Baaghi TV

Tag: سعد رضوی

  • ڈچ عدالت میں ٹی ایل پی رہنماؤں کے خلاف  قتل کی ترغیب پر کاروائی

    ڈچ عدالت میں ٹی ایل پی رہنماؤں کے خلاف قتل کی ترغیب پر کاروائی

    ایمسٹرڈیم کی ایک اعلیٰ سکیورٹی عدالت میں پیر کے روز تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف جلالی کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔

    دونوں رہنماؤں پر ڈچ اسلام مخالف سیاستدان گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر اکسانے کے الزامات ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی” کے مطابق، ڈچ پراسیکیوٹرز نے محمد اشرف جلالی پر اپنے پیروکاروں کو وائلڈرز کو قتل کرنے کی ترغیب دینے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ سعد رضوی پر بھی اسی الزام کے تحت شبہ ہے۔ ڈچ پراسیکیوٹرز نے ایک 56 سالہ پاکستانی مذہبی رہنما محمد اشرف جلالی پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں سے کہا ہے کہ وہ وائلڈرز کو قتل کر دیں، اس کے بدلے میں آخرت میں انہیں جنت ملے گی،تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی پر شبہ ہے کہ انہوں نے ایک پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کو قتل پر اکسانے کے جرم میں سزا سنائے جانے کے بعد اپنے پیروکاروں کو وائلڈرز کو قتل کرنے کی ترغیب دی ،

    سماعت کے دوران وائلڈرز عدالت میں موجود تھے، انہوں نے عدالت پیشی کے دوران عدالت میں کہا کہ اس مقدمے نے مجھ پر اور میرے خاندان پر بہت گہرا اثر ڈالا ،میرا اس عدالت سے یہ کہنا ہے کہ وہ یہ ٹھوس پیغام بھیجے کہ اس ملک کے لیے فتوے دینا قابل قبول نہیں ہے،ڈچ حکام نے اسلام آباد سے کہا ہے کہ وہ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ اور انہیں عدالت میں پیش کرنے کے سلسلے میں قانونی معاونت کرے،تاہم پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان باہمی قانونی معاونت کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے، چنانچہ ان دونوں افراد میں سے کوئی بھی عدالت کے کٹہرے میں حاضر نہیں ہوا اور نہ ہی ان کی جانب سے کسی نے عدالت میں ان کی قانونی نمائندگی کی۔

    مقدمے کی سماعت انتہائی محفوظ کورٹ ہاؤس میں ہوئی، جہاں دونوں ملزمان غیر حاضر تھے اور نہ ہی ان کی کوئی قانونی نمائندگی موجود تھی۔ پچھلے سال ستمبر میں ججوں نے ایک پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کو 12 سال قید کی سزا سنائی، لطیف پر الزام تھا کہ انہوں نے تند مزاج قانون ساز وائلڈرز کی جانب سے پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کے مقابلے کے اعلان کرنے کے بعد لوگوں کو ان کے قتل پر اکسایا تھا۔

    پبلک پراسیکیوٹر نے اشرف جلالی کے لیے 14 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سعد رضوی کے مقدمے کا فیصلہ 9 ستمبر کو متوقع ہے ، تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کے خلاف انفرادی الزامات کی سماعت آئندہ دنوں میں ہو گی، جس کے بعد عدالتی فیصلہ نو ستمبر کو متوقع ہے،سکیورٹی وجوہات کے بنا پر پراسیکیوٹر کا نام ظاہر نہیں کیا گیا

    واضح رہے کہ ستمبر 2023 میں پ اکستان کے سابق انٹرنیشنل کرکٹر خالد لطیف کو اسلام مخالف رکن پارلیمنٹ گیئرٹ ولڈرز کے قتل پر زور دینے پر 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ 37 سالہ لطیف نے ایک آن لائن ویڈیو میں ولڈرز کے سر کے لیے 21,000 یورو (22,500 ڈالر) کی پیشکش کی تھی جب فائربرانڈ قانون ساز نے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون کے مقابلے کا اہتمام کرنے کی کوشش کی تھی۔صدارتی جج جی وربیک نے عدالت کو بتایا کہ "یہ سوچنا کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھا کہ دنیا بھر میں کسی نے مسٹر ولڈرز کو قتل کرنے کی کال پر توجہ دی ہو گی۔ملزم کو یہ معلوم تھا اور اس کی کال نے وائلڈرز کو مارنے کے لیے آگ کو ہوا دی۔

    وائلڈرز نے پاکستان میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد کارٹون مقابلہ منسوخ کر دیا اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ وہ 2004 سے 24 گھنٹے ریاستی تحفظ میں ہے۔ ولڈرز کو قتل کرنے کی کال حقیقی دنیا میں گونجتی دکھائی دی،جج وربیک نے کہا کہ خالد لطیف کی ویڈیو صرف وائلڈرز پر ذاتی طور پر حملہ نہیں ہے بلکہ نیدرلینڈز میں اظہار رائے کی آزادی کے تصور پر بھی حملہ ہے۔

    خالد لطیف نے پاکستان کے لیے پانچ ایک روزہ بین الاقوامی اور 13 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے لیکن دبئی میں پاکستان سپر لیگ کے ایک میچ میں سپاٹ فکسنگ کی وجہ سے 2017 میں ان پر کرکٹ سے پانچ سال کی پابندی عائد کر دی گئی۔ ان کی آخری پاکستانی ٹیم ستمبر 2016 میں ابوظہبی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی تھی۔تاہم، وربیک نے کہا کہ خالد لطیف نے ایک بین الاقوامی کرکٹر کے طور پر اپنی شہرت کا فائدہ ایسے وقت میں "آگ میں تیل ڈالنے” کے لیے اٹھایا جب ہالینڈ پہلے ہی کئی خطرات کا نشانہ بنا ہوا تھا۔

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    ہالینڈ کی عدالت سب سے پہلے گیرٹ ویلڈر کو اس گھناؤنی حرکت کی سزا دے۔ ترجمان ٹی ایل پی

    پاکستان کی عدالت میں گیرٹ ویلڈر کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کررہے ہیں،ضرورت پڑی تو عالمی عدالت بھی ضرور جائیں گے،ترجمان ٹی ایل پی

