Baaghi TV

Tag: سعودیہ

  • پاک-سعودیہ معاہدہ ایک چھتری ہے،خواجہ آصف

    پاک-سعودیہ معاہدہ ایک چھتری ہے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے-

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ،اس کے لیے جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ اس معاہدے کے تحت بالکل دستیاب ہوگا، یہ معاہدہ ایک ’چھتری‘ ہے، جس کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو دونوں مل کر جواب دیں گے، پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے جس نے 1998 میں ایٹمی تجربات کیے اور اس حیثیت کو کبھی چیلنج نہیں کیا گیا،جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ اس معاہدے کے تحت بالکل دستیاب ہوگا۔

    وزیر دفاع نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ صرف دفاعی نوعیت کا ہے،ہم نے کسی کا نام نہیں لیا، لیکن جو بھی جارحیت کرے گا، اُسے مشترکہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا یہ کوئی جارحانہ یا توسیع پسند معاہدہ نہیں بلکہ دفاعی ہے، جیسا کہ امریکا کے بھی دنیا کے کئی ممالک سے ایسے ہی معاہدے ہیں، اس معاہدے کے بارے میں امریکا یا کسی تیسرے فریق کو اعتماد میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ پاکستان اور سعودی عرب کا دوطرفہ حق ہے،پاکستان کی سرزمین پر قبضے کی کوئی نیت نہیں، لیکن اپنی حفاظت ہمارا بنیادی حق ہے۔

    روس: ایئرپورٹ کی آفیشل ویب سائٹ ہیک

    پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی،اسحاق ڈار

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

  • پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی،اسحاق ڈار

    پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی،اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے پاکستان اور سعودی عرب میں ہونے والا معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ملک بھی اس طرح کے معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    لندن میں جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےاسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہمیشہ سے موجود ہے،سعودی عرب سے معاہدہ ایک رات میں طے نہیں پایا گیا اور اسکی تفصیلات طے کرنے میں کئی ماہ لگے ہیں، سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کاساتھ دیا اس سلسسلے میں انہوں نے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر لگنے والی پابندیوں اور اس موقع پر سعودی کردار کی مثال،دی،پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا، معاہدے کے مطابق، اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا،معاہدے کے تحت دونوں ممالک دفاع، انٹیلیجنس، ٹریننگ، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے، جبکہ پاکستان کو حرمین شریفین کے دفاع میں اہم کردار دیا گیا ہے۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے، بین القوامی امورکی ایک یورپی ماہر نے تو اسے آسمانی بجلی سے تعبیر کیا ہے تو ایک دوسرے نے گیم چنیجر قرار دے دیا۔

    اُرمچی میں پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

  • پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ نے کہاہے کہ پاک سعودیہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آیا پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدہ صرف اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے ہے یا اس کا وسیع تر ایجنڈا ہے، اور کیا پاکستان اپنے جوہری ہتھیار اب تیسرے ملک کو پیشکش کر رہا ہے؟ اس پر ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کا تاریخی برادرانہ تعلق ہے جسے اب نئی بلندیوں پر لے جایا جا رہا ہے، معاہدے کا مقصد صرف استحکام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات منفرد اور دیرینہ ہیں، دونوں ممالک کی قیادت ان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتی ہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات 1960 سے جاری ہیں، موجودہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا۔

    فتنہ الخوارج سے متعلق وزیر اعظم کے بیان پر ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم کا بیان نہایت واضح ہے افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی والے تعلقات چاہتے ہیں یہ بیان افغانستان کو سفارتی ذرائع سے بھجوایا گیا ہے نمائندہ خصوصی صادق خان کا دورہ معمول کا ہے، جونہی ان کا نیا دورہ افغانستان طے ہوگا، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بگرام ایئربیس سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بگرام کا معاملہ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکومت کا باہمی معاملہ ہے، ہم اُن ملکوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نےکہاکہ، صدر آصف علی زرداری اس وقت چین کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اعلیٰ چینی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ صدر زرداری نے چین کی لڑاکا طیارے بنانے والی فیکٹری کا دورہ بھی کیا اور پاکستان کے فضائی دفاع میں جے ایف-17 اور جے-10C طیاروں کے کردار کو سراہا۔

