مطابق سیکرٹری کمشین کی تعریف پر پورا نہیں اترتا،عمران خان کی سزا معطل کر کے فوری رہا کیا جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب ماتحت عدلیہ سے غلطی ہوئی ہے تو اس کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ مائی لارڈ بس غلطی؟ سیشن کورٹ ڈائرکٹ کمپلینٹ نہیں سن سکتی،الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کو شکایت دائر کرنے کا اختیار دیتا ہے۔چیئرمین الیکشن کمیشن اور چار ممبران کمیشن ہی شکایت دائر کرنے کا مجاز ہے۔میرے موکل کے خلاف شکایت سیکرٹری الیکشن کمیشن نے دائر کی۔سیکرٹری کو یہ اختیار نہیں۔ آپ کی معزز عدالت نے دو بار کیس ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجا مگر ٹرائل کورٹ نے آرڈر کو اگنور کر دیا۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹک جیل میں عمران خان کے سیل کے باہر ایک پولیس والا بیٹھا تھا، میں نے پوچھا تو خان صاحب نے کہا میں تو اپنی اہلیہ سے بھی علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، یہ سر پر بیٹھا رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو آٹھ سوالات پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا،ٹرائل کورٹ نے اُن سوالات کا جواب دیے بغیر اپنے پہلے آرڈر کو ہی درست قرار دیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی نہیں مانا،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتہ ہے ہم نے کیا کرنا ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ ہمیں سُن تو لیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا کمپلینٹ دائر کرنے کا اجازت نامہ قانون کے مطابق نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل، وہ اجازت نامہ درست نہیں ہے، ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بہت غلطیاں ہیں،میں اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈرز کا حوالہ دیتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو 8 سوالات پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا،ٹرائل کورٹ نے اُن سوالات کا جواب دیئے بغیر اپنے پہلے فیصلے کو ہی درست قرار دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل منظوری کا فیصلہ 4 اگست کی شام ملا، 5 اگست کو خواجہ حارث کے منشی کو اغواء کیا گیا، خواجہ حارث کا بیانِ حلفی موجود ہے،خواجہ حارث نے وجہ لکھی کہ کیوں وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہیں ہو سکے،ہم سیشن کورٹ کی جانب سے ٹرائل کو تو چیلنج ہی نہیں کر رہے، ٹرائل سیشن کورٹ ہی کرے گی لیکن براہ راست نہیں کر سکتی، اس کیس کو سیشن کورٹ میں کیوں لیکر جایا گیا ؟ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اس نوعیت کے کیس مجسٹریٹ کے پاس جائیں گے پہلے

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپکو میں بتاتا ہوں کہ کس طرح ہمایوں دلاور کا کیس سننا نہیں بنتا تھا آپ کتاب کھولیں اور سیشن 190(2) اور 193 پڑھیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جی ٹھیک، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں آپکو سپریم کورٹ کی ججمنٹ دیتا ہوں ،2022 SCMR 356،

    کمرہ عدالت میں رش کے باعث اے سی کام کرنا چھوڑ گئے،گرمی کے باعث لطیف کھوسہ نے معاون وکیل کو قانونی نکات پڑھنے کیلئے بلا لیا،چیف جسٹس عامر فاروق نے اے سی کے وینٹ کے سامنے سے وکلا کو ہٹنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اے سی کے وینٹ کے سامنے سے تو جگہ چھوڑ دیں، کچھ تو ہوا آئے گی، لطیف کھوسہ صاحب کو پانی پلائیں، لطیف کھوسہ کی معاون خاتون وکیل نے قانونی نکات پڑھنا شروع کر دیئے

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے مطابق گواہان کا تعلق انکم ٹیکس معاملات سے ہے، عدالت نے کہا کہ یہ عدالت انکم ٹیکس کا معاملہ نہیں دیکھ رہی، عدالت نے کہا وکیل دفاع گواہان کو کیس سے متعلقہ ثابت کرنے میں ناکام رہے،اس بنیاد پر ٹرائل عدالت نے گواہان کی فہرست کو مسترد کیا، جج صاحب نے کہا گواہان آج عدالت میں بھی موجود نہیں،گواہ اس روز کراچی میں موجود تھے، عدالت نے پوچھا آپ کیوں پیش کرنا چاہتے ہیں گواہان کو؟میرے گواہ ہیں، میں اپنے خرچے پر پیش کر رہا ہوں، آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے؟