    ہالینڈ کی عدالت میں گیرٹ ویلڈر کے وکیل کی طرف سے پیش کیے گئے جھوٹ پر مبنی بیان اور غیر قانونی مطالبہ پر ترجمان تحریکِ لبیک پاکستان نے مرکز سے جاری اپنے پیان میں کہا کہ تحریکِ لبیک پاکستان ہالینڈ کی عدالت سے یہ سوال کرتی ہے کہ سزا تو گیرٹ ویلڈر کو ملنی چاہئے، گیرٹ ویلڈر نے تمام جہانوں کے سردار رحمت العالمین ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، دنیا کا کون سا ایسا قانون ہے جس میں لکھا ہے کہ کسی کی حق تلفی کرنا جائز ہے، اسے پتا تھا کہ اس بدترین کام سے مسلمانوں کو شدید دکھ و رنج ہوگا، کیا یورپ کا قانون کسی کی عزت پامال کرنے کی اجازت دیتا ہے؟؟، اس کو آزادی اظہارِ رائے نہیں اس کو اسلام دشمنی کہتے ہیں، جو پورے پلان کے ساتھ کی جارہی ہے، ہالینڈ کی عدالت سب سے پہلے گیرٹ ویلڈر کو اس گھناؤنی حرکت کی سزا دے، یورپ میں تو جانوروں کے حقوق بھی ہیں انسانوں کے حقوق تو بہت آگے کی بات ہے، کیا یورپی لوگ یہ بھول گئے کے مسلمانوں کے بھی حقوق ہیں، ہمارا دین تو ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا، لیکن ہمارا دین ہمیں اس کی ضرور اجازت دیتا ہے کہ کوئی بھی پیارے نبی ﷺ کے بارے میں غلط بات کرے تو اسے اسی وقت سزا دو، ہم پاکستان کی عدالت میں گیرٹ ویلڈر کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کررہے ہیں، ضرورت پڑی تو عالمی عدالت بھی ضرور جائیں گے۔

  • سعد رضوی کا 22 سے 29 نومبر غزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم مذمت منانے کا اعلان

    سعد رضوی کا 22 سے 29 نومبر غزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم مذمت منانے کا اعلان

    امیر تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے قائد و بانی تحریک لبیک پاکستان علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے تین روزہ عرس کے تیسرے روز آخری نشست کی تقریب لبیک الاقصیٰ و شہدائے ناموسِ رسالت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ٹی ایل پی کو ختم کردو،

    حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ خبردار کوئی یہ کہے کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ ہے، یہ اسلام اور یہودیت کی جنگ ہے، عزت کی زندگی جی رہے ہیں اور عزت کی موت ہی مریں گے،کہتے ہیں آپ ن لیگ کے بارے نرم گوشہء ہیں، ن لیگ کے خلاف ختم نبوّت قانون کی ترمیم پر ہم نے دھرنا دیا تھا،ایک دجال کہہ رہا تھا کہ ہم نے بابا رضوی کے ساتھ کیا کیا، وہ شاید بھول رہا ہے کہ ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا،ہم نے اپنے کارکنان کو بڑا سنبھال کررکھا ہوا ،بابا جی ختم نبوّت کے چوکیدار تھے ہیں اور تاقیامت رہینگے،

    حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پر ہمیں اعتماد نہیں، الیکشن کمیشن نے الیکشن کے نتائج ابھی سے مرتب کر لیے ہیں،دوبارہ ایک شخص کو لاڈلا بنایا جا رہا ہے،کسی کو اپنے مینڈیٹ پر ڈاکا نہیں مارنے دیں گے، مسلم حکمرانوں نے پوری امت مسلمہ کو امریکی غلامی میں دھکیل دیا ہے،فلسطین پر جاری ظلم و جنگ صرف زمینی جھگڑا نہیں بلکہ حق و باطل کی جنگ ہے،اسرائیل کا علاج قراردادیں اور مذمتیں نہیں،او آئی سی کا کردار امت مسلمہ کے لیے ایسا ہے جیسا پاکستانی معیشت کے لیے آئی ایم ایف کا کردار ہے، 22 نومبر سے 29 نومبر تک مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم مذمت منائیں گے، گلیوں ، بازاروں اور گھر گھر تک یومِ مذمت کا پیغام پہنچائیں گے،

    عمران خان کیخلاف مکافات عمل،اداروں کی لڑائی میں ملک کا نقصان نہ کریں،سعد رضوی

     تحریک لبیک نے ایک بار پھر میدان میں اترنے کا اعلان کر دیا

    حویلیاں میں عاشقین رسول سے درندگی۔ اصل حقیقت کیا؟ حافظ سعد رضوی نے کھرا سچ میں سب بتا دیا

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    ہرمظلوم کا ساتھ دیں گے، ہم ہر ظالم کا ہاتھ روکیں گے،حافظ سعد رضوی کا اعلان

    قیادت نا اہلوں سے نکل کر ناقابل اعتبار لوگوں کے ہاتھ آ گئی،حافظ سعد رضوی

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سیاسی رہنماؤں کا ردعمل سامنے آیا ہے تو ہیں لاہور ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی ہے،

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہیں ،حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پرپٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کر کے عوام کا جینا مزید مشکل بنا دیا ،جماعت اسلامی بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی تحریک چلا رہی ہے، چاروں صوبوں میں گورنر ہاؤسز کے باہر عوامی دھرنے دیں گے عوام سے اپیل کرتا ہوں ،کہ اس صورتحال میں خاموش رہنا موت ہے ، موت کا انتظار کرنے کی بجائے گھروں سے نکلیں اور جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں

    امیر تحریک لبیک پاکستان علامہ سعد حسین رضوی کا کہنا ہے کہ ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کیلئے سارا بوجھ عوام پر ڈالنا ظلم ہے ،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا ،اس کا اثر براہ راست روزمرہ استعمال کی اشیاء ضروریہ پر پڑے گا

    بڑھتی ہوئی مہنگائی کیخلاف عوامی ردّعمل کو مزید روکنا اب ممکن نہیں، تحریک انصاف
    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی شدید مذمت کی گئی، اور نگران حکومت سے ناکام معاشی پالیسیوں کی قیمت عوام سے وصول کرنے کا ظالمانہ سلسلہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا گیا، ترجمان تحریک انصاف کے مطابق عوام کی قوّت خرید سلب کرنے کے بعد یہ اضافہ ملک میں خانہ جنگی کو ہوا دینے کی سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے،نگران حکومت ہر لحاظ سے پی ڈی ایم کی مجرمانہ حکومت ہے کی توسیع و تسلسل ہے،امید تھی انوارالحق کاکڑ مجرموں کے وارث بننے کی بجائے کسی بہتر راہ کا انتخاب کریں گے،مجرموں نے معیشت کا جنازہ نکالا، نالائق اور برائے نام نگران عوام کو دفن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں،پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس تازہ اضافے سے مہنگائی کی تباہ کن لہر کی شدت بڑھے گی،آئین و قانون کی بجائے ملک کو اپنی منشاء کے تابع چلانے والوں کے پاس مزید تجربوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں،پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ فوری واپس لیکر بھتہ خوری کا حکومتی سلسلہ بند کیا جائے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کیخلاف عوامی ردّعمل کو مزید روکنا اب ممکن نہیں،