    پاکستان میں دہشتگردوں کی بھارتی سرپرستی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ بیرونی سرزمین سے بدامنی پھیلانے سے باز رہے اور اپنے ہاں انسانی حقوق کی حالت بہتر بنائے۔ بھارتی پراپیگنڈا اور اشتعال انگیز بیانات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، بھارتی میڈیا کو الزامات کی بجائے بھارت کی طرف سے ہونے والے قتل و غارت اور دہشت گردی کی مہمات پر غور کرنا چاہیے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارتی روایتی قوت کو تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ روکا ہے۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف ایٹمی الزامات بھارت کا خودساختہ اور گمراہ کن بیانیہ ہے پاکستان جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کے طور پر خطے میں امن، استحکام اور بامقصد مذاکرات کا خواہاں ہے۔

    پاکستان کی جانب سے سکھ یاتریوں کو ویزوں کے اجرا سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان سکھوں کے مذہبی مقامات کا کسٹوڈین ہے پاکستان ہر سال دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتا ہے بھارت کی جانب سے یاتریوں کو کرتارپور راہداری کے استعمال سے روکنا افسوسناک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 1974 کے مذہبی مقامات کے پروٹوکول کے تحت پاکستان یاتریوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ پاکستان نے کرتارپور راہداری کبھی بند نہیں کی۔ بھارتی رویہ یاتریوں کے لیے رکاوٹ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ گردوارہ کرتارپور صاحب مکمل طور پر بحال اور فعال ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی 26 ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر 26 ستمبر کو متوقع ہے، جس کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

    جنرل اسمبلی سیشن کے حاشیے پر وزیراعظم کی ملاقاتوں سے متعلق ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کی ملاقاتوں کا شیڈول ابھی طے کیا جا رہا ہے اور جیسے ہی وہ حتمی ہوگا، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

  • پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

    پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

    خبر ایجنسی روئٹرز نے پاکستان اور سعودی عرب معاہدہ پر تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی۔

    روئٹرز نے لکھا کہ یہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خلیجی عرب ریاستیں امریکا کی سیکورٹی گارنٹی کی قابلِ اعتباریت پر شک کر رہی ہیں، خاص طور پر قطر پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں،سعودی حکام نے بتایا کہ یہ معاہدہ سالوں کی بات چیت کا نتیجہ ہے اور یہ کسی مخصوص ملک یا واقعے کے ردعمل میں نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعاون کو باقاعدہ شکل دینے کا اظہار ہے۔

    اس معاہدے کے تحت کسی بھی ملک کی طرف سے سعودی عرب یا پاکستان پر حملہ دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس معاہدے پر دستخط کے بعد ایک دوسرے کو گلے لگایاتقریب میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے جو ملک کی سب سے طاقتور شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

    سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب،گھروں میں پانی داخل،فصلیں تباہ

    سعودی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کا جوہری ہتھیاروں کا تحفظ شامل ہے اور یہ معاہدہ دفاع کے تمام پہلوؤں کو شامل کرتا ہے تاہم سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کو بھی برقرار رکھنے کا عندیہ دیا، جس سے خطے کی پیچیدہ سیاسی صورتحال میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہےیہ معاہدہ خطے میں جاری تناؤ اور جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان ایک اہم سنگ میل ہے، اور اس کا اثر خلیجی خطے کی سکیورٹی اور عالمی سطح پر سیاسی توازن پر گہرا پڑنے کی توقع ہے۔

    ارض حرمین شریفین کا دفاع، پاکستان علما کونسل کا کل بطور یوم تشکر و دعا منانے کا اعلان

  • کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے  گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن  حاصل کرلی

    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی

    سعودی کارٹون آرٹسٹ نے مصر میں ہونے والے ایک مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔ کارٹون کی زبان اور اس کی نرم طاقت کے ساتھ سعودی کارٹون آرٹسٹ امین ناصر الحبارہ نے مصر میں گولڈن جوبلی مقابلے میں نصر اکتوبر کے متعلق ایک پینٹنگ تیار کی اور اس پر ایک ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ الحبارہ نے عرب میڈیا سے اپنی جیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے مصر میں گولڈن جوبلی مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ مقابلہ اکتوبر 1973 میں فتح کی گولڈن جوبلی منانے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