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ میں نے پچاس سال میں ایسا کام ہوتے نہیں دیکھا جو ٹرائل جج نے کیا ہے،حق دفاع کی ہماری درخواست آج بھی آپ کے پاس زیر التوا ہے۔ معذرت کے ساتھ آپ نے بھی ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ دینے سے نہیں روکا ،چیف صاحب حیران کن بات یہ ہے کہ ہمایوں دلاور نے 30 منٹ میں 30 صفحات کا فیصلہ کیا، 30 منٹ میں 30 صفحات سن کر چیف جسٹس عامر فاروق مسکرا دئیے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جج ہمایوں نے اس وقت شارٹ آرڈر لکھوایا اور 12 بج کر 34 منٹ پر خان کو اٹھا لیا گیا خان نے مجھے کل بتایا کہ انہوں نے کہا میں آرہا ہوں وہ نہا رہے تھے واش روم کا دروازہ توڑا گیا،4 اگست کو آپ کا آرڈر آیا، آپ نے قابل سماعت کا معاملہ ریمانڈ بیک کیا، 5 تاریخ کو میں نے آپ کا آرڈر سپریم کورٹ چیلنج کردیا، خواجہ حارث کے کلرک کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، خواجہ حارث نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام درخواست لکھی اور معاملہ بتایا،خواجہ صاحب 12 بج کر 15 منٹ پر ٹرائل کورٹ پہنچ گئے، جج صاحب نے کہا اب ضرورت نہیں، آپ آرڈر سنیں، 12 بج کر 30 منٹ پر جج صاحب نے شارٹ آرڈر سناتے ہوئے تین سال کی سزا سنا دی،12 بج کر 35 منٹ پر پتہ چلا لاہور پولیس گرفتار کرنے پہنچ گئی،جج ہمایوں دلاور نے اپنا جوڈیشل مائنڈ استعمال ہی نہیں کیا۔

    لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہوئے تو وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ لطیف کھوسہ میرے نکاح کے گواہ ہیں ،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو پھر اہم گواہ بن گئے ہیں اور یہ غیر متعلقہ بھی نہیں،جس پرعدالت میں قہقے گونج اٹھے

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے وقفے کے بعد دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو 5 اگست کو سزا سنائی گئی،8 اگست کو فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حق دفاع ختم کرنے کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے،انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ ڈویژن بینچ ٹرائل کورٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان سینڈوچ بن چکا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ملزم 342 کے بیان میں کہتا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں گواہان پیش کرنا چاہتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ملزم نے مانا کہ پراسیکیوشن نے اپنا کیس ثابت کردیا اب دفاع میں گواہ پیش کرنے چاہیئں، الیکشن کمیشن کے فارم بی پر تحریر کرنے کیلئے معلومات تو ملزم نے خود دینا ہوتی ہیں،اکاؤنٹینٹ، ٹیکس کنسلٹینیٹ نے خود سے تو معلومات پر نہیں کرنا ہوتیں، یہ مس ڈیکلیریشن کا کیس ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے خلیفہ راشد دوم حضرت عمر رضی الله عنه کا حوالہ دیا اور کہا کہ حضرت عمر فاروق نے سب پہلے فارم بی کا کنسیپٹ دیا تھا،حضرت عمر نے قرار دیا کہ ارباب اختیار کو اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی ہیں،اپیل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت دائر کی گئی،یہ سیکشن صرف اپیل کا فورم بیان کر رہا ہے، ااس سیکشن کے تحت حتمی فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، اپیل کی نوعیت، سماعت کے طریقہ کار سے متعلق الیکشن ایکٹ کے حصہ 7 میں پورا چیپٹر موجود ہے،

    وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی جیولری یا گاڑی تو ڈیکلیئر نہیں کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی ریٹرن میں چار بکریاں مسلسل ظاہر کی جاتی رہی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت اس وقت سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے، سزا معطلی کی درخواست پر عدالت میرٹس پر گہرائی میں نہیں جائے گی، یہ سوالات تو آئیں گے کہ ملزم کو حقِ دفاع ہی نہیں دیا گیا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے گواہوں کو غیرمتعلقہ قرار دیا،گوشوارے تو اپنے کنسلٹنٹ کی مشاورت سے جمع کرائے جاتے ہیں نا،یہ تو کلائنٹ نے بتانا ہوتا ہے کہ اُس کے اثاثے کیا تھے،چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی کے پاس تین سال تک کوئی جیولری یا موٹرسائیکل تک نہیں تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو کوئی اپنے ریٹرنز فائل کرنے کا کہے تو میں تو خود نہیں کر سکتا، ان کے تین سوالات ہیں ایک مجسٹریٹ والا ہے ایک دورانیے والا ہے ایک اتھارٹی والا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ان کا سوال یہ بھی ہے ان کو آخری دن سنا نہیں گیا ان کا حق دفاع بھی ختم ہوا، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ان کا یہ کہنا ہے اگرچہ اسٹے نہیں تھا اس کے باوجود نوٹس تو اس عدالت نے کر رکھا تھا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی معاملہ زیر التوا تھا سنگل بنچ میں بھی ان کی پٹیشن زیر التوا تھی، اکاؤنٹنٹ اپنی طرف سے تو کچھ نہیں لکھتا کلائنٹ ہی بتاتا ہے، عدالت نے کہاکہ ہم اگرچہ لیگل کمیونٹی سے ہیں لیکن ٹیکس ریٹرن تو نہیں بھر سکتے، وکیل نے کہا کہ انہوں نے گوشواروں میں چار بکریاں ظاہر کیں لیکن باقی متعلقہ چیزیں ظاہر نہیں کیں، اپیل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت دائر کی گئی،یہ سیکشن صرف اپیل کا فورم بیان کر رہا ہےاس سیکشن کے تحت حتمی فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، اپیل کی نوعیت، سماعت کے طریقہ کار سے متعلق الیکشن ایکٹ کے حصہ 7 میں پورا چیپٹر موجود ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ کا اصل میں نقطہ کیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ درخواست گزار ریاست کی قید میں ہے، سزا سنائے جانے کے بعد اب سٹیٹس تبدیل ہو گیا ہے، ریاست کی قید میں ہونے پر ریاست کو فریق بنانا ضروری ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو ہم ضمانت کے معاملے پر چل رہے ہیں، اپیل پر بات نہیں کررہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس بنیاد پر اپیل خارج کر دی جائے،کہہ رہا ہوں کہ ریاست کو نوٹس جاری کر دیا جائے، قانون کی متعلقہ دونوں شقیں کہتی ہیں کہ ریاست کو نوٹس جاری کیا جانا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر آپ کی بات لی جائے، حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے جائیں تو حکومت آ کر کیا کرے گی؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ ملزم تو حکومت کی تحویل میں ہے نہ،یہ قانون کا تقاضا ہے، قانون آپ کے سامنے ہے، سادہ زبان ہے، ریاست کے پاس فیصلے کے دفاع کا حق موجود ہے،ریاست نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ فیصلے کا دفاع کرے گی یا نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کو لگتا ہے کہ ریاست آ کر کہے گی کہ سزا غلط دی گئی؟ یہ مختصر سزا ہے اور یہ بغیر نوٹس بھی معطل ہو جاتی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ موجود نہیں ہے کہ بغیر نوٹس سزا معطل ہوئی ہو، ‏مختصر سزا پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے احکامات موجود ہیں، ایک کیس میں ملزم کو ٹرائل کے بعد ساڑھے 2 سال کی سزا سنائی گئی تھی،ملزم نے ہائیکورٹ میں شارٹ سینٹس کی بنیاد پر معطلی کی اپیل کی، ہائیکورٹ نے اس کی اپیل خارج کی، معاملہ سپریم کورٹ گیا،
    ‏سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کہا کہ قابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمات میں بھی سزا معطل نہیں ہوسکتی،3 سال کی سزا معطلی حق نہیں، عدالت کے استحقاق پر منحصر ہے،