    نگران حکومت کا پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ایک اور شب خون،خالد مسعود سندھو
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت کا رات کے اندھیرے میں مہنگائی کی پسی عوام پر ایک اور شب خون ، نگران وزیراعظم نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے قوم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں ہے۔ حکومت فی الفور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے اور عوام کو ریلیف دے وگرنہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ملک گیر احتجاج کی کال دینے پر مجبور ہوگی۔

    دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔جوڈیشل ایکٹوزیم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی ہے، جس میں نگراں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 26 روپے کا اضافہ کردیا ہے، مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے کیلئے کوئی میکنزم نہیں ہے ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، استدعا کی کہ عدالت قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے

    پٹرول بم نے عام شہری کی زندگی میں دہشت برپا کر دی ہے،میاں خالد محمود
    جنرل سیکرٹری لاہور ڈویژن آئی پی پی میاں خالد محمود نےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر رد عمل میں کہا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی پٹرول کی قیمت میں 26 روپے فی لیٹر اضافے کو مسترد کرتی ہے ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر عوام کی زندگی کو اجیرن بنایا گیا ہے۔پٹرول بم نے عام شہری کی زندگی میں دہشت برپا کر دی ہے۔ دو وقت کی روٹی کمانے والوں کے لئے موٹر سائیکل کی ٹینکی فل کروانا خواب بن چکا ہے۔ ایسے فیصلوں سے بے بس عوام کو چیخنے چلانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی عوام کی مشکلات حل کرنے کے لئے ہمہ وقت عوام میں موجود ہے۔ ہماری پارٹی کا منشورآدھی قیمت پر پٹرول کی فراہمی ہی اس مسئلے کا حل ہے۔

    مسافروں کو مہنگائی نے مار دیا روٹی پوری کریں یا سفر کریں،ٹرانسپورٹر بھی پھٹ پڑے
    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹرز اونرز فیڈریشن نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،ٹرانسپورٹرز کا ہنگامی اجلاس بند روڈ پر ریجنل آفس میں ہو گا ،اجلاس میں تمام بس ٹرمینلز کے مالکان اور پبلک ٹرانسپورٹرز کو شرکت کی دعوت دے دی گئی ،اجلاس میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر لائحہ عمل بنائے جانے پر غور ہو گا ،ٹرانسپورٹر کا کہنا ہے کہ ان حالات میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانا محال ہے،مسافروں کو مہنگائی نے مار دیا روٹی پوری کریں یا کسی سے ملنے کے لئے سفر کریں۔ پٹرول کی قیمت میں اضافہ کئی گھروں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دے گا۔

    مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ متوقع
    ریلوے حکام نے بھی مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے کرایوں میں اضافے پر کام شروع کر دیا ، مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں 10 سے 14 فی صد اضافہ متوقع ہے، مال بردار ٹرینوں کے کرائے میں 15 سے 20 فی صد تک اضافہ ہو سکتا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو ماہ کے دوران چوتھی بار اضافہ ہوا ،اربوں روپے کے خسارے کا شکار ریلوے پر مزید اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے ،پاکستان ریلوے کے سسٹم پر روزانہ اوسطا ساڑھے 3 لاکھ لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا ہےڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ایک ماہ کے دوران 20 کروڑ روپے کا اضافہ ہو گا۔دو ماہ کے دوران ڈیزل کی مد میں 75 روپے51 پیسے اضافہ ہوا ،15 اگست کو ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہونے سے ریلوے حکام نے 16 اگست کو ریل کرایوں میں اضافہ کیا تھا۔مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں 10 فیصد ،گڈز ٹرینوں کے کرایوں میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔۔

    واضح رہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا، جبکہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 26 روپے 2 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 38 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 329 روپے 18 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • تحریک لبیک کو فرقہ واریت کی طرف دھکیلنے کی سازش کی گئی:سعد رضوی

    تحریک لبیک کو فرقہ واریت کی طرف دھکیلنے کی سازش کی گئی:سعد رضوی

    لاہور:تفصیلات کے مطابق امیر تحریک لبیک علامہ سعد رضوی نے مرکز تحریک لبیک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک ایک بڑے سانحہ سے گزری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہری پوری میں سانحہ حکومتی دہشگردی کا نتیجہ ہے، بارہ ربیع الاول کا جلوس حویلیاں کی طرف جا رہا تھا جس کو روکا گیا اور منزل سے تین کلومیٹر پہلے ہی اس جلوس کو ختم کر دیا گیا۔

    سندھ ہائیکورٹ کا کراچی میں بلدیاتی انتخابات یقینی بنانےکاحکم

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعد حسین رضوی کا کہنا تھا کہ حویلیاں میں عید میلادالنبی ﷺ کا جلوس روکنا تحریک لبیک کو فرقہ واریت کی طرف دھکیلنے کی سازش تھی،پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کو بے نقاب کیا جائے،پاکستان میں حقوق سب کے ہے مگر مذہبی لوگوں کے نہیں ہیں،حکومت کے نزدیک ٹی ایل پی سے وابستہ کسی فرد کے حقوق نہیں،ہمارے شہیدوں کے پوسٹ مارٹم نہیں ہو رہے وکلاء عدالت میں چکر لگا رہے ہیں،ملک کے تمام اداروں کے سربراہان سے سوال ہے جلوس کے اختتام پر کس نے گولیاں برسائی کس نے لائیٹس بند کیں؟ تین گھنٹے تک ہمارے کارکنوں کو روکا گیا،دیسی پستول سے ٹارگٹ کر کے ہمارے لوگوں کو گولیاں ماری گئیں،

    ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیلیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں ،آرمی چیف

    انہوں نے کہا کہ حویلیاں سے پہلے ہم جلوس ختم کر کے واپس آ رہے تھے تو فائرنگ کی گئی۔ہری پوری میں سانحہ حکومتی دہشتگردی کا نتیجہ ہے،12 ربیع الاول کا جلوس حویلیاں کی طرف جا رہا تھا جس کو روکا گیا،اتوار کے روز ہزارہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس حویلیاں کی طرف جا رہا تھا،منزل سے تین کلومیٹر پہلے ہی اس جلوس کو ختم کر دیا گیا،دفعہ 144 کے مقام سے قبل ہی حملہ کیا گیا،جلوس واپس جا رہا تھا کہ پیچھے سے پولیس نے فائرنگ شروع کردی،کارکنوں کو گولیوں کے ذریعے شہید اور زخمی کیا گیا،