    انہوں نے مزید کہا اس مقابلے میں دنیا بھر سے فنکاروں نے حصہ لیا۔ مقابلے کا موضوع "جیت۔” تھا۔ میں تیسرا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ میں فن مصوری کے ذریعے اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تخلیق کار کے لیے انعامات ایندھن ہوتے ہیں۔ ان اعزازات کی بدولت ہی وہ کامیابی کی راہوں کا سفر جاری رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا مصر میں ہونے والے اس مقابلے میں عالمی ججز نے فیصلہ کیا جبکہ الحبارہ جو الاحساء میں سعودی صحافیوں کی ایسوسی ایشن سے وابستہ کارٹون اویسس سے بانی اور ڈائریکٹر ہیں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کیریکیچر کے فن میں میرا آغاز 2017 میں ہوا۔ اس وقت میں نے مقامی اور بین الاقوامی میگزینوں میں بہت سے کام شائع کرائے۔ مجھے نیدر لینڈز میں کارٹون موومنٹ میں دلچسپی رکھنے والے عالمی پلیٹ فارم کی رکنیت دی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چین نے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا
    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی
    علاوہ ازیں کارٹون کے فن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں اپنے خیالات اور اپنی کمیونٹی کے خدشات کو نقش نگاری کے ذریعے بیان کرنا پسند کرتا تھا۔ کیونکہ یہ اظہار کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو الفاظ سے زیادہ مضبوط ہے اور ایک نرم طاقت ہے جو تقریر کی حدوں سے باہر نکل جاتی ہے۔ کارٹون آرٹسٹ ایک مفکر کا درجہ رکھنے والا فنکار ہوتا ہے۔ وہ پورے مضمون کو ایک سادہ خیال تک محدود کر دیتا ہے جس کی طاقت الفاظ کی طاقت سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہی اچھے کارٹونسٹ کی کامیابی کا راز ہے۔

  • فیفا ورلڈ کپ 2034 کا انعقاد؛ میزبانی کیلئے بحرین اور کویت  نے سعودیہ کی حمایت کردی

    فیفا ورلڈ کپ 2034 کا انعقاد؛ میزبانی کیلئے بحرین اور کویت نے سعودیہ کی حمایت کردی

    فیفا ورلڈ کپ 2034 کا انعقاد سعودی عرب میں کرانے کے لیے بحرین اور کویت نے سعودی عرب کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ کویت اور بحرین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ایشیائی ، عرب اور خلیجی نمائندگی کے لیے مملکت کی مکمل حمایت کرتے ہیں جبکہ کویت فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ عبداللہ الشاہین نے اپنے ایک بیان میں کہا ‘ کے ایف اے ‘ فیفا ورلڈ کپ کے انعقاد کی بولی میں سعودی عرب کے بڑے حامیوں میں سے ایک حامی ہوگا۔ عبداللہ الشاہین نے فٹ بال شائقین کو متوجہ کرنے اور ان کی بہترین میزبانی کی اہلیت کے حوالے سے مملکت کی تحسین کرتے ہوئے کہا ہم ورلڈ کپ 2034 کے لیے سعودی عرب کی حمایت کرتے ہیں۔