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل ،عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کل 11:30 پر دوبارہ سنیں گے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست،الیکشن کمیشن کے وکیل نے وقت مانگ لیا

    عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست،الیکشن کمیشن کے وکیل نے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ڈاکٹر بابر اعوان اور شیر افضل مروت نے سب سے پہلے عمران خان سے وکلاء کی ملاقات نہ کرانے کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری کے سامنے رکھ دیا ،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ آپ کے احکامات کے باوجود ہمیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آپکو ملاقات سے کیوں روکا گیا ہے، میں نے تو کہا تھا دو تین وکلاء ملاقات کیلئے چلے جائیں اور زیادہ رش نہ ہو،ملاقات میں کوئی ممانعت نہیں ہے، ہم نے گزشتہ سماعت پر جیل رولز بھی دیکھے تھے، میں نے اس تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آرڈر پاس کیا تھا،

    شیرافضل مروت ایڈوکیٹ نے کہاکہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے میرے گھر پر ریڈ کیا گیا ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے اپیل پر نوٹس جاری کر کے کیس کا ریکارڈ طلب کیا تھا، کیا ریکارڈ عدالت میں آ گیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ مجھے کیس کا تصدیق شدہ ریکارڈ ابھی نہیں مل سکا،کیس کے میرٹس پر سزا معطلی کی درخواست دی گئی ہے، میری استدعا ہے کہ مجھے تیاری کیلئے مناسب وقت دیا جائے، بابر اعوان نے کہا کہ لطیف کھوسہ، خواجہ حارث اور دیگر سینئر وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں اس حوالے سے آرڈر پاس کروں گا، سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ میری درخواست سن لیں شاید آج سزا معطل ہی ہو جائے، عدالت نے کہا کہ عمران خان کی وکلاء سے ملاقات کے بارے میں آج واضح فیصلہ جاری کرونگا

    ایڈیشنل جج اٹک کی رپورٹ سردار لطیف کھوسہ نے جسٹس عامر فاروق اور جہانگیری صاحب کے آگے رکھ دی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سیشن جج صاحب نے خود رپورٹ دی ہے وہاں پرائیوسی تک نہیں،ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے، ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر رحم نہ کھائیں مگر آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں ،

    الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے وقت مانگنے پر عدالت نے سماعت پرسوں تک ملتوی کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی اپیل پر سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • درہ آدم خیل,  ایکسائز اہلکار منشیات سمگلنگ میں خود ملوث

    درہ آدم خیل, ایکسائز اہلکار منشیات سمگلنگ میں خود ملوث

    ایکسائز اہلکاروں کی سرکاری گاڑی سے منیشات برآمد کر لیا گیا، درہ آدم خیل پولیس نے منشیات سمگلنگ میں ایکسائز ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا،پولیس کے مطابق گاڑی کے خفیہ خانے سے آٹھ کلوگرام سے ذائد ہیروئن برآمد کر لی گئ، مذید تلاشی لینے پر گاڑی سے 18 سو گرام آئس بھی برآمد ہو گئی، دونوں ملزمان تھانہ منتقل،ملزمان تفتیشی ٹیم کے حوالہ
    اس سے قبل بھی ایکسائز انسپکٹرز منوں منشیات سمگلنگ میں گرفتار کئے گئے تھے، منشیات سمگلنگ کے الزام میں انسپکٹر فیصل کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائ ہےانسپکٹر فیصل ڈی آئ خان میں تھانہ ایکسائز کے sho تھے،

  • جوہر ٹاؤن دھماکہ کیس، عدالت نے ملزمان کو سنائی سزا

    جوہر ٹاؤن دھماکہ کیس، عدالت نے ملزمان کو سنائی سزا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکہ کیس کا فیصلہ عدالت نے سنا دیا

    انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے کیس کا فیصلہ سنایا، ایڈمن جج نے کیس پر سماعت کی، سیکورٹی خدشات کی وجہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کی گئی، ملزمان کے خلاف مقدمے کا ٹرائل مکمل ہو چکا، عدالت نے تین ملزمان کو پانچ پانچ بار سزائے موت کا حکم دیا ،سزا پانے والے ملزمان میں ملزم سمیع الحق، عزیر اکبر اور نوید اختر شامل ہیں،ملزمان دھماکہ کے ماسٹر مائنڈ پیٹر پال کے ساتھی ہیں ،اس مقدمے میں پیٹر پال، عید گل، اور سجاد سمیت چار ملزمان کو پہلے ہی 9٫9 مرتبہ سزا موت ہو چکی ہے

    جوہرٹاون دھماکہ:تحقیقاتی ادارے ملزم کے قریب پہنچ گئے،

    جوہرٹاؤن دھماکہ؛ بارود سے بھری گاڑی کا مالک کون؟بارود کہاں نصب کیا گیا اورگاڑی کیسے پہنچی؟تہلکہ خیزانکشافات 

    لاہور دھماکہ، ایئر پورٹ سے فرار ہونیوالے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا

    جوہر ٹاؤن دھماکہ،تحقیقات میں زبردست کامیابی حاصل کر لی، شیخ رشید

    جوہر ٹاؤن دھماکہ "را” کے ملوث ہونے کے ثبوت،دو مزید ملزمان گرفتار،ڈیوڈ بارے اہم انکشافات

    جوہر ٹاؤن دھماکہ، سب ملزمان گرفتار، ملک دشمن خفیہ ایجنسی ملوث، بزدار کی پریس کانفرنس

    پراسیکیوشن کے 56 گواہان نے ملزمان کیخلاف شہادت قلمبند کرائی۔ پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور گواہان کے بیانات سے ملزمان کا جرم ثابت ہوتا ہے۔ ملزمان کو سزائے موت دی جائے۔ ملزمان پیٹر پال، عید گل، عائشہ گل، ضیا اللہ اور سجاد کیخلاف سی ٹی ڈی نے مقدمہ درج کیا تھا۔ سی ٹی ڈی نے ملزمان کو جوہر ٹاؤن دھماکہ کیس میں گناہ گار قرار دے رکھا ہے۔یاد رہے کہ 23 جون 2021 کو لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہوئے دھماکہ کیا گیا تھا

  • جامعہ زکریا کے طالب علم کلیم اللہ سہو کے قاتل اویس ارشد کو عدالت نے سنائی سزا

    جامعہ زکریا کے طالب علم کلیم اللہ سہو کے قاتل اویس ارشد کو عدالت نے سنائی سزا

    ملتان،جامعہ زکریا کے طالب علم کلیم اللہ سہو کے قاتل اویس ارشد کو سزائے موت سنا دی گئی

    عدالت نے مقتول کے ورثاء کو 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے ،عدالت نے اقدام قتل کے دفعات میں اویس ارشد کو ایک لاکھ 45 ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے اقدام قتل کے دفعات میں اویس ارشد کو ایک سال سزا کا بھی حکم سنایا ہے ،پولیس حکام کے مطابق کلیم اللہ سہو کو 14 اگست 2021 میں جامعہ زکریا میں خنجر کے وار کرکے قتل کیا گیا تھا,قاتل جامعہ زکریا کا سابق طالب علم اور جامعہ میں آئس کا سپلائر تھا,قاتل کو واردات کے کچھ دیر بعد جامعہ زکریا سے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا,ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اکمل خان نے قتل کیس کا فیصلہ سنایا,

    پولیس حکام کے مطابق جھگڑے میں تین طلباء ذوالفقار علی,عبدالقدیراورشرجیل کامران بھی زخمی ہوئے تھے جھگڑا دو تنظیموں کے طلباء کے درمیان تنازعہ پر ہوا تھا,تھانہ بی زیڈ نے اویس ارشد کیخلاف قتل,اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا,مدعی مقدمہ کیجانب سے ایڈووکیٹ ندیم کانجو نے کیس کی پیروی کی.