    صدرمملکت نے ریکوڈیک ریفرنس سپریم کورٹ میں دائرکردیا

    حافظ سعد حسین رضوی کا مزید کہنا تھا کہ عالم کفر سے حالیہ دورے میں معاہدہ کیا کہ تحریک لبیک کواب اس طرح معطل کرنا ہے کہ پہلے خوب لاشیں گرانی ہیں پھر ان کو اشتعال دلانا ہے تاکہ معطل کرنے کا بہانا مل سکے۔ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان میں حقوق لبرل کے ہیں اقلیتوں کے ہیں بھیڑ بکریوں اور جانوروں کے ہیں اگر کوئی حق نہیں ہے تو مذہبی و دینی لوگوں کا نہیں ہے۔حافظ قرآن کا کوئی حق نہیں ہے قا ل اللہ اور قا ل رسو ل کہنے والوں کا کوئی حق نہیں ہے داڑھی اور بگڑی والوں کو مذہبی لبادے اور حلیے والوں کا کائی حق نہیں۔جہاں دل چاہا گولیوں سے بھون دیا جہاں چاہا شیلوں کی بھر مارکر دی جب چاہا دہشت گرد کہ کر جیلو ں میں ڈال دیا مذہبی ذہن وسوچ اور مذہبی لبادہ رکھنے والواگر اسی طرح ہم خاموش رہے تو سوچ لو یہ یہود نصاریٰ کے ایجنٹ کیا حال کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کا ئنات کی بد ترین مثال میلادشریف جلوس واپسی پر فائرنگ حافظ قرآن محمد اعظم شہید شہادت سے ایک گھنٹہ قبل چہرے کا نور اور ولولہ دیکھیں۔شہادت کے بعد مسکراتا ہوا چہرہ دیکھیں۔کفر کو اورانکے یاروں کو نہ یہ مشن پسند ہے نہ یہ چہرہ مبارک پسند ہے۔یہ پڑھے لکھے تھے

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقوق سب کے ہیں مگر مزہبی لوگوں کے نہیں ہیں بلکہ حکومت کے نزدیک لبیک سے وابستہ کسی فرد کے حقوق نہیں ہیں۔

  • مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہیں کرینگے:سعد رضوی

    مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہیں کرینگے:سعد رضوی

    فیصل آباد: مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہیں کرینگے:سعد رضوی نے فیصل آباد میں ان خیالات کا اظہارکرتے ہوئے اپنے مشن کا مقصد بیان کیا ،

    اطلاعات کے مطابق فیصل آباد میں سٹیج پر اس وقت پیر سید ظہیر الحسن شاہ، صاحبزادہ حافظ انس حسین رضوی سمیت دیگر قائدین بھی موجود ہیں ، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ عوام کے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر کی دھوبی گھاٹ گراؤنڈ ناموسِ رسالت کانفرنس میں شرکت کررہا ہے

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ وزیر آباد آکر ہمیں ہاتھ جوڑ کر کہا گیا واپس جائیں آزادی سے سیاست کریں،انہوں نے فیصل آباد جلسے میں بڑی تعداد میں عوام الناس کی شرکت پر کہا کہ میڈیا کی چوری چھپی آنکھیں بھی دیکھ رہی ہونگی بتاؤ کبھی ایسا منظر دیکھا ہے ،

    علامہ حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ ہم اس نیت سے آئے ہیں کہ ستر سال سے اس ملک کو لوٹنے والوں بس اب سرخ لائن کھینچ دی گئی ہے ،جو ناموسِ رسالت کے مسئلہ پر جو لوگ خاموش بیٹھ رہے ہیں اللّٰہ ان کو بھی اقتدار میں لا کر ذلیل کردیا ہے ،ہم کربلا میں 72 شہید ہو کر مایوس نہیں ہوتے،جیلوں میں جا کر مایوس نہیں ہوتے،زین شہید کو دفنا کر بھی شہید نہیں ہوتے،

    حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ بنی گالا ، بلاول ہاؤس کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ کر قرض دیکھاؤ پھر پتہ چلے گا تمہیں ملک کا درد ہے ، حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ ابھی جو آپ کو گیارہ جماعتوں کا اتحاد نظر آرہا ہے بہت جلد آپ کو بارہ کا اتحاد ملے وہ بھی ان کے ساتھ ہوگا جو ابھی در بہ در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے میدان میں اکیلے پھر ان کا مقابلہ کرنے والے تحریک لبیک پاکستان والے ہونگے،

  • معروف ترک عالم دین کا انتقال، عمران خان اورمولانا فضل الرحمان کا دکھ کا اظہار

    معروف ترک عالم دین کا انتقال، عمران خان اورمولانا فضل الرحمان کا دکھ کا اظہار

    لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے ترکیہ کے عالم دین شیخ محمود آفندی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین نے لکھا کہ ترکیہ کے معروف عالم دین شیخ محمود آفندی کے انتقال کے بارے میں جان کرنہایت افسردہ ہوں۔

     

    عمران خان نے لکھا کہ انہوں نے نہایت کٹھن حالات میں دین و سنت کا احیاء کیا اور ترکی سمیت دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کا وصال امت کیلئے ایک عظیم نقصان ہے۔

     

     

    اُدھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے لکھا کہ شیخ محمود آفندی کی وفات حسرت آیات ترکی کے لئے بالخصوص اور عالم اسلام کے لئے بالعموم نا قابل تلافی نقصان ہے، ترکی میں سلسلہ نقشبندیہ کے روح رواں تھے ۔ وہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں علوم اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کی علامت تھے ۔

     

    اس سے پہلے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی نے علامہ محمود آفندی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پراظہار تعزیت کرتےہوئے کہا ہے کہ موصوف عالم اسلام کی ایک بڑی شخصیت تھے

    تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ نے اپنے پیغام میں کہا ہےکہ پاکستانی قوم کی جانب سے اپنے ترک بھائیوں سے بالخصوص شیخ محمود آفندی سے وابستہ بھائیوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ حضرت شیخ محمود آفندی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ملت اسلامیہ کا عظیم نقصان ہے

    دوجسم یک جان ترکی اورپاکستان،تحریک خلافت سے لے کرقیام پاکستان تک،ترکی اورپاکستان

    علامہ سعد رضوی نے کہا ہےکہ شیخ محمود آفندی علیہ الرحمہ کے انتقال کی خبر سن کر پاکستان کے اہل علم طبقات میں سوگ کا سماں ہے، فضیلۃ الشیخ حضرت محمود آفندی عظیم عاشق رسول تھے، باعمل عالم دین تھے، بہترین پیر طریقت تھے،

    ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان سے وابستہ ہر عالم دین، استاد، مدرس، شیخ طریقت، اراکین اسمبلی، ذمہ داران کارکنان شیخ محمود آفندی کے لیے خوب خوب ایصال ثواب کا اہتمام کریں،

    عالم اسلام کے عظیم مصلح، صوفی مزاج اسلامی داعی اور متحرک رہنما شیخ محمود آفندی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ہیں اور ان کی وفات پرتعزیت کا سلسلہ جاری ہے ،

    محمود افندی (محمود استی عثمان اوغلو) 1929 میں ترکی کے صوبے ترابزون کے اوف نامی گاؤں کے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے، جو کہ موجودہ ترک صدر اردگان کی جائے پیدائش "ریزے” سے متصل شہر ہے۔دینی ماحول میں پرورش ہوئی.. کم عمری میں قرآن مجید حفظ کر لیا.. شیخ تسبیحی زادہ سے نحو صرف اور دیگر علوم عربیہ کو حاصل کیا. پھر شیخ محمد راشد عاشق کوتلو آفندی کی خدمت میں رہ کر ان سے قراءت اور علوم قرآن کی تعلیم حاصل کی، بعدازاں شیخ محمود آفندی نے شیخ دورسون فوزی آفندی (مدرس مدرسہ سلیمانیہ )، سے دینیات، تفسیر، حدیث، ، فقہ اور اس کے ماخذ، علم کلام اور بلاغت اور دیگر قانونی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ مذکورہ اساتذہ سے انھوں نے علوم عقلیہ ونقلیہ میں اجازت حاصل کی اس وقت وہ 16 سال کی عمر میں تھے۔

    شخ محمود آفندی نے روحانی سلسلہ نقشبندیہ کمشنماونیہ کی اجازت اپنے شیخ احمد آفندی مابسیونی سے حاصل کی ، یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توفیق آپ کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا. فوجی خدمات انجام دینے کا وقت آپ کے لیے میسر ہوا، یہاں ایک نئے شیخ کے ساتھ اپنی عملی زندگی کو پروان چڑھا نے کا موقع ملا. ملٹری سروس کا مرحلہ ان کی زندگی کا ایک روشن صفحہ اور عملی زندگی کا ایک نیا باب تھا جس میں ان کی ملاقات ان کے شیخ اور مرشد علی حیدر اخسخوی سے ہوئی۔ان سے آپ نے بہت کچھ سیکھا اور ان علوم ومعارف اور روحانی کمالات حاصل کیے۔

    شیخ محمود آفندی نے لوگوں کی نماز کی امامت کی اور اپنے گاؤں کی مسجد میں طلباء کو پڑھایا۔انھوں نے سال میں 3ہفتے ترکی کے اطراف کا دعوتی و تبلیغی سفر کے لیے وقف کررکھا تھا ۔انھوں نے جرمنی اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے دعوتی اور تعلیمی دورے کیے، پھر 1954 میں استنبول میں اسماعیل آغا مسجد کے امام مقرر ہوئے۔ 1996 میں ریٹائر ہونے تک وہیں رہے، اور وہ استنبول میں درس و تبلیغ کرتے رہے اور بہت سے طلباء اور مسترشدین کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے، بلکہ سچ یہ ہے کہ کہ لوگوں کی بڑی تعداد خود آپ کی طرف کشاں کشاں چلی آتی تھی۔

    نتیجتاً ایک عظیم فکری وعملی منہج قائم کرنے میں وہ کامیاب رہے، جس کی بنیاد دعوت الی اللہ ، احیاء سنت اور ریاستی حکام سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی حق کی طرف رہنمائی تھی ، انھوں نے ایسا اسلوب پیش کیا جس میں حق اور باطل میں واضح فرق قائم ہوجائے۔

    استنبول میں 12 ستمبر 1980 کو پیش آنے والی دوسری بغاوت سے پہلے، اور اسّی کی دہائی کے اوائل میں ملک میں پیدا شدہ انتشار کے دوران دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان شیخ آفندی مضبوطی کے ساتھ یہ آواز بلند کر رہے تھے کہ ہماراقومی وملی فریضہ یہ ہے کہ ہم نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور ہمارا فرض لوگوں کو زندگی بخشنا ہے، انہیں مارنا نہیں۔

    شیخ آفندی کی فوج اور سیکولرازم کے ساتھ جد وجہد کی روشن تاریخ ہے۔ ترک عوام پر ان کے بہت زیادہ اثر و رسوخ کی وجہ سے، انہیں فوجی جرنیلوں اور ریپبلکنز (ریپبلکن پیپلز پارٹی) نے ہراساں کیا، خاص طور پر 1960 کی بغاوت اور ملک میں ہنگامی حالت میں داخل ہونے کے بعد،… فوجی انتظامیہ نے انہیں جلاوطنی کی سزا میں انھیں ترکی کے وسط میں واقع اسکی شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا ، لیکن اس فیصلے پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی نہیں. کئی آپ کے جاں نثار اس راہ میں ڈٹ گئے. اس وقت استنبول کے مفتی صلاح الدین قیا ان دفاع کرنے والوں میں سب سے آگے تھے ۔

    1982 میں، محمود آفندی پراسکودر خطہ کے مفتی شیخ حسن علی اونال کے قتل میں ملوث ہونے کا بے بنیاد الزام لگایا گیا. ڈھائی سال کے بعد عدالت نے انہیں اس الزام سے بری کر دیا۔ 1985 میں انہیں ریاستی سلامتی کی عدالت میں ماخوذ کیا گیا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ ان کی تقریر وبیان ملکی سلامتی اور سیکولر شناخت کے لیے خطرہ ہے لیکن عدالت نے اس معاملے میں بھی ان کی بے گناہی کا فیصلہ سنایا۔

    2007 میں استنبول کے Çavuşpaşa محلے میں شیخ محمود آفندی کی نئی رہائش گاہ کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جہاں قریب کے اسپتال میں وہ زیر علاج تھے ،اس طور پر انھیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ” کے مصداق انھیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔

    ان کے اثر و رسوخ کا دائرہ کافی وسیع اور اس کے پیروکاروں کی تعدادکثیر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عربی حروف میں پڑھنے لکھنے والے خال خال ہی نظر آتے تھے اور 40 سے 50 سال کا عرصہ ایسا بھی گذرا کہ قرآن پڑھنے والے کم ہی نظر آتے تھے.عربی میں اذان تک پر پابندی تھی .. لیکن شیخ کی کوششوں سے مختصر عرصہ میں ہزاروں کی تعداد میں حفاظ قرآن کریم تیار ہوئے ۔ اور دسیوں ہزار طلباء و طالبات کو اسلامی نہج پر تربیت دی گئی اور شیخ پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں میں اسلامی بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ بنے ۔(بعض معلومات الجزیرہ نیٹ ورک کے صحافی احمد درویش کی تحریر سے مستفاد ہیں.)