    تاہم دوسری جانب بحرین نے بھی ورلڈ کپ کے لیے سعودی بولی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بحرین کی وزارت خارجہ نے میزبانی اور تجربے کی سعودی اہلیت اور قائدانہ کردار کو سامنے رکھتے ہوئے سعودی عرب پر کامل اعتماد کا اظہار کیا۔ وزارت کارجہ بحرین نے کہا ہہمیں سعودی کامیابیوں پر فخر ہے۔ مملکت میں عالمی سطح کے کاروباری، سیاسی ، اور کھیلوں سے متعلق پروگرامات منعقد ہو چکے ہیں جبکہ واضح رہے سعودی عرب کی طرف سے ورلڈ کپ 2034 کے لیے بولی دینے کا معاملہ 2022 قطر ورلڈ کپ میں سعودی فٹبال ٹیم کی فاتحانہ شہرت اور عالمی سطح پر ارجنٹینا جانے مانے فٹ بالر لیونعل میسی کی ٹیم کو شکست دینے کے بعد سے شروع ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    جی میل نے نیا فیچر متعارف کروا دیا
    اردو یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر عہدے سے فارغ
    استحکام پاکستان پارٹی کی رجسٹریشن کا نوٹیفکیشن جاری
    الیکٹرک موٹر سائیکل بنانے کے لیے 31 کمپنیوں کو لائسنس جاری
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)
    اگر پاکستان سے سپورٹر بھی یہاں ہوتے تو اور اچھا لگتا، بابراعظم
    تاہم اس حوالے سے سعودی عرب کے کھیلون کے وزیر اور سعودی اولپک کے سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل قطر ورلد کپ میں سعودی تیم کی کارکردگی کھیلوں کے ساتھ سعودی وابستگی اور لگاو کی ایک مثال ہے۔ سعودی عرب 2018 سے مسلسل کامیابی سے کھیلوں کے ٹورنامنٹوں کا انعقاد کررہا ہے۔ اس دوران پچاس سے زائد سپورٹس سرگرمیاں سعودی حسن انتطام کا حوالہ بن چکی ہیں۔

  • کے ایس اے؛ سیاحت میں   58 فیصد اضافہ

    کے ایس اے؛ سیاحت میں 58 فیصد اضافہ

    رواں برس 2023 کے پہلے سات مہینوں کے دوران سیاحوں کی آمد کے لحاظ سے سعودی عرب عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے جبکہ وزارتِ سیاحت کے حوالے سے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 2019 کی اسی مدت کے مقابلے میں امسال جولائی کے آخر تک مملکت میں سیاحوں کی تعداد میں 58 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    تاہم یہ اعداد وشمار گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی عالمی تنظیم برائے سیاحت سے حاصل کیے گئے اور یو این ڈبلیو ٹی او کے ورلڈ ٹورازم بیرومیٹر سے آئے، ریاض نے 27-28 ستمبر کو عالمی یومِ سیاحت کی میزبانی کی جو عالمی سیاحت کے شعبے کے لیے مملکت کے عزم کی عکاس ہے، ایس پی اے نے رپورٹ کیا کہ سعودی وزیرِ سیاحت احمد الخطیب نے کہا کہ یہ کامیابی "خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق وزارتِ سیاحت کے مطابق 2019 کی اسی مدت کے مقابلے میں اس سال جولائی کے آخر تک مملکت میں سیاحوں کی تعداد میں 58 فیصد اضافہ دیکھا جبکہ وزارتِ سیاحت کے مطابق 2019 کی اسی مدت کے مقابلے میں اس سال جولائی کے آخر تک مملکت میں سیاحوں کی تعداد میں 58 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈکپ افتتاحی میچ؛ دوپہر 1 بج کر 30منٹ پر شروع ہوگا
    جی سی سی نے 14 سال بعد پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا . وفاقی وزیر برائے تجارت
    تیل کی پیداوار میں ایک ملین بیرل یومیہ کمی کا اعلان
    کپاس کی پیداوار میں 71 فیصد اضافہ
    ڈالر، ایک روپے سے زائد کمی کے بعد 284.70 روپے پر آ گئی
    جبکہ الخطیب نے مزید کہا کہ درجہ بندی نے عالمی سیاحتی منزل کے طور پر ملک کی حیثیت کو مضبوط کیا اور آنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافے نے اس اعتماد کی عکاسی کی جو سیاحوں کو مملکت میں دستیاب سیاحتی اختیارات کے تنوع اور معیار پر تھا۔

  • سعودی عرب کا  2034 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بولی جمع کرانے کا فیصلہ

    سعودی عرب کا 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بولی جمع کرانے کا فیصلہ

    سعودی عرب 2034 کے فیفا ورلڈکپ کی میزبانی کیلئے بولی جمع کرائے گا۔ جبکہ عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب نے باضابطہ طور پر 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بولی جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے کو سعودی عرب فٹبال فیڈریشن (SAFF) کی قیادت میں ایک تاریخی اقدام کہا جا رہا ہے، واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کو 2023 کے فیفا کلب ورلڈ کپ اور ایشیائی کپ 2027 کی بھی میزبانی مل چکی ہے۔