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    پانچ بچوں کی ماں سے "خفیہ”ملنے آنیوالے تاجر کا قاتل گرفتار،کس نے کیا قتل؟ اہم انکشاف

  • ملکی مفادات کے خلاف بات کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے،شجاعت حسین

    ملکی مفادات کے خلاف بات کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے،شجاعت حسین

    مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ جو لوگ ملکی مفادات کے خلاف بات کرتے ہیں یا لکھتے ہیں ان کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے،ایسے لوگوں کو قوم بھی معاف نہیں کرے گی، قومی مفاد کے خلاف اگر کوئی ثبوت ملے تو بڑے سے بڑے آدمی بھی رعایت کا مستحق نہیں ہونا چاہئے.

    چودھری شجاعت حسین نے کہا اگرچہ سیلاب اس وقت قومی ایشو ہے جس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہے، ہمیں ان ممالک کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہئے جنہوں نے سیلاب زدگان کی مدد کی، ان محب وطن اوورسیز پاکستانیوں کا بھی شکریہ جنہوں نے بڑھ چڑھ کر امداد میں حصہ لیا، تمام پارٹیوں کے کارکن اختلافات بھلا کر سیلاب زدگان کی مدد و بحالی میں اپنا حصہ ڈالیں.

    چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ سیاسی لیڈران ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں.

  • دوران زیادتی خواتین کے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی کام کرنیوالے ملزم کو ہوئی سزا

    دوران زیادتی خواتین کے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی کام کرنیوالے ملزم کو ہوئی سزا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے بدنام زمانہ دہشت گرد کے بھائی کو نوجوان کے ساتھ بار بار بدفعلی اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے کیس میں سزا سنا دی گئی ہے

    عدالت نے ملزم کو دس برس قید کی سزا سنائی ہے، آسٹریلیا کے دہشت گرد کے بھائی عبدالرحیم شروف کو عدالت نے سزا سنائی، ملزم کو 2007 اور 2008 میں زیادتی کے 24 مقدمات میں قصور وار پایا گیا، ملزم کمزوروں کے ساتھ بدفعلی و زیادتی کرتا تھا ،سڈنی ڈاووننگ سنٹر کورٹ نے ملزم کو جیل بھجوا دیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم زیادتی کے وقت تشدد بھی کرتا تھا اور جنسی زیادتی کے وقت توہین آمیز حرکات کرنے پر بھی مجبور کرتا تھا

    دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے جنسی زیادتی کے دوران ایک خاتون کا سر نیچے کر دیا اور تب تک بدفعلی کی جب تک خاتون کو قے نہیں آئی، عدالت نے اس واقعہ پر دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا یہ عمل ہتک آمیر، ذلت آمیر اور انتہائی خوفناک ہے

    ملزم دہشت گرد خالد شروف کا بھائی ہے جس نے 2014 میں بین الاقوامی سطح پر پذیرائی اس وقت حاصل کی جب اس نے ایک تصویر شیئر کی جس میں شامی فوجی کا کٹا ہوا سر تھا، بعد میں دہشت گرد خالد امریکی فضائی حملے کے دوران شام میں مارا گیا تھا

    عدالت نے دوران سماعت ملزم کے حوالہ سے ریمارکس دیئے کہ ،ملزم اخلاق سے عاری تھا اور ملزم کے ایسے فعل انتہائی قبیح عمل ہیں جنہیں معاف نہیں کیا جا سکتا ، عدالت کو بتایا کہ دوران زیادتی خاتون مسلسل چیختی رہی لیکن ملزم کو ذرا بھی ترس نہیں آیا،

    عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے دوران تحقیقات تسلی کیا کہ ملزم شروف نے رضا مندی کے بغیر جنسی زیادتی کی اور لڑکیوں کو گلا گھونٹنے کی دھمکی بھی دی،عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو دس برس قید کی سزا سنائی ہے جس کے بعد ملزم کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے، دوران سماعت ملزم نے تمام گناہ تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں تا ہم پولیس تحقیقات میں ملزم نے سب گناہ تسلیم کئے تھے