    جدید ترکی، اور معاشرہ کی اصلاح میں آفندی رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا اہم رول رہا ہے، ایسے وقت میں جبکہ ترکی دہریت کی دہلیز پار کرچکا تھا، اسلامی شعائر کو پامال کیا جارہا تھا؛ تب :مردے از غیب بیرون آید؛ کے مطابق اس مردِ مصلح نے توحید واصلاح بلکہ اعلاء کلمۃ اللہ کا آوازہ بلند کیا. اسی وجہ سے انھیں بعض اہل علم ترکی کا مجدد بھی کہتے ہیں۔

    ترکی زبان میں آپ کی زبردست تفسير روح الفرقان عظیم علمی کارنامہ ہے۔ 2010 میں، 42 ممالک کے 350 اسکالرز ممتاز ماہر تعلیم کی موجودگی میں شیخ محمود آفندی نقشبندی کو انسانیت کی خدمت کے لیے بین الاقوامی سمپوزیم ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا یہ ایوارڈ پیش کرنے کی تقریب میں شرکت کے لیے ہزاروں اسکالرز استنبول پہنچے۔ اکتوبر کو استنبول میں ان کے لیے ایک اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ 24، 2010، اور انہیں امام محمد بن قاسم النانوتوی ایوارڈ پیش کیاگیا. جو اسلامی دعوت کے میدان میں اپنا اثر چھوڑنے والی شخصیات کو دیا جانے والا ایوارڈ ہے۔یہ ایوارڈ بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا امام قاسم نانوتوی سے منسوب ہے ۔

    اس طور پر اس عظیم شخصیت کا عملی دارالعلوم دیوبند سے رشتہ بھی قائم ہوجاتا ہے.. روحانی وعلمی رشتہ تو پہلے سے قائم تھا۔نومبر 2018ترکی، استنبول کے سفر میں راقم السطور بندہ خالد نیموی کی خواہش تھی کہ حضرت والا سے ملاقات و زیارت کا شرف حاصل کر لیں، لیکن ان ایام میں شیخ علاج و معالجہ کی سخت نگہداشت کے مراحل سے گذر رہے تھے، جس کی وجہ سے ہم ان کی ملاقات کے شرف سے محروم رہے ۔یہاں تک کہ ان کی وفات کی خبر صاعقہ بن کر گری۔

  • کچھ پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ بکس اٹھائے گئے،دوبارہ گنتی کی درخواست دیدی،حافظ سعد رضوی

    کچھ پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ بکس اٹھائے گئے،دوبارہ گنتی کی درخواست دیدی،حافظ سعد رضوی

    کچھ پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ بکس اٹھائے گئے،دوبارہ گنتی کی درخواست دیدی،حافظ سعد رضوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کے آخری وقت میں جیتنے پر تحریک لبیک نے دوبارہ گنتی کی درخواست دے دی ہے

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ اہلیان کورنگی نے بوسیدہ سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر ہمیں سپورٹ کیا ٹی ایل پی کے کارکنان نے ہر مشکل میں پولنگ جاری رکھوائی تا ہم انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ بکس اٹھائے گئے یہ الیکشن کمیشن کے کردار پر سوالیہ نشان ہے صرف ایک پولنگ بوتھ پر ٹی ایل پی کے 74 ووٹ مسترد کیے گئے ہمارے امیدوار نے دوبارہ گنتی کی درخواست دی ہے دھاندلی میں ملوث ہر کردار کو بے نقاب کریں گے ہم نے چھٹی کے روز ووٹنگ کی درخواست دی تھی

    واضح رہے کہ این اے 240 کورنگی کراچی 2 کے ضمنی الیکشن کے 309 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج آگئے جس کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے محمد ابوکر10683 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ تحریک لبیک پاکستان کے شہزادہ شہباز ز10618 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں پولنگ کا ٹرن اور 8.38 فیصد رہا، کل ووٹرزکی تعداد 5 لاکھ 29 ہزار 855 ہے

     ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما نے نتائج ماننے سے انکار کردیا 

    گاڑی پر فائرنگ، حافظ سعد رضوی کا کارکنان کے نام اہم پیغام جاری

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    ہرمظلوم کا ساتھ دیں گے، ہم ہر ظالم کا ہاتھ روکیں گے،حافظ سعد رضوی کا اعلان

    قیادت نا اہلوں سے نکل کر ناقابل اعتبار لوگوں کے ہاتھ آ گئی،حافظ سعد رضوی

    وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد،حافظ سعد رضوی نے بھی بڑا مطالبہ کر دیا

    سعد رضوی نے کہا ہے کہ چولستان پانی کی بوند بوند کو ترس گیا،

  • الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی نے سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہئے، تحریک لبیک الیکشن کے لئے تیار ہے، سیاسی جماعتیں سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے لئے رابطہ کر رہی ہیں، اہل امیدواروں کو ٹکٹ دیں گے، کشمیر کا مقدمہ لڑنے والون کو عمران خان نے جیل میں ڈالااوراسی کے دور حکومت میں حافظ محمد سعید کو سزا ہوئی، یاسین ملک کی سزا پر خاموش نہیں رہ سکتے، عوامی خدمت بھی کرتے رہیں گے، فرانس نے ریاستی سطح پر گستاخی کی اسلئے اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، تحریک انصاف کی حکومت نے سفارتخانوں میں جا کر معافیاں مانگیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج میں جس شخصیت کا انٹرویو کرنے جا رہا ہوں وہ اگلے الیکشن میں آپ سب کو حیران کرینگے وہ پاکستانی سیاست میں روشن ستارہ ہیں انہیں کچھ لوگ مذہبی شدت پسند بھی سمجھتے ہیں دو رائے ہیں ۔علامہ خادم رضوی کی وفات کے بعد یہ کہا جا رہا تھا کہ جماعت تقسیم ہو جائے گی مگر کچھ نہیں ہوا ۔حافظ سعد رضوی کو جیل ہوئی لانگ مارچ ہوا اور اس میں 38 لوگ شہید ہوئے بے پناہ زخمی ہوئے سب کا نعرہ تھا کہ امیر کو رہا کرو اور کوئی مطالبہ نہیں تھا ۔ تحریک لبیک کا کیا مستقبل ہے ان پر بھارت کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگا انکو بھارت کا ایجنٹ کہنے والی تحریک انصاف کا حال آج دیکھ لیں