    2026 کے فیفا ورلڈکپ سے یہ ٹورنامنٹ 48 ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا، یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب ،مملکت کے اندر ہی اس ایونٹ کے تمام میچوں کی میزبانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیے مکمل انتظامات کی یقین دہائی کرائے جائے گی، علاوہ ازیں سعودی عرب 2018 سے اب تک 50 سے زیادہ بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کر چکا ہے جس میں فٹبال، موٹر اسپورٹس، گولف، الیکٹرانک اسپورٹس، ٹینس اور گھڑ سواری کے ٹورنامنٹس شامل ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    جی سی سی نے 14 سال بعد پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا . وفاقی وزیر برائے تجارت
    تیل کی پیداوار میں ایک ملین بیرل یومیہ کمی کا اعلان
    کپاس کی پیداوار میں 71 فیصد اضافہ
    ڈالر، ایک روپے سے زائد کمی کے بعد 284.70 روپے پر آ گئی
    عرب میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ فیفا ورلڈکپ کی میزبانی کا ارادہ مملکت کی جانب سے دنیا میں امن اور محبت کے پیغامات پھیلانے کے لیے کی جانے والی واضح اور عظیم کوششوں کی تصدیق ہے، جن میں کھیل سب سے اہم اور نمایاں ہے جبکہ واضح رہے کہ رواں سال دسمبر میں سعودی عرب پہلی بار فیفا کلب ورلڈکپ 2023کی میزبانی کرے گا اور فیفا کلب ورلڈکپ کے میچز 12 سے 22 دسمبر تک جدہ میں ہوں گے۔

  • سعودی شہزادی عبطا بنت سعود کا انتقال ، نماز جنازہ ادا

    سعودی شہزادی عبطا بنت سعود کا انتقال ، نماز جنازہ ادا

    سعودی شہزادی عبطا بنت سعود بن عبدالعزیز آل سعود انتقال کرگئیں ہیں اور سعودی عرب کے ایوانِ شاہی کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق شہزادی عبطا بنت سعود کا انتقال اتوار کے روز ہوا تھاجبکہ سعودی ایوانِ شاہی کے مطابق شہزادی کی نماز جنازہ آج بعد نماز عصر ریاض کی جامع مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی۔

    تاہم شہزادی کے انتقال پر سعودی عرب میں مختلف شخصیات کی جانب سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شاہی خاندان سے تعزیت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلیے اسلامی نظریاتی کونسل کو مزید متحرک ہونا ہو گا،وزیراعظم
    نومبر یا مارچ میں الیکشن کرایا جائے ، مولانا عبدالواسع

    جبکہ ا س سعودیہ شہزادی کو سپردخاک کردیا گیا ہے اور ان کے جنازہ میں سارے اعلی حکام نے شرکت کی جبکہ سعودیہ کے کئی اہم لوگ بھی اس میں شامل تھے اور انہوں نے خاندان سے دلی تعزیت کی ہے اور خاندان والوں کو حوصلہ دیا ہے جبکہ مرحومہ کی مملکت میں دعایہ تقریبات بھی ہوئی ہیں.

  • سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے نئے مشرق وسطیٰ کا جنم ہوگا. نیتن یاہو

    سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے نئے مشرق وسطیٰ کا جنم ہوگا. نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدے کے بلکل قریب پہنچ چکا ہے جبکہ اپنے خطاب میں نیتن یاہو کا کہنا تھاکہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ دیرپا امن کے قیام کیلئے کوشاں ہیں، فلسطینیوں کو یہودیوں کے علیحدہ ریاست کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کے تعاون سے نئی امن راہداری کو قائم کیا جائے گا، اسرائیل کا سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدہ دیگر عرب ممالک کو امن معاہدے کرنے پر آمادہ کرےگا، ان کا کہنا تھاکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے نئے مشرق وسطیٰ کا جنم ہوگا اور ہم سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔
    سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    ان کا مزید کہنا تھاکہ فلسطینیوں کے ساتھ امن کا قیام حقیقت پسندی سے مشروط ہے، اسرائیل، امریکی صدرکی موجودگی میں سعودی عرب کےساتھ امن معاہدے کیلئے پرامید ہے تاہم خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل سے کو تسلیم کیا اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا۔