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    والد،والدہ،بہن، بھانجے،ساس کو قتل کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار

    تبادلہ کروانا چاہتے ہو تو بیوی کو ایک رات کیلئے بھیج دو،افسر کا ملازم کو حکم

    معذور بچی کے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    20 سالہ لڑکی کو اغوا کر کے کیا گیا مسلسل دو روز گھناؤنا کام

  • کورٹ ٹرائل مکمل،جرمانہ و سزا

    کورٹ ٹرائل مکمل،جرمانہ و سزا

    قصور
    مشہور زمانہ قتل کیس کا فیصلہ،ملزم کو عمر و جرمانہ کی سزا

    تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قصور محمد ندیم انصاری نے تھانہ بی ڈویژرن کے مقدمہ قتل سال 2021 میں ایک ملزم عاشق عرف پپو کے ہاتھوں قتل ہونے والے صدیق عرف لاڈی فروٹ منڈی والے کے مشہور مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئےملزم عاشق کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور مبلغ دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا ہے جبکہ عدم ادائیگی جرمانہ پر مجرم کو مذید چھ ماہ سزائے قید بھگتنا ہو گی
    استغاثہ کے مطابق مقامی صحافی ملک عارف علی کا سسر اپنے بیٹے ملک یٰسین کیساتھ فروٹ منڈی میں کاروبار کرتا تھا اور مقتول سے اکثر مجرم عاشق ادہار فروٹ خریدتا تھا اور کئی دنوں سے ادہار لئے فروٹ کی رقم ادا نہ کر رہا تھا
    وقوعہ کے روز مقتول ملزم سے پیسے لینے گیا جب کافی دیر واپس نہ لوٹا تو مقتول کا بیٹا ملک یٰسین اسکا پوتا ارسلان اور کزن آصف کے ہمراہ ملزم کے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ رکن پورہ کے قریب النصرت سکول سے ملحقہ خالی پلاٹ پر پہنچے تو دیکھا کہ ملزم عاشق نے بڑی سفاکی اور بے رحمی سے تیز دھار آلہ سے صدیق کو گلے اور جسم کے دیگر حصوں پر وار کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے اور اب ان تینوں کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دیکر موقع پر سے چھری لہراتا ہوا فرار ہو گیا تھا
    فاضل عدالت نے چالان موصول ہونے پر ٹرائل کر کے ثبوت و ٹھوس شہادتوں کی بناء پر سزا سنائی
    مستغیث کی طرف سے مقدمہ کی پیروی سنئیر ایڈووکیٹ محمد اکبر چوھدری نے کی

  • برطانیہ نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی امریکہ حوالگی کی منظوری دے دی

    برطانیہ نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی امریکہ حوالگی کی منظوری دے دی

    لندن :وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی امریکہ حوالگی ،اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے جمعہ کو وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو فوجداری الزامات کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی، اب اس کے بعد یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ یہ قانونی جنگ اب اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے

    وکی لیکس کا بانی مشکل میں، عدالت نے سنائی سزا

    وکی لیکس کے بانی جولین اسانج امریکی حکام کو 18 معاملات میں مطلوب ہیں، جن میں جاسوسی کا الزام بھی شامل ہے، جس میں وکی لیکس کی جانب سے خفیہ امریکی فوجی دستاویزات اور سفارتی پیغام رسانی کے وسیع ذخیرے کے اجراء سے متعلق ہے جن کے بارے میں واشنگٹن نے کہا تھا کہ اس نے جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    جبکہ اس کے برعکس وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیرو ہے جسے اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس نے افغانستان اورعراق کے تنازعات میں امریکی غلط کاموں کوبے نقاب کیا، اور یہ کہ اس کا مقدمہ صحافت اور آزادی اظہار پر سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کا حملہ ہے۔

    وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے کیس کا فیصلہ آج متوقع.