    حافظ سعد رضوی نے مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملکی حالات ایسے ہی ہیں مفادات کے لیے نعرے لگائے جاتے ہیں ملکی حالات جمہوریت میں احتجاج میں ٹھیک ہوتے ہیں جن لوگوں نے دور اقتدار میں ظلم کیا انکو اسکا حصہ مل رہا ہے اب ۔آج پولیس والے شہید ہوئے تو تحریک انصاف مذمت نہیں کر رہی ۔ہمارے مارچ میں ہوا تو ہمارے لوگ جنازے میں بھی شریک تھے ۔شہید کا مذاق کیوں ۔ چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی درست نہیں ہمارے گھروں میں بھی ایسا ہوا اور بہت کچھ لے گئے تھے

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن جب بھی ہوں ہم تیار ہیں الیکشن اداروں کا کام ہے ۔جیسے حالات بنیں گے تحریک لبیک تیار ہے۔ ہمارے قائد نے ایک نظریہ بتایا تھا کہ ہمارے لوگ پیچھے رہیں گے اہل لوگوں کو ٹکٹ دیں گے فواد چودھری کو ٹکٹ دینے کے سوال پر کہا کہ اگر فواد چودھری بھی نظریاتی ہو گا تو ٹکٹ دیں گے نہیں تو نہیں ۔ تحریک انصاف کا مستقبل تاریک ہے ۔ سیٹ پر بیٹھ کر للکارا جاتا ہے،عمران خان وزیراعظم تھے تو کچھ نہ کیا اسکے باوجود انکی حکومت ایمبیسی میں تین بار جا کر معافی مانگی کہ غلطی ہو گئی ۔ ہمارے تک یہی اطلاع ہے

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہناتھا کہ ملک میں جو بھی ہوتا ہے اسی وقت کے لیے ہوتا ہے .پاکستان کا مطلب جو منہ میں آئے بولے جا یہ مقصد آج لوگوں نے بنا لیا ہے .یہی حالت تحریک انصاف کی حکومت اور انکے وزیروں کی تھی ۔

    علماء کرام کے حوالہ سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ دیندار کو مولوی کہا جاتا ہے اس سے نرم شخص کوئی نہیں ہوتا کہتے ہیں عورتوں پر تشدد مولوی کرتے ہیں کوئی ثابت تو کرے۔ مولوی پر امن ہیں حقوق کی بات کرتے ہیں جبکہ دیگر کو دیکھ لیں وہ خواتین کے ساتھ کیا کرتے ہیں، عافیہ صدیقی کو کیا مولویوں نے بیچا ہے یہ اپنی خواتین کی عزت نہیں کرتے مولوی بننا کوئی جرم نہیں ۔اصلاح کس کی پراثر ہو کچھ نہیں کہہ سکتے ۔جو آقا کے ناموس کی عزت نہیں کرے گا ہم اس کی عزت نہیں کریں گے ۔فرانس والا معاملہ ریاستی سطح پر ہوئی ہم اس ریاست کے خلاف اتنا بڑا اقدام اٹھایا ہے ۔بعض ملکوں میں حکومتیں ساتھ نہیں دیتی انفرادی فعل اور چیز ہے۔ہم ریاستی بائیکاٹ چاہتے تھے

    حافظ سعد رضوی کامزید کہنا تھا کہ لوگ ہم پر اعتبار اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ ناموس پر پہرہ دیا اسکے علاوہ ہم کوئی محبت کے لائق نہیں ۔ شادی کے بعد خوش ہوں جیل میں بھی خوش تھا ہر حال میں خوش ہوں ۔

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ نتیجہ نظر آتا ہے جب قائد نہیں ہو گا تو پھر لوگ شیل چلنے پر بھاگ جاتے ہیں جب آپ ہوا میں ہوں اور لوگ دھوپ پر ہوں ۔ جہاد کی کئی اصلطلاحین ہیں مذہبی کارڈ کھیلنے کا ہمیں کہتے تھے تو یہ کیا ہے ریاست مدینہ کا نام لے کر اگر عمران خان سیاست کر سکتا ہے تو ہم ناموس رسالت کا نام لے کر کیوں سیاست نہیں کر سکتے ۔دوہرا معیار کیوں ہے ہر جگہ دوہرا معیار ہے ہماری مرتبہ رویہ بدل جاتا ہے۔ ہم متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وسائل کم ہیں لیکن لوگ ساتھ ہیں الیکشن وقت پر ہونے چاہئے الیکشن ہونے کے بعد بھی عمران خان روئے گا تو پھر کیا کریں گے ۔جمہوریت مضبوط ہونی چاہئے ۔ لبیک نظریاتی جماعت ہے ہم کسی کے ساتھ الحاق کرنے کا بھی نہیں سوچا اور نہ کریں گے۔ جو نظریات سے متفق ہو اشرافیہ سے نہ ہو ۔ ہمارے ساتھ مشکل حالات میں بھی ایسا ہی کھڑا ہو جب الیکشن میں تھا ایسے بندے کو ٹکٹ دیں گے

    حافظ سعد رضوی نے تحریک لبیک کو حکومت ملنے کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ الیکشن جیت کر سود ختم کریں گے آئیں اسلامی ہے شقوں کو نافذ کریں گے ۔ نماز کے پڑھنے پر کسی کو اختلاف نہیں سود پر کسی کو اختلاف نہیں پاکستان ایک مسجد ہے ہر مسلمان کے لیے ۔ہم نے آج تک کسی کے بارے میں کافر کافر نہیں کہا ۔ معیشت دس دنوں میں خراب نہیں ہوئی بنیادی چیزیں صحیح کرنی ہوں گی ۔عالمی دباو کہ وجہ سے میڈیا پر ہماری وجہ سے پابندیاں ہیں فیس بک پر بھی تصویر نہیں ڈال سکتے پٹیشن اس پر دائر کی ہے ۔ہمارے ہاتھ میں تلوار نہیں بارود نہین ہم کشمیر کی بات کرتے ہیں ۔کشمیر کے نام پر قوم کو کھایا عملی بات نہیں کی ۔ کشمیر ویسے کہا جا رہا ہے کہ آپ ہار چکے۔ کشمیر جہاد کے بغیر نہیں ملے گا آخری حل یہی ہے۔پاکستانی کو عزت سے جینے کا حق ملنا چاہیے

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کا خیال جن کو آیا تھا وہ آدھا گھنٹہ سڑک پر کھڑے رہے جنہوں نے کشمیر پر آواز اٹھائی انہیں عمران خان نے جیلوں میں ڈالا، حافظ محمد سعید کو یہاں عمران خان کی حکومت نے سزا دی کیا جرم ہے ۔کشمیر پر آواز اٹھانا اور سزا عمران خان کی حکومت میں ہوئی۔ یہاں غلامی کا دم بھرا اور کہتے ہیں آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں میں عمران خان کو منافق اعظم کہتا ہوں ۔

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ سیالکوٹ کا سانحہ ہوا تھا اس پر سب سے پہلے مذمتی بیان دیا تھا اگر کوئی بری ہو جائے یا مقدمہ کمزور ہو اسکا ذمہ دار تحریک لبیک تو نہیں ۔بہت سی سیاسی جماعتوں نے الحاق کے رابطے کئے ہیں پی ٹی آئی ۔ن لیگ سمیت سب نے رابطے کیے ۔جب وہ گولی ہمیں مارتے تھے تب بات کی تھی اب تو وہ خود شیل کھا رہے ہیں عمران خان کا مستقبل تاریک ہے اگر یہ درست ہو جائیں تو ساتھ ہوں گے ۔ سازش تھی تو وہان بیٹھ کر وضاحت دیتے بیانیہ مل گیا اپنی موت مر رہا تھا لیکن عدم اعتماد کے لیے زندہ کر دیا جب تک اللہ و رسول سے جنگ ہو گی معیشت صحیح نہیں گی ۔جب تک سود ختم نہیں ہوگا معیشت درست نہیں گی

    حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ سفارتخانوں سے رابطوں کے لیے ہم نے ایک پینل تشکیل دیا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کو اہل اور میرٹ والے کو ہی ہر جگہ متعین کیا جائے ۔پہلے خدشات دور ہوں گے ۔فرانس والی بات پر درگزر نہیں کر سکتے ۔ ایک لمحے کے لیے بھی ہم نہیں بھول سکتے ہمارا ایک ہی بیانیہ ہے من سب نبیا فاقتلوہ ۔ اقلیتی ونگ بھی ہم نے بنایا ہے مسجد میں لوگ آ کر ملتے ہیں 2018 کے الیکشن میں ایک مسیحی خاتون کو ٹکٹ دیا وہ ہماری تبلیغ سے نہیں کردار سے مسلمان ہو گئیں ۔

    چولستان میں امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے حافظ سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ چولستان کے لوگ بھی ناراض ہیں جہاں سگنل نہیں آتے ٹی وی نہیں وہاں مخالف بیانیہ کس نے دیا ۔ایک ایک پانی بوند کو ترسنے والے لوگ خلاف ہی بولیں گے چولستان کے حالات برے ہیں حکومتی سطح پر کچھ نہیں کیا گیا ۔چولستان ڈیزرٹ ریلی میں لاکھوں خرچ کیے جاتے شامیں منائی جاتی ہیں لیکن غریب کی مدد نہیں کی گئی ۔ کھانے پینے کے لیے کوئی اصول نہیں لیکن وہاں پاس ملتے ہیں کیوں ۔اشرافیہ کو ہی صرف پانی ملتا ہے۔

  • چولستان میں سسکتی انسانیت مدد کی طلبگار ہے:حافظ سعد رضوی

    چولستان میں سسکتی انسانیت مدد کی طلبگار ہے:حافظ سعد رضوی

    لاہور: امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے چولستان کی صورت حال پرپریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چولستان میں سسکتی انسانیت مدد کی طلبگار ہے،سعد رضوی نے کہا ہے کہ چولستان پانی کی بوند بوند کو ترس گیا،

    امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نےکہا ہے کہ چولستان میں سسکتی انسانیت دھرتی پر بسنے والے انسانوں سے مدد کی طلبگار ہے،حکومت کسی بڑے سانحے کا انتظار کررہی ہے بروقت درست اقدامات نہ کر کے چولستانیوں پر ظلم کیا جارہا ہے،انسانی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں،

    امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے کہا ہےکہ مویشیوں کی ہلاکتوں کی میڈیا پرنشاندہی پر بھی انتظامیہ نہ جاگی،چولستان کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار وفاقی و صوبائی حکومت پی ٹی آئی، (ق) لیگ اور پیپلزپارٹی سب ہیں، حکومت نے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی بجائے روایاتی طرز عمل اپناتے ہوئے محض کمیٹیوں کی تشکیل پر ہی اکتفا کیا،

    امیرتحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نےکہا ہے کہ چولستان میں خشک سالی کوئی ناگہانی آفت نہیں بلکہ سو فیصد حکومت کی بدانتظامی و نااہلی ہے،حکومت کا یہی حال رہا تو خدشہ ہے کہ حکمران لاہور، کراچی، فیصل آباد کو بھی چولستان بنادیں گے، ٹی ایل پی شعبہ سوشل ویلفیئر کی ریلیف سرگرمیاں قابل ستائش ہیں جنہوں نے فوری ریلیف آپریشن شروع کیا,

  • موجودہ وزیراعظم بھی  فرانس کے غلام نکلے ہیں:سعد حسین رضوی

    موجودہ وزیراعظم بھی فرانس کے غلام نکلے ہیں:سعد حسین رضوی

    لاہور:سعد حسین رضوی نے کہا ہے کہ موجودہ وزیراعظم بھی فرانس کے غلام نکلے ہیں۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا فرانسیسی صدر کو دوبارہ منتخب ہونے اور ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کے اظہار پر سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے گستاخ رسول کو دوبارہ فرانس کا صدر منتخب ہو نے پر مبارکباد کے پیغام کی مذمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم بھی عمران خان کی طرح فرانس کے غلام نکلے ہیں، لبرل سیاسی شخصیا ت مغربی قوتوں کی غلام اور اپنے مذموم مقاصد کیلئے عوام کو استعمال کرتی ہیں۔

     

    حافظ سعد حسین رضوی کا کہنا تھا کہ اسلام پر اپنے حملے سے صدر میکرون یورپ اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات پر حملہ آور ہوئے ہیں۔سربراہ ٹی ایل پی نے کہا کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ آزادیِ اظہار رائے کی آڑ میں دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہباز شریف مسلمان ملک کے وزیراعظم ہیں جس منصب پر وہ فائز ہیں اُن کواتنا نااہل اور نا ہنجارنہیں ہونا چاہیے۔

    سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی کا مزید کہنا تھا کہ جو شخص ملعون کے ساتھ مل کر کام کر نے کی خواہش رکھتاہے وہ مسلمانوں کی کیا ترجمانی کرے گا، وزیراعظم پاکستان مسلمانوں کی ترجمانی کریں نہ کہ اغیار کے غلام بنیں۔