    ادھر برطانوی وزارت داخلہ نے کہا کہ اب اس کی حوالگی کی منظوری دے دی گئی ہے لیکن وہ اب بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ فیصلے کے خلاف اپیل کے حوالے سے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے کہا کہ وہ کریں گے،جبکہ برطانوی وزارت داخلہ نے کہ بھی وضاحت کی ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی حوالگی پربرطانوی قانون اورعدالتوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے ایک برطانوی جج نے فیصلہ دیا کہ اسانج کو ملک بدر نہیں کیا جانا چاہیے، یہ کہتے ہوئے کہ اس کی ذہنی صحت کے مسائل کا مطلب ہے کہ اگر اسے سزا سنائی گئی اور اسے زیادہ سے زیادہ حفاظتی جیل میں رکھا گیا تو اسے خودکشی کا خطرہ ہو گا۔جبکہ دوسری طرف اسے ایک اپیل پر مسترد کر دیا گیا جب ریاستہائے متحدہ نے یقین دہانیوں کے وعدے پر وعدے کیے، جس میں یہ وعدہ بھی شامل تھا کہ اسے کسی بھی سزا کے لیے آسٹریلیا منتقل کیا جا سکتا ہے۔

    دوسری طرف وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی اہلیہ سٹیلا نے کہا کہ یہ پریس کی آزادی اور برطانوی جمہوریت کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ "آج لڑائی کا خاتمہ نہیں ہے، یہ صرف ایک نئی قانونی جنگ کا آغاز ہے۔”

    وکی لیکس کے بانی کو امریکا نے مانگا تو کیسے منہ کی کھانا پڑی

  • توہین مسجد نبوی،پی ٹی آئی کارکن کو سعودی عدالت نے سزا سنا دی

    توہین مسجد نبوی،پی ٹی آئی کارکن کو سعودی عدالت نے سزا سنا دی

    توہین مسجد نبوی،پی ٹی آئی کارکن کو سعودی عدالت نے سزا سنا دی
    ‏وزیراعظم شہباز شریف کے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاظری کے موقع پرشوروغوغا کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنے والے پاکستانی اور پی ٹی آئی کے سپورٹر محمد طاہر کو سعودی عرب کی مدینہ منورہ کی تین ججز پر مشتمل عدالت کی طرف سے تین سال قید اور دس ہزار ریال کی سزا سنا دی گئی

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران نازیبا واقعہ پیش آیا تھا مسجد نبوی میں نعرے لگائے گیے مریم اورنگزیب شاہ زین بگٹی سے بدتمیزی کی گئی واقعہ کے بعد سعودی حکام نے ایکشن لیا اور چند شرپسندون کو گرفتار کیا ،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سعودی حکام سے ان افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کریں گے ،

    وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب سے واپسی پر پاکستان میں بھی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، شیخ رشید سمیت دیگر پر مقدمے درج کئے گئے تا ہم تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ضمانت کروا لی اور کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا، ان کیسز میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، شیخ رشید ابھی بھی ضمانت پر ہیں،

    مسجد نبوی کی توہین کے واقعہ پر پاکستانی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی احتجاج کیا تھا ،جے یو آئی نے کراچی مین ایک بڑا جلسہ کیا تھا جس سے مولانا فضل الرحمان نے بھی خطاب کیا تھا،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی ٹرینڈ ٹاپ پر آ گیا تھا جس میں مسجد نبوی کی توہین کرنے والے پاکستانیوں کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ سامنے آیا تھا، واقعہ کے اگلے روز سعودی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ واقعہ میں ملوث کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

     سابق وزیراعظم عمران خان سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد فواد چودھری قاسم سوری شہباز گل کے خلاف دفعہ 295 کے تحت مقدمہ درج

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    توہین مذہب کے مقدمات، شیریں مزاری نے اقوام متحدہ میں مسئلہ اٹھا دیا

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، رانا ثناء اللہ نے بڑا اعلان کر دیا

    سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے کہ حکومت ایکشن کیوں نہیں لے رہی۔ مریم نواز کا ردعمل

    سